Skip to playerSkip to main content
#islamic #viral

Category

😹
Fun
Transcript
00:00رسول اببہ کا وشال ہوا نا
00:02حضرت بلال نے مو سے لفظ ہی کوئی نہیں ادا کیا
00:05کسی نے اپنا دکھڑا کسی انداز میں سنا لے
00:09حضرت عمر نے کہا جس نے کہا حضور وشال کر گئے گردن اڑا دوں گا
00:13حضرت عثمان گنی نے کہا خبردار
00:15کوئی مجیعہ کے نام بتائے کہ مصطفیٰ وشال کر گئے
00:18حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا
00:21نا بھئی میرے مصطفیٰ پر تو موت آتی نہیں
00:23اس طرح عام لوگوں پہ
00:24سب لوگوں نے اپنے اپنے اظہار کر لیے نا
00:27بلال نے کسی کو دکھ بتایا ہی نہیں
00:30ایک کونے میں بیٹھ کے نا حضرت بلال
00:31اکیلے آن صبح آتے رہے
00:33کسی کو بتایا ہی نہیں
00:34اکیلے روئے
00:36ایک شخص کہنا لگا یار بلال بولتا نہیں
00:39کہ نہ بولاؤ اسے
00:40اثر کی نماز کا وقت ہوا نا
00:42تو وہ بلال جو کعبے کی چھت پر بغیر سیڑنیوں کے چڑ گیا تھا
00:46وہ بلال جو کہا بے کی چھت پر بغیر کسی سہارے کے چڑ گیا تھا
00:50اس بلال کو کہا کہ بلال چڑ جنا
00:53آذان پر مسجد کی چھت پر چڑ جاؤ
00:55حضرت بلال کئی بار چڑے اور کئی بار گرے
00:59کئی بار چڑے اور کئی بار گرے
01:01حضرت بلال حفشی رضی اللہ تعالی نے آواز دی
01:04کہا سلمان میری مدد کرنا
01:07میری مدد کرنا اب مجھ سے چڑا نہیں جاتا
01:10اب مجھ سے جایا نہیں جاتا
01:11جناب سلمان فارسی نے بھی سوال نہیں پوچھا
01:14کہ بلال تو بیمار ہے
01:15یہ نہیں پوچھا
01:17حضرت بلال کو دو چار سے آواز نے اٹھایا
01:19چھت پر پہنچایا
01:21بلال نے آدام شروع کی
01:23جب کہنا اللہ اکبر اللہ اکبر
01:25وہ آواز جس میں بڑا سوز ہوتا تھا
01:28بڑی درد بڑی بلندی ہوتی تھی
01:30بڑا جوش کروش ہوتا تھا
01:31آج وہ آواز دب گئی
01:33جب بلال نے کہنا اشہدو اللہ لا اللہ
01:36حضرت بلال رضی اللہ تعالی نے
01:38انہوں نے تھوڑی دیر روک کے ساز لیا
01:41جب کہنا شہدوان نا محمد الرسول اللہ
01:44جو سارے چوب کھڑے تھے
01:46نا ان میں سے ایک بابا رو پڑا
01:47اس کا نام ابو بکر صدیق تھا
01:50جب حضرت ابو بکر صدیق
01:52کی آنکھ میں آسو آیا
01:53تو حضرت بلال چھت کے اوپر زمین پہ گرے
01:57زمین پہ گرے
01:58اور کہ ابو بکر یہ ڈیوٹی کسی اور کی لگا دے
02:01یہ ڈیوٹی کسی اور کی لگا دے
02:03اب میری روح اجازت نہیں دیتی
02:09آپ نے باتیاں سن رکھا آیا
02:10کہ ایک بار سے آبا نے بلایا
02:12دوبارہ آئے حضور خواب میں ملے
02:14کہا بلال تو آتا کیوں نہیں
02:15بلال چھوڑ کے چلے گئے تھے
02:17فرمایا اب میرا یہاں دل نہیں لگتا
02:19ملک شام کے شہر حلب میں چلے گئے تھے
02:22چھوڑ دیا تھا مدینہ منورہ
02:23اب میری نگاہوں میں ججتا نہیں کوئی
02:26جیسے میرے معبوب ہیں
02:28ایسا نہیں کوئی
02:29حضور خواب میں ملے آئے
02:31مدینہ حضرت بلال آخری بار
02:33لوگوں نے کہا آزان پڑھو
02:35کہا مجھے وہ آزان بھولی گئی ہے
02:37جو مجھے مصطفیٰ کریم کے زمانے میں
02:38پڑھا کرتا تھا
02:39مجھ سے نہیں پڑھی جاتا
02:40نہ مجھے کہو
02:41میں کیسے پڑھوں
02:42امام حسن اور حسین نے آ کے دامن تھامانا
02:45تو کہا بیٹا میں تمہاری نانی کا بھی نوکر رہا ہوں
02:49میں تمہاری ماں کی چکی بھی پیستا رہا ہوں
02:51مجھ سے کوئی فرمایش نہ کر ڈالو
02:53میں نے نوکری کی ہے
02:55اور مجھے اگر اللہ نے توفیق دی
02:56تو میں تمہارے بچوں کے پیر بھی دویا کروں گا
02:59لیکن امام حسن رضی اللہ تعالیٰ
03:01انہوں نے قرم ہے
03:01بلال ایک بار تو آزان سنانی پڑے گی
03:03سنائی بلال نے آزان
Comments

Recommended