- 6 hours ago
Category
📚
LearningTranscript
00:00Thank you
00:31Surah Al-Fatihah
00:38Surah Al-Fatihah
01:17Surah Al-Fatihah
01:39Surah Al-Fatihah
02:00I'll see you next time.
02:30بیمیعت درحمین
02:31میں ایک بقری زبا کر دوں بقرید والے دن
02:33یہ مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میں سو درحم صدقہ کروں
02:38ایک حدیث میں تین درحم کا مقابلہ
02:39اور ایک بقری سے
02:41اور اس میں تین درحم کو وہ کہہ رہے ہیں زیادہ بہتر ہے
02:44دوسری حدیث میں سو درحم
02:45کو بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ قربانی سے بہتر
02:47نہیں ہے
02:48تو یہ والی ہے تو وہ والی بھی تو ہے
02:51دوسری بات یہ
02:53کہ آپ کیا حضرت سعید ابن مسیب کے
02:55مقلد ہیں
02:56کہ ان کا ایک رائے سامنے آگئی آپ نے فوراں قربانی کا
02:59فلسفہ ہی سارا چینج کر دیا
03:03سب سے پہلے
03:03رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل
03:05دس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
03:07قربانی کیے حالانکہ
03:09اس وقت غربت جس انتہا کو
03:11پہنچی ہوئی تھی آج ہم
03:13لوگ ڈاؤن کے باوجود اس کا تصور
03:15نہیں کر سکتے
03:18خود نبی کے گھر میں
03:19چالیس سالی زن چولا نہیں جل رہا ہوتا تھا
03:22آج ہم اس کا تصور نہیں کر سکتے
03:26اور
03:27پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
03:29کے بعد صحابہ تابعین
03:31سب قربانی کیا کرتے تھے چند ایک سے مرویہ
03:33کہ انہوں نے نہیں کی مگر
03:35وہ صحابہ غریب تھے مسکین تھے
03:38جیسے حضرت ابو بکر
03:40اور عمر رضی اللہ عنہما
03:41ان کے بارے میں روایت میں آتا ہے
03:43کہ یہ قربانی نہیں کیا کرتے تھے
03:46اور آگے الفاظ ہیں
03:49اس بات کے خوف سے کہ لوگ ان کی پیروی نہ
03:51شروع کر دیں
03:53تو بعض حضرات نے اس بات
03:55کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے
03:56کہ قربانی کرنا
03:58واجب
03:59نہیں ہے
04:00کیونکہ ابو بکر اور عمر نے
04:01باقاعدہ جان کر نہیں کی
04:03اور وجہ یہ بیان کی جا رہی ہے
04:05کہ لوگ ان کی پیروی
04:06شروع نہ کر دیں
04:07کہ اگر وہ قربانی کرتے ہیں
04:08تو لوگ ان کی
04:10پیروی کرتے ہیں
04:12حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے
04:13جو آپ
04:14سمجھ رہے ہیں
04:16حضرت ابو بکر اور عمر
04:19انتہائی مسکینی کی حالت میں
04:20دنیا سے گئے ہیں
04:21آپ ان کے خلیفہ ہونے کو نہ دیکھیں
04:23آپ ان کی
04:24غربت کو دیکھیں
04:26جس خلیفہ کے
04:27دس دس پندرہ پندرہ پیوند کپڑوں میں
04:29لگے ہوتے ہوں
04:30ان کے پاس
04:30قربانی کے پیسے ہوں گے
04:33بولو بھائی
04:35حضرت ابو بکر
04:36رضی اللہ تعالی عنہ
04:37کہ گھر میں
04:37ایک دن کچھ اچھا کھانا پکا کے دیا
04:40حلوہ
04:40کوئی میٹھا
04:41انہوں نے فرمایا یہ کہاں سے آیا
04:43کہا کہ آپ کے جو وظیفہ ہے نا
04:44بیت المال کا
04:45اس سے بچا بچا کے
04:46میں نے یہ حلوہ بنایا ہے
04:47انہوں نے فرمایا اس کا مطلب
04:48وہ جو
04:48اتنے پیسے میری تنخواہ سے زائد ہیں
04:50اس کی مجھے ضرورت
04:52جو میں بیت المال سے
04:54حکومتی خزانے سے
04:55تنخواہ لے رہا ہوں
04:56وظیفہ لے رہا ہوں
04:57اس کا مطلب یہ جو
04:58بچا کے آپ نے یہ
04:59ڈش بنا لی ہے
05:00تو یہ اضافی ہے
05:01اس کا مطلب
05:02اس سے کم میں بھی میرا گزارا
05:05بولتے کیوں نہیں بھائی
05:05ہو سکتا ہے
05:06تو وہ اپنا وظیفہ کم کرا دیا انہوں نے
05:07یہ تو غربت کا عالم تھا
05:10تو حضرت ابو بکر اور عمر
05:11رضی اللہ تعالی عنہ
05:13نے اپنے دور خلافت میں
05:14قربانی خود اس لیے نہیں کی
05:15روکا نہیں کسی کو
05:16خود نہیں کر رہے
05:17کہ لوگ آپ کی اقتداء کریں گے
05:19کا مطلب یہ کہ
05:20صحابہ میں یہ غربت بہت تھی
05:21تو جو غریب صحابہ ہیں
05:23وہ سمجھیں گے
05:23کہ ہم ہر ایک پر فرضے آئے نہیں
05:25ہر ایک پر لازم ہیں
05:27کیونکہ جب یہ دو حضرات کر رہے ہیں
05:28تو یہ تو مقتدہ ہے نا
05:31تو جن کے گھر میں کھانے کو روٹی نہیں ہیں
05:33جو بچارے مٹی سے ملا دیا
05:35بھوگنے ان کو
05:35وہ بھی بچارے کرزے لے لے کے
05:37مجبور ہو کے کریں گے
05:38تو اس خوف سے حضرت ابو بکر اور عمر نے نہیں کی
05:41ورنہ یہ ممکن ہے
05:42کہ ایک چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم
05:44نے پابندی سے کیو دس سال
05:47تواتر سے کیاو ایک عمل
05:48اور حضرت ابو بکر اور عمر
05:50بقاعدہ نہ کر کے
05:51لوگوں کو ترغیب نے کے نہیں کیا کرو
05:52یہ عملی طور پر ممکن ہے کیا
05:55نہیں آ رہی بات
05:58خلفاء راشدین تو سنت پہ حریص تھے
06:00جو کام نبی نے کیا
06:01وہ تو لوگوں کو اور زیادہ
06:02ترغیب دیتے تھے
06:03تو صاف پتہ چلتا ہے
06:05کہ آپ
06:06یہ چاہتے ہیں
06:07کہ لوگ غریب پہ قربانی کو واجب
06:11بولو بھائی نہ سمجھیں
06:12اور ہم بھی یہی کہتے ہیں
06:14کہ غریب آدمی پر قربانی واجب
06:15نہیں ہے
06:16یہ مالداروں کا کام ہے
06:20تو یہاں ایک ٹیکنیکل غلطی
06:21لوگوں سے ہوتی ہے
06:22کہ لوگ کہتے ہیں
06:23ہم تو مالدار ہیں
06:24اب یہ بھی ممکن ہے آپ کہیں
06:26کہ چلو یہ تو ثابت ہو گیا
06:28کہ مالداروں پر لازم
06:30بولو بھائی نہیں ہے
06:34سوری غریب پر لازم نہیں ہے
06:35تو ہم تو کیا ہیں
06:37غریب ہیں
06:38تو یاد رکھو
06:38آپ کا غربت کا دعوی
06:41اس میں آپ کی رائے کا اعتبار
06:42نہیں ہیں
06:44کیونکہ ہمارے سابق صدر بھی
06:46اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں
06:48تو وہ بھی غریب سمجھتے ہیں
06:49کہ بھائی میرے بہت خرچیں
06:50میں نہیں ایفورٹ کر سکتا
06:51میں سٹیل مل کھا کے بیٹھا ہوں
06:52پی آئی ایت کھائے
06:53میں تو بہت سے چیزیں رہ گئی ہیں بھی
06:55اور میرے خرچیں پورے
06:56نہیں ہو رہے ہیں
06:59تو فقہاں نے جو نساب بیان کیا ہے
07:01قرآن و سنت کو سامنے رکھ کر
07:02وہ نساب کا اعتبار ہوگا
07:05کہ آپ کی تمام ضرورت کے
07:07جو بیسک خرچیں ہیں
07:08وہ نکال کر
07:09اگر آپ کے پاس
07:10اتنا مال بچتا ہے
07:11جس پہ زکاة واجب ہو جاتی ہے
07:12سرادہ باہون تولہ چاندی
07:13تو اس کا مطلب
07:14آپ شریعت کی نظر میں کیا ہیں
07:15مالدار ہیں
07:16کیونکہ مالدار نہ ہوتے
07:16تو اسلام آپ پہ زکاة کو لازم
07:18نہ کر رہا ہوتا
07:19زکاة تو مالداروں میں فرض ہے نا
07:22اس لئے علماء نے
07:23ایک نساب بیان کیا ہے
07:24قرآن و سنت میں غور کر کے
07:25کہ سونا چاندی
07:26مال تجارت
07:27کیش رقم
07:27اور وہ سامان جو پورے سال بھی استعمال نہ ہو
07:30تو یہ تمام چیزیں اضافی ہیں
07:33گولڈ کیا ہے بھائی
07:35بولتے کیوں نہیں
07:36اضافی ہے
07:37آپ کے پاس اگر گولڈ ہے
07:38تو آپ کہہ سکتے ہیں
07:39کہ میں نے آڑے وقت کے لئے رکھا ہوا ہے
07:41تو جو چیز آڑے وقت کے لئے رکھی ہوتی ہے
07:43وہ گریبی ہوتی ہے
07:45اور جو آڑے وقت میں
07:46جو آڑا وقت کہتے ہیں کہ اس کو ہیں
07:49پہلے تو یہ سمجھ لیں
07:50آڑے ترشے کی دیفنیشن معلومی ہے لوگوں کو
07:52تب ہی تو آڑے ترشے ہو رہے ہیں
07:54بھائی فیزیکل فٹنس کا حال دیکھیں نا
07:57عجیب طریقے سے کھا رہے ہیں
07:58عجیب طریقے سے سو رہے ہیں
07:59عجیب طریقے سے بیٹھ رہے ہیں
08:00تو کیا ہو رہے ہیں
08:01آڑے ترشے ہو رہے ہیں نا
08:03تو وجہ کیا ہے کہ ان کو پتہ ہی نہیں
08:05کہ آڑا ترشا
08:06ان سے بولو
08:06تو آپ کی تون کہاں جا رہی ہے
08:08یہ کیا ہو رہا ہے
08:08تو کہتے ہیں بہترین فٹ فٹ
08:10اس کا مطلب ہماری قوم کو آڑے ترشے گا
08:13بولو بھائی نہیں پتا
08:15تو آڑا وقت کسے کہتے ہیں
08:17آڑا وقت کی دیفنیشن یاد رکھیں
08:19آڑا وقت اسے کہتے ہیں
08:21کہ آپ کے پاس کھانے کو
08:23روٹی نہ ہو
08:24پہننے کو
08:25بولتے ہی نہیں بھائی
08:26لیباس نہ ہو
08:27رہنے کو
08:29ذاتی گھر نہیں
08:30گھر نہ ہو رہنے
08:32یہ تین چیزوں میں سے
08:34ایک چیز شارٹ ہو گئی
08:35تو سمجھ لو
08:36آڑا وقت آ گیا
08:37تو فقہ بیان کرتے ہیں
08:38اگر آپ کے پاس
08:39رہائش کے لیے گھر ہے
08:40چاہے اپنا ہو
08:40چاہے کراہ پر ہو
08:42آپ کے پاس
08:43پہننے کے لیے کپڑے
08:44موجود ہیں
08:46اور ایسے کپڑے
08:47جو سال میں ایک دفعہ بھی
08:48استعمال ہو جاتے ہیں
08:48کتنا فقہ نے
08:50بڑا ظرف کیا
08:51اور کتنی بڑی گنجائش دی
08:52کہ بھئی وہ کپڑے
08:53ضرورت میں داخل ہیں
08:54جو سال میں ایک دفعہ بھی
08:55استعمال ہو رہے ہیں
08:58حالانکہ
08:58ضرورت میں وہ داخل
08:59ہوتے نہیں ہیں
09:00لیکن سال میں
09:01ایک دفعہ بھی
09:01ایک کپڑا استعمال نہیں ہو رہا
09:02تو اس کو آپ
09:04ضرورت میں کیسے
09:04شامل کر سکتے ہو
09:06ارے کل کسی نے
09:07مسئلہ پوچھا
09:08کہ میرے گھر میں
09:09کچھ برتن رکھیں
09:10انتیس سال سے
09:12جو انتیس سال سے
09:13استعمال
09:14نہیں ہوئے
09:15تو کیا مجھ پہ
09:15قربانی واجب ہے
09:17میں نے کہا
09:18ان برتنوں کو
09:19کی قیمت
09:20اگر ساڑھے باون
09:20طولہ چاندی کے برابر ہے
09:22تو قربانی
09:23بولتے کیوں نہیں بھائی
09:24واجب ہے
09:25کیونکہ یہ
09:25ضرورت سے زائد سامان ہے
09:27اس کے ضرورت میں
09:28داخل نہ ہونی
09:29کی سب سے بڑی دلیل یہ
09:30کہ پورا سال
09:31گزر گیا
09:31اور یہ استعمال
09:33نہیں ہوئے
09:33بھئی سردی آئی
09:34بعض برتن ممکن ہے
09:35سردیوں میں استعمال ہوتے ہیں
09:36گرمیوں میں استعمال
09:37سوپ کے پیالے جو ہیں
09:47جو لینلول کی ہوتی ہے
09:49اس کے حساب سے بھی
09:50کم از کم سال میں
09:51ایک دفعہ تو
09:51برتن کا استعمال
09:52ہو جانا چاہیے نا
09:54سال میں ایک بار بھی
09:56استعمال میں نہیں آئے
09:56اس کا مطلب
09:57یہ آپ کی ضرورت میں
09:58داخل نہیں ہے
09:58یہ آیاشی شو کے لیے
10:00کہ مہمان آئیں گے
10:00دیکھیں گے برتن بھی
10:01ہمارے گھر میں
10:03تو میں نے کہا
10:04انتیس سال سے
10:04جو برتن رکھے ہوئے ہیں
10:05ان کو اجائب گھر میں
10:06آپ جمع کراتے ہیں
10:07ٹکٹ لگاتے ہیں
10:16انتقال بیسے تو
10:17قائد اعظم کے انتقال
10:18کو زیادہ ٹائم ہو گیا
10:19لیکن حسوی ہماری
10:20نئی نسل کو
10:21زیادہ معلوم نہیں ہوتی
10:22جب ایک آدمی دیوار
10:23بنا کے
10:24اس پہ لکھ سکتا ہے
10:25کہ ہم قائد اعظم
10:26کو ملتان آنے پر
10:27خوش آمدیت کہتے ہیں
10:28تاکہ وہ
10:28آثار قدیمہ کی دیوار ہو
10:30تو آپ برتن پہ نہیں
10:30لکھ سکتے
10:32کہ ہم اللہم اقبال کے
10:33شکر گزار ہیں
10:34کپ پہ لکھ دیں
10:34کہ انہوں نے
10:35اس کپ میں
10:36ہمارے ساتھ بیٹھ کے
10:36چائے
10:37تو انتیس سال تھا
10:38تھوڑا ہی پیچھے رہ گیا
10:41تو
10:42آڑا وقت کا مطلب
10:43کھانے کو روٹی نہ ہو
10:46پہننے کو
10:46لباس نہ ہو
10:47رہنے کو
10:48بولو بھائی
10:49گھر نہ
10:51پھر بھی فقہان نے
10:52اور مزید بساط کی ہے
10:53کہ وہ چیز
10:55جو سال میں
10:56ایک بار بھی استعمال
10:57نہیں ہو رہی
10:57تو وہ ضرورت میں
10:58داخل
10:59نہیں ہے
11:01وہ اضافی ہیں
11:02اضافی چیزوں پر
11:03قربانی ہوتی ہے
11:05گاڑی آپ کے پاس
11:06کتنی بھی لگجری ہو
11:07لیکن استعمال میں ہے
11:08تو شریعت فرض کر لیتی ہے
11:09چلو یہ بھی تمہاری
11:11ضرورت کی چیز ہے
11:11استعمال کی چیز ہے
11:13کتنا بڑا ظرف
11:15اس کے بعد بھی
11:16آپ کہہ رہے ہو
11:17کہ مجھ پر قربانی
11:18واجب نہیں ہے
11:18حالانکہ آپ کے پاس
11:20گولڈ رکھا ہوا ہے
11:22تین چار تولے سونا
11:23رکھا ہوا ہے
11:24لوگ کہتے ہیں
11:24بھائی دو تین تولے سونا
11:26وہ تو آڑے وقت کے لیے
11:27نا
11:28تو بھائی آپ پر
11:29آڑا وقت
11:30نہیں آیا
11:31آپ صبح دو پراتھے
11:32کھائے آپ نے
11:33دوپہر آپ
11:34کبھی پیزا کھا رہے ہو
11:35کبھی برگر کھا رہے ہو
11:37انڈے والے برگر کی بھی
11:38نوبت
11:38نہیں آتی
11:39رات کو آپ
11:40پھوڑتے ہو
11:40تبیت سے
11:41اس کا مطلب
11:41آپ پر آڑا وقت
11:42نہیں آیا
11:43جن چیزوں کو
11:44آپ آڑا کہہ رہے ہو
11:45اللہ کی نظر میں آڑے نہیں ہیں
11:47آپ کہہ سکتے ہو
11:48یار وہ بچے کی
11:49سکول کی فیس بھرنی ہے
11:50میں نے یہ آڑا وقت ہے
11:51ابھی تو بچے کو
11:51انجینئرنگ کرانی ہے
11:52تو اس کے لیے
11:53میں گولڈ رکھا ہوئے
11:54تاکہ پہلے سمسر کی
11:55فیس جائے گی
11:56اللہ اس کو آڑا وقت
11:57پھر تو سارے آڑے وقت
11:59میں ہی ہیں
12:00ارے آفیسر
12:01لیول کے لوگ
12:02تو معاشرے میں
12:02کم ہوتے ہیں نا
12:04بھائی
12:04نوے پچانوے فیصد
12:05لوگ عام ہوتے ہیں
12:06پانچ فیصد لوگ
12:07آفیسر
12:18فیصد کو کبھی آڑے وقت
12:19سے تو نکالتا ہی نہیں ہے
12:20پانچ فیصد کو
12:21یاشی میں لگا دیا
12:22جبکہ اللہ کیا کہتا ہے
12:23وَمَا مِنْ دَابْ بَطِنِ اللَّهَ
12:24عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا
12:25انسان کی بنیادی
12:26ضرورتیں میرے
12:27ذمہ ہیں
12:28تو یہ کیسے ذمہ ہیں
12:30کہ پانچ فیصد لوگوں
12:31کو تو نے
12:31ڈاکٹر انجینئر بنا دیا
12:32پچانوے فیصد کو
12:33وہ ٹیمانٹر بیچ رہے ہیں
12:34تو اس کا مطلب
12:35بلہ ٹیمانٹر بیچنے والے
12:36کو آڑے وقت میں
12:37سمجھتا ہے ہی نہیں
12:40بہت مشکل ہے سمجھانا
12:41شکر ادا کرو
12:42شکر
12:42اگر اس پول کی فیصد نہیں ہے
12:44کوئی ٹینشن لینے کا نہیں ہے
12:46کھانا پینا
12:47بچے کا ہو رہا ہے نا
12:48قدر بڑھ رہا ہے اس کا
12:50تو بس اللہ نے
12:51فل ایاشی میں رکھا ہے آپ کو
12:53بن جائے
12:54ڈاکٹر انجینئر اچھی بات ہے
12:55پائلٹ بن جائے
12:56تو بہت اچھی بات ہے
12:57ہو سکتا ہے
12:58دوبارہ کوئی
12:59چائے وائے کا کیس ہو جائے
13:00زیادہ میں اب
13:01اس کا تذکرہ نہیں کرتا
13:02وہ کہے گا
13:03مفتی صاحب کو پتہ نہیں
13:04کیا مسئلہ ہے
13:04آئندہ اگر وہ جہاز لے کر آیا
13:05بمباری کے لیے
13:06سب سے پہلے میرے گھر پہ آئے گا
13:07اب انندن کی بات کر رہا ہوں
13:09وہ کہا گا
13:10یہ مفتی صاحب نے دو
13:11زیادہ ہی کر دیا
13:12تو آئندہ اگر اللہ نہ کرے
13:14جہاز لے کر آیا
13:15تو بولے کہ پہلے
13:17لیکن انشاءاللہ
13:17ایسا ہو گا نہیں
13:18ہم گوشت کھانے والے لوگ ہیں
13:20ہم ہمارے
13:20جو پائلٹ ہیں
13:21ان کی کوشش ہوتی ہے
13:22کہ گیٹ سے ہی
13:24واپس کر دیا جائے
13:25کہ گیٹ سے ادھر
13:26آنے نہ دیا جائے
13:27تب ہی تو ہم تسلی سے
13:28یہاں بیٹھے ہیں
13:30تو
13:31ادھر چلا گیا ہے نا
13:32تو سارا بقرائیت کا
13:33ٹاپک چینج ہو جائے گا
13:35کچھ ٹاپک ایسے ہوتے ہیں
13:36جس میں آدمی کو
13:37خود دلچسپی ہوتی ہے نا
13:38تو اس میں ایک دم
13:39ٹونی چینج ہو جاتی ہے
13:39تو یہ بھی
13:40یہ ٹاپک بھی
13:40انہی ٹاپکس میں سے یہ کہے
13:41لیکن ابھی میں
13:42جان کر واپس آ رہا ہوں
13:43کہ بقرائیت کا سارا
13:44موضوع نہ خراب ہو جائے گی
13:45تو بھائی جلدی سے
13:46بات کو سمیٹتا ہوں
13:47اللہ کرے آج
13:48مختصر وقت میں
13:49جامع باتیں کہنے کی
13:50اللہ توفیق دے دے
13:52تو
13:52ساڑھے باون تولہ چاندی
13:54کے برابر
13:54اگر میرے بھائی
13:55کسی کے پاس رقم ہے
13:56یا ضرورت سے
13:56زیادہ سامان ہے
13:57یا اضافی چیز ہے
13:59وہی جو ضرورت سے
14:00زیادہ سامان
14:01یا کرنسی ہے
14:02نوٹ ہے
14:02یا چاندی ہے
14:03یا سونا ہے
14:03تو اس کے قربانی
14:04واجب ہو جائے گی
14:05البتہ
14:06ساڑھے باون تولہ چاندی
14:07میں خالب پچاس پچپن ہزار کی ہے
14:09البتہ اس پچپن ہزار کی
14:11مالیت اگر آپ کے پاس ہے
14:12تو اس میں سب سے پہلے
14:13قرضہ مائنس کرنا ہے
14:14پچاس ہزار
14:16پچاس ہزار
14:16پچپن ہزار
14:17موجود ہیں
14:17لیکن قرضہ
14:18ایک لاکھ کا ہے
14:19تو قربانی واجب
14:21بولو بھائی
14:21نہیں ہوگی
14:22کیوں نہیں ہوگی
14:22شریعت کہتی ہے
14:23پہلے جس کا قرضہ ہے
14:23اس کے پیسے واپس کرو
14:24ٹھیک ہے نا
14:25کر سکتا ہے
14:26ایسا آدمی
14:28بھئی قرضہ والا
14:28اگر مانگ نہیں رہا
14:29اس کو اجازت دے رہا ہے
14:30کوئی بات نہیں
14:31اگلے سال دے دینا
14:31چھ مہینے بات دے دینا
14:32تو آپ کر سکتے ہیں
14:33کریں گے تو سواب
14:33ملے گا
14:34لیکن اگر وہ مانگ رہا ہے
14:35پیسے
14:36تو پھر شریعت میں
14:37اس کا حق
14:38پہلے ہے
14:40تو واجب نہیں ہے
14:41لیکن
14:43یا قرضہ تو نہیں ہے
14:44لیکن ابھی
14:44بیسک خرچے
14:45گھر کے نکلنے ہیں
14:46گیس بجلی کا بل
14:47راشن
14:48یہ خرچے کیا ہوتے ہیں
14:50یہ بیسک خرچے ہوتے ہیں
14:51تو یہ خرچے آپ نے
14:53کیا کرنے ہیں
14:53نکالنے ہیں
14:54کیونکہ آپ پچاس پچپن ہزار ہیں
14:56اور ایک بکرہ لے آیا
14:57آپ پچیس ہزار کا
14:57پتہ چلا کہ
14:59گیس بجلی کا بل
14:59دینے کے قابل رہے
15:02گھر کے راشن کے
15:02تو بیگم بولے گی
15:03بکرہ
15:04خود ہی کھالو پکھائیں گے
15:05کس میں اس کو
15:06تو یہ بھی استطاعت
15:07نہیں ہے
15:08اس کی علامت ہے
15:09کس میں استطاعت
15:09نہیں ہے
15:10تو یہ بیسک خرچے
15:11نکال کے بھی
15:11اگر ساڑھے باونت
15:12اولا چاندی کے برابر
15:13رقم بچتی ہے
15:14تو پھر آپ
15:15با آسانی قربانی
15:17کر سکتے ہیں
15:18اور حدیث کا
15:18یہی مطلب ہے
15:19صحیح حدیث ہے
15:20مَوَ جَدَ سِعَتَ لِعَنْ يُضَحْيَ
15:23فَلَا يُضَحْي فَلَا يَخْرَبَنَّ مُسَلَّانَا
15:25جس کے پاس
15:26گنجائش تھی
15:27قربانی کی
15:27اب گنجائش ہو گئی
15:28نا آپ کے پاس
15:29اب اس میں یہ نہیں دیکھنا
15:30بچے کو انجینئرنگ کروانی ہے
15:31تو اس کے این ایڈی کے پیسے جائیں گے
15:33پھر تو میرے بھائی
15:34کبھی بھی
15:34کسی بھی چیز کی استطاعت
15:36ہو ہی نہیں سکتی
15:36کیونکہ پھر آگے یہ بھی سوچنا ہے
15:38پھر بچے کی شادی بھی کرانی ہے
15:39اس کے اتنے پیسے جائیں گے
15:40پھر بچے کے اگر ولادت ہوئی
15:42اور بچے کے پاس پیسے نہ ہوئے
15:44تو پوتے کے خرچہ بھی
15:46اٹھانا ہے
15:46پھر بچے کو اگر مستقبل میں
15:48بزنس کی ضرورت ہوئی
15:49ڈاکٹر بن گیا
15:50اپنی کلینک کھولنے کی ضرورت ہوئی
15:51تو تارک روڈ میں
15:52کلینکی بھی کھول کے دینی ہے
15:53دو کروڑ اس کے مائنس کر دو
15:54پھر تو دنیا میں
15:55کوئی بھی کام آپ پر لازم
15:57نہیں ہوگا
15:59اس لئے بس کھانا پینا
16:00لبائز یہ ہے
16:01باقی سب گریبیاں ہیں
16:03باقی سب کیا ہیں
16:05گریبیاں
16:05تو
16:07اب کیا ہے
16:08کہ آپ نے یہ سارے خرچے نکالے
16:10دیکھا بھائی ابھی بھی پیسے بچ رہے ہیں
16:12تو انبی نے فرمایا
16:13جس کے پاس
16:14سیعتن بھی ہے
16:14سیعتن بھی ہے
16:16سیعتن زیادہ بہتر ہے
16:17یا سیعتن یہ
16:18اس وقت ذہن میں نہیں ہے
16:19تو جس کے پاس
16:20گنجائش تھی قربانی کی
16:22اور اس نے قربانی نہیں کی
16:23وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی
16:25مت پھٹکے
16:27اور قربانی کے لازم ہونے کی
16:29ایک اور دلیل یہ بھی ہے
16:30کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
16:32جس نے عید کی نماز سے پہلے قربانی کی
16:34وہ گوشت ہے
16:35وہ قربانی نہیں ہے
16:36اسے چاہیے کہ وہ نماز کے بعد
16:38دوبارہ کرے
16:39اگر یہ محاذ ایک مستحب عمل ہوتا
16:41تو آپ دوبارہ کرنے کا حکم دیتے
16:44کہتے چلو ویسے بھی نفل چیز تھی
16:45نیت کا ثواب تمہیں
16:47مل گیا ہے
16:48ایک صحابی نے
16:49علم نہ ہونے کی وجہ سے
16:51بقرہ عید سے پہلے قربانی
16:52نماز عید سے پہلے قربانی کر دی
16:55تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
16:58ان کو آپ نے اجازت دے دی
16:59کہ تمہارے لئے کافی ہے
17:00تمہارے بعد کسی اور کے لئے کافی
17:01نہیں ہوگی
17:02تو کافی نہ ہونا
17:03اس کی علامت ہے کہ یہ حکم
17:05معمولی حکم نہیں ہے
Comments