Falsafa e Hajj | Host: Tasleem Ahed Sabri
Watch More || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidTfSid1NifY039IVYocnyX
Guest : Dr. Saeed Ahmed Saeedi, Mufti Abu Bakar Siddique Naqshbandi
Sana Khuwan: Sagheer Ahmed Naqshbandi
#FalsafaeHajj #hajj #aryqtv #hajj2026 #qurabni
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch More || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidTfSid1NifY039IVYocnyX
Guest : Dr. Saeed Ahmed Saeedi, Mufti Abu Bakar Siddique Naqshbandi
Sana Khuwan: Sagheer Ahmed Naqshbandi
#FalsafaeHajj #hajj #aryqtv #hajj2026 #qurabni
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:05بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:07لبیک اللہم لبیک
00:10لبیک لا شریک لکا لبیک
00:13ان الحمد ونعمت لکا والملک لا شریک لک
00:18ناظرین اکرام
00:20السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:22میں ہوں تسلیم احمد صابری
00:24اور آپ حج کی خصوصی ٹرانسمیشن
00:27فلسفہ حج دیکھ رہے ہیں
00:29اور آج تواف کے حوالے سے خاص طور پر
00:32ہم نے کوشش کی ہے
00:34کہ ان پروگرامز میں
00:35مناسق حج کو عرقان کو
00:38اور اس کے فلسفے کو ذکر کیا جائے
00:41اور اس سے ان عرقان اور مناسق کی روح
00:45کو سمجھنے کی کوشش کی جائے
00:47تواف ہر کائنات میں جتنے مسلمان بستے ہیں
00:51سب کی خواہش ہے کہ اللہ کا گھر دیکھیں
00:53کعبت اللہ دیکھیں
00:55تصاویر میں ویڈیوز میں
00:57جتنا بھی دیکھا ہو
00:58لیکن جب انسان
01:01حرم میں پہنچتا ہے
01:02متعف میں پہنچتا ہے
01:04تو اس کا منظر اس کا جلوہ
01:06اس کا جلال اس کی حیبت
01:08اس کا روب اس کا دب دبا
01:10کچھ اور ہی ہوتا ہے
01:12اللہ رب العزت کا جلال
01:14جب وہ دیکھتا ہے
01:15تو بے ساختہ آنسو نکلتے ہیں
01:18پھر تواف حج اور عمرے کے لیے بھی
01:21ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے
01:24تواف ان سات چکروں کو کہتے ہیں
01:27کہ جو اللہ رب العزت کے گھر
01:29کعبت اللہ کے گرد لگائے جاتے ہیں
01:32ایک خاص کیفیت کے ساتھ
01:35خاص ڈسپلن کے ساتھ
01:37خاص لیمٹیشنز کے ساتھ
01:40اللہ رب العزت کے گھر کے ساتھ چکر
01:42یہ بھی ہم نے سنا
01:44فرشتے بھی لگاتے ہیں
01:45انسان بھی نہ لگاتے ہیں
01:47دیگر مخلوقات جنات بھی وہاں ہوتے ہیں
01:50یا نہیں ہوتے
01:51سات ہی عدد کیوں ہوتے ہیں
01:54پھر اسے مرکزی حیثیت کیوں حاصل ہے
01:56پھر جو
01:58اس فلسفے کی سیریز میں
02:01جو سوال خاص طور پر رہا
02:03کہ اس کی لوجک کیا ہے
02:05جو لوگ لوجک تلاش کرنے کے
02:08بہت شوقین رہتے ہیں
02:10اس رکن کی
02:13اس مناسق حج کی
02:15کیا لوجک ہے
02:16اس حوالے سے ہم بات کرنے کی کوشش کریں گے
02:19ہمارے ساتھ تشریف فرما ہے
02:20ممتاز سکولر
02:22ممتاز عالم دین
02:23قبلہ
02:24ڈاکٹر سعید احمد سعیدی صاحب
02:26السلام علیکم
02:27ڈاکٹر صاحب بہت شکریہ
02:28آپ کی آمد کا
02:29اور ہمارے ساتھ تشریف فرما ہے
02:31ممتاز عالم دین
02:32ممتاز سکولر
02:33قبلہ
02:33مفتی ابوبکر صدیق نقشمندی صاحب
02:36السلام علیکم
02:37مفتی صاحب آپ کی آمد کا بھی
02:38بہت شکریہ
02:40عالمی شورتی آفتہ
02:41سنا خان
02:42صغیر احمد نقشمندی صاحب
02:44السلام علیکم
02:44بہت شکریہ
02:46آپ کی بھی آمد کا
02:47ہم سے آغاز قبلہ
02:49بسم اللہ
02:50تیرے گھر کے پھیر لگاتا رہوں میں
02:59صدا شہر ملکہ میں آتا رہوں میں
03:06یا ربنا
03:17تیرے گھر کے پھیر لگاتا رہوں میں
03:24تیرے گھر کے پھیر لگاتا رہوں میں
03:29صدا شہر ملکہ میں آتا رہوں میں
03:36یا ربنا
03:38ارحم لانا
03:41یا ربنا
03:44ارحم لانا
03:47الہی میں پھر تا رہوں
03:51گردے کعبہ
03:53الہی میں پھر تا رہوں
03:57گردے کعبہ
04:00یوں قسمت کی گردش
04:03مٹا تا رہوں میں
04:07صدا شہر ملکہ میں آتا رہوں میں
04:13ارحم میں میں حاضر ہوا
04:17بن کے مجرم
04:19ارحم میں میں حاضر ہوا
04:23بن کے مجرم
04:25کے لب ایک نارا لگاتا رہوں میں
04:31کے لب ایک نارا لگاتا رہوں میں
04:37صدا شہر ملکہ میں آتا رہوں میں
04:43یا ربنا
04:45ارحم لانا
04:49یا ربنا
04:51ارحم لانا
04:55لپٹ کر گلے لکے میں
04:59ملتزم سے
05:01لپٹ کر گلے لکے میں
05:05ملتزم سے
05:07گناہوں کے دب مٹا تا رہوں میں
05:14گناہوں کے دب مٹا تا رہوں میں
05:20صدا شہر ملکہ میں آتا رہوں میں
05:26سفار ملوہ کے
05:29ماں بین دوڑوں
05:33صدا شہر ملکہ میں آتا رہوں میں
05:45صدا شہر ملکہ میں آتا رہوں میں
05:51میں پیتا رہوں
05:54ہر گڑی آبِ زمزم
05:57میں پیتا رہوں
06:01ہر گڑی آبِ زمزم
06:05لگی اپنے دل کی بوجھا تا رہوں
06:11میں لگی اپنے دل کی بوجھا تا رہوں
06:17میں صدا شہر ملکہ میں آتا رہوں میں
06:23یا ربنا ارحم لانا
06:29یا ربنا ارحم لانا
06:35تیرے گھر کے
06:37تیرے لگا تا رہوں میں
06:41صدا شہر ملکہ میں آتا رہوں میں
06:53ماشاءاللہ
06:54ماشاءاللہ
06:55لکسر تواف
06:56اور یہ کب سے ہے
06:58تمام انبیاء کی یہ سنت رہی ہے
07:01اللہ رب العزت کے گھر کو
07:03مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے
07:06اور اس کا تواف
07:07کہ فرشتے بھی کرتے ہیں
07:09جنات بھی کرتے ہیں
07:10حقبت کیا ہے اس کی
07:11بسم اللہ الرحمن الرحیم
07:13بہت شکریہ
07:14یہ
07:16کیا کہتے ہیں
07:17کانشیہ سرکلنگ
07:19اراؤنڈ ڈیوائن سینٹر
07:20تواف جو ہے
07:22وہ
07:22ایک ڈیوائن سینٹر ہے
07:24کعبت اللہ
07:25مرکز توحید ہے
07:26مرکز ابادت ہے
07:27دیکھیں
07:29اس میں کئی پہلو ہیں
07:30سوچنے سمجھنے کے
07:31ایک پہلو تو یہ ہے
07:33کہ
07:34کعبت اللہ
07:37ہمارا قبلہ ہے
07:39مابود نہیں ہے
07:40بے شک
07:41اور مسلمان
07:42جب بھی
07:43اس کا تواف کر رہا ہوتا ہے
07:44وہاں حاضر ہوتا ہے
07:45تو
07:46لبیک اللہ امہ لبیک
07:47کہتا ہے
07:48اور اپنی
07:48حاضری
07:49اللہ کی بارگاہ میں
07:50پیش کرتا ہے
07:51اس دیوار کے ہاں
07:52پیش نہیں کرتا
07:53ایک سمت
07:54ایک ڈائریکشن
07:55ایک قبلہ بنا دیا
07:56تاکہ توجہ
07:57آپ کی مرتقز رہے
07:58اور اگر آپ
08:00اس کی روح کو دیکھیں
08:00توحید کیا ہے
08:01توحید یہ ہے
08:03جب انسان کی زندگی
08:04ایک نکتے پر
08:05مرتقز ہو جائے
08:07اور جب یہ ارتکاز
08:09ختم ہوتا ہے
08:10تو پھر شرک شروع
08:10ہو جاتا ہے
08:11اللہ اللہ
08:12اللہ میں نے کہا ہے نا
08:13بیام نکتہ
08:14توحید
08:15آ تو سکتا ہے
08:16تیرے دماغ میں
08:18بت خانہ ہو
08:18تو کیا کہیے
08:19اللہ
08:20انتشار فکر جو ہے
08:21یہ شرک کی طرف
08:22لے جاتا ہے
08:23ٹھیک
08:23اچھا پھر اس میں
08:25دوسرا پہلو جو ہے
08:26وہ بندگی کا
08:27کامل اظہار ہے
08:28ایگو کی نفی ہے
08:29انانیت کی نفی ہے
08:30کیسے
08:32انسان
08:32اپنی خواہشات
08:34کے سارے
08:35بتوں کو
08:35چھوڑ کر
08:37اپنی
08:39خواہشات
08:39کے جو
08:40ایک پورٹریٹ
08:41بنائے ہوتے ہیں
08:42ان کو پیٹ کر کے
08:43پشت کر کے
08:44ایک
08:45اللہ کے مقرر کردہ
08:47دیوائن سنٹر کے گرد
08:48وہ گھوم رہا ہے
08:49تو مجھے
08:50جیسے ہی آپ نے
08:52تواف کا ذکر کیا ہے نا
08:53تو علامہ کے وہ
08:54شیر یاد آئے دو
08:55کیا ہے
08:56تُو نے
08:56مطاع غرور کا سودا
08:58فرے بے سودو
09:01یہ مال و دولت
09:03دنیا
09:03یہ رشتہ و پیونت
09:05پتان و وہم و گم
09:07لا الہ
09:07یہ ایک حقیقت ہے
09:10کہ بندہ
09:11جب تواف کرتا ہے
09:12تو سارے رشتے
09:14نات خواہشات
09:15کے بتوں کو
09:16پشت کر کے
09:16اپنے رب کے
09:18رب کی محبت میں
09:20اس کے
09:20متعین کردہ
09:21دیوائن سنٹر کے
09:22گھوم رہا ہے
09:23صورت پرکار
09:24ہو جاتا ہے
09:26تو ماناللہ
09:27اور تیسرا
09:27اس میں نکتہ یہ ہے
09:29کہ صورت پرکار
09:31کیا آپ نے
09:31بات چھیڑی
09:33کلون فی فالا کی
09:34یس بہون
09:35پرانے پاک میں
09:37سورہ یاسین میں
09:38ہے غالب
09:38کہ ہر
09:39چیز
09:40اپنے مدار میں
09:41مہوے گردش ہے
09:42اور یہ جو
09:43تواف ہے
09:44مہوے گردش ہو
09:46اسی کو تواف
09:46کہتے ہیں
09:47یہ جو تواف ہے
09:48یہ تو
09:49عرش والے بھی
09:49مصروف ہیں
09:50فرش والے بھی
09:51مصروف ہیں
09:52اور
09:53یہ صرف
09:54انسان
09:55جنات
09:56اور فرشتے
09:57مصروف نہیں ہیں
09:58بلکہ
09:59زمین
10:00کے ستارے
10:00زمین
10:01اور آسمان
10:02کے اوپر
10:02کا جو سارا
10:03نظام ہے
10:03ہر چیز
10:04اپنے مدار
10:05کے گرد
10:05مہوے تواف ہے
10:06جس زمین
10:07پر ہم رہتے ہیں
10:08جس سیارے پر
10:09یہ بھی
10:09مہوے تواف ہے
10:10کلون فی فالا کی
10:12یس بہون
10:12تو جب انسان
10:13تواف کرتا ہے
10:15گویا وہ
10:16کائنات سے
10:16ہم آنگ ہو جاتا ہے
10:18اور یہی جب
10:19سماہ ہوتا ہے
10:19سماہ میں بھی
10:20تو اللہ کا ذکر کر کے
10:21ایسے
10:22چکر لگاتے ہیں
10:23تو یہ در حقیقت
10:24کائنات سے
10:25ہم آنگ ہونے کا
10:26ایک سٹیپ ہوتا ہے
10:28کہ صوفی
10:28سارے رشتوں سے
10:29اوپر اٹھ کر
10:30وہ کہہ رہا ہوتا ہے
10:31زبان حال سے
10:32کہ یہ مال
10:33و دولت
10:34دنیا
10:34یہ رشتہ
10:35و پیوند
10:36خطان
10:36وہم و گم
10:37اللہ
10:37اللہ
10:39سبحان اللہ
10:39ناظرین کرام
10:40یہاں ایک
10:41مختصر سا وقفہ لیں گے
10:43وقفے کے بعد
10:43اس کی اہمیت
10:45اس کی لوجک
10:46پھر ساتھ ہی کیوں ہیں
10:48کبھی
10:48دوڑنا ہے
10:49کبھی
10:50آہستہ چلنا ہے
10:52کبھی
10:52سینہ چوڑا کر لینا ہے
10:54کبھی
10:54جو ہے
10:55وہ احرام
10:56جو ہے
10:56وہ نیچے سے
10:58گزارنا ہے
10:59کبھی اوپر
11:00اوڑ لینا ہے
11:00اللہ
11:01اللہ
11:01اللہ
11:02سب بات کریں گے
11:03ایک مختصر سے
11:04وقفے کے بعد
11:05از اکرام
11:06خوش آمدید
11:07آپ پروگرام دیکھ رہے ہیں
11:08فلسفہ حج
11:09حج کا خصوصی پروگرام
11:10تواف کے حوالے سے
11:11بات ہو رہی تھی
11:12ڈاکس صاحب نے
11:12جس طرح بشارہ کیا
11:13کہ یہ تواف
11:15یہ پرکار کی صورت میں
11:17اس کے گرد چکر لگانا
11:19پھر ساتھ کا عدد ہی
11:20کیوں ہے
11:21اور ساتھ کی اہمیت
11:23ایک بات دوسرا
11:24ہم دیکھتے ہیں
11:25کبھی
11:26دوڑنا
11:26یہ سنت ہے
11:28کبھی
11:28آہستہ چلنا
11:29یہ سنت ہے
11:30کبھی
11:31احرام کو
11:32نیچے سے گزارنا
11:33اسے
11:34اسے سنت
11:34کبھی اوپر سے
11:36یعنی یہ جو ساری
11:42تسلیم بھائی
11:43سب سے پہلے تو آج
11:44چونکہ ہم فلسفہ
11:46پر بات کر رہے ہیں
11:47اور
11:48فلسفہ بیہائنڈ
11:49اس سین
11:50جو
11:51ڈیپر ریالٹی ہے
11:52جو پرپس ہے
11:54جو لوجک ہے
11:55جیسے آپ نے بات کی
11:56اس کو سمجھنے کا نام ہے
11:57اور یہ
11:58نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
12:00کی تشریحات کے بغیر
12:02اور پھر رسول اللہ
12:03صلی اللہ علیہ وسلم
12:04کی تشریحات
12:05جو سپیچلزم کے
12:06ایکسپرٹس ہیں
12:07صوفیاء
12:08ان کی تشریحات کے بغیر
12:09سمجھنا ممکن نہیں ہے
12:10بے شک
12:11اس کے لئے اگر ہم
12:12بنیاد پہلے لیں
12:13تو
12:13نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
12:15کا یہ فرمان
12:16خضوع انی مناسککم
12:18کہ مجھ سے
12:19تم حج کے
12:20مناسک سیکھو
12:21اب وہاں
12:22صرف
12:23فیزیکل فارم نہیں سیکھنی
12:24بلکہ جو
12:25اس کے اندر
12:26سپیچلز فارم ہے
12:27وہ بھی سیکھنی ہے
12:28جو اس کی روح ہے
12:29جو اس کی ریالٹی ہے
12:30جو اس کی حقیقت ہے
12:31اور اس میں
12:32جو سب سے
12:33بنیادی چیز
12:34ہمیں نظر آتی ہے
12:35وہ تواف ہوں
12:35اس کے ساتھ چکر ہوں
12:37اور اس کے اندر
12:38ادتباہ ہو
12:39اس کے اندر
12:39رمل ہو
12:40استلام ہو
12:41ان سب کے اندر
12:42ایک آتی ہے
12:42ٹوٹل سبمشن
12:44سرنڈر کرنا
12:45نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
12:47کی اطاعت ہی حقیقت میں
12:48ہمارے لئے نور ہے
12:49اور اسی میں
12:51ہمارے لئے بھرکت ہے
12:52جو حضور نے سکھایا
12:53ہم نے وہاں
12:54سرنڈر کر دیا
12:55اور جب انسان
12:56نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
12:58کے طریقے کو
12:59فالو کرتا ہے
13:00تو وہ جو
13:00انر قوم ہے
13:01وہ جو
13:02باطن کی آنکھ ہے
13:03وہ روشن ہوتی ہے
13:04اور اس کو
13:05بسارت کے ساتھ ساتھ
13:06جو بصیرت کا لطف ہے
13:08وہ بھی
13:09میسر آتا ہے
13:09اس پر
13:10شاہ ولی اللہ علیہ رحمہ
13:12نے ایک بڑی خوبصورت بات کیا
13:13فرماتے ہیں
13:14کہ یہ
13:14کاسمک بیلنس کا سائن ہے
13:16یہ ساتھ کا جو چکر ہے
13:17اچھا
13:18فرماتے ہیں
13:18اس میں جیسے کہ
13:19قرآن مجید فرقان امید میں
13:20رب تعالیٰ نے فرمایا
13:21اللذی خلق سبع سماوات
13:24کہ ساتھ آسمان ہیں
13:25ساتھ زمین ہیں
13:27یہاں بھی آگے ساتھ چکر ہیں
13:28وہ کینکر بھی ساتھ ہیں
13:30تو یہاں یہ
13:31یہاں ساتھ صفہ مروہ کی صحیح بھی ہے
13:34تو یہ جو ساتھ ہے
13:35یہ اصل میں کیا ہے
13:36آپ فرماتے ہیں
13:37کہ یہ ساتھ اصل میں
13:38اس جو کائنات کا نظام ہے
13:41اس کے ساتھ ایک ہم مہنگی ہے
13:42یہاں بندہ آتا ہے
13:44اور چکر لگانے شروع کرتا ہے
13:46تو ساتھ ہی
13:46اس کا قلب یہ کہہ رہا ہوتا ہے
13:48یاربی
13:49انا جزء من قونی کا
13:51اے اللہ میں تیرے نظام کائنات کا ایک حیصہ ہوں
13:54خادی ان لی نظامی کا
13:56اور تیرے نظام کو قبول کر کے
13:58میں جکا ہوا چلا آ رہا ہوں
13:59اس پر پھر حضرت امام غزالی علی رحمہ نے
14:02بڑی خوبصورت بات کی
14:03فرمایا یہ لے کہ تو جسم چلتا ہے
14:05لیکن قلب تھوڑا مدم مدم ہے
14:07کیونکہ قلب کے مراحل بہت زیادہ ہے
14:09اور اس کا پہلا مرحلہ جو ہے وہ
14:12نفس امارہ ہے
14:13پھر لوامہ ہے
14:14پھر ملہمہ ہے
14:15پھر مطمئنہ ہے
14:17پھر رادیہ ہے
14:18پھر مردیہ ہے
14:18پھر کاملہ ہے
14:19تو یہ سات مراحل ہے اس کے
14:21امام غزالی فرماتے سات چکر ہیں
14:23اور ایک ایک چکر
14:25تدریج کے ساتھ ساتھ
14:27کبھی وہ پہلے چکر میں ہے
14:28تو اسے وہ امارہ سے نکالتا ہے
14:30تو اگلے میں
14:31اس سے نکالتا ہے
14:32تو اگلے میں
14:32اس سے نکالتا ہے
14:33تو اگلے میں
14:34ابن عربی آئے
14:35تو انہوں نے کہا
14:36اس تدریج کو
14:37اگر تم ایک مجسم شکل میں لینا چاہتے ہو
14:40تو پھر تم صفاتِ الہیہ جو ہیں
14:43وہ بھی ساتھ جو صفاتِ الہیہ ہیں
14:45کبھی ان کا پڑتاو بھی تو دیکھو
14:47نہ پڑتا ہے کہ نہیں پڑتا
14:48وہ صفاتِ الہیہ کو گناتے ہو
14:50فرماتے ہیں
14:51حیات ہے
14:51علم ہے
14:52قدرت ہے
14:53ارادہ ہے
14:54سما ہے
15:00بندے پر پڑتا ہے
15:01اور جب پڑتاو پڑتا ہے
15:03تو فرمایا
15:04یہ وہ مقام ہے
15:05کہ جسے
15:05الفناو فی المحبوب
15:07کا مقام کہا جاتا ہے
15:08اور اس مقام پہ پہ پہنچ کے
15:09کیا ہوتا ہے
15:11اتائفو یزوبو فی محبت اللہ
15:13کہ یہ تائف محبتِ الہی میں
15:15گم ہو جاتا ہے
15:16اور یہ مقام ہے
15:17جس پر بلے شاہ نے کر فرمایا تھا
15:18میں بھی تو تھے
15:19تو بھی تو
15:20سبحان اللہ
15:21کیا بات
15:22بہت شاندار بات
15:23مفتی صاحب قبلہ نے فرمائی
15:25کہ ہم
15:26سب سے جو بنیادی چیز ہے قبلہ
15:28جو
15:28بہت خوبصورت بات
15:30کہ
15:30بنیادی چیز سبمیشن ہے
15:32اب شاہ علی اللہ
15:33رحمت اللہ
15:33تعالی علی
15:34بڑوں کی بڑی بات ہے
15:36انہوں نے جو توجیحات
15:37بیان کی ہیں
15:38اور جو
15:38اس کی حکمتیں
15:40وہ اپنی جگہ
15:42مسلمہ ہیں
15:42اور
15:43ہمارے لیے
15:44ہم جیسوں کے لیے
15:45قابل تقلید ہیں
15:46اس پر
15:46ہمارے
15:47ہمارے ذوق اور شوق میں
15:54کیا نو ہوتے
15:55تو بھی ہم
15:56حکم کے غلام نہیں تھے
15:57یعنی
15:58اصل چیز تو
15:59جو مفتی صاحب بھی فرمائے
16:00کہ یہ
16:00ایک سبمیشن کا نام ہے
16:02اپنے آپ کو
16:03پیش کر دینے کا نام ہے
16:05یہاں لوجکیں نہیں ہیں
16:06کیا کہتے ہیں
16:07دیکھیں
16:08جو حج ہے نا حج
16:09اگر اس کے فلسفے پر
16:10ہم گھور کریں
16:11اس کے اندر
16:12چھپی ہوئی روح پر گھور کریں
16:14تو یہ
16:15ٹوٹلی
16:16ایک ایسا سفر ہے
16:18جس میں
16:19معاملات
16:20عقل سے معورہ ہے
16:21ہم
16:21ویسے اسلام
16:22غور و فکر کو
16:24تاکل کو
16:25تدبر کو
16:25نہ صرف پسند کرتا ہے
16:27بلکہ ترغیب دیتا ہے
16:28بے شک
16:29خود رسالت باب صلی اللہ علیہ وسلم
16:31نے
16:31سوالات کرنے کی
16:32حوصلہ افضائی فرمائی
16:33سمجھنے
16:34سمجھانے
16:35قائل کرنے
16:36قائل ہونے
16:36اور تحسین فرمائی
16:38لیکن کچھ مقامات
16:39ایسے ہوتے ہیں
16:40جہاں زمان
16:41بند رکھنی پڑے
16:42اللہ
16:43یہ ہے وہ بات
16:44یہ وہ اصل روح ہے
16:46کیا بات
16:46اب دیکھیں
16:47مثال کے طور پر
16:48بزرگوں نے جو بیان کیا
16:51تصوف کے حوالے سے
16:52سات درجے ہیں
16:54توبہ سے شروع ہوتا ہے
16:55محبت الہی تک جاتا ہے
16:57توبہ ہے
16:57تقوی ہے
16:58سبر ہے
16:59زود ہے
17:00توقل ہے
17:00رضا ہے
17:01اور پھر محبت الہی ہے
17:04جس طرف
17:05اشارہ فرما رہے تھے
17:06نقشبندی صاحب
17:08تائفو یزوبو
17:10یزوبو فی محبت
17:11فی محبت اللہ
17:12پگھل رہا ہوتا ہے
17:13اللہ
17:14یہ جو پگھلاو ہے
17:15نا
17:15یہ اصل روح
17:17اس کی یہی ہے
17:18حاصل ہوئی ہے
17:19حاصل ہوئی ہے
17:20اچھا
17:20اس کے بعد دیکھیں
17:21سب سے پہلی بات
17:22جس طرف آپ اشارہ کر رہے تھے
17:24اگر تین ہوتے
17:24یا ایک ہوتا
17:26یا ساتھ ہوتے
17:27ہم تو غلام ہیں
17:27ہم تو غلام ہیں
17:29اتبائے سنت نبوی صلی اللہ
17:31بے شک
17:31بے شک
17:32جیسا آپ نے کر دیا
17:34وہ کہنے لکر کی
17:35دنکھرہ کی
17:37پانچ ہے تو بھی
17:42پھر اس میں ایک اور پہلو جو ہے
17:43کہ
17:46پاککل سے
17:48بالاتر یہ عبادت ہے
17:49یہ جو تواف ہے
17:51اکل کا اس میں دخل نہیں ہے
17:54ٹھیک ہے آپ دیکھیں
17:55پتھر ہے
17:56اس کو وہاں سے آپ شروع کر رہے ہیں
17:59سلام کرتے ہوئے بوسا دیں اسے
18:00یا استلام کریں
18:02اور پتھر پر ختم کر رہے ہیں
18:05یہ بالاتر ہے اکل سے
18:06پھر وہ پتھر جس کی آپ
18:09مضمت کرتے آئے
18:10جن کے بنے ہوئے مجسموں کی
18:12مضمت کرتے آئے
18:13جن کی مضمت میں قرآن اترا
18:15وہ بھی تو ایک پتھر ہے
18:16جہاں نقش قدم ہے
18:18ابراہیم علیہ السلام کا
18:19اور حضرت عمر فاروق نے تو فرمایا
18:21انہوں نے کہا تھا
18:23کہ اے حجرِ اسود
18:26تو جنت سے آیا ہوا پتھر ہوگا
18:28مجھے پتہ ہے تو پتھر ہے
18:30لیکن تو نفع نقصان نہیں دے سکتا
18:32لیکن اس روایت کا دوسرا حصہ بھی ہے
18:33حضرت علی نے پیچھے ہاتھ رکھا
18:35آپ نے فرمایا عمر
18:37امیر المومنین یہ نفع بھی دیتا ہے
18:39نقصان بھی دیتا ہے
18:39اللہ اللہ اللہ
18:40یہ روایت موجود ہے
18:41آدھی روایت بیان کی جاتی ہے
18:43ایسا نہیں ہے
18:43جو چیز اللہ کی طرف منصوب ہو جاتی ہے
18:45وہ نفع بخش ہے
18:46یہ اصل راز ہے
18:48جو نسبت سے محروم ہو جائے
18:50اس کی نفع بخشی ختم ہو جاتی ہے
18:52تو ایسا نہیں ہے
18:55جنت سے آیا ہوا پتھر
18:56وہ جو سیاہ ہوا
18:57لوگوں کے گناہ چوس کرنی ہوا
18:59جو گناہ چوسنا
19:00اس سے بڑی نفع بخشی کیا ہو سکتی
19:02کوئی آدمی اگر اس کی توہین کر دے
19:05تو کیا وہ
19:06اللہ کے شاعر کی توہین کرنے والا نہیں ہوگا
19:08اس کے دل سے تقویٰ نکل نہیں جائے گا
19:11کیا یہ نقصان نہ ہوا
19:12اس حوالے سے نفع بخشی بھی ہے
19:15نقصان بھی ہے
19:15اور تیسرا اس میں جو پہلو ہے
19:17سمجھنے سے تعلق رکھتا ہے
19:19کہ جو
19:20ہر چیز کا ایک نکتہ آغاز ہوتا ہے
19:23ایک نکتہ اختتام ہوتا ہے
19:26تو میں پڑھ رہا تھا
19:27یہ جو ویسے تو جو تواف ہے نا
19:29یہ تو لا محدود کی طرف سفر کا نام ہے
19:32واہ
19:33لا محدود کی طرف
19:35یہ جو
19:38کانشیس سرکلنگ ہے
19:40ٹھیک ہے
19:41اراؤنڈ ڈیوائن سرکل
19:43یہ لا محدود کی طرف سفر سے عبارت ہے
19:46چونکہ اس کی کوئی حد نہیں ہے
19:47لیکن اللہ نے ہماری سہولت کے لیے
19:49سات کے عدد کی ایک اکائی بنائی
19:52جو اپنی جگہ پر مکمل اکائی ہے
19:54ٹھیک
19:54تو اس اکائی کے ذریعے سے
19:57ہم اس لا محدود ذات کی طرف
19:59سفر کا آغاز کرتے ہیں
20:00ٹھیک
20:01اور وہ اتنا روح پرور سفر ہے
20:03یعنی آپ اگر پڑھیں نا
20:05مقامات خیرد عشق
20:06ڈاکٹر وزیر آقا نے لکھی ہے
20:08کتاب علامہ اقبال کے حوالے سے
20:10وہ اتنی شاندار کتاب ہے
20:11وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی
20:13اس کے گرد کسی چیز کے گرد
20:16دائرے کے گرد چکر لگاتا ہے
20:17تو پھر ایک مقام آتا ہے
20:19کہ وہ کائنات سے ہم آنگ ہو جاتا ہے
20:23اور پھر اس کا رابطہ
20:24دیوائین آتھارٹی سے
20:26اللہ کی ذات سے ہو جاتا ہے
20:27کیا با
20:27دیکن یہ کب ہوتا ہے
20:29جب آدمی وارفتگی کی
20:30کیفیت پر چلا جائے
20:31اب دیکھیں نا
20:33حاج کرنے گئے
20:34عمرہ کرنے گئے
20:35تو بہترین عبادت جو ہے نا
20:37وہ تواف ہے
20:38یا کعبت اللہ کی زیارت ہے
20:39ٹھیک ہے
20:41آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں
20:43کعبے کو دیکھتے رہنا
20:44دیکھتے رہنا
20:51دیکھتے رہنا
20:53یا میں کہاں کہاں سے گزر گیا
20:55تو آپ
20:56میکات سے لے کر
20:57اور توافہ ودا سے
20:59واپسی تک آپ دیکھ لیں
21:01یہ سفر عشقی ہے
21:03اور عشقی کیفیت میں ہی کرنا چاہیے
21:06اس میں عقل کا استعمال پیچھے رکھیں
21:09باقی معاملات میں کریں
21:10اسلام حسنہ وزائی کرتے ہیں
21:12یہاں وارفتگی اور شوق
21:13اور ذوق کے ساتھ جانا چاہیے
21:15صحیح
21:15اور یہ تو عبادت ہی وہی ہے نا
21:17کہ آپ
21:18نماز کہیں بھی پڑھ سکتے ہیں
21:20روزہ کہیں بھی رکھ سکتے ہیں
21:21زکاة کہیں بھی دے سکتے ہیں
21:24لیکن یہ تو وہیں ہونی ہے
21:25یعنی یہ
21:26جو مقام ہے
21:29اس کی
21:30جو عزت ہے
21:31وقار ہے
21:32یہ
21:32تواف کرنے والے کو عزتیں بخشتا ہے
21:35یعنی یہ ایسا منظر ہے
21:36پھر حجرِ اسود
21:39مقامِ ابراہیم ہے
21:40پھر
21:41سنا ہے
21:42کہ
21:42یہ بھی آپ فرمائیے گا
21:44کہ وہاں متعاف میں
21:45کئی انبیاء کرام
21:47آرام فرما ہیں
21:48قبریں ہیں ان کی
21:49یہ اس حوالے سے
21:51رکھ سب سے
21:52اس کو ہم ذرا
21:53ساری چیزوں کو لیتے ہیں
21:54ایک تو
21:55قرآنِ مجید فرقانِ حبید
21:56نے ان سب کا
21:57ایک سمپل سا جواب دیا ہے
22:00فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ حَازَ الْبَیْتِ
22:03کہ
22:04رَبِّ حَازَ الْبَیْتِ
22:06کی جو ہے
22:06تم نے بندگی کرنی ہے
22:07بے شک
22:08یا وہ جو رکھ سب فرمارے تھے
22:09کہ انسان
22:10دیوائن مرسی سسٹم میں
22:12داخل ہوتا ہے
22:13اور جب
22:13دیوائن مرسی سسٹم میں
22:14انسان کو داخل ہونا ہے
22:16تو اس کے لیے
22:17وہ دیوائن کمانڈ
22:18کوئی قبول کرتا ہے
22:19بے شک
22:19اور دیوائن کمانڈ
22:20نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم میں
22:22عطا فرماتے ہیں
22:23اس تناظر میں
22:23یہ پہلو بہت ضروری ہے
22:26مسکونسپشن یہ پائی جاتی ہے
22:27کہ اسلام جب
22:29کسی چیز کی
22:30ڈیپ ریالٹی کو ذکر کرتا ہے
22:32تو شاید وہ
22:33لوجک کو بیان نہیں کر رہا ہوتا
22:35یا وہ
22:43اور اس کے ساتھ سا نقل
22:44دونوں کو جمع کرنے والا ہے
22:45ایسا نہیں ہے
22:46کہ جو چیز نقلی ہو
22:48وہ عقل کے کوئی خلاف ہوگی
22:50جیسے ساتھ کے چیکر کے بارے میں
22:51آپ نے بڑا خوبصورت ایک سوال اٹھایا
22:53کہ کم کیوں نہیں ہو سکتے
22:54اس وجہ سے کہ
22:55اہل عرب کی یہ سائیکی تھی
22:57وہ یہ کہتے تھے
22:58کہ اگر کوئی چیز ساتھ تک چلی جائے نا
23:01تو وہی مکمل ہوتی ہے
23:03کمپلیٹ کی مہر اس پر لگتی ہے
23:05پرفیکٹ ہونے کی مہر اس پر لگتی ہے
23:07تو اس وجہ سے
23:09عقل کے بالکل موافق آ کے
23:11بات کی گئی
23:12کہ ساتھ ہونے چاہیئے
23:13ساتھ سے کم ہوں گے
23:14تو مقصود نہیں ملے گا
23:16ساتھ سے بڑھ جاؤ گے
23:17تو تجاوز ہو جائے گا
23:18اور تمہارا دین
23:20لا افراتہ ولا تفریطہ
23:22اس میں کمی اور زیادتی بھی نہیں ہے
23:23اور پھر اس کے اندر
23:25جو آپ نے ابھی
23:26بات کی حتیم کی
23:28تو حتیم کے بڑے خوبصورت پہلو
23:30نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
23:32نے بیانت فرمائے
23:32ان میں سے تو یہ ایک خالی حصہ
23:35جو رکھا گیا
23:35تو اس کے اندر حکمت یہ تھی
23:38کہ بندہ و صاحب و محتاج و غنی
23:40سب ہی ایک تو ہوئے
23:41لیکن جو اندر چلا گیا
23:42وہ سمجھے گا شاید میں
23:44وہ مقام حاصل نہیں کر پایا
23:45اس کے لئے حصہ خالی آیا
23:47تو اسے وہ مقام
23:48پھر اس کی طرف رغبت جو ہے
23:50وہ اس دیوائن مرسی سسٹم
23:52کا ایک حصہ یہ بنی
23:53کہ انبیاء اکرام کے
23:55مزارحائے مقدس
23:56اس میں بنا دیا گئے
23:57کشش پیدا کر دی گئی
23:58اور رغبت ہو گئی
24:00اور انسان کو وہ عزاز بھی
24:01جو داخل میں ملنا تھا
24:03رب تعالیٰ نے
24:03اسے خارج میں وہ عزاز بھی عطا فر
24:05بہت خوب
24:05ناظرین اکرام
24:06یہاں ایک مختصر سا وقفہ
24:08وقفے کے بعد
24:09لوٹتے ہیں
24:09اس یقین کے ساتھ
24:11آپ کہیں نہیں جائیں
24:11ناظرین اکرام
24:12خوش آمدید
24:13آپ پروگرام دیکھ رہے ہیں
24:14فلسفہ حج
24:15حج کا خصوصی پروگرام
24:16تواف کے حوالے سے
24:17بات ہو رہی تھی
24:18ڈاکس صاحب نے
24:18جس طرح بشارہ کیا
24:20کہ یہ تواف
24:21یہ پرکار کی صورت میں
24:23اس کے گرد چکر لگانا
24:25پھر ساتھ کا عدد ہی
24:27کیوں ہے
24:28اور ساتھ کی اہمیت
24:29ایک بات دوسرا
24:30ہم دیکھتے ہیں
24:31کبھی دوڑنا
24:32یہ سنت ہے
24:34کبھی آہستہ چلنا
24:36یہ سنت ہے
24:37کبھی احرام کو
24:38نیچے سے گزارنا
24:39اسے سنت
24:40کبھی اوپر سے
24:42یعنی یہ جو ساری
24:43کیفیات ہیں
24:44اس میں حکمتیں کیا ہیں
24:46لطافت کیا ہیں
24:48تسلیم بھائی
24:49سب سے پہلے تو آج
24:51چونکہ ہم فلسفہ پہ
24:52بات کر رہے ہیں
24:53اور
24:54فلسفہ بیہائنڈ
24:55اس سین
24:56جو
24:57ڈیپر ریالٹی ہے
24:58جو پرپس ہے
25:00جو لوجک ہے
25:01جیسے آپ نے بات کی
25:02اس کو سمجھنے کا نام ہے
25:03اور یہ
25:04نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
25:06کی تشریحات کے بغیر
25:08اور پھر
25:09رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
25:10کی تشریحات
25:11جو سپیرچلزم کے
25:12ایکسپرٹس ہیں
25:13صوفیاء
25:14ان کی تشریحات کے بغیر
25:16سمجھنا ممکن نہیں ہے
25:17بے شک
25:17اس کے لئے اگر ہم
25:18بنیاد پہلے لیں
25:19تو
25:19نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
25:21کا یہ فرمان
25:22خضوع انی مناسککم
25:24کہ مجھ سے
25:26تم حج کے
25:27مناسک سیکھو
25:27اب وہاں
25:29صرف
25:29فیزیکل فارم نہیں سیکھنی
25:30بلکہ جو اس کے اندر
25:32سپیرچلز فارم ہے
25:33وہ بھی سیکھنی ہے
25:34جو اس کی روح ہے
25:35جو اس کی
25:36ریالٹی ہے
25:36جو اس کی حقیقت ہے
25:38اور اس میں جو
25:39سب سے بنیادی چیز
25:40ہمیں نظر آتی ہے
25:41وہ تواف ہوں
25:42اس کے ساتھ چکر ہوں
25:43اور اس کے اندر
25:44ادتباہ ہو
25:45اس کے اندر
25:45رمل ہو
25:46استلام ہو
25:47ان سب کے اندر
25:48ایک آتی ہے
25:48ٹوٹل سبمیشن
25:50سرنڈر کرنا
25:51نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
25:53کی اطاعت ہی حقیقت میں
25:55ہمارے لیے نور ہے
25:56اور اسی میں
25:57ہمارے لیے بھرکت ہے
25:58جو حضور نے سکھایا
26:00ہم نے وہاں
26:01سرنڈر کر دیا
26:02اور جب انسان
26:03نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
26:04کے طریقے کو
26:05فالو کرتا ہے
26:06تو وہ جو
26:06انر قوم ہے
26:07وہ جو باطن کی
26:08باطن کی آنکھ ہے
26:09وہ روشن ہوتی ہے
26:10اور اس کو
26:11بسارت کے ساتھ ساتھ
26:12جو بصیرت کا لطف ہے
26:14وہ بھی میسر آتا ہے
26:16اس پر
26:16شاہ ولی اللہ علیہ رحمہ
26:18نے ایک بڑی خوبصورت بات کی
26:19آپ فرماتے ہیں
26:20کہ یہ
26:20کاسمک بیلنس کا سائن ہے
26:22یہ ساتھ کا جو چکر ہے
26:24اچھا
26:24فرماتے ہیں
26:24اس وجہ سے کہ
26:25قرآن مجید فرقان امید میں
26:26رب تعالیٰ نے فرمایا
26:27اللذی خلق السبع سماوات
26:30یہ ساتھ آسمان ہے
26:31ساتھ زمین ہے
26:33یہاں بھی آگے ساتھ چکر ہیں
26:35وہ کینکر بھی ساتھ ہیں
26:36تو یہاں یہ
26:38یہاں ساتھ صفہ مروعہ کی صحیح بھی ہے
26:40تو یہ جو ساتھ ہے
26:41یہ اصل میں کیا ہے
26:43آپ فرماتے ہیں
26:44کہ یہ ساتھ اصل میں
26:45اس جو کائنات کا نظام ہے
26:47اس کے ساتھ ایک ہم مہنگی ہے
26:49یہاں بندہ آتا ہے
26:50اور چکر لگانے شروع کرتا ہے
26:52تو ساتھ ہی
26:52اس کا قلب یہ کہہ رہا ہوتا ہے
26:54یاربی
26:55انا جزء من قونی کا
26:57اے اللہ میں تیرے نظام کائنات کا ایک حیثہ ہوں
27:00خادی ان لی نظامی کا
27:02اور تیرے نظام کو قبول کر کے
27:04میں جکا ہوا چلا آ رہا ہوں
27:06اس پر پھر حضرت امام غزالی علی رحمہ نے بڑی خوبصورت بات کی
27:09فرمائے یہ لے کے تو جسم چلتا ہے
27:11لیکن قلب تھوڑا مدم مدم ہے
27:13کیونکہ قلب کے مراحل بہت زیادہ ہے
27:16اور اس کا پہلا مرحلہ جو ہے وہ
27:18نفس امارہ ہے
27:19پھر لوامہ ہے
27:20پھر ملہمہ ہے
27:22پھر مطمئنہ ہے
27:23پھر رادیہ ہے
27:24پھر مردیہ ہے
27:25پھر کاملہ ہے
27:25تو یہ سات مراحل ہے اس کے
27:27امام غزالی فرماتے ساتھ چکر ہیں
27:29اور ایک ایک چکر
27:31تدریج کے ساتھ ساتھ
27:33کبھی وہ پہلے چکر میں ہے
27:34تو اسے
27:35وہ امارہ سے نکالتا ہے
27:37تو اگلے میں
27:37اس سے نکالتا ہے
27:38تو اگلے میں
27:39اس سے نکالتا ہے
27:40تو اگلے میں
27:40ابن عربی آئے
27:41تو انہوں نے کہا
27:42اس تدریج کو
27:43اگر تم ایک مجسم شکل میں لینا چاہتے ہو
27:46تو پھر تم
27:47صفاتِ الٰہیہ جو ہیں
27:49وہ بھی
27:50ساتھ جو صفاتِ الٰہیہ ہیں
27:52کبھی ان کا پڑتاو بھی تو دیکھو
27:53نہ پڑتا ہے
27:54کہ نہیں پڑتا
27:54وہ صفاتِ الٰہیہ کو گناتے ہیں
27:56وہ فرماتے ہیں
27:57حیات ہے
27:57علم ہے
27:58قدرت ہے
27:59ارادہ ہے
28:00سما ہے
28:01بسر ہے
28:02کلام ہے
28:02تو سات چکروں میں سے
28:04ہر چکر میں
28:05ایک صفت کا پڑتاو بندے پر پڑتا ہے
28:07اور جب پڑتاو پڑتا ہے
28:09تو فرمایا
28:10یہ وہ مقام ہے
28:11جسے
28:11الفناو فی المحبوب کا مقام کہا جاتا ہے
28:14اور اس مقام پہ پہ پہنچ کے
28:15کیا ہوتا ہے
28:19کہ یہ تائف محبتِ الٰہی میں
28:21گم ہو جاتا ہے
28:22اور یہ مقام ہے
28:23جس پر بلے شاہ نے کر فرمایا تھا
28:25میں بھی تو تھے
28:26تو بھی تو
28:26سبحان اللہ
28:27کیا بات
28:28بہت شاندار بات
28:29مفتی صاحب قبلہ نے فرمائی
28:31کہ ہم
28:32سب سے جو بنیادی چیز ہے قبلہ
28:34جو
28:34بہت خوبصورت بات
28:36کہ
28:36بنیادی چیز سبمیشن ہے
28:38اب شاہ ولی اللہ رحمت اللہ تعالیٰ علیہ
28:40بڑوں کی بڑی بات ہے
28:42انہوں نے جو توجیحات بیان کی ہیں
28:44اور جو
28:45اس کی حکمتیں
28:46وہ اپنی جگہ
28:48مسلمہ ہیں
28:49اور
28:49ہمارے لیے
28:50ہم جیسے ان کے لیے قابل تقلید ہیں
28:52اس پر
28:52ہمارے
28:53ہمارے ذوق اور شوق میں
28:54اس کا اضافے کا باعث ہے
28:56لیکن
28:56کیا پانچ ہوتے
28:57تو بھی ہم حکم کے غلام نہیں تھے
28:59کیا نو ہوتے
29:01تو بھی ہم
29:02حکم کے غلام نہیں تھے
29:04یعنی
29:04اصل چیز تو
29:05جو مفتی صاحب بھی فرمائے نے
29:06کہ یہ
29:06ایک سبمیشن کا نام ہے
29:08اپنے آپ کو پیش کر دینے کا نام ہے
29:11یہاں لوجکیں نہیں ہیں
29:12کیا کہتے ہیں
29:13دیکھیں
29:14جو حج ہے نا حج
29:15اگر اس کے فلسفے پر ہم غور کریں
29:17اس کے اندر چھپی ہوئی روح پر غور کریں
29:20تو یہ ٹوٹلی
29:22ایک ایسا سفر ہے
29:24جس میں
29:25معاملات
29:26اقل سے معورہ ہیں
29:27ویسے اسلام
29:29غور و فکر کو
29:30تاکل کو
29:31تدبر کو
29:32نہ صرف پسند کرتا ہے
29:33بلکہ ترغیب دیتا ہے
29:34بے شک
29:35خود رسالت باب صلی اللہ علیہ وسلم
29:37نے
29:37سوالات کرنے کی
29:38حوصلہ افضائی فرمائی
29:39سمجھنے
29:40سمجھانے
29:41قائل کرنے
29:42قائل ہونے
29:43اور تحسین فرمائی
29:44لیکن کچھ مقامات
29:46ایسے ہوتے ہیں
29:46جہاں زمان
29:47بند رکھنی پڑتا ہے
29:48اللہ
29:49یہ ہے وہ بات
29:51یہ وہ اصل روح ہے
29:52کیا بات
29:52اب دیکھیں
29:53مثال کے طور پر
29:54بزرگوں نے جو بیان کیا
29:57تصوف کے حوالے سے
29:58سات درجے ہیں
30:00توبہ سے شروع ہوتا ہے
30:01محبت الہی تک جاتا ہے
30:03توبہ ہے
30:03تقوی ہے
30:04سبر ہے
30:05زہد ہے
30:06توقل ہے
30:07رضا ہے
30:07اور پھر محبت الہی ہے
30:10جس طرف
30:11اشارہ فرما رہے تھے
30:12نقشبندی صاحب
30:13اتائفو
30:15یزوبو
30:16یزوبو فی محبت
30:17فی محبت اللہ
30:18پگھل رہا ہوتا ہے
30:19اللہ
30:19محبت
30:20یہ جو پگھلاو ہے
30:21نا
30:21یہ اصل روح
30:24اس کی یہی ہے
30:25حاصل وہی ہے
30:25حاصل وہی ہے
30:28اچھا
30:28اس طرف آپ اشارہ کر رہے تھے
30:30اگر تین ہوتے
30:31یا ایک ہوتا
30:31یا ساتھ ہوتے
30:33ہم تو غلام ہیں
30:33ہم تو غلام ہیں
30:35اتبائے سنت نبوی صلی اللہ
30:37بے شک
30:38جیسا آپ نے کر دیا
30:40وہ کہنے لینے
30:41لوکر کی
30:41دنخرہ کی
30:43پانچ ہے تو بھی
30:44ہمیں نو ہے تو بھی
30:45یہ ساتھ کا حکم ہے
30:46ہمیں قبول ہے
30:47اچھا
30:47پھر اس میں
30:48ایک اور پہلو جو ہے
30:50کہ
30:52تاکل سے
30:54بالاتر
30:54یہ عبادت ہے
30:56یہ جو تواف ہے
30:57اکل کا
30:58اس میں دخل نہیں ہے
30:59ہم
31:00آپ دیکھیں
31:01پتھر ہے
31:02اس کو
31:03وہاں سے آپ شروع کر رہے ہیں
31:05سلام کرتے ہوئے
31:06بوسا دیں اسے
31:07یا استلام کریں
31:08اور پتھر پر ختم کر رہے ہیں
31:11یہ بالاتر ہے
31:12اکل سے
31:13پھر وہ پتھر
31:14جس کی
31:14آپ مضمت کرتے آئے
31:16جن کے
31:17جن کے بنے ہوئے
31:18مجسموں کی
31:18مضمت کرتے آئے
31:20جن کی مضمت میں
31:20قرآن اترا
31:21وہ بھی تو ایک پتھر ہے
31:23جہاں نقش قدم ہے
31:24ابراہیم علیہ السلام کا
31:25اور حضرت عمر فاروق نے تو فرمایا
31:27انہوں نے کہا تھا
31:29کہ
31:30اے حجر اسود
31:32تو جنت سے آیا ہوا پتھر ہوگا
31:34مجھے پتہ ہے تو پتھر ہے
31:36لیکن تو نفع نقصان نہیں دے سکتا
31:38لیکن اس روایت کا دوسرا حصہ بھی ہے
31:40حضرت علی نے پیچھے ہاتھ رکھا
31:41آپ نے فرمایا عمر
31:43امیر المومنین
31:44یہ نفع بھی دیتا ہے
31:45نقصان بھی دیتا ہے
31:46اللہ اللہ اللہ
31:46یہ روایت موجود ہے
31:47آدھی روایت بیان کی جاتی ہے
31:49ایسا نہیں ہے
31:56اس کی نفع بخشی ختم ہو جاتی ہے
31:59تو ایسا نہیں ہے
32:00یعنی جنت سے آیا ہوا پتھر
32:02وہ جو سیاہ ہوا
32:03لوگوں کے گناہ چوس کرنی ہوا
32:06گناہ چوسنا
32:06اس سے بڑی نفع بخشی کیا ہو سکتی
32:08کوئی آدمی اگر اس کی توہین کر دے
32:11تو کیا وہ
32:12اللہ کے شاعر کی توہین کرنے والا نہیں ہوگا
32:14اس کے دل سے تقویٰ نکل نہیں جائے گا
32:17کیا یہ نقصان نہ ہوا
32:18اس حوالے سے نفع بخشی بھی ہے
32:21نقصان بھی ہے
32:21اور تیسرا اس میں جو پہلو ہے
32:23سمجھنے سے تعلق رکھتا ہے
32:25کہ جو
32:26ہر چیز کا ایک نکتہ آغاز ہوتا ہے
32:29ایک نکتہ اختتام ہوتا ہے
32:31تو میں پڑھ رہا تھا
32:33یہ جو
32:34ویسے تو
32:35جو تواف ہے نا
32:36یہ تو
32:36لا محدود کی طرف سفر کا نام ہے
32:39واہ
32:39لا محدود کی طرف
32:41ٹکر کا نام
32:42یہ نہیں
32:43یہ جو
32:44کانشیس سرکلنگ ہے
32:46ٹھیک ہے
32:47اراؤنڈ
32:48ڈیوائن سرکل
32:49یہ لا محدود کی طرف
32:51سفر سے عبارت ہے
32:52چونکہ اس کی کوئی حد نہیں ہے
32:53لیکن
32:54اللہ نے
32:54ہماری سہولت کے لیے
32:55سات کے عدد کی
32:57ایک اکائی بنائی
32:58جو اپنی جگہ پر
32:59مکمل اکائی ہے
33:00ٹھیک
33:00تو اس اکائی کے ذریعے سے
33:03ہم اس لا محدود ذات
33:05کی طرف
33:05سفر کا آغاز کرتے ہیں
33:07ٹھیک
33:07اور وہ اتنا روپرور سفر ہے
33:09یعنی آپ اگر پڑھیں
33:11نا مقامات خیرد عشق
33:12ڈاکٹر وزیر آقا
33:14نے لکھی ہے کتاب
33:15علمہ اقبال کے حوالے سے
33:16وہ اتنی شاندار کتاب ہے
33:17وہ کہتے ہیں
33:18کہ جب آدمی
33:20اس کے گرد
33:21کسی چیز کے گرد
33:22دائرے کے گرد
33:23چکر لگاتا ہے
33:24تو پھر ایک مقام آتا ہے
33:26کہ وہ
33:26کائنات سے
33:27ہم آنگ ہو جاتا ہے
33:29اور پھر اس کا رابطہ
33:31دیوائین آتھارٹی سے
33:32اللہ کی ذات سے ہو جاتا ہے
33:33کیا با
33:34لیکن یہ کب ہوتا ہے
33:35جب آدمی
33:36وارفتگی کی کیفیت پر چلا جائے
33:38اب دیکھیں نا
33:39حاج کرنے گئے
33:40عمرہ کرنے گئے
33:41تو بہترین عبادت
33:43جو ہے نا
33:43وہ تواف ہے
33:44یا کعبت اللہ کی زیارت ہے
33:46ٹھیک ہے
33:47آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں
33:49کعبے کو دیکھتے رہنا
33:50دیکھتے رہنا
33:51دیکھتے رہنا
33:52تو یہ
33:52یہ جو تھا نا
33:53کبھی عرش پر
33:54کبھی فرش پر
33:55کبھی ان کے در
33:56کبھی در بدر
33:57رمی آش کی
33:58تیرا شکریہ
33:59میں کہاں
34:00کہاں سے گزر گیا
34:01تو آپ
34:02میکات سے لے کر
34:03اور
34:04توافہ ودا سے
34:05واپسی تک آپ دیکھ لیں
34:07یہ
34:08سفر عشقی ہے
34:09اور
34:10عشقی کیفیت میں ہی
34:12کرنا چاہیے
34:12اس میں
34:13عقل کا استعمال
34:14پیچھے رکھیں
34:15باقی معاملات میں کریں
34:16اسلام حوصلہ
34:17افضائی کرتے ہیں
34:18یہاں وارفتگی
34:19اور شوق
34:19اور ذوق
34:20کے ساتھ جانا چاہیے
34:21یہ تو عبادت ہی
34:23وہی ہے
34:23کہ آپ
34:24نماز
34:25کہیں بھی پڑھ سکتے ہیں
34:26روزہ
34:26کہیں بھی رکھ سکتے ہیں
34:28زکاة
34:28کہیں بھی دے سکتے ہیں
34:30لیکن یہ
34:30تو وہیں ہونی ہے
34:32یعنی
34:32یہ
34:33جو
34:34مقام ہے
34:35اس کی
34:36جو عزت ہے
34:37وقار ہے
34:38یہ
34:38تواف کرنے والے
34:40کو عزتیں بخشتا ہے
34:41یعنی یہ ایسا منظر ہے
34:43پھر حجرِ اسود
34:45مقامِ ابراہیم ہے
34:46پھر
34:47سنا ہے
34:48کہ
34:49یہ بھی
34:49آپ فرمائیے گا
34:50کہ وہاں
34:51متعاف میں
34:52کئی انبیاء کرام
34:53آرام فرما ہیں
34:54قبریں ہیں ان کی
34:55یہ اس حوالے سے
34:57رکھ سب سے
34:58اس کو ہم
34:59ذرا ساری چیزوں
35:00کو لیتے ہیں
35:00ایک تو
35:01قرآن مجید
35:02فرقان حبید
35:02نے ان سب کا
35:03ایک سمپل سا
35:04جواب دیا ہے
35:06فَلْيَعْبُدُ
35:07رَبَّ حَازَ الْبَیْتِ
35:10کہ
35:10رَبَّ حَازَ الْبَیْتِ
35:12کی جو ہے
35:12تم نے بندگی کرنی ہے
35:13بے شک
35:14کہ وہ جو
35:14رکھ سب فرما رہے تھے
35:15کہ انسان
35:16دیوائن مرسی
35:17سسٹم میں
35:18داخل ہوتا ہے
35:19اور جب
35:19دیوائن مرسی
35:20سسٹم میں
35:21انسان کو
35:21داخل ہونا ہے
35:22تو اس کے لیے
35:23وہ دیوائن
35:23کمانڈ
35:24کوئی قبول کرتا ہے
35:25اور دیوائن
35:26کمانڈ
35:26نبی پاک
35:27صلی اللہ علیہ
35:28میں عطا فرماتے ہیں
35:29اس تناظر میں
35:30یہ پہلو
35:31بہت ضروری ہے
35:32مسکونسپشن
35:33یہ پائی جاتی ہے
35:33کہ اسلام
35:34جب
35:35کسی چیز کی
35:36ڈیپ ریالٹی
35:37کو ذکر کرتا ہے
35:38تو شاید
35:39وہ لوجک
35:40کو بیان نہیں
35:41کر رہا ہوتا
35:41یا وہ
35:41عقل کے خلاف ہے
35:42لا لا
35:43دیدین
35:45الجامع
35:45بین
35:46الْعقلی
35:47یہ عقل
35:48کو بھی
35:49اور اس کے ساتھ
35:50نقل
35:50دونوں کو
35:51جمع کرنے والا ہے
35:52ایسا نہیں ہے
35:53کہ جو چیز
35:54نقلی ہو
35:54وہ عقل کے
35:55کوئی خلاف ہوگی
35:56جیسے ساتھ کے
35:57چکر کے بارے میں
35:57آپ نے
35:58بڑا خوبصورت
35:59ایک سوال اٹھایا
35:59کہ کم کیوں نہیں
36:00ہو سکتے
36:01اس وجہ سے
36:01کہ اہل عرب کی
36:02یہ سائکی تھی
36:03وہ یہ کہتے تھے
36:04کہ اگر کوئی چیز
36:06ساتھ تک
36:07چلی جائے
36:07تو وہی
36:08مکمل ہوتی ہے
36:09کمپلیٹ کی
36:10مہر اس پر لگتی ہے
36:12پرفیکٹ ہونے کی
36:13مہر اس پر لگتی ہے
36:14تو اس وجہ سے
36:15عقل کے
36:15بالکل
36:16معافق آ کے
36:17بات کی گئی
36:18کہ ساتھ
36:19ہونے چاہیئے
36:19ساتھ سے کم ہوں گے
36:21تو مقصود نہیں ملے گا
36:22ساتھ سے بڑھ جاؤ گے
36:23تو تجاوز ہو جائے گا
36:24اور تمہارا دین
36:26لا افرات
36:27ولا تفریط
36:28اس میں کمی اور
36:29زیادتی بھی نہیں ہے
36:30اور پھر اس کے اندر
36:31جو آپ نے ابھی
36:33بات کی حتیم کی
36:34تو حتیم کے
36:35بڑے خوبصورت پہلو
36:36نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
36:38نے بیان فرمائے
36:39ان میں سے تو یہ
36:40ایک خالی حصہ
36:41جو رکھا گیا
36:42تو اس کے اندر
36:43حکمت یہ تھی
36:44کہ بندہ و صاحب
36:45و محتاج و غنی
36:46سب ہی ایک تو ہوئے
36:47لیکن جو اندر چلا گیا
36:49وہ سمجھے گا
36:49شاید میں
36:50وہ مقام حاصل نہیں کر پایا
36:52تو اس کے لئے
36:52حصہ خالی آیا
36:53تو اسے وہ مقام
36:54پھر اس کی طرف
36:55رغبت جو ہے
36:56وہ اس دیوائن
36:58مرسی سسٹم کا
36:59ایک حصہ یہ بنی
36:59کہ انبیاء اکرام
37:01کے مزارہائے
37:02مقدس اس میں
37:02بنا دیا گئے
37:03کشش پیدا کر دی گئی
37:05اور رغبت ہو گئی
37:06اور انسان کو
37:06وہ عزاز بھی
37:08جو داخل میں ملنا تھا
37:09رب تعالیٰ نے
37:10اسے خارج میں
37:10بہت خوب
37:12ناظرین اکرام
37:13یہاں ایک مختصر
37:14سا وقفہ
37:14وقفے کے بعد
37:15لوٹتے ہیں
37:16اس یقین کے ساتھ
37:17آپ کہیں نہیں جائیں
37:18ناظرین اکرام
37:18خوش آمدید
37:19آپ پروگرام دیکھ رہے ہیں
37:20فلسفہ حج
37:21حج کا یہ خصوصی پروگرام
37:23آج
37:23تواف کے حوالے سے
37:25بات ہو رہی ہے
37:25اور مطاف
37:26اور یہ تمام
37:28مبارک
37:29اور مقدس
37:30مقامات
37:30جو
37:31اس کا حصہ ہیں
37:32اور مقام
37:33ابراہیم
37:34جسے مسلح بنانے
37:41دو چیزیں ہیں
37:42جو
37:42ایک تو
37:43مقام ابراہیم
37:44کے حوالے سے ہیں
37:45تو
37:46ایک تو خوبصورت بات
37:47یہ ہے
37:48کہ جہاں
37:49اللہ کے
37:51محبوب پیغمبر کا
37:53نقش قدم لگے
37:54وہاں
37:55سجدہ کرو
37:56حکم ہے
37:56اسے مسلح بناو
37:57تو گویا جو چیز
37:59اللہ کی طرف منصوب ہو جائے
38:00وہ قابل احترام ہے
38:02اور
38:03شاعر اللہ یہی ہے
38:04جن کی نسبت
38:05اللہ کی طرف ہو جائے
38:06وہ جانور بھی کیوں نہیں ہے
38:08اس کا بھی احترام ہے
38:09جو قربانی کے جانور
38:10آج کے لیے لائے جاتے ہیں
38:12انسان ہیں
38:12ہر ہر صفا مروع
38:14یہ سارے شاعرہ ہیں
38:15ہر ایک
38:16اپنی جگہ پر شاعرہ ہے
38:18جو
38:18شعور دیتا ہے
38:20میں کسی کی طرف منصوب ہوں
38:22واہ واہ
38:22یہ شعور
38:24شعور سے ہے
38:25یہ شعور دیتا ہے
38:26کہ میں کسی کی طرف منصوب ہوں
38:28ایک تو
38:29اس کی اپنی اہمیت ہے
38:30دوسرا
38:31جو چیز بیان کرنے والی
38:33وہ رمل ہے
38:33تواف کے دوران
38:34اب رمل ایک خاص قیفیت ہے
38:36اس کا ایک تاریخی پس منظر ہے
38:39جب مسلمان آئے
38:40مکہ شریف میں
38:42تو
38:42ظاہر ہے
38:43مدینہ کی آبو ہوا
38:45اس کا ایک اپنی حیثیت تھی
38:47مکہ کی آبو ہوا کا
38:48اپنا فرق تھا
38:49تو جب بندہ
38:50ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہے
38:52تو
38:52ڈسٹرب ہوتا ہے
38:53تو مسلمان
38:55کمزور حالت میں تھے
38:56تو
38:57مشرقین
38:58جو ہے
38:58وہ تنز کرنے لگے
38:59کہ
39:00دیکھیں
39:01ادھر تھے تو ٹھیک تھے
39:02ادھر گئے تو
39:03کمزور ہو گئے
39:04اس وقت
39:05رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
39:06نے حکم فرمایا
39:07اچھا
39:07رمل کرنے کا
39:08اور حضور نے خود بھی
39:09رمل فرمایا
39:10کہ اس کی حیبت ہو
39:11اس کی حیبت ہو
39:12اب اس کا مطلب یہ ہے
39:13کہ
39:14اللہ جو دیکھتا ہے
39:15وہ ارادہ دیکھتا ہے
39:16اللہ اللہ اللہ
39:18اور دل کی کیفیت دیکھتا ہے
39:21اور
39:21اگر
39:22نیت ٹھیک ہے
39:23تو پھر آپ کا
39:25اکڑ اکڑ کر چلنا
39:27اور مٹک مٹک کر چلنا
39:29یہ بھی عبادت بن جاتا ہے
39:30واہ واہ
39:31کس طرح صفہ بروہ کے درمیان
39:33درمیان میں
39:34دباتے ہیں
39:34تو دوڑتے ہیں
39:35دوڑتے ہیں
39:35پچا بھی دوڑتا ہے
39:37بڑے بھی دوڑتے ہیں
39:38اچھا پھر حضرت ابود اجانہ کو دیکھیں
39:40غزوے کے اندر کس طرح
39:42وہ مٹک مٹک کر چل رہے ہیں
39:43اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم
39:44پسند فرما رہے ہیں
39:45اس کی معاصر تطبیق کیا ہے
39:47معاصر تطبیق یہ ہے
39:49کہ جب دشمن کے سامنے
39:51ٹھہرنے کا وقت ہو
39:52تو پھر ٹھہریں
39:54پھر حالت قیام میں رہیں
39:56سجدے میں نہ جائیں
39:57اور اس سے ایک اور سبق بھی ملتا ہے
39:59کہ یہ جو تواف میں رمل ہے
40:01یہ روحانی طور پر
40:03تو مسلمان مضبوط تھے
40:04جسمانی طور پر کمزور تھے
40:06تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
40:08نے جسمانی طور پر
40:09طاقتور ہونے کا اظہار کروایا
40:11ان سے
40:12اور اسے پسند فرمایا
40:14اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم
40:16پسند فرماتے تھے
40:17قرآن پاک نے بھی میار دیا
40:19بستتن فی العلم والجسم
40:21علمی طور پر بھی مضبوط ہو
40:23اور جسمانی طور پر بھی مضبوط ہو
40:24حضرت تعلوت علیہ السلام
40:26کہتے ہیں
40:27تو ہمارے لئے بھی یہ سبق ہے
40:28کہ جسمانی طور پر بھی مضبوط ہو
40:31اور روحانی طور پر بھی مضبوط ہو
40:33اسی لئے صحابہ کرام کی شان کیا تھی
40:34رہبان اللیل و فرسان النہار
40:37اللہ اکبر
40:38رات کے وہ رہب ہوتے تھے
40:41ایسے لگتا دنیا سے تعلق ہی نہیں
40:42اور جب میدان جنگ میں اترتے تھے
40:44تو شاہ سواروں کے شاہ سوار ہوتے تھے
40:46کیا بات
40:47اصل چیز تو پھر اس نیت ہے
40:49جو پیچھے چھپی ہوئی ہے
40:51اس کی روح تو وہی ہے
40:53جو آپ کا اخلاص ہے
40:55وہ اس کی بارگاہ ہمیں پیش نظر ہے
40:56جی
40:57سنیم بھئی
40:59پورے کا پورا جو
41:01یہ تواف
41:02پھر اس کے درمیانی دتیبہ
41:04رمل
41:04یہ
41:05حجر اسود
41:06مقام ملتظم
41:08اور پھر مقام ابراہیم
41:09یہ سب کا سب جو درس ہے
41:12وہ انٹینشنلی
41:13اپنے آپ کو پیوریفائی کرنا ہے
41:16سنسیر ہونے کا نام ہے
41:18اخلاص سے بڑھ جانے کا نام ہے
41:20اور فنافلہ ہونا
41:21یہ اخلاص کا نتیجہ ہی تو ہے
41:23اور دیکھئے
41:24یہ وَتَّخِدُمِ مِمَقَامِ بَرَاہِيمَ مُسَلَّا پہ
41:27یہ حضرت اداتہ صاحب علی رحمہ نے
41:30بڑی خوبصورت بات فرمائی
41:31اخلاص کے حوالے سے
41:32آپ فرماتے ہیں
41:34کہ اخلاص اس وقت تک
41:35انسان کے قلب میں پیدا نہیں ہوتا
41:37جب تک وہ مخلصین کی جماعت میں
41:40شامل ہونے کی کوشش نہیں کرتا
41:42اور مخلصین کی جماعت میں
41:44شمولیت کا جو نکتہ آغاز
41:46وہاں موجود ہے
41:47وہ مقام ابراہیم ہے
41:49ہے قدم ابراہیم پہ پہنچنے والے
41:51ذرا دل ابراہیم کے قریب بھی تو ہو جانا
41:54جو قربانی کا جذبہ
41:55اس کے اندر ہے
41:56وہ اپنے دل میں لا
41:57جو توحید
41:59اللہ تعالیٰ کی توحید کے لیے
42:00جو کیفیات ان کی ہیں
42:02وہ اپنے دل کے اندر پیدا کر
42:04اطاعت کا جو جذبہ اخلاص کے ساتھ
42:07ان کے پاس ہے
42:07وہ اپنے پاس لے گیا
42:09پہلے تیری عبادت متحرک تھی
42:10اب ذرا ساکن ہو نا
42:12پیچھے ہٹ
42:13اور دادا صاحب علی رامہ فرماتے ہیں
42:14یہ اصل میں کیا ہے
42:15وَتَّخِدُ مِمْ مَقَامِ بَرَحِيمًا مُسَلَّا کیا ہے
42:18فرمایا جناب عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی
42:20جو توجہ پڑی
42:21اس توجہ کا پڑتو
42:23جو مجھ پڑ پڑا ہے وہ یہ ہے
42:25کہ اے یہاں پہنچنے والے ساکن ہو
42:27اور اپنے آپ کو مقام خلط پہ لا
42:29اور مقام خلط پہ لا
42:31کہ اب اللہ کی بارگاہ میں پہلے
42:32جسم گمارہ تھا
42:33اب جسم اور دل اللہ کی بارگاہ میں جھکا دے
42:36تو یہ مقامِ برحیم
42:38یہ اصل میں
42:39وہ اس چکر اور ساری کیا
42:41یہ ساکن کیفیات
42:43اس میں تیرے اندر وہ
42:44اخلاص بڑھے گا
42:46کہ جو ہر باطل کے سامنے
42:48تجھے ڈٹنے کا درس دے دے گا
42:50اخلاص کے بغیر انسان ڈٹ نہیں سکتا
42:52حضرت اقبال نے یہی بات کی تھی نا
42:54کہ
42:56سنم قدا ہے جہاں
42:58لا الہ الا اللہ
42:59یہ دور پھر اپنے ابراہیم کی تلاش ہے
43:02کہ ابراہیم کی تلاش
43:04وہ یہاں سے ہوگی
43:05کہ اپنے اندر وہ کیفیات پیدا کرو
43:07تو ان کیفیات کے پیدا کرنے کا نامی
43:10یہ پوری ساری کیفیات ہیں
43:11اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے
43:13کہ رب تعالیٰ اس کی ظاہری باطنی
43:15وہ جو فیزیکل فارم اور سپیرچل فارم
43:17جو مصطفیٰ کریم علیہ السلام
43:19ایک امتی میں دیکھنا چاہتے ہیں
43:21اللہ تعالیٰ یہ سعادت کے ساتھ
43:22ہمیں وہ بھی عطا فرمو
43:23یقیناً یقیناً
43:24لوگ صاحب بہت شکریہ
43:25آپ کی آمد کا
43:26مفتی صاحب آپ کی آمد کا بہت شکریہ
43:29سغی نقشبندی صاحب
43:30آخر میں کلام پیش کریں گے
43:32ناظرین اکرام یہ یادگاریں ہیں
43:34حج کے جتنے مناسق ہیں
43:36یہ یادگاریں ہیں
43:37اللہ کے محبوب بندوں کی
43:39انبیاء کی
43:41اور پھر اس ولیہ کی
43:43حضرت ابراہیم علیہ السلام کی
43:46زوجہ محترمہ
43:48اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ
43:51اور یہ اس خانوادے کی قربانیاں
43:54اور اس کی یادگاریں ہیں
43:57مقام ابراہیم بھی
43:58جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام
44:00حضرت اسماعیل علیہ السلام کی
44:02یادگار ہے
44:04کعبت اللہ کی تعمیر کی یادگار ہے
44:07وہیں یادگارِ ذکرِ مصطفیٰ بھی ہے
44:09کہ کسی مقامِ اس پتھر پر کھڑے ہو کر ہی
44:12حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ ہوا
44:17اسلام پسند کرتا ہے
44:19اللہ اور اس کا رسول اجازت دیتا ہے
44:21سوال کرنے
44:22سمجھنے
44:23سمجھانے
44:24قائل کرنے
44:25قائل ہونے
44:26یہ تمام چیزیں
44:28ڈیبیٹ پر
44:29باتچیت پر
44:30مذاکرات پر
44:31گفتگو پر
44:32لوگوں سے سوال پوچھنا
44:34اس کا جواب چاہنا
44:36یہ سب چیزیں
44:37لیکن اقبال نے کہا نا
44:38کہ اچھا ہے دل کے پاس رہے
44:41پاس مانے
44:41عقل
44:42لیکن کبھی کبھی سے تنہا بھی چھوڑ دے
44:46بارہا
44:47خود کو سپرد کر دینا
44:51لوجک جاننے سے
44:52بہت زیادہ افضل ہوتا ہے
44:54بہتر ہوتا ہے
44:55کہ لوجک جاننے کی کوشش نہ کی جائے
44:58خود سپردگی تو ہے ہی یہی
45:01کہ مالک کا حکم ہے
45:03ہم پیش ہیں
45:04ہم تو نوکر ہیں
45:05ہم تو بندے ہیں
45:07ہم تو غلام ہیں
45:08وہ تو ہمارا خالق ہے
45:09مالک ہے
45:10رازق ہے
45:11ہم پیش ہو گئے ہیں
45:12جو اس کا حکم ہے
45:13جو اس
45:14جو اس کا حکم ہے
45:16وہ میری عبادت ہے
45:17جو اس کی پسند ہے
45:19وہی میری پسند ہے
45:21وہ میرا مطمئن نظر ہے
45:22یہی حج ہے
45:24اللہ حرب
45:25میں یہ خاص طور پر یہ جو جینزی ہے
45:28جو لوجک پر بات کرتی ہے
45:30اور گوگل کو دیکھتی ہے
45:32اور چیٹ جی پی ٹی اور اے آئی سے مدد لینے کی کوشش کرتی ہے
45:36مدد یہاں نہیں
45:38مدد خود کو سپرد کر دینے میں ہے
45:40اس کی بارگاہ میں پیش ہو جانے میں ہے
45:43اچھا ہے دل کے پاس رہے
45:45پاس مانے اقل
45:47لیکن کبھی کبھی
45:48اسے تنہا بھی چھوڑ دے
45:50کبھی اس
45:51خود سپردگی کی
45:52کیفیت کا
45:53ذوق بھی لے کر دیکھئے
45:55اس کا مزہ بھی لے کر دیکھئے
45:57تو پتہ چلے
45:59کہ اس کی لذت کیا ہے
46:01اس کی حلاوت کیا ہے
46:02جو رب کی بارگاہ میں پیش ہو جانے میں ہے
46:05تسلیم احمد صابری کو اجازت دیجئے
46:07السلام علیکم
46:08تسلیمات
46:09حج کا موسم آ گیا ہے
46:16کافی لے جانے لگے
46:32کتنے خوش قسمت ہیں وہ
46:37جن کا بلاوا آ گیا
46:44کتنے خوش قسمت ہیں وہ
46:49جن کا بلاوا آ گیا
46:54اس کے گھر کی مہمانی
47:00کا شرب پانے لگے
47:16اللہ اللہ یہ مقدر
47:21اللہ اللہ یہ نصیب
47:27اللہ اللہ یہ مقدر
47:34اللہ اللہ یہ نصیب
47:41یہ شرب ان کو ملا ہے
47:46خوش جاج کہلانے لگے
47:52یہ شرب جن کو ملا ہے
47:57خوش جاج کہلانے لگے
48:02سب کی منزل ایک ہے
48:07اور سب کا قبلہ ایک ہے
48:13سب کی منزل ایک ہے
48:18اور سب کا قبلہ ایک ہے
48:23سب کی منزل ایک ہے
48:29اور سب کا قبلہ ایک ہے
48:34گوشے گوشے سے حرم کی
48:40سمت سب جانے لگے
48:44گوشے گوشے سے حرم کی
48:50سمت سب جانے لگے
48:54کاش وہ بھی جا رہا
48:59ہوتا حرم کی راہ پر
49:05کاش وہ بھی جا رہا
49:10ہوتا حرم کی راہ پر
49:15کاش وہ بھی جا رہا
49:21ہوتا حرم کی راہ پر
49:26مہر کے دل میں بھی یہ ہے
49:32ارمان لہرانے لگے
49:37حج کا موسم آ گیا ہے
49:42آفی لے جانے لگے
49:48آفی لے جانے لگے
Comments