- 13 hours ago
- #falsafaehajj
- #hajj
- #aryqtv
- #hajj2026
- #qurabni
Falsafa e Hajj | Host: Tasleem Ahed Sabri
Watch More || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidTfSid1NifY039IVYocnyX
Guest : Dr. Saeed Ahmad Saeedi, Dr Irfan Ullah Saifi
Sana Khuwan: Shafaqat Ali Faridi
#FalsafaeHajj #hajj #aryqtv #hajj2026 #qurabni
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch More || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidTfSid1NifY039IVYocnyX
Guest : Dr. Saeed Ahmad Saeedi, Dr Irfan Ullah Saifi
Sana Khuwan: Shafaqat Ali Faridi
#FalsafaeHajj #hajj #aryqtv #hajj2026 #qurabni
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00لَبَيْكَ اللَّا لَبَيْكَ اللَّا لَبَيْكَ اللَّا بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:25لَبَيْكَ اللَّا لَبَيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَيْكَ
00:30إِنَّ الْحَمْدَ وَنِّعْمَتَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ
00:37ناظرین اکرام السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:41آپ پروگرام دیکھ رہے ہیں فلسفہ حج اور ان ایام میں خصوصی ٹرانسمیشن حج کے تعلق سے
00:48کہ جب وہ خوش نصیب خوش بخت لوگ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں حاضر ہو چکے ہیں
00:55اور اپنے عرقان اور مناسق ادا کر رہے ہیں
00:58اپنے آپ کو اللہ کی بارگاہ میں پیش کر دیا ہے
01:03خود سپردگی کی کیفیت کے ساتھ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں پیش ہو چکے ہیں
01:08کتنے خوش بخت لوگ ہیں وہ کتنے خوش نصیب لوگ ہیں
01:12جو حج کے لیے حاضر ہیں
01:14اللہ قریب ان کا حج قبول فرمائے اور پوری دنیا میں جو اس وقت لوگ دیوانے عاشق تنپ رہے ہیں
01:21کہ کاش ہم بھی وہاں ہوتے
01:23اللہ رب العزت ہم سب کی حاضری بار بار ہمیں یہ شرف عطا فرمائے
01:28ناظر اکرام حج یقیناً اللہ رب العزت کی عبادت اور مالی عبادت بدری عبادت
01:36اس کے کچھ کوڈز ڈیس کوڈ ڈیس پروٹوکولز رکھے گئے ہیں
01:40کہ جب رب کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے حاج ادا کرنا ہے
01:45تو یہ ڈریس کوڈ ضروری ہے یہ پروٹوکول ضروری ہے
01:49اللہ رب العزت کی بارگاہ میں اس کے بندے کی حاضری کا پروٹوکول
01:55کہ اپنے لباس کسی بھی کلچر سے آئے ہو
01:59کسی بھی علاقے کسی خطے سے آئے ہو
02:02کالے ہو گورے ہو مرد ہو عورت ہو
02:05ایک ڈریس کوڈ دے دیا گیا ہے مردوں کے لیے خاص کہ اپنے کپڑے اتار دو
02:11اور دو انسلی چادنے اوڑ کر رب کی بارگاہ میں پیش ہو جاؤ
02:16اور لیمٹس ہیں کہ یہ میقات ہے
02:19یہاں پر اپنا لباس تبدیل کر دینا ضروری ہے
02:25اس مقام سے پھر جب آگے بڑھو یہ باؤنڈری ہے
02:28اس سے جب آگے بڑھو تو پھر یہ ڈریس کوڈ ہونا چاہیے
02:32یہ پروٹوکول ہے رب کی بارگاہ میں
02:35اس خالق و مالک کی بارگاہ میں پیش ہونے کا
02:38اس کی بارگاہ میں حاضری کا
02:40پھر اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سفید ہی ہے
02:43اس کی وجہ کیا ہے
02:44ان دو چادروں کا اوڑ لینا اس میں حکمت کیا ہے
02:49اس کا فلسفہ کیا ہے
02:50یہ بھی جاننے کے لیے انشاءاللہ ہم اپنے علماء اکرام
02:54اپنے مہمانوں سے گزارش کریں گے
02:56اور آج ہماری بزم میں تشریف فرما ہیں
02:59ممتاز عالم دین ہے
03:00ممتاز سکولر ہیں
03:02قبلہ ڈاکٹر سعید احمد سعیدی صاحب
03:04سلام علیکم
03:04آپ کی آمد کا بہت شکریہ
03:07اور ایک اور ممتاز عالم دین
03:10ممتاز سکولر جناب ڈاکٹر عرفان اللہ سیفی صاحب
03:13سلام علیکم ڈاکٹر سعید احمد کا بھی
03:15بہت شکریہ آپ تشریف لائے
03:17سب سے پہلے تو قبلہ
03:19اس کی مقات کے حوالے سے
03:21مقات جو باؤنڈری ہے
03:23کہ اب یہاں آ کر
03:25لباس تبدیل کر لینا ہے
03:29یہاں سے رب کی بارگاہ میں پیش ہونے کے لیے
03:31اب آپ نے تیاری کر لینی ہے
03:33اس سے کیا مراد ہے
03:34بسم اللہ الرحمن الرحیم
03:37بہت شکریہ اللہ تعالی
03:39جو ہمارے مسلمان بھائی حج کے لیے
03:42جا رہے ہیں
03:43جا چکے ہیں
03:44جانے والے ہیں
03:45ان کی حاضری کو قبول فرمائے
03:47اور ہم سب کے لیے بھی آسانیہ پیدا فرمائے
03:51اور ہم بھی اسی طرح لبیک
03:53اور عمل لبیک کے سرمدی نغموں میں شامل ہو جائیں
03:57دیکھیں جو میکات
03:58ہے نا
04:00اس کا
04:01آپ یوں سمجھیں
04:03کہ ایک وہ حدود ہوتی ہیں
04:05جو ظاہری ہوتی ہیں
04:06جغرافیائی ہوتی ہیں
04:08بظاہر میکات
04:10ایک ظاہری حد ہے
04:13جہاں سے آپ نے
04:15ڈریس کورڈ فالو کرنا ہے
04:16اس کے بغیر آپ آگے جا نہیں سکتے ہیں
04:18وہ مقام ہے
04:19اس جگہ کا نام ہے
04:21لیکن حقیقت میں میں سمجھتا ہوں
04:22یہ ایک سپیرچول بانڈریز ہیں
04:25میکات مختلف ممالک کے
04:27جو انسان کے
04:29روح کے رشتے کو
04:30اجاگر کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں
04:32واہ واہ
04:33پیچھے آپ آئے تھے
04:35آپ کی ایک شناخت تھی
04:37آپ
04:38دیکھیں نا ہر علاقے کا ایک لباس ہوتا ہے
04:41اور
04:43آگے جا کر اس کو مزید بھی کھولیں گے
04:45کہ لباس جو ہوتا ہے
04:46وہ جہاں ایک کلچر
04:48تمدن
04:48اور طبقاتی مقام
04:50اور سماجی حیثیت کا
04:52اظہار ہوتا ہے
04:53اس کے ساتھ ساتھ
04:55اس سے تفاخر
04:56اور غرور کا اظہار بھی کیا جاتا ہے
04:59تو
05:00اللہ تعالیٰ نے
05:01اپنی بارگاہ میں حاضر ہونے کے لیے
05:04ایک جگہ بکرر کی
05:05کہ یہ سپیرچول باؤنڈری ہے
05:08جہاں
05:09تمہاری ظاہری شناختیں
05:11فنش
05:12ختم
05:12یہاں سے تم نے
05:14میری بارگاہ میں آنا ہے
05:16تو
05:17اظہار ہونا چاہیے
05:18کہ تم اب
05:20عبد اور مملوک بن کر آ رہے ہو
05:22مالک اور معبود نہیں ہوتا
05:24یہ ہے بیسک روح
05:26پہلا نکتہ
05:28اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے
05:30کہ یہ جو
05:31میکات سے سفر شروع ہوتا ہے
05:34یہ بیسکلی روحانی سفر ہے
05:36جس میں
05:37فکری ارتقاء ہوتا ہے
05:39روحانی ارتقاء ہوتا ہے
05:42اور اس کے ساتھ ساتھ
05:43قلبی تمانینت کا
05:45بے شمار احساس
05:46انسان کے سپرد ہوتا ہے
05:48اگر اس کی پوری روح کے ساتھ
05:50یہ انسان شعور کے ساتھ سفر کرے
05:52تقاضی تو یہی ہے نا
05:54جی تقاضی تو یہی
05:54دوسرا یہ ہے کہ
05:55ہر جگہ کی دنیا میں
05:58حدود ہوتی ہیں
05:59حکومت حدود مقرر کرتی ہے
06:01کہ اس سے آگے جائیں گے
06:02تو آپ پر فائن ہو جائے گا
06:04آج کل ویسے بھی فائن کا زور ہے
06:06تو فائن ہو جائے گا
06:08یہ ہو جائے گا
06:09تو کچھ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں
06:11تو میکات
06:14ایک طرح سے
06:15اللہ کی ایک مقرر کردہ حد ہے
06:17اس سے آگے
06:19خصوصی پروٹوکول کے ساتھ
06:21خصوصی ڈریس کے بغیر
06:22آپ نہیں جا سکتے
06:23خصوصی ڈریس کے ساتھ جا سکتے
06:26تیسرا یہ ہے
06:28جس طرف میں نے پہلے اشارہ کیا
06:30یہ عبدیت کی شناخت کا کامل اظہار ہے
06:34اس حوالے سے
06:35کہ انسان اپنا ظاہری پہناوہ
06:38اتار کر
06:39دو انسلی چادروں میں
06:41یعنی جو
06:42سلے ہوئے کپڑے ہوتے ہیں
06:43وہ بندھن کی علامت ہوتے ہیں
06:45کوئی تمدن کا بندھن ہے
06:47کوئی سماج کا بندھن ہے
06:48تو انسلی چادروں کا کیا مطلب ہے
06:50کہ میرا کوئی بندھن نہیں ہے
06:52میں اللہ کے سامنے سرندر کر رہا ہوں
06:54مکمل تسلیم انقیاد ہے
06:56اچھا پھر
06:58اس میں ایک پہلو یہ بھی ہے
07:00کہ نیت کی مرکزیت اس میں
07:02ضروری ہوتی ہے
07:03کہ انما لامالو بن نیات
07:06تو جب نیت
07:08اللہ کے لیے کی جاتی ہے
07:09اور رخ اللہ کی طرف ہو جاتا ہے
07:11اس سے روح کو بیداری نصیب ہوتی ہے
07:14یہ خاص یہاں
07:16ارنہ تو گھر سے چلا تھا
07:18تو نیت کر کے ہی چلا تھا
07:19کر کے چلا تھا
07:20لیکن مکات کی اپنی ایک اہمیت ہے
07:23تو وہ خاص وہاں نیت
07:25جو ہے وہ ضرورت ہے
07:26وہ ضرورت اس حوالے سے ہے
07:28کہ وہ اس شعور کے ساتھ جائے
07:30یہ دیکھیں نا
07:32ایک وہ ذوق ہے جو آپ نے
07:33عبادت ذوق نہیں ہے
07:36عبادت ذوق پر نہیں چھوڑی گئی
07:37اسے عادت نہیں بننے دیا گیا
07:40عبادت اللہ کے حکم کی تعمیل کا نام ہے
07:43آپ کے اور میرے ذوق کی تسکین کا نام نہیں ہے
07:45تو اللہ نے جیسے کہا ہے
07:47تو جہاں میقات ہے کوشش کرنی چاہیے
07:49وہاں بیدار رہنا چاہیے
07:51احرام آپ باندھ چکے ہیں
07:52تو وہاں اس کا وہاں نیت کریں
07:55اور اس شعور کو اپنے اندر راست کریں
07:57ایک اور چیز جو ہے
07:58کہ میقات پر جب بندہ نیت کرتا ہے
08:02تو یہ شعور انسان کے باطن کو جنجھولتا ہے
08:07کہ تجھے پتا ہے
08:09تو کس بارگاہ کا مہمان بن کے جا رہا ہے
08:13تو یہ جو لذت ہے یہ جو کیفیت ہے
08:16اس کو تو وہی محسوس کر سکتے ہیں
08:17اور پھر ایک اور پہلو جو ہے
08:18سیکنڈ لاسٹ پہلو
08:19وہ یہ ہے
08:21کہ انا کا خاتمہ ہو رہا ہے
08:24اور فنا فلہ کی طرف آدمی قدم بڑھا رہا ہے
08:28انسلے کپڑے پین کا
08:29اور آخری جو پیغام اس میں یہ ہے
08:31وہ یہ ہے کہ ہر عظیم سفر کا ایک آغاز ہوتا ہے
08:37تو یہ عظیم روحانی سفر ہے
08:39عبد کا معبود کی طرف سفر ہے
08:41محلوق کا مالک کی طرف سفر ہے
08:44سائل کا آقا کی طرف سفر ہے
08:46تو خود سپردگی کے ساتھ
08:48اور مکمل تسلیم انقیاد کے ساتھ
08:50یہ سفر جو ہے
08:51یہ میکات کے شعور کے ساتھ
08:54جو ہے وہ آگے لے جایا جا رہا ہے
08:55لباس
08:57لباس کا بھی پروٹیکول دیا گیا
08:59کہ یہ دو انسلی چادریں ہیں
09:01اس سے مراد کیا ہے
09:02فلسفہ کیا ہے
09:03یاد رہے کہ ہم
09:05بچہ بچہ جانتا ہے
09:06کہ یہی جب انسان مر جاتا ہے
09:08تو یہی دو چادریں ہوتی ہیں
09:11جو اسے پہنائی جاتی ہیں
09:12یہ اس کی جو آپ تمثیل
09:15کس طرح سے بھی دیکھ رہے ہیں
09:16یہ بھی
09:17بہت شکریہ
09:18دیکھیں
09:19ڈاکٹر صاحب نے ماشاءاللہ
09:20آغاز میں وہ سری حکمتیں
09:22ہمارے لیے واضح فرما دی ہیں
09:26جب ہم احرام باندھتے ہیں
09:29تو ایک بات یہ یاد رکھنی چاہیے
09:31ایک ہے احرام کی چادریں
09:33اور ایک ہے حالت احرام
09:36حالت احرام کا مطلب ہے
09:38احرام کی خاص قفیت ہے
09:39جس کے اندر اب بندہ
09:41وہ اپنے آپ کو داخل کر رہا ہے
09:43چادریں اس کی علامت ہیں
09:46انسلی چادریں اس کی علامت ہیں
09:48جو یہ بتا رہی ہیں
09:50کہ یہ بندہ ایک خاص حالت
09:51کے اندر اب آ چکا ہوا ہے
09:53تو وہ دو انسلی چادریں
09:55جس کو مختلف حوالوں سے
09:58ڈاکٹر صاحب نے بھی بیان فرمایا
09:59کہ ایک تو یہ ہے
10:00کہ انسان کی آجزی اور انکساری
10:03کا وہاں پر اروج شروع ہو جاتا ہے
10:05اپنی آجزی اور انکساری کا
10:07بالکل یعنی وہ آغاز کر کے
10:10اللہ تبارک و تعالی کی حضور حاضر ہو جاتا ہے
10:12اور یہ ارز کرتا ہے
10:13کہ مالک میرا جو کچھ بھی
10:15ایک دنیاوی رتبہ ہے
10:17مقام ہے
10:18میری معاشرتی جو بھی حصیت ہے
10:20معاشی جو بھی حصیت ہے
10:22میں اب اس کو پس پشت ڈال کے
10:24اب یہ تیرے حکم پر دو چادریں
10:26زیبتن کر رہا ہوں
10:27اور اب میں نے سارا کچھ پیچھے چھوڑ دیا
10:29اب میں تیرے حکم کے مطابق آگے بڑھ رہا ہوں
10:32تو گویا وہ آجزی اور انکساری کی انتہا جو ہے وہ اس کے دو کپڑوں کو زیبتن کر لینا ہے
10:37تو اصل روح جو ہے وہ ہے
10:39آپ کی کیفیت
10:41جی بلکل
10:42آپ کا احساس
10:43بلکل
10:43اصل میں وہ چیز ہے اندر
10:44تو اس لیے آپ دیکھیں
10:46کہ جب انسان پڑھتا ہے نا
10:49جب یہ احرام باندھ کے نیت کرتا ہے
10:52تو سب سے پہلے تلبیہ پڑھتا ہے
10:53تو تلبیہ کے اندر مات ہی آتی ہے
10:56احرام کی آحلت میں کہ میں مالک حضر ہوں
10:58تو اب گویا کہ میں جو کچھ بھی ہوں
11:00وہ پیچھے چھوڑ دیا ہے
11:02اب میں مالک تیری بارگاہ میں
11:04ایک بندے کے طور پر حاضر ہوں
11:05تو ایک آجزی اور انکساری کا یہاں پر اظہار ہوتا ہے
11:08دوسری بات یہ ہے
11:09کہ انسان جب یہ جو چادریں زیبتن کر لیتا ہے
11:13تو اس کو بھی احساس ہوتا ہے
11:14کہ اب میں مخصوص پبندیوں میں آگیا ہوں
11:17اب میں نے یہ کرنا ہے
11:18اور یہ نہیں کرنا
11:20یعنی اس سے پہلے
11:21ہم اس لباس میں ہیں
11:23ہم احرام کی حالت میں ابھی نہیں گئے
11:25تو ہم اپنی مرضی سے خوشبو بھی لگا سکتے ہیں
11:28ہم اپنی مرضی سے
11:30کوئی سر بھی ڈھانپ سکتے ہیں
11:31سارا کچھ کر سکتے ہیں
11:32جو چائے پہن سکتے ہیں
11:34لیکن آپ دیکھیں کہ
11:36وہ نیچے والا جو حصہ ہے
11:37اس کو تو کور کرنے کا حکم دیا
11:40لیکن اس کا سر اس کو ننگا کرتا ہے
11:43اور اگر آپ دیکھیں
11:44تو جو ہمارا عرب کرواج ہے
11:45اور اب بھی بہت سارے علاقوں کے اندر
11:47سر کے اوپر کلا پیننا
11:49امامہ پیننا
11:50اور بڑے بڑے جو ہے وہ
11:51تاج پیننا
11:52یہ فخر کی ہے
11:52اور ایک بڑے پن کی علامت سمجھی جاتی تھی
11:55اور ہم اس کو تو اتار دے
11:56یہ بڑا پن جو ہے
11:57اب وہ پیچھے رہ گئے ہیں
11:58اب جو ہے وہ
11:59کوئی بڑا نہیں ہے
12:00اب اللہ اکبر ہے
12:01اب وہی بالک جو ہے
12:03وہی سب سے بڑا ہے
12:04پھر جو سیلی ہوئی چادریں ہیں
12:08ہمیں درس سے مساوات بھی اس میں دے رہی ہیں
12:10کہ آدمی
12:11جس طرح آپ نے بھی اپنے انٹرو میں ارشاد فرمایا
12:14کہ انسان کسی بھی رنگ و نسل کا ہے
12:16وہ دنیا کے کس خطے سے بھی
12:18وہاں پر حاضر ہوا ہے
12:19اس نے دو سیلی چادریں پینی پینی ہوئی ہیں
12:21اس کا لباس
12:22اپنے اپنے علاقے کی جو ثقافت ہے
12:24وہ پیچھے چھوڑ گیا
12:25اب یہاں پر سب متحد ہیں
12:27اب سب ارز کرتے ہیں
12:28کہ مالک ہمیں جو
12:29سب یہاں پر چیزیں جوڑ رہی ہیں
12:31وہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ
12:33پڑ کے ہم جب تیرے حضور حاضر ہو گئے
12:36اور ہم نے یہ احرام پین لیا
12:38تو اب ہم سب ایک ہیں
12:39اب اس میں ہمارا کوئی فرق نہیں ہے
12:41اور اس میں آپ دیکھیں
12:42کہ جو بھی کسی جگہ سے آ رہا ہے
12:45مقات سے مختلف طرفوں سے جب لوگ آتے ہیں
12:48لبیک اللہم لبیک پڑھتے ہوئے آتے ہیں
12:50اور ایک عجیب سی کیفیت ہوتی ہے
12:52وہاں ایک آپ سمجھیں
12:54کہ روحانی طور پر انسان کو
12:56وہ جوانی کی کیفیت نظر آتی ہے
12:58روح جو ہے نا وہ
12:59جو بیمار روح ہوتی ہے
13:00وہ بھی تازہ ہو جاتی ہے
13:02اور انسان جو ہے
13:03وہ اس میں ایک عجیب لذت اور حلاوت محسوس کرتا ہے
13:06اور اس حوالے سے آخری بات یہ ہے
13:07کہ احرام کی دو چادریں
13:10ہمیں اپنے کفن کی یاد بھی دلاتے ہیں
13:12کہ ہم اپنا جو بھی مقام و مرتبہ ہے
13:16معاشرتی معاشی جو بھی سٹیٹس ہے
13:18جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے
13:20وہ باہرحال عارضی ہے
13:21تو یہاں رہ جائے گا
13:22ہم نے اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے
13:23تو آج
13:26کہتے اس مالک کے بارگاہ میں
13:27وہاں حاضر ہو رہے ہیں
13:28تو اسی طرح ہماری قبر میں بھی حاضری ہے
13:30تو وہ جو احرام کی دو چادریں ہیں
13:33وہ ہمیں یاد دلاتی ہیں
13:34کہ جب ہم اس دنیا سے جائیں گے
13:36تو جس طرح آج خالی ہاتھ ہیں
13:37اور کچھ بھی نہیں ہے
13:38اور صرف زیادہ سے زیادہ وہ بیلٹ باندھ سکتے ہیں
13:41جس میں ضرورت کے چند پیسے رکھتے ہیں
13:42تو جب قبر میں جائیں گے
13:44تو ساتھ وہ بھی نہیں ہوں گے
13:45تو انسان جو ہے
13:47وہ پھر یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے
13:48کہ آج میں اللہ کے حضور حاضر ہوں
13:50تو کیا کل جو ہمیری حاضری ہوگی
13:53کہ میں اس کے لیے اپنے آپ کو تیار کر رہا ہوں
13:54اس کی یاد بھی ہے
13:56اور انسان تیاری کے لیے
13:58اپنے آپ کو پھر جو ہے وہ
13:59ذہن تیار بھی رکھتا ہے
14:00کہ میں وہاں پر حاضر ہونے کے لیے
14:02تیار ہوں کے نہیں ہوں
14:03انشاءاللہ
14:03ناظرین کرام ایک مختصر سا وقفہ لیں گے
14:15مقات اور احرام
14:16اس حوالے سے گفتگو ہو رہی ہے
14:19ممتاز سناقہ ہیں
14:20شفاقت علی فریدی صاحب
14:22انہوں نے ہمیں جوائن کیا ہے
14:24اسلام علیکم
14:25ماشاءاللہ
14:26خوش آمدیت
14:27تشریف لائے
14:27آغاز حمد پاک سے
14:45لبوں پہ آتی ہے
14:56عمد تیری لبوں پہ آتی ہے
15:16روح سنتی ہے جھوم جاتی ہے
15:28روح سنتی ہے جھوم جاتی ہے
15:44ذکر تیرا
15:53فضا کے ہونٹوں پر
16:04ذکر تیرا
16:10فضا کے ہونٹوں پر
16:20نغم تیرے ہوا
16:26سنتی ہے
16:34نغم تیرے ہوا
16:40سنتی ہے
16:48روز ماشاء
16:56خوف سے
16:58انجوں
17:04روز ماشاء
17:10خوف سے
17:13انجوں
17:19یہ میری
17:21روح
17:23اتھر
17:24اتھر آتی ہے
17:30یہ میری
17:33روح
17:35اتھر
17:36اتھر آتی ہے
17:43عمد تیری
17:46لبوں
17:48پہ آتی ہے
17:58ماشاء
17:58ماشاءاللہ
17:59خوش روح
17:59سلامت روح
18:01جی کبلہ
18:02کیا کہتے ہیں
18:02سفید ہی کیوں ہے
18:04احرام ایک تو سفید کیوں ہے
18:06اچھا پھر
18:07گتھان لگانے کی بھی پابندی
18:09ایک بات
18:11خوشبو
18:12میں نے کہیں پڑھا ہے
18:13کہ جی خوشبو اللہ کو
18:15اس کے رسول کو محبوب ہے
18:16یہاں تک کہ
18:18کہ اگر کوئی خوشبو کا کوئی تفاہ دے
18:20اگر آپ مجھے دے دیں
18:21تو مجھے چاہیے کہ میں اس کو انکار نہ کروں
18:25وہ خوشبو بھی پابندی لگا دی گئے
18:28کیا وجہ ہے
18:29اس میں جو
18:32سفید لباس ہے
18:34دو چادریں ہیں انسلی
18:35سفید کا پہلے ڈسکس کر لیں
18:37جی
18:37تو یہ صرف علامتی نہیں ہے
18:40بلکہ اس میں گہری روحانی حکمت
18:43جو ہے وہ موجود ہے
18:44ہم
18:44اور اس میں گہرے راز ہیں
18:47ایک تو یہ ہے کہ سفید ننگ جو ہے نا وہ
18:50طہارت اور نورانیت کی علامت ہے
18:53بے شک
18:54اچھا اجازت تو ہے نا
18:55کوئی بھی کلر پر پابندی تو نہیں ہے
18:58سفید ہی پہنا جاتا ہے
19:00عام طور پر
19:01پابندی تو نہیں ہے
19:02سفید مستحب ہے
19:03مستحب ہے
19:04مستحب ہے
19:04یعنی پابندی نہیں ہے
19:06کسی بھی رنگ کا پہن سکتے ہیں
19:07لیکن
19:08لیکن اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم
19:10نے حکم دی
19:11آپ کا فرمان
19:13ترغیب دلائی ہے
19:14ترغیب دلائی ہے
19:15کہ سفید لباس پہنا کرو
19:17ٹھیک ہے
19:17اور ساتھ یہ بھی فرمایا
19:18کہ آپ نے مردوں کو اس میں کفن دیا
19:20ٹھیک ٹھیک
19:21اس لیے سفید آپ نے دیکھا ہے
19:23جتنے بھی احرام ہوتے ہیں
19:25میکسیمم سفیدی ہوتے ہیں
19:26سفیدی
19:26ہے ہی سفیدی
19:27اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
19:29کیونکہ اشارہ آگئے
19:31آپ کی پسند آگئی
19:32امت پھر حضور کی پسند سے دور کیسے جائے
19:35اور خصوصی جب
19:36خصوصی طور پر جب اللہ کی بارگاہ میں حاضری ہو رہی ہے
19:40ہاں
19:40تو زیادہ
19:41سبمشن جو ہے وہ ضروری ہے
19:43ایک تو یہ
19:43ہاں
19:44دوسرا یہ
19:45کہ مادہ پرستی کے خلاف اعلان جنگ ہے
19:49ہاں
19:50یہ انٹی میٹیریلسٹک جو سٹیٹمنٹ ہے
19:55بندے کے ذہن کے اندر جو چیزیں ہوتی ہیں
19:58ہاں
19:58تو دوسرے رنگ جو ہے
20:00اس لیے بھی پسند نہیں کیے جاتے
20:02مصطحب نہیں قرار دیئے گئے
20:05کہ ان میں داغ لگ بھی جائیں
20:07تو وہ
20:08دیکھیں
20:09دیکھیں نہیں جا سکتے
20:10چھپ جاتے ہیں
20:11تو مادیت پرستی کی آلودگی سے بچانے کے لیے
20:15یہ سفید رنگ جو ہے وہ اس لیے پسند کیا گیا ہے
20:18اور جب بندے نے سفید لباس پہنا ہو
20:21وہ شعوری طور پر کانشیس ہو جاتا ہے
20:23کانشیس زیادہ ہوتا ہے
20:24کوئی چیز گر نہ جائے
20:25اور گرتی بھی ہے
20:26گرتی بھی ہے
20:27اور داغ نہ لگ جائے
20:29تو جس طرح آدمی اپنے ظاہری لباس کے اوپر کسی قسم کی آلودگی کو برداشت نہیں کرتا
20:35کیا نقطہ ہے
20:36اسی طرح باطن کے اوپر اور روح کے اوپر اور قلب کے اوپر بھی کسی قسم کی رضالت اور غلازت
20:42اور آلودگی نہیں آنی کیا
20:44کیا کہنے ہیں نوکساں
20:45کیا بات
20:45ایک اور پہلو اس کا یہ ہے
20:47کہ ساری امت اس دن ایک رنگ میں ہوتی ہے
20:54اللہ میں نے جو کہا تھا
20:55بتانے رنگ و خون کو توڑ کر ملت میں گم ہو جاؤں
20:59نہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی
21:02تو ایک پہلو یہ بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ
21:05ہم دیکھتے ہیں کہ جو سفید رنگ ہے نفسیاتی طور پر سفید رنگ سکون دیتا ہے
21:12جب سکون ہوگا
21:14تو پھر آپ کی عبادت میں بھی یکس ہوئی پیدا ہو
21:19یہ ایک گہرا ربط ہے اس کے ساتھ
21:21آپ دیکھیں جو کئی ایسے بزرگ میں نے دیکھے ہیں
21:24آپ نے بھی دیکھیں جو سفید رنگ کے علاوہ لباس پہنتے ہی نہیں ہیں
21:28کئی ایسے لوگ ہیں جو پہنتے ہی نہیں ہیں
21:30بالکل ہے اچھا
21:31اور پسندیدہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو گیا
21:33اچھا خوشبو کی بات آئی
21:36خوشبو کی دیکھیں خوشبو سنت ہے
21:38پسندیدہ ہے
21:39رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اللہ نے
21:41ویسے مؤتر معمبر پیدا فرمایا
21:43اور اس کے باوجود بھی آپ
21:45خوشبو پسند کرتے تھے جسے آپ اندازہ لگائیں
21:48اصل میں جو احرام ہے نا
21:50وہ
21:51دنیاوی زیب و زینت
21:53فیشن
21:55اور جس میں
21:57آپ اپنی ذات کا اظہار کر سکتے ہیں
22:00ان چیزوں سے منع کیا کیا ہے
22:02تو خوشبو بھی ایک
22:04لوگوں کو اپنی طرف متوجہ
22:06کرنے کا سبب بنتی ہے نا
22:08تو آپ اس وقت
22:09یعنی احرام بانتے ہی خوشبو پر پابندی ہے
22:12ٹھیک ہے
22:13آپ گنگا نہیں کر سکتے
22:14ٹھیک ہے
22:14ٹھیک ہے تیل نہیں لگا سکتے
22:16یہ ساری چیز
22:16نہ خوشبو ہے
22:17نہ زینت ہے
22:18زینت ختم ہو کیوں
22:20کہ اس لیے کہ جس بارگاہ ہمیں آپ جا رہے ہیں
22:23وہاں آپ کی ذات
22:24مکمل تسلیم و انقیاد
22:27اور خودسپردگی
22:28اور ٹوٹل سبمیشن کی قیفیت میں ہے
22:30وہاں آپ کو اپنے ظاہر کی فکر نہیں ہے
22:33اب آپ کو اپنے باطن کی فکر کرنی چاہیے
22:36کہ میرا قلب منور ہونا چاہیے
22:38میرا باطن روشن ہونا چاہیے
22:40میری روح پاکیزہ ہونی چاہیے
22:42بے شک
22:43اور اس کے پھر اثرات ہوتے ہیں
22:44آپ دیکھیں
22:45میں نے بھی پڑھا
22:46آپ نے بھی پڑھا
22:47حفظ صاحب نے پڑھا ہوگا
22:48کہ جو پاکیزہ لوگ ہوتے ہیں نا
22:52انہیں بولنے کی ضرورت نہیں ہوتی
22:54ان کا عمل بولتا ہے
22:55آئے آئے آئے
22:56کیا کہیں
22:57تو جب روح باطن مزکہ مصفہ ہو جاتی ہے نا
23:01تو پھر الفاظ تو کمزور ذریعہ اظہار ہیں
23:03یہ پیچھے رہ جاتی ہیں
23:05پھر وہ جو کشش ہوتی ہے
23:06اورا جسے کہتے ہیں
23:07اورا بنتا ہے
23:08لوگ پھر اس کی طرف جو ہے
23:09وہ کھچے چلے آتے ہیں
23:11کھچے چلے آتے ہیں
23:12اور پھر اپنے بس میں نہیں رہتا ان کے
23:15اور وہ دل دے بیٹھتے ہیں
23:16بے شک
23:17انہیں دیکھا
23:18تصدق کر دیا
23:19دل
23:20کسی کو کیا
23:21میری آنکھیں
23:22میرا دل
23:23واہ
23:23ان سے سبت ہی نہیں ہوتا
23:26اور وہ دل دے بیٹھتے ہیں
23:27تو یہ باطنی کشش جو ہے
23:28یہ بڑی کشش ہوتی ہے
23:29یقیناً
23:30اور پھر آپ دیکھیں نا
23:31کیولا میں ہم
23:32یہ جو منظر دیکھ رہے ہیں
23:34اب بھی ہم دیکھ رہے ہیں
23:36اور ہر سال یہ منظر دیکھتے ہیں
23:38یعنی اب مزدلفہ میں دیکھیں
23:39تو پہاڑ سفید ہو جاتے ہیں
23:41ہر طرف جہنی جو جار ہے
23:44خاص طور پر اس میں جو ایک اتحاد
23:46اور یگانگت
23:47اور پھر ایک مسلمان کا جو ایک امت مسلمہ کا بحیثیت امت
23:54جو روب اور دب دبا ہے
23:56یعنی ان مناظر کو دیکھ کر
23:58اس کی تو کوئی مثال ہی نہیں ہے
24:00بلکل
24:01اسی طرح ہے
24:01دنیا میں اتنا بڑا اجتماع کسی اور جگہ نہیں ہوتا
24:05اور آپ دیکھئے کہ اس اجتماع کی خوبصورتی یہ ہے
24:08کہ جو قرآن نے کہا نا
24:09لَا رَفَسَ وَلَا فَسُوقَ وَلَا جِدَا عَلَا فِي الْحَجِ
24:12وہ چھوٹی موٹی باتیں ہو جاتی ہیں لیکن چند لوگ جہاں پر جمع ہوں وہاں جگڑا ہوتا ہی ہوتا ہے
24:18لیکن آپ دیکھیں کہ وہاں کس خوبصورتی کے ساتھ جو ہے وہ لوگ اپنے اپنے مناسق ادا کر رہے ہوتے
24:23ہیں
24:23اور اللہ کی پارگمہ حاضری پیش کر رہے ہیں
24:25اور ایک وقت میں ایک ہی سمت ہے لوگوں کی
24:28جی بلکل
24:29ایک ہی منزل ہے لوگوں کی
24:30بلکل
24:30دکھو لوگوں کی ایک ہی
24:32ایک ہی منزل ہے اور پھر اس کے لئے بھی وقت محدود ہے
24:34مثلا آپ نے میدانِ عرفات میں جانا ہے جی صبح و فجر کی نماز کے بعد مناسق کافلے شروع ہو
24:41جاتے ہیں
24:42اور جب میدانِ عرفات میں جاتے ہیں تو شام تک آپ نے وہاں رہنا ہے
24:45اب شام تک اتنے لاکھ لوگ یعنی تیس پینتیس چالیس لاکھ لوگ کموں بیش جتنے بھی ہر سال تبدیلی ہوتی
24:52رہتی ہیں
24:52تو آپ دیکھیں کہ وہاں پر ایک چھوٹے سے میدان میں وہاں پر موجود ہوتے ہیں
24:56اور وہ سمو لیتا ہے
24:58لاکھوں لوگوں کو سمو ہوتا ہے
24:59بلکل
25:00اور اس نے خوبصورتی کے ساتھ وہاں پر موجود رہتے ہیں
25:04اور پھر وہاں پر کسی طرح کی کمی نہیں ہوتی
25:07اب دیکھیں کہ ہمارے پاس چند لوگ آتے ہیں
25:11یا حکومت کے کسی جگہ پر چند لوگ ہوتے ہوتے ہیں
25:14تو حکومت کو مسئلہ بن جاتا ہے
25:15وہاں اتنے لوگ ہوتے ہیں
25:16اور منا میں آپ دیکھیں کہ جب آٹھ زلحج کو لوگ منا میں وہاں پر حاضر ہو جاتے ہیں
25:21تو منا باوجود چھوٹی سی وادی کے اتنی زیادہ وسط اس میں آ جاتی ہے
25:25کہ سارے لوگ وہاں سموئے ہو ہوتے ہیں
25:27اور وہاں پر جو ہے ایسا لگتا ہے
25:30کہ اگر آپ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے باہر نکلیں
25:32تو محسوس ہوتا ہے یہاں تو کوئی بھی نہیں ہے
25:34سارے سارے خیموں میں موجود ہے
25:35اور اتنے لاکھوں لوگ وہاں پر موجود ہوتے ہیں
25:38یعنی اصل میں اللہ تبارک و تعالی کی خاص کرم نوازی
25:41جو یہ ایامے جو حج ہیں
25:43ان میں اللہ تبارک و تعالی کا خاص کرم ہوتا ہے
25:45اور ہمیں جو درس اتحاد اور درس یگانگت وہاں پر ملتا ہے
25:49وہ ایک خوبصورت پیغام ہے اس کا حاصل میں
25:52دیکھیں حج کا جو بنیادی جو لفظ ہے نا اس کا مطلب کیا ہے قصد کرنا
25:56یعنی حج کا معنی ہے قصد کرنا
25:59ارادہ کرنا
26:00تو ارادہ کسی چیز کا کرنا
26:02ارادہ اس بات کا کرنا کہ میں اللہ تعالی کے حضور حاضر ہو رہا ہوں
26:05اللہ کے حضور اپنا سب کچھ پیش کر رہا ہوں
26:07اللہ کے حضور میں نے اپنی بندگی سب کچھ جو ہے وہ اللہ کے حضور پیش کر دی
26:10ارادہ اس بات کا
26:11اور ارادہ اس بات کا کہ میں اللہ کے حکم سے اب باہر نہیں نکلوں گا
26:15اللہ کے حکم کے اندر اندر رہوں گا
26:17اور پھر کوئی بھی خلاف احرام کوئی بات نہیں کروں گا
26:21جو احرام کی پبندیوں سے ہٹکے ہو
26:23جو اس کے تقدس کو پامال کرے
26:25ابھی باتیں ہو رہی ہیں
26:25تو اس میں ہمیں یہ بات بھی سمجھ آتی ہے
26:28کہ اللہ تبارک و تعالی ہمیں چاہتا ہے
26:31کہ ہم ایک محبت کی ایسے رشتے میں جڑ جائیں
26:34کہ جب ہم وہاں جمع ہوتے ہیں
26:36تو آپس میں جو ہمارا پیار اور محبت ہوتا ہے
26:38تو جب ہم اپنے اپنے علاقوں میں چلے جائیں
26:40تو وہ پیار اور محبت کم نہیں ہونا چاہیے
26:42اس کو برقرار رہے ہیں
26:43یقیناً
26:44اب جو احرام کے جو پیچھے چھپی ہوئی
26:48جو پابندیوں کے پیچھے جو چھپی ہوئی حکمتیں ہیں
26:51وہ ہم جاننے کی کوشش کرتے ہیں
26:53یعنی جو ڈوکس اب نے بھی فرمایا
26:56کہ جو خود سپردگی کی کیفیت ہے
26:58یعنی بندہ اب رب کی بارگاہ میں
27:00اپنے آپ کو سپرد کر رہا ہے
27:03اپنی پسندیدہ
27:04اپنی مرغوب چیزوں کو چھوڑ کر
27:06رب کی بارگاہ میں اپنے آپ کو پیش کر رہا ہے
27:10اس کیفیت میں
27:11کہ جب وہ پراغندہ حال
27:14رب کی بارگاہ میں
27:15زیادہ محبوب ہو جائے گا
27:17مٹی میں اٹا ہوا ہے
27:19تو وہ زیادہ محبوب ہے
27:21رب یہ چاہتا ہے
27:22اس کی کیا حکمتیں ہیں
27:24ایک مختصر سے وقفے کے بعد
27:26ناظرین اکرام خوش آمدید
27:27آپ پروگرام دیکھ رہے ہیں
27:28فلسفہ حج
27:29یہ خصوصی پروگرام
27:30ان ایام کے لیے
27:31یہ جو حج کے ایام ہیں
27:33اس میں ہم بات کر رہے ہیں
27:34احرام اور احرام کی حکمتیں
27:37یہ جو دو چادریں دی گئیں
27:39اس میں اپنے آپ کو
27:41رب کی بارگاہ میں
27:42سپرد کرتے ہوئے
27:44اپنی انا
27:46اپنی جو سارا لائف سٹائل ہے
27:48وہ سب چھوڑ کر
27:52اور پھر خوشبو
27:54یعنی مرغوب چیزوں کا
27:55جو محبوب چیزیں ہیں
27:57وہ بھی چھوڑ دینا
27:58کہ بلا موہ تک دھو نہیں سکتے
28:01اس طرح سابن نہیں لگا سکتے
28:03کنگی نہیں کر سکتے
28:04یہ زینت نہیں
28:05یعنی وہ دین جو صفائی پسند ہے
28:08جو صفائی کو پسند کرتا ہے
28:10وہ کہتا ہے کہ
28:11جی اب مٹی میں جتنا اٹا ہوا ہے
28:14پسینے کی بو آ رہی ہے
28:15وہ رب کی بارگاہ میں زیادہ پسندیدہ ہے
28:17تو یہاں قوانین اس طرح کے کیوں ہیں
28:22کہ یہی ایک تربیت کا مرحلہ ہوتا ہے
28:25میں نے شروع میں عرض کیا تھا
28:28کہ عبادت زوک کا نام نہیں ہے
28:31عبادت اللہ کے حکم کے سامنے
28:33سر تسلیم خم کرنے کا نام ہے
28:35عبادت بنتی ہی تب ہے
28:37دیکھیں نا آپ پورا مہینہ روزہ رکھتے ہیں
28:39عید والے دن روزہ رکھنا منع ہے
28:41علاقے عادت بن چکی ہوتی ہے
28:44سختی سے منع ہے
28:45تو اس لیے عبادت اطاعت اور تسلیم سے عبارت ہے
28:49پہلی بات
28:51اس سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے
28:53ان پابندیوں سے ایک تو ضبط نفس
28:56میں مجھے یاد آ رہا ہے
28:58مولانا روم رحمت اللہ علیہ کا ایک واقعہ
29:00کہ آپ تشریف فرماتے
29:01ایک شرابی شراب کے نشے میں دھوت
29:04آپ کے اوپر آ گیا
29:05اب عرادت مند بھی بیٹھے ہیں شاگرد بیٹھے ہیں
29:08وہ اٹھے انہوں نے اسے پکڑا
29:10اور جھوڑا اور
29:11حکارت سے اس کو ڈانٹنے لگے
29:14تانو تشنی
29:15تو مولانا روم نے دیکھا اور فرمانے لگے
29:18میں تو سمجھتا تھا یہ آنے والا نشے میں ہے
29:21لیکن اصل غفلت
29:22اور غرور کے نشے میں تو تم مبتلا ہو
29:24اللہ اللہ
29:25اس کا تو نشہ ابھی اتر جائے گا کچھ بات
29:28لیکن تمہارا نشہ کب اترے گا
29:29یہ جو ضبط نفس کی پریکٹس ہے
29:32نا احرام کی حالت میں
29:34فلا رفصا ولا فسوکا ولا جدالا فلہ
29:38اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھنا ہے
29:40جو آپ کو الجھائے
29:42آپ نے اس کے ساتھ
29:43الجنا نہیں ہے
29:44سلجاؤ کی طرف بڑھنا ہے
29:46دو چیزیں
29:46تیسرا یہ
29:48کہ اس میں
29:50ماحول اور مخلوق کا احترام ہے
29:53آپ کو شکار نہیں کر سکتے
29:54مخلوق کا احترام ہے
29:56گالم گلوچ نہیں کر سکتے
29:58مخلوق کا احترام ہے
29:59ٹھیک ہے
30:00کوئی درخت نہیں کار سکتے
30:01یہ ماحول کا احترام ہے
30:03یعنی حج جیسے
30:05پاکیزہ موقع پر
30:06آپ دیکھیں
30:08جہاں
30:09جاندار مخلوق کا احترام
30:11برقرار رکھا گیا ہے
30:13وہاں
30:14جانوروں کے ساتھ ساتھ
30:15انسانوں کے ساتھ ساتھ
30:17درختوں کا احترام بھی
30:18رکھا گیا ہے
30:19یہ درخت نہیں کار سکتے
30:21آپ
30:21تو آپ دیکھیں
30:22اسلام کیسا دین ہے
30:23حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں
30:25اگر قیامت ہو جائے
30:27اور کسی کے ہاتھ میں پودا ہو
30:29اور وہ لگا سکتا ہو
30:31تو وہ لگا دے
30:33اس سے بڑھ کر
30:34ماحول دوستی کیا ہو سکتا
30:35اور حج جیسے موقع پر
30:37بندہ عجیب
30:38وارفتگی کی کیفیت میں
30:40اس وقت بھی
30:40ماحول کا احترام
30:41اور آخری بات یہ ہے
30:43کہ
30:44روحانی یکس ہوئی
30:45اور تذکیہ نفس
30:46یعنی
30:47مکمل طور پر
30:48اسلام
30:49متوجہ کر رہا ہے
30:51آپ کو دو انسلی چادروں میں
30:52ڈال کر
30:53کہ آپ
30:54اللہ کی طرف یکس ہو
30:55اللہ کی طرف یکس ہو
30:57تاکہ آپ کو سکون ملے
30:59آپ ان کیفیات کو
31:00محسوس کر سکے
31:02اور جو کردار
31:03اللہ دیکھنا چاہتا ہے
31:04ابراہیم علیہ السلام کی طرح
31:06جس طرح
31:07یعنی یہ
31:07ریسپانس ٹو
31:09ڈیوائین کال ہے نا
31:10حج پر جانا
31:11بلکل
31:11بلکل
31:12اس ڈیوائین کال کے اوپر
31:13اس اعلان حج کے اوپر
31:15اگر آپ نے لبیک کہا ہے
31:17تو پھر
31:18پورے ذوق و شوق
31:19اور
31:19پوری کیفیت
31:21اور وفور
31:22اور عشق کے ساتھ
31:23جو ہے
31:23اس کو محسوس کیا جاتا
31:29آج کا بنیادی موضوع تھا
31:30مقات اور احرام کی حوالے سے
31:32تو ہم دیکھتے ہیں
31:33کہ
31:34مقات میں
31:35جو ہم نے
31:36آج کے اس
31:38پروگرام میں سیکھا ہے
31:39کہ
31:39مقات میں داخلہ
31:41کچھ ببندیاں
31:42عائد کر رہا ہے
31:43احرام کچھ ببندیوں کا نام ہے
31:44اور اس میں
31:45مسلسل انسان
31:47انٹینشنلی جو ہے
31:48وہ اپنے آپ کو رکھتا ہے
31:49کہ یہ نہیں کرنا
31:50یہ کرنا
31:50اس میں بہت ساری چیزیں
31:52جائز بھی ہیں
31:52اور بہت سی چیزیں
31:54آپ کی عادت بھی ہیں
31:55ہاں جی
31:55لیکن ہم اس کو ترک کر دیتے ہیں
31:57مقات میں جیسے داخل ہوتے ہیں
31:58چیزیں چھوڑ دیتے ہیں
31:59اور اسی طرح
32:01ایک اور بات بھی ہے
32:02اگر ہم مقات کو دیکھیں
32:03تو مقات مختلف جگہوں سے
32:05مختلف طرح کے ہیں
32:05مدینہ شریف کا مقات جو
32:07آتا ہے
32:07وہ سب سے بڑا مقات ہے
32:09جو مدینہ المنورہ سے
32:11آتا ہے
32:12پھر یہاں
32:13وہ تقریباً
32:14کوئی چار سو کلومیٹر کے
32:16مدینہ کی
32:17جو حدود ہیں
32:18وہیں سے شروع ہو جاتا ہے
32:19باقی
32:21ریعاز کی طرف سے آئیں
32:22تو وہ تقریباً
32:23چورانوے پچانوے کلومیٹر ہے
32:24یہاں سے
32:25جدہ کی طرف سے جائیں
32:26تو یہاں بھی
32:26تقریباً اسنا ہے
32:27تو یہ لم لم
32:29جو ہے
32:30احرام
32:30جو ہمارا
32:31جو مقات ہے
32:32تو اصل میں
32:33ارز کرنے کا مقصد یہ ہے
32:34کہ یہ پبندیاں
32:35حدود کے اندر
32:36اور لباس کے اندر
32:37یہ کچھ پبندیاں
32:38ہمیں بتا رہی ہیں
32:39کہ ہماری زندگی
32:40اپنی مرضی کی نہیں ہے
32:42بلکہ
32:42اللہ کی مرضی
32:43کے مطابق
32:43گزرنے چاہیے
32:44اور ہمیں
32:45اپنے رحمان کے حکم
32:46کے مطابق
32:47اس مالک کے حکم
32:47کے مطابق
32:48اپنے شووروز
32:49گزرنے چاہیے
32:50اچھا وہ جو خاص
32:51ایام ہے
32:51وہاں ہم
32:52ایک پبندیوں میں
32:54محدود رہے
32:55اور پبندیاں
32:56کرتے رہے
32:56لیکن اب جب
32:57احرام ہم نے
32:58کھول دیا
32:59اور اب ہم
33:00واپس
33:00اپنے اپنے
33:01علاقوں میں
33:01آ رہے ہیں
33:02تو اب ہم نے
33:03پھر وہی
33:04اپنی جو
33:04سوچ اور فکر ہے
33:05اس کو زندہ
33:06رکھنا ہے
33:07کہ بھئی یہ کرنا
33:08یہ نہیں کرنا
33:08جو ہماری مشک کروائی گئی
33:10ہم جو جائز چیزوں
33:11اور اپنی
33:12عادتوں
33:12روز مرہ کی
33:13عادتوں سے بھی
33:14اللہ کے لیے
33:15رک گئے
33:17اب ہمیں
33:17حرام سے بھی
33:18رکنا ہے
33:18وہ اب ہماری
33:19مطلب ایک پریکٹس
33:20ہو گئی ہے
33:20کہ بھئی
33:21اب آپ نے
33:22پہلے تجھے تھا
33:23جو دل میں آیا
33:24کر لیا
33:24لیکن جب اس
33:25خاص وقت سے
33:27اور خاص
33:27ماحول سے
33:28گزر کے
33:29اب ہم واپس آ رہے ہیں
33:30تو اب ہماری
33:31یہ مشک ہو چکی ہے
33:32کہ اب ہم نے
33:32دیکھنا ہے
33:33سوچنا ہے
33:34کہ یہ کرنا ہے
33:35اور یہ نہیں کرنا
33:35تو اب ہماری زندگی
33:36اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم
33:38کی رضا کے مطابق
33:39ہونی چاہیے
33:40تاکہ
33:41ہم اپنے آپ کو
33:43صحیح معنوں میں
33:44وہ جو واپس آ کر
33:45جو ہماری
33:46بلکل پکیزگی
33:47ہو گئی تھی
33:48اور گناہوں سے
33:48پاک ہو گئے تھے
33:49اب وہ سفر
33:50جو ہے وہ آگے
33:50چلتا رہی
33:51بے شک
33:51بے شک
33:52لوگ صاحب
33:53ہم بہت شکریہ آپ کا
33:54لوگ صاحب کے بلاہ
33:55آپ کا بھی بہت شکریہ
33:56شفاقت فریدی صاحب
33:57آپ کا بھی بہت شکریہ
33:58آخر میں کلام پیش کریں گے
33:59ناظرین کلام
34:00یہ یہ خود سپردگی
34:02جو اپنی تمام آدات
34:04اپنے لائف سٹائل
34:05امیر ہے
34:06غریب ہے
34:07سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے
34:08دو چادریں اوڑ کر
34:10خوشبو بھی نہیں
34:11پراغندہ حال
34:13پسینے کی بو کے ساتھ
34:14رب کی بارگاہ
34:15ہمیں پیش ہونا
34:16یہ معمولی
34:18یہ پریکٹس
34:19آپ کو
34:20اس کا عجر معمولی نہیں ہے
34:22یہ رشک ملائک
34:24بنا رہا ہے
34:25بندے کو
34:26انسان کو
34:27یہ عمل
34:28یہ پریکٹس
34:29مقات سے چلا ہے
34:31بلکہ گھر سے
34:31جب سے ارادہ کر کے چلا
34:33اور
34:33اس حالت میں
34:35کہ
34:35سب کچھ چھوڑ دیا
34:37اپنا سب کچھ چھوڑ کر
34:38رب کی بارگاہ
34:40ہمیں لبیک لبیک
34:42کی صدائیں لگا کر
34:43اپنے آپ کو پیش کر دینا
34:45یہ در حقیقت
34:47اللہ کی بارگاہ
34:48ہمیں اسے
34:49قابل فخر
34:50بنا دینا
34:51رشک ملائک
34:52بنا دینا
34:53اور
34:54اللہ رب العزت
34:55فرشتوں کے ساتھ
34:56جب میدان عرفات میں
34:58بندہ گڑ گڑاتا ہے
34:59روتا ہے
35:00آنسو بہا بہا کر
35:01اس سے طلب کرتا ہے
35:04سوال کرتا ہے
35:05تو
35:05اللہ رب العزت
35:06فرشتوں کے سامنے
35:07اس بندے پر
35:09فخر کرتا ہے
35:10انہیں رشک ملائک
35:11بنا دیتا ہے
35:12اور
35:13شیطان کو
35:14زلیل اور رسوہ کرتا ہے
35:16مردود کر دیتا ہے
35:18اور
35:18اس دن شیطان
35:19ان بندوں کی
35:21کیفیت کو دیکھ کر
35:23اور
35:23رب کی
35:24ان پر
35:25رضا اور خوشنودی
35:27کو دیکھ کر
35:28رب کی
35:29عطاؤں اور
35:29رحمتوں کو دیکھ کر
35:31اپنے
35:32سر پر
35:33مٹی ڈالتا ہے
35:34وہاں پر زلیل
35:35اور رسوہ ہو جاتا ہے
35:37یہ عمل
35:38انسان کے لیے
35:39جو عجر ہے
35:40وہ معمولی نہیں ہے
35:42رب کی بارگاہ
35:44ہمیں مقبول کر دینا
35:45رشک ملائک
35:46بنا دینا
35:47یہ عجر ہے
35:48جو رب کی بارگاہ سے
35:50عطا ہوتا ہے
35:51یہ چھوٹی چیزیں
35:53جو ہم انسان
35:54پریکٹس کرتا ہے
35:55اس کے سامنے
35:56کچھ بھی نظر نہیں آتی
35:57جب رب کی عطائیں
35:59اور رحمتیں برستی ہیں
36:00تسلیم احمد صابری
36:02کو اجازت دیجئے
36:02کل انشاءاللہ
36:03اسی پروگرام میں
36:04ایک مرتبہ آپ سے
36:05پھر ملاقات ہوگی
36:06السلام علیکم
36:07تسلیم آہم
36:22لطف کے آفیت کے
36:30سفینے میں ہوں
36:33میں مدینے میں ہوں
36:40میں مدینے میں ہوں
36:49لطف کے آفیت کے
36:57سفینے میں ہوں
37:14ہر قدم
37:16ملک کی رحمت کے
37:22زینے میں ہوں
37:25میں مدینے میں ہوں
37:32میں مدینے میں ہوں
37:40ہو رہا ہے نزول
37:44کرم تم پتم
37:51سامنے ہے حرم
38:05ہو رہا ہے نزول
38:09کرم تم پتم
38:15سامنے ہے حرم
38:20سامنے ہے حرم
38:25علم کے آگہی کے
38:32عزینے میں ہوں
38:35میں مدینے میں ہوں
38:40میں مدینے میں ہوں
38:48علم کے آگہی کے
38:55خزینے میں ہوں
38:58میں مدینے میں ہوں
39:03میں مدینے میں ہوں
39:09مجھ پہ سرور انعیت کی
39:21برسات ہے
39:27مجھ پہ سرور انعیت کی
39:32برسات ہے نات ہی نات ہے
39:40نات ہی نات ہے
39:44نات ہی نات ہے
39:47مد ہے خیر الورا کے
39:52شبینے میں ہوں
39:56میں مدینے میں ہوں
40:10مد ہے خیر الورا کے
40:17شبینے میں ہوں
40:19میں مدینے میں ہوں
40:24میں مدینے میں ہوں
40:30لطف کے آفیت کے
40:36شفینے میں ہوں
40:41میں مدینے میں ہوں
40:45میں مدینے میں ہوں
40:53مدینے میں ہوں
40:55میں ہوں
40:55میں ہوں
Comments