00:00ممبئی کے اس خاص معلوماتی جائزے میں آپ سب کو خوش آمدید، آج ہم ایک انتہائی دلچسپ اور متضاد سفر
00:06پر نکلنے والے ہیں۔
00:07ایک ایسا سفر جہاں ہم شہر کی عظیم الشان اور خاموش تاریخی عمارتوں سے ہوتے ہوئے ممبئی کی گلیوں میں
00:13دھڑکتی، شور مچاتی اور حواس کو بیدار کر دینے والی سٹریٹ فوڈ لائف تک جائیں گے۔
00:19یہ دیکھنا واقعی کمال کا تجربہ ہے کہ کس طرح ایک ہی شہر میں ایک طرف شہانہ ماضی کھڑا ہے
00:25اور دوسری طرف روزمرہ کی تیز رفتار زندگی اپنے پورے اروج پر ہے۔
00:29تو ہمارے اس سفر کا خاکہ کچھ یوں ہوگا۔
00:33ہم شروعات کریں گے عظیم گیٹوے آف انڈیا سے، پھر ماضی کی بازگشت سنیں گے، شہر کے کچھ پوشیدہ ثقافتی
00:40مقامات دریافت کریں گے،
00:41مشہور کھاؤ گلیوں کی سیر کریں گے، وہاں کے لزیز سٹریٹ فوڈز کا جائزہ لیں گے اور آخر میں دکانداروں
00:48سے جڑے ایک اہم انتظامی مسئلے پر بات کریں گے۔
00:51آئیے پہلے حصے سے شروعات کرتے ہیں، یعنی ممبئی کی سب سے نمائیہ اور شاندار علامت، عظیم گیٹوے آف انڈیا۔
00:59ذرا تصور کریں بہیرہ عرب کے بلکل سامنے کھڑی یہ شاندار عمارت کا، جارج وٹٹ کے ڈیزائن کردہ اس شاہکار
01:07میں آپ کو مقامی ہندوستانی انداز اور سولوی صدی کے گجراتی طرز تعمیر کا ایک زبرتست ہمتزاج دیکھنے کو ملے
01:15گا۔
01:15پیلے بسالٹ پتھر اور کانکریٹ سے بنی یہ چھپیس میٹر بلند عمارت فن تعمیر کی ایک ایسی شاندار مثال ہے
01:23جو آج بھی دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی ہے۔
01:25اگر ہم وقت کے پہیے کو تھوڑا پیچھے گھمائیں تو اس مقام کی کہانی بڑی دلچسط ہے۔
01:31انیس سو گیارہ میں اسے برطانوی بادشاہ کنگ جارج پنجم کی آمد کیلئے خاص طور پر تعمیر کرنا شروع کیا
01:37گیا اور انیس سو چوبیس میں یہ مکمل ہوا۔
01:40لیکن تاریخ کا کتنا عجیب اور جذباتی موڑ ہے نا۔
01:44انیس سو ارتالیس میں یہی دروازہ ان آخری برطانوی فوجیوں کے انخلاق کا راستہ بنا جو ہمیشہ کے لیے ہندوستان
01:51چھوڑ کر جا رہے تھے۔
01:52اور اسی لیے ماہرین تعلیم اسے محض ایک امارت نہیں مانتے۔
01:57جواہرلال نہرو یونیورسٹی کی پروفیسر این کمالا کے الفاظ میں یہ امارت دراصل نو آبادیاتی دور اور برطانوی فتح کی
02:05ایک بہت واضح علامت تھی جسے اہم برطانوی شخصیات کے داخلے اور ان کے روب و دب دبے کو قائم
02:12رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
02:14تو اب چلتے ہیں دوسرے حصے کی طرف دیکھتے ہیں کہ آزادی کے بعد یہ برطانوی شناخت کس طرح مقامی
02:22رنگ میں ڈھل گئی؟
02:23یہاں ایک زبردست بسری تضاد دیکھنے کو ملتا ہے۔
02:27آزادی کے بعد جہاں کبھی کنگ جورج پنجم کا مجسمہ نصب ہوا کرتا تھا اسے وہاں سے ہٹا دیا گیا
02:33اور اس کی جگہ 1961 میں مقامی ہیرو چھترپتی شواجی مہاراج کا مجسمہ نصب کر دیا گیا۔
02:40یہ محض کسی مجسمے کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ یہ نو آبادیاتی دور سے نکل کر اپنی مقامی شناخت کو
02:48اپنانے کا ایک بہت طاقتور اور واضحہ پیغام تھا۔
02:51آج اگر آپ وہاں جائیں تو یہ جگہ اپنا وہ شہانہ اور نو آبادیاتی ماضی مکمل طور پر بھولا چکی
02:58ہے۔
02:59اب یہ ایک متحرک عوامی مقام ہے جہاں روزانہ مقامی لوگ اور سیاہ چہل قدمی کرتے ہیں۔
03:06اور دلچسپ بات یہ ہے کہ 2003 سے یہاں یہودی کمیونٹی کے خانوکہ جیسے رنگارنگ تہوار بھی منائے جاتے ہیں۔
03:13یعنی اب یہ جگہ ممبئی کے ثقافتی تنووں کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔
03:18تیسرا حصہ
03:20عظیم و شان امارتوں سے ہٹ کر اب ذرا شہر کی کچھ خاموش اور پوشیدہ ثقافتی کہانیوں پر نظر ڈالتے
03:27ہیں۔
03:27اگر آپ ساحل کی گہما گہمی سے نکل کر تھوڑا اندر رہائشی علاقوں کی طرف جائیں تو آپ کو والکیشور
03:34میں چھپا ہوا یہ بانگنگا ٹینک ملے گا۔
03:37مقامی دیومالائی دستانوں اور روزمرہ کی مذہبی رسومات سے جڑا یہ پرسکون پانی کا زخیرہ ممبئی کی تیز رفتار اور
03:45شور شرابے والی زندگی کے بیچوں بیچ ایک عجیب سا روحانی سکون اور ٹھہراؤ فراہم کرتا ہے۔
03:51اور ممبئی کی ثقافت کی بات ہو اور تارکین وطن کا ذکر نہ ہو ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا۔
03:58شہر کی ثقافت کو شکل دینے میں ممبئی کے تاریخی ایرانی کیفیز کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔
04:04دہائیوں قبل ایرانی تارکین وطن کے لائے ہوئے یہ کیفے آج اپنی مقصود چائے اور کھانوں کے ساتھ اس شہر
04:11کی پہچان اور روزمرہ کی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکے ہیں۔
04:16چوتھا حصہ اور اب ہم داخل ہو رہے ہیں اس شہر کے سب سے لذیذ اور ہنگامہ خیز حصے میں
04:22یعنی ممبئی کی مشہور کھاؤ گلیاں۔
04:25مراتھی زبان کی اس اسطلاح کھاؤ گلی کا مطلب بڑا سیدھا سا ہے کھانے کی گلی لیکن یہ صرف ایک
04:32نام نہیں ہے۔
04:33یہ وہ مقام ہے جہاں رسمی امارتوں کا دائرہ ختم ہوتا ہے اور سڑکوں کی وہ آرزی، ذائکے دار اور
04:39بے پناہ توانائی شروع ہوتی ہے جو مکمل طور پر سٹریٹ فوڈ کے لیے مختص ہے۔
04:44یہی سے شہر کے اصل جمہوری مزاج کا پتا چلتا ہے۔
04:47آپ دیکھیں گے کہ ممبئی کے مختلف علاقوں کا اپنا ایک الگ ہی ذائقہ ہے۔
04:52کارٹر روڈ پر سمندری ہواوں کے ساتھ شوارما اور رولز کا مزہ ہے تو زویری بزار میں چٹپٹی، چاٹ اور
05:00توا پولاؤ کی خوشبو پھیلی ہے۔
05:02محمد علی روڈ چلے جائیں تو وہاں نلی نہاری اور پھرنی کی ریوائیتی دعوتیں آپ کا انتظار کر رہی ہوتی
05:08ہیں اور چورچ گیٹ پر تازہ فش تھالی ملتی ہے۔
05:12ہر علاقہ اپنا ایک منفرد رنگ جماتا ہے۔
05:15پانچوہ حصہ آئیے ان گلیوں کے کچھ سب سے مشہور اور دلفریب ذائقوں کو ذرا قریب سے دیکھتے ہیں۔
05:22یہ مہز آم کھانے نہیں ہے یہ ایک پورا تجربہ ہے۔
05:26فضا میں میکتہ مسالے دار وڑا پاؤ جو ممبے کا اپنا دیسی برگر ہے۔
05:31پھر چٹپٹے پانی سے بھری پانی پوری جسے کھاتے ہی موں میں ذائقوں کا ایک شاندار دھماکہ ہوتا ہے۔
05:38اور یقیناً مکھن سے لبریز گرما گرم پاؤ بھاجی جسے دوستوں کے ساتھ بانٹ کر کھانے کا اپنا ہی ایک
05:44الگ مزہ ہے۔
05:46لیکن بات صرف ان روایتی کھانوں تک ہی محدود نہیں ہے۔
05:49یہاں ایلفنسٹن روڈ کے نت نئے اور رنگ برنگے رینبو سینڈوچز بھی ہیں اور بیرام باگ کی شیرے میں ڈوبی
05:56میٹھی جلیبیاں بھی۔
05:57گنے کے تازہ رس سے لے کر انڈین چائنیز نوڈلز تک سب کچھ موجود ہے اور سب سے کمال کی
06:04بات یہ ہے کہ یہ سارا ذائقہ ہر ایک کی جیب کی پہنچ میں ہے۔
06:08اب ذائقوں کی اس وسیع اور رنگین دنیا کو دیکھ کر ایک بہت ہی اہم اور تھوڑا پیچیدہ سوال ذہن
06:15میں آتا ہے۔
06:16اتنے بڑے پیمانے پر پھیلے اس غیر رسمی نظام کو ان ہزاروں ریڈیوں اور سٹالز کو آخر کوئی تو کنٹرول
06:24کرتا ہوگا۔
06:25یہ سارا نظام چلتا کیسے ہے؟
06:27اور یہی ہمارا چھٹا اور آخری حصہ ہے سٹریٹ فوڈ سے جوڑے کھوانین، دکانداروں کی بحث اور انتظامی چیلنجز۔
06:36اس پورے ایکو سسٹم کو سمجھنے کے لیے ذرا اس نمبر پر غور کیجئے۔
06:40دھائی لاکھ۔
06:42جی ہاں یہ کوئی چھوٹا نمبر نہیں ہے۔
06:44ممبئی کے سڑکوں پر روزانہ کام کرنے والے ہاکرز یا ریڈی والوں کی یہ ایک محتاط تخمینی تعداد ہے۔
06:50یہ اپنے آپ میں ایک بہت بڑی متوازی معیشت ہے جو شہر کی سڑکوں پر روزانہ بچتی اور سمیٹی جاتی
06:56ہے۔
06:56لیکن اب اس کے مقابلے میں ذرا یہ دوسرا نمبر دیکھیں۔
07:00سترہ ہزار
07:01ریپورٹس کے مطابق سڑکوں پر موجود دھائی لاکھ کی اس بڑی تعداد میں سے صرف سترہ ہزار کے قریب دکاندار
07:07ایسے ہیں جن کے پاس منسپیلٹی کے کارامد اور باقاعدہ لائسنس موجود ہیں۔
07:12یعنی باقی کی ایک بہت بڑی اکثریت بغیر کسی رسمی اجازت کے کام کر رہی ہے۔
07:17آداد و شمار کا یہ زبردست فرق کئی شہری مباحثوں کو جنم دیتا ہے۔
07:21ان میں حفظائیں صحت کے خدشات بھی شامل ہیں، بغیر اجازت نامے کے کام کرنے کا قانونی پہلو بھی ہے
07:26اور منسپیلٹی کی طرف سے انصداد تجاوزات کی مہیمات بھی۔
07:31اس کے علاوہ رپورٹس اکثر ان سیاسی تنازیات کی نشاندہی بھی کرتی ہیں جن میں مخصوص گروہوں کے ہاکرز کو
07:37نشانہ بنایا جاتا ہے۔
07:38یہ تمام پہلو مل کر ایک بہت ہی پہچیدہ انتظامی صورتحال پیدا کرتے ہیں۔
07:43تاہم ان تمام قانونی پہچیدگیوں، بحث مباحثوں اور کریک ٹاؤنز کے باوجود ایک بات بالکل واضح ہے وہ یہ کہ
07:51یہ سٹریٹ فوڈ سٹالز ممبئی کی ایک بہت بڑی مجبوری اور ضرورت ہے۔
07:56ہزاروں طلبہ اور دفتر جانے والوں کے لیے یہی دکانیں ان کا روز مرہ کا ڈائننگ روم ہیں۔
08:02اس سستے اور لذیذ کھانے کے بغیر شاید ممبئی کی یہ تیز رفتار زندگی رکھ سی جائے۔
08:08تو آخر میں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ جیسے جیسے یہ شہر مزید جدت اور ترقی کی طرف
08:14بڑھ رہا ہے ان سڑکوں کا مستقبل کیا ہوگا؟
08:18کیا ممبئی کی یہ مشہور کھاؤ گلیاں اور ان کا وہ جمہوری کلچر جدیدیت کی بھینٹ چڑھ جائے گا؟
08:24یا پھر وہ ہمیشہ کی طرح حالات کے سانچے میں ڈھل کر خود کو بچا لیں گے؟
08:29اس اہم اور سوچ بچار طلب سوال کے ساتھ ہمارا آج کا یہ معلوماتی سفر یہیں اختتام پذیر ہوتا ہے۔
Comments