00:00چلیے آج ایک ایسے سنہرے دور کے سفر پر چلتے ہیں جب حیدرباد کے سنگل سکرین سنما گھروں کی ایک
00:06الگ ہی شان ہوا کرتی تھی۔
00:07یہ اس وقت کی بات ہے جب ڈیجیٹل سکرینز نے ہماری زندگیوں پر قبضہ نہیں کیا تھا۔
00:12سمارٹ فونز اور انٹرنیٹ تو دور کی بات ہے۔
00:15اس وقت یہ شاندار سنما گھر محض فلم دیکھنے کی جگہ نہیں تھی بلکہ یہ تو پوری کمیونٹی کے لیے
00:21تفریح اور ملنے جلنے کا سب سے بڑا ساماجک مرکز ہوا کرتے تھے۔
00:25ذرا 1980 کی دہائی کا تصور کریں نا نیٹ فلکس تھا نا یوٹیوب اور ظاہر ہے کوئی انٹرنیٹ بھی نہیں
00:32تو اس وقت فلم دیکھنے کا جو جوش و خروش تھا نا وہ بلکل حقیقی تھا۔
00:37اسے لفظوں میں بیان کرنے کے بجائے محسوس کیا جا سکتا تھا۔
00:40سینما ہال میں ململ کے بھاری پردے کا وہ دھیرے دھیرے اٹھنا وہ واقعی ایک جادوی لمحہ ہوتا تھا جس
00:47کا سب بے سبری سے انتظار کرتے تھے۔
00:50یہ وہ دور تھا جب فلم دیکھنا تنہائی کا نہیں بلکہ ایک بھرپور خاندانی تہوار کا حصہ ہوتا تھا۔
00:57اور ہاں یہ تجربہ صرف سکرین تک تو محدود تھا ہی نہیں یہ تو ان خاص یادوں آوازوں اور ذائکوں
01:03سے جڑا تھا۔
01:04پودینے کی چٹنی والے وہ تھنڈے تھنڈے سینڈویچ، گرما گرم ایک بافس اور ساتھ میں گولڈ سپورٹ کی بوتل کمال
01:11کا کامبینیشن تھا۔
01:12اور کیا سنگیت سینما کی وہ یادیں ذہن میں ہے جب پردہ اٹنے سے پہلے دف فائنل کاؤنٹ ڈاؤن کی
01:18دھن بجا کرتی تھی۔
01:19اس زمانے میں فلم کی تشریر کا اندازیہ لگ تھا، سڑکوں پر اونٹ گاڑیاں فلموں کے بڑے بڑے پوسٹرز لے
01:26کر گزرا کرتی تھی اور کبھی کبھی تو حد ہی ہو جاتی تھی۔
01:29جیسے 1952 کی فلم ساکی کے لیے ایک دیوے ہیکل شخص کو جننی بنا کر سڑکوں پر گھومیا گیا۔
01:36یعنی یہ صرف فلم نہیں تھی، ایک پورا میلا تھا جو انسان کے ہر حساس کو جگہ دیتا تھا۔
01:42لیکن ٹھہریے یہ سب اتنی آسانی سے نہیں ملتا تھا۔
01:46اتوار کی شام کسی بلوک بسٹر فلم کا ٹکٹ حاصل کرنا سمجھے ایک باقاعدہ مشن ہوتا تھا۔
01:52پہلے تو پوری فیملی کو ایک پریمیر پدمنی کار میں بٹھایا جاتا۔
01:57پھر تھیٹر کی طرف جلدی سے نکلا جاتا تاکہ حجوم سے پہلے پہنچ سکیں۔
02:01اور پھر؟
02:02پھر شروع ہوتی تھی گھنٹوں لمبی لائنوں کی عزیت کیونکہ بلیک مارکٹ کے مہنگے ٹکٹوں سے جو بچنا تھا۔
02:08اور یہ جنون کس حد تک جا سکتا تھا اس کی ایک زبردست مثال سنیں۔
02:131952 میں جب دلیب کمار کی فلم آن ہیدراباد کے نیو میجیسٹک سینما میں لگی
02:19تو یقین مانے لوگ ٹکٹ کے لیے رات بھر سڑکوں پر اپنے بستر لگا کر سوئے۔
02:24کچھ تو دور دراز سے بیل گاڑیوں میں آئے۔
02:27وہیں سڑک کنارے کھانا پکایا اور پھر اگلے دن شام جا کر انہیں ٹکٹ نصیب ہوا۔
02:32آج کے اس کلک ان بک والے دور میں تو اس دیوانگی کا تصوب بھی محال ہے۔
02:37اب ذرا ایک نمبر پر غور کریں۔
02:40پچاس
02:40پچاس فٹ کی اونچائی
02:42اس وقت مقامی آٹسٹ اپنے ہاتھوں سے پچاس پچاس فٹ اونچے دیویاکل کٹاؤٹس تیار کرتے تھے۔
02:50فلم زرکا ہو یا کوئی بھی ایکشن فلم یہ بڑے بڑے کٹاؤٹس شہر کی امارتوں سے بھی اونچے کھڑے نظر
02:56آتے تھے اور لوگوں میں ایک زبردست تجسس پیدا کر دیتے تھے۔
03:00یہ صرف پینٹنگز نہیں تھیں یہ باقاعدہ ایک فن تھا جو مقامی فنکاروں کی روزی روٹی کا ایک بہت بڑا
03:07ذریعہ تھا۔
03:08شہر کے کچھ سنیما گھروں کا تو اپنا ہی ایک الگ راوب تھا، مثال کے طور پر سنگیت سنیما۔
03:131994 میں ہیدر آباد میں سب سے پہلے الٹرا سٹیریو آپٹیکل ساؤنڈ یہی آیا تھا اور پتہ وہاں ہم آپ
03:20کے ہیں کون پورا ایک سال لگی رہی۔
03:22پھر لیبرٹی سنیما تھا جو اپنے پرانے اور کلاسک طرز تعمیر اور The Sound of Music جیسی ہولیوڈ کلاسکس کے
03:29لیے مشہور تھا۔
03:30اور سٹرلنگ ان سکائلائن کو کیسے بھول سکتے ہیں؟ زبردست پارکنگ، ارد کرد مشہور کھانے پینے کی جگہ وہاں بیسک
03:37انسٹنگ تقریباً ایک سال تک چلتی رہی۔
03:39یہ جگہ محض ایمارتے نہیں تھیں، یہ شہر کی بہچان بن چکی تھی۔
03:43اور اسی کی دہائی کے مہشوری اور پرمیشوری ٹوین سنیما گھروں کی تو کیا ہی بات ہے؟
03:49ان کی چمک دمک اپنی جگہ لیکن وہاں لگا ایک اسکلیٹر یعنی بجلی سے چلنے والا زینہ خود ایک بہت
03:56بڑا ٹورسٹ اٹریکشن بن گیا تھا۔
03:58ذرا سوچیں اس وقت ہیدر آباد کے عوامی مقامات میں یہ شاید پہلا اسکلیٹر تھا۔
04:04لوگ صرف فلم دیکھنے نہیں آتے تھے بلکہ اس زینے پر چڑھنے کا تجربہ کرنے کے لیے بطور سیاہ کھنچے
04:10چلے آتے تھے۔
04:10لیکن پھر وقت بدلنے لگا اور بدقسمتی سے تفریخ کا یہ سنہرہ دور آہستہ آہستہ اپنے انجام کو پہنچ گیا۔
04:20وہ تاریخی نشانیاں مٹنے لگیں۔
04:22دوہزار آٹھ میں سنگیت سنیما کو زمین بوس کر دیا گیا۔
04:26دوہزار دس میں اسی مہیشوری اور پرمیشوری کو گرا کر ایک کمرشل ملٹی پلیکس کھڑا کر دیا گیا۔
04:32سٹرلنگ اور سکائلائن کی جگہ دوہزار پانچ میں اونچی اونچی امارتوں نے لے لیں اور اوڈین جیسے تاریخی نام کو
04:38بھی ملٹی پلیکس میں بدل دیا گیا۔
04:40یہ صرف اینٹ اور پتھر کی امارتیں نہیں گری تھیں۔
04:43ان کے ساتھ ہی ان بڑے بڑے پوسٹرز بنانے والوں اور کئی مقامی فنکاروں کا روزگار بھی ہمیشہ کے لیے
04:49دفن ہو گیا۔
04:50آج اگر ہم گزرے کل اور آج کا موازنہ کرے تو تفریخ کے معنی ہی بلکل بدل چکے ہیں۔
04:56ایک طرف وہ شاندار مازی تھا جہاں سینیما گھر پورے محلے کا مرکز ہوتے تھے۔
05:01خاندانیں کٹھے ہوتے تھے، مقامی کھانوں کی خوشبو ہوتی تھی اور سیکڑوں لوگ ایک ساتھ مل کر ہیرو کی انٹری
05:08پر سیٹھیاں بجاتے تھے۔
05:09اور دوسری طرف آج کا دور ہے۔
05:12اونچے اونچے کمرشل پلازے، سپاٹ ملٹی پلیکس اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تفریح اب ہماری جیبوں میں رکھے
05:19موبائل کی ایک تنہا سکرین تک سمٹ گئی ہے۔
05:22حجون تو بہت ہے لیکن فلم دیکھنا اب ایک بالکل اکیلا اور تنہا تجربہ بن کر رہ گیا ہے۔
05:29ان معلومات کے آج کے اس تجزیے کے اختتام پر ایک بہت ہی اہم سوال ذہن میں اُبھرتا ہے۔
05:35جب یہ شاندار سینما گھر تجارتی پلازوں کی نظر ہو گئے اور سکرینیں سکڑ کر ہماری جیبوں میں سما گئیں،
05:42تو کیا ایک ساتھ مل کر فلم دیکھنے کا وہ جادوی تجربہ ہمیشہ کے لیے کھو گیا ہے؟
05:48کیا جدید دور کی اس سہولیت نے ہم سے وہ سماجی تہوار چھین لیا ہے؟
05:52اس پر ضرور سوچئے گا۔
05:55ہیدر آباد کے سینماوں کے اس سنہرے دور کے سفر میں ہمارے ساتھ شامل ہونے کا بہت شکریہ۔
06:03ہیدر آباد کے ساتھ شکریہ
Comments