00:00اس معلوماتی جائزے میں خوشہ مدید، اگر ہم کراچی کی بات کریں نا تو ذہن میں فوراں بھونے ہوئے گوشت
00:05کی وہ زبردست خوشپو اور مسالوں کی مہک آ جاتی ہے۔
00:08یہ شہر کھانوں کے دیوانوں کے لیے لفظی طور پر ایک جنت ہے، یہاں کے ذائقے دنیا بھر میں لا
00:14جواب مانے جاتے ہیں۔
00:16اچھا، تو چلیں سیدھا اس میں غوتہ لگاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ آخر ماجرہ کیا ہے؟
00:21تو آج ہم کیا کور کرنے والے ہیں؟
00:23ہم شروع کریں گے اس کھانوں کے دارالحکومت کے ذکر سے، پھر چلیں گے اس کی تاریخی گلیوں اور روایتی
00:29ذائقوں کی طرف، اس کے بعد ساحل اور جدید ڈائننگ کا رخ کریں گے۔
00:34پھر ہم ایک انتہائی اہم پہلو یعنی صحت کے چھپے ہوئے خطرات پر بات کریں گے اور آخر میں آئے
00:40گی ہماری سٹریٹ فوڈ سروائیول گائیڈ تاکہ ان کھانوں کا محفوظ طریقے سے لطف اٹھایا جا سکے۔
00:46تو چلیں بینہ کسی تاخیر کے اپنے پہلے حصے کی طرف بڑھتے ہیں۔
00:52کھانوں کا دارالحکومت
00:54ذرا تصور کریں مسالے دار اور چٹپٹے سٹریٹ فوڈ سے لے کر سمندر کے کنارے والے ان شاندار اور خوبصورت
01:02ریسٹرانٹس تک یہ شہر واقعی کسی مکناطیس سے کم نہیں۔
01:06یہ اپنے زبردست کھانوں کی خوشبو اور ورائٹی سے ہر کسی کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔
01:12یہ مخض کھانا نہیں ہے بلکہ ایک ایسا مکمل حصی تجربہ ہے جو ہر کسی کو ان اصلی اور روایتی
01:19ذائقوں کا دیوانہ بنا دیتا ہے۔
01:21اور اسی کے ساتھ ہم آتے ہیں اپنے دوسرے حصے پر جو شہر کے بلکل دل میں واقع ہے تاریخی
01:28گلیاں اور روایتی ذائقے۔
01:29اب برنز روڈ کی تاریخ دیکھئے۔
01:32انیسویں صدی میں اس کا نام ایک سکوٹش فیزیشن ڈاکٹر جیمز برنز کے نام پر رکھا گیا تھا۔
01:38پھر اٹھارہ سو ستر میں یہ بریٹانوی فوج کا ایک آرٹرلی پریکٹس سینٹر بن گیا۔
01:43لیکن اور یہ چیز بڑی خوبصورتی سے واضح کرتی ہے کہ کیسے وقت کے ساتھ چیزیں بدلتی ہیں۔
01:49انیس سو چالیس کی دہائی میں یعنی قیام پاکستان کے بعد یہ علاقہ جہاں کبھی توپے چلتی تھی وہ ایک
01:56شاندار اور متحرک فوڈ سٹریٹ میں تبدیل ہو گیا جس نے مختلف روایات کو ایک جگہ اکٹھا کر دیا۔
02:03ان گلیوں کے کھانوں کا ذکر ہو تو وحید کباب ہاؤس کو کیسے بھول سکتے ہیں؟
02:07وہاں کے رسیلے سیخ کباب اور کھیری بس دور سے ہی بھوک چمکا دیتے ہیں۔
02:13پھر کیفے لازیز پر وہ بڑے اس سے گرم توے پر کھٹا کھٹ پکتے کھٹا کھٹ کی آواز اور مہک
02:18کمال ہے۔
02:19مزیدار حلیم میں لیمون، تلی، پیاز اور مسالوں کا جو پرفیکٹ بیلنس ہے نا وہ سیدھا دل میں اترتا ہے۔
02:26اور ہاں میٹھے کے لیے دہلی ربڑی ہاؤس کی وہ موں میں گھل جانے والی ربڑی یا پھر فوڈ سینٹر
02:32کی زبردست کلاسک بیف اور چکن بریانی
02:35مطلب یہ سب ایک مکمل پیکج ہے۔
02:37ویسے صرف برنیز روڈ ہی نہیں، حسین آباد اور سندھی مسلم سوسائٹی کا بھی اپنا ہی ایک الگ مزا ہے۔
02:44یہ جگہ بلکل اسی پرانے روایتی اور پرجوش ماہول کو آج بھی زندہ رکھی ہوئے ہیں۔
02:50رات کے دو بچ رہے ہوں اور وہاں گول گپوں کی لا متناہی اقسام، چار کول برگرز اور زائکے دار
02:57نہاری کے ساتھ جو حجوم اور رونک ہوتی ہے وہ واقعی لا جواب ہوتی ہے۔
03:02ایک نہ رکنے والا سلسلہ ہے جو رات گئے تک چلتا ہے۔
03:06اچھا اندرونے شہر کی اس تاریخی رونک کے بعد اب ہم چلتے ہیں اپنے تیسرے حصے کی طرف، ساحل اور
03:13جدید ڈائننگ۔
03:14ان دونوں طرز کے کھانوں کا موازنہ کرنا کافی دلچسپ ہے۔
03:18ایک طرف تو وہ پرانی تاریخی فود سٹریٹس ہیں جسے برنز روڈ اور حسین آباد، دھویں سے بھریوی، بے تہاشا
03:26شور، رات گئے تک کی چہل پہل اور بلکل سڑک کے کنارے بیٹھ کر کھانے کا ایک دیسی مزہ۔
03:32اور دوسری طرف دو دریا اور پورٹ گرینٹ جیسے ساحلی اور جدید مقامات ہیں جہاں بہرہ اے عرب کی تھنڈی
03:39ہوائیں ہیں، ایک بہت ہی پرسکون محول، آلہ درجے کی فائن ڈائننگ اور بڑی منظم قسم کی تفری ہے۔
03:46یہ ایک بلکل ہی الگ اور نفیز دنیا ہے۔
03:49ڈی ایچ اے فیز ایٹ میں یہ جو دو دریا ہے نا یہ دراصل ایک فارسی لفظ ہے جس کا
03:54مطلب ہے دو سمندر۔
03:56یہ ایک بہت ہی منفرد جگرافیہ مقام ہے جو بہیرہ اے عرب سے گھرا ہوا ہے اور ذرا سوچئے لہروں
04:02کی آواز آ رہی ہو،
04:04تھنڈی سمندری ہوا چل رہی ہو اور کوئی کلاچی یا سجاد ریسٹرانٹ جیسے مقامات پر بلکل تازہ سمندری خوراک یعنی
04:11سی فوڈ انجوائے کر رہا ہو۔
04:13یہ فائن ڈائننگ کا ایک الٹرا موڈن اور بہترین تجربہ ہے۔
04:17اور جدید تفریح کی بات ہو تو پورٹ گرانڈ کو بلکل نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
04:22یہ انیسویں صدی کے نیٹیو جیٹی بریج کو دوبارہ تعمیر کر کے بنایا گیا ہے۔
04:26یہاں بہترین کھانوں کے ساتھ سپیڈ بوٹ کی سواری اور لائیو میوزک سب ملتا ہے یعنی تاریخ اور موڈرن دور
04:32کا ایک زبردست ملاب۔
04:34اس کے علاوہ بوٹ بیسن ہے جو اپنے روایتی ناشتوں اور رات گئے ڈیرہ یا نہاری ان کے کھانوں کے
04:39لیے بہت مشہور ہے۔
04:40اور اگر کسی کو انڈور، اے کنڈیشنڈ اور جدید فوڈ کوٹ کا آپشن چاہیے تو دی لکی ون مولک بہترین
04:46انتخاب ہے۔
04:47اور اب ہم اپنے چوتے حصے کی طرف آتے ہیں چھپے ہوئے صحت کے خطرات یہ وہ موڈ ہے جہاں
04:54ہمیں ذرا کلینکل اور سنجیدہ حقائق کا سامنا کرنا پڑے گا۔
04:59اب اس سلائٹ کے حوالے سے جو بات واقعی دلجسپ بلکہ تھوڑی الارمنگ ہے وہ یہ ہے کہ سڑک کے
05:06نارے ٹھیلوں سے کھانا کھانے کی وجہ سے گھر کے کھانے کے مقابلے میں ٹائفائڈ ہونے کا خطرہ پورے پانچ
05:14گناہ بڑھ جاتا ہے۔
05:15جی ہاں پانچ گناہ یہ کوئی سنی سنائی بات نہیں بلکہ ایک ٹھوس طبی حقیقت ہے۔
05:21آغا خان یونیورسٹی کی ریسرچ نے کچھ واقعی چونکہ دینے والے حقائق سامنے رکھے ہیں۔
05:26ان کے مطابق پانی کی سپلائی کا ایٹی فائی فیصد حصہ نقصان دے بیکٹیریا سے آلودہ ہے جبکہ بم مشکل
05:34بارہ فیصد ہی صاف پانی کے ذرائے میں آتا ہے۔
05:36اور خطرے کی بات یہ ہے کہ یہی آلودہ پانی، سڑکوں پر سبزیاں دھونے، مشروبات بنانے اور برف چمانے کے
05:43لیے استعمال ہو رہا ہے۔
05:44مطلب ہم نادانستہ طور پر اس آلودگی کو سیدھا اپنی خوراک کا حصہ بنا رہے ہیں۔
05:48اور اگر لگ رہا تھا کہ یہ کافی پریشان کن تھا تو یہ سنیے جامیہ کراچی کی دو ہزار چوبیس
05:55کی ایک ریسرچ کے مطابق گولا گنڈا بیچنے والوں سے لی گئی برف کے سو فیصد۔
06:00جی ہاں بلکو سو فیصد نمونے آلمی ادارہ صحت کی مکرر کردہ بھاری دھاتوں کی حفاظتی حد کو پار کر
06:07چکے تھے۔
06:07یہ کوئی معمولی بات نہیں، ذرا کلنیکل ڈیٹا کے مزید تفصیلات دیکھیں۔
06:12سٹریٹ فوڈ بیچنے والے 9.1 فیصد لوگ تو ٹائ فائٹ کے خاموش کیریئرز ہیں۔
06:18یعنی ان میں بظاہر کوئی بیماری نہیں ہوتی لیکن وہ جراسیم پھیلارے ہوتے ہیں۔
06:23گنے کے رس کے 75 فیصد نمونے ای کولائے یعنی ای کولے سے آلودہ پائے گئے۔
06:29اور وہ جو ہم اتنے شوق سے پانی پوری کھاتے ہیں نا، اس کے 51 فیصد نمونوں میں انتہائی خطرناک
06:35فضلے کی آلودگی ملی ہے۔
06:37یہی وجہ ہے کہ 2016 سے اب تک انٹی بائیوٹک سے بھی ٹھیک نہ ہونے والے ایکس ٹی آر ٹائ
06:43فائٹ کے پندرہ ہزار سے زیادہ کیسز آ چکے ہیں۔
06:46یہ سیدھا سیدھا ہیپیٹائیٹس اے، ہیزہ اور گیسٹرو کا دعوت نامہ ہے۔
06:50تو پھر کیا کھایا جائے اور کن چیزوں سے بچا جائے؟
06:53مشہور گیسٹرو انٹرولوجسٹ ڈاکٹر محمد علی تاج نے ایک بڑی زبردست کلینکل رسک مائپنگ کی ہے۔
06:59مثال کے طور پر گولا گنڈا جس میں آلودہ برف اور مصنوعی رنگ ہوتے ہیں اس سے بچیں اور سیل
07:05بند بوتل والے مشروبات استعمال کریں۔
07:07کچھی سلاد والے بن کبارب کے بجائے صرف فرائٹ پیٹی اور ٹوست کی ہوئے بن والا برگر لیں۔
07:13پانی پوری یا گول گپوں سے دور رہیں اور ان کی جگہ گرما گرم تازہ تلے پھر پکوڑے یا سموز
07:18سے کھائیں۔
07:18اسی طرح ڈسپلے میں رکھی نیم گرم حلیم کے بجائے وہ حلیم لیں جو چولے پر باقاعدہ اُبل رہی ہو۔
07:24اور تازہ جوسز اور کھولی چٹنیوں کے بجائے وہ ثابت پھل کھائیں جنہیں ہم نے خود چھیلا ہو۔
07:29کتنا سمپل اور پریکٹیکل ہے نا؟
07:31تو اسی کے ساتھ ہم بڑھتے ہیں اپنے آخری اور سب سے اہم حصے کی طرف ہماری سٹریٹ فود سروائیول
07:38گائیڈ یعنی ان گلیوں میں جا کر صحت مند کیسے رہنا ہے؟
07:42اس پوری بحث کا ایک سنہری اصول ہے جو ڈاکٹر محمد علی تاج نے دیا ہے اور اسے تو بالکل
07:48پلے باندھ لینا چاہیے۔
07:50گرما گرم، تازہ پکاوا کھانا کسی بھی کچھے یا تھنڈے کھانے سے ہزار درجے زیادہ محفوظ ہے۔
07:57سیدھی سی بات ہے شدید حرارت وہ واحد چیز ہے جو ان تمام نقصاندے بیکٹیریا کا مکمل خاتمہ کر سکتی
08:03ہے۔
08:04آئیے آگے بڑھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ کیسے آگے چلتا ہے اور کیسے ایک مکمل حفاظتی حسار بناتا
08:11ہے۔
08:11اگر بیماریوں سے بچنا ہے تو یہ تین واضح قدم اٹھانے ہوں گے۔
08:15پہلا قدم، ہمیشہ ایسے دکاندار کا انتخاب کریں جہاں گاؤں کا بے تہاشا رش ہو۔
08:21رش کا مطلب ہے کھانا جلدی بک رہا ہے اور باسی نہیں پڑا۔
08:25دوسرا قدم، اس بات کو یقینی بنائیں کہ کھانا بلکل تازہ اور گرمہ گرم تیار ہو کر پیش کیا جا
08:31رہا ہو۔
08:32اور تیسرا قدم، کچھی سلاد، کھلی چٹنیوں اور کسی بھی قسم کی برف سے سو فیصد بچنا ہے چاہے کچھ
08:39بھی ہو جائے۔
08:39لیکن فرض کریں کہ اگر کوئی دبی مسئلہ پیش آ ہی جائے تو ایک میڈیکل بیکپ پلان ضرور ہونا چاہیے۔
08:47سب سے پہلے ٹائفائیڈ اور ہیپیٹائیٹس اے کی ویکسینیشن پہلے سے کروالیں۔
08:55سینٹائزر رکھیں اور اسے باقاعدگی سے استعمال کریں۔
08:58او آر ایس، او آر ایس کے پیکٹ ایمرجنسی کے لیے پاس ہونے چاہیے۔
09:02اور خدا نہ ہاستہ اگر بخار ایک سو دو ڈگری یعنی انتالیس ڈگری سنٹی گریڈ سے اوپر چلا جائے
09:08یا جس میں پانی کی شدید کمی محسوس ہوں تو گھر پر ٹوٹکے کرنے کے بجائے فورن میڈیکل ہیلپ لیں۔
09:14تو اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ کیا محفوظ کھانے کی یہ سارے سائنسی اور طبی راز جاننے کے بعد
09:20بھی
09:21کراچی کی ان تاریخی فورٹ سٹریٹس کے نا قابل مضاحمت ذائقوں کی طرف جانا کوئی سمجھداری کا سودا ہے؟
09:27سچ پوچھیں تو، اس شہر کے کلچر، اس کی رونک اور ذائقے کا واقعی کوئی نیمل بدل نہیں۔
09:32ہم بلکل ان شاندار کھانوں کا بھرپور لطف اٹھا سکتے ہیں، بس شرط یہ ہے کہ احتیاط اور صحیح طبی
09:37معلومات ہمیشہ ہمارے ساتھ ہوں۔
09:39یہ تھا ہمارا آج کا تفصیلی جائزہ، امید ہے یہ معلومات اگلے فورٹور کو مزید محفوظ اور شاندار بنائیں گی۔
Comments