00:26Alhamdulillahi Rabbil Alameen
00:55Alhamdulillahi Rabbil Alameen
01:05Alhamdulillahi Rabbil Alameen
01:46Alhamdulillahi Rabbil Alameen
02:09Alhamdulillahi Rabbil Alameen
02:30Alhamdulillahi Rabbil Alameen
02:48Alhamdulillahi Rabbil Alameen
02:51Alhamdulillahi Rabbil Alameen
03:14Alhamdulillahi Rabbil Alameen
03:41Alhamdulillahi Rabbil Alameen
03:54Alhamdulillahi Rabbil Alameen
04:15Alhamdulillahi Rabbil Alameen
04:49Alhamdulillahi Rabbil Alameen
04:59Alhamdulillahi Rabbil Alameen
05:44Alhamdulillahi Rabbil Alameen
05:52Alhamdulillahi Rabbil Alameen
06:13Alhamdulillahi Rabbil Alameen
06:26Alhamdulillah
06:27Alhamdulillahi Rabbil Alameen
06:34Alhamdulillahi Rabbil Alameen
06:38Alhamdulillahi Rabbil Alameen
06:49Alhamdulillahi Rabbil Alameen
06:51Alhamdulillahi Rabbil Alameen
07:12Alhamdulillahi Rabbil Alameen
07:19Alhamdulillahi Rabbil Alameen
07:21Alhamdulillahi Rabbil Alameen
07:22Alhamdulillahi Rabbil Alameen
07:22Alhamdulillahi Rabbil Alameen
07:22Alhamdulillahi Rabbil Alameen
07:22Alhamdulillahi Rabbil Alameen
07:23Alhamdulillahi Rabbil Alameen
07:23Alhamdulillahi Rabbil Alameen
07:24Alhamdulillahi Rabbil Alameen
07:27Alhamdulillahi Rabbil Alameen
07:29Alhamdulillahi Rabbil Alameen
07:42but in the days of the parents of God's friendship Monet, we will have much greater confidence in our chatting,
07:48in the days of the reality of God himself will be found with us.
07:52So when we have that
07:54in fact…
07:54So our full body, the aika, God has the side of us.
07:59We still need to hear it.
08:02We have made a 4時間.
08:05Our body has been on earth,
08:07looks at the ora,
08:14Allah Akbar
08:39کہ مدینہ شریف سے دور کے علاقوں میں قبائل میں یہ بدو لوگ رہتے تھے
08:43لیکن بہرحال یہ بدو کبھی کبھی آتے تھے
08:45نبی علیہ السلام تعلیم فرماتے تھے
08:47ان کی دل جوئی بھی فرماتے تھے
08:49البتہ کیونکہ عدب ذرا ملحوظ خاطر کم رکھتے تھے
08:52تربیت کا موقع ان کو زیادہ نہیں ملا تھا
08:54ایک بدو آیا اس کی کوئی حاجت کا معاملہ تھا
08:57اور اللہ کے نبی علیہ السلام کی چادر
08:59اس نے بڑی زور سے پکڑا اور کھینچا ہے
09:01اور کہا میری حاجت کو پورا کیجئے میری ضرورت کو پورا کیجئے
09:04بڑی سختی کے ساتھ اس نے اللہ کے رسول علیہ السلام کی چادر کو کھینچا
09:08مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی سختی کا اظہار نہیں کیا
09:12اس سختی کے جواب میں اس بدسلوکی کے جواب میں سختی نہ کی بلکہ اس کی حاجت کو اللہ کے
09:19نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا بھی فرمایا
09:22یہ وہ پیغمبرانہ اخلاق ہیں جن کی ہمیں تعلیم دی گئی ہے
09:25کہ جو تم پر سختی کرے تم اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرو جو تمہیں تکلیف پہنچا ہے تم
09:30اس کو راحت پہنچانے کی کوشش کرو
09:32جو تمہیں برا کہے تم اس کو دعا دینے کی کوشش کرو اور اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم
09:38نے صرف یہ کہہ کر نہیں دکھایا
09:40بلکہ کر کے دکھایا ہے اور اس بددور کی سختی کو نبی علیہ السلام نے جھیلہ برداش کیا
09:46اور اس کا کوئی برا نہ منایا بلکہ غصے کا ادھار بھی نہ کیا نہ کوئی ریٹائلی ایٹ کیا
09:51انہوں کو اس کے ساتھ جواباً سختی کی بلکہ اس کے ساتھ اللہ کے رسول علیہ السلام نے نرمی کا
09:56معاملہ کی
09:57اور ایسے واقعات ایک سے زائد مرتبہ ہمارے سامنے سیرک کی کتابوں میں آدھے جن کا حاصل یہی ہے
10:03کہ لوگوں کی سختی کو اللہ کے نبی علیہ السلام نے جھیلہ ہے برداش کیا ہے اور صبر کا مظہرہ
10:08کیا
10:09بنا آپ خور کیجئے اللہ کے رسول علیہ السلام کو ایک اشارہ ہوتا
10:12صحابہ کیا سے کیا نہ کر دیتے اس بددو کے ساتھ لیکن نہیں
10:15طاقت بھی ہاتھ میں ہے اختیار بھی ہاتھ میں ہے سب کچھ کرنے کے لیے آپ کے پاس اختیار موجود
10:21ہے
10:21کچھ اقدام کرنے کے لیے اختیار موجود ہے اس فرد کے خلاف کوئی ایکشن لینے کے لیے اختیار موجود ہے
10:26لیکن نہیں آپ صلی اللہ علیہ السلام نے اس سختی کو برداش کیا ہے
10:31گزرتے گزرتے سڑکوں پر کبھی بازاروں میں کبھی تقاریب کے موقع پر کبھی ایسا ہو سکتا ہے
10:36کوئی ہمارا کپڑا پکڑ لے کوئی ہمارا کپڑا کھینچ لے
10:39تو ذرا یاد کر لیجئے گا
10:41لقد کان لکم فی رسول اللہ عصوة حسن
10:44یقین تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ موجود ہے
10:49اللہ مجھے بھی عمل کی توفیق عطا فرمائے
10:51میں بھی آپ کے سامنے بڑی بات پیش کر رہا ہوں
10:53اور سب سے بڑی بات ہے ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
10:56مگر میرے لئے بھی نمونہ اور آپ کے لئے بھی نمونہ
10:59ہم غور کریں یہ صیرت کا بیان فقط بیان کے لئے تھوڑی
11:02یہ صیرت کا متعلق صرف متعلق کے لئے تھوڑی
11:04یہ صیرت کا کانٹنٹ صرف ریلے کر دینے کے لئے
11:07نشر کر دینے کے لئے تھوڑی
11:08یہ کانٹنٹ اس لیے ہے
11:10یہ مواد اس لیے ہے
11:11یہ بیان اس لیے ہے
11:13ہماری زندگیوں میں اس کا کوئی ریفلیکشن نظر آئے
11:16کوئی اثر نظر آئے
11:17اللہ مجھے آپ کو ہم سب کو عمل کی توفیق دے
11:19تیسری بات کی طرف چلتے ہیں
11:21اللہ کی راہ میں نبی علیہ السلام پر
11:23کیسی کیسی سختیاں آئیں
11:24دشمنان دین نے کفار مکہ نے
11:26کیسی سختیاں آپ کے ساتھ کی ہیں
11:29یہ ذرا غور کیجئے
11:30تیسرا نقطہ سجدے کی حالت میں
11:32اقبہ بن ابی معید کا اوجری ڈالنا
11:35اللہ اکبر
11:36اللہ کے نبی علیہ السلام بیت اللہ شریف کے پاس
11:39نماز ادا کر رہے ہیں
11:40اور ابو جہل و دی کے سرداران قریش بھی موجود ہیں
11:42مداق اڑاتے تھے معاد اللہ
11:45اور استہزا کرتے تھے
11:46ٹانٹنگ کرتے تھے تنس کے تیر برساتے تھے
11:49اور زبانی بدکرامی سے آگے بڑھ کر
11:51کبھی جسمانی تکلیف پہنچانے کے بھی درپے ہوتے تھے
11:54ابو جہل نے کہا کون ہے
11:56جو جا کر یہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:00سجدے میں ہوں
12:01اور جا کر اوجری ڈال دے اونٹ کی
12:03اللہ اکبر
12:04بھر آپ کو پتا ہے اونٹ کتنا بڑا جانور ہے
12:06اور اوجری کس قدر بدبول بھی اس میں آ رہی ہوتی ہے
12:09اور وہ بھی اونٹ کی اوجری ہو
12:11اللہ اکبر کبھی آرہ
12:12اللہ کے رسول حالت سجدہ میں
12:14اور اقبہ بن ابی معید
12:16اس بدبخ نے آ کر اونٹ کی اوجری
12:18آپ کے جسمیں اتھر پر ڈالی
12:21عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں
12:23کہ ہم تو کمزور تھے
12:24ہم کچھ کر نہ سکے
12:26اور یہ اونٹ کی اوجری کو بیمی فاطمہ
12:28تو زہرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے آ کر صاف کیا ہے
12:33یہ اللہ کے رسول پر بیتی ہے بات
12:35جس خان کعبہ کا آج
12:37حاجی حج کے موقع پر اور عمرے کے موقع پر
12:39تواف کرتے ہیں
12:41اسی مقام پر یہ سب کچھ
12:42اللہ کے رسول علیہ السلام پر بیتا ہے
12:44وہ تواف کرتے ہوئے
12:46وہ حرم شریف کو دیکھتے ہوئے
12:47ویت اللہ شریف کو دیکھتے ہوئے
12:49وہ مطاف کے سہن کو دیکھتے ہوئے
12:51تواف کرنے کی کیفیت کو دیکھتے ہوئے
12:53کبھی یہ آپ بھی رکھیں
12:54یہاں پر کیا کچھ اللہ کے رسول علیہ السلام پر بیتا ہے
12:57اللہ کے دین کی دعوت
12:59اور اللہ کے دین کی نفاظ کے جد و جہد کے دوران میں
13:02تب ساری مشقتوں کے بعد
13:04اللہ کا دین غالب ہوا
13:06جس کے طفیل میں اور آپ آج مسلمان ہیں
13:08اللہ نبی مکرم علیہ السلام
13:10مکرور حکرور درود بھیجے
13:11یعنی رحمت نادل فرمائے
13:13سلامت نادل فرمائے
13:14ان کے دراجات کو بدن فرمائے
13:15تو یہ اقبہ بن ابی معید نے آ کر
13:17یہ اونٹ کی اوجڑی ڈالی ہے
13:19اور یہ سب کچھ برداشت کیا ہے
13:21اللہ کے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
13:24نے ذہن میں رکھیے گا
13:25چوتی بات
13:26عام الحزن
13:27ہم سب جانتے ہیں
13:28عام کہتے ہیں عربی میں
13:29سال کو
13:31عام الفیل
13:31فیل کسے کہتے ہیں
13:32سورہ فیل
13:33ہاتھی کو
13:34ہاتھیوں والا واقع جس سال پیش آیا
13:36اسی سال حضور کی
13:37جہاں ولادت با سعادت ہے
13:38صلی اللہ علیہ وسلم
13:39عام الحزن کیا ہے
13:41غم کا سال
13:42اللہ اکبر کبیرہ
13:43محبت کرنے والی
13:44آپ کی زوجہ مطرمہ
13:45بیوی خدیجہ
13:46رضی اللہ عنہ
13:47کا انتقال ہوا ہے
13:48اور آپ کا ساتھ دینے والی
13:49آپ کے چچا ابو طالب
13:51ان کا بھی انتقال ہوا ہے
13:52پیدر پہ یہ بڑے حادثات
13:54اللہ کے نبی علیہ السلام کو پیش آئے
13:56یہ بڑے حادثات ہیں
13:57یعنی بڑے سبر کے مواقع ہیں
13:58اور بہاراً اس سال کو
14:00عام الحزن
14:00غم کا سال بھی قرار دیا گیا
14:02ظاہر کے اعتبار سے
14:03بڑا ساتھ دیئے
14:04جناب ابو طالب نے
14:05اور بیوی خدیجہ
14:06رضی اللہ عنہ
14:07کو تو حضور اکرم
14:08صلی اللہ علیہ وسلم
14:09بعد میں بھی یاد رکھتے تھے
14:10جب کسی زوجہ محترمہ
14:12نے کہا کہ
14:12آپ تو ان کو یادی رکھتے ہیں
14:13تو اللہ کے نبی
14:14صلی اللہ علیہ وسلم
14:16رشاد فرمائے
14:17کیوں نہ خدیجہ کو یاد رکھوں
14:18انہوں نے میری مدد کی
14:19اللہ کے فضل و کرم سے
14:20جو میرا ساتھ کوئی نہیں دیتا
14:22تو خدیجہ نے میرا ساتھ دیا
14:24اور میرے کام میں
14:24وہ شریک رہی
14:25اور اللہ نے ان کے ذریعے سے
14:27مجھے اولاد عطا فرمائی
14:29یہ ہے جو اللہ کے رسول علیہ وسلم
14:31بیوی خدیجہ رضی اللہ عنہ
14:33کو یاد رکھتے تھے
14:34غور کیجئے گا
14:35ظاہری طور پر کوئی بڑا ہو
14:37جو یعنی رشداروں میں سے ہو
14:39قریبی لوگوں میں سے ہو
14:40ظاہر کے اعتبار سے
14:41سحارہ بنتا ہو
14:42تو بندے کو ایک حمد میں
14:44اثر آتی ہے
14:44لیکن اللہ تعالیٰ نے
14:46بیوی خدیجہ کو بھی
14:46واپس بلا دیا
14:47جناب ابو طالب کا بھی
14:48انتقال ہو گیا
14:49اور اس حبر کی کیفیت سے
14:51اللہ کے رسول مکرم
14:52صلی اللہ علیہ وسلم
14:54بہرحال گزرے ہیں
14:55ناظر کرام
14:56یہ سے بیان کے لئے نہیں ہیں
14:57ہمارے ساتھ بھی
14:58واقعات پیش آسکتے ہیں
14:59گھر کے افراد کا انتقال ہو سکتا ہے
15:01قریبی لوگوں کا انتقال ہو سکتا ہے
15:03ساتھ دینے والوں کا انتقال ہو سکتا ہے
15:10ہمیں بھی تو مرنا ہے
15:11لیکن جب یہ کیفیات آئیں
15:12تو لقد کان لکم فی رسول اللہ
15:14اسوطن حسنا
15:15یقیناً تمہارے لئے
15:17رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں
15:19بہترین نمونہ موجود ہے
15:20ایک اور واقعہ
15:21پانچوہ واقعہ
15:22عاشق نشست کا آپ کے سامنے رکھتے ہیں
15:24اور وہ شعب ابی طالب کا
15:25تین برس کا محاصرہ
15:27شعب وادی کو کہتے ہیں
15:28اور مکہ والوں نے بڑا پریشر ڈالا
15:31اور نبی اکرم علیہ السلام کے خاندان
15:32بنو حاشم کا
15:33سوشل بائیکاٹ کیا
15:35ہاں
15:36اللہ کے نبی علیہ السلام کی دعوت توہید پھیل رہی تھی
15:38اور لوگ دعوت توہید کو قبول کر رہے تھے
15:40اور کچھ مثال ایسی سامنے آ چکی تھی
15:42کہ لوگ جان دینے کو تیار تھے
15:44لیکن اللہ کے رسول مکرم علیہ السلام کی دعوت
15:46اور ان کے کلمے کو چھوڑنے کو تیار نہیں تھے
15:48مشیقین کی سمجھ میں نہیں آتا تھے
15:50کریں تو کیا کریں
15:51تو ان سارے قبائل نے مل کر
15:53اور ان کی شاخوں نے مل کر
15:54یہ ارادہ کیا
15:56بلکہ اس کا ایگزیکیوشن کا معاملہ ہوا
15:57کہ بنو حاشم کا معاشی طور پر
16:00معاشرتی طور پر مقاتعہ کیا جائے گا
16:02بائیکاٹ کیا جائے گا
16:04ان سے خرید و فروغ نہیں کریں گے
16:05ان کے اپنے شادی بیعہ کا معاملہ نہیں کریں گے
16:07اور ان کو شیع ابی طالب میں
16:10محصور کر دیا گیا
16:11تین برس کا معاملہ ہے
16:12بہت کم اس کا تذکرہ
16:14احادیث کی کتابوں میں
16:15یا صیرت کی کتابوں میں ملتا
16:16بہت کم ملتا ہے
16:17البتہ تین برس کوئی کم بات نہیں ہوا کرتی
16:21ان تین برسوں کے دوران میں
16:22اللہ کے نبی علیہ السلام
16:24اور آپ کے خاندان والوں
16:25بڑی مشقت کے حالات گدرے ہیں
16:26اور کہا جاتا ہے
16:27کہ سوکے پتھے کھا کر
16:28جو ہے وہ گزارہ کیا جاتا تھا
16:30سوشل بائیکارڈ بھی تھا
16:31اور ایکنومک بائیکارڈ بھی تھا
16:33معاشرتی بائیکارڈ بھی تھا
16:34اور معاشی بائیکارڈ بھی تھا
16:35یہ ساری مشقتیں
16:37رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
16:39نے جھیلی ہیں
16:40اور تب اللہ کا دین
16:41مشتق اور آپ تک پہنچا ہے
16:43یہ پانچ باتیں
16:43آج میں نے آپ کے سامنے رکھی ہیں
16:45آج کا سبق
16:46اس کی طرف توجہ کرتے ہیں
16:47آج ہم نے پانچ باتیں
16:48رسول اکرم علیہ السلام کے
16:50اسوہ حسنہ سے
16:51سبر کے تعلق کے
16:52حوالے سے ہم نے سمجھی ہیں
16:53پہلی بات
16:54اولاد کی وفات پر
16:55سبر کا پہلو
16:56نمبر دو
16:57ایک بددو کی بسلوگی پر
16:58اللہ کے رسول کا سبر
16:59نمبر تین
17:00سجدے کی حالت میں
17:01اوٹ کی اوجڑی کا
17:03ڈالا جانا
17:04اللہ کے رسول کا سبر
17:05نمبر چار
17:06غم کے سال میں
17:07بی بی خدیجہ کا انتقال
17:08جناب ابو طالب کا انتقال
17:09حضور کا سبر
17:10صلی اللہ علیہ وسلم
17:11اور نمبر پانچ
17:12شیب ابو طالب میں
17:12تین برس کا محاصرہ
17:14سبق کیا ہے
17:15سبق یہ ہے کہ
17:16آج ہم کن بات اوپر
17:17پریشان ہوتے ہیں
17:18بھائی اے پنکھا لگاوا ہے
17:20ایسی نہیں ہے گھر میں
17:22ایسے ہی ہے نا
17:23جی
17:23مڑا سیگل نہیں ہے
17:25بس میں جانا پڑتا ہے
17:26ایسے ہی ہے نا
17:27تو پریشانی تو ہے
17:28اس کی میں نفی نہیں کرتا
17:29جس کے پاس
17:30ٹانگیں نہ ہو
17:32تو ذرا غور کر لیں
17:33اور جس کے پاس
17:34چھتی نہ ہو
17:34تو ذرا غور کر لیں
17:36ہمیں بی بی فاطمہ
17:37تو زہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
17:38نے فرمایا
17:39جب مشکلات تمہیں پریشان کریں
17:41محصائب تمہیں پریشان کریں
17:42تو ہمارے اباجان
17:43رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
17:45کو یاد کر لیا کرو
17:46اللہ کے راہ میں
17:47حضور نے خود فرمایا
17:48صلی اللہ علیہ وسلم
17:49اللہ کی راہ میں
17:50جتنا مجھے ستایا گیا
17:51اتنا کسی کو بھی نہیں ستایا گیا
17:53لقد کان لکم فی رسول اللہ
17:55اس وطن حسن
17:56یقینا تمہارے لئے
17:57رسول اللہ علیہ السلام کی زندگی میں
17:59بہترین نمونہ موجود ہے
18:00اگر وہاں نگاہ ہوگی
18:02اور ہم اپنے حالات میں
18:03گرد و پیش میں دیکھیں گے
18:04تو بہت سے مقامات پر
18:06جہاں صبر کرنا ہے
18:07انشاء رہاں صبر آ ہی جائے گا
18:09اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو
18:10رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
18:12کی مبارک تعلیمات کو سیکھنے
18:14سمجھنے
18:14ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
18:16آمین یا رب العالمین
18:18و آخر دعوانا
18:19ان الحمدللہ رب العالمین
18:20والسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Comments