Roshni Sab Kay Liye
Watch All The Episodes ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xic1NLGY05O7GY70CDrW_HCC
Topic: Khan e Kaba
Host: Khana-e-Kaba
Guest: Mufti Muhammad Sohail Raza Amjadi, Mufti Zaigham Ali Gardezi
#RoshniSabKayLiye #islamicinformation #ARYQtv
A Live Program Carrying the Tag Line of Ary Qtv as Its Title and Covering a Vast Range of Topics Related to Islam with Support of Quran and Sunnah, The Core Purpose of Program Is to Gather Our Mainstream and Renowned Ulemas, Mufties and Scholars Under One Title, On One Time Slot, Making It Simple and Convenient for Our Viewers to Get Interacted with Ary Qtv Through This Platform.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch All The Episodes ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xic1NLGY05O7GY70CDrW_HCC
Topic: Khan e Kaba
Host: Khana-e-Kaba
Guest: Mufti Muhammad Sohail Raza Amjadi, Mufti Zaigham Ali Gardezi
#RoshniSabKayLiye #islamicinformation #ARYQtv
A Live Program Carrying the Tag Line of Ary Qtv as Its Title and Covering a Vast Range of Topics Related to Islam with Support of Quran and Sunnah, The Core Purpose of Program Is to Gather Our Mainstream and Renowned Ulemas, Mufties and Scholars Under One Title, On One Time Slot, Making It Simple and Convenient for Our Viewers to Get Interacted with Ary Qtv Through This Platform.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:07selam
00:30پیش کیا جا رہا ہے پروگرام
00:31روشنی سب کے لئے
00:33it is quite unfortunate
00:35کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دیگر جو
00:37مذاہب ہیں اس کے جو ماننے والے ہیں
00:40اپنے دین کی
00:41اپنے مذہب کی جو history ہے
00:43اس کی بہت زیادہ knowledge رکھتے ہیں
00:45بہت awareness رکھتے ہیں
00:47لیکن unfortunately بدقسمتی سے
00:49دینِ اسلام کی بات کریں
00:51تو ہم اللہ
00:53ماشاءاللہ ہم دیکھیں
00:54چھوٹے بڑوں سے سوالات کریں
00:56اسلامی ہسٹری پر
00:58تو اللہ ماشاءاللہ لیکن اکثریت
01:01آپ کو بے بہرہ نظر آئے گی
01:03اور ناواقف نظر آئے گی
01:05اور وہ awareness وہ knowledge
01:07جو کہ basic knowledge ہے
01:09fundamental knowledge ہے
01:10foundational knowledge ہے
01:11اسلامی ہسٹری کی
01:12وہ ہمیں پتا نہیں ہوتی
01:13تو اے آر وائی کیو ٹی وی خاص طور پر
01:15اس انداز سے کوشش کرتا ہے
01:17کہ آپ تک دینِ اسلام کی
01:19خاص طور پر تاریخ جو اسلام کی ہے
01:21قرآن اور حدیث کے حوالوں کے ساتھ
01:24اس انداز سے
01:25credible authentic information آپ تک پہنچے
01:28کہ بحیثیتِ مسلمان آپ کو یہ awareness ملے
01:30آج ہسٹری کے جو ابواب
01:32ہمیں نظر آتے ہیں
01:33اس میں ایک اہم ترین باب
01:35یعنی کہ خانہِ کعبہ
01:37جس کا تعلق اسلامی ہسٹری کے ساتھ ہے
01:39اور یقیناً
01:40کائنات میں جتنے گھر ہیں
01:42ان تمام گھروں میں
01:43سب سے قیمتی
01:44سب سے افضل ترین گھر
01:46کیونکہ یہ کسی انسان کا نہیں
01:48بلکہ یہ اللہ کا گھر ہے
01:50خالقِ کائنات کا گھر ہے
01:52بادشاہوں کے بادشاہ کا گھر ہے
01:54اور ایسا گھر
01:55کہ جس کی آپ روحانی برکتیں
01:57اگر دیکھیں
01:58دنیا بھر میں
01:59آپ جس گھر میں رہتے ہوں
02:00آپ گھر میں موجود ہوں
02:02مسجد میں موجود
02:03اگر نماز عدا کریں گے
02:04تو آپ کا رخ
02:05اس خانہِ کعبہ کی طرف ہونا چاہیے
02:07ورنہ آپ کی نماز
02:09قابلِ قبول نہیں ہے
02:10اسی طرح آپ حج کریں
02:12عمرہ کریں
02:13جو مرکزی مقام ہے
02:15وہ یہ خانہِ کعبہ ہے
02:16یعنی کہ یوں کہیے
02:18کہ جو کعبہ ہے
02:19کعبت اللہ
02:19یہ مثلِ شما ہوا کرتا ہے
02:22اور جو بندگانِ خدا ہیں
02:23یہ مثلِ پروانہ
02:25اس کا تواف کرتے ہوئے
02:26اللہ کی رحمانیت
02:28اور اللہ کے جلال کا
02:30اللہ کی قدرت کا
02:31اقرار کرتے ہیں
02:32اللہ کی وحدانیت کا
02:33اظہار کرتے
02:34نظر آتے ہیں
02:35اور جغرافیا
02:36ہی لحاظ سے بھی دیکھیں
02:37تو ریسرچس ہمیں یہ بتاتی ہیں
02:39کہ اس پوری کائنات کا
02:40اگر آپ جغرافیا دیکھیں
02:42تو جو سینٹر پوائنٹ
02:43ہمیں نظر آتا ہے
02:44وہ اللہ کا گھر
02:45یعنی بیت اللہ
02:46خانہِ کعبہ ہے
02:47تو اللہ نے
02:48کئی جہتوں سے ہم دیکھیں
02:49کئی زاویوں سے ہم دیکھیں
02:51تو اس گھر کو
02:51بہت امپورٹنس دی
02:53بہت سگنیفیکنس دی
02:54اور دیگر
02:55ایسی ہسٹری میں
02:56چیزیں موجود ہیں
02:57جو یقیناً
02:58اس خانہِ کعبہ کی
02:59اہمیت کو
03:00اور زیادہ اجاگر کرتی ہیں
03:01لیکن اس پر تفصیل سے
03:02گفتگو کرنے کے لیے
03:03عالم اسلام کے ممتاز
03:05مقتدر
03:06مستند علماء اکرام
03:07تشریف فرما ہے
03:08جو یقیناً
03:08قرآن و حدیث کے ریفرنس سے ہی
03:10بہت کریڈیبل
03:11بہت آثنٹک انفورمیشن
03:13اس خانہِ کعبہ کے
03:14موضوع پر انشاءاللہ
03:15آپ تک پہنچائیں گے
03:16سب سے پہلی شخصیت
03:17کسی تعروف کے
03:18محتاج نہیں
03:18اے آر وائی کیو ٹی وی ہو
03:20اے آر وائی ڈیجیٹل ہو
03:21اس کا مستقل چہرہ ہے
03:22نہ کہ صرف آپ
03:23اے آر وائی کے ذریعے
03:25پوری دنیا میں
03:26اللہ اور اس کے
03:27رسول کی تعلیمات
03:28پہنچا رہے ہیں
03:28بلکہ بنفس نفیس
03:30خود آپ کے بہت سے
03:31افسار ہیں
03:31کہ تبلیغ دین کے لئے
03:33آپ نے جس انداز سے
03:34کوشش کی
03:35ہم ہمیشہ آپ کو
03:36خراج تحسین پیش کرتے ہیں
03:37مبارک بات پیش کرتے ہیں
03:38اللہ تعالیٰ آپ کی تمام
03:39ان دینی خدمات کو
03:41اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے
03:42حضرت اللہ مفتی محمد
03:43سوئیل ادھمجدی
03:44ساتھ تشریف فرمائے
03:55مدرس بھی ہیں
03:56اس کے ساتھ ساتھ
03:57آپ کی بھی گران قدر خدمات ہیں
03:59اے آر آئی کیو ٹی وی پر
04:00جو کسی سے
04:01ڈھکی چھوپی نہیں ہے
04:02میرے ساتھ تشریف فرمائے
04:03حضرت اللہ مولانا
04:05مفتی سید زیگم علی گردیدی
04:06شاہ صاحب
04:07السلام علیکم ورحمت اللہ
04:09کیسے مصطاب خیریت سے
04:10دونوں شخصیات کا خیر مقدم
04:12اور پہلا سوال
04:13آج کے موضوع کے حوالے سے
04:14مصطاب جو کہ بہت ہی
04:15بنیادی قسم کا ہے
04:16اور بنیادی نویت کا ہے
04:18اور ہر بندہ مومن کو
04:19یقیناً
04:19آثینٹک انفرمیشن
04:20آویرنس
04:21اس حوالے سے ہونی چاہیے
04:22کہ خانہ کعبہ کی
04:23سب سے پہلی جو تعمیر ہے
04:25سب سے پہلی جو
04:26کنسٹرکشن
04:26اللہ کے اس گھر کی ہے
04:27وہ کس نے کی
04:29بسم اللہ الرحمن الرحیم
04:31صل اللہ علیہ وعلا
04:33آلیہ وآصحابہ
04:35اجمائن
04:36بڑا ہی اہم سوال ہے
04:38اور
04:39اس میں
04:40مختلف روایات ہیں
04:42ٹھیک
04:43کہ خانہ کعبہ کی
04:44تعمیر
04:45سب سے پہلے
04:45کس نے تھی
04:46اور کتنی مرتبہ ہوئی
04:48کتنی بار ہوئی
04:49اس میں مختلف روایات ہیں
04:50جیسا کہ
04:52علامہ سہیلی نے بھی
04:53اور حافظ ابن کسیر نے بھی
04:55اور اس کے علاوہ
04:57علامہ بددین عینی
04:58ان سب نے
05:00اس پر مختلف اقوال جمع کی ہے
05:03مختلف روایات پیش کی
05:04اس میں
05:06خاص طور پر
05:07علامہ کسٹرانی رحمت اللہ
05:08علیہ نے
05:09اپنی کتاب
05:10ارشاد و ساری میں یہ لکھا
05:12ان تمام اقوال کو
05:13جمع کر کے
05:14کہ خانہ کعبہ کی
05:16تعمیر جو ہے وہ
05:17کل دس مرتبہ ہوئی ہے
05:19ٹھیک
05:20سب سے پہلے
05:21روح زمین پر
05:23کہتے ہیں کہ
05:24انسانوں میں
05:25آدم علیہ السلام
05:26نے اس کی تعمیر کی
05:28اللہ
05:28اچھا یہ بھی کہا جاتا ہے
05:30کہ آدم علیہ السلام
05:32کی تخلیق سے بھی
05:33دو ہزار سال قبل
05:36فرشتوں نے
05:37اس کی تعمیر کی
05:38اللہ
05:38اور یہ بھی کہا جاتا ہے
05:40روایات میں
05:41موجود ہے
05:42کہ سب سے پہلے
05:44اللہ تبارک و تعالیٰ
05:45نے کلمہ کن سے
05:46اس کی تعمیر فرمائی
05:48سبحان اللہ
05:49وہ فرماتا ہے نا
05:49کہ
05:50اذا اراد شیئن
05:52این یقول لہو
05:53کن فیقون
05:54بے شکل
05:55جب وہ کسی کام
05:56کا ارادہ فرمالی
05:56تو وہ کن فرماتا ہے
05:57فیقون ہو جاتا ہے
05:58لیکن انسانوں میں
06:00آدم علیہ السلام
06:01نے سب سے پہلے
06:02دخلیق کی
06:02اور اس کے بارے میں
06:03یہ روایت ہے
06:04حدیث پاک میں ہے
06:06کہ آدم علیہ السلام
06:07کو جب جنت سے
06:08نیچے اترنے کا
06:09حکم دیا گیا
06:10تو فرمایا
06:11رب تعالیٰ نے
06:12کہ میں تیرے ساتھ
06:13ایک بیت اتاروں گا
06:14جس طرح
06:15میرے ارش کا
06:17تواف ہوتا ہے
06:17اس طرح
06:18اس بیت کا تواف ہوتا ہے
06:19اللہ
06:20اور جس طریقے سے
06:21میرے ارش کے گرد
06:22فرشتے نماز کی
06:23مختلف حالتوں میں ہیں
06:25تو اسی طریقے سے
06:28اس گھر کے گرد
06:29لوگ نماز پڑھے گئے
06:30اور کہا جاتا ہے
06:32روایت میں یہ بات
06:33موجود ہے
06:34کہ آدم علیہ السلام
06:35نے جب اس کی
06:36تعمیر فرمائی
06:37تو غار حیرہ
06:39جس پہاڑ میں ہے
06:41جسے ہم جبل نور
06:42کہتے ہیں
06:43اس کے علاوہ
06:44تور زیتہ
06:45تور سینہ
06:45جبل لبنان
06:47جودی پہاڑ
06:48اور روایت بھی
06:48اس میں ہیں
06:49ان پانچ متبرک
06:51پہاڑوں کی
06:51جو مٹی ہے
06:53وہ جمع کی گئی
06:54اور ایک روایت میں
06:56یہ بھی ہے
06:56کہ جہاں پر
06:58یہ خانہ کعبہ ہے
06:59یہاں پر
07:01ایک پانی کا
07:02بلبلہ تھا
07:02اور کہتے ہیں
07:04کہ جب تعمیر کی گئی
07:05تو پوری زمین
07:07جو روح زمین ہے
07:08وہ اسی
07:09بلبلے سے
07:10بنائی گئی ہے
07:11اب سوال یہ آتا ہے
07:12کیسے
07:13محدثین نے فرمایا
07:15کہ جس طرح
07:15تم روٹی بناتے ہو
07:16پیڑے سے
07:17پیڑا ہوتا ہے
07:18چھوٹا سا
07:19اس سے پھیلا کر
07:20روٹی بنائی جاتی ہے
07:20تو فرمایا
07:21اسی طرح پھیلا کر
07:23یہ پوری زمین
07:24تعمیر کی گئی
07:25اور اسی لئے
07:26کہا جاتا ہے
07:27کہ یہ خانہ کعبہ
07:28یہ دنیا کا
07:30مرکز ہے
07:30سینٹر پائنٹ
07:31سینٹر ہے
07:32مرکز ہے
07:33اسی کے بلکل
07:34سید میں
07:35بیت المعمول
07:36یعنی
07:36عرش الہی ہے
07:38اسی کے سید میں
07:39اب آجائیے
07:40کہ
07:40سب سے پہلے
07:41آدم علیہ السلام
07:42نے اس کی تعمیر کی
07:43پھر اس کے بعد
07:44شیس بن آدم
07:46علیہ السلام نے
07:47پھر اس کے بعد
07:48ابراہیم علیہ السلام
07:49نے تعمیر کی
07:50جو بڑی مشہور ہے
07:51جس کا ذکر قرآن
07:52کریم میں بھی ہے
07:52پھر اس کے بعد
07:54قوم عمالکہ نے
07:55پھر قبیلہ جرہم نے
07:57کہتے ہیں
07:58کہ کچھ
07:59تباہی آئی تھی
08:00یا بارش وغیرہ ہوئی تھی
08:01تو قبیلہ جرہم نے بھی
08:03اس کی تعمیر کی
08:04پھر حضور نبی کریم علیہ السلام
08:06کے آباؤ اجداد میں سے
08:07قوسی بن قلاب
08:08انہوں نے بھی
08:09اس کی تعمیر کی
08:10اور اسی طرح
08:12آٹھویں مرتبہ
08:13اور یہ واقعہ
08:14حضور نبی کریم علیہ السلام
08:15کی نبوت کے
08:17اعلان سے
08:18پانچ سال پہلے واقعہ ہوا
08:19ٹھیک
08:20پینتیس
08:21جو ہے وہ
08:22جب آپ کی عمر
08:23پینتیس سال تھی
08:24اس وقت
08:24اور یہ وہی
08:25مشہور واقعہ ہے
08:26کہ جس میں
08:27حجر اسوت کی
08:28تنسیب پر
08:29نظہ پیدا ہوا
08:30پھر کہا بھئی
08:31جو حرم پاک میں
08:32سب سے پہلے آئے گا
08:33اس کی بات مانی جائے گی
08:34وہ فیصلہ کرے گا
08:35جب حضور نبی کریم علیہ السلام
08:36کو دیکھا
08:36تو سب نے مل کر کہا
08:37صادق و امین آگئے
08:39اب فیصلہ ہو جائے گا
08:40تاریخ کا
08:40مشہور ترین واپنی
08:41جی اور کتنا پیارا فیصلہ
08:43کہ چادر کو منگوایا گیا
08:45اور چادر میں
08:46حجر اسوت کو رکھا گیا
08:47آج تک لوگ فخر کر رہے ہیں
08:48تمام سرداروں نے
08:49کونہ پکڑا
08:50کونے گونے پکڑے
08:51اور یوں حجر اسوت کی
08:52تنسیب کی گئی
08:53اور یہی
08:54وہ تنسیب تھی
08:55جس میں قریش نے
08:56یہ وعدہ کیا تھا
08:57کہ ہم اپنا حلال کا پیسہ لگائیں گے
08:59حرام کا پیسہ نہیں لگائیں گے
09:01اللہ اکبر
09:02اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے
09:03بہترین انٹرڈکشن ہے یہ
09:05اور آپ نے جانا
09:06تاریخ کے حوالے سے
09:07اور بہت معلومات میں
09:08آپ کی اضافہ یقیناً ہوا ہوگا
09:09مزید کئی ریلیونٹ کوسشنز ہیں
09:11بہت اہم ترین
09:12بڑے دلچسپ سوالات ہیں
09:14آج کے موضوع
09:14یعنی کہ خانہ کعبہ کے حوالے سے
09:16لیکن ایک مختصر سا وقفہ
09:18یعنی اس یقین کے ساتھ
09:19کہ آپ ہمارے ساتھ رہیں گے
09:20سی یو
09:20رائٹ آفٹر جس شوٹ پر
09:21جی ویلکم بیک ناظرین
09:23آج کا موضوع ہے
09:24خانہ کعبہ
09:25اور اس حوالے سے
09:25جو پہلا سوال تھا
09:26بڑا اہم ترین سوال تھا
09:28بنیادی سوال تھا
09:29کہ سب سے پہلے جو تعمیر
09:30اس خانہ کعبہ کی ہوئی
09:32وہ کس نے کی
09:32تو بہت تفصیلاً
09:33مفصر صاحب نے جواب
09:34بنایت فرمائے
09:35مفصر صاحب پہلے آپ
09:35کمپلیٹ کر لیں
09:36پھر ہم اگلا کوشش
09:37بنائے ابراہیمی جو تھی
09:38وہ یہ تھا
09:39کہ اس میں خاص طور پر
09:42کہ اس کا اگر
09:43انچائی دیکھی جائے
09:44تو وہ نو گز تھی
09:46لمبائی تیز گز تھی
09:48اور چوڑائی تئیس گز تھی
09:50اچھا اس کے بعد یہ بھی تھا
09:52کہ یہ دروازہ نا نیچے کی طرف تھا
09:54اور حتیم کعبہ جو ہے
09:56یہ کعبہ شریف کے اندر تھا
09:57یہ بنائے ابراہیمی کھیلاتی ہے
10:00قریش نے جب تعمیر کیا
10:01انہوں نے کہا
10:01یہ حلال پیسہ لگائیں گے
10:03تو انہوں نے کیا کیا
10:04کہ حتیم کو بار کر دیا
10:05کہ پیسہ نہیں تھا
10:06اچھا انہوں نے ایک چیز اور کی
10:08کہ دروازہ انچا کر دیا
10:09کہ جس کو ہم چاہیں گے داخل ہوگا
10:11جس کو ہم نہیں چاہیں گے
10:12داخل نہیں ہوگا
10:13اور پھر اس کے بعد
10:14یہ انٹری کا دروازہ تھا
10:16اور ایک ایزٹ کا دروازہ
10:17الگ الگ وایا
10:18حضور ابی کریم علیہ السلام
10:20کو بنائے ابراہیمی پسند تھی
10:21اب ہوا یہ
10:23کہ جب یزید کا معاملہ ہوا
10:24وہ جو خانہ کعبہ پر حملہ ہوا تھا
10:25یزید لائین کا
10:26تو عبداللہ بن زبیر
10:28رضی اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا
10:30تو انہوں نے دوبارہ تعمیر کیا
10:31اور بنائے ابراہیم پر کر دیا
10:33اچھا اس کے بعد
10:34یہ معاملہ رکا نہیں
10:35پھر آگے جا کر
10:36عبدالملک بن مروان کے حکم پر
10:38حجاج بن یوسف نے
10:39دوبارہ اس سے
10:40بنائے قریش پر کر دیا
10:42اسی طریقے سے
10:44دروازہ انچا
10:44حتیم باہر
10:45تو اس کے بعد
10:47حارون رشید کے دور میں
10:49جب یہ معاملہ اٹھا
10:50بھئی اچھا
10:50بنائے ابراہیم پر کرنا چاہیے
10:52تو انہوں نے
10:53امام مالک علی رحمہ سے
10:54مشورہ کی طرف فرمائے
10:55کہ اب کچھ نہ کرنا
10:56ورنہ یہ بادشاہوں کا
10:58کھیل بن جائے گا
10:59اور آخری بات ارس کروں گا
11:01بڑی حکمت والی بات ہے یہ
11:02ایک ہزار اکیس میں
11:04سلطان احمد ترکی
11:05نے کچھ مرمت وغیرہ کی
11:06اور کہتے ہیں
11:07کہ ایک ہزار انتالیس میں
11:09سلطان مراد ترکی تھے
11:10انہوں نے
11:11چونکہ سلاب آیا تھا
11:12تباکہ دی ہوئی تھی
11:13تو دوبارہ سے
11:13اسے تعمیر کیا تھا
11:14زبردست اور
11:15بس یہ سعادت کی بات ہے
11:17جس جس کے حصے میں
11:18جو جو سعادت آئی
11:19اللہ کا کرام ہے فضل ہے
11:20پس اب کیا فرمایے گا
11:22ازروع قرآن
11:22اگر ہم دیکھیں
11:23تو تعمیر خانہ کعبہ
11:25کے حوالے سے
11:25ہمیں کیا تفصیل ملتی
11:26بسم اللہ الرحمن الرحیم
11:28اللہم صلی اللہ علیہ محمد
11:30وعلى محمد
11:31مبارک السلی
11:31اور شکریہ سمیر بھئی
11:33قرآن کریم کی دو آیات
11:35بیانات میں
11:35تفصیل کے ساتھ
11:37تعمیر کعبہ سے
11:38متعلق تذکرہ فرمایا گیا
11:39اور یہ وہ تعمیر ہے
11:41جو حضرت ابراہیم
11:42علیہ نبی نوالی صلی اللہ علیہ وسلم
11:43نے فرمائی
11:43حضرت ابراہیم علیہ السلام
11:45اللہ کے حکم کے مطابق
11:47حضرت اسماعیل
11:48اور حضرت حاجرہ
11:49کو وادی غیر زیزرہ
11:50خانہ کعبہ کے
11:51آس پاس کا علاقہ
11:52جو اس زمانے میں
11:53بلکل چٹیل میدان تھا
11:54اور سہرا تھا
11:55اور دور دور تک
11:56کوئی آبادی
11:57اور زندگی کا
11:58کوئی نام و نشان نہیں تھا
11:59تو یہاں جب
12:00حضرت ابراہیم علیہ السلام
12:01چھوڑ کر گئے
12:02تو وقتاں فوقتاں
12:04آپ تشریف لاتے تھے
12:04تیسری مرتبہ
12:06جب آپ تشریف لائے
12:06جب حضرت اسماعیل
12:07علیہ السلام کی
12:08عمرہ مبارک
12:09بیس کے قریب تھی
12:10تو یہ وہ وقت تھا
12:12کہ اللہ رب العالمین
12:13نے آپ کو
12:13تعمیر کعبہ سے
12:14متعلق حکم فرمایا
12:16اور اسی حکم کا
12:18اظہار حضرت ابراہیم
12:19علیہ السلام نے
12:20حضرت اسماعیل کے
12:20سامنے فرمایا
12:21صحیح
12:22تو حضرت اسماعیل
12:23علیہ السلام نے
12:24عرض کیا کہ
12:24حضور آپ جو حکم فرمائے
12:25اور میری جو
12:27مداری لگائے میں
12:27اس کے لئے حاضر ہوں
12:28حاضر ہوں
12:28چنانچہ باپ بیٹے نے
12:29مل کر
12:30خانہ کعبہ کی تعمیر
12:32کا یہ سلسلہ
12:33شروع فرمایا
12:33اب چونکہ
12:34طوفان نوح علیہ السلام
12:35کے بعد سے
12:37اس کی
12:37جو علامات
12:38اور نشانیاں تھی
12:39اور جو اس کی
12:40کیفیت وہ بالکل
12:41مٹ چکے تھی
12:42ٹھیک
12:42تو اس کیفیت کو
12:43اللہ رب العالمین
12:44نے دوبارہ تازہ فرمایا
12:45صحیح
12:46اس سے متعلق
12:47تین روایات آتی ہیں
12:48ایک یہ کہ
12:48جبری العالمین
12:49حاضر ہوئے
12:49اور حضرت عبراہیم
12:50علیہ السلام کی
12:51بارگاہ میں
12:52ارز کیا
12:52کہ یہ
12:52مقام ہے
12:53اور یہ
12:54اس کی حدود ہیں
12:55اس سے متعلق
12:56آپ تعمیرات فرمائے
12:57دوسرا یہ کہ
12:58اللہ رب العالمین
12:59کے حکم کے مطابق
13:01آسمان پہ
13:01بادل نے سایہ کیا
13:02اور وہ سایہ
13:03جہاں جہا تھا
13:04وہ اس کی حدود تھی
13:05تعمیر سے متعلق
13:06وہ سایہ فرمائے
13:07اور تیسری روایت یہ
13:08کہ
13:08ایک تیز ہوا چلی
13:10جس نے
13:10اس پورے علاقے کو
13:12ظاہر فرما دیا
13:13ایک دائرہ سا بن گیا
13:15دائرہ بن گیا
13:15اور اس کے ذریعے
13:16وہ جو
13:17پرانا
13:18اس کا نشان تھا
13:19وہ ظاہر ہوا
13:20اور اسی کو
13:21قرآن کریم میں فرمایا
13:22کہ
13:24جب ہم نے
13:25حضرت عبراہیم علیہ السلام
13:27کے لئے
13:27خانہ کعبہ کی
13:28عمارت کی
13:29وہ نشانیاں
13:30وہ ظاہر فرمائے
13:30اس کے مکان کو
13:31ظاہر فرمائے
13:32اب حضرت عبراہیم علیہ السلام
13:34اور حضرت اسماعیل علیہ السلام
13:35تعمیر
13:36کا سلسلہ
13:37شروع فرماتے ہیں
13:38اور
13:39ہم
13:40اللہ کے گھروں کی
13:41تعمیر کا جو
13:41اس کی عزت و عظمت ہے
13:43اس کی اہمیت ہے
13:44اس سے اندازہ لگائیں
13:45کہ
13:45اللہ کے دو
13:46جلیل القدر
13:47انبیاء اکرام علیہ السلام
13:48کی ڈیوٹی لگائے جا رہی ہے
13:49کہ وہ
13:49اللہ کا گھر تعمیر کریں
13:50مسجد تعمیر کریں
13:52خانہ خدا تعمیر فرمائے
13:53اور
13:54حضرت اسماعیل علیہ السلام
13:55بڑے بڑے پتھر
13:56روایات میں آتا ہے
13:57کہ
13:57تیس تیس بندے
13:58اس پتھر کو
13:59ہٹا نہیں سکتے تھے
14:00اللہ
14:01جو خالی حضرت اسماعیل علیہ السلام
14:02اکیلے اٹھا کر
14:03اس کو
14:03تعمیر کعبہ کے لیے لاتے تھے
14:05سبحان اللہ
14:06اور حضرت عبراہیم علیہ السلام
14:07ان پتھروں کے ذریعے دیواروں کا
14:09جو
14:10بنانے کا سلسلہ
14:11وہ فرماتے تھے
14:12تو
14:12اس طرح حضرت عبراہیم علیہ السلام
14:13اور حضرت اسماعیل علیہ السلام
14:15نے
14:15یہ تعمیر فرمائی
14:17دوسری آیت کریمہ میں
14:18اس سے متعلق فرمائی
14:19کہ
14:19وَإِذِي عَرْفَوْ عِبْرَاہِمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَائِ
14:22کہ
14:23یاد کریں
14:23کہ جب حضرت عبراہیم علیہ السلام
14:25اور حضرت اسماعیل علیہ السلام
14:26نے
14:26اس کی دیواروں کو
14:27اس کی بنیادوں کو
14:28بلند فرمائے
14:29تو
14:29یہ تعمیر کعبہ حضرت عبراہیم علیہ السلام
14:31نے جو فرمائی
14:32اس میں
14:34مقام ابراہیم
14:35اور حجر اسود
14:36یہ دو پتھر
14:37جبریل امین نے
14:39اللہ رب العالمین کے حکم کے مطابق
14:41آپ کے سامنے پیش فرمایا
14:42اور پھر
14:43اللہ کے حکم کے مطابق
14:45آپ نے اس کو نصب فرمایا
14:46حجر اسود کے ذریعے
14:47یہ علامت تھی
14:48کہ
14:48تواف کا سلسلہ
14:49کہاں سے شروع کیا جائے
14:50عبادت کا سلسلہ
14:51کہاں سے اس کا آغاز ہو
14:52اور مقام ابراہیم
14:54وہ دیواروں کی
14:55اچائے کے لئے
14:55اس کو استعمال کیا گیا
14:56اسی کے ساتھ ساتھ
14:58تعمیر کعبہ سے
14:58متعلق یہ دو آیات
14:59اس میں
15:00نہ صرف تعمیر کرنی ہے
15:02بلکہ ان دونوں
15:04جلیل القدر
15:04انبیاء کرام علیہ السلام
15:05کی ڈیوٹیاں لگائی گئی
15:07کہ
15:07کہ میرے گھر کو
15:12اعتقاف کرنے والوں کے لئے
15:13نماز پڑھنے والوں کے لئے
15:15رکو سجود کرنے والوں کے لئے
15:17پاک کرنا ہے
15:18اس کی صفائی سترائی
15:19کا اعتمام کرنا
15:20یعنی
15:20اللہ کے گھر کو
15:21صاف سترائی
15:22رکھنا
15:22یہ اتنا عزت و عظمت
15:24والا کام ہے
15:25کہ اللہ تعالیٰ
15:25اپنے
15:26خلیل اور اپنے
15:27زبی
15:28زبی اللہ
15:28اور خلیل اللہ
15:29علیہ السلام
15:30ان کے ڈیوٹیاں
15:31لگائی جاتی ہیں
15:32کہ آپ نے
15:32اس کو تعمیر بھی فرمانا ہے
15:33اور اس کی صفائی سترائی
15:35کا بھی اعتمام کرنا
15:36تو مسجد کی تعمیر
15:37مسجد کی صفائی سترائی
15:48حضرت کو بیان فرماتی ہیں
15:49اور پھر اسی کے ساتھ ساتھ
15:50حضرت عبراہیم علیہ السلام
15:51جب تعمیر فرمانے
15:53تو آس پاس کوئی
15:53زیادہ آبادی نہیں ہے
15:55ایک قبیلہ ہے
15:55اس کے چند افراد ہیں
15:56اور آپ کی
15:57اہلیہ اور
15:58آپ کے بیٹے ہیں
16:00لیکن
16:01یعنی
16:02کسی کام کی پذیرائی
16:03کسی کام کی قبولیت
16:04اور عوام میں
16:05اس کے اثرات
16:06وہ آہستہ آہستہ
16:07نتائج ظاہر ہوتے ہیں
16:08یعنی انسان
16:09جلد بازی نہ کرے
16:18تمام انبیاء اکرام علیہ السلام کی
16:20صیرت مبارکہ
16:20ہم دیکھیں
16:21کہ وہ خود جا کر
16:22ماحول بناتے ہیں
16:23وہ خود جا کر
16:24حالات بناتے ہیں
16:25کوششیں فرمائی جاتی ہیں
16:26اور مسلسل کوشش کے بعد
16:28پھر اللہ رب العالمین
16:29اس کے نتائج آہستہ آہستہ
16:30وہ ظاہر فرماتا ہے
16:31تو یہ انسان کے لیے
16:32ہمت اور حوصلہ بھی ہے
16:33کہ انسان اللہ کا نام لے کر
16:35شروع کرے
16:36وہ جس لگن کے ساتھ
16:37اس کام کا آغاز کرے گا
16:38اللہ رب العالمین
16:39اسی قدر اس کی
16:40پذیرائی بھی عطا فرمائے گا
16:42اور دنیا اور آخرت میں
16:42اس کے اثرات بھی عطا فرمائے گا
16:44عطا فرمائے گا
16:44اور دیکھیں آپ پھر
16:45کیسی برکتیں
16:46اس تعمیر کی ہیں
16:47کہ تا قیامت
16:49بندگانِ خدا
16:49یہ دعا کرتے رہیں گے
16:51کوشش کرتے رہیں گے
16:52حج کے ذریعے
16:53عمرے کے ذریعے
16:55کہ ہم اس گھر پہنچیں
16:56اور کعبت اللہ کی
16:57بیت اللہ کی
16:58خانہ کعبہ کا
16:58ہم تواف کریں
17:00اور جو برکتیں ہیں
17:01جو رحمتیں ہیں
17:01وہ ہم اپنے دامنوں میں
17:03سمیٹتے رہیں
17:03یہ برکتیں ہیں
17:04الحمدللہ
17:04اس تعمیر کی
17:05اور میں اگر
17:06تھوڑا سا ڈیٹیل میں
17:07مصطاب جانا چاہوں
17:08کہ تھوڑا سا
17:09انڈیپت اگر ہم دیکھیں
17:10کہ یہ جو
17:11کنسٹرکشن ہو رہی ہے
17:12جو تعمیر ہو رہی ہے
17:13حضرت عبراہیم علیہ السلام
17:14حضرت اسماعیل علیہ السلام
17:15کیا تفصیلات
17:16مزید ہمیں تاریخ میں
17:17ملتی ہیں
17:17کہ کس انداز سے
17:18یہ گھر تعمیر کیا گیا
17:19کیا فرمایے گا
17:21دیکھیں ایک تو یہ ہے
17:22کہ جس طرح
17:23قبلہ نے بھی فرمایا
17:24کہ نو علیہ السلام
17:26کی زمانے میں
17:28یہ طوفان آیا
17:28تو اس گھر کو
17:29اٹھا لیا گیا
17:31اور
17:31روایت میں یہ بھی ہے
17:33کہ اس کو
17:33اوپر بیت المعمور
17:34کے پاس رکھا گیا
17:36اور
17:37اس کے بعد یہ جگہ جو تھی
17:39یہ زمین سے
17:40کچھ انچی تھی
17:42اچھا حیرت کی بات یہ ہے
17:43کہ اس کے بعد
17:44جتنی بھی انبیاء
17:45ابراہیم علیہ السلام
17:47سے پہلے تقایر
17:48علیہ السلام
17:49وہ سب حج کرتے رہے
17:51اچھا
17:52لیکن
17:53اور سب کے علم میں تھا
17:54کہ یہ مقام تھا
17:55یہ تھا
17:55لیکن خانہ کعبہ کی
17:56کوئی تخصیص نہیں تھے
17:58کہ اس مقام پر تھا
18:00کیا تھا
18:00بس یہ تھا
18:00کہ اس مقام پر
18:01یہ آس پاس کہیں پر
18:02خانہ کعبہ تھا
18:03تو سب نے حج کیا
18:05لیکن خانہ کعبہ کا
18:06بظاہر وجود نہیں تھا
18:08بس یہ جگہ
18:13وقت آیا
18:14تو ابراہیم علیہ السلام
18:16کو
18:16ایک حدیث پاک کے مطابق
18:18جبرائیل علیہ السلام
18:19نے آ کر نشاندہی کی
18:21اور یہ بھی کہا جاتا ہے
18:22کہ جس سے
18:23آج کل کے دور میں
18:23آپ یہ کہیں
18:24کہ اس کی انجینئرنگ
18:25جو ہے
18:26جبرائیل علیہ السلام
18:27نے کی
18:27کیا کہنے ہیں
18:28اور اس کے
18:29اصل میمار
18:30دیکھیں قرآن کریم
18:31کا جو اسلوب ہے نا
18:33جو عربی گرہمت
18:34جانتے ہیں
18:35کیا خوب ہے
18:36مطلب آپ یوں سمجھ لیں
18:38کہ
18:38بہت معذرت کے ساتھ
18:39کیونکہ
18:40تفصیلات
18:41میں آپ سے پوچھ رہا ہوں
18:41تعمیر کی
18:42تو آپ جواب بھی
18:43تفصیل سے دیجئے گا
18:44ایک وقت پائل ہو گیا ہے
18:45بیچ میں
18:45ناظرین بہت اہم
18:46کوششن ہے
18:47اور ہمیں امید ہے
18:48آپ بیٹھ کر منتظر رہیں گے
18:49مصطابق کیا تفصیلی جواب
18:50انعائیت فرماتے ہیں
18:51آپ سے ہوتی ہے ملاقات
18:52ایک بریک کے بعد
18:53جی ویلکم بیک
18:55ناظرین بریک کے بعد
18:55آپ کا خیر مقدم ہے
18:56موضوع ہے ہمارا
18:58اللہ تبارک و تعالی کا
19:00وہ گھر
19:00جو یقینا ہم سب کے لیے
19:02مرکز نگاہ ہوتا ہے
19:04مرکز تجلیات ہے
19:05تمام مسلمان
19:06جب نماز پڑھتے ہیں
19:07تو اسی قابت اللہ
19:08اسی خانہ قابہ کی طرف
19:11رکھ کر کے نماز پڑھتے ہیں
19:12اور جو
19:13بریک سے قبل سوال
19:14میں نے ارس کیا تھا
19:15مفید صاحب سے
19:15کہ کیا تفصیلات ہیں
19:16کہ جب حضرت عبراہیم علیہ السلام
19:18نے اس خانہ قابہ کی
19:19تعمیر فرمائی
19:20تو جو جو
19:21ڈیٹیلز ہمیں
19:22اس کنسٹرکشن کی نظر آتی ہیں
19:23تاریخ میں
19:24وہ کیا ہیں
19:24آپ جواب ان آیت فرمایتے ہیں
19:26بسم اللہ
19:26قرآن کا ایک اسلوب دیکھیں
19:28کہ قرآن کریم نے
19:29یہ نہیں فرمایا
19:30کہ وَإِذْ يَرْفَعُ عِبْرَاهِيمُ وَإِسْمَاعِيلُ
19:33الْقَوَائِدَ مِن الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ
19:35یہ نہیں فرمایا
19:36وَإِذْ يَرْفَعُ عِبْرَاهِيمُ الْقَوَائِدَ مِن الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ
19:41کیا فساد و بلاغت ہے
19:43کہ اگر یہ فرمایا جاتا ہے
19:45کہ ابراہیم وَإِسْمَاعِيلُ
19:47تو اس کا مطلب ہے
19:48کہ دونوں میمار ہیں
19:49اچھا میمار تو دونوں ہیں
19:51اس میں کوئی شک نہیں ہے
19:52اصل جو میمار تھے
19:54وہ ابراہیم علیہ السلام تھے
19:56یعنی آپ روایت پڑھیں
19:57تو آپ کوئی بات سمجھ میں آجائے گی
19:59اسمائیل علیہ السلام
20:00پتھر وغیرہ اٹھا کر دے رہے تھے
20:02تو کیا مطلب ہوا
20:04ابراہیم علیہ السلام
20:05اصل میمار اور ساتھ میں معاون ہیں
20:08آپ کے صاحبزادے اسمائیل علیہ السلام
20:10خلیل اللہ و زبیلہ دونوں
20:11اور ایک روایت یہ بھی ہے
20:13کہ سیدہ حاجر رضی اللہ تعالیٰ
20:15بھی پتھر اٹھا اٹھا کر دے رہی ہیں
20:18یعنی اس سے آپ اندازہ لگائیں
20:20کہ اللہ تعالیٰ کے گھر کی
20:22تعمیر کا معاملہ کتنا حساس ہے
20:25کتنا مبارک ہے
20:26کہ جو قریش کا میں نے آپ کا تعمیر کا بتایا
20:28تو اس میں بھی روایت میں یہ الفاظ موجود ہیں
20:30کہ حضور نبی کریم علیہ السلام
20:32خود انٹیں اٹھا اٹھا کر لا رہے ہیں
20:34اور تعمیر فرما رہے ہیں
20:36اور اس کے بارے میں یہ آتا ہے
20:38کہ یعنی رکنے اسفت سے
20:40یمانی تک جو دیوار ہے
20:42کہتے ہیں یہ پانچ فٹ
20:44چار انچ ہے
20:45ترپن فٹ اور چار انچ ہے
20:48یمانی سے شامی تک
20:50اکاون فٹ آٹھ انچ ہے
20:51اور اسی طریقے سے شامی سے
20:54عراقی تک تینتیس فٹ
20:56چار انچ ہے
20:57خانہ کعبہ کے چار کونے ہیں
21:00جہاں سے تواف شروع ہوتا ہے
21:02رکنے اسفت
21:03یہ حجر اسفت یہاں پر موجود ہے
21:05یہاں سے لے کر پھر دوسرا کونہ
21:07رکنے عراقی تیسرا کونہ رکنے شامی
21:10چوتھا کونہ رکنے یمانی ہے
21:12اور یہ یوں سمجھ لیں
21:14کہ حجر اسفت سے تواف شروع ہوتا ہے
21:16اور ایک چکر جو ہوتا ہے
21:18وہ حجر اسفت پر ہی آ کر
21:20اختتام بزیر ہوتا ہے
21:22اچھا ابراہیم علیہ السلام نے جو خانہ کعبہ
21:25تعمیر فرمایا تھا تو اس میں
21:27اوپر کوئی دیوار وغیرہ بھی نہیں تھی
21:29یعنی اوپر کوئی چھت وغیرہ نہیں تھی
21:31دیوار سے مراد چھت نہیں تھی
21:32جیسے سقف کہتے ہیں
21:34اور اسی طریقے سے کوئی دروازہ وغیرہ
21:36نہیں تھا تو یہ تھی ابراہیم علیہ السلام
21:39کی تعمیر جو آپ نے فرمای تھی
21:41کیا کہنے ہیں
21:42یقیناً تعمیر کرنے والے
21:44تو ان سے بڑھ کر مبارک کون ہوگا
21:46اور قابل ہے مبارک بات کون ہوگا
21:48لیکن کیا کہنے
21:50اللہ کی نشانیاں ہیں یہ بھی
21:52اور اللہ کی قدرت ہے
21:54یعنی کہ انسان تو انسان
21:56جو چیزیں ہیں اشیاں ہیں
21:57وہ بھی اپنے حصے میں سعادتیں سمیٹ رہی ہیں
21:59تو ہم دیکھتے ہیں جب تعمیر ہوتی ہے
22:01تو مختلف اپنے آپ کو
22:02ایلیویٹ کرنے کے لیے
22:03مختلف ٹولز کا ہم استعمال کرتے ہیں
22:05مختلف اوزار استعمال ہوتے ہیں
22:07ایسی چیزیں ہمیں نظر آتی ہیں
22:09کہ جس پر کھڑے ہو کر
22:10آپ بلند کوئی چیز تعمیر کرنا چاہئے کر سکتے ہیں
22:13ایک پتھر ہے
22:13جس پر کھڑے ہو کر
22:15قابل کی تعمیر کی جا رہی ہے
22:16اس پتھر کی سر کیا تفصیلات ہیں
22:18اس پتھر کے حصے میں
22:20کیا کیا برکتیں آئیں
22:21بسم اللہ الرحمن الرحیم
22:23سمیر بھئی
22:24اللہ رب العالمین نے
22:27اپنے محبوبین سے جڑی ہوئی
22:29جتنی اشیاء ہیں
22:30جنہیں اللہ والوں سے نسبتیں حاصل ہو
22:32چاہے وہ پتھر ہو
22:33یا کوئی معمولی ذرہ بھی ہو
22:35جو نسبت جسے مل گئی
22:36اللہ رب العالمین
22:37اس نسبت کے برکتیں
22:38اسے عطا فرمایا ہے
22:39سبحان اللہ
22:40قرآن کریم میں
22:41جہاں خانہ کعبہ
22:43اور دیگر مقامات مقدسہ کا تذکرہ فرمایا گیا
22:45اور اللہ تعالیٰ نے
22:47اپنی نشانیوں کا تذکرہ فرمایا
22:48اسی کے ساتھ ساتھ
22:49ان پتھروں کو بھی
22:50اپنی نشانی کے طور پر بیان فرمایا ہے
22:52فرمایا کہ
22:55کہ اس میں
22:56واضح نشانیاں ہیں
22:58اور نشانیوں میں سے پہلی نشانی فرمایا
23:00کہ مقام ابراہیم
23:01یہ وہ پتھر ہے
23:02کہ جس پر حضرت عبراہیم علیہ السلام
23:04نے تشریف فرما ہو
23:05کر خانہ کعبہ کی تعمیر فرمائے
23:07اب دیوانوں کی تعمیر
23:09جہاں تک حضرت عبراہیم علیہ السلام
23:10کا مبارک قد ہے
23:11وہاں تک
23:12اور جہاں تک آپ کے ہاتھ پہنچتے ہیں
23:14آپ تعمیر فرماتے ہیں
23:15اب انچائی پر تعمیر کے لیے
23:17آپ کے پاس کوئی سیڈی
23:18یا کوئی اس طرح کا اوزار
23:19اور زمانے میں ظاہر
23:20نہیں ایسی اشیاء پائی جاتی ہیں
23:21تو حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا
23:24کہ کوئی ایسی چیز لاؤ
23:24جس پر کھڑے ہو کر
23:25تعمیر کی جائے
23:27تو ایک روایت آتی ہے
23:28کہ یہ دو پتھر
23:30حجر اسود اور مقام ابراہیم
23:32جو پتھر ہے
23:33جس پر حضرت عبراہیم علیہ السلام
23:34تشریف فرما ہوئے
23:36انہیں حضرت عدریس علیہ السلام
23:38نے محفوظ فرما لیا تھا
23:39اور جبریلی امین نے
23:41حضرت عبراہیم علیہ السلام
23:42اور حضرت اسماعیل کے سامنے
23:43ان کو پیش فرمایا
23:45تو حضرت اسماعیل علیہ السلام
23:46حضرت جبریلی امین
23:47کے پیش کرنے پر
23:49حضرت عبراہیم علیہ السلام کے پاس
23:50لے کر آئے
23:51اور حضرت عبراہیم علیہ السلام
23:53اس پتھر پر تشریف فرما ہوئے
23:55پتھر کی شان یہ ہے
23:56کہ جس اونچائی پر
23:58حضرت عبراہیم علیہ السلام
23:59and then you go to the outside.
24:34and it's been consecrated and it's been a whole thing
24:39and the great of the world
24:39that Allah met us at the end of it
24:40that now if you go to
24:43that if you had to go on the day
24:45that you have to go on the way
24:47and your knowledge is gone to God
24:48and Allah's not done to obey
24:51that war is done by the glory of the Lord
24:52that you found Him from the name of the Lord
24:57that you have to go on the name of the Lord
24:57that you have to go on the behalf
24:58and God has gone on the way
24:59and Allah has gone on the way
24:59So Allah has said that Allah has done something that has done with the power of Allah.
25:29people went through the world to get rid of it
25:32or to be said that if you're, God's idol is that.
25:38This is not because of that, but
25:40what we see Him in the image of God's will be
25:42made of the world.
25:48He said that,
25:49that He He He He He He He He He He He He He He He He
25:54He He He He He He He He He He He He He He He He He
25:55He He He He He He He He He He He He He He He
25:55I mean, Allah thứ Se Jins Mekamiyad
25:57Jins Mekamat Ko Nisbatt Ha Ha Seled
25:58을 جائے تو اللہ تعالی ان مقامات
26:00کو برکت اتا فرماتا ہے
26:01اور ان مقامات پر اگر حاضر ہو کر
26:04عبادت اللہ کی کی جائے گی
26:05تو اس نسبت کی برکت شیع اللہ رب العالمین
26:08عبادات کو بھی قبول فرمائے گا
26:09اور اس مقام کی برکتیں بھی اتا فرمائے گا
26:12تو مقام ابراہیم وہ متبرک پتھر ہے
26:14کہ جس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام
26:16کی تازیم و توقیر کے لیے اپنا سینہ پیش کیا
26:18اور اپنے سینہ پر حضرت ابراہیم
26:20Alayhi wa satsangh alayhi wa satsangha.
26:50That's why Allah has given us that Allah has given us that Allah has given us.
27:20If I will give you a message, my friend will give you a message.
27:25And I will tell you a message of that.
27:50this why I gave them his 해서 this.
27:53So this part of these are about how they are doing it.
27:54Now for there are solamente that if you want to do anything with Allah,
28:20قبلہ نے فرمائی بڑی خاص
28:22بات ہے اور اسی کی زمن میں
28:24میں ارث کروں گا کہ قرآن
28:26اصول بتاتا ہے
28:27قرآن و حدیث میں اصول بتاتا ہے
28:30ہم جو شلوار کمیز پہنتے ہیں
28:32جببہ پہنتے اس کا ذکر بتا دی قرآن میں
28:34قرآن نے یہ بتایا
28:35قد انزلنا علیکم لباسیں یواری سواتکم
28:38وریشا
28:39جو تمہارا سطر چھپائے جو زینت
28:42کا باعث بنے وہ لباس ہے
28:43قرآن کا قام ہے اصول بتانا
28:45تو قرآن نے اصول بتا دیا
28:47فیہی آیاتم بیناتم مقام
28:50ابراہیم پھر دوسرے مقام
28:52مقام ابراہیم مسلح
28:54تو قرآن نے اصول بتا دیا
28:57اِنَّ صَفَا وَالْمَرْوَطَ مِنْ شَعَائِ اللَّهِ
29:00اچھا اس کی ڈیفت میں جائیں
29:01تو نزبتیں کہیں پر سیدہ حجرہ
29:04کی نزبت نظر آئے گی
29:05کہیں پر سیدنا اسمائیل علیہ السلام کی نزبت نظر آئے گی
29:07کہیں سیدنا خلیل اللہ
29:09ابراہیم علیہ السلام کی نزبت نظر آئے گی
29:11اور پھر اس کے علاوہ
29:12لَا تُحِلُّ شَعَائِ اللَّهِ وَلَا شَعَرَ الْحَرَامَ وَلَا الْحَدِّيَ وَلَا الْقَلَائِدَ وَلَا آمِنَ الْبَيْتَ الْحَرَامِ
29:18یعنی وہ جانور
29:19جسے حدی کہتے ہیں جو حش کے لیے
29:21حاجی لے کر جاتے تھے
29:22ان کی بھی عزت و اعترام کا حقوم ہے
29:24کیونکہ اس کی نزبت
29:25نزبت پاک سے ہو چکی ہے
29:27تو جب ان کی نزبتوں کا خیال لکھا گیا
29:30تو میرے مصطفیٰ کی نزبتیں
29:31تو سب سے بڑی نزبتیں ہیں
29:32اس سے بڑی نزبت
29:33تو ہمیں کوئی نزبت نہیں ہے
29:34اچھا جہاں پر آپ دیکھیں
29:36کہ ابراہیم علیہ السلام
29:37جب اپنی زوجہ مطرمہ کو
29:40سیدتنا حاجر رضی اللہ عنہ کو
29:42اور اسماعیل علیہ السلام کو
29:43جو شیر خوار بچے ہیں
29:44ان کو وہاں چھوڑے جا رہے ہیں
29:45تو چند دعائیں کی تھی
29:58یہ ساری دعائیں آپ نے فرمائی تھی
30:02خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت
30:05بھی دعائیں ہو رہی ہیں
30:06کیا ہو رہی ہیں
30:07قرآن خود بتاتا ہے
30:08سورہ بقرہ کی آیت
30:09نمبر 127 سے 129 تک
30:11دیکھیں
30:16جب دونوں تعمیر کر رہے ہیں
30:18تو ربنا تقبل منا
30:21اے ہمارے رب جو ہم نے کیا
30:23تو اسے قبول فرمائے
30:25اپنی طرف سے قبول فرمائے
30:28بے شکر
30:28تو سننے والا جاننے والا ہے
30:30اس کا مطلب کیا ہوا
30:31کہ جب بھی کوئی آپ اچھا کام کریں
30:34نیک کام کریں
30:35اللہ کے نبی کی یہ تعلیم ہے
30:38کہ اسے اپنی طرف منصوب نہ کرنا
30:39اللہ کے سپد کر دینا
30:41کہ مولا تو قبول فرمائے
30:42ہمارے کیا ہوتا ہے
30:43کہ ذرا سی تحجد پڑھ لیں
30:45تو حضم ہی نہیں ہوتی
30:46بعد جماعت نماز پڑھ لیں
30:47حضم نہیں ہوتا
30:48اچھا اب
30:49کئی نفری روزہ داخلیں
30:50کسی کو بتائے نہیں
30:51تو گویا کہ
30:53پیٹ میں خرابی آ جاتی ہے
30:54تو خدا کے واسطے
30:56اپنے عمل کو
30:57اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں
30:58محدود رکھیں
30:59اس کی بارگاہ کے لئے کریں
31:00اس کی بارگاہ تک رکھیں
31:02دوسری دعا
31:05دوسری دعا یہ فرمائی
31:10کہ اے ہمارے رب
31:11ہمیں بھی اور ہماری
31:13اولادوں کو بھی
31:14اپنی بارگاہ میں
31:15سر جھکانے والا بنا
31:16تمازوں کرنے والا بنا
31:18اپنے حکامات کا فرمہ
31:19بدار بنا
31:19تیسری دعا
31:24اے ہمارے رب
31:24تو قبول فرمانے والا ہے
31:26اس کے بات کیا ہے
31:28کہ ربنا
31:29وَبْعَثْ فِيهِم
31:30اچھا تیسری دعا یہ بھی ہے
31:31وَأَرْنَا مَنَاسِقَنَا وَتُبْعَلَئِنَا
31:34تعامیدوں کی
31:35مناسق حجبی ہیں
31:36تو ہمیں سکھا مناسق حجبی ہے
31:38اور ہمیں اپنی بارگاہ میں
31:40رجوع کرنے کی توفیق عطا فرمائی
31:41یہ تین دعایں فرمائی
31:42چوتھی دعا بڑی ہے ہمیں
31:44رَبَّنَا وَبْعَثْ فِيهِم
31:45رَسُولًا مِّنْهُمْ يَطْلُوْ عَلَيْهِمْ آَيَاتِكَ
31:48وَيُعَلِّمُهُمْ الْكِتَابَ
31:49وَلَحِكْمَةَ وَيُزَكِّهِ
31:50اب میں نے تیرا گھر تو بنا لیا
31:53اب اس کو عباد کرنے والا
31:55ان میں سے ایک رسول بھیج
31:56جو ان پر تیری آیات تلاوت کرے
31:59کتاب و حکمت سکھائے
32:00انہیں پاکیزی عطا فرمائے
32:02بے شرط تو توبہ قبول فرمانے والا
32:07رحم فرمانے والا ہے
32:08یہاں پر کہا جاتا ہے
32:10محدثین فرماتے ہیں
32:11کہ ابراہیم علیہ السلام
32:13اور حضور نبی کریم علیہ السلام میں
32:14کتنی مدت ہے
32:15کچھ کہتے ہیں بائیس سو
32:17کچھ کہتے ہیں پچیس سو
32:18کچھ نے تین ہزار بھی بتایا
32:19چلے تین ہزار کر لیں
32:21یا کم از کم منیمم بائیس سو کر لیں
32:22بائیس سو سال
32:24ابراہیم علیہ السلام
32:25اللہ کے خلیل ہو کر دعا کر رہے ہیں
32:27اور اللہ رب العالمین
32:29نے اس دعا کا
32:29جو ہے وہ ظہور
32:31کم از کم بائیس سو سال کے بات کیا
32:33ہم کہتے ہیں
32:34آج دعا کریں
32:35ابھی قبول ہو جائیں
32:36اللہ اللہ
32:37اس کا مطلب یہ ہے
32:37کہ دعا کر لیجئے
32:38دعا کرنا کام آپ کا ہے
32:40قبول کرنا
32:42یا اس کی
32:42اس کے دیگر نوازشات
32:44عطا کرنا
32:45یہ اس کے حکمتیں
32:46اس پر چھوڑ دیا جائیں
32:47سبحان اللہ
32:48سبحان اللہ
32:49ایک ساتھ ساتھ
32:50میسیج بھی
32:50مف صاحب نے آپ کو دے دیا
32:51اور میں چاہتا ہوں
32:52مف صاحب آپ کی طرف سے بھی
32:53آج کا جو موضوع رہا
32:54سوالات ہیں
32:54جوابات ہیں
32:55کیا میسیج آپ
32:56ہماری یوت کو دیں گے
32:57سپیشلی میں چاہتا ہوں
32:59سمیر بھائی
33:00مقامات مقدسہ
33:01یقیناً
33:02اگر ان
33:04سارے مقامت مقدسہ
33:05کی تاریخی حیثیت
33:06کا جائزہ لیں
33:06تو
33:07اللہ والوں کی نسبتیں
33:08ہمیں ملتی ہیں
33:09بے شک
33:09کہ ہر مقام کو
33:10کسی نہ کسی
33:11اللہ کے نبی سے
33:12اللہ کے برگزیدہ بندے سے
33:14نسبتیں ہیں
33:14اور ان نسبتوں کی
33:16برکتیں اللہ
33:16رب العالمین نے رکھی ہیں
33:17اور انہی نسبتوں سے
33:19جوڑا گیا ہے
33:20یعنی آج ہم دیکھیں
33:21کہ ہم
33:22دنیاوی مشاغل میں
33:23اس قدر مصروف ہوتے ہیں
33:25کہ وہ ہماری زندگی میں
33:26اہل اللہ سے وابستگی
33:28اور
33:29اس طرح نسبتوں کے ساتھ
33:30ایک تعلق
33:31ہمارا پاکیزہ نسبتیں ہونا
33:32یہ ہماری زندگی سے
33:33ختم ہو چکا ہے
33:34اور اس چیز کا
33:35فقدان نظر آتا ہے
33:36اور اسی کی وجہ سے
33:37پھر ہم دیکھیں
33:38تو
33:38عامال کی بے برکتی آتی ہے
33:40اور دین سے دوری آتی ہے
33:41تو
33:41اللہ والوں سے وابستگی
33:43اور
33:44نسبتوں سے
33:45وابستہ ہونا
33:45پاکیزہ نسبتیں ہونا
33:47یہ ہماری دنیا میں بھی
33:48ہمارے جملہ معاملات میں
33:50ہماری عبادات میں
33:50دینی معاملات میں بھی
33:52یہ اثر انگیزی رکھتا ہے
33:53تو اس لیے
33:54پاکیزہ نسبتیں اختیار کی جائے
34:03اللہ تعالیٰ اس کی برکت ہے
34:04حتہ فرمائے گا
34:05آمین سم آمین
34:06مصطاب جزاک اللہ
34:07اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے
34:08مصطاب آپ کو بھی
34:09اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے
34:10بہت اہم ترین موضوع رہا
34:12خانہ کعبہ
34:13اور یقیناً
34:14بے شک ہمیں
34:15اس کی ایورنس
34:16جو بیسک نالیج ہونی چاہیے
34:18کوشش کی گئی
34:18آج کے اس پروگرام میں
34:20وہ بیسک ایورنس
34:20وہ بیسک نالیج
34:21آپ تک ہم پہنچائیں
34:22میں بس ایک
34:23جاتے جاتے
34:24ریکویسٹ کرنا چاہتا ہوں
34:25آج اس دور میں
34:27ہم بہت سے ایسے لوگ دیکھتے ہیں
34:29کہ اللہ رب العزت نے
34:30بہت مال و دولت سے
34:31ان کو نوازہ ہے
34:32لیکن وہ جو تڑپ ہوتی ہے
34:33وہ جو جذبہ ہوتا ہے
34:34وہ جو شوق ہوتا ہے
34:35کہ ہم عمرہ کریں
34:37ہم حج کریں
34:38ہم اللہ کے گھر کی زیارت کریں
34:40ہم توافع خانہ کعبہ کریں
34:41ہم بھی صحیح کریں
34:43ہم بھی دیگر جو
34:44آپ سمجھ لیں
34:45جتنے فیچرز ہمیں
34:46نظر آتے ہیں
34:47اور جتنے احوال
34:48ہمیں نظر آتے ہیں
34:49جتنے آمال نظر آتے ہیں
34:50ہم بھی ان اللہ کے
34:52جو بندگان خدا ہیں
34:53اس وقت جو
34:53حج کر رہے ہیں
34:54اور اللہ کے گھر کا
34:55اور جس انداز سے
34:57وہ تمام مناسق
34:58ادا کر رہے ہیں
34:58ہم بھی کاش کے
34:59ان میں شامل ہوں
35:00تو ایسے لوگ
35:01کم سے کم
35:02اپنے آپ کی
35:03ایک سیلف اکاؤنٹی بلیٹی کریں
35:04کہ اللہ نے
35:05ہمیں اتنا کچھ نوازہ
35:05ہم یہ سب کچھ
35:06اس دنیا میں
35:07چھوڑ کے چلے جائیں گے
35:08اللہ نے
35:09پتہ نہیں
35:09آپ کی سانسے
35:10آپ کے ساتھ
35:11وفا کریں نہ کریں
35:12ایک بار
35:13ضرور
35:13اللہ کے گھر کا
35:14حج کریں
35:15عمرہ کریں
35:16آپ یقین جانئے
35:17تاریخ میں
35:17لکھا گیا ہے
35:18سنیلی الفاظ سے
35:19کہ کتنے ہی لوگ ہیں
35:20کہ جو بہت سخت تھے
35:22اندر سے
35:22اور روحانی طور پر
35:23وہ کیفیات
35:24ان کی نہیں تھیں
35:25لیکن اللہ کے گھر کی
35:35تو یہ ہے
35:35اصل جڑنا
35:36تو پھر اللہ سے جڑنا ہے
35:37اور چھوڑ
35:38اللہ سے جڑ جائے
35:39جیسے دونوں
35:39مفتیان کرام نے فرمایا
35:40اس کی پھر دنیا
35:41بھی بن جاتی ہے
35:42اور آخرت بھی
35:43اسی میسیج کے ساتھ
35:44اپنے میزبان
35:45سمیر احمد کو دیں اجازت
35:46کعبے کی رونک
35:47کعبے کا منظر
35:49اللہ اکبر
35:50اللہ اکبر
35:51دیکھوں تو دیکھے
35:52جاؤں برابر
35:53اللہ اکبر
35:55اللہ اکبر
35:56السلام علیکم
35:56ورحمت اللہ وبرکاتہ
Comments