- 16 hours ago
- #meripehchan
- #syedazainabalam
- #aryqtv
Meri Pehchan - Female Talk Show
Topic: Khud Ehtesabi (Self Accountability)
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xid5vnoOqusaAKyjCNLp6_QW
Host: Syeda Zainab
Guest: Dr. Imtiyaz Javed Kahkvi, Hina Rizwan
#MeriPehchan #SyedaZainabAlam #ARYQtv
A female talk show having discussion over the persisting customs and norms of the society. Female scholars and experts from different fields of life will talk about the origins where those customs, rites and ritual come from or how they evolve with time, how they affect and influence our society, their pros and cons, and what does Islam has to say about them. We'll see what criteria Islam provides to decide over adapting or rejecting to the emerging global changes, say social, technological etc. of today.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Topic: Khud Ehtesabi (Self Accountability)
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xid5vnoOqusaAKyjCNLp6_QW
Host: Syeda Zainab
Guest: Dr. Imtiyaz Javed Kahkvi, Hina Rizwan
#MeriPehchan #SyedaZainabAlam #ARYQtv
A female talk show having discussion over the persisting customs and norms of the society. Female scholars and experts from different fields of life will talk about the origins where those customs, rites and ritual come from or how they evolve with time, how they affect and influence our society, their pros and cons, and what does Islam has to say about them. We'll see what criteria Islam provides to decide over adapting or rejecting to the emerging global changes, say social, technological etc. of today.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00I love Allah from the Lord of the Rings
00:03In the name of Allah, the Most Gracious
00:05Allahumma salli ala salli ala salli mawbola na mahammadin
00:09Wa ala ala saalli salli na wabala na mahammadin
00:13Wabarik wa sallim wa salli
00:14Rabbi shrahali sidrii wa yassr li amrii
00:18Wahlul aqdatan min lisani yafqahu qawli
00:20Inna salati wa nusuki wa mahyayya wa mamati
00:25Lillahi rabbil alameen
00:26کہ بے شک میری نماز میری قربانی میری زندگی میری موت
00:31صرف اللہ رب العزت کے لیے ہے جو تمام عالمین کا رب ہے
00:36السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہو
00:40پروگرام میری پہچان لے کر آپ کی مذبان سیدہ زینب حاضر خدمت ہیں
00:46معترم ناظرین یہ انسان کی جو زندگی ہے وہ ایک امتحان گاہ ہے
00:52یعنی ہمارے ہر قول ہمارے ہر فیل پر اللہ رب العزت کی نظر ہے
00:59وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور یہاں تک کہ ہمارے دل کی کیفیت
01:04ہمارے ارادے بھی ریکارڈ ہو رہے ہیں
01:07یعنی انسان کو یہ وقت خوف ہونا چاہیے دنیا میں
01:13کہ وہ پاک پروردگار عالم ہمارے ہر ہر عمل کو دیکھ رہا ہے
01:18ہم کہاں کوتا ہی کر رہے ہیں ہم کہاں ہمارے اندر کمزوری ہے
01:23ہم کہاں غلط کام کر رہے ہیں کہاں نیکی کر رہے ہیں
01:27یہ حساب ہمیں اپنا دنیا میں خود بھی رکھنا ہے
01:30یعنی خود احتسابی اپنے اندر ضرور رکھنی ہے
01:34خود احتسابی کے ہی حوالے سے آج ہم بات کریں گے
01:38اور ہم دنیا میں یہ بات ہمارے ذہن میں یقینی طور پر ہونی چاہیے
01:44کہ جو کچھ ہم دنیا میں کر رہے ہیں روز محشر یوم آخرت
01:49ہمیں اس کا جواب دینا ہے
01:51یعنی جواب دہی کا خوف بھی ہمارے اندر ہونا چاہیے
01:55اب ہم فی زمانہ دیکھتے ہیں کہ ہم دوسروں کی برائیوں پر زیادہ نظر رکھتے ہیں
02:01یعنی دوسروں کا محاسبہ زیادہ کرتے ہیں
02:04دوسروں کا احتساب زیادہ کرتے ہیں
02:06جبکہ احتساب کا یہ عمل اپنی ذات سے شروع کرنا ہے
02:11اپنے آپ کو جانچنا ہے
02:13ہر روز رات کو سونے کے لیے جب ہم لیتے
02:16تو ہم یہ سوچیں کہ ہم نے آج دن بھر میں کیا کیا ہے
02:20خود احتسابی کے تعلق سے آج بات کریں گے
02:23اور قرآن کا پیغام بھی یہی ہے
02:25یعنی اپنی زندگی کو با مقصد بنانا ہے
02:29قرآن ہمیں کہتا ہے کہ ہمیں مقصد حیات دیا گیا ہے
02:33اور اسی مقصد حیات کے تحت ہمیں اپنی زندگی کو گزارنا ہے
02:38خود احتسابی پر کلام کے لیے ہمارے ساتھ موزز مہمان شخصیات موجود ہیں
02:43اور جناب بہت ہی خوش کلام ہیں
02:47با علم ہیں باعمل ہیں
02:49ہمارے ساتھ موجود ہیں
02:50ڈاکٹر امتیاز جاوید خاکوی صاحبہ
02:52سلام پیش کرتے ہیں
02:53السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
02:56خشام دیت کہتے ہیں میری پہچان میں
02:59ڈاکٹر صاحبہ آپ کو
03:00اور ان کے ساتھ ایک نیا اضافہ
03:03ہمارے ساتھ موجود ہیں
03:04ماشاءاللہ ہنا رزوان آپ کو بھی
03:07ویلکم کرتے ہیں
03:08السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
03:10کیسے آپ خریصے ہیں
03:12میری پہچان میں آپ کو خشام دیت کہتے ہیں
03:14ڈاکٹر صاحبہ خود احتسابی کے تعلق سے آج بات کریں گے
03:18خود احتسابی سے کیا مراد ہے
03:20یہ بتائیے گا
03:22اور پھر اللہ رب العزت قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے
03:26وہ پاک پر وردگار عالم
03:28کہ ہر نفس اس چیز کا محاصبہ کریں
03:31کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا ہے
03:32اس کی کچھ تفصیل بتائیے گا
03:34شکریہ زیند بسم اللہ الرحمن الرحیم
03:37یہ جو آپ نے ترجمہ پڑھا
03:38یہ سورہ حشر کی آیت نمبر اٹھارہ ہے
03:40جس میں اللہ رب العزت نے اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا
03:44کہ یا ایوالذین آمنت تک اللہ
03:46اے ایمان والو اللہ سے ڈرو
03:48اور پھر اس کے بعد فرمایا
03:49والتنظر نفس انما قدمت لگت
03:51کہ ہر جان کو یہ سوچنا چاہیے
03:54کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا ہے
03:56اور اس کے بعد پھر فرمایا
03:58والتک اللہ اللہ سے ڈرو
04:00اب آپ غور کریں
04:01کہ مخاطب بھی کیا
04:03تو ایمان والوں کو کیا
04:06ایناس نہیں کہا
04:07ایمان والوں کو اپنا عمل
04:09اور بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا
04:12یعنی آپ کو ڈاکٹر صاحبہ
04:13یہ جو آیت مبارکہ ہے
04:15ہمیں قرآن کے کس پیغام
04:16یا کس عمل کی طرف راغب کرتی ہے
04:18یہ وہی پیغام ہے
04:20جو خود اعتصابی آج آپ کا موضوع ہے
04:23اور اللہ رب العزت نے ایمان والوں کو
04:25مخاطب کر کے فرمایا
04:26اللہ سے ڈرنے کا حکم دیا
04:28اور اس کے بعد خود اعتصابی کا حکم دیتے ہوئے
04:30پھر فرمایا کہ اللہ سے ڈرو
04:32اب خود اعتصابی کیا ہے
04:34آپ دیکھیں اعتصاب کا لفظ پر ہی غور کریں
04:36تو اس کا مطلب ہے حساب کرنا
04:38بعض پرس کرنا
04:40غلطیوں کا جائزہ لینا
04:41اور خود اعتصابی آگئے
04:43اس کا مطلب ہے کڑا جائزہ لو اپنا
04:45خود اعتصابی اپنا جائزہ
04:47خود لینا اور کڑے انداز سے لینا
04:50اس طرح سے سوڑی تے ہو
04:51کہ میں نے یہ عمل کیا تو کیوں کیا
04:54نیت کیا تھی میری
04:55سوچ کیا تھی فکر کیا تھی
04:57اس کا بیک گراؤنڈ کیا ہے
04:58پس منظر کیا ہے میں نے کیوں یہ عمل کیا
05:01پھر اس عمل کو کرتے ہوئے میں نے کیا طریقہ کار اختیار کیا
05:04کیا وہ اللہ کی اکمات کے این مطابق
05:06کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی
05:08صیرت مبارکہ کے مطابق ہے
05:10یا نہیں ہے
05:11تو یہ اب کڑا جائزہ لینا ہے
05:13خود اعتصابی کرنی ہے
05:14تو نیت کی بھی کرنی ہے
05:16عمل کی بھی کرنی ہے
05:17طریقہ کار پر بھی سوچنا ہے
05:19پھر یہ کہ اس کا نتیجہ کیا
05:21صرف دنیا کے فائدے کے لیے کیا تھا
05:22یا آخرت میں بھی فائدہ سوچا تھا
05:25آپ گھر کریں تو
05:26ہمارا عقیدہ آخرت
05:28ہمارے عقائد کا بڑا اہم حصہ ہے
05:30ہماری ایمانیات کا حصہ ہے
05:31تو ہی تو رسالت کے بعد
05:32آخرت
05:33عقیدہ آخرت کی بڑی اہمیت ہے
05:35بے شک بے شک
05:36کیونکہ ہمیں یہ معلوم ہے
05:37کہ یہ دنیا آرزی ہے
05:38ہمیں امتحان گاہ میں بیٹھے ہوئے
05:40ایگزامینیشن روم میں بیٹھے ہوئے ہیں
05:41اور ہمارے لما
05:42اپنا امتحان دے رہے ہیں
05:44اور ہمیں ایک دن
05:45اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہے
05:47اور آپ دیکھئے تو
05:49قیامت کا پورا منظر ملتا ہے
05:50اسلامی کتب میں
05:51آدیث مبارکہ میں
05:52قرآن مجید میں
05:54قیامت کے مناظر پر
05:55بے شمار صورتوں میں
05:56اس کا ذکر ملتا ہے
05:57کہ یہ دنیا آرزی ہے
05:59فانی ہے
06:00پانی کے بلبلے کی مانت ہے
06:02اور اصل زندگی
06:04دائمی زندگی
06:05تو لا فانی زندگی
06:06تو شروع ہی اس وقت ہوگی
06:08کہ جب حساب کتاب کے عمل سے گزر جاؤ گے
06:11تو پھر جنہوں نے اچھے عمال کی ہیں
06:13ان کو اس کا عجر اور اس کا ثواب
06:15جنت کی صورتوں میں
06:17نعمتوں کی صورت میں
06:18اس دن عطا ہوگا
06:19تو اب یہاں جو ہم اپنے عامال کر رہے ہیں
06:22ہم سے جو کچھ سرزد ہو رہا ہے
06:24اگر ہم اس کا کڑا جائزہ نہیں لیں گے
06:26اپنا اعتصاب نہیں کریں گے
06:28تو غلطیوں پر غلطیاں کرتے چلے جائیں گے
06:31پھر اس کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے
06:33کہ جب انسان اپنا اعتصاب خود کرتا ہے
06:35تو اپنی غلطیوں کی اصلاح بھی کر لیتا ہے
06:38اپنے عمل کو بہتر بھی بنا لیتا ہے
06:40اور زیادہ توبہ کرتے ہوئے
06:43تقویٰ کی راہ کو اختیار کرنا
06:45اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے
06:46پھر ایک اور پہلو یہ ہے
06:48کہ اس سے حکمت و دانائی بھی اتا ہوتی ہے
06:50جب بندہ اس راستے کو چوڑ کر
06:53تقویٰ کی راہ پر جم کے چلتا ہے
06:55حکیم لقوان سے کسی نے پوچھا
06:57کہ آپ کو اتنی حکمت و دانائی کیسے اتا ہو
06:59تو وہ فرماتے ہیں
07:01مجھے نادانوں سے ملی ہے
07:03پوچھا گیا وہ کیسے
07:05کہتے ہیں کہ وہ غلطی کرتے تھے
07:07اور میں اپنا اتصاب کرتا تھا
07:09کہ کہیں یہ بات
07:10کہیں یہ عادت
07:11کہیں یہ چیز میرے میں تو نہیں پائی جاتی
07:13اور اگر میرے اندر کہیں اس کی خوبو پائی جاتی تھی
07:16تو میں اس کا کڑا اتصاب کرتے ہیں
07:18اسے اپنے سے دور کرتا تھا
07:20تو جس سے کیا ہوا
07:21کہ حکمت و دانائی اتا ہوتا
07:23گویا انسان جب اپنا اتصاب کرتا ہے
07:26تو اس کی فکر بھی بہتر ہوتی ہے
07:28اس کی سوچ بہتر ہوتی ہے
07:30علمی فکری لحاظ سے بھی وہ ترقی کرتا ہے
07:32تقوی کی راہ پر بھی گامزن ہو جاتا ہے
07:34اور اس کے اندر استقامت بھی آتی چلی جاتی ہے
07:37جتنا زیادہ وہ اپنا کڑا اتصاب کرتا ہے
07:41کڑا جائزہ لیتا ہے
07:42تو بہتری کی طرف
07:43اور روحانی طور پر ترقی کی طرف چلا جاتا ہے
07:46سبحان اللہ
07:47اور آپ نے حساب کی بات کی نا
07:48دکٹر صاحبہ
07:49تو اللہ کے رسول سرور دعالم صلی اللہ علیہ وسلم
07:53آپ کے جانب بڑھوں گی سوال کو لے کے
07:56کہ ربی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے
08:00کہ اپنا حساب کر لو
08:01اس سے قبل کہ تمہارا حساب کیا جائے
08:04کیا فرمائیں گی
08:05بہت شکریہ میری بہن جزاک اللہ
08:07نعمدو و نسلی علی رسول کریم
08:10اما بعد
08:11وعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
08:13بسم اللہ الرحمن الرحیم
08:15آپ نے بہت جامع گفتگو کی
08:17اس کو آگے بڑھاتے ہوئے
08:19سب سے پہلے تو یہ بتاتی چلوں
08:21کہ خود احتسابی کو
08:23عربی میں محاصبہ کہتے ہیں
08:25اور انگریزی میں بتاتی چلوں
08:27کہ سیلف اکاؤنٹیبلیٹی
08:29اس کو کہا جاتا ہے
08:30اور آسان الفاظ اگر بیان کروں
08:32تو خود کا جائزہ لینا
08:34وہ عمال جو افعال جو گزر چکے ہیں
08:37ان پر ایک نظر
08:39سانی کر لینا خود احتسابی ہے
08:41اور ایک آسان ترجمہ
08:44یہ ہوگا کہ دوسروں سے بڑھ کر
08:45اپنے عمال کی فکر کرنا
08:47خود احتسابی کا حکومی
08:49ہمیں اس لیے دیا گیا ہے
08:50کہ ہم اپنے عمال کو دیکھیں
08:52بجائے اس کے کہ ہم دوسرے کے عمال پر نظر رکھیں
08:55اس کے اندر کمی کجیاں تلاش کریں
08:57تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:59کا جیسے سیدہ زیناب آپ نے بتایا
09:00کہ فرمان ہے کہ اپنا احتساب کرو
09:03قبل اس سے پہلے کہ تمہارا
09:05حساب لیا جائے
09:06اور اس کو مزید بڑھاؤں گی
09:08کہ آقا اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
09:09مزید یہ اس میں شامل کروں گی
09:10کہ اپنے عمال کو تولو
09:13قبل اس کے کہ تمہارے خلاف
09:15تولے جائیں
09:17اگر ہم صرف اس
09:19ایک حدیث مبارکہ کو ہی
09:21ہم سمجھنے پر یقین جانے ہیں
09:22کہ ہماری زندگی کیلئے کافی ہوگا
09:24اچھا اس کی تشریح کو جس کے لئے
09:25اس سے مراد یہ ہے
09:26کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:30فرماتے ہیں
09:31کہ بندے اپنے آپ کو پہچانو
09:33اپنی حقیقت کو پہچانو
09:35کہ اللہ رب العزت نے
09:37تمہیں دنیا میں کیوں بھیجا ہے
09:38اپنا نائب بنا کر
09:39اپنا خلیفہ بنا کر
09:40اس کا مقصد تو
09:42تمہاری عبادت
09:43تمہیں عبادت کی طرف راغب کرنا تھا
09:46اور آخرت کے لئے
09:47اللہ پاک نے دنیا میں اس لیے بھیجا
09:49تاکہ تم اپنی آخرت کے لئے
09:51سامان کر سکو
09:51تو ہمیں ذرا دیکھنا چاہیے
09:53آقا علیہ السلام کے اس فرمان کو لے کے
09:55کہ جو دن گزر چکے ہیں
09:57وہ دن کتنے ہم نے نیکیوں میں گزارے ہیں
10:00اور کتنے ہی دن ہمارے
10:02گناہوں کے ساتھ گزر گئے ہیں
10:03اور کتنے دن ایسے ہوں گے
10:05جس میں ہم نے کچھ نہیں کیا
10:06اور ہم نے زائع کر دیا
10:08تو آقا علیہ السلام کے فرمان علی شان کے مطابق
10:10ہمیں اپنا جائزہ لینا ہوگا
10:12اور ہمیں دیکھنا ہوگا
10:13اور پھر اگر ہم اس کے اندر
10:15اپنے ان عامال کے اندر
10:17ہمیں کمی کجی نظر آتی ہیں
10:18کچھ گناہ کچھ سرکشی نظر آتی ہیں
10:20اللہ کی نافرمانی ہمیں نظر آتی ہے
10:22تو ہمیں اللہ کے حضور توبہ کرنی ہوگی
10:26استغفار کرنا ہوگا
10:27اظہار ندامت کرنا ہوگا
10:29آجزی کی سجدے کرنے ہوں گے
10:31توبہ کے آنسو اللہ کی بارگاہ میں
10:32بہانے ہوں گے
10:33تاکہ اللہ رب العزت
10:35ہمیں معاف فرما دے
10:37اور اللہ تعالی ہماری توبہ کو قبول فرمالے
10:39کیونکہ آقا علیہ السلام کا
10:41ایک اور فرمان علی شان ہے
10:43اس کے ساتھ جوڑنا چاہوں گی
10:44کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں
10:46کہ ہر ابن آدم
10:48تمام انسان
10:49ہر ابن آدم
10:50کہیں کہیں خطاوار ہے
10:56بہت متقی بھی ہو
10:57کہیں نہ کہیں اپنے فعل میں
10:59ہم گناہگار ہیں
11:01لیکن آقا علیہ السلام فرماتے ہیں
11:02کہ بہترین خطاکار وہ ہے
11:04جو توبہ کرتا ہے
11:06سبحان اللہ
11:07کہ یا رسول اللہ
11:09کہ خطاکار بھی بہترین ہو سکتا ہے
11:11تو حضور نے فرما دیا
11:12کہ خطاکار وہ خطاکار بہترین ہے
11:15جس سے خطا تو زرزت ہوتی ہے
11:17لیکن وہ اس پر توبہ کر لیتا ہے
11:19اور اپنے عمل کو راہ راست پر لے کر آجا
11:22لیکن گناہ کر کے
11:23جو اس پر اڑ جاتا ہے
11:24اور گناہ کو گناہ نہیں سمجھتا
11:27اور بزد ہو جاتا ہے
11:28اللہ کریم کو ایسا بندہ
11:29بالکل پسند نہیں ہے
11:30اور اللہ کریم فرماتے ہیں
11:32قرآن پاک
11:32بے شک اللہ توبہ کرنے والوں سے
11:35بہت محبت کرتا ہے
11:37سبحان اللہ
11:38اب بتائیے ایسا رب ہمارا ہی ہے
11:40جو توبہ قبول بھی کرتا ہے
11:42ہمارے گناہوں کو معاف بھی فرماتا ہے
11:44اور اللہ ان لوگوں سے محبت بھی کرتا ہے
11:46حالانکہ
11:47دیکھیں اگر ہم سے کوئی غلطی سرزاد ہو جائے
11:49تو یوجلی ہمارے معاشرے میں یہ دیکھا گیا ہے
11:51کہ ہم معاف تو کر دیتے ہیں
11:53لیکن ہمارے دل سے
11:55اس شخص کے لیے
11:56وہ قطع کے نشانات باپی رہتے ہیں
11:58لیکن اللہ رب العزت
11:59وہ ذات ہے
12:01جو نہ صرف ہماری گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے
12:03بلکہ ہمارے گناہوں کو
12:05خطاؤں کو معاف فرما کے
12:06ہماری توبہ کرنے کی وجہ سے
12:08اس عمل کی وجہ سے
12:09ہم سے محبت بھی کرتا ہے
12:13یعنی ندامت کا وہ آنسو اللہ رب العزت کو بہت پسند ہے
12:17جو ایک بندہ مومن
12:19اس کے حضور بہاتا ہے
12:21ایک وقفہ لیتے ہیں
12:22حاضر ہوتے ہیں
12:23السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہو
12:26جناب خود احتسابی کے تعلق سے ہم بات کر رہے ہیں
12:30اور خود احتسابی
12:32جس طرح سے اللہ رب العزت
12:34قرآن مجید فرقان حمید کی روشنی میں بھی بیان کیا گیا
12:37ہماری اسکولرز نے بیان کیا
12:38نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
12:41کہ ارشادات کے مطابق
12:42ہمیں خود اپنا حساب
12:44اپنا احتساب کرنا ہے
12:45اور یہ احتساب ہم اسی وقت کریں گے
12:48کہ جب ہمیں خوف ہوگا
12:50جواب دہی کا
12:51جب ہمیں یقین ہوگا
12:53یوم آخرت پر
12:55کہ ہمیں ایک نہ ایک دن
12:56اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے
12:58ہمارے ساتھ شریک گفتگو مہمان شخصیت
13:01ڈاکٹر امتیاز جعوید خاکوی صاحبہ موجود ہیں
13:04اور ہمارے ساتھ ہنا رزوان بھی موجود ہیں
13:07ڈاکٹر صاحبہ
13:08نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
13:10کے اقوال کے مطابق
13:12ابھی ہنا رزوان نے بھی ہمیں بتایا
13:14اب آپ یہ اشارت فرما دیجئے
13:16کہ کوئی شخص جو اپنا احتساب کرنا چاہے
13:19کیا طریقہ ہوگا
13:20احتساب کا اور ہمارے بزرگوں کا
13:23کیا طریقے کار رہا ہے
13:24احتساب کے حوالے سے
13:25شکریہ جینب دیکھیں
13:27اللہ رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوق بنایا
13:30تین طرح کی مخلوقات کا خصوصی طور پر
13:33ذکر کیا جاتا ہے
13:34ایک ملائکہ جنہیں اطاعت کے لیے بنایا گیا
13:36اور وہ ان کے اندر نافرمانی
13:39کا کوئی انصر پایا ہی نہیں جاتا
13:41ہر وقت اللہ کی
13:43حمد و سنا میں اور اس کی اطاعت
13:45و فرما برداری میں لگے ہوئے ہیں
13:46اس کے بعد شیعتین ہیں
13:48جنات ہیں تو ان کے اندر شر غالب ہے
13:51ظلمت ہے ان کے اندر
13:52اور تیسری جو مخلوق ہے انسان
13:54انسان کو بنایا ہی اس طرح سے گیا
13:57کہ اس کے اندر فالہامہ
13:59فجورہا و تقویہ
14:00دونوں صفات رکھ دی گئی
14:02اب فی نفسی ہی اس کے اندر
14:04دونوں چیزیں چونکہ موجود ہیں
14:06شر بھی ہے خیر بھی ہے
14:07تو جب وہ شر کو چھوڑ کر خیر کی راہ پر چلتا ہے
14:11تو اللہ کے پسندیدہ
14:13بندوں میں شامل ہو جاتا ہے
14:14کیونکہ اس نے اس قوت کو
14:17ملیامیٹ کر دیا اپنے اندر سے
14:19اور اگر وہ اس راہ پر چلا
14:20پھر اس نے اپنا اتصاب کیا
14:23اور پھر اتصاب کے بعد
14:25اپنے آپ کو تقویہ کی راہ پر لگایا
14:27تو یہ وہ لوگ ہیں جنہیں
14:28تائیبین کہا گیا
14:30جنہوں نے توبہ کر لی جنہوں نے
14:32راہے حق کو پکڑ لیا
14:34اور پھر آپ دیکھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
14:37کہ سعی بخاری کی پہلی حدیث مبارکہ
14:39کہ انمال احمال بن نیات
14:41احمال کا دار و مدار
14:43نیت اوپر ہے
14:44اب آپ دیکھیں ایک ظاہر ہے اور ظاہر میں عمل آ رہا ہے
14:47نیت جو ہے وہ چھپی ہوئی ہے
14:49باطن میں ہے
14:49گویا ظاہر سے زیادہ کہیں
14:52باطن کا اتصاب ضروری ہے
14:54تو جب آپ کی نیت اچھی ہوتی ہے
14:57اچھی سوچ ہوتی ہے
14:58اور آپ خیر خواہی چاہ رہے ہیں
15:00تو عمل میں تھوڑی بہت کمی بھی رہ جائے
15:02تو وہ اللہ جانتا ہے
15:04نیتوں کو جانتا ہے
15:05تو وہ اس کمی کو ماف کر کے
15:07اس کو خیر کی راہ پر لگا سکتا ہے
15:09تو عمل سے زیادہ
15:10اس نیت کو باطن کو بہتر بنانے کی
15:13ضرورت بھی رہتی ہے
15:14اور خود اتصابی کا طریقہ بھی یہی ہے
15:17کہ اپنی سوچ کو بہتر بنائیں
15:19پھر اس کے بعد اپنے عمل کو
15:21اور بہتر بنانے کی کوئی چیز ضرور کریں
15:23جہاں تک بزرگوں کی بات ہے
15:25اور وہی ایک طریقہ کار بھی ہے
15:27خود اتصابی کا
15:27کہ جب رات کو سونے لگو
15:29تو سونے سے پہلے
15:30اپنے دن بھر کی نیکیوں کا جائزہ لو
15:33یہ نیکیاں تمہارا پروفٹ ہیں
15:35یہ گناہ تمہارے نقصانات ہیں
15:37اب تم خود سونے سے پہلے
15:39ایک ترازو اپنے ذینی طور پر رکھو
15:42کہ تمہارے نقصانات زیادہ ہوئے ہیں
15:44یا تمہارے پاس پروفٹ زیادہ ہے
15:46دن بھر کا
15:46آپ دیکھیں تو
15:47مال کی تقسیم ہو سکتی ہے
15:50منصب کی تقسیم ہو سکتی ہے
15:51حسن کی
15:52علم کی تقسیم ہو سکتی ہے
15:54وقت ایک جیسا ہے
15:55امیر کے پاس بھی
15:56غریب کے پاس بھی
15:57عالم کے پاس بھی
15:58اور جائل کے پاس بھی
15:59اس وقت کو
16:01کس نے صحیح استعمال کیا
16:03خیرخواہی کے کاموں میں کیا
16:04اب آپ دیکھیں
16:05خیرخواہی کا کام
16:06امیر بھی کر سکتا ہے
16:07God can!
16:08I'm getting into my work,
16:15that's why I'm a storeogram.
16:32He
16:33دوسرے دن کے لیے
16:34اپنی غلطیوں کا جائشہ لیتے ہوئے
16:36ان نقصانات کو
16:37اب آپ نے
16:38کی تھی
16:38Powder
16:39میں جانا ہے
16:40تو توбہ کی ضرورت ہے
16:41سουμε سے پہلے
16:42ان غلطیوں کا
16:44آپ نے صفح
16:44صاف کر لیا
16:45اب آپ
16:46صبح
16:46نئے صبح
16:47کا آغاز کریں
16:48تو اچھی کاموں کے ساتھ
16:50کریں
16:50اچھی سوچ کے ساتھ
16:52کریں
16:52جس سے کیا ہوگا
16:53اگلی شام آئی
16:54تو اب آپ کے پاس
16:55Profit
16:55زیادہ ہوا
16:57اب آپ کے پاس
16:57نفعہ ہے
16:58So this is a good thing.
17:28آپ دیکھیں تو کلت تاہم کلت کلام کلت منام کیا ہے
17:32خود کو تکلیف دینا
17:34جو چیزیں شک میں ڈالیں ان سے بھی پرہیز کرنا
17:37اور پھر اپنی ضروریات کو مختصر سے مختصر کرتے چلے جانا
17:41خود سوکی روٹی کھا لینا مگر میمان کو بہترین کھلانا
17:45خود کم سونا مگر اللہ کی عبادت زیادہ کر لینا
17:49تو اس رات کو سونے جیسا گولڈ جیسا بنا لینا
17:52یہ ان بزرگوں کا شیوہ تھا
17:54تو اس سے کیا ہوتا تھا کہ جب رات کو اس نور میں
17:58اس تجلیات میں رہتے تھے
17:59تو صبح اٹھ کر خیر اور شرر ان پر ایسے کھل جاتا تھا
18:03آج تو ہم وہ ہیں نا کہ خیر اور شرر میں تمیز نہیں کر پا
18:06رائٹ اور رانگ کا پتہ نہیں چل رہا
18:08تو وہ لوگ نفس کا کڑا احتساب کرتے ہوئے
18:11اس نور سے جب دیکھتے تھے
18:14توبہ کرتے ہوئے تو پھر انہیں رائٹ رانگ کا صحیح پتہ چلتا تھا
18:18جس سے وہ رانگ سے بچ جاتے تھے
18:20ہمیشہ سرات مستقیم پر رہنے کی کوشش کرتے تھے
18:23ان کے لئے عزت زلط مانی نہیں رکھتی تھی
18:26ان کے لئے ان کے رب کی رضا مانی رکھتی تھی
18:29کہ میں نے اللہ کس بات سے خوش ہوتا ہے
18:31ظاہری انہیں زلط بھی مل رہی ہے
18:33ملامت بھی مل رہی ہے
18:34تو تب بھی پریشان نہیں ہوتے تھے
18:38حضور داتا صاحب اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں
18:40کہ کچھ صوفیوں کا گروہ تھا
18:43وہ ان پر چلکے پینکتا رہا
18:44اور ملامت انہوں نے خود کو کی
18:50تو یہ لوگ ان کے لئے وہ چیزیں مانی نہیں رکھتی
18:53یہ اللہ کی رضا کے لئے ان کا ہر عمل ہوتا تھا
18:55یعنی کہ ہم اپنے نفس کو لگام دے کے
18:59کہتے ہیں نا آپ اپنے نفس کو لگام دے کے رکھیں
19:01ایک گھوڑے کی طرح اس کو لگام کھیج کے رکھنی چاہیے
19:05تاکہ وہ ادھر ادھر گناہ کی طرف مائل نہ ہو
19:07آپ یہ بتائے گا ہنہ رزوان صاحبہ
19:10کہ احتساب کے ایک تو فوائد ہماری بہنوں کو بتائے گا
19:13اس کے مقاسد پر بھی کلام کیجئے گا
19:16اچھا سب سے پہلے دوست جو سب سے بڑا فائدہ ہے یہ بتاتی چلوں
19:19کہ خود احتسابی جو ہے
19:20اپنا احتساب کرنا اپنا جائزہ لینا
19:22وہ ایک مسلمان کو مومن اور مومن کو
19:25ولایت کے درجے تک پہنچا دیتی ہے
19:28اس سے بڑا فائدہ تو
19:30دنیا میں آنے کا مقصد ہو ہی نہیں سکتا
19:32اچھا پھر کامیابی ہم سب کا مقصد ہے
19:34کہ ہم اللہ پاک ہمیں دین میں
19:36دنیا میں آخرت میں ہر جگہ کامیابی عطا فرمائے
19:38تو کامیابی کی طرف
19:40ہمارا پہلا قدم ہوگا
19:42وہ خود احتسابی ہوگا
19:44اب وہ کوئی پوچھے کہ کیسے ہوگا
19:45جب ہم اپنی عمال کا فعل کا
19:47جائزہ لیتے رہیں گے اپنے کاموں کا جائزہ لیتے رہیں گے
19:50تو اس سے جو ہماری چھوٹی غلطیاں
19:52کوتاہیاں ہوں گی اس کو ہم درست کر لیں گے
19:55جس کی وجہ سے ہم
19:56بڑی غلطی سے دو چار نہیں ہوں گے
19:58اس کی وجہ سے
19:59ہمیں اللہ پاک کامیابی کی رہ پر
20:01گامزن کر دے گا
20:02اور احتسابی ہی وہ عمل ہے
20:05خود کو کٹہرے میں لاکے کھڑا کرنا
20:07جو کہ ایک پیچیدہ عمل بھی ہے
20:09لیکن یہی وہ عمل ہے
20:10کہ جو جنت میں لے جائے گا
20:13جو دنیا کے لیے سربلندی کا وائس ہے
20:15اور آخرت کے لیے
20:17جنت کا راستہ ہے
20:18جنت کی طرف لے جائے گا
20:19اللہ پاک فرماتے ہیں
20:21اہل جنت کی گفتگو اللہ تعالیٰ بتاتے ہیں
20:23اور کیوں بتاتے ہیں
20:24کہ دیکھئے انہوں نے کیا کیا تھا
20:25جو میں نے ان کا مقام جنت کیا ہے
20:27کہ اہل جنت آپس میں گفتگو کرتے ہوں گے
20:30وہ گفتگو کرتے ہوں گے
20:31کہ ہم دنیا میں ہر وقت
20:33ڈرے رہتے تھے
20:34اب ڈرے کیوں رہتے تھے
20:35اس لیے ڈرے رہتے تھے
20:36کہ ہم سے اللہ کریم
20:37کوئی غلطی سرزت نہ ہو جائے
20:39ہم سے کوئی کتاہی نہ ہو جائے
20:41کوئی گناہ نہ ہو جائے
20:42اور ان تمام چیزوں سے بچنے کے لیے
20:44ہم اپنے عمال کو دیکھتے رہتے تھے
20:47ہم اپنی خود احتصابی کرتے رہتے تھے
20:49اور جب وہ کرتے رہتے تھے
20:50خود پر نظر رکھتے تھے
20:52اور ایسا کبھی ہوتا تھا
20:53کہ ہمارے پاؤں لڑکھڑاتے تھے
20:54کہ ہم صراط مستقیم سے ہٹ جاتے
20:56تو فوراں اپنا محاصبہ کر کے
20:58ہم اپنی ڈگر پر واپس آ جاتے تھے
21:01اور یہ جو دنیا کی خود احتصابی
21:03جو ہم نے اپنے اوپر لازم کر رکھی تھی
21:06وہ آج ہمیں جنت تک لے کر آ گئی ہے
21:09سبحان اللہ
21:09تو جنت مقام ہوتا ہے خود احتصابی کرنے والوں کے لیے
21:12مختصرا دو تین چیزیں
21:14اس میں اور اضافہ کرنا چاہوں گی
21:15کیونکہ فوائد اور مقاصد اس کے بے شمار ہیں
21:18اس کے بے شمار ہیں
21:19کہ دیکھیں خود احتصابی جب ہم کرتے ہیں
21:21تو صرف اپنے ظاہری عمال کی نہیں کرتے
21:24اپنے باطن کی بھی کرتے ہیں
21:26کیونکہ میں ہمیشہ کہتی ہوں
21:27کہ انسان اپنا سب سے بڑا جج
21:29خود ہوتا ہے
21:36اقلاق کیسے ہیں
21:37میری طور اتوار کیسے ہیں
21:39لیکن میرے جو دل کے پنہ خانوں میں
21:41جو چیزیں چھوپی ہیں
21:42اس کا کوئی مشاہدہ نہیں کر سکتا
21:44وہ صرف میں بندہ یا اس کا رب جانتا ہے
21:47تو جب ہم خود احتصابی کرتے ہیں
21:49تو ہم اپنے دل میں ٹٹولتے ہیں
21:50کہ یہاں پر کوئی تکبر تو نہیں پل رہا
21:53جب ہم خود احتصابی کرتے ہیں
21:55تو ہم دیکھتے ہیں
21:55کہ حسد نے تو جنم نہیں لے لیا
21:57ہم خود احتصابی کرتے ہیں
21:59تو دیکھتے ہیں
22:00کہ کسی کا بخص تو نہیں پل رہا
22:01جب ہم خود احتصابی کرتے ہیں
22:03تو ہم دیکھتے ہیں
22:04کہ ہمارے دل میں
22:05بری چیزوں نے تو گھر نہیں کر لیا
22:07جس کی وجہ سے ہمارے عمال ضائع ہو رہے ہیں
22:09اور ہمارے افعال ضائع ہو رہے ہیں
22:11اور خود احتصابی سے
22:12خود جو احتصاب کرتا ہے
22:14اپنے عمال پر جائزہ کرتا رہتا ہے
22:15گنتا رہتا ہے
22:16اچھائیوں برائیوں کو
22:17تو وہ غرور اور تکبر میں مبتلا نہیں ہوتا
22:20جب انسان کے سامنے
22:21اس کے اپنے برے افعال آتے ہیں
22:23تو اس میں آجزی و انکساری پیدا ہوتی ہے
22:25پھر اس کی نظر دوسروں کے عمال پر نہیں رہ دی
22:28کہ کون کیا کر رہا ہے
22:29کس کا کیا برا عمل ہے
22:30وہ یہ دیکھتا ہے
22:31کہ مجھ سے کیا خطائیں سرزد ہوئے ہیں
22:33تو یہ جس کا عمل ہوتا ہے
22:35اپنے عمال کا جب اس کو پتا چل جاتا ہے
22:38میں کہتی ہوں
22:38خود احتصابی جو ہے
22:40وہ اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے
22:42کہ میں کہتی ہوں
22:43اس سے بڑی اللہ پاک کی نعمت ہوئی نہیں سکتی
22:45کہ خود ہمیں اپنے گناہوں کا ادراک ہو جائے
22:48کہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے
22:49کیونکہ اکثر گناہ وہ گناہ
22:51جن میں ہم مبتلا ہوتے ہیں
22:52ہمیں پتہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ گناہ ہے
22:53تو جب ہم جائزہ لیتے ہیں
22:55محاصبہ کرتے ہیں
22:56محاصبہ کرتے ہیں
22:57اپنے نفس کا
22:57تسکیہ کرتے ہیں
22:58اپنے نفس کا
22:59جائزہ لیتے ہیں
23:00اپنے عمال کا
23:01اپنے پچھلے گزری ہوئی ساتھوں کا
23:03تو میں پتہ چل جاتا ہے
23:05کہ ہم تو بڑے گناہ گار
23:06مولا میں تو
23:07میں تو کوئی حیثیت نہیں رکھتی
23:09تو جو غروع اور تکبر ہوتا ہے
23:10ہمارے دل میں کسی چیز کا
23:11کہ میں تو عالم
23:12میں تو فاضل
23:13میں تو خوبصورت
23:14میں تو محلدار
23:14وہ غروع اور تکبر جڑ سے
23:16ختم ہو جاتا ہے
23:17اچھا خود احتسابی کا
23:19اگر انفرادی طور پر کی جائے
23:20ایک شخص کرتا ہے
23:21تو اس کے اثرات
23:23اس کی اپنی ذات پر
23:24اور اس کے خاندان پر
23:25مرتب ہوں گے
23:26اور اگر اس کو
23:27اجتماعی طور پر کیا جائے
23:29یعنی کہ
23:29معاشرے کے زیادہ تر
23:30لوگ اپنا احتساب کرنے لگیں
23:33تو اس سے یہ ہوگا
23:34کہ ایک بہترین معاشرہ
23:36جو ہے وہ
23:36پروان چڑے گا
23:38آج ہم احتساب کی بات
23:39تو بہت کرتے ہیں
23:40لیکن جب خود احتسابی کی بات آتی ہے
23:42تو ہم
23:42چشم پوشی کرنے لگتے ہیں
23:44ہم
23:45کترانے لگتے ہیں
23:46کہ کون اپنا احتساب کرے
23:47دوسرے کو کٹہرے میں کھڑا کرنا
23:49بہت آسان ہوتا ہے
23:50لیکن اپنی ذات کا محصبہ کرنا
23:52بدر مشکل کام ہوتا ہے
23:54اور اللہ کریم فرماتے ہیں
23:55کہ اللہ اس قوم کی حالت کو
23:56کبھی نہیں بدلتا
23:57جو خود اپنی حالت کو
23:59نہیں بدلنا چاہتی
24:00اور خود احتسابی کا
24:02ایک فائدہ میں آپ کو اور بتاتی چلوں
24:04شکوی شکایات کرنا
24:05بند کر دیتا ہے انسان
24:06دیکھیں نا
24:07بالخصوص میں خواتین کی بات کروں
24:10خواتین کا یہ پرگام ہے
24:12خواتین میں عام طور پر دیکھا گیا ہے
24:13کہ ان کو بڑی شکایتیں ہوتی ہیں
24:15اپنے رشتوں سے
24:17اپنے اردگرد کے محول سے
24:18اپنی قسمت سے
24:19حتیٰ کے رب سے بھی شکایت ہوتی ہیں
24:21اللہ اکبر
24:22ہم خود احتسابی کے عمل کو
24:24سرانجام دیتے ہیں
24:25تو اس سے ہماری شکایتیں دور ہو جاتی ہیں
24:27پھر ہم یہ نہیں دیکھتے
24:28کہ ہمیں کیا ملا
24:29پھر ہم یہ دیکھتے ہیں
24:30کہ ہم نے معاشرے کے کیا دیا
24:32مولا ہم نے تیری لیے کیا کیا ہے
24:34ہم نے تیرے بندوں کے لیے کیا کیا ہے
24:36ان رشتوں سے جس سے ہمیں شکایت ہے
24:37ان رشتوں کے لیے ہم نے کیا کیا ہے
24:40سبحان اللہ
24:41یعنی
24:42چونکہ انسان
24:43سب سے زیادہ بہتر طریقے سے
24:46اپنے آپ کو جانتا ہے
24:47اپنے نفس کو جانتا ہے
24:49اپنے ہر ہر
24:51کڑی نظر رکھتا ہے
24:52بے شک کہ ہم زبان سے نہ کہیں
24:54لیکن ہمارا دل جانتا ہے
24:56کہ ہم کیا ہیں
24:57ہم اندر سے کیا ہیں
25:02فاو دکھائی دیتا ہے
25:03تو ہمیں اپنے آپ کو
25:05سب سے پہلے بدلنا ہوتا ہے
25:06جب ہم خود احتسابی کے عمل سے گزرتے ہیں
25:09تو پھر اپنے سارے عمل
25:11عامال جو ہیں
25:11ہماری نظروں کے سامنے آ جاتے ہیں
25:13ایک وقفہ لیتے ہیں
25:14حاضر ہوتے ہیں
25:15السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
25:18آپ دیکھ رہے ہیں
25:19پرویان میری پہچان
25:20اور میری پہچان میں
25:22ایک مرتبہ پھر آپ سب کو
25:24خوش آمدیت کہتے ہیں
25:25مجھے جناب سیدہ زینب کہتے ہیں
25:27اور ہمارے ساتھ موجود ہیں
25:29ڈاکٹر امتیاز جاوید خاکوی صاحبہ
25:31اور ہنا رزوان صاحبہ بھی تشریف فرما ہیں
25:34خود احتسابی کے حوالے سے
25:36بڑی ڈیٹیل کے ساتھ آج بات کی ہے
25:39اور مزید اس گفتگو کو آگے بڑھائیں گے
25:41بہت کچھ سیکھنے کو ہمیں بھی مل رہا ہے
25:44یقین
25:44آپ کو بھی بہت کچھ اس پروگرام سے سیکھنے کو ملے گا
25:47اور آج سے ہی
25:49خود احتسابی کا یہ عمل ہم شروع کریں
25:51تاکہ ہم اپنی اچھائیوں
25:53برائیوں سب پر نظر رکھیں
25:55اپنی کوتہیوں پر بھی نظر رکھیں
25:57راکٹر صاحبہ آپ اشارت فرما دیجئے
25:59کہ اگر احتساب نہ کیا جائے
26:02تو کیا کیا نقصانات ہو سکتے ہیں
26:04کہیے گا
26:06شکریہ زینب دیکھیں اب تک یہ گفتگو ہو رہی تھی
26:08کہ خود احتسابی سے فائدے کیا حاصل ہو رہے ہیں
26:10دنیا میں بھی فائدے مل رہے ہیں
26:12اور آخرت میں بھی فائدے ہو رہے ہیں
26:13اللہ رب العزت نے فرمایا
26:15کد افلاحہ منزقہ
26:16کامیاب ہوئے ہو شخص جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا
26:19اب آپ دیکھیں
26:21تو اس کی زد کیا آئی
26:22اس کا متضاد کیا آیا
26:23کہ آپ نے اپنا محاسبہ نہیں کیا
26:25اپنے قدر تسابی نہیں کی
26:27تو آپ اس فلاح سے محروم ہو گئے
26:29اس کامیابی سے محروم ہو گئے
26:31نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گناہ کی
26:33جو دیفینیشن بتائی
26:36جو تمہارے دل میں کھٹکے
26:38وہ گناہ ہے
26:39تمہارا ضمیر تمہیں بتائے
26:40کہ ہاں تم غلطی کر رہے ہوں
26:42تو جب ہم خود تسابی نہیں کرتے
26:45تو ضمیر مردہ ہوتے چلے جاتے ہیں
26:48بے حصی بڑھتی چلی جاتی ہے
26:50احساس انسان محروم ہوتا چلے جاتا ہے
26:53گویا وہ جو اصل ہے
26:54آتے باطنیاں ہیں
26:55زندگی ہے وہ
26:57احساس ہے وہ
26:57اگر آپ اس سے محروم ہو گئے
26:59تو چلتی پڑتی لاشیں ہیں
27:01چلتے پڑتے مردے ہیں
27:02کہ جن کے اندر بے حصی بڑھ گئی ہے
27:04اور حصی کو آپ دیکھیں
27:06دوسری طرف
27:06نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
27:07کا فرمانے بار
27:08کہ انسان ایک گناہ کرتے
27:10غلطی کرتے ہیں
27:11تو دل پر ایک دبا بڑھ جاتا ہے
27:12اور جب گناہ کرتا چلا جاتا ہے
27:15تو دل کی دنیا سیاہ ہو جاتی ہے
27:17تو جب ہم خود تسابی نہیں کرتے
27:20جائزہ نہیں لیتے
27:22ہم غلطیوں پر غلطی ہیں
27:24غلطیوں پر غلطی ہیں
27:25اور پھر گناہ کی چادر
27:27وہ اتنی سیاہ دل پر تاری ہو جاتی ہے
27:29کہ اب کہیں تقبر بھی ہے
27:31نماز پڑھتے ہوئے بھی
27:33گردن اکڑی ہوئی ہیں
27:34میں تو اتنی عبادت کرتا ہوں
27:36میں تو اتنا کچھ کرتا ہوں
27:38کیا ہوا کہ اخلاق گرتے چلے گئے
27:41کردار گرتا چلا گیا
27:42باطنی طور پر
27:44پھر ظلم اور زیادتی بڑھتی چلی جاتی ہے
27:47آپ دوسرے کا حق غصب کریں
27:49اور آپ کو احساس ہی نہیں ہے
27:51دوسرے کو جو عزت دینی تھی
27:52وہ نہیں دی جاری
27:53جو مال دینا تھا
27:54وہ نہیں دیا جارا
27:55پھر ظلم کی ایک تصویر
27:59آپ کو معاشرے میں نظر آئے گی
28:00تو انفرادی سطح پر بھی
28:02اس فرد کی وجہ
28:03فرد کو نقصان اٹھانا پڑا
28:05باطنی روحانی طور پر
28:07مردہ ہوتا چلا گیا
28:08آخرت کا نقصان ہوا
28:09آخرت میں اس کے میزان پر
28:11اس کے نام اعمال میں
28:12اس کو غلطیاں اور گناہ ہی ملیں گے
28:15پھر اس دن آپ نقصانات
28:17اٹھا رہے ہوں گے
28:18اور ظاہری طور پر
28:20معاشرے میں دیکھیں
28:21کہ وہ جیسے کہتے ہیں
28:22کہ ایک گندی مچھلی
28:23سارے طالعہ آپ کو گندہ کرتے ہیں
28:25ایک فرد بے حص ہو جاتا ہے
28:27اور برائی کا شکار ہو جاتا ہے
28:30تو اس کے اثرات
28:31برے اثرات پورے
28:32اس کے فیملی پر پڑھتے ہیں
28:34اس کے دوستہ باب پر پڑھتے ہیں
28:36اور دیگر لوگوں پر بھی پڑھتے ہیں
28:38پھر یہ ہے
28:39کہ اس کی عزت نہیں رہتی
28:40اس کا وہ وقار نہیں رہتا
28:42اس کی اس سے محبت نہیں رہتی
28:44ظاہری اگر آپ لوگ مجبور ہیں
28:46آپ کے کسی منصب کی وجہ سے
28:48وہ آپ کو انچا بٹھا بھی رہے ہیں
28:50لیکن ان کے دل کے اندر
28:51منافقت رہے گی
28:52وہ آپ کو دل سے وہ مقام
28:54دے ہی نہیں سکتے
28:55خود پسندی بڑھ جاتی ہے
28:58خود پسندی بڑھتی ہے
28:59تو خود پرستی
29:00نفس پرستی بڑھتی ہے
29:02نفس پھولتا چلا جاتا ہے
29:04نفس انسان کو دیکھنے ہی نہیں دیتا
29:05اس کو اپنی عیبوں کو
29:07اپنی غلطیوں کو
29:08کہیں وہ اتصاب نہ کر سکے
29:10یہ نفس جب شیطان کا وزیر بنا ہوتا ہے
29:13تو ہم اس کی تباہ کاریوں سے آگاہ ہی نہیں ہو پاتے
29:16اس لیے خود اتصابی انتہائی ضروری ہے
29:20فرض کی طرح اسے لیں
29:22اور رات کو سونے سے پہلے
29:23ضرور استغفار کریں
29:25آپ دیکھیں تو استغفار اور توبہ
29:27انبیاء کیا کرتے ہیں
29:28نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
29:30ہر روز استغفار کرتے ہیں
29:32آپ نے امت کو تعقید کی
29:35کتب ابدال جتنے ہیں
29:37وہ سب ہر روز توبہ کرتے ہیں
29:39یہ توبہ کیا ہے
29:40یہ خود اتصابی تو ہے
29:41کہ اگر ظاہراً آپ کو
29:43بڑا گناہ نظر نہیں آرہا
29:45آپ نے کوئی بدکاری نہیں کی
29:46مگر بے شمار ایسے کی رہے ہیں
29:49جو آپ کے دل کو اندر سے کہاں جا رہے ہیں
29:51بے شمار اندر کی ایسی خرامیہ ہیں
29:53جن کو نکالنے کی ضرورت ہے
29:55ان کانٹوں کو باہر نکالنے کی ضرورت ہے
29:58تو وہ خود اتصابی سے نکلتے ہیں
30:00کہیں غرور ہوگا
30:02کہیں بے سبری ہوگی
30:03کہیں اجلت ہوگی
30:04کہیں غفلت ہوگی
30:05یہ وہ چیزیں ہیں
30:06جن پر نظر نہیں جاتی
30:09تو بہت باریکی سے کڑا جائزہ لیں
30:11تو پھر بندے کی نگاہ پڑتی ہے
30:14یاد رکھیں
30:15لمحے موجود میں بہت طاقت ہے
30:17کہ یہ وقت کی جو قوت میرے پاس ہے
30:20میں اسے پوزیٹیو استعمال کروں
30:22آج ہی توبہ کرلوں
30:24آج ہی خود اتصابی کرلوں
30:25اور اللہ مجھے تقوی کی راہ
30:28کو اختیار کرنی کی توقعی
30:29جیسے ابھی بات ہو رہی تھی
30:31کہ خدا نے آج تک
30:32اس قوم کی حالت نہیں بدلی
30:34نہ ہو جس کو خیال
30:36آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
30:38تو ہم خود اپنے حالت بدلنے کی کوشش کریں
30:41خیال ہمارے ذہن میں سب سے پہلے آئے
30:43ہمارا احساس نہ مر جائے
30:45بس یہ دھیان رکھیں
30:47کہ ہم اندر سے مردہ نہ ہو جائیں
30:49آپ کی جانب پڑھوں گی
30:50آپ یہ اشارت فرما دیجئے
30:52کہ احتساب کرتے ہوئے
30:53کن امور کو ملہوز رکھنا ہے
30:55حینا صاحبہ
30:56ایک بزر گزرے ہیں
30:57حضرت میمون بن مہران
30:59رحمت اللہ تعالی علیہ
31:00بڑی عجیب سی بات کی انہوں نے
31:03فرماتے ہیں
31:04کہ کوئی شخص اس وقت تک
31:06متقی ہو ہی نہیں سکتا
31:08جب تک وہ اپنا احتساب
31:10سختی کے ساتھ نہ کریں
31:12سختی کے ساتھ نہ کریں
31:13اللہ اکبر
31:14یعنی کہ متقی ہو ہی نہیں سکتا
31:15اگر وہ پریٹینڈ بھی کر رہا ہے
31:17کہ میں بڑا روزدار ہوں
31:19میں نمازی ہوں
31:20میں عالم ہوں
31:20میں فاضل ہوں
31:21لیکن اگر وہ اپنا ہی حساب نہیں کر رہا
31:23اور صرف دکھاوے کے لئے
31:25اس کی عبادات ہے
31:25تو وہ متقی نہیں ہو سکتا
31:27اور اسی طریقے سے
31:28حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کال ہے
31:30اچھا میں نے دیکھا
31:31کہ بڑے لوگوں کے کال میں
31:32بڑی جازبیت ہوتی ہے
31:33اس کی وجہ کیا ہے
31:35کیونکہ انہوں نے صرف کہا نہیں ہوتا
31:37منو ان جو ہیں
31:39وہ اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں
31:47تولتے رہو
31:48اپنے عمال کو تولتے رہو
31:50کہ قیامت کے دن
31:51تمہارے لئے آسانی ہوگی
31:53اور آپ کا عمل کیا تھا
31:54یہ میں اسی لئے بتا رہی ہوں
31:56کہ کن امور کو ملہوزے خاتے رکھنا چاہیے
31:59تو جو امیر المؤمنین ہیں
32:00تین بریازموں پہ جو حکومت کرتے ہیں
32:03ان کے احتساب کا حال کیا ہے
32:05خود سے کلام کرتے ہیں
32:06کہ اے نفس
32:07آج کا دن
32:08تو نے کون سا عمل کیا ہے
32:10تو یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا
32:12عمل مبارک ہے
32:13تو اس سے ہمیں کیا اخذ کرنا چاہیے
32:15کہ ہمیں اپنی خود احتسابی
32:17جو ہے نا وہ سب سے پہلے
32:18اس میں غیر جانب داری ہونی چاہیے
32:20کہ ہم بالکل ایمان داری کے ساتھ
32:22اپنے عمال کا محاذبہ کریں
32:25اور دیکھیں اس میں ایک چیز یہ ہے
32:26کہ جب خود احتسابی کرتے ہیں
32:28وہ دنیا کے سامنے نہیں ہے
32:29وہ تو آپ کا رب کا معاملہ ہے
32:31وہ کوئی تیسرا
32:33لیکن یہ دنیا میں ہے
32:34اور جب تک آپ زندہ ہے جب تک ہے
32:36لیکن جب معاملہ دنیا سے
32:38اور مرنے کے بعد آگے نکل جائے گا
32:40وہاں پر تو اللہ کی پوری خلقت موجود ہوگی
32:42بے شک
32:43تو وہاں پر پھر جو کٹہرہ لگایا جائے گا
32:45اس میں تمام عمال تو سب کے سامنے ہوں گے
32:47تو بہتر یہ ہے
32:48کہ اس دن کے خوف سے بچنے کے لیے
32:50آج ہم خوف زدہ ہو جائیں
32:52اور ہم اپنے عمال کا جائزہ لیں
32:54اور سب سے پہلے میں نے بتایا
32:56کہ اس میں غیر جانب داری ہونی چاہیے
32:59اور خود تحت سابی کے لیے
33:01انسان کو کرنا چاہیے
33:02کہ اپنی تنہائی کو پاک کر لیں
33:04سبحان اللہ
33:04اپنی تنہائی کو پاک کر لیں
33:06کیونکہ ہم وہ عمال تو بڑے اچھے کرتے ہیں
33:08جو لوگ ہمیں دیکھ رہے ہوتے ہیں
33:09کہیں سے ہم پر نظر ہوتی ہے
33:10لیکن جب ہماری تنہائی ہوتی ہے
33:12تو حقیقتا ہم وہی ہوتے ہیں
33:14جو تنہائی میں ہوتے ہیں
33:15تو دیکھنا یہ چاہیے
33:16کہ ہماری تنہائیوں میں
33:18ہمارا عمل کیا ہے
33:21ہم ذکر میں مہب ہیں
33:22اسکار میں مبتلا ہیں
33:24اللہ کی عبادت کر رہے ہیں
33:26قرآن پاک کی تلاوت کر رہے ہیں
33:27ہم فون لے کے اس پر سکرولنگ کر رہے ہیں
33:29جو کہ سوشل میڈیا آج کل
33:30ہمارا بڑا مومہ بنا ہوا ہے
33:32اور تنہائی کو اپنی دیکھنا چاہیے
33:34اور اگر دیکھا جائے
33:35کہ خود تحت سابی کرتے ہوئے
33:37کہ اگر جھول آ گیا ہے
33:39کہیں بندہ بشر ہے اللہ
33:40مولا ہماری فطرت میں گناہ ہے
33:41ہم سے سرزد ہو گیا
33:42اگر دیکھے کہ کہیں جھول آ گیا ہے
33:44تو اس پر توبہ اختیار کر لیں
33:46اور اللہ کریم اتنا کریم ہے
33:48کہ جب ہم توبہ کے آنسو بہاتے ہیں
33:50تو وہ اپنے فرشتوں کو حکم دیتا ہے
33:52کہ میرے بندے نے جس عمل پر توبہ کی ہے
33:55وہ اس کے نام عمال سے بلکل مٹا دو
33:58اور جس جگہ پر اس میں وہ گناہ کیا ہے
34:00اس جگہ کو اس کا یہ گناہ بلا دو
34:02تاکہ روز قیامت کوئی اس کی خلاف گواہی نہ دے سکے
34:05اور یہ بلکل پاک صاف
34:07سچے دل سے توبہ
34:08اس کے لئے ضروری کیا ہے
34:10صرف توبہ نہیں
34:11کہ آج توبہ کی ہے
34:12کل اس پر پھر گامزن ہے گناہ پر
34:13سچے دل سے توبہ
34:15وہ توبہ جس کے بعد گناہ نہ ہو
34:16ایسی توبہ اللہ پاک ہمیں نصیب فرما دے
34:18تو ہمیں توبہ کرنے لیے چاہیے
34:20ان گناہوں کو
34:21ان برے عمال کو
34:22اپنے عمال نامے سے کھرچ کر
34:24نکال دینا چاہیے
34:25اور کتہ تسابی میں
34:27ایک عمال ہمارا یہ ہونا چاہیے
34:28دیکھنا چاہیے
34:29کہ میری کسی قول سے
34:31فیل سے
34:31عمل سے
34:32اللہ کریم تیرے بندے پریشان تو نہیں ہے
34:34سبحان اللہ
34:35دیکھیں جو بندے کے
34:35اللہ کے ساتھ معاملات ہیں
34:37وہ بے شک مجھے یقین ہے
34:38کہ اللہ معاف کر دے گا
34:39لیکن جو میرا معاملہ
34:41کسی بندے کے ساتھ ہے
34:42وہ جب تک سامنے والا
34:44مجھے معاف نہیں کرے گا
34:45تو اللہ پاک بھی مجھے بخشے گا نہیں
34:46تو اس لیے دیکھنا چاہیے
34:48کہ ہمارے
34:49ہم فائدہ مند ہیں
34:52بہترین وہ ہے
34:52جس کی ذات سے
34:53جس کے عمل سے
34:54جس کے قول سے
34:55جس کے فیل سے
34:55کل انسانیت کو فائدہ ہو
34:58تو یہ دیکھنا ہے
34:59کہ میری ذات سے دوسروں کو
35:00مل کیا رہا ہے
35:02کہیں ایسا تھا نہیں
35:03کہ میرا کوئی عمل
35:04جو ہے وہ اتنا تکلیف دے ہے
35:05کہ میں تو اس کو
35:06اچھا ہی سمجھ رہی ہوں
35:07لیکن سامنے والا میری باتوں سے
35:09میرے عمل سے تکلیف میں مبتلا ہے
35:10کہیں میرے اندر حسد تو نہیں آگئی ہے
35:12کہیں خرزی تو نہیں آگئی
35:14کہیں تکپر
35:14اور یہ دیکھنا چاہیے
35:16خطہ تحسابی
35:16صلح رحمی کی بھی
35:18خطہ تحسابی کرنی چاہیے
35:19کہ جو ہمیں شکایات ہوتی ہیں
35:20جیسے میں نے پہلے بھی بیان کیا
35:22تو جب ہم اپنے
35:23صلح رحمی کی خطہ تحسابی کریں گے
35:24با خدا
35:25تمام لوگوں کے ساتھ
35:26شکایات دور ہو جائیں گی
35:27اور آپ اپنے طرز عمل
35:29کو دیکھنا شروع کر دیں گے
35:30سبحان اللہ
35:31سبحان اللہ
35:32یعنی انسان
35:33خطہ کا پتلا ہے
35:34رجوع اللہ
35:35اللہ کی طرف رجوع کر لیں
35:37دوڑیں اللہ کی جانب
35:38اللہ کی جانب
35:39ایسے دوڑیں
35:40کہ وہ پروردگار عالم
35:42جب ہماری طرف
35:43نظر کرم فرمائے
35:44تو وہ دیکھے
35:45کہ میرا بندہ نادم ہے
35:46پریشان ہے
35:47آنسو بہائیں
35:48تو اس کی رحمت
35:49ضرور جوش میں آئے گی
35:51ڈاکٹر صاحبہ
35:52کیا میسیج دینا چاہیں گی
35:53کہیے گا
35:54زینب نبی کریم
35:56صلی اللہ علیہ وسلم
35:56کا قول مبارک کا مفہوم ہے
35:58کہ اللہ جب کسی کے ساتھ
36:00خیر کا ارادہ فرماتا ہے
36:01تو اسے اس کی عہبوں سے
36:03آگاہ کر دیتا ہے
36:04تو آپ غور کریں
36:05اپنی عہبوں سے آگاہ کرنے
36:07کا مطلب یہ آگاہ ہو جانے
36:09کا مطلب یہ ہے
36:09کہ اللہ
36:10ہمارے لئے خیر چاہ رہا ہے
36:12کہ ہم خیر کی رہا پر
36:13گامزان ہو جائیں
36:14تو ہم اپنے عہبوں سے آگاہ ہو جائیں
36:16اب جب ہاتھ اٹھا کر
36:17ہم اشارہ کرتے ہیں
36:18کسی کی طرف
36:18تو آپ دیکھیں
36:19ایک انگلی سے اشارہ تھا
36:20تین ہماری اپنی طرف جاری ہوتی ہے
36:22یہ اس سے کئی زیادہ عہب
36:24ہم میں پائے جاتے ہیں
36:25تو خود اتصابی کی ضرورت ہے
36:28بحیثیت انسان
36:29بحیثیت فرد کے بھی
36:30اور بحیثیت قوم کے بھی
36:32دونوں حوالوں سے
36:34اتصاب بہت ضروری ہے
36:35بحیثیت مجموعی
36:37ہمیں اس کا جائزہ لینا چاہیے
36:38ڈاکٹر صاحب آپ کی آمد کی
36:40بہت مشکور ہوں
36:41ہنہ رزوان صاحب
36:42آپ تشریف لائی ہیں
36:43بہت شکریہ آپ کی آمد کا
36:44اور جناب خود احتصابی
36:46کے تعلق سے بات ہوئی
36:48اور یہ اتنی اہم
36:49اور اتنی ضروری ہے
36:51ہر ہر انسان کے لیے
36:53ہر بندہ مومن
36:55بندہ بشر کے لیے
36:56کیوں؟
36:57کیونکہ وہ دیکھے
36:58وہ جانے
36:59وہ پرکھے
36:59اپنے آپ کو
37:00یعنی آدمی
37:01اپنے آپ کو
37:02سب سے بہتر جانتا ہے
37:04جیسا کہ ابھی
37:04دورانِ گفتگو
37:06بھی بات ہوئی
37:07تو ہمیں معلوم ہے
37:08ہم کیا ہے
37:09جب انسان بات کرتا ہے
37:11لوگوں کے درمیان رہتا ہے
37:12تو بہت اچھا اچھا
37:14دکھاتا ہے
37:15اپنے آپ کو
37:16لیکن وہی بات ہے
37:17کہ جب آپ
37:18اللہ کے حضور حاضر ہوتے ہیں
37:20تو وہ ساری
37:21کوتاہیاں
37:22وہ ساری برائیاں
37:23وہ سارے گناہ
37:24وہ سارے کام
37:25جو نقصان دینے کے لیے
37:27کبھی ہم نے
37:27کسی کے لیے کیے ہیں
37:29وہ حسد
37:30وہ کینا
37:31وہ بغس
37:34جو ہم نے کسی کے ساتھ کی ہیں
37:36وہ ساری
37:37ہماری آنکھوں کے سامنے
37:39گھومنے لگتی ہیں
37:40پھر
37:40انسان
37:41معافی مانگ لے
37:42اللہ سے
37:43وہ بڑا غفور الرحیم ہے
37:45وہ معاف کر دیتا ہے
37:46اور معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ
37:48پھر اپنے آپ کو
37:49صدارنا ہے
37:50اور سیدھی راہ پر چلنے کا
37:52ہمیں
37:53اللہ رب العزت
37:54ہمیں توفیق عطا فرمائے
37:56اس کے ساتھ ہی
37:56اپنی مزبان
37:57سیدہ زینب کو دیجے گا
37:59اجازت
37:59زندگی بخیر
38:00تو کسی نئے انوان کے ساتھ
38:02ایک نئے پیغام
38:03نئے میسج کے ساتھ
38:04میری پہچان میں پھر حاضر ہوں گے
38:06فی امان اللہ
Comments