Skip to playerSkip to main content
Roshni Sab Kay Liye

Watch All The Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xic1NLGY05O7GY70CDrW_HCC

Topic: Azmat e Insan

Host: Raees Ahmed

Guest: Mufti Mhammad Sohail Raza Amjadi, Mufti Khurram Iqbal Rehmani

#RoshniSabKayLiye #islamicinformation #ARYQtv

A Live Program Carrying the Tag Line of Ary Qtv as Its Title and Covering a Vast Range of Topics Related to Islam with Support of Quran and Sunnah, The Core Purpose of Program Is to Gather Our Mainstream and Renowned Ulemas, Mufties and Scholars Under One Title, On One Time Slot, Making It Simple and Convenient for Our Viewers to Get Interacted with Ary Qtv Through This Platform.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00Allah subhanahu wa ta'ala
00:30اللہم صلی علی سیدنا و مولانا محمد علی آل سیدنا و مولانا محمد مبارک وسلم
00:38ناظرین محمد السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ میں ہوں آپ کا مزبان محمد رئیس احمد
00:43پروگرام ہے روشنی سب کے لیے مختلف اور متنوے موضوعات کے ساتھ
00:47الحمدللہ پیر منگل بود یہ پروگرام جاری ساری رہتا ہے
00:51بہت ہی خوبصورت انداز میں موضوعات کا چناؤ
00:54اور اس پر تسلسل کے ساتھ جن سوالات کو پیش کیا جاتا ہے
00:58شامل کیا جاتا ہے
00:59اس سے موضوع کی وضاحت میں
01:01موضوع کو ڈسکرائب کرنے میں بہت آسانی ہو جاتی ہے
01:05اور ناظرین کو وہ مواد ملتا ہے
01:07الحمدللہ جس کے سبب عرصہ دراز سے یہ پروگرام جاری ساری ہے
01:12اور اس کی پسندیدگی بھی جاری ہے
01:14اور جیترین علماء حضرات
01:16ماشاءاللہ ہمارے اس پروگرام کے پینل میں شاملوں موجود ہوتے ہیں
01:21جو گفتو کرتے ہیں اپنے وقی تر متعلقی روشنی میں
01:24آج ناظرین عظمت انسان پر ہم بات کر رہے ہیں
01:29human dignity کہیں
01:32یا greatness of man کہیں
01:34یا اور کوئی نام لیں
01:36عظمت انسان جو ہے یہ بہت بڑا موضوع ہے
01:39آج اگر انسان
01:41آج کے دور کا انسان اگر اس موضوع کو دیکھے
01:45اور اس کی عظمت کو سمجھ پائے
01:47تو وہ اس بات کا ادراک کرے گا
01:50کہ یہ تو وہ ہے کہ جو اشرف المخلوقات ہے
01:53تمام مخلوقات میں اشرف ہے
01:55یہ وہ ہے کہ جو خلیفت الارد ہے
02:00یعنی کہ اللہ کا نائب ہے
02:01زمین پر
02:02یہ تو وہ ہے کہ جو مسجود ملائکہ ہے
02:05اس کی تو بڑی شان و عظمت ہے
02:07لیکن اپنے ہی کیے ایسے آمال کے سبب
02:10آج کا انسان
02:11اس سطح پر نظر آتا ہے
02:13کہ وہ انسانیت بھی اس پر شرمندہ نظر آتی ہے
02:16بہت عظمت ہے
02:17بڑی رفت ہے
02:18اللہ نے بڑا رتبہ دیا
02:20بڑے اختیارات دیئے
02:21بڑے حصیات عطا فرمائی
02:24اور بہت ایسی خصوصیات اور اعصاف سے
02:27متصف فرمایا
02:28کہ یہ مخلوق
02:29یعنی کہ حضرت انسان جو ہے
02:31وہ ساری مخلوقات میں
02:33ممیز و ممتاز نظر آتا ہے
02:35تو اس حوالے سے انشاءاللہ بات کریں گے
02:37ممتاز و معروف علم الدین
02:38حضرت علامہ مفتی
02:39محمد سحیل رضا مجدی صاحب
02:41تشریف فرمایا
02:42میری بھی آج کئی دن بعد
02:43حضرت کی زیارت ہوئی
02:45اور ملاقات ہوئی
02:45بہت اچھا لگا
02:46السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
02:48و علیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
02:51امیدی کہ آپ
02:51صحت آفیت کے ساتھ ہوں گے
02:53ماشاءاللہ
02:53اللہ
02:53اللہ
02:54اللہ
02:55بہتر پر
02:56امین
02:58اور میرے بائیں جانب
02:59علامہ مفتی خرم
03:01اقبال ریمانی صاحب
03:02بہت امدالی میں دین ہیں
03:03ماشاءاللہ
03:03اور متواتر
03:04متعدد پرگرامز کا حصہ ہوا کرتے ہیں
03:07اے آر و آئی کیو ٹی
03:07پر تشریف فرمائیں
03:08السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
03:10و علیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
03:12اچھا مفت صاحب ابتدان
03:13اللہ تعالی نے انسان کو جو عظمت
03:15عطا فرمائی ہے
03:16تو
03:17ظاہر ہے ہم تو طالب علم ہیں
03:19ہماری وہ نظر نہیں ہے
03:20یا جو عام قارین ہے
03:22جو ناظرین ہمارے
03:23آپ کیا فرمائے گا
03:24کہ
03:25اضروع قرآن جو عظمت
03:26انسان نظر آ رہی ہے
03:28وہ کیا ہے
03:29اس پر کچھ روشن ڈالیے
03:30بسم اللہ الرحمن الرحیم
03:33صلی اللہ علیہ و علیہ وآلہ
03:35Asa alihi wa ashabihi wa baraka wa selam
03:38देखें, बन्दा, कुराने करीम के
03:41इस आयत करीमा को पढ़ेना कि
03:42कि वफी अन्फसिकुम अफला तुबसिरूम
03:45कि तुम्हारे नफसों में
03:48यानि तुम अपने बारे में गौर करो
03:51अपने आपको देखो
03:52तो तुम्हें अल्ला की समझ आएगी
04:05ایک فضیلت ہے جو اس کا قرب ہے وہ تم سمجھ پاؤ گے اب ہم دیکھتے ہیں
04:11کہ اللہ رب العالمین نے انسان کو وہ شرف وہ فضیلت عطا فرمائی جو
04:17اور مخلوقات کے حصے میں نہیں آئیں مثال کے طور پر انسان کو آپ یہ
04:23دیکھیں کہ اللہ رب العالمین نے اس طرح شرف عطا فرمایا کہ ظاہری طور
04:28پر بھی حسن و جمال عطا فرمایا اور اس کی تعاید کوئی اور نہیں
04:34کر رہا اس کا بیان اللہ رب العالمین خود قرآن کریم میں فرمایا ہے
04:39کہ لقد خلقنا لانسان فی احسن تقویم خلقنا لخلقا نہیں فرمایا
04:46کہ اس نے تمام مخلوق آجاتی خلقنا لانسان
04:50کہ ہم نے اسپیشل طور پر انسان کو بہترین تقویم میں پیدا فرمایا
04:57دوسری بات یہ ہے کہ خاص طور پر آپ یہ دیکھیں یہ کسی اور مخلوق
05:03کے لئے نہیں فرمایا سورہ اسرہ کی آیت نمبر 70 میں آپ دیکھیں
05:07ہم نے بنی آدم کو عزت کا تاج پینایا
05:15ہم نے اسے خوشکی اور تری میں رہنے کا ڈھنگ عطا فرمایا
05:23ورزقناہم من الطیبات ہم نے اسے پاکیزہ رزق عطا فرمایا
05:30وفضلناہم علا کثید ممن خلقنا تفدیلا
05:34ہم نے اپنی کثیر مخلوقات سے اگر کسی کو ہم نے فضیلت بخشی ہے
05:40تو وہ حضرت انسان کو بخشی ہے
05:42اچھا اس کے ساتھ اب یہ دیکھیں کہ جہاں پر رزق کی بات آتی ہے نا
05:47وہاں رزق صرف کھانے پینے کا پاکیزہ رزق عطا نہیں
05:51صرف یہ مراد نہیں ہے
05:53جس چیز سے انسان کو فائدہ پہنچتا ہے
05:58وہ اس کے لیے رزق کا درجہ رکھتی ہے
06:01اس کو اگر ہم وسیع مفہوم ملیں
06:03تو اسی رزق میں اس کی پاکیزہ اقل بھی آ جاتی ہے
06:07اسی رزق میں اس کا پاکیزہ شعور بھی آ جاتا ہے
06:11اسی رزق میں اس کا پاکیزہ علم
06:14اس کی پاکیزہ آگئی بھی آ جاتی ہے
06:17اسی رزق میں اس کا پاکیزہ ادراک بھی آ جاتا ہے
06:20اور اس کا قابل صلاحیت ہونا
06:23یہ بھی اسی رزق زمرے میں آتا ہے
06:26یہ ساری چیزیں اللہ رب العالمین نے
06:28کسی اور مخلوق میں یقجہ نہیں فرمائی
06:31یہ صرف حضرت انسان میں
06:33اللہ تبارک وطالہ نے یقجہ فرمائی
06:36دوسری بلکہ تیسری چیز یہ ہے
06:38کہ اللہ تبارک وطالہ نے
06:41جب آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا
06:43تو اس میں ہمیں دو روایات ملتی ہیں
06:46ایک تو یہ ہے
06:48کہ ہم نے انسان کو
06:50اپنی صورت میں پیدا فرمایا
06:52یہ حدیث قدسی ہے
06:54اپنی شان کے مطابق
06:56اپنی صورت میں پیدا فرمایا
06:58اور دوسری روایت میں یہ ہے
07:00کہ فی احسنی صورہ
07:02ہم نے انسان کو
07:03بہترین صورت میں پیدا فرمایا
07:05اور قرآن کہتا ہے
07:07کہ
07:08کہ
07:14کہ
07:14تو اس کے سامنے
07:16سجدہ ریز ہونے سے انکار کر رہا ہے
07:18کہ جس کو ہم نے
07:19اپنے دست قدر سے پیدا فرمایا
07:21یعنی آپ یہ دیکھیں
07:23کہ جو انسان
07:24یعنی جو مخلوق
07:25اللہ تعالیٰ فرمائے
07:26کہ اس کو میں نے
07:27دست قدر سے پیدا فرمایا
07:29اس کی شان کیا ہوگی
07:30پھر ابلیس نے
07:32سجدہ سے انکار کیا
07:34تو آدم علیہ السلام
07:36کے مطالق کیا فرمایا
07:37کہ ہم نے
07:38اس کو دست قدرت سے پیدا فرمایا
07:40یعنی اب اس میں
07:41آدم علیہ السلام تو ہیں
07:42ظاہری طور پر
07:44لیکن اس میں
07:44تمام انسانوں کا ہونا مراد ہے
07:47کیوں
07:47کہ آدم علیہ السلام
07:48تمام انسانوں کے باپ ہیں
07:51اور اسی زمن میں
07:52میں ایک اور بات کروں گا
07:54کہ یہاں پر
07:55آدم علیہ السلام کے بارے میں
07:56فرمایا
07:57خلق تبیعتی
07:57اچھا اس کے علاوہ
07:59آپ یہ دیکھیں
08:00کہ انسانی تخلیق کے مراحل
08:02یہ قرآن کا موضوع نہیں ہے
08:04یہ قرآن کا موضوع نہیں ہے
08:06لیکن اللہ تبارک و تعالی نے
08:08انسان
08:09انسانیت کی تقریم کے لیے
08:11انسان کی تقریم کے لیے
08:13اس کا ایک مقام پر
08:14نہیں کئی مقامات
08:15اور بیان فرمایا
08:16یعنی آپ دیکھیں کتنے مراحل
08:25کہ ہم نے انسان کو
08:27ایک مٹی سے پیدا فرمایا
08:29پھر وہ خون کی پھٹک بنی
08:31پھر لوتھڑا بنا
08:32اور اس میں یہ کہ فرمایا
08:34کہ گوشت کا لوتھڑا بنا
08:36تو بغیر نقشے کے
08:38اور نقشے کے
08:38پھر اس کے بعد آگے فرمایا
08:40کہ ہم نے تمہیں کتنا عرصہ
08:42ماں کے پیٹوں میں رکھا
08:43پھر تمہیں دنیا میں نکالا
08:45پھر تمہیں ہم نے بچپن اطاع فرمایا
08:47یہاں تک
08:48پھر تمہیں جوانی اطاع فرمائی
08:52پھر ہم نے تمہیں بڑا با بھی اطاع فرمایا
08:55یہ سارے تخلیقی مراحل
08:57قرآن کا موضوع نہیں
08:59لیکن فقط انسان کی تقریم کے لیے
09:02اللہ تبارک و تعالی نے بیان فرمائے
09:04اور آخری بات
09:05کہ انسان ہی وہ ہے
09:07وہ مخلوق ہے
09:08جس کو اللہ تبارک و تعالی نے
09:11بیان کی طاقت بھی اطاع فرمائی
09:13اور اظہار کی طاقت بھی اطاع فرمائی
09:15الرحمن علم القرآن
09:18خلق الانسان علمہ البیان
09:20کیا کہنے ہیں
09:21مفسی صاحب نے کمال کر دیا
09:22اور کیا ہی اچھی خوبصورت آیات
09:24ساری آیات خوبصورت قرآن کریم کی
09:26لیکن خالصتا جو عظمت انسان پر
09:29دلالت کرتی ہوئی آیات ہیں
09:31ان کا حوالہ دیا
09:32اور آج یہ پروگرام جو ہے
09:33بنیادی طور پر دستک دے رہا ہے
09:35تمام انسانوں کو
09:36کہ دیکھو اپنی عظمت کو
09:38سوچو اپنی عظمت کو
09:39اور کسی اور کا کہا نہیں
09:41اللہ کا کہا
09:42اللہ کا فرمایا ہوا
09:43اس قرآن میں پڑھو
09:45کہ تمہاری کیا عظمت ہے
09:46تمہیں اللہ نے کتنی شانیں اطاع فرمائی ہیں
09:48اشرف المخلوقات بنایا
09:50لقد خلقنا الانسانا
09:52فی احسنی تقویم
09:54فرما دیا گیا
09:54اچھا اب اشرف المخلوقات
09:57کا بھی حوالہ آیا
09:58یہ ایک بہت بڑی چیز ہے
09:59اس کے ساتھ ایک اور چیز ہے
10:00اس کے جسٹ اپوزٹ
10:02وہ کیا ہے
10:03اس پر انشاءاللہ بات کریں گے
10:04ایک مختصر سا وقفہ
10:05وقف کے بعد حاضر ہوتا ہے
10:07ہمارا ساتھ رہیے گا
10:08تو بات ہو رہی ہے
10:08عظمت انسان کی
10:09اور عظمت انسان پر بات
10:11بہت اچھا انداز میں
10:12قبلہ مفتی صاحب نے اشارت فرمائی
10:14اشرف المخلوقات
10:15اتنی شانیں
10:16اتنا حسن
10:17اتنا جمال
10:18اتنی خصوصیات
10:18تو کیا یہ ممکن ہے
10:21یہ بات ممکن ہے
10:22انسانی ذہن میں
10:22سوال پیدا ہوتا ہے
10:23مفتی صاحب
10:24کہ جو اشرف ہے
10:25وہ
10:26ارزل المخلوق
10:27کہا جا ہے
10:29اس کو
10:29یہ کہا جا سکتا ہے
10:30اس کو کیا کہیے گا
10:31بسم اللہ الرحمن الرحیم
10:33والصلاة والسلام
10:34علی رسول کریم
10:35اما بعد
10:36رئیس میں بہت ہی اہم
10:37سوال ہے
10:38اور قرآن مجید
10:39فرقان حمید کی آیت بیجینات
10:40جس طرح قبلہ
10:41مفتی صاحب نے بھی
10:42تلاوت فرمائی ہے
10:43اس سے تو ہمیں یہ
10:45معلوم ہوا کہ
10:46انسان
10:46بائی ڈیفالٹ
10:47یعنی اپنی
10:48تخلیق میں
10:49اشرف ہے
10:50بے شک
10:50اچھا اس میں
10:51اللہ سبحانہ وطالعہ
10:52نے سید ون آدم
10:53علیہ السلام کی
10:53تخلیق ہے جس سے
10:54نے ذکر فرمایا
10:55تو اب جو ان کے
10:56طریق پر رہا
10:57وہی اشرف ہے
10:58جس نے وہ طریق
11:00چھوڑ دیا
11:00پھر وہ اس مقام
11:01فضیلت کا حامل
11:02نہیں رہے گا
11:03قرآن مجید
11:04فرقان حمید میں
11:05اللہ سبحانہ وطالعہ
11:06نے اپنی اس
11:07مخلوق کے
11:08جو خلق انسانی ہے
11:09اس کے دو گروہوں
11:10کا ذکر فرمایا
11:11فرمایا
11:11اولائی کا ہم شر البریہ
11:13اولائی کا ہم خیر البریہ
11:15یعنی ان میں سے
11:16ایک وہ ہیں
11:16جو بہترین مخلوق ہیں
11:17اور ایک وہ ہیں
11:18جو بہترین مخلوق ہیں
11:19جو بہترین مخلوق ہیں
11:21یعنی ان اشرف المخلوقات میں
11:22جو اپنے منصب پر
11:23قائم اور دائی میں
11:24وہ کون ہیں
11:24فرمایا
11:25جو ایمان لے کر آئے
11:28اور عمال صالحہ کرتے رہے
11:30یعنی جس رب نے انہیں خلق فرمایا
11:32اس کو مانتے رہے
11:33اور اس کی مانتے رہے
11:34جس نے پیدا کیا
11:36اس کی عبادت بھی کی
11:37اور اس کی مرضی کے مطابق
11:38زندگی گزارتے رہے
11:40تو وہ جو انہیں منصب اطا فرمایا گیا تھا
11:42وہ جو شرف اور فضیلت اطا فرمایا تھا
11:44وہ ہمیشہ اس پر قائم اور دائیم رہیں گے
11:46اور جب اپنے رب کی نافرمانی کریں گے
11:48کفر کو اختیار کریں گے
11:50تو پھر وہ اپنے منصب پر قائم اور دائیم
11:52نہیں رہ سکیں گے
11:53پھر وہ شر البریہ میں شمار کیے جائیں گے
11:55سورت تین کے اندر پر اشارت فرمایا
11:58جیسے لقد خلقنا الانسانا فی احسن التقویم
12:00تو اس کے فوراً بعد اشارت فرمایا
12:01ثم رددناہو اسفل سافلین
12:04اب یہ اسفل سافلین جو ہے
12:06یہ بندے کو جو اختیارات دیے گئے ہیں
12:08یہ بھی اسمت انسانی کا ایک باب ہے
12:10کہ اللہ پاکہ نے اسے اختیارات بھی اطا فرمایا
12:12آخر شعور سے بھی نوازہ ہے
12:13پھر ہدایت اور اہنمائی کے بہترین سرچشمے
12:16اس کو اطا فرمایا ہے
12:17اس کے باوجود اگر وہ ہدایت سے رو گردانی کرتا ہے
12:19تو فرمایا پھر وہ اسفل سافلین بن جاتا ہے
12:22اب اس کو قرآن مجد فرقان امید کی روح میں
12:24مزید ہم اس کو دیکھتے ہیں
12:25تو ایک طرف گروہ انبیاء ہیں
12:27جو اللہ سبحانہ و تعالی کی محبوب بندے ہیں
12:29جو اللہ سبحانہ و تعالی کی بارگاہ میں
12:32اتنے محبوب ہیں
12:33کہ جو ان کے طریقے پر چلتا ہے
12:35اس کو بھی مقام محبوبیت نصیب ہو جاتا ہے
12:37اور دوسری طرف ان کے مقابل
12:39کہیں فیرون نظر آتا ہے
12:41کہیں نمرود نظر آتا ہے
12:42کہیں شداد اور قارون نظر آتا ہے
12:44تو وہ سارے کے سارے شر البریہ کی بہترین
12:47اور مثال ہمیں نظر آتے ہیں
12:49کہ دیکھو فیرون بھی انسان ہی تھا
12:51اگر وہ اللہ کے نبی کی بات کو مان لیتا تھا
12:54وہ اشرف المخروعات کے درجے میں رہتا
12:56لیکن چونکہ اللہ کے نبی کی بات کو نہیں مانا
12:58اللہ کے نبی کا انکار کیا
13:00اللہ کا انکار کیا
13:01بلکہ خود خدا ہونے کا دعویٰ کیا
13:03تو اب وہ اشرف کے منصب پر فائز نہیں
13:05اب وہ ارزل ہو گیا
13:06کیونکہ ہے وہ قبیرہ انسان سے ہی
13:09سیدونا آدم علیہ السلام کی اولادوں میں سے ہی ہے
13:11لیکن یہ وہی وعدہ اللہ پاک کا نا
13:14کہ لا ينالو عہد الوالمین
13:15کہ میں امامت تو عطا کروں گا
13:18منصب فضیلت بھی عطا کروں گا
13:19لیکن جو ظالم ہیں
13:20انہیں یہ مقام ملنے والا نہیں ہیں
13:23تو ارزل کا جو ارزل المخلوقات وہ انسان ہیں
13:27جو اللہ سبحانہ وتعالی کی انا فرمانی کر رہے ہیں
13:30جو انسانیت سے گرے ہوئے کام کر رہے ہیں
13:33بلکہ انسانیت کے لیے وہ شرمندگی کا باعث بن رہے ہیں
13:37کئی ایسے افراد ہمیں نظر آتے ہیں
13:39آج بھی ظلم و ستم کے پہاڑ جب پولے جاتے ہیں
13:41تو پھر وہ بقائدہ ظلم کی نمائندے بن کر سامنے آ رہے ہوتے ہیں
13:45تو کچھ شخصیاتوں ہیں جو حق کا نمائندہ ہیں
13:47جن کا نام لیا جاتا ہے تو حق کی نمائندگی ہوتی ہے
13:50جن کا نام لیا جاتا ہے تو عادل اور انصاف کی نمائندگی ہو رہی ہوتی ہے
13:53اور ان کے مقابلے میں جب ظلم کو بیان کرنا ہوتا ہے
13:56تو پھر ظالموں کا نام لیا جاتا ہے
13:58کہ دیکھو فیرون کی طرح ظلم کرنے والا
14:00فلاں کی طرح ظلم کرنے والا
14:01اس کی طرح ظلم کرنے والا
14:03تو جن کی برائیوں میں جن کو مثال بنا لیا گیا ہے
14:07در حقیقت وہی ارزل المخلوقات ہیں
14:09کہ مخلوقات میں ان کے جیسا کسی کو بننا گوارا نہیں ہے
14:14اگر کوئی اس طرح کا رویہ اختیار کرتا ہے
14:16تو لوگ اس کو تنبیہ کرتے ہیں کہ دیکھو
14:18تم اپنے مقام اور منصف سے گرتے چلے جا رہے ہو
14:21ایک تو ہے مومن ہونے کا تقاضہ
14:23ایک انسان ہونے کا بھی تو کچھ تقاضہ ہے نا
14:25اگر مومن نہ بھی ہو تو کم سے کم انسان تو ہو
14:28انسان کو اللہ سبحانہ وتعالی نے جو عقل و شعور اطاع فرمایا ہے
14:32وہ کم سے کم ایسے کام نہیں کرے
14:34جس کو دیکھ کر جانور بھی شرم آ جائیں
14:36لیکن انسان نے جب عقل و شعور کو چھوڑا
14:39ہدایت کو چھوڑا
14:40اللہ کے راستے کو چھوڑا
14:42تو اس نے ایسے ایسے صفاکانہ
14:44مظالم خود انسانوں پر ڈھائیں
14:46جن کو پڑھ کر اور جن کو سن کر
14:48وہ روح کام جاتی ہے
14:49لوگ بولتے ہیں کہ جانوروں سے بھی زیادہ بتر
14:52عمل کیا گیا
14:53انسانیت سوز مظالم
14:56مذکرہ کے الفاظ استعمال کی جاتے ہیں
14:57جس میں واقعی محسوس ہوتا ہے
14:59تو یہ جو ظلم ہے یہ جو نا انصافی ہے
15:01در حقیقت یہ ارزل المخلوقات کی نمائندگی بھی ہے
15:05اور اس کی مثال بھی ہے
15:06آپ نے دونوں حوالوں سے گفتگو سنی
15:08اشرف کے حوالے سے بھی
15:09ارزل کے حوالے سے بھی
15:10اقبال نے کیا ہی اچھا کہا
15:12کہ اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
15:16تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن
15:19اپنا تو بن
15:20کیا بات گئی ہے
15:21اور یہی چیز ہے جو ہمیں
15:24تجسس ہمیں پیدا کرتی ہے
15:26کہ ایسا کیا بنایا اللہ نے انسان کو
15:29تو یہ توجہ کریں آپ
15:30اور اس پر ذرا غور فکر کریں
15:32قرآن پڑھیں
15:32تو آپ کو اندازہ ہوگا
15:34اچھا عظمت انسان کا جو تعلق ہے
15:36مفتی محمد صحیح العظام جدی صاحب قبلہ
15:39فرمائیے گا
15:39کہ عظمت انسان کا جو تعلق ہے
15:42عقل سے ہے یا روح سے ہے
15:44یہ ایک بڑا ایک ایسا سوال ہے
15:45کہ جو یقیناً ہمارے ناظرین کے ذہن میں بھی ہوگا
15:47ارشاد فرمائیے گا
15:48اچھا اس میں میں تھوڑی سی یہ بات کرنا چاہوں گا
15:52کہ جس طرح میں نے
15:53پہلے جواب کے آخیر میں یہ کہا تھا
15:56کہ انسان قابل علم بھی ہے
15:58اور قابل اظہار بھی ہے
16:01قابل علم بھی ہے
16:02قابل اظہار
16:02جو جی سورہ رحمان
16:05اسی کے تنازوں میں کہوں گا
16:08کہ آج جتنی ترقی ہے وہ انسان کر رہا ہے
16:11کسی جہانور نے کہا کہ میں سائنٹسٹ ہوں
16:13اور میں نے یہ ایجاد کیا ہے
16:15کسی اور مخلوق نے کہا جنات میں سے کسی نے کہا
16:18نہیں
16:18ساری تخلیقی جو صلاحیتیں ہیں
16:22واللہ تبارک وطالعہ نے انسانوں میں وضیعت فرمائی ہیں
16:25اچھا پھر ایک اور چیز جو بیان کرنا بہت ضروری ہے
16:29سورہ نحل اٹھائیے چودوں پارہ
16:31اس کی آیت نمبر چار سے
16:34فور سے
16:35اللہ تبارک وطالعہ فرماتا ہے
16:37خلق الانسان من نطفہ
16:39کہ ہم نے انسان کو نطفے سے پیدا فرمایا
16:42اس کے بعد اللہ تبارک وطالعہ نے
16:44جانوروں کا ذکر فرمایا
16:46پہاڑوں کا
16:47سورج کا
16:48چاند کا
16:49ستاروں کا
16:50اسی طرح کھیتی اور سرسبزی کا ذکر فرمایا
16:54یہ تمام ذکر فرمانے کے بعد
16:57فرمایا کہ یہ کس کے لئے ہیں
16:59یہ سارے تیرے لئے ہیں
17:00وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُخْصُوْحَا
17:04کہ تُو اگر اللہ کی نعمتوں کو شمار کرتا چلا جا
17:07کرتا چلا جا
17:08کرتا چلا جا
17:09تو شمار نہیں کر سکتا
17:11تیرے تجھ پر اتنی نعمتیں ہیں
17:13کہتے ہیں نا
17:14سب جہاں تیرے لئے
17:15تُو خدا کے باستے
17:17سارا جہاں رب تعالیٰ نے تیرے لئے بنایا ہے
17:20سورج نہ ہو تو انسانی زندگی محال ہو جائے
17:23سورج پر کوئی فرق نہ پڑے
17:30پڑنے والا
17:31آگ نہ ہو انسانی زندگی ناممکن ہو جائے
17:34لیکن آگ پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا
17:36اکسیجن نہ ہو
17:38انسان زندگی بسر نہیں کر سکتا
17:40لیکن اکسیجن پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا
17:42اس کا مطلب کیا ہے
17:43یہ ساری چیزیں اللہ رب العالمین نے
17:45انسان کے لئے پیدا فرمائی ہے
17:48اور اس کا بجا بجا
17:49اللہ تبارک وطالعہ نے قرآن کریم میں
17:52اظہار بھی فرمایا
17:53کہ انسان ہم نے تیرے لیے
17:59تمہارے لیے زمین و آسمان
18:01اور اس کے مابین
18:02ہر چیز مسخر فرما دی ہے
18:04اب آئیے
18:05کہ اس کا تعلق
18:06جو ہے وہ روح سے ہے
18:08یا اکل سے ہے
18:10ان عظمتوں کا تعلق
18:11یاد رکھیں
18:12کہ روح سے ہے
18:13اکل اس کی معاون ہوتی ہے
18:16یہ بات سمجھ لیجئے
18:18اور ناظرین وستامعین کو بھی
18:20یہ بات سمجھنی چاہیے
18:21اچھا آگے میں کہوں گا
18:24کہ روح سے کیوں ہے
18:26اس لیے
18:26کہ انسان کو جو مقصد دیا گیا ہے
18:29وہ مقصد اقلی نہیں ہے
18:32وہ مقصد روحانی ہے
18:33وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّا وَالْإِنسَا إِلَّا لِيَعْبَدُونَ
18:37اور اللہ تبارک وطالعہ
18:39روح کے مطالق فرما بھی چکا ہے
18:40قُلْدِر روح وَمِنْ عَمْرِ رَبِّ
18:42روح کا تعلق یہاں سے نہیں ہے
18:44روح کا تعلق وہیں سے ہے
18:46مقصد وہاں سے آیا ہے
18:48تو اس مقصد کا تعلق بھی
18:50روح سے ہے اقل سے نہیں ہے
18:52دیکھیں اقل یہ تو سمجھ سکتی ہے
18:54کہ دو اور دو چار ہوتے ہیں
18:56یہ تو سمجھ سکتی ہے
18:58کہ دس اور دس بیس ہوتے ہیں
18:59یہ سمجھ سکتی ہے کہ ہم پلین میں اوڑ ہیں
19:01لیکن اقل یہ نہیں سمجھ سکتی ہے
19:03خدا کی توحید کیا ہے
19:04جب تک ہم روحانیت کو دخل انداز نہیں کریں گے
19:07اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
19:10ہم اقل کے پیمانوں پر کرنے کیلئے جائیں گے
19:12کوئی سمجھ میں نہیں آئے گا
19:13اقل سے آگے جائیں گے
19:15تو سب کوئی سمجھ میں آئے گا
19:16روح کی طرف جائیں گے
19:17روحانیت کی طرف جائیں گے
19:18اسی لئے علامہ اقبال نے بڑی پیانی بات کی
19:21کہ گزر جا اقل سے آگے کے
19:23کی نور چلاہ راہ منزل نہیں
19:26اور کیا فرمایا
19:27کہ عشق فرمودہ قاسد سے
19:30سبگام عمل
19:31اقل سمجھی ہی نہیں
19:33مانعے پیغام ابھی
19:34ابھی
19:35اگر اقل کے طرح
19:36ذوبہ پرخنے جاؤ گے
19:37سمجھ نہیں آئے گا
19:38جب تک روح اس میں انولڈ نہیں ہوگی
19:40اچھا
19:41اب اس میں ایک بات اور بھی کرنا چاہوں گا
19:43کہ آپ دیکھیں
19:44کہ اللہ تبارک وطالعہ نے فرمایا
19:46قد افلح من تزکہ
19:48کامیاب کون ہوا
19:49جس نے
19:50باتنی پاکیزگی حاصل کی
19:53روح کی پاکیزگی حاصل کی
19:55تو جب تک آپ کو روحانی بالیدگی نہیں ملے گی
19:59آپ ترقی نہیں کر سکتے
20:01روحانی بالیدگی ہوگی
20:03تو اللہ تبارک وطالعہ آپ کو ترقی اطاف فرمائے گا
20:06کامیابی اطاف فرمائے گا
20:07کیوں
20:07قد افلح کامیاب وہ ہے
20:10کہ من تزکہ
20:11جس نے ظاہری باتنی
20:13ہر قسم کی پاکیزگی حاصل کر لی
20:15اچھا اگر
20:16اکل کی طرح اوپر دیکھا جائے
20:18کہ جی اکل ہی
20:19عظمت کی
20:20عظمت کا میار ہے
20:22اگر یہ سمجھا جائے
20:23تو پھر اکل کے جتنے نمائندے ہیں نا
20:25ان سب کو
20:27جس طرح قبلہ مفتی صاحب نے بھی فرمایا
20:29ان سب کو پھر خیر الناس ہونا چاہیے تھا
20:32شر الناس نہیں ہونا چاہیے تھا
20:34اکل کا نمائندہ سب سے بڑا کون ہے شیطان ہے
20:36تو اس نے سجدے سے انکار کیا
20:39اکل کی بنیاد پر
20:40اکل کا نمائندہ تھا نا
20:42تو راندہ بارگاہ ہوا
20:43تو اس کو راندہ بارگاہ نہیں ہونا چاہیے تھا
20:46اگر اکل ہی کامیابی کا میار ہے
20:48یا عظمتوں کا میار ہے
20:49اسی طریقے سے
20:50کتنے بڑے بڑے فلسفر
20:52ارستو افلاتون
20:53کتنے گزرے نا
20:54جو اکل کے نمائندے تھے
20:57تو پھر ان کو ناکام نہیں ہونا چاہیے تھا
20:59تو بات یہ ہے
21:00کہ جو اکل کی نمائندگی کرے گا
21:03صرف اکل کی تو وہ ناکام ہو جائے گا
21:05جو اکل کے ساتھ ساتھ
21:06اکل کو معاون سمجھے گا
21:08اور روح
21:09روح کی طرف جائے گا
21:10روحانت کی طرف جائے گا
21:12اللہ تعالیٰ اسے کبھی بھی خائب و خاسد نہیں فرمائے گا
21:14بھئی بہت امدہ
21:15بفصد صاحب کمال انداز میں
21:17اپنے جواب کو مکمل فرمایا
21:19ناظرین
21:19موضوع بہت بڑا ہے
21:21عظمت انسان
21:22بلا شبہ
21:22اس پر بات ہونی چاہیے
21:24اس پر بات
21:25ہمیں علماء حضرات سے سننی چاہیے
21:27اس کو کنٹینیو کریں گے
21:28ایک وقفہ ہے
21:28وقفہ کے بعد لوٹتے ہیں ہمارے ساتھ رہیے گا
21:30جناب آج موضوع ہے
21:32عظمت انسان
21:33اور اس پر بہت ہی کمال انداز میں
21:35ہمارے دونوں سکولرز
21:36گفتگو فرما رہے ہیں
21:37اور اس کی عظمت پر
21:39اس کی اختیارات پر
21:40اور اس کو جتنا علم و فضل
21:42اللہ نے عطا فرمایا
21:43جتنا کچھ
21:45انسان کو عطا فرمایا
21:46مخلوقات میں
21:46کسی بھی مخلوق کو نہیں عطا فرمایا
21:48اب یہ ہوگی بات
21:49اختیارات بہت دیئے گئے
21:52یہ جو اختیارات
21:53جو دیئے گئے
21:54قرآن نے تو کہا
21:55تڑاک تڑاک بولنے لگا انسان
21:56زمین پر کڑ کے چلنے لگا
21:58کیا کچھ نہیں اس کے بارے پر
22:00چیکہ وہ تو رب ہے نا
22:01بنانے والی ذات ہے
22:02اس نے سب کچھ پہلے ہی بیان فرما دیا
22:03تو اب یہاں یہ
22:05سوال انسانی ذہن میں پیدا ہوتا ہے
22:07کہ یہ جو اختیارات دیئے گئے ہیں
22:09انسان کو
22:10تو کیا یہ اس کے لیے
22:11باعث حزت ہیں
22:12یا باعث امتحان ہیں
22:15اس کے لیے ایک امتحان کا
22:17ایک معاملہ ہے
22:18یہ اختیارات
22:19کیا آپ فرمایے گا
22:20میں چاہتا ہوں
22:20اس پر کچھ روشن ڈالیے
22:21یہ باعث عزت بھی ہیں
22:24اختیارات
22:25اور باعث امتحان بھی ہیں
22:27یعنی دونوں پہلوں ہیں
22:28اور دونوں پہلوں پہ
22:29اور سب سے اہم بات تو یہ ہے
22:31کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے
22:33جو اتنی مخلوقات خلق فرمائی ہیں
22:35ان میں سے واحد حضرت انسان ہیں
22:37جسے اللہ سبحانہ وتعالی نے
22:39باقاعدہ
22:40ارادہ عطا فرمایا ہے
22:41اور قرآن مجید فرقان حمید میں
22:44اختیارات کے لیے
22:45جو بڑا خاص
22:46اور پاکیدہ کلمہ استعمال فرمایا ہے
22:48انی جاعلن فی الارضی خلیفہ
22:50یعنی اس کا سٹیٹس بیان کی ہے
22:53کہ یہ جو
22:54ام زمین میں بیدا کرنے والا ہوں
22:56یہ کوئی عام مخلوق نہیں ہے
22:57میرے خیال اس کے بعد بات ختم ہو جاتی ہے
22:58کہ اس سے بڑھ کر کیا
22:59خلیفت اللہ ہونے سے بڑا منصب
23:00اور کیا ہو سکتا ہے
23:01زمین پر اللہ کا خلیفہ
23:02زمین پر اللہ کا خلیفہ
23:03اس سے بڑا منصب اور کیا ہو سکتا ہے
23:05اس سے بڑی عظمت اور کیا ہو سکتی ہے
23:06تو فرما
23:07انی جاعلن فی الارضی خلیفہ
23:09میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں
23:11اب جو خلیفت اللہ ہوگا
23:13زہر سے باتیں پھر اختیارات بھی اس کے پاس
23:15ویسے ہی ہوں
23:15ان اختیارات کی بنا پر ہی وہ خیر اور شر
23:19دونوں کو اختیار کرنے کا ارادہ
23:21اور تعلق اس کا بنتا ہے
23:23لیکن اللہ سبحانہ و تعالی نے
23:25جہاں اسی اختیار اطا فرمایا ہے
23:27وہیں اللہ سبحانہ و تعالی نے
23:28ہدایت و رہنمائی کی بہترین ذرائع بھی اطا فرمائے
23:31قرآن مجید فرقان حمین میں جا بجا ارشاد سرمایا
23:34کہ
23:35ہم نے انسان کو جو صلاحیتیں اطا فرمائی ہیں
23:41ان صلاحیتوں کے استعمال کرتے وہ
23:43رب کا محبوبی بن سکتا ہے
23:45اور اگر اس کا منفی استعمال کرے گا
23:47تو وہ نافرمانوں کی صف کے اندر بھی شامل ہو سکتا ہے
23:50تو اللہ سبحانہ و تعالی جب کسی کو منصب اطا فرماتا ہے
23:53کسی کو عزت اطا فرماتا ہے
23:54اختیار اطا فرماتا ہے
23:56تو عزت اس کی اس طریقے سے بندی
23:58کہ دیگر مخلوقات کے ممتاز نظر آتا ہے وہ
24:00اس میں انبیاء بھی ہیں
24:01یعنی حضرت انسان میں انبیاء کرام کا گروہ بھی شامل ہے
24:04سب سے افضل ترین
24:06پھر اس میں اولیاء کرام بھی ہیں
24:07اس میں علماء بھی ہیں
24:08اس علاہاء بھی ہیں
24:09یہ وہ تمام گروہ ہیں
24:11انسانوں کے اندر جو اللہ سبحانہ و تعالی کی بارگا
24:13کہ انتہائی مقرب اور انتہائی محبوب افراد ہیں
24:17پھر اللہ سبحانہ و تعالی نے
24:19جو بندوں کو اختیارات اطا فرمائے
24:20وہ امتحان کیسے بنتے ہیں
24:22اس کو ہم دنیا بھی اگر مثال تک سمجھنا چاہیں
24:24تو بلکل ایسے ہے
24:25کہ جیسے اگر کسی ادارے میں
24:27کوئی منصب کسی کو مل جائے
24:29تو باقی جو امپلائیز ہوتے ہیں
24:31سب اس کو مبارک بات دیتا ہے
24:32بھی ماشاءاللہ
24:33کہ یہ منصب آپ کو مل گیا ہے
24:35اور آپ کو ترقی مل گئی ہے
24:37اس منصب پر فائز ہونے پر
24:38وہ بھی خوش ہوتا ہے
24:39کہ ابھی مجھے منصب مل ہے
24:40تو عام لوگوں سے ممتاز ہو جاتا ہے وہ
24:42اس کی عزت بڑھ جاتی ہے
24:43دیگر امپلائیز سے
24:45کوئی عہدہ مل جائے
24:45لیکن جہاں اسے عزت ملتی ہے
24:48وہیں اس کی امتحانات
24:49یوں بڑھ جاتے ہیں
24:50کہ ذمہ داریاں بڑھ گئیں
24:51اب اس سے سوال بھی زیادہ ہوں گے
24:54اب اس کی جو گرفتاری
24:55مطلب مسائب آئیں گے
24:58اس کے اندر فیصلہ کرنے کے اختیار بھی
25:00اس کے پاس ہے
25:00اچھا فیصلہ کرے گا
25:01تو کامیاب ہوگا
25:02برا فیصلہ کرے گا
25:03تو نقصان کا خسارہ بھی
25:05اسی کو اٹھانا پڑے گا
25:06اور ذمہ داری بھی اس کو لینی پڑے گی
25:07تو جب کسی کو منصب ملتا ہے
25:09تو اس کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں
25:11اس طرح وہ
25:11امتحان کے اندر بھی
25:13مبتلا ہو جاتا ہے
25:14پھر کبھی کبھی ایسی آسمائش بھی آ جاتی ہے
25:16کہ جہاں علم کے ساسط
25:18عقل شعور ادراع
25:19کی ساری جیدوں کا استعمال
25:20اور اس کے ساسط
25:22جو خارجی رہنمائی ہوتی
25:23اس کا استعمال بھی
25:23اس کے لیے ضروری ہو جاتا ہے
25:25تو اللہ سبحانہ وطالعہ نے
25:26جب انسان کو
25:27یہ اختیارات عطا فرمائے ہیں
25:29تو عزت کے ساسط
25:30امتحان بھی یوں بن گئے
25:31کہ یہاں جو کچھ کرے گا
25:33اس کا حساب
25:34اسے حشر میں دینا ہوگا
25:36چونکہ جتنا
25:37ایبسلوٹ پاور ہوتا ہے
25:38اتنا ہی انسان خود سر ہوتا چلا جاتا ہے
25:40قرآن مجید فرقان امید
25:41ہم دیکھیں جو فیرون ہے
25:42اس کے پاس ایبسلوٹ پاور تھا
25:44اس لیے وہ خدا ہونے تک کا دعوص نے کر لیا
25:47کسی کے پاس بہت زیادہ
25:48مال و دولت تھا
25:49تو وہ بھی خود سر و تکبر کے اندر مبتلہ ہو گیا
25:51تو جتنی زیادہ اختیارات دیئے گئے
25:54جتنی زیادہ آسائشیں دی گئیں
25:55اتنا ہی زیادہ
25:56وہ اللہ سبحانہ وطالعہ کی نافرمانی کے مرتقب ہوتے چلے گا
25:59تو یہ ان کے لیے کیا بنتا چلا گیا
26:00تو جب کسی کو عزت دی جاتی ہے
26:04منصب دیا جاتا ہے
26:05تو اس کی ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں
26:07تو وہ قابل عزت بھی ہے
26:08اور قابل امتحان بھی
26:10یہ جو اختیارات ہیں
26:12یہ قابل عزت بھی ہیں
26:13قابل امتحان بھی ہیں
26:15یہ دونوں راستے دیئے گئے ہیں
26:17اور جس جس منصب پر وہ ہے
26:18اسے اس بات کا ادراک ہونا بہت ضروری ہے
26:21کہ اختیار تو ہے لیکن اسے استعمال کہاں کرنا ہے
26:24یہ انسانی اللہ نے
26:25یہ بھی شعور عطا فرمائے
26:27یہ بھی اس کی نعمت ہے
26:28اچھا ایک انسان کے لیے
26:31یہ جو اس کی عظمت ہے
26:33اس کا شرف ہے
26:34یہ مفتصہ بھی بڑا اہم سوال ہے
26:38کہ لوگ اس حوالے سے بھی بڑی بات کرتے ہیں
26:40کیا اس کے لیے ضروری ہے
26:41کہ کسی عظیم خاندان میں پیدا ہونا
26:43کسی عظیم قبیلے
26:45یا قوم کا فرد ہونا ضروری ہے
26:47یا یہ عظمت متلق ہے
26:49تمام انسانوں کے لیے کچھ فرمائی گے
26:50دیکھیں
26:52کسی قوم کا عظیم ہونا
26:55یہ بہت اچھی بات ہے
26:57یا اسی طریقے سے
26:59کسی کی فیملی کا
27:00خاندان کا
27:02بڑا ہونا
27:03عظیم ہونا
27:04بہت بڑی نعمت ہے
27:05لیکن یہ بات یاد رہے
27:07کہ انسان کی عظمت کے لیے
27:10اس کے کردار کا عظیم ہونا ضروری ہے
27:13کیا کہنا
27:14یہ نہیں
27:14کہ بندرم سلطان بہت
27:15کہ میرا باہ بادشاہ تھا
27:18تو میں بھی بادشاہ تھا
27:18حضور نے کردار سازی تکیئے
27:20دیکھیں
27:22اگر ایسا نہ ہوتا
27:23تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
27:27کہ اگر اپنی
27:28اولاد متحرات کے حوالے سے
27:30ہم فرامین دیکھیں
27:31تو زیادہ تر سیدہ خاتون جنت
27:34رضی اللہ تعالی انہا کے حوالے سے
27:36ہمیں ملتا ہے
27:37تو آپ دیکھیں
27:38کہ کس طریقے سے آپ نے تربیت فرمائی
27:41اور کیسے کیسے
27:42آپ نے کلمات ارشاد فرمائی
27:44وہ صرف و صرف
27:45تربیت کے لیے
27:46تو کہنے کا مقصد یہ ہے
27:49کہ یہاں پر ایک انسان
27:51کیسا ہونا چاہیے
27:52وہ اسلام نے ہمیں بتایا
27:54کہ اگر اس کی اہمیت ہوگی
27:56فضیلت ہوگی
27:57تو وہ کردار کے ساتھ جڑی ہوگی
27:59اس کا کردار جو ہوگا
28:01جتنا عظیم ہوگا
28:03اس کی شخصیت
28:04اتنی ہی عظیم ہوگی
28:05صرف یہ کہا جائے
28:07کہ میرا خاندان عظیم ہے
28:08تو میں خود بخود عظیم ہوں
28:09ایسا نہیں ہوتا
28:10ہاں اتنا ضرور ہے
28:12اتنا ضرور ہے
28:13دیکھیں
28:13حضور نبی کریم علیہ السلام کی
28:16اگر
28:17اب یوں سمجھنے
28:18کہ جنرلائز کیا جائے
28:20اگر وہ تعلیمات دیکھی جائے
28:21تو آقا علیہ السلام کی
28:23تعلیمات کیا ہیں
28:24کہ سب اس میں برابر ہیں
28:25برابر
28:26ٹھیک ہے
28:26اور قرآن بھی یہ کہتا ہے
28:27اِنَّا أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ اَتْقَاكُمْ
28:31کہ تم میں سے
28:32اللہ کے نزدیک عزت والا
28:34کیونکہ
28:35انسان کے نزدیک عزت والا
28:37یہ میٹر نہیں کرتا
28:38اللہ کے نزدیک عزت والا کون ہے
28:41فرمائے جو زیادہ متقی ہے
28:43جو اللہ سے ڈرنے والا
28:43متقی پرس گا
28:44تو جہاں پر بات ختم ہو جاتی ہے
28:46اچھا اب دیکھا جائے
28:47تو خاندانوں کے حوالے سے
28:49یا کسی حوالے سے
28:50وہ صرف اور صرف
28:52خاندان مصطفیٰ ہے
28:53حضور نبی کریم علیہ السلام
28:55کہ آپ نے فرمائے
28:56کہ
28:57ہر سبب
29:03ہر حسب
29:04منقطع ہو جائے گا
29:05لیکن میرا سب
29:06نسب و حسب
29:07جو ہے وہ منقطع نہیں ہوگا
29:09لیکن آپ یہ دیکھیں
29:10کہ اگر
29:11عمومی تعلیمات کی طرف
29:12آپ جائیں
29:12تو حضور نبی کریم علیہ السلام
29:14نے کیا کیا کلمات
29:15ارشاد فرمائے
29:15کہ نہیں جی
29:16بلکل نہیں دیکھا جائے گا
29:17یہ معاملہ
29:18صحیح نا
29:19لیکن یہاں پر
29:20اپنے خاندان اطہار کی
29:22جو آپ نے
29:22فضیرت بیان فرمائی
29:23تو ظاہر ہے
29:24کہ اس حوالے سے
29:25حضور نبی کریم علیہ السلام
29:27کی جو نسبت ہے
29:28وہ ہماری سلام کھو پر ہے
29:30لیکن میں
29:30یہاں پر
29:31ایک بات
29:31اور بھی کروں گا
29:32ہمارا معاشرہ
29:33افرات و تفرید
29:34کا شکار ہے
29:35جی جی فرمائی
29:35کچھ ہمیں
29:36ایسے نظر آتے ہیں
29:37جو کہتے ہیں
29:37نہیں بھئی سب برابر ہیں
29:38وہ بلکل برابر ہیں
29:40لیکن حضور نبی کریم علیہ السلام
29:42کی نسبت
29:42کچھ بھی نہیں ہے
29:43تو دوسری طرف
29:44کیا ہے
29:45کہ ہمارے یہاں
29:46بعض اوقات
29:47ان معاملات
29:48کو کیش کیا جاتا ہے
29:49یہ بھی نہ ہو
29:51ظاہر میں نے
29:52ایسے ایسے دیکھیں
29:53جو بتاتے بھی نہیں ہیں
29:54اور عرصے
29:56بات پتہ لگتا ہے
29:56کہ یہ تو وہ ہیں
29:57اب یقین کیجئے
29:59اور میں
30:00یہ سمجھتا ہوں
30:01کہ جو
30:02اصل
30:02اصل خون مصطفیٰ ہوگا
30:04وہ کبھی کیش نہیں کرے گا
30:06اور میں
30:07برملہ یہ کہتا ہوں
30:08کہ جتنے
30:09سادہ تھے
30:10وہ ہمارے سروں کے تاج ہیں
30:11لیکن
30:12خدا کے واسطے
30:13ہمارے معاشرے میں
30:14اس افرات و تفرید
30:15کو
30:16ختم کیا جائے
30:17اور کیج بھی نہ کیا جائے
30:18نہ کہا جائے
30:19کسی سے
30:20اگر آپ نے دنیا میں
30:20کیش کر لیا
30:21تو کیا کریں گے
30:22کہ میں یہ فلا زادہ ہوں
30:24میں ایسا ہوں
30:25ویسا ہوں
30:25یہ بتایا تو
30:26کیا فائدہ
30:27اچھا
30:28میں آپ کو بتاؤں
30:28کئی ممالک میں
30:30میں نے خود دیکھا
30:30اپنی آنکھوں سے
30:31اور یہاں پر بھی دیکھا
30:32کہ کئی سادات
30:34ایسے ہیں
30:35اصل ہیں
30:35ان کے پاس
30:36پورے
30:37پورے
30:38سلسلہ موجود ہے
30:39لیکن وہ اپنے آنکھوں سے
30:41سید نہیں لکھتے
30:41ایسے لوگوں سے
30:42ملواد ہیں
30:43میں نے اپنی آنکھوں سے
30:45دیکھا ہے
30:45اللہ تعالیٰ ان کے صدقے
30:47ہماری مغفلت
30:47بڑی بات
30:48الحمدللہ
30:49اچھا اس کے بعد
30:50اگر ہم دیکھیں
30:50کہ اسلام کا یہ
30:52امتیاز ہے
30:53یہ اسلام کا امتیاز ہے
30:54کہ فضیلت
30:55اور برطری کا تاج
30:56اگر برطری کا تاج ہے نا
30:58قرمنا بنی آدم
30:59وہ من حیس الانسان
31:01سب کے لئے ہے
31:02لیکن فضیلت
31:03اگر دیکھی جائے
31:04تو وہ
31:05اِنَّا قرمَكُمْ
31:06عِنْدَ اللَّهِ
31:07اَتْقَاكُمْ
31:07کے تحت
31:08صرف اور صرف
31:09جو اللہ کے نزدیک
31:10عزت والا ہے
31:11وہی ہوگا
31:12تو ہمیں چاہیے
31:13کہ ہم یہ نہ دیکھیں
31:14ہمارا خاندان کیا ہے
31:15ہماری فیملی کیا ہے
31:17کیونکہ ہم سے
31:18یہ نہیں پوچھا جائے گا
31:19رئیس بھئی
31:20آپ کے خاندان میں
31:20کون کون اچھا تھا
31:21کون کون سے
31:22نہیں
31:22آپ نے کہا کیا تھا
31:24آپ کیا
31:24تھے تو وہ
31:25تمہارے آبا
31:26مگر تم کیا ہو
31:27ہاتھ پر ہاتھ درے
31:28منتظر فردہ ہو
31:30کیا کہنے
31:30اچھا
31:31اب ہم یہ
31:32چونکہ کنکلوشن کی طرف آ رہے ہیں
31:33تو ہم یہ جاننا چاہیں گے
31:34کہ عظمت انسان پر بات ہوئی
31:36تو
31:36پیغام دے دی گا
31:38کہ شکر کیسے ہدا کرے
31:39انسان
31:40کہ اللہ نے
31:40عظمت انسان عطا فرمائیے
31:42مسلمان پیدا کیا
31:43حضور کی امت میں پیدا کر دیا
31:45تشکر کے لئے
31:46کیا الفاظ ہونے چاہیے
31:47بلا شبہ
31:48یہ جو انعامات ہیں
31:49اللہ سبحانہ وتعالی
31:50کہ ایک
31:50انسان ہونے کی حیثی سے
31:52دوسرا پھر مسلمان ہونے کی حیثی سے
31:53انعامات ہیں
31:54ان انعامات
31:55کہا ہم حقیقی طور پر
31:56تو کبھی شکر ہے
31:57قضا کر ہی نہیں سکتے
31:59لیکن اللہ سبحانہ وتعالی
32:00کہ ہمارے پیارے آقا
32:01صلی اللہ علیہ وسلم
32:02جب قسرت سجود کیا کرتے تھے
32:05تو ہم عائشہ صدیقہ
32:06رضی اللہ تعالی
32:07نے پوچھا
32:07کہ یا رسولے
32:08اتنے لمبے لمبے سجدوں کیوں کرتے ہیں آپ
32:10تو سرکار نے فرما
32:11افالا اکونو عبدان شکورا
32:13یا عائشہ
32:13کہ ہم اپنے رب کا شکر گزار بندہ نہ بنو
32:15تو جن کے صدقے میں
32:17اللہ سبحانہ وتعالی
32:18نے پوری کائنات کو بنایا
32:19ہمارے آقا کا طرز عمل کیا
32:20ہمیشہ رب کے شکر گزار بندوں میں رہے
32:22اور ہمیشہ
32:23اللہ سبحانہ وتعالی
32:24کا شکر عدا کرتے رہے
32:25تو شکر کرنے کے لئے
32:26سب سے پہلے کیفیت ہوئی
32:28کہ اللہ کی نعمتوں کو محسوس کرنے
32:29کہ اللہ نے کتنی ساری نعمتیں عطا فرمائی
32:31اکثر ایسا ہوتا ہے
32:33کہ ہم ان نعمتوں کو محسوس نہیں کر پاتے
32:35اس کی عظمت کا احساس بھی نہیں ہوتا
32:36تو پہلے نعمت کو فیل کریں
32:38کہ اللہ نے کتنی بڑی بڑی نعمتیں عطا فرمائی ہیں
32:40جب نعمت کا حساس ہوگا
32:42تو خود بخود جذبہ تشکر بھی پیدا ہونا شروع ہو جائے گا
32:44دوسرا یہ ہے کہ زبان سے بھی
32:46اللہ سبحانہ وتعالی کا شکر عطا کریں
32:47قرآن میں بار اللہ پاک نے فرمایا
32:49کہ اللہ کا شکر عطا کرو
32:50تو زبان سے اللہ کا شکر عطا کریں
32:51تیسرا یہ ہے کہ جو حقیقی شکر ہے
32:54جس پروردگار نے نعمتیں عطا فرمائی ہیں
32:56ان نعمتوں کو اس کی طاعت میں صرف کیا جائے
32:59جیسا وہ چاہتا ہے
33:00اسی طریقے تو اس کو استعمال کیا جائے
33:02تو بھی یہ حقیقی شکر گزاری ہوگی
33:03اور اللہ سبحانہ وتعالی اس کے اندر
33:05برطری بھی عطا فرمائے گا
33:06اور برکت بھی عطا
33:07یعنی اس کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر عدا کیا جائے
33:09اس کی حمد و سنا کریں یہی شکر ہے اس کا
33:12اس کی بڑا ہی بیان کریں
33:13مفضل پیغام دیجئے گا
33:15عظمت انسان پر بہت امدہ دونوں
33:16آپ دونوں حضرات نے بہت کمال گفتگو فرمائی
33:18کیا کہیے گا
33:19دیکھیں کسی مخلوق کے بارے میں
33:22رب کریم نے قرآن کریم میں
33:24اس طرح بار بار نہیں فرمایا
33:25یہ صرف و صرف انسانوں کے لئے فرمایا ہے
33:28کہیں فرمایا
33:29ہم نے انسان کو عزت کا تاش پینایا
33:31کہیں فرمایا
33:32کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا فرمایا
33:35کہیں فرمایا
33:36ہم نے اپنے دست قدرت سے پیدا فرمایا
33:39تو انسان کو سمجھ جانا چاہیے
33:41کہ میں اللہ تعالی کی خاص مخلوق ہوں
33:44جو خاص ہوتا ہے
33:45پھر اس کا عمل بھی خاص ہونا چاہیے
33:47اسی کے لئے ہونا چاہیے
33:49کیا کہنے
33:49سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ
33:51میں بہت شکریہ عدا کروں گا
33:52مفتی صاحب آپ کی تشریف افریقہ
33:53آپ نے شیف لائیت دونوں حضرات نے
33:55میرا تو نہیں دل چاہتا
33:56کہ اتنا خوبصورت موضوع ہو
33:58میرے ذہن میں تو پتہ نہیں
33:59کتنے سوالات دستک دے رہے ہوتے ہیں
34:01کہ یہ بھی پوچھ لوں
34:02یہ بھی پوچھ لوں مفتی صاحب
34:03یہ کیسے ہو
34:03اور اس سے کیا مطلب ہے
34:05لیکن ظاہر ہے
34:05دامنے وقت میں گنجائش جتنی ہوتی
34:07اس میں رہتے ہوئے میں پروگرام کرنا ہوتا ہے
34:09لیکن آپ سے گزارش ضرور ہے
34:10کہ آپ نے آج کا موضوع دیکھا
34:12آج کے سوالات کے جوابات دیکھے
34:14ایک حصہ دیکھا
34:15یا دو سے یا تین
34:17تینوں حصہ دیکھے
34:18آپ اس کو دوبارہ دیکھئے گا
34:19ریپیٹ ٹرانسویشن میں
34:21اور پھر اپنے آپ کو وقت دیجئے گا
34:24تھوڑا سا بطور انسان
34:25اپنا موبائل سیٹ ایک طرف رکھ کر
34:27کہ اللہ نے ہمیں تو اتنی عزت دیئے
34:29ہمارا عمل کیا ہے
34:32اگر اس آئینے میں اپنے آپ کو دیکھیں گے
34:35تو یقینا ہمارے آمال و افعال کی درستگی میں
34:38آج کا پروگرام جو ہے
34:39بہت اہم کردار ادا کرے گا
34:41اور آئندہ آنے والی زندگی کو
34:43بہتر بنانے کے لیے انشاءاللہ
34:45اور سیرت سازی کے لیے
34:46اپنے کیریکٹر بلڈنگ کے لیے
34:48اس پروگرام کو اگر آپ دیکھیں گے
34:49تو انشاءاللہ وہ جو غلطیاں
34:51کوتائیاں ہم سے ماضی میں ہوئی ہیں
34:53جو کہ عظمت انسان کے
34:55سمجھ لے
34:58لحاظ سے مناسب نہیں ہیں
34:59اس کو ہم پیچھے رکھیں گے
35:01اور زندگی میں دیگر چیزوں کو آگے رکھیں گے
35:03اس کے ساتھ ہی اپنے میزبان
35:05محمد رئی سحمد کو اجازت دیجئے
35:06اللہ حافظ
Comments

Recommended