Skip to playerSkip to main content
Roshni Sab Kay Liye

Watch All The Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xic1NLGY05O7GY70CDrW_HCC

Topic: Insan

Host: Raees Ahmed

Guest: Mufti Muhammad Sohail Raza Amjadi, Mufti Zaigham Ali Gardezi

#RoshniSabKayLiye #islamicinformation #ARYQtv

A Live Program Carrying the Tag Line of Ary Qtv as Its Title and Covering a Vast Range of Topics Related to Islam with Support of Quran and Sunnah, The Core Purpose of Program Is to Gather Our Mainstream and Renowned Ulemas, Mufties and Scholars Under One Title, On One Time Slot, Making It Simple and Convenient for Our Viewers to Get Interacted with Ary Qtv Through This Platform.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00Allah subhanahu wa ta'ala
00:30وَمَوْلَانَا مُحَمَّدِ مُبَارِكُ وَسَلِّمُ
00:33ناظرین محترم السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ میں ہوں
00:36آپ کا مذبان محمد رئیس احمد اور پیش کیا جا رہا ہے
00:38پروگرام روشنی سب کے لئے ہے
00:40آپ جانتے ہیں کہ یہ پروگرام جو ہے
00:42پیر منگل بدھ پیش کیا جاتا ہے
00:44اور مختلف موضوعات کے ساتھ
00:46ہم آپ کے خدمت میں حاضر ہوتے ہیں
00:47اگر آپ تخلیق کائنات پر نظر ڈالیں
00:50اور اللہ کی قدرت پر نظر ڈالیں
00:52تو اللہ کی تمام تخلیقات میں
00:55ایک تخلیق جو ہے
00:56وہ بہت ہی منفرد نظر آتی ہے
00:59اپنی حیت کے اعتبار سے
01:01اپنی بناوٹ کے اعتبار سے
01:02اپنی خصوصیات کے اعتبار سے
01:04اپنے اختیارات کے حوالے سے
01:06اپنی ذہانت کے اعتبار سے
01:08ذکاوت کے اعتبار سے
01:10یعنی جس اعتبار سے لیں
01:11تو آپ کو وہ تخلیق جو ہے
01:14وہ ممیز و ممتاز نظر آئے گی
01:15دیگر تمام تخلیقات میں
01:17Acha be800 se muf sırین نے
01:20Ishi
01:21Ishi mozoo ko joh humara mavduo è
01:23Ishi ko قرآن ka acil mozoo qirar diya
01:25Yianni ke insan
01:26Be800 se muf sırین
01:28And di Eve
01:28Baz muf sırین ne
01:30Insan ki islaahud trobiyat
01:32Quran ka joh mozoo qirar diya gaya
01:34Que hiya mavzug è
01:35Mختلف arà hoe
01:37Mختلف chisai ha
01:37Lekin insan ko joh Allah
01:39Tخlick farsamaia
01:40Isa kamal tخlick farsama
01:42Que iisì tخlick
01:43Kainat me
01:43Or koji dousri nazer
01:45Nighati
01:45Que jis me bhoots
01:46Sari khususiyat
01:47کے ساتھ اس کو جو ہے اللہ نے متصف فرما دیا ہے اور اس کو اتنا
01:51بڑا درجہ دیا کہ یہ مسجود ملائکہ کے درجے پر فائز ہے اور یہ وہ
01:57تخلیق اللہ کی کہ جسے اللہ نے اپنا نائب بنا کر زمین پر بھیجا
02:03ہے خلیفة اللہ فی الارض کہا گیا جسے یعنی کہ اس کی خصوصیات
02:07اور اس کی فضیلت کے حوالے سے یعنی کہ جو چیز جو امانت اللہ
02:12تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذمہ کرنا چاہیے انہوں نے قبول نہیں کیا
02:16وہ انسان کو اللہ نے عطا فرمائی تو اس کی قدر اس کی منزلت
02:21اس کی رفت اور اس کی فضیلت کے حوالے سے قرآن کریم میں اس کی
02:25تخلیق سے لے کر اور آگے تک کے تمام مراحل کو بہت ہی تفصیل
02:29کے ساتھ بیان کیا ہے آج ہمارا موضوع انسان ہے اور انسان کے
02:34موضوع پر جب قرآن کلام کرتا ہے تو خلقاً انسانا فی احسنی
02:38تقویم کہہ کر پکارتا ہے کہ ہم نے انسان کو بہترین شکل میں
02:42پیدا کیا اس بہترین شکل کے انسان کی خصوصیات کے حوالے سے اور
02:46اسی موضوع پر آج ہمیں انشاءاللہ بات کرنے کے لئے موجود ہیں
02:49ممتاز و معروف علم دین اور ایک ایسے علم دین ما شاءاللہ جو
02:52استاذ العلماء ہیں اور بہت وقی مطالعہ رکھتے ہیں قرآن و حدیث
02:56کی روشنی میں تاریخ اسلام کی روشنی میں میری مراد حضرت
02:59اللامہ مفتی محمد سوحیل رضم جدی صاحب سشیف فرما ہے
03:02السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
03:06اور میرے بائیں جانب ممتاز و معروف علم دین علامہ سید زیغم علی شاہ صاحب
03:12گردیزی موجود ہیں جو ایک بہت معروف جامعہ میں تدریس کے فرائز انجام
03:17دے رہے ہیں اور افتہ کے منصب پر بھی ماشاءاللہ فائز ہے تشریف فرما ہے
03:20السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
03:23اچھا مفتی صاحب چونکہ ہماری اصل سورس قرآن ہے تو ہم سب سے پہلے
03:27قرآن ہی سے روشنی حاصل کرتے ہیں تو تخلیق انسان کے حوالے سے قرآن
03:32میں جو ذکر ملتا ہے تذکرہ ملتا ہے میں چاہتا ہوں اس حوالے سے کچھ ہمارے ناظرین
03:36کے لئے کچھ اشارت فرمائیں بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہم صلح
03:41علیہ سیدنا و مولانا محمد و علیہ وآلہ وآصحابہ مبارک وآلہ
03:47بڑا ہی اہم موضوع ہے اور سوال بھی بڑی ہی خصوصیت کا حامل ہے دیکھیں یہ
03:56بات واضح ہو کہ اللہ تبارک وطالہ نے اپنے کسی مخلوق کی تخلیق
04:01کو اتنا ڈیٹیل کے ساتھ بیان نہیں فرمایا جتنا انسان کی تخلیق
04:08کو کئی مقامات پر تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا یہ بھی ایک انسان
04:13کی عظمت ہے اچھا آپ دیکھیں کہ قرآن کریم میں کئی مقامات پر
04:18مثال کے طور پر سور عراف آیت نمبر گیارہ وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ فُمَّا سَوَّرْنَاكُمْ
04:25اور تحقیق ہم نے تمہیں پیدا فرمایا انسان کو خطاب ہو رہا ہے
04:32فُمَّا سَوْرْنَاكُمْ ہم نے پھر تمہاری تصویر بنائی سورت بنائی اور
04:38پھر جب تخلیق ہو گئی تو فُمَّا قُلْنَا لِلْمَلَائِكَتِسْ جُدُولِ آتَمْ پھر ہم نے
04:44تمام فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو پہلے انسان ہے نا
04:50اچھا دوسرے مقام پر فرمایا سورہ فاطر کی آیت نمبر گیارہ میں
04:54وَوَا هُو خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَا
05:00بلکہ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجَا
05:04اس مقام پر یہ فرمایا کہ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا فرمایا
05:09پھر پانی کی بول سے پیدا فرمایا پھر تمہارا جوڑا پیدا فرمایا
05:15جوڑا جوڑا بنایا
05:17اچھا اسی طرح آگے چلیں تو سورہ صافات فرمایا
05:22بے شک ہم نے انسان کو پیدا فرمایا
05:28کس مٹی سے چپکتی مٹی سے پیدا فرمایا
05:33یعنی آپ دیکھیں ایک انسان کی تحریک ہے
05:36کہیں فرما رہا ہے تین سے پیدا فرمایا
05:38کئی فرمایا نطفے سے کئی فرمایا علاقہ سے
05:40کئی فرمایا چکنی مٹی سے پیدا فرمایا
05:44کئی کھن بناتی مٹی سے
05:45ابھی آگے اس کا بیان آرہا ہے
05:46یہاں چپکتی مٹی فرمایا
05:48پھر سورہ رحمان میں کیا فرمایا
05:50خلق الانسان من سلسال ان کل فخار
05:54اس کا مطلب کیا ہے کہ انسان کو پیدا فرمایا
05:57ٹھیکرے جیسی سوکھا سڑا گارہ
06:00سوکھا سڑا گارہ
06:02اس سے ہم نے اس کو پیدا فرمایا
06:04پھر سورہ حامیم السجدہ کی آیت نمبر سات سے نو تک
06:09آپ یہ دیکھیں
06:09فرمایا کہ
06:10کہ انسان کی جو ابتدا ہوئی ہے
06:15وہ مٹی سے ہوئی ہے
06:16اچھا یہ مٹی بھی عام مٹی نہیں تھی
06:19کیونکہ انسان کی آدم علیہ السلام کی تخلیق
06:22کے ساتھ ہی آپ جنت میں تھے نا
06:24تو یہاں پر مفسرین فرماتے ہیں
06:27کہ وہ مٹی بھی جنت سے لی گئی تھی
06:29کہ آپ وہیں پر رہے نا پھر
06:30اس کے بعد آپ زمین پر تشریف لائے
06:32پھر ہم نے انسان کی جو نسل کو آگے بڑھایا
06:39تو حکیر بے قدر پانی سے ہم نے آگے بڑھایا
06:42اللہ و اکبر
06:43کہیں فرمایا
06:44کھلکتی مٹی
06:45سوکھا گارہ
06:46بے قدرہ پانی
06:47اچھا پھر یہاں پر فرمایا
06:49پھر ہم نے اسے سیدھا کیا
06:53ہم نے اس میں اپنی روح کو پھونکا
06:59یہ کسی مخلوق کی تخلیق کے لیے نہیں فرمایا
07:02کہ ہم نے اس میں اپنی روح کو پھونکا ہے
07:04پھر ہم نے تمہارے لیے کان بنائے
07:10تمہارے لیے یہاں کے بنائیں
07:12تمہارا دل بنائیا
07:13پھر کئی مقامات پر ہے
07:14تمہارے آزا بنائے
07:15اچھا اب یہاں پر آپ دیکھیں
07:18تراب
07:18تراب اور تین
07:19اس کا معنی ہے خاک
07:21مٹی گارہ
07:22پھر اس کی ساتھ
07:24تین اللازب
07:25لیزدار گارہ
07:27یا چکنی مٹی
07:28چپڑی مٹی
07:29چکنی مٹی
07:30سلسال من حمہ
07:31مسنون سڑیوی
07:32مٹی یا سوکھا گارہ
07:34پھر آپ دیکھیں
07:35کہ یہ جو تمام آیات کو ملایا جائے
07:39تو فرمایا جاتا ہے
07:40کہ یہ جو مٹی ہوتی ہے نا
07:42چاہے وہ گارہ لے لے
07:44سوکھی مٹی
07:45چکنی مٹی
07:46کہا کہ یہ
07:46کسی بھی چیز کی
07:48تخلیق کے لیے
07:49سب سے بہترین چیز ہے
07:50اللہ وکبر
07:52اچھا پھر یہاں پر آپ دیکھیں
07:54کہ اللہ تبارکہ وطالعہ
07:55نے پھر ایک چیز اور فرمائی
07:57ایک تو یہ فرمائی
07:58کہ وَنَا فَخْتُ فِي مِرْوحِ
07:59ہم نے اپنی روح کو پھونکا
08:00پھر آپ یہ دیکھیں
08:02کہ اللہ رب العالمین
08:03فرما رہا ہے
08:04کہ اے شیطان
08:05مَا مَنَاقَ
08:06اَن تَشْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدِيَّ
08:08تجھے کس چیز نے روکا
08:09کہ تو سجدہ نہ کرے
08:10اس انسان کو
08:12ہم نے اپنے دستِ اقدس سے
08:13اپنی شان کے مطابق بنایا ہے
08:15اچھا یہ بھی
08:17کہ اپنے دستِ اقدس سے
08:18یہ کسی اور مخلوق کے لیے
08:20اللہ تبارکہ وطالعہ نے نہیں فرمایا
08:21پھر انسان کا اشارت دن
08:23یا مقصد
08:32ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا فرمایا
08:34ثم من نطفہ
08:35پھر ہم نے نطفے سے پیدا فرمایا
08:37پانی کی بون
08:38ثم من علقہ
08:40خون کی پھٹک سے پیدا فرمایا
08:41ثم من مدغہ
08:43پھر تمہیں لوتھڑا بنایا گوشت کا
08:45فرمایا مخلقہ وغیر مخلقہ
08:48کبھی اس کی صورت بنائی کبھی نہیں بنائی
08:50اللہ اکبر
08:51پھر آگے فرمایا
08:53کہ لنوبائینا لکم کیوں
08:55تمہاری جانچ کے لیے
08:56تمہاری آزمائش کے لیے
08:58پھر ہم نے جتنا چاہا
09:02تمہیں ماں کے رحم میں رکھا
09:03جتنا ہم نے چاہا
09:04پھر فرمایا
09:05تم بچے بن کر بار آئے
09:08اللہ اکبر
09:09پھر تمہیں جوانی عطا فرمایا
09:16اور دوسرے مقام پر
09:21تمہیں بڑا پا بھی عطا فرمایا
09:24جوانی کے بعد ہم نے جس کو چاہا موت دی
09:27جس کو چاہا
09:28ارزل عمر تک پہنچایا
09:29اللہ اکبر
09:30اور پھر آخری چیز
09:32جو سورہ بقرہ میں رشاد فرمایا
09:34کیفہ تک فرون باللہ
09:35تم اللہ کا انکار کیسے کرتے ہو
09:37وَكُنْتُمْ أَمْوَاتَ
09:38تم تھے کیا
09:39تم تو مادوم تھے
09:41فَاحِيَاكُمْ
09:42تمہیں اس نے زندگی عطا فرمائی
09:44ثُمَّ يُمِتُكُمْ
09:45پھر تمہیں موت عطا فرمائے گا
09:47ثُمَّ يُحِيِكُمْ
09:48پھر تمہیں زندگی عطا فرمائے
09:50کس کے لیے
09:50ثُمَّ يُلَيْهِ تُرْجَعُون
09:53تاکہ تم اللہ کی بارگاہ میں لوٹائے جاؤ
09:55کیا کہنے وی سبحان اللہ
09:56سبحان اللہ
09:56اور جو انسان
09:57اتنا اکڑ کر
09:58اتنا رعونت کے ساتھ
10:01اتنی مکاری کے ساتھ
10:02اور فریب کے ساتھ
10:03دنیا میں
10:04جو موف کرتا ہے
10:06وہ ذر اپنی تخلیق پر تو نظر ڈال دیں
10:08وہ ذر اپنی تخلیقی مراحل کو تو دیکھ لیں
10:11کس چیز سے پیدا کیا
10:12اللہ نے
10:13کیسے کیسے اس کی تخلیق کے
10:14مراحل کو بیان فرمایا
10:16اصل میں
10:16بات یہ ہے کہ
10:17ہمیں قرآن سے دور ہیں
10:18قرآن کی تعلیمات سے دور ہیں
10:20قرآن کے میسیجز سے دور ہیں
10:22اگر ہم ان کو دیکھ لیں
10:23تو انسان کو اپنی حیثیت کا
10:25اچھی طرح پتہ چل جائے
10:26کہ کیسے پیدا ہوا
10:28اور کس انداز میں اس کی تخلیق کی گئی
10:30بہرحال آج انسان موضوع ہے
10:32اور انسان تو ہر دور کا موضوع ہے
10:33اور قرآن کا بھی موضوع یہی ہے
10:35بعض کے نزدیک
10:35تو جناب حاضر ہوتے ہیں
10:37کہ وقفے کے بعد
10:37انشاءاللہ
10:38اس کو کنٹینیو کریں گے
10:39اور بہت ہی اہم سوالات
10:41میرے پاس آج کی اس موضوع سے
10:42متعلق موجود ہے
10:43انہیں بھی شامل کریں گے
10:44مرسات رہیے گا
10:45جی ناظرین آپ کا خیر مقدم
10:46انسان کے موضوع پر
10:47آج ہم بات کر رہے ہیں
10:48اور مفتی صاحب نے
10:49بہت اچھی انداز میں
10:50اضروع قرآن
10:52انسان کی تخلیق پر
10:53بہت امدہ کلام فرمایا
10:54اچھا انسان کی
10:56ماہیت کے حوالے سے
10:57اور کن اناثر سے
10:59مل کر
11:00انسان کو پیدا کیا گیا
11:02یہ ایک سوال ہے
11:03کہ آیا
11:04جس طرح مفتی صاحب نے فرمایا
11:05اس کو مزید کنٹینیو کریں گے
11:06بلہ مفتی صاحب جی
11:08بسم اللہ الرحمن الرحیم
11:09اللہم صلی اللہ علیہ محمد
11:11علیہ محمد مبارک صلی اللہ
11:12شکریہ رئیس بھائی
11:14یقیناً جس طرح آپ نے
11:15سنوہ کلام میں فرمایا
11:16کہ قرآن کا
11:17سب سے بنیادی موضوع
11:18وہ انسان ہے
11:19وہ انسان کی تخلیق سے
11:20متعلق مختلف مراحل ہوں
11:22یا انسان کی زندگی
11:24اس کے اچھے برے عمال
11:25اس کی اصلاح
11:27اور انسان کی زندگی
11:29کے بعد کے جو معاملات ہیں
11:30یعنی پورے قرآن کریم میں
11:32ہمیں جا بجا
11:33انسان سے متعلق
11:34مختلف پہلو سے کلام ملتا ہے
11:35تو انسان
11:36قرآن کا بنیادی موضوع
11:39اور اگر قرآن کے تصور سے
11:40انسان کو سمجھنے کی
11:41کوشش کریں
11:42تو یہ محض
11:44مادی ایک وجود نہیں ہے
11:45بلکہ
11:46مادی اور روحانی
11:47وجود کا ایک مجموع
11:48انتزاج ہے
11:49یعنی اس میں
11:50مادی اس کا وجود
11:51جسد خاکی بھی ہے
11:52اور ایک
11:53روحانیت کا
11:54ایک تصور ہے
11:55روح اس میں پائی جاتی ہے
11:56ان دونوں چیزوں کا
11:57حسین انتزاج
11:58خوبصورت انتزاج
11:59اللہ رب العالمین نے
12:01انسان کو بنایا
12:02تو نہ صرف
12:03مادی وجود
12:04بلکہ یہ دونوں چیزیں
12:05ہمیں انسان میں
12:05مرکب ان سے
12:06نظر آتا ہے
12:07پھر
12:08جسم سے متعلق
12:10اگر قرآن کریم میں
12:11ہم دیکھیں
12:12مختلف ہمیں
12:13تصورات ملتے ہیں
12:14کئی انسان کی تعریف
12:15یہ کی جاتی ہے
12:16مناطقہ اور
12:17فلاسفہ کے ہاں
12:18کہ انسان
12:18ہیوان ناطق ہے
12:19یا کئی کہا جاتا ہے
12:20کہ اناصر ارباہ
12:21کا مجموعہ ہے
12:22قرآن کریم کے
12:23اگر تعلق سے
12:23ہم دیکھیں
12:24جس طرح مفتی صاحب
12:25نے کلام کیا
12:25کہ انسان کی
12:27تخلیق کے
12:28مختلف مراحل
12:29اللہ رب العالمین
12:30نے قرآن کریم میں
12:30بیان فرمائے
12:31دو چیزیں
12:32اس پر بنیادی
12:32بیان فرمائے
12:33مٹی سے متعلق
12:34فرمائے
12:35کہ انسان کو
12:35ہم نے مٹی سے
12:36پیدا فرمائے
12:36کبھی تین کا
12:37لفظ استعمال فرمائے
12:38سلسال من حمائی
12:39مسنون فرمائے
12:40اور اس طرح
12:42مختلف طریقوں سے
12:44یعنی جو
12:45مٹی کے مختلف
12:46کیفیات ہیں
12:48خوش مٹی ہے
12:49گھیلی ہے
12:50کھنکتی مٹی ہے
12:51ان چیزوں سے
12:52متعلق قرآن کریم میں
12:53بار بار فرمائے
12:54کہ ہم نے انسان
12:54کو اس مٹی سے
12:55پیدا فرمائے
12:55تو پہلی چیز
12:56انسان کی تخلیق میں
12:57کہ اللہ رب العالمین
12:59نے انسان کو
12:59خاک سے مٹی سے
13:00پیدا فرمائے
13:01اور دوسرا فرمائے
13:03کہ ہم نے انسان
13:03کو پانی سے
13:04پیدا فرمائے
13:05یعنی
13:06مادہ منویہ سے
13:08نطفے سے
13:08اللہ رب العالمین
13:09نے انسان کو
13:09پیدا فرمائے
13:10اور ان دونوں چیزوں کے تعلق سے اللہ رب العالمین نے
13:13اس کے مختلف درجات مختلف مراتب اور مختلف قیفیات کو بیان فرمائے
13:17اٹھارویں سپارے کے آغاز میں ہم دیکھیں
13:20اللہ رب العالمین نے اس سے متعلق تفصیل کے ساتھ کلام فرمائے
13:23کہ ثم خلقنا النطفة عالقتن فخلقنا العالت مدغتن فخلقنا المدغت عزامن فقسونا العزام لحمہ
13:30یہ انسان کے مختلف تخلیقی مراحل کو بیان فرمائے
13:33اور اس میں کئی وجوہات ہیں
13:36ظاہری طور پر ہمیں اگر اس میں تھوڑا غور و فکر کریں تو دو چیزیں بڑی اہم اس میں نظر آتی ہیں
13:40ایک تو یہ جس میں آپ نے اشارہ بھی فرمائے
13:43کہ انسان کو بار بار اس کے ان مراحل کی طرف غور و فکر کے لیے متوجہ کیا جا رہا ہے
13:48کہ انسان جو آج نخوت سے غرور سے تکبر سے وہ بھرا ہوا پھر رہے
13:54تو فرمائے کہ اپنے ان چیزوں پر غور کرے
13:56قرآن کریم میں فرمائے نا کہ
13:57کہ انسان کی تخلیق میں ایسا مرحلہ بھی آیا کہ وہ قابل ذکر چیز ہی نہیں تھا
14:04کہ یہ جو آج انسان اپنے آپ کو دوسروں کے مقابلے میں تفوق اور بڑھتری کا ایک تصور قائم کیا ہوئے
14:15فرمائے کہ یہ قابل ذکر چیز ہی نہیں تھا
14:17تو انسان کو اس چیز کتر متوجہ فرمایا جا رہا ہے
14:20کہ انسان غور کرے کہ اللہ رب العالمین نے اسے کس کیفیت پر پیدا فرمایا
14:23اور پھر پوری کائنات کو ایک تصور عطا فرمایا جا رہا ہے
14:27آج سائنس کئی صدیوں کے بعد اپنی تحقیقات پیش کرتی ہے
14:31تو یہ ان چیزوں کو زیر بحث لائے جاتا ہے
14:33کہ انسان کو کس کیفیت کے مطابق اس کے تخلیق مراحل کیا کیا ہیں
14:38اور کس کیفیت میں کتنا عرصہ وہ پڑا رہتا ہے
14:41پھر اس کے بعد اس کی کیفیت تبدیل ہوتی ہے
14:44اللہ رب العالمین نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے اس تصور کو بیان فرمایا
14:48یہ جو تحقیقات آج کی جارہی ہیں
14:50اللہ رب العالمین نے اس کو بیان فرمایا
14:52اور پھر دوسرا جو انسان کا جو ہمیں اس کی کیفیت میں اس کی ماہیت میں جو چیز نظر آتی ہے
14:58وہ روح سے متعلق قرآن کریم میں بار بار تذکرہ فرمایا گیا
15:01کہ انسان روح اور جسم کا امتزاج ہے
15:04انسان کا جسم وہ مرنے کے بعد فنا ہو جاتا ہے ختم ہو جاتا ہے
15:09اللہ رب العالمین جسے باقی رکھے
15:11انبیاء اکرام علیم السلام ہو اللہ کے برگزیدہ بندے ہو
15:14کہ اللہ تعالیٰ نے مٹی پر ان کے اجسام کو حرام فرما دیا
15:17کہ ان کے اجسام کو وہ نقصان پہنچائے تکلیف ہو جائے
15:21لیکن اکثر انسانوں کا یہ معاملہ نظر آتا ہے
15:24روح اللہ رب العالمین کے حکم کے مطابق ہے
15:27حضور کی بارگاہ میں عرض کیا گیا تھا نا کہ یارسل اللہ روح کیا ہے
15:34اور پھر انسان کی جو کیفیت ہوتی ہے
15:37انسان کے جیسے آمال ہیں
15:39ویسے اللہ رب العالمین اس کی روح کو سکونت عطا فرماتا ہے
15:41کسی کی روح اس کی قبر میں ہے
15:44کسی کی مرگٹ میں ہے
15:45کسی کے پہلے آسمان پہ
15:46یعنی انسان کے آمال کے مطابق اس کی روح کا معاملہ ہے
15:49تو جو انسان اللہ رب العالمین کے حکمات کے مطابق
15:54اپنی زندگی گزارتا ہے تو
15:55اور اپنے مقصد تخلیق کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے
15:58دنیا میں بھی اللہ تعالی اس سے عزت عطا فرماتا ہے
16:01اور مرنے کے بعد بھی ہم دیکھیں
16:03کہ ان کے اجسام میں اللہ تعالی محفوظ فرماتا ہے
16:05اور ان کے عمل کی بدولت
16:07اللہ رب العالمین روح کو بھی برتری اور فوقیت عطا فرماتا ہے
16:10کیا بات
16:10سبحان اللہ سبحان
16:11تو گوئے یہ بات پتا چلی
16:13کہ انسان جو ہے جسم و روح کا مرکب ہے
16:17اور ظاہر ہے جب روح ہے
16:19تو ایک روحانی اس میں وہ تمام کے فیاد بھی موجود ہے
16:22اور جسم ہے
16:23جسم کے ساتھ جو مسائل درپیش ہیں
16:27وہ بھی اس کو سامنا کرنا پڑتا ہے
16:29سہت ہے بیماری وہ تمام چیزیں
16:31ظاہر جسم کے ساتھ منسلک ہیں
16:33انسان میں اللہ تعالی نے کیا کیا خصوصیات
16:36اور کیا کیا صلاحیتیں رکھی ہیں
16:39اس کا جاننا بھی مفتصہ بہت ضروری
16:41کیا فرمائی ہے سوال سے
16:42اس میں تو بہت لمبا وقت درکھا رہا ہے
16:45قبلہ نے بڑے خوبصورت انداز میں
16:47تخلیقی چیزوں کو ذکر فرمائے
16:50اور ساتھ میں
16:50جو بار بار ریپیٹ کیا جا رہا ہے
16:53کہ انسان کو متنبع کیا جا رہا ہے
16:55اچھا یہاں پر آپ نے فرمایا
16:57کہ اس کی جو خصوصیات اور صلاحیتیں
17:00وہ کیا کیا ہیں
17:00دیکھیں خصوصیات کے ایک رہا ہم بات کریں
17:04تو اللہ تبارک وطالعہ نے
17:06یوں سمجھ لیجئے
17:08کہ ایک خصوصیت تو یہ تا فرمائے
17:10کہ لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم
17:14بے شکر
17:14کہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا فرمایا
17:19اچھا جی اب اس کی زمن میں بہت سی باتیں
17:22وہ میں انشاءلہ ارز کرتا ہوں
17:23ایک تو بہترین ساخت
17:25یہ کسی اور کے لیے نہیں فرمایا
17:27پھر پندرہ میں پارے میں
17:28لقد خرمنا بنی آدم
17:31ہم نے بنی آدم کو انسان کو عزت کا تاج پینایا
17:35یہ تاج یہ بیان کسی اور کے لیے نہیں فرمایا
17:39اور پھر تیسری چیز
17:41فرمایا کہ ہم نے اس کو بہت سو سے افضل قرار دیا
17:50اور اسی افضلیت کے زمن میں اگر ہم دیکھیں
17:54تو اللہ تبارک و تعالی نے حضرت انسان
17:57یعنی آدم علیہ السلام کو کیا فرمایا
17:59وَعِلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا
18:02ہم نے آدم کو تمام اسما کے علوم عطا فرمائے
18:06جو اس کے ان کے مقابل فرشتوں کو نہیں عطا فرمائے
18:10اسی لئے انہوں نے کہا تھا
18:11سبحانک اللہ علم لنا
18:12اچھا نمبر چار
18:14مسجودِ ملائکہ بنائے
18:16وَإِذْكُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِسْ جُدُولِ آدَمَ
18:20فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِس
18:21تو اچھا اس کے ساتھ ہم دیکھتے ہیں
18:23کہ انسان
18:25یعنی انسان کے مقابلے میں
18:27جانوروں کو دیکھا جائے
18:28تو جانور لباس نہیں بینتے ہیں
18:31ٹھیک ہے نا
18:32انسان کو اللہ تبارک وطالہ نے
18:34لباس جیسی نعمت اطاف فرمائی
18:37یا بنی آدم قد انزلنا
18:39علیکم لباس یواری سو آتکم بریشا
18:43اس لباس کے ذریعے
18:44وہ ستتبہ پوشی بھی کرتا ہے
18:45اسی لباس کے ذریعے
18:47وہ زینت بھی حاصل کرتا ہے
18:49انہی خصوصیات میں
18:50ایک خصوصیت یہ دیکھیں
18:52کہ اللہ تبارک وطالہ نے
18:54کہیں کسی مخلوق میں
18:55انبیاء اور رسول نہیں بیجے
18:57وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ
19:00إِلَّا رِجَالًا نُوحِي إِلَيْهِ
19:02کہ ہم نے اس سے پہلے بھی
19:03اور نبی علیہ السلام کے لیے بھی فرمائے
19:06کہ ہم نے جتنے انبیاء
19:07جتنے رسول بیجے
19:08وہ سب کے سب انسانوں سے تھے
19:11انسانوں کے علاوہ
19:13کسی اور سے انبیاء
19:14اور رسول عزام علیہ السلام
19:15نہیں بیجے
19:16یہ تو خصوصیات ہے
19:17اب صلاحیتیں آپ دیکھیں
19:19کہ اللہ تبارک وطالہ نے
19:21انسان کو عجب پیدا فرمایا
19:23فی احسنی تقویم کے زمن میں
19:25اگر آپ بولنا چاہے
19:27تو میں سمجھتا ہوں
19:29کتنے دن کتنی راتیں گزر جائیں
19:30اچھا سائنس آج
19:32آج پروف کرنے میں لگی ہوئی ہے
19:33سب سے پہلی بات
19:34جو انسانی ڈھانچہ ہے
19:37اسے کہتے ہیں
19:38سائنس کی نظر میں
19:39اپورائٹ پوسچر
19:40یعنی بالکل سیدھا
19:42اور سائنس یہ کہتی ہے
19:44سائنس یہ کہتی
19:45عام بندہ نہیں کہتا
19:46سائنس یہ کہتی ہے
19:47جس طرح یہ انسانی ساخت ہے
19:49انسانی اسٹرکچر ہے
19:51کہا کہ یہ
19:53بہترین اسٹرکچر ہے
19:55اس سے بہتر ہو نہیں سکتا
19:56اور جس کا اسٹرکچر ایسا ہو
19:59تو اسے اٹھنے
20:01بیٹھنے میں
20:01کھڑے ہونے میں
20:02لیٹنے میں
20:03کھانے پینے میں
20:04ہر چیز میں اسے آسانی ہوتی ہے
20:07چھکے نا
20:07اچھا آپ یہ دیکھیں
20:09کتنے جانور ہیں
20:10کھڑے کھڑے سو جاتے ہیں
20:11کتنے بیٹھتے ہیں کتنے مشکل سے بیٹھ کر سوتے ہیں
20:13کتنے لیٹھتے ہیں کتنے مشکل سے ہیں
20:15لیکن انسان کے لیے ان چیزوں میں کوئی مشکل
20:18نہیں ہے
20:19ساری مخلوقات جانوروں میں آپ دیکھیں
20:22وہ سارے سر جھکا کر
20:24اپنی غزہ حاصل کرتے ہیں
20:25لیکن اللہ رب العالمین نے
20:27رزقی خاطر انسان کا سر جھکایا نہیں ہے
20:30اسے ہاتھ عطا فرمائے
20:31کہ اپنے ہاتھوں سے لے اور اپنے مو تک پہنچا دے
20:34اچھا پھر اس کے ساتھ
20:36آپ یہ دیکھیں کہ اللہ تبارک
20:38و تعالیٰ نے
20:38ایک ہمارا جو سر کا حصہ ہے
20:41یعنی آپ یہ سمجھ لیں کہ
20:43جو پیشانی والا حصہ ہے
20:45اسے سائنس کہتی ہے
20:47پری فرنٹل پروٹیکس
20:49یعنی یہ جو پیشانی والا حصہ ہے
20:51پھر سائیڈ آف دی برین ہے پھر بیک آف دی برین ہے
20:54آپ یہ دیکھیں
20:56کہ انسان یہاں سے سوچتا بھی ہے
20:58اچھا یہاں سے وہم کرتا ہے
21:01یہ قوت واہمہ ہے
21:02یعنی وہم کرتا ہے
21:03فیصلے یہاں سے کرتا ہے
21:05قوت مدرکہ
21:06اس سے فیصلے کرتا ہے
21:07یعنی آپ یہ دیکھیں
21:08کہ ایک سر ہے
21:09لیکن اس میں سوچنے کی
21:10واہم کرنے کی
21:11اور فیصلہ کرنے کی
21:13کیسی قوت صلاحیت
21:14اللہ علمی نے رکھی ہے
21:15پھر اس کے ساتھ آگے آ جائیں
21:17ایموشنل ڈیپت
21:18یعنی یہ جذبات
21:20یہ سوچنا
21:21یہ گہرائی میں سوچنا
21:22یہ صرف انسان کو عطا فرمایا
21:24ڈی این اے پروفائل
21:26یہ صرف انسان کا ہے
21:28کسی اور میں اس طرح
21:29ہمیں نہیں ملتا
21:30لیکن
21:30اللہ علمی آگے میں بتاؤں گا
21:31کہ اس میں کیا ہے
21:32بائیولوجیکل آئیڈنٹیٹی
21:34یہ آپ یہ دیکھیں
21:36کہ اللہ علمی نے
21:37یہ انسان میں ہی رکھی ہے
21:38سائنس سے کہتی ہے
21:40کہ اس میں ایک سیل ہے
21:41جس میں
21:42یعنی یوں سمجھ دیجئے
21:43کہ جس میں
21:44تین عرب
21:45ہزار دس ہزار نہیں
21:47لاک دس لاک
21:48تین عرب
21:49ہماری انفرمیشنز ہیں
21:50اس پر
21:50سائنس یہ پروف کر رہی ہے آج
21:52اچھا اسی طریقے سے
21:54آپ یہ دیکھیں
21:55کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے
21:56موریل بینگ کسی کو بنایا
21:58اخلاقی وجود
21:59تو انسان کو بنایا ہے
22:00اسی طرح
22:02اسینتھیک سینس
22:04جمالیاتی حص
22:06یعنی کبھی آپ خوشموں والے
22:07اچھے جگہ پر چلے جائیں
22:09تو آپ ایک
22:10اندر سے خوشی ہوتی ہے
22:11کبھی بدبو والی جگہ پر آ جائیں
22:13جاندر وہیں کھڑا ہوگا
22:14اسے کوئی محسوس نہیں ہوگا
22:15لیکن انسان فوراں محسوس کرتا ہے
22:17وہاں سے ہٹتا ہے
22:18اسی طرح آپ دیکھیں
22:19سپیکنگ پاور
22:20اللہ تبارک و تعالیٰ نے
22:22صرف انسان کو عطا فرمائی ہے
22:23جاندر میں وہ چیز نہیں ملتی
22:25آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں
22:26میں نے پڑھا کہ
22:27سکس تھاؤزنڈ لینگویجز ہیں
22:29چھ ہزار زبانے ہیں
22:31انسان ہی وہ ہے
22:32جو کئی زبانوں پر
22:34بیق وقت
22:34عبور حاصل کر لیتا ہے
22:36اللہ رب العالمین
22:37یہ صلاحیت عطا فرمائی
22:38اور پھر اس کے ساتھ ساتھ
22:39ہم دیکھتے ہیں
22:40کہ
22:41ٹائم کونشنز بینگ
22:42یعنی یہ ٹائمنگ
22:44اس ٹائم یہ کام کرنا ہے
22:45اس ٹائم یہ کرنا ہے
22:46یہ سارا انسان کو عطا فرمایا
22:48اور آخری بات
22:49اس میں کروں گا
22:50اتنی زیادہ
22:51کمپلیکسٹی ہے
22:52پیچیدگی ہے
22:52نا تے تردے
22:53صلاحیتیں
22:54خصوص سیاد
22:55ساری چیزیں
22:56لیکن جب انسان
22:57سوچ لیتا ہے
22:58فیصلہ کر لیتا ہے
23:00تو یہ سارے
23:01یونیٹڈ ہو کر
23:01ایک فیصلے پر آ جاتے ہیں
23:02واپ واپ واپ
23:03کیا اچھی بات ہے
23:04آپ نے بہت خوبصورت
23:05انسانی خصوصیات
23:07اور حصیات
23:08اور اس کی صلاحیتوں کے حوالے سے
23:10بڑی ہی خوبصورت
23:12اور بڑی لوجیکل
23:13گفتگو فربائی
23:14مفتی صاحب نے
23:14اور یقین ان انسان
23:16ایک بڑی ملٹی پل
23:17اور ملٹی ٹیلنٹیڈ
23:18اور بہت زیادہ
23:19اس کو
23:20بڑا تنوہ ہے
23:21اس کی
23:22اس کی تخلیق میں
23:23اگر غور و فکر کیا جائے
23:24اور قرآن تو کہہ یہ رہا ہے
23:25کہ آپ غور کیوں نہیں کرتے
23:26تفکر کیوں نہیں کرتے
23:28سمجھتے کیوں نہیں
23:29اس حوالے سے
23:29انشاءاللہ بات کریں
23:30ایک مختصر سا وقفہ
23:31وقف عباد حاضر ہوتے ہیں
23:32ہمارے ساتھ رہیے گا
23:33جی ناظرین آپ کے خیر مقدم ہے
23:35اور انسان موضوع ہے ہمارا
23:36اور اس کی صلاحیتیں
23:37اور خصوصیات
23:48انسان کو عطا فرمائے
23:50کیا کہیے گا
23:50مفت صاحب اس حوالے سے
23:51اس پر اللہ تعالی نے انسان کو
23:53دیگر تمام مخلوقات سے بڑتر
23:55اور افضل وعالی بنایا
23:57اشرف المخلوقات ہے
23:58تو یقیناً
23:59اللہ تعالی نے انسان کو
24:00جامد اور مجبور محض نہیں بنایا
24:02جس طرح بعض
24:03گمراہ فرقوں کا عقیدہ تھا
24:05کہ وہ
24:06انسان
24:07مجبور ہے
24:09یا انسان
24:09جیسے جبریہ اور قدریہ
24:11یہ فرقیں گزرے ہیں
24:11کہ انسان ہی
24:13اپنے عمال کا خالق ہے
24:14یا انسان مجبور ہے
24:15اور اس کے عمال پر
24:16اس سے کوئی سزا اور جزا نہیں کی جائے
24:18تو انسان کو
24:19اللہ رب العالمین
24:20نے اختیارات بھی عطا فرمائے ہیں
24:21اور
24:22قرآن کریم میں
24:23اس کا ہمیں تذکرہ
24:24کئی مقامات پر ملتا ہے
24:25سب سے بنیادی چیز
24:26کہ انسان
24:27اللہ رب العالمین کا نائب ہے
24:28خلیفہ ہے
24:29قرآن کریم میں
24:30اس کا تذکرہ اور تعارف
24:31بیان فرمایا
24:32کہ جب اللہ تعالی نے
24:33فرشتوں کے سامنے
24:34انسان کی تخلیق کا
24:35ارادہ ظاہر فرمایا
24:36تو فرمایا
24:37کہ
24:37کہ اللہ رب العالمین
24:43زمین میں
24:43انسان کو
24:44اپنے خلیفہ کے طور پر
24:46پیدا فرمانا چاہا ہے
24:46تو اب ہم دیکھیں
24:48کہ جو کسی کا نائب ہوتا ہے
24:49خلیفہ ہوتا ہے
24:50تو
24:50وہ اس کو اختیارات دیے جاتے ہیں
24:53اور
24:53زمین میں خلیفہ بنایا گیا
24:55تو پھر زمین سے متعلق
24:56تمام اختیارات
24:57اللہ رب العالمین
24:58انسان کو بتا فرمائے
25:03مسخر بھی فرما دیا گیا
25:04یعنی تسخیل
25:06اللہ رب العالمین
25:06نے اس کائنات کی
25:07جو فرمایا
25:08وہ انسان کے لیے
25:08اللہ رب العالمین
25:10نے اس کو مسخر فرمایا
25:11پھر اسی کے ساتھ ساتھ
25:12ہم دیکھے
25:12کہ انسان کو
25:13ارادے اور انتخاب کی
25:15آزادی اللہ رب العالمین
25:16یعطا فرمائی
25:16یعنی ہم دنیا میں دیکھے
25:18کہ
25:19اللہ رب العالمین
25:20کی طرف سے
25:21کوئی ایسا
25:22سلسلہ نہیں فرمایا گیا
25:23کہ
25:24جس طرح قرآن کریم میں
25:25ایک مقام پر فرمایا
25:26کہ
25:26اگر آپ کا رب چاہتا
25:30تو
25:31اس کائنات میں
25:31تو سارے ایمان لے آتے
25:32یہ انسان پر
25:34اللہ رب العالمین
25:34نے موقف رکھا ہے
25:35اس کا ارادہ کیا ہے
25:37اس کا انتخاب کیا ہے
25:38وہ کس طرف جانا چاہتا ہے
25:39کس چیز کو
25:40اختیار کرنا چاہتا ہے
25:41کہ انسان کو
25:45اللہ رب العالمین
25:46نے یہ دونوں راستوں
25:47کا
25:47سنس عطا فرما دیا
25:48شعور عطا فرما دیا
25:50اور اس کو
25:51ارادے اور انتخاب
25:52کی آزادی عطا فرما دی
25:53کہ جس راستے
25:54کو اختیار کرنا چاہے
25:55دنیا میں
25:56اس پر کوئی جبر نہیں ہے
25:57دنیا میں
25:58اس کو کوئی فورس
25:58نہیں کیا جا رہا
25:59دنیا میں
26:00اس کو
26:00کوئی ایسی آتھارٹی
26:02نہیں بٹھا دی گئی
26:02کہ اس کو پکڑ پکڑ
26:03کر ادھر لائے جائے
26:04ہاں اگر
26:05وہ اللہ رب العالمین
26:06کے حکمات کے
26:07مطابق اپنا ارادہ
26:08اور انتخاب کرے گا
26:09تو اللہ تعالیٰ
26:10اس سے دنیا اور آخرت میں
26:11اس کی برکتیں عطا فرمائے گا
26:12اور اگر
26:13اس کی پسند
26:14اور مرضی کے
26:14خلاف ہے
26:15اور اس کی
26:16مشیعت کے خلاف ہے
26:17تو پھر
26:18اللہ رب العالمین
26:19کی بارگاہ میں
26:19اس سے سزا
26:20کا سلسلہ ہے
26:21اور آمال کا
26:22مواخذہ ہے
26:23تو دنیا میں
26:24انتخاب
26:25اور ارادے کی
26:26اللہ رب العالمین
26:26نے اسے آزادی
26:27عطا فرمائے
26:28پھر اسی کے ساتھ
26:29اللہ تعالیٰ نے
26:30انسان کو
26:30مظاہر قدرت میں
26:32اقل اور فکر
26:33کا اختیار عطا فرمائے
26:34قرآن کریم میں
26:35بار بار تذکرہ فرمائے
26:36اور اس پر
26:36ابارہ گیا
26:37کہ یہ اللہ تعالیٰ نے
26:38تمہیں اختیار عطا فرمائے
26:39عفلات تفکر
26:40تم غور و فکر نہیں کرتے
26:42عفلات عقل
26:43تم اکل نہیں رکھتے
26:44عفلات تنظر
26:45یہ ساری چیزیں
26:46بار بار فرمائے جا رہی ہیں
26:47کہ تم یہ کیوں نہیں کرتے
26:49یعنی اللہ تعالیٰ نے
26:50تمہیں اکل و شعور
26:51فہم و فراست
26:52عطا فرمائی ہے
27:03عطا فرمائے
27:04اور اس کی معرفت
27:05کے مختلف ذرائع
27:06اللہ تعالیٰ نے
27:07مظاہر قدرت کی صورت میں
27:08عطا فرمائے
27:09پھر اسی کے ساتھ ساتھ
27:10ہم دیکھیں
27:10عطا تو معصیت کا
27:12اللہ رب العالمین
27:13نے انسان کو
27:14اختیار عطا فرمائے
27:14کہ انسان
27:15اچھا عمل کرے
27:16یا برا عمل کرے
27:17فمن شعف اليؤمن
27:18ومن شعف اليکفر
27:19کہ تم میں سے جو چاہے
27:21ایمان لے آئے
27:21تم میں سے جو چاہے
27:22کفر اختیار کرے
27:22لا اقراف الدین
27:24اللہ تعالیٰ نے
27:24کسی پر کوئی جبر نہیں فرمایا
27:26یعنی انسان
27:27کو اختیار عطا فرمائے
27:28ایمان لائے گا
27:30اللہ رب العالمین
27:31کو مانے گا
27:31اللہ کو تسلیم کرے گا
27:33تو اس کی برکت
27:33دنیا اور آخرت میں ہیں
27:34اور اپنے مقصد
27:35تخلیق کو
27:36وہ حاصل کر سکے گا
27:37اور اگر
27:38اللہ رب العالمین
27:39سے کفر کرے گا
27:40اللہ کو ماننے سے
27:41انکار کرے گا
27:42تو یقیناً
27:42اللہ کی بارگاہ میں
27:43اس کا مواخذہ ہونا ہے
27:44تو اللہ رب العالمین
27:45نے دنیا میں
27:46اسے ہی اختیار عطا فرما دیا
27:47کہ وہ
27:47ایمان اختیار کرے
27:49کفر اختیار کرے
27:50طاعت اختیار کرے
27:51معاصیت اختیار کرے
27:52اور انسان کو
27:54اللہ رب العالمین
27:54نے
27:55اپنا خلیفہ بنا کر
27:56یہ اعلان فرما دیا
27:57کہ ہم نے
27:57اس کو مجبور نہیں بنایا
27:58فَأَلْحَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَهَا
28:01کہ ہم نے
28:02فجور بھی
28:02اس کے دل میں
28:03الہام فرما دیا
28:04تقوی بھی
28:04اس کے دل میں
28:05الہام فرما دیا
28:05اور حضرت مولا
28:06کائنات نے
28:07وہ اس شخص سے
28:08فرمایا تھا نا
28:08کہ ایک ٹانگ
28:09کھڑی کرو
28:09اٹھاؤ
28:10تو اس نے
28:11ایک ٹانگ اٹھا کر
28:12تھوڑی دیر کے لیے
28:13اپنے اوپر کابو کیا
28:14پھر فرمایا
28:15کہ دوسری اٹھاؤ
28:15عرض کیا
28:16حضور میں گر جاؤں گا
28:17تو فرمایا
28:17کہ انسان کو
28:18اللہ تعالیٰ نے
28:18اختیار عطا فرما دیا
28:19یعنی انسان
28:20مجبور اور بے بس
28:22اللہ تعالیٰ نے
28:22پیدا نہیں فرمایا
28:23کیا کہنے
28:23سبحان اللہ
28:24اچھا اس پر مزید
28:25بات ہوگی
28:26آگے چل کر
28:27میں یہ جاننا چاہوں گا
28:28کہ آیا
28:29انسان کو
28:30اللہ تعالیٰ نے
28:31ذمہ داریاں
28:31کیا کیا
28:32رکھی ہیں
28:33انسان کے لیے
28:34ظاہر ہے
28:34جب اتنا کچھ
28:35اس کو دے دیا گیا ہے
28:37اختیارات دے دیا گیا ہے
28:38صلاحیتیں دے دی گئی
28:39تو ذمہ داریوں کے
28:40خالص
28:40تھوڑا سا میں
28:41ایک گفتگو
28:43تھوڑی سی کرلوں
28:44جو پچھلی
28:44اس میں
28:45تھوڑی سی رہ گئی ہے
28:46ایک انسان کو
28:48صلاحیت یہ بھی
28:48اتا فرمائی
28:49کہ اسے
28:49کونشیس بنایا
28:50اچھا
28:52حیرت انگیز میں
28:53ایک جگہ پڑھ رہا تھا
28:55تو اس میں لکھاوا ہے
28:55سائنس کی رپورٹ ہے
28:57اس کی ریسرچ ہے
28:58کہ انسان میں
29:00ایسے
29:01سیلز پائی جاتے ہیں
29:02جن کو
29:02نیورونز کہا جاتا ہے
29:04یہ دماغی اور
29:05آسابی نظام میں
29:06پیغام رسانی کرتے ہیں
29:08آپ جانتے ہیں
29:09کہ ان کی طرح
29:09انسانی وجود میں
29:10کتنی ہے
29:11چھاسی عرب
29:12جی جی
29:14مطلب ایک انسان
29:16یعنی
29:16کمپیوٹر کو
29:17کیا کو سمجھتے ہیں
29:18یہ کمپیوٹر
29:18انسان کا تخلیق کردہ ہے
29:20تو جو رب کا تخلیق کردہ ہوگا
29:22وہ کیسا ہوگا
29:23اچھا
29:24جس رب نے
29:25انسان کو
29:26ایسا بنایا
29:26وہ رب کیسا ہوگا
29:28وہ تو سپر بینگ ہوگا
29:29یعنی
29:29انسانوں سے ماورہ
29:30کائناس سے ماورہ
29:31پھر انسان وہ ہے
29:33کہ جس میں
29:33سیلف اکاؤنٹی بلیٹی
29:35بنائی ہے
29:35یہ صلاحیت رکھی ہے
29:37یہ کسی میں نہیں رکھی
29:38کہ کسی کو
29:39یہ غلطی کر بیٹھے
29:40تو اندر ضمیر
29:40اس کو
29:41ہشکولے مارتا ہے
29:42کہ تو نے غلط کام کیا ہے
29:44یہ کسی اور میں نہیں ہے
29:45یہی
29:46اچھا یہی وجہ ہے
29:47کہ سیلف اکاؤنٹی بلیٹی
29:49جو انسان میں رکھی ہے
29:50تو مرنے کے بعد
29:51جو دوبارہ
29:52اٹھنے کا
29:53اور اللہ تعالی کی
29:54بارگاہ میں
29:55حاضر ہونے کا
29:56اور ہر چیز کے
29:57جواب دینے کا
29:58جو معاملہ ہے
29:59وہ یہاں سے واضح ہوتا ہے
30:00یعنی جواب دینا ہے نا
30:02کیونکہ
30:02سیلف اکاؤنٹی بلیٹی
30:03نہ ہوتی
30:04تو جواب دے کس کو ہے
30:05یہ ہے
30:06اس کا مطلب ہے
30:07کہ کسی نہ کسی کو
30:07جواب دے ہے
30:08تو انسان
30:09اللہ تبارک و تعالی
30:11کو
30:11اپنے ہر معاملے میں
30:12جواب دے ہے
30:13جہاں تک
30:14ریسپونسیبیلیٹیز
30:15کی بات ہے
30:16ذمہ داریوں کی بات ہے
30:17تو اللہ رب العالمین
30:18نے
30:19یہ فرمایا
30:20کہ
30:20یہ انسان کو
30:26مخاطب کر کے فرمایا
30:27مخاطب کر کے
30:28کہ وہی ہے جس نے
30:30موت اور زندگی
30:30کو تخلیق فرمایا
30:31تاکہ وہ جانچ لے
30:33تاکہ وہ
30:34آزمائش فرما لے
30:35کہ کون اچھے عمل کرتا ہے
30:37کون اچھے طریقے سے
30:38کام کرتا ہے
30:40دوسرے مقام پر فرمایا
30:41کہ
30:41ہم نے جن
30:45اور انس کو
30:46اس لیے پیدا فرمایا
30:47کہ وہ ہماری ہی
30:48عبادت کریں
30:49تو
30:50نمبر ایک
30:51آزمائش
30:52یہ دنیا
30:53جائے آزمائش ہے
30:54نمبر دو
30:55اللہ تبارک وطالعہ نے
30:56انسان کو
30:57ایک مقصد کا
30:59تعین فرما کر بھیجا ہے
31:00اب نمبر تین کی طرف آ جائیے
31:02کہ جو سورہ احضاب کی
31:04آیت نمبر سیونٹی ٹو ہے
31:06انہا عردنال امانتا
31:08اللہ رب العالمین فرماتا ہے
31:10کہ بے شک ہم نے
31:11پیش کیا امانت کو
31:13ہم نے
31:18زمین پر
31:18آسمانوں پر
31:19زمین پر
31:20پہاڑوں پر
31:21یہ امانتیں پیش کی
31:22اچھا یہ امانتیں کون سی ہیں
31:24اس میں مفسرین کی
31:26جو جمہور کی رائے ہے
31:27ایک تو
31:28قول یہ بھی ہے
31:29کہ یہ عشق کی آگ ہے
31:30اور یہ عشق
31:32اللہ تبارک وطالعہ کی
31:33ذات کریمہ سے ہے
31:34یہ ہر کسی کو حاصل نہیں ہے
31:35یہ انسان کو حاصل ہوتا ہے
31:37دوسرا یہ
31:38کہ
31:38شرعی احکامات کا مکلف
31:40یہ ذمہ داریاں
31:42اللہ رب العالمین
31:43فرماتا ہے
31:44کہ جب ہم نے
31:44آسمانوں زمین
31:46کو پہاڑوں کو دی
31:47دینا چاہی
31:48تو انہوں نے انکار کیا
31:49اچھا یہ انکار
31:50جو ہے
31:51ماذرت کے معنی میں
31:52وہ کونوں تھے انکار کرنے والے
31:53ماذرت
31:54گویا کہ تقوینی انداز میں
31:56تقوینی اعتبار سے
31:57تو وہ سب
31:58توعا و کرہا
31:59ہر اعتبار سے
32:01اللہ تعالیٰ کے
32:01حکامات کے پابند ہیں
32:02لیکن تشریعی
32:03تشریعی معاملات
32:04نے انہوں نے
32:05معذرت پیش کی
32:06کہ ہم میں
32:06اتنی سکت ہی نہیں ہے
32:07اللہ رب العالمین
32:09فرماتا ہے
32:09کہ یہ ذمہ داریاں
32:10آدم علیہ السلام
32:11نے اٹھائیں
32:12انسانوں نے اٹھائیں
32:13یہ ذمہ داریاں کیا ہیں
32:14اللہ تعالیٰ
32:15اور اس کے رسول کی
32:16اطاعت
32:16یہ ذمہ داریاں کیا ہیں
32:18حقوق اللہ
32:19اور حقوق العباد
32:20کی مکمل پازداری
32:22جو اٹھائے گا
32:23اسے بخشا جائے گا
32:25اور جو انکار کرے گا
32:26کوتائیاں کرے گا
32:27تو پھر اس کے ساتھ
32:28معاملات کیے جائیں
32:29کیا کہنا ہے
32:30انسان کا
32:31مقصد تخلیق جو ہے
32:32وَمَا خَلَقُ الْجِنَّ
32:34وَلْإِنسَا لِلِي
32:34إِلَّا لِيَعْبُدُونَ
32:36سے تو واضح ہو جاتا ہے
32:37اور یقیناً
32:38ایک بہت بڑی
32:39ذمہ داری
32:39اس پر آیت کی گئی ہے
32:40جب تمام اختیارات
32:42کے ساتھ
32:42اس کو پیدا کیا گیا
32:43میں پیغام لینا چاہوں گا
32:44اس حوالے سے
32:45انسان کا موضوع ہے
32:46اور اس پر
32:47عام طور پر
32:48ہم یہ سمجھتے ہیں
32:48کہ کتابی موضوع ہے
32:49قرآن کا تو
32:50ہے ہی موضوع
32:51تو اس پر
32:51اس طرح سے
32:52کلام کیا جانا ہے
32:53یا روائی کیو ٹی وی
32:53کیسے کوشش
32:54کو آپ کس نظر سے دیکھنا ہے
32:55اس پر یقیناً
32:57جب ہماری زندگی
32:58کا سب سے اہم موضوع یہ ہے
33:00اصلاح نفوس کے حوالے سے
33:01ہم کوشش کریں
33:02اور ہماری زندگی
33:03کا مقصد یہی ہے
33:04اس کو قرآن کریم میں
33:05کئی مقامات پر
33:06بیان فرمائے
33:06کہ ہم نے
33:07انسانوں کو محض
33:08اپنی عبادت کے لیے
33:09پیدا فرمائے
33:10اور انسان کو
33:11جب مکلف بنا دیا گیا
33:12تو پھر
33:12ہر شخص پر یہ لازم ہے
33:14کہ وہ یہ تصور کرے
33:15کہ جس مقصد کے لیے
33:17اللہ رب العالمین
33:18نے اسے تخلیق فرمائے
33:19کیا اس مقصد کے حصول
33:21کے لیے وہ کوشش ہیں
33:21اس مقصد کے حصول کے لیے
33:24وہ کتنا کوشش کرتا ہے
33:25کتنا کامیاب ہے
33:26کتنی خامیہ ہیں
33:27یہ ساری چیزوں سے
33:28متعلق اسے غور و فکر کرنا
33:30یہ اس کی
33:30قرآن کریم میں بھی
33:31اس کا تقاضی فرمایا گیا
33:32وَلْتَنزُ النَّفْسُمَّا قَدَّمَتْ لِغَتْ
33:34کہ تم میں سے
33:35ہر شخص کو چاہیے
33:36کہ وہ غور و فکر کرے
33:37کہ اس نے
33:38اپنے آئندہ کل کے لیے
33:39کیا تیارے کیا
33:40یعنی زندگی میں
33:41سارا
33:42ہمیشہ ہمیشہ کے لیے
33:43تو انسان کو نہیں بھیجا گیا
33:44کہ ہمیشہ
33:45اس نے رہنا ہے
33:46اور یہاں سے جانا نہیں ہے
33:47کیا تم یہ خیال کرتے ہو
33:50کہ تمہیں
33:51عباس پیدا کیا گیا
33:52بیکار پیدا کیا گیا
33:53تمہیں اس کی طرف
33:55نہیں لوٹایا جانا ہے
33:56کیا تم
33:59انسان یہ خیال کرتا ہے
34:01کہ اسے بیکار
34:01چھوڑ دیا جائے گا
34:02تو اللہ کی بارگاہ میں
34:03حاضر ہونا ہے
34:04ایک مقصد ہے
34:05اور مقصد کو
34:06اگر پا کر
34:07اللہ کی بارگاہ میں
34:07حاضر ہوں گے
34:08تو یقینا کامیابی ہے
34:09اور اگر
34:10مقصد میں کتا ہی ہے
34:11تو یقینا
34:12زلط اور رسوائی ہے
34:13شرمساری ہے
34:14اس کیفیت سے پہلے
34:16آج اگر اپنا
34:16محاسبہ کر لے
34:18اور اپنا جائزہ
34:19لے لیا جائے
34:20تو یقینا کل کی پریشانی سے
34:21اور شرمندگی سے
34:22ہم بچ سکتے ہیں
34:23مزر کیا پیغم دیجئے گا
34:24آج کی موضوع کے حالے سے
34:25ہم ون لائنر میں چاہتا ہوں
34:26جی میں کہوں گا
34:26کہ ہم سب میں
34:28بلٹ ان
34:29self accountability ہے
34:31خود اتصابی
34:32یہ خود بخود ہوتی ہے
34:33تو اس کو مرنے نہ دیں
34:35ہم
34:35ہر روز سونے سے پہلے
34:37نہ اس کو جگہیں
34:37اور پورے دن کا اتصاب کریں
34:39کہ ہم نے کیا غلط کیا ہے
34:41کیا اچھا کیا ہے
34:41بہت اچھی بات ہے
34:42بہت خوبصورت بات
34:43یہ بلٹ ان کی گئی ہے
34:44تمام چیزوں میں
34:45جیسے ایک
34:46manufacturing plant سے
34:48کوئی چیز ہو کے آتی ہے
34:48تو بلٹ ان ہو کے آتی ہے
34:49بہت ساری چیزوں
34:50اس کو
34:50جو ہے
34:51لوگوں کی سہولت کے لئے
34:52تو اسی طرح انسان کو
34:53جب
34:53اللہ نے تخلیق فرمایا
34:55تو self accountability ہی نہیں
34:57بہت کچھ اس کو دیا گیا
34:59کہ وہ اپنی اصلاح و تربیت کے لئے
35:01سوچتا رہے
35:02غور و فکر کریں
35:03کہ میں نے کیا کیا
35:04میرا ماضی کیا تھا
35:05اور مجھے کس وجہ سے پیدا کیا گیا
35:06تو انسان کی تخلیق
35:08اس میں موجود صلاحیتیں
35:11اور اس کو
35:12کن کن چیزوں سے ملا کر
35:13بنایا گیا
35:14اس کی تخلیق کے مختلف مراحل
35:15اور اس کے جو اختیارات ہیں
35:18پھر اس سے آگے چل کر
35:19اس کی ذمہ داریا
35:20اور پھر اس کے مقصد تخلیق
35:22یہ تمام چیزیں
35:23آج ہم نے شامل کی
35:24آج کی اس پروڈرام میں
35:25اور کوشش کی
35:26کہ انسان کے موضوع پر
35:27جو قرآن کریم سے
35:28جو معلومات مل رہی ہے
35:29وہ آپ تک پہنچائی جائے
35:30آپ بھی غور کریں
35:32فکر کریں
35:33قرآن پڑھیں
35:34قرآن کی تراجیم پڑھیں
35:35اپنے لئے دیکھیں
35:36آپ کے لئے کیا پیغام موجود ہے
35:37ہم سوشل میڈیا اٹھا کر
35:39فوراں رکھ لیتے ہیں
35:40صبح کے وقت سامنے
35:41اگر اسی کی جگہ
35:43قرآن کریم سامنے ہمارے ہو
35:44اور چند آیات کے ساتھ
35:46ہم اگر اس کے تراجیم
35:47اور تفاصیر بھی پڑھ لیں
35:48تشریحات بھی پڑھ لیں
35:49تو میں سمجھتا ہوں
35:50کہ بہت کچھ سیکھنے کا
35:51موقع مل سکتا ہے
35:52مفسد آپ کی تشریف آوری کا
35:54بہت شکریہ دے کروں گا
35:55قبل آپ تشریف لائے
35:56بہت شکریہ
35:56ناظرین مہدرم اس کے ساتھ
35:57ہی اپنے میزبان
35:58محمد رئیس آمد کو
35:59اجازت دیجئے
36:00اللہ حافظ
Comments

Recommended