00:00الرازی نے جب علمِ طب میں قدم رکھا تو جلد ان کا ذہن طب میں کھلتا رہا اور انہوں نے
00:05اسلامی طبیبوں اور حکیموں کے تجربات پڑھ ڈالے
00:09جڑی بوٹیوں سے نئی نئی دوائیں تیار کی اور اس کے علاوہ انہوں نے پہلی بار تاؤن کی روک تھام
00:15کے لیے دوا بھی ایجاد کی
00:17الرازی کی شہرت جلد پورے شہر بلکہ پورے ایران میں پھیل گئی
00:21وہ رے کے مرکزی بازار میں اپنا مطب کرتے جہاں عوام کا مفت علاج ہوتا تھا جس کی سرپرستی رے
00:27کا گورنر کر رہا تھا
00:29کیونکہ رے کے گورنر کو بھی ایک موزی مرض نے آ لیا تھا مگر وہ الرازی کے پاس گیا تو
00:34شفایاب ہو گیا
00:35اس طرح رازی کا چرچہ دار الحکومت بغداد بھیجا پہنچا جہاں خلیفہ بغداد نے انہیں بغداد کے مرکزی ہسپتال میں
00:43بطور سرکاری ڈاکٹر رکھ لیا
00:45جہاں وہ جلد اپنی قابلیت کی بنا پر طبیب عاظم یعنی ہسپتال کے سربراہ کے عہدے پر بھی فائز ہو
00:51گئے
00:52اسی دوران انہوں نے علم طب میں مزید نئی تحقیقات کی
00:56اور پہلی بار آپریشن کے لیے کلورو فارم کا استعمال کیا جس سے مریض نیم بے ہوش ہو جاتا اور
01:03اس کی آسانی سے سرجری ہو جاتی
01:05ابوبکر زکریہ الرازی نے بغداد کے مرکزی ہسپتال میں سترہ سال ملازمت کی
01:10اور وہاں بے شمار مریضوں پر تجربات کر کے انہیں شفایاب کیا
01:14جس کی وجہ سے اب ان کی شہرت پورے عالم اسلام میں پھیل گئی
01:19انہوں نے بغداد میں ہی قیام کے دوران اپنی مارکا الارا کتابیں کتاب الحاوی اور کتاب الجدری لکھی
01:26جو علم طب پرشاندار کتابیں تھی
01:29جن کا ترجمہ جرمن فرانسیسی اور لاتینی زبانوں میں ہوا
01:33تو وہ یورپ کی میڈیکل یونیورسٹیوں میں بھی پڑھائی جانے لگی
01:37یوں الڈرازی کو عالم اسلام میں طب کا پہلا امام کہا جانے لگا
01:42معروف یورپی سکولر ایلفریڈ گیام کے مطابق
01:45الڈرازی کی کتابوں سے یورپ میں علم طب آسان سمجھ کر پڑھائی جانے لگا