00:00تحقیق کے ذریعے نہ صرف خود کو منوایا
00:02بلکہ عالم اسلام کے ان سائنس دانوں میں اپنا نام روشن کیا
00:06جن سے یورپ اور جدید دنیا نے بھرپور فائدہ اٹھایا
00:10اور اس نام کو ہم کمال الدین فارسی کے نام سے جانتے ہیں
00:14کمال الدین فارسی جن کا پورا نام ابو الحسن محمد کمال الدین فارسی تھا
00:20سن بارہ سو پینسٹھ کو موجودہ آزربائیجان کے شہر تبریز میں پیدا ہوئے
00:25سن بارہ سو ستر میں منگولوں کے حملے سے تنگ آ کر
00:28ان کا خاندان ایران کے شہر شیراز میں بس گیا
00:31تو یہی کمال الدین نے اپنی بازابتہ تعلیم کا آغاز کیا
00:36ان دنوں ایران میں امام غزالی رحمت اللہ علیہ کے افغار کا چرچہ تھا
00:40جنہوں نے مادیت اور اقلی فلسفے کے مقابلے میں
00:43قرآن سنت کی تعلیم دوبارہ زندہ کی تھی
00:46اسی لیے کمال الدین بھی ان سے متحصر تھے
00:49الفارسی نے دس برس کی عمر میں امام غزالی رحمت اللہ علیہ کی کتاب
00:54احیاء العلوم کی تمام جلدوں کا متعلق کر لیا
00:57اس کے بعد انہیں سائنسی علوم کا شوق ہوا
01:00وہ استاد قطب الدین شیرازی کے مکتب میں داخل ہوئے
01:03جہاں سے انہوں نے علم الریاضی، طبیات اور حیوانیات کا علم بھی حاصل کیا
01:08تاہم استاد نے اس نوجوان طالب علم میں بصیرت کی جھلک دیکھی
01:12تو انہیں بصریات کی جانب راغب کیا
01:14کمال الدین فارسی نے قوسے قضا کے متعلق بتایا
01:17کہ یہ کس طرح بنتی ہے
01:19اور اس کے ساتھ رنگ دراصل وہ شیڈز ہوتے ہیں
01:22جو فضا میں بکھرے ہوتے ہیں
01:24اور بارش کے بعد وہ نکھرتے ہیں
01:26تو آسمان پر دھنک نمائی ہو جاتی ہے
01:28کمال الدین سے پہلے یونانی دانشوروں کا یہ نظریہ تھا
01:32کہ قوسے قضا یعنی رینبو کے رنگ مختلف ہو سکتے ہیں
01:36لیکن کمال الدین نے پہلی بار تحقیق سے یہ ثابت کیا
01:39کہ یہ رنگ دنیا کے ہر خطے میں
01:42نہ صرف ایک جیسے ہوتے ہیں
01:44بلکہ ان کی ترتیب بھی وہی ہے
01:46یعنی بنفشی آسمانی نیلا پیلا نارنجی اور سرخ