00:00اور پھر دربار میں مبارک مبارک کی آوازیں آنے لگیں
00:05یہ تھے عالم اسلام کے ایک عظیم طبیب و سائنسدان
00:09جنہیں ہم ان کے مختصر نام ابن نفیس کے نام سے جانتے ہیں
00:13ابن نفیس جو سن بارہ سو دس کو دمشق کے نواہی علاقے میں پیدا ہوئے
00:18یہ وہ دور تھا جب عالم اسلام میں سائنسی علوم اپنے اروج پر تھے
00:23اسی لیے ابن نفیس نے قرآن حفظ کرنے کے بعد سائنسی علوم پر توجہ دی
00:28اور سب سے پہلے طبیعات کا علم حاصل کیا
00:31اس کے بعد ان کی دلچسپی علم کیمیا میں بڑھی
00:34اور علم کیمیا کے ذریعے ہی وہ علم طب کی طرف راغب ہوئے
00:39اور جب ان کی دلچسپی علم طب کی طرف بڑھی
00:42تو انہوں نے دمشق میں ابن دخوار کے مکتب میں داخلہ لے لیا
00:46جو اس وقت دمشق کا بہترین میڈیکل کالج تھا
00:49انہوں نے مزید علم کے لیے مصر کا رخ بھی کیا
00:52جہاں سلطان قلاؤن کی حکومت تھی
00:55ابن نفیس مصر پہنچے
00:57تو اہل مصر نے انہیں خوش آمدید کہا
00:59ابن نفیس مصر پہنچے تو سلطان قلاؤن نے
01:02بیمارستان المنصوری میں انہیں ملازمت دے کر
01:05اس کا پہلا سربراہ بھی بنا دیا
01:07جہاں ابن نفیس نے پہلی بار آپریشن کے دوران
01:10تجربہ کیا کہ انسانی خون جسم میں کس طرح گردش کرتا ہے
01:15اور کس طرح جسم میں سرکولیٹ ہوتا ہے
01:18اس سے قبل سائنسدانوں کا یہی نظریہ تھا
01:20کہ خون دل سے براہ راز تھی جسم میں منتقل ہوتا ہے
01:24لیکن ابن نفیس نے یہ ثابت کیا
01:26کہ دل اپنے دائیں خانے سے خون بنا کر
01:29پھیپڑوں میں بھیجتا ہے
01:30جہاں سے یہ اکسیجن بناتا ہے
01:32اور پھر یہ شریانوں سے ہوتا ہوا
01:34دل کے بائیں جانے باتا ہے
01:36اس طرح دنیا کو پہلی بار جسم میں
01:38خون کی گردش کے نظام کا پتہ چلا
01:40اور آج بھی جدید سائنس اس نظریہ کو مانتی ہے
01:43جسے ابن نفیس نے آج سے تقریباً آٹھ سو سال پہلے
01:48یعنی سن بارہ سو بیالیس میں پیش کیا تھا
01:51ورنہ اس سے قبل یونانی طبیب جالینوس کا نظریہ ہی مانا جاتا تھا
01:55اس طرح ابن نفیس نے گردوں اور پھیپڑوں کے فنکشنز بھی معلوم کیے
02:00اور پہلی بات ہارٹ اٹیک پر کتاب
02:02الرسالہ علم القلب بھی تحریر کیا
02:05جسے یورپ میں اٹھارویں صدی تک پڑھایا جاتا رہا