00:00اور اس ابو العباس کو ہم اس کے شہر فرغانہ کے نسبت سے الفرغانی کے نام سے جانتے ہیں
00:05ابن کسیر فرغانی جن کا پورا نام ابو العباس احمد بن محمد بن کسیر الفرغانی تھا
00:11اسبکستان کے شہر فرغانہ میں پیدا ہوئے
00:14یہ شہر اس وقت ایک چھوٹا سا قصبہ تھا
00:17لیکن اسی قصبے میں الفرغانی نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی
00:21اور وہ اپنے اہل و آیال کے ساتھ بغداد منتقل ہو گئے
00:25جہاں الفرغانی کو اچھی تعلیم میسر آگئے
00:28انہوں نے قرآن شریف حفظ کرنے کے بعد عقلی علوم حاصل کیے
00:32اور پھر وہ خلیفہ مامون کے قائم کردائیدارے بیت الحکمت سے وابستہ ہو گئے
00:37بیت الحکمت میں انہوں نے یونانی فلسفیوں کی کتابیں پڑھی
00:41اور پھر اپنی تحقیقات کا آغاز کیا
00:43ان کی توجہ علم فلکیات پر مرکوز رہتی
00:46اسی لیے بیت الحکمت میں وہ جلد ماہر فلکیات میں نمائع ہو گئے
00:51مامون نے زمینی پیمائش کے لیے ایک کمیٹی بنائی
00:54تو اس میں الفرغانی بھی شامل تھے
00:57پھر الفرغانی نے زمین سے چاند کا فاصلہ بھی دریافت کرنے کی کوششیں کی
01:02اور اس کے لیے انہوں نے خصوصی استرلاب بنائے
01:05یہ عالم اسلام کے پہلے سائنسدان تھے
01:08جنہوں نے علم ریاضی کی مدد سے زمین اور چاند کے درمیان فاصلہ نابع
01:13الفرغانی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے
01:16کہ انہوں نے زمین پر رہ کر چاند کی پیمائش کی
01:19اور ان کے ناپے ہوئے چاند کے قطر اور موجودہ پیمائش میں
01:22صرف چند کلومیٹر ہی کا فاصلہ ہے
01:24یہ وہ دور تھا جب اجرام فلکی کے مشاہدے کے لیے
01:28بہترین علاق ملیسر نہیں تھے
01:30لیکن یہ مسلمان تھے جو اپنے علم کی بدالت درست حساب لگاتے تھے
01:35ممنونونونون