00:00ابو بگر زکریہ بن جاہیہ الرازی
00:03ایران کے شہر رے میں ابن عبید نامی ایک کیمیادان کی دکان تھی
00:08جہاں شہر کے ایک نوجوان محقق نے دکان کے کونے میں چھوٹی سی لیبارٹری بنا لی تھی
00:14جس میں وہ روزانہ نئے نئے تجربات کرتا رہتا
00:17ابو بگر نامی یہ لڑکا اسی دھن میں تھا
00:20کہ ہو سکتا ہے وہ دھات کو سونا بنانے میں کامیاب ہو جائیں
00:23ایک دن وہ سونا بنانے کی مشک کرتے ہوئے لیبارٹری میں آنکھ کو دہکا رہا تھا
00:28تو آنکھ کا شہر اس کی آنکھ پہ لگا جس سے اس کی آنکھ جھلس گئی
00:34وہ چیخہ اور سیدھا بازار میں موجود ایک طبیب کے پاس پہنچا
00:38طبیب نے آنکھ کی تکلیف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے
00:41اس سے آج کل کے کچھ ڈاکٹروں کی طرح بھاری فیس طلب کی
00:44معاملہ آنکھ کا تھا
00:46اسی لیے ابو بکر نے مجبوراً وہ فیس ادا کی
00:49اور آنکھ پر مرہم لگوایا
00:51کچھ دنوں میں اس کی آنکھ تو ٹھیک ہو گئی
00:54لیکن اسے اندازہ ہوا کہ اصل علم تو یہی ہے
00:57میں بیکار دھات کو سونا بنانے کی مشک کرتا رہا
01:00جو آج تک کوئی نہیں کر سکا
01:02میں بھی اب طبیب بنوں گا اور عوام کی خدمت کروں گا
01:05ابو بکر نے یہ فیصلہ کر کے
01:07علم کیمیا میں سونا بنانے سے توبہ کی
01:10اور اپنی پوری توجہ علم طب پہ دینے لگا
01:13اور پھر تاریخ نے دیکھا
01:15کہ ایران کے شہر رے سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان
01:18عالم اسلام کا ایک عظیم سائنسدان اور طبیب بنا
01:22جسے دنیا ابو بکر زکریہ الرازی کے نام سے جانتی ہے
01:26ابو بکر زکریہ الرازی سن آٹھ سو چونسٹھ کو
01:29ایران کے موجودہ شہر تہران کے علاقے رے میں پیدا ہوئے
01:33رے کی نسبت ہی سے وہ الرازی کہلاتے تھے
01:36ان کے والد بھی انہیں ایک سائنسدان بنانا چاہتے تھے
01:39اسی لئے انہوں نے رے میں موجود ایک کیمیائی مکتب میں داخل کروا دیا
01:44جہاں سے الرازی نے ایک یونانی فلسفی کا مقالہ پڑھا
01:47کہ دھات کو سونا بنایا جا سکتا ہے
01:50چنانچہ رازی نے یہ کام کرنے کی ٹھانی
01:52اور اس کے لئے انہوں نے بے شمار کتابیں پڑھ گانی
01:55اور بے انتہا تجربات بھی کیے
01:57لیکن وہ سب کے سب ناکام ہوئے