Skip to playerSkip to main content
Dars e Quran - Surah e Aal-e-Imran Ayat 86 - 95

To watch all the episodes of Dars e Quran ➡️https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XicHmWttOceS6grEiS0XALjI

Tilawat (Recitation): Qari Noman Naeemi

Tafseer (Details): Allama Hafiz Owais

#AllamaHafizOwais #QariNomanNaeemi #DarseQuran

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00Ketabu la rayba fihi hudan li'l muttaqin
00:12A'udhu billahi minash shaytanirradim
00:23Bismillahirrahmanirrahim
00:32Kiyif yehdi lillahu qawqman kafaru ba'da imanihim
00:45Wa shahidu anna rasul salah haqq
00:54Wa jahamu albaymat
01:10Wa allahu la yahdi lillhi qawqman kawadimi
01:37Aulahika jazauhum
01:40Anna alayhim
01:44La'anata Allahi wa al-malaikati wa al-naasi ajamawin
02:11Qalidin fiha la yukhafafafafu alhamu al-razaab
02:21Wa la'anhim yungraroon
02:33La'anhim yungraroon
02:55Ila alladhi netabu min ba'd thalika wa aslahu fa'inna Allahi wa khurur rahim
03:19Ila alladhi netabu
03:31Ila alladhi netabu ba'da imanihim
03:58Sila al-maiz nuestra
04:16وَأُولَٰئِكَ هُمْ ضَالُّونَ
04:33إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُبْ كُبَارُونَ
04:46فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِلْقُ الْأَرْضِ ذَهَبَهُ
04:59وَلَوِيْءِ فَذَهَبِهِ
05:13أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَامٌ أَلِيهُ
05:25وَمَا لَهُمْ مِنْ مِنَّا عُسْحِزِينَ
05:36وَدَقَ اللَّهُ الْعَظِيمِ
05:45نحمده و نصلي و نسلم على رسوله الكريم
05:48أما بعد فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم
05:50بسم اللہ الرحمن الرحیم
05:53السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
05:56سامین و حاضرین درس قرآن کے نئے پروگرام کے ساتھ ہم حاضر ہیں
06:01حسم معمول قاری صاحب نے بڑی خوبصورت آواز میں
06:04سورہ آل عمران کی آیات 86 سے لے کے 91 تک کی تلاوت کی
06:10اس کے ترجمے اور تفسیر کی طرف ہم بڑھتے ہیں
06:13اللہ پاک نے ارشاد فرمایا کہ
06:15كَيْفَ يَهْدِ اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ ایمَانِهِمْ
06:19اللہ کیسے ہدایت دے گا اس قوم کو
06:22جنہوں نے کفر کیا اپنے ایمان کے بعد
06:25یہ وہ لوگ مراد ہیں
06:28کہ جو یہود سے تعلق رکھتے تھے
06:31نصارہ سے تعلق رکھتے تھے
06:34اور نشانیاں بھی دیکھتے آئے تھے
06:36ساری چیزوں کو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا
06:39اور ایمان بڑے قریب سے ان کے پاس سے گزرا ہے آپ سمجھیں
06:45کتابیں ان پر نازل ہو رہی ہیں نبی ان کے پاس آ رہے ہیں
06:48پھر نبی آخر الزمان ان کے پاس آ گئے
06:50اس کے باوجود انہوں نے کفر کیا
06:54آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا
06:57اور بلکہ اپنی فطرت کا انکار کیا
07:01اپنے ضمیر کا انکار کیا
07:03اپنی سوچ کا انکار کیا
07:05کیونکہ سوچ بھی یہی کہہ رہی تھی
07:07کہ تم غلط کر رہے ہو
07:08ضمیر بھی یہی کہہ رہا تھا
07:10کہ تم غلط کر رہے ہو
07:11فطرت بھی یہی کہہ رہی تھی
07:13کہ تم غلط کر رہے ہو
07:14تو جو اپنی فطرت کی بھی آواز نہ سنے
07:18اپنے من کی بھی آواز نہ سنے
07:20تو وہ تو اپنے آپ سے بھی جھوٹا ہے
07:23تو جو اپنے آپ سے بھی جھوٹ بول سکتا ہے
07:26اپنے ضمیر کو کچل سکتا ہے
07:28تو اللہ پاک اس کے لیے فرماتا ہے
07:30کہ
07:32ایسی قوم کو پھر اللہ ہدایت کیسے دے گا
07:36ایسے لوگوں کے لیے پھر ہدایت مقدر نہیں رہتی
07:39وَشَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّنَ
07:42اور انہوں نے گواہی دی
07:43کہ رسول حق ہیں
07:46بے شک رسول حق ہیں
07:49یہ گواہی انہوں نے دی
07:50یہ گواہی انہوں نے کہاں دی
07:52ان کے دل نے
07:54ان کے دل سے یہ گواہی آئی تھی
07:56کہ ہاں یہ رسول سچ ہے
07:58حق ہیں
07:59اس کے باوجود انہوں نے کفر کیا
08:02اس کے بعد اس کے باوجود انہوں نے انکار کیا
08:06اور ایک مثال کے ذریعے میں آپ کو سمجھاؤں
08:09کہ یہ کس قدر حضور کو جانتے تھے
08:11اور کس قدر اس کے باوجود زد کرتے تھے
08:14کہ یہ جو نجران کا جو وفت تھا
08:18جب یہ مدینہ منورہ آ رہا تھا
08:20آپ جانتے ہیں کہ نجران جو ہے وہ ایک
08:22عیسائیوں کا بہت بڑا قبیلہ تھا
08:25اور اس میں بڑے پاورفل لوگ رہا کرتے تھے
08:29ان کا تعلق سلطنت رومہ سے تھا
08:31اور مصر کی حکومت ان کو نوازتی تھی
08:34اور یہ ایک سپر پاور کے تحت خود بھی بہت طاقتور بن گئے تھے
08:38تو یہ وفت جو ہے مدینہ منورہ آ رہا تھا
08:41تو اس میں جو ان میں بھی جو سردار تھے
08:44القما کے دو بیٹے ابو حارسہ اور اس کا بھائی
08:48دورانے سفر ایسا ہوا
08:49کہ ابو حارسہ کا جو بھائی تھا
08:53اسے کوئی ٹھوکر لگی
08:55تو اس نے کہا تئیسل اب ادو
08:59کہ وہ جو دور ہے وہ برباد ہو
09:03یعنی دور سے مراد تھی اس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم
09:06یعنی حضور کی طرف سفر کر کے آ رہے تھے
09:09تو حضور علیہ السلام کا خیال کرنے لگا
09:12اور حضور کے بارے میں نازیبہ کلمات کہنے لگا
09:15تو اپنے ہی بھائی نے اس کو کہا
09:18ابو حارسہ نے
09:19تَعِسَ أُمُّ کا
09:20اپنے بھائی کو کہ تیری ماں حلاق ہو
09:23تیری ماں برباد ہو
09:25تو وہ چونگ گیا
09:26اس نے کہا کہ بھائی آپ نے مجھے یہ بات کیوں کہی
09:29میں تو کسی کو کہہ رہا تھا
09:31تو آپ اپنے ہی گھر پہ یہ بات لے کر آ رہے ہیں بربادی کی
09:36تو ابو حارسہ نے اس موقع پر کہا
09:38کہ تمہیں خبر نہیں ہے
09:40کہ وہ اللہ کے سچے رسول ہیں
09:43وہ اللہ کے سچے رسول ہیں
09:46ان کے بارے میں ایسا کچھ نہ کہو
09:47تو بھائی نے کہا کہ جب وہ اللہ کے رسول ہیں ہی
09:51تو پھر آپ مانتے کیوں نہیں ہیں
09:53آپ اس دین اور اس مذہب پر کیوں ہیں
09:57تو ابو حارسہ نے کہا
10:00مانتا تو ہوں
10:01مگر دل میں
10:02اور اقرار اس لیے نہیں کرتا
10:05کہ جتنی مراعات
10:07جتنی سہولیات
10:09اور جتنی عیاشی
10:11اور جتنے تاج و تخت ہمیں
10:12دنیا کے حکومتوں کی طرف سے ملے ہوئے ہیں
10:15اس ماننے کی وجہ سے
10:17یہ سب کچھ ہاتھ سے چلا جائے گا
10:20تو دیکھیں
10:21یہ ابھی حضور کے پاس آ رہا تھا
10:25نجران کا جو وفد ہے
10:26اس وقت ان کے ایمان کی دل سے یہ کیفیت تھی
10:30یہ اتنا حضور کو مانتے اور جانتے تھے
10:32دل سے
10:33تو آپ اندازہ کریں
10:35کہ جب مباحلہ ہوا ہوگا
10:37یہ مدینہ منورہ آئے
10:39پھر حضور سے مباحلہ ہوا
10:40اور انہوں نے حضور کی حقانیت کو
10:42پھر مزید اپنی آنکھوں سے دیکھا
10:44اور پھر جب یہ واپس جا رہے ہوں گے
10:47شکست کھانے کے بعد
10:48اس وقت ان کا کتنا ایمان ہوگا حضور پر
10:51پھر تو سب کچھ آنکھوں سے دیکھ کر آئے
10:54لیکن اس کے باوجود
10:56یہ نجران کے عیسائی جو ہے
10:58ایمان نہیں لائے
10:59تو یہ ان کی کیفیت ہے جو قرآن نے بیان کی
11:02وَشَهِدُوا اَنَّ الرَّسُولَ حَقٌ
11:04اور ان کا دل گواہی دیتا ہے
11:06کہ یہ رسول حق ہیں
11:07وَجَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتِ
11:09اور ان کے پاس
11:10واضح نشانیاں بھی آ چکی ہیں
11:12وَاللَّهُ لَا يَهْدِ الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
11:15اور اللہ
11:16ظالم قوم کو
11:17ظلم کرنے والی قوم کو
11:18ہدایت نہیں دیتا
11:20اُلَائِكَ جَزَاؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَتَ اللَّهُ
11:23اور ان کا بدلہ
11:24صرف یہ ہے
11:26کہ اَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَتَ اللَّهُ
11:28ان پر اللہ کی بھی لانت
11:30وَالْمَلَائِكَتِ
11:31اور لوگوں کی بھی
11:32اور فرشتوں کی بھی لانت
11:34وَالْنَّاسِ
11:35اور لوگوں کی بھی لانت
11:36اجمعین سب کی
11:39آپ انداز دیکھ رہے ہیں
11:40یہ انداز اسی لئے اپنایا گیا
11:42کہ انہوں نے جو ہے
11:44وہ کفر کا آخری درجہ
11:46آپ سمجھ لیں
11:47کہ دل بھی مان رہا ہے
11:49روح بھی مان رہی ہے
11:50فطرت بھی مان رہی ہے
11:52سب کچھ قبول کر رہا ہے
11:53لیکن ان کا ذہن تسلیم نہیں کر رہا
11:55کہ ہمارے پاس سے
11:56دنیا کی سہولیات
11:58اور عیاشیاں چلی جائیں گی
11:59اگر ہم نے حضور کو مان لیا
12:00اللہ پاک نے کہا
12:02اپنی فطرت کو
12:03مسخ کرنے والو
12:04تم پہ میری بھی لانت
12:06فرشتوں کی بھی لانت
12:08اور لوگوں کی بھی لانت
12:09ایسا بندہ کبھی بھی نہیں بخشا جاتا
12:11کہ جو
12:12اپنے ضمیر کو مار کے
12:15مطمئن ہو جائے
12:16پھر اس کے راستے
12:17جو ہے وہ
12:18بند ہو جاتے ہیں
12:19فرمایا کہ
12:19خالدین افیہ
12:21یہ اس جہنم میں
12:22ہمیشہ رہیں گے
12:23اس عذاب میں ہمیشہ رہیں گے
12:25لانت کا ذکر کر دیا
12:26تو یہ اسلوب بتا رہا ہے
12:28کہ لانت سے مراد
12:29ان کے لئے عذاب ہے
12:30اور عذاب جہنم کا ہے
12:31تو اس میں یہ ہمیشہ رہیں گے
12:33لا يخفف عنہم العذاب
12:35ان سے عذاب میں
12:36کوئی کمی نہیں کی جائے گی
12:38ولا ہم ینظرون
12:39اور نہ ہی ان کی طرف
12:41جو ہے
12:41وہ نظر رحمت کی جائے گی
12:43کسی قسم کی محلت
12:44ان کو دی جائے گی
12:47اِلَّا الَّذِينَ تَعْبُوا مِن بَعْدِ ذَالِكَ وَأَصْلَحُوا
12:50سوائے ان لوگوں کے
12:52جنہوں نے توبہ کر لی
12:53مِن بَعْدِ ذَالِك
12:55اس کیفیت کے ہونے کے بعد
12:57بعض وہ ہیں
12:58جن کو عیسائیوں نے
13:00اپنے ساتھ ملا لیا
13:01گمراہ کر لیا
13:02ایمان لا چکے تھے
13:04پھر کفر کی طرف چلے گئے
13:05پھر ان کو سمجھ آگئی
13:06کہ نہیں ہم غلط طرف آگئے
13:08تو پھر ان کی آنکھیں کھلیں
13:10تو وہ واپس توبہ کر کے آئے
13:12تو ان کی توبہ بھی
13:13اللہ پاک نے قبول کر لی
13:15جیسے حارس بن سوید انساری
13:17ایک صاحب تھے
13:19انہوں نے جو ہے وہ
13:20عیسائیوں سے متاثر ہو کر
13:22ان کا قافلہ اختیار کر لیا
13:24پھر ان کو وہاں جا کے
13:26مزید ان کی پھر آنکھیں کھولی
13:27کہ بولا نہیں میں غلط طرف آگیا ہوں
13:29تو وہ پھر حضور علیہ السلام
13:31کے پاس پیغام بھیجتے ہیں
13:32کہ اگر میں واپس
13:34ہلکہ اسلام میں آنا چاہوں
13:36تو کیا میری توبہ قبول ہوگی
13:38اور مجھے مارا تو نہیں جائے گا
13:41آپ صلی اللہ علیہ وسلم
13:42نے فرمایا نہیں
13:43ان کی توبہ قبول ہے
13:44وہ آج رہے
13:45تو توبہ تو ہر ایک کے لیے
13:48اس کا دروازہ کھلا ہوا ہے
13:49اگر کوئی مرتد بھی ہے
13:50کوئی اسی نے کفر بھی کر لیا ہے
13:52اور وہ واپس آنا چاہتا ہے
13:53اپنی زندگی کے اندر
13:55اپنی موت سے قبل
13:56حیات کے دورانیے میں
13:58اگر کوئی پلٹنا چاہتا ہے
14:00تو وہ کوئی بھی بندہ ہے
14:01وہ پلٹ سکتا ہے
14:02تو
14:03اور انہوں نے پھر
14:07اپنی اصلاح کر لی
14:08اپنے آپ کو درست کر لیا
14:10ٹھیک ہے نا
14:11توبہ توبہ
14:12بس کوئی کام
14:13ہم نے گناہ کا کیا
14:14یا غلط کام کیا
14:16اور کسی نے ایک توجہ دلائی
14:17توبہ توبہ بس
14:18بس یہ کر کے ہم نکل گئے
14:20اور ہم نے اپنی اصلاح نہیں کی
14:21اپنے آپ کو ٹھیک نہیں کیا
14:23پھر وہ توبہ نہیں ہے
14:25وہ بس ایک لفظی توبہ ہے
14:27حقیقی توبہ نہیں ہے
14:29حقیقی توبہ یہ ہوتی ہے
14:30کہ جب انسان پلٹ آتا ہے
14:32اس کے احوال پلٹ آتے ہیں
14:34اس کی کیفیات پلٹ آتے ہیں
14:36اس کے معامولات پلٹ جاتے ہیں
14:37دیکھنے والا کہتا ہے
14:39کہ یہ پلٹ گیا
14:40اور جو صرف لفظوں سے پلٹتا ہے
14:42تو پھر اس کے پلٹنے کا کوئی اعتبار نہیں ہے
14:45اس لئے فرمایا
14:46کہ
14:51تو پھر بے شک
14:52اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے
14:58بے شک وہ لوگ
14:59جنہوں نے کفر کیا
15:00اپنے ایمان کے بعد
15:02پھر ان کا کفر اور بڑھ گیا
15:05ایک تو وہ تھے
15:06جن کا پچھلی آیت میں ذکر کیا
15:08کفر ہوا
15:09توبہ کر لی
15:10ایک بالکل اس کا اپوزٹ ہے
15:12اس نے کفر کیا
15:13اس کا کفر اور بڑا
15:15اور بڑا
15:17ایمان اور کفر جو ہیں نا
15:18وہ اپنی کیفیت کے اعتبار سے
15:20کم زیادہ ہوتے رہتے ہیں
15:22یعنی جس کو ہم کہیں
15:23مضبوط ایمان اور کمزور ایمان
15:25تو بعض لوگ جو ہیں
15:27وہ اسی طرح کفر میں
15:29کمزور نہیں ہوتے
15:31بعض کفر میں بھی کمزور ہوتے ہیں
15:33واپس آ جاتے ہیں ایمان کی طرف
15:34توبہ کر لیتے ہیں
15:35بعض وہ ہوتے ہیں جو کفر کرتے ہیں
15:38ان کا کفر مضبوط ہوتا ہے
15:41وہ کفر میں آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں
15:46ایسے لوگوں کی
15:47توبہ ہرگز قبول نہیں کی جائے گی
15:52اور ایسے لوگ جو ہیں وہ
15:55گمراہی میں
15:55اور جو
15:59راستے سے ہٹنے کا جو ان کا معاملہ ہے
16:01وہ واضح ہو چکا ہے
16:03تو یہ پھر ایک منافقانہ توبہ کرتے ہیں
16:06یہ توبہ نہیں ہوتی
16:07کفر ان کا مضبوط ہوتا ہے
16:08کسی کو دکھانے کے لیے بولیں گے
16:10کہ جی توبہ توبہ
16:11تو معاملات ان کے سارے وہ کفر والے ہیں
16:15تو پھر یہ توبہ کوئی توبہ نہیں ہے
16:17انہ الذین کفر وما توہم کفار
16:20اور بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا
16:22اور وہ اس حال میں مرے
16:24کہ وہ کافر ہی تھے
16:25فلن یقبل من احدہم مل الارد زہبہ
16:28تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا
16:31کسی ایک سے بھی
16:33زمین بھر سونا
16:35مل الارد زہبن
16:37یہ بتانے کے لیے
16:40کہ کافر جو کفر پہ مرا
16:43اس کی توبہ
16:45یا اس کی بخشش جو قیامت کے دن ہے
16:48وہ نہیں ہو سکے گی
16:49وہ ناممکن ہے
16:51یہ بتانے کے لیے یہ اسلوب اپنایا گیا
16:55کہ زمین بھر سونا بھی وہ فدیہ کرے گا وہاں
16:58تو اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی
17:01یا وہاں پر اس کو بخشا نہیں جائے گا
17:03حالانکہ وہاں کسی کے پاس کوئی سونا نہیں ہوگا
17:05یہ وہاں پر کوئی ایسی چیز نہیں ہوگی
17:08جس کو دے کے وہ اپنی جان بخشوا سکے
17:10ایسی ہوگی کوئی چیز نہیں
17:11لیکن یہ اسلوب اس لیے اپنایا گیا ہے
17:13کہ یہ بتانے کے لیے کہ وہاں
17:15کوئی راستہ نہیں ہوگا
17:16جیسے سورہ بقرہ میں ہم پڑھائیں
17:18وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ
17:20وَلَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَتٌ
17:23وَلَا هُمْ يُنْسَرُونَ
17:24یہ بار بار قرآن کریم میں آتا ہے
17:27اولئیک لہم عذابٌ علیم
17:29ان کے لیے دردناک عذاب ہے
17:32وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ
17:34اور یہ
17:36ان کے لیے کوئی متدگار بھی
17:38نہیں ہے
17:39قیامت کے دن یہ
17:40بے سر و سامان رہ جائیں گے
17:42بے آسرہ رہ جائیں گے
17:44بے سہارہ رہ جائیں گے
17:45ان کا کوئی سہارہ نہیں بنے گا
17:47تو یہ آیات نائنٹی ون تک مکمل ہوئیں
17:50الحمدللہ ہمارے یہاں تین پارے بھی مکمل ہو گئے
17:53اور وقفے کے بعد جب ہم پلٹیں گے
17:55تو چوتھے پارے سے ہماری آیات کا آغاز ہو جائے گا
17:58سورہ علی عمران کی نائنٹی ٹو
18:00ہم وقفے کی طرف بڑھ رہے ہیں
18:02آپ ہمارے ساتھ رہیے
18:03اعوذ باللہ من الشیخان الرجیم
18:12بسم اللہ الرحمن الرحیم
18:25لَا تَنَالُوا الْبِرَحَتَا تُنْفِقُوا مِنَّا تُحِبُونَ
18:51وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ
19:01فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيْهِ
19:16كُلُّ تُعَامِ كَانَ حِلًا لِبَنِ إِسْرَائِيلَ
19:29لَا إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ
19:39وَعَلَى نَسِهِ مِنْ قَبَلِ
19:46لَا إِنْ تُنَالَ لَتَوْرَاهِ
19:59قُلْ فَالْفُوا بِالْتَوْرَاتِ
20:05فَالْفَلُوا
20:12إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
20:18فَالْفَلُوا
20:19إِنْ تَرَى عَلَى اللَّهِ
20:32إِنْ كَذِبَ مِنْ
20:40مَعْدِ ذَلِكَ فَالْفَلَا
20:51إِنْ كَوْمُ عَلِغْلِونَ
21:05قُلْ صَدَقَ اللَّهُ فَالْفَالْتَبِعُوا
21:13مِنْ مِلَةَ إِبْرَاهِيمَ حَرْهِ
21:20مِنْ مِنْ مُشْرِكِينَ
21:40صَدَقَ اللَّهُ
21:47مِنْ
21:48خوش آمدے سامین و ناظرین
21:50وقفے کے بعد قاری صاحب نے پھر حسب معمول بڑی خوبصورت آواز میں سورہ آل عمران کی آیات 92 سے
21:5895 تک کی تلاوت کی اس کے ترجمے اور تفسیر کی طرف بڑھتے ہیں سب سے پہلے ہم دیکھتے ہیں
22:04آیت نمبر 92 کو
22:06اللہ پاک نے ارشاد فرمایا کہ لَنَ تَنَعْلُ الْبِرَّ تم ہرگز نیکی کو نہیں پاسکتے ہو حتی یہاں تک کہ
22:15تنفقو ممات حبون تم خرچ کرو اس میں سے جو تمہیں پسند ہے
22:20تم ہرگز نیکی کو نہیں پاسکتے بر سے مراد یہاں پہ تقویٰ ہے
22:26ایمان کا آلہ درجہ ہے ایمان کے آلہ درجے پہ پہنچنا چاہتے ہو تقویٰ تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہو
22:34تو تمہیں یہ کرنا پڑے گا کہ تم اپنی پسندیدہ چیز اللہ کی بارگاہ میں خرچ کرو
22:41ہماری عادت یہ ہے کہ ہم آیات کو پچھلی آیات سے جوڑ کر دیکھتے ہیں تو مفہوم اچھی طرح اس
22:47کا واضح ہو جاتا ہے
22:48اس سے پہلے جو آیات آپ کے سامنے تلاوت کی گئیں ترجمہ تفسیر بیان کیا گیا جس میں
22:54تو اس میں اللہ پاک نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ یہ جو یہود کے لوگ ہیں
23:00یہ اپنے ضمیر کی بات نہیں مانتے کفر کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننے کے باوجود
23:08یہ انکار کرتے ہیں اور پھر دعویٰ بھی یہ کرتے ہیں کہ یہ حق پر ہیں
23:12یہ سچے ہیں یہ صاف سترے ہیں تو اب یہاں سے جو مضمون شروع کیا جا رہا ہے وہ عملی
23:18پہلو سے شروع کیا جا رہا ہے
23:20یعنی یہ بتایا جا رہا ہے کہ محض دعووں سے کچھ نہیں ہوتا
23:25اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی جب بات آئے گی
23:28تو پھر تم ان یہود و نصارہ کو دیکھو کہ ان کے چھکے کیسے چھوٹیں گے
23:34یعنی بات یہ کرتے ہیں حضرت ابراہیم کی
23:36کہ ہم تو ابراہیم ہی ہیں ہم تو اولاد ابراہیم ہی ہیں
23:40کون ابراہیم علیہ السلام
23:42کہ جنہوں نے اللہ کی راہ میں اللہ کے لیے بیٹا بھی قربان کر دیا تھا
23:48اور ایک یہ ہیں جو ابراہیمی بننا چاہتے ہیں
23:52ان سے اپنا مال بھی اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کیا جاتا
23:56اور کیا خوبصورت یہ آیت ہے جو اس وقت کے منظر کی بھی اکاسی کر رہی ہے
24:01اور قیامت تک کہ یہود کی لالچ خودغرزی مال سے محبت اور صدقے سے دوری
24:09بلکہ الٹا لوگوں کا خون نچوڑنا پیسہ جمع کرنا اکٹھا کرنا
24:14اور دولت کی لطپت میں مصروف رہنا یہ سارا ان کا ایک مزاج تھا
24:20تو اللہ نے فوراں ایک پریکٹیکل پہلو لوگوں کے سامنے رکھ دیا
24:24کہ تقوے والے وہ ہوتے ہیں
24:26اللہ کو پسند جو آتے ہیں جو لوگ وہ وہ لوگ ہوتے ہیں
24:30کہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اپنا پسندیدہ مال
24:34ایک طرف یہ یہود و نصارہ کی کیفیت تھی
24:37کنجوسیوں کا عالم تھا
24:38اور دوسری طرف جان حصاران مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت تھی
24:43یہ آیت کریمہ نازل ہوئی
24:46سورہ آل عمران کی 92
24:48تو حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالی
24:52مدینہ کے یہ بڑے متمول اور امیر انسان تھے
24:56تاجر تھے
24:57تو ان کی زمینیں تھی زراعت تھی
25:01ان کا ایک باغ تھا بیرہا کے نام سے
25:04جو مدینہ میں سب سے نمائع باغ تھا
25:07آپ کہہ سکتے ہیں
25:08کہ کسی علاقے کی سب سے مہنگی پروپرٹی
25:11یہ اس کے مالک تھے
25:12تو ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالی کے پاس
25:15جب یہ آیت پہنچی ہے
25:16تو دوڑ کر بارگاہ رسالت محب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوگی
25:20یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آیت اتری ہے
25:23کہ تم نیکی حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ تم اپنا پسندیدہ مال
25:27اللہ کی راہ میں خرچ نہ کر دو
25:29تو مجھے تو سب سے زیادہ پسند بیرہ کا باغ ہے
25:32یا رسول اللہ حکم فرمائیے کہاں خرچ کرنا ہے
25:37ابو طلحہ تم اپنا باغ اللہ کی راہ میں دے رہے ہو
25:40کہاں میں اپنا باغ اللہ کی راہ میں دے رہے ہو
25:42یہ تھی ایمان والوں کی کیفیت
25:44حضور علیہ السلام نے جو ان کے جتنے رشتے دار تھے
25:47ان کے حصص مقرر کیے
25:49اور وہ سارا باغ جو اس کے حصے تھے
25:53جو اس کے شیرز تھے آپ سمجھیں
25:56کہ وہ سب میں تقسیم کر دیئے
25:57کہ یہ باغ کا اتنا حصہ اس کا ہے
26:00اتنا حصہ اس کا اتنا حصہ
26:01کتنی بڑی بات ہے آپ دیکھیں
26:03کہ ایک انسان کے پاس اپنی تمام پروپرٹیز میں
26:06جو سب سے مہنگی پروپرٹی ہے
26:08وہ اس آیت کو سننے پڑھنے کے بعد وہ آئے
26:11اور اپنے رشتے داروں کو دیکھیں
26:13اور وہ اس کو بیچ کے
26:15یا اس کے حصے جو ہے اپنے رشتے داروں کو دے دیں
26:18ان رشتے داروں میں خاص بیٹا بھی ہو سکتا ہے
26:22گھر والے بھی ہو سکتے ہیں
26:24کزنز بھی ہو سکتے ہیں
26:25دور کے رشتے دار بھی ہو سکتے ہیں
26:27ابو طلحہ نے کوئی قید نہیں رکھی تھی اس کے اندر
26:30تو یہ ہوتا ہے
26:32کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا
26:34اور حضرت زہد بن حارسہ رضی اللہ تعالی
26:37اتنا زیادہ مال نہیں تھا ان کے پاس
26:39لیکن جب یہ آیت نازل ہوئی نا
26:41اپنے مال کو دیکھ رہے ہیں
26:43کہ مجھے سب سے زیادہ پیارا کیا ہے
26:45کوئی تو گھوڑے پر نظر جمع آکے
26:47کہ گھوڑا سب سے زیادہ پیارا ہے مجھے
26:49تو گھوڑا لے کے بارگاہ رسالت میں آگے
26:52یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
26:54یہ میں نے صدقہ کر دیا
26:57جس کو دینا ہے دے دیں
26:59آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
27:01کہا کہ بھئی صدقہ کر دوں دے دوں
27:03کہا جی دے دیں
27:05حضور علیہ وسلم نے ان کے بیٹے کو ہی بلایا
27:08کہا بھئی یہ
27:10گھوڑا جو ہے نا وہ تمہارے لیے گفت ہے
27:12یہ لے لو
27:14تو حضرت زیاد بن حارشہ کہنے لگے
27:16یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
27:18میں نے یہ نیت کر لی تھی اس میں
27:19کہ بس یہ چلا جائے اللہ کی راہ میں
27:22یعنی یہ تو واپس گھر پہ آ گیا
27:24حضور کی مرضی تھی
27:25حضور نے ایسے ہی اس کو خرچ کیا
27:27تو میری نیت یہ تھی کہ یہ راہ خداوندی میں
27:30خرچ ہو جائے یا رسول اللہ
27:34تیری نیت پوری ہوئی اور تیرا صدقہ قبول ہو گیا
27:38نفلی صدقہ تھا ظاہر ہے
27:39تو حضور علیہ السلام نے
27:41اس کو ان کے گھر پر اید لیکن ان کی نیت آپ دیکھیں
27:43ان کی خوشی آپ دیکھیں
27:45حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی نے
27:47اس آیت کریمہ کو پڑھتے تھے
27:49تو چینی کی بوریاں جو ہے نا وہ خریدتے تھے
27:52اور وہ صدقہ کرتے تھے
27:54تو کسی نے کہا کہ اس کے پیسے بھی آپ صدقہ کر سکتے ہیں
27:57تو کہا مجھے چینی پسند ہے
27:59تب ہی طور پہ
28:00تو میں جو چیز پسند ہے نا وہ خرید خرید
28:03کہ میں اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں
28:05تو آج جو ہے نا یہ صحابہ کرام کی تعلیمات
28:09اور پریکٹیکل لائف ان کی ہمارے سامنے ہیں
28:12یہ نہیں کہ ردی بچی ہوئی چیز
28:14اور جو بھی ہے بس کوشش کی
28:16کہ اب تو اس کو نکال نہیں ہے
28:17تو اب ہم سخی بن جائیں
28:19اور جو ہے آتم تائی بننے کی کوشش کریں
28:21اور یہ نہیں
28:22جو پسندیدہ چیز ہے آپ کی
28:24جب اللہ کی راہ میں آپ دیں
28:26تو ضروری نہیں ہے کہ آپ
28:28تنظیموں کی طرف جائیں اور فلاں کی طرف
28:30آپ اپنے رشتہ داروں کو دیکھیں
28:32اپنے ورکرز کو دیکھیں
28:33اپنے قریب لوگوں کو دیکھیں
28:35جہاں آپ کو لگے کہ یہ میں دوں گا
28:37اور یہ فوراں قبول ہوگا
28:38انسان کا دل کہتا ہے
28:39ایسے لوگ اس کے عریب قریب ہوتے ہیں
28:42تو خود ان کے پاس جا کے اچھا مال
28:44اچھی چیز اللہ کی راہ میں دے
28:46اللہ فرماتا ہے
28:50اور جو تم خرچ کرتے ہو
28:52کوئی چیز
28:52اللہ اس کو جاننے والا ہے
28:55بس تم نے خرچ کر دیا
28:56اب تم بے فکر ہو جاؤ
28:58کسی کو وہ من جاء بالحسنت
29:01فلہو اشرو امسالیہ دس بھی دیتا ہے
29:12کسی کو سات سو بھی دیتا ہے
29:14واللہو یدائف لی مئی شاہ کسی کے لیے دگنا چگنا کر دیتا ہے
29:18واللہو آسیون علیم
29:20واللہو یارزق مئی شاہ بغیر حساب
29:23یہ اس کے پیمانے ہیں
29:24وہ اپنی مرضی سے تمہیں عطا فرماتا ہے
29:27وہ جانتا ہے سب کچھ
29:28کلو طعام کان حلن لی بنی اسرائیل
29:30اب ہم بڑھ رہے ہیں آیت نمبر 93 کی طرف
29:33فرمایا کہ
29:34کلو طعام سارے کھانے کان حلن حلال تھے لی بنی اسرائیل
29:38اب بنی اسرائیل کے لیے
29:40اللہ ما حرم اسرائیل والا نفسی
29:42مگر وہ جو اسرائیل نے
29:44بنی اسرائیل نے حرام کر لی
29:46اپنے اوپر من قبل ان تنزلت تورا
29:48تورات کے نازل ہونے سے پہلے
29:51یہ ایک اعتراض تھا
29:52یہودیوں کا مسلمانوں پر
29:54وہ اعتراض یہ تھا کہ تم ملت
29:56ابراہیمی سے تعلق نہیں رکھتے
29:58ہم ملت ابراہیمی سے تعلق رکھتے ہیں
30:00کیونکہ تم ملت ابراہیمی
30:02کی وہ چیزیں جو ان میں حرام
30:04تھی وہ اپنے لیے حلال سمجھتے ہو
30:06جیسے اونٹ کا گوشت ہے
30:09تو اونٹ کا گوشت
30:11تو ہماری شریعت میں حرام ہے
30:13اور تم اس کو حلال
30:14سمجھتے ہو اگر تم ابراہیمی
30:16ہوتے اس شریعت
30:18اور اس ملت کو ماننے والے ہوتے
30:20تو تمہارے ہاں بھی اونٹ جو ہے وہ حرام
30:22ہوتا تو اس کا یہ جواب
30:24دیا گیا ہے کہ
30:25اللہ پاک نے تو تمہارے لیے
30:28تمہاری شریعت میں اونٹ کو حرام نہیں کیا
30:31کھانے پینے کی
30:32تو ساری چیزیں اللہ پاک نے تمہارے لیے
30:34حلال کر رکھی تھی
30:35یہ حرام کہاں سے ہوا یہ بتاؤ
30:38تمہاری شریعت میں بھی جو اونٹ حرام ہے
30:41وہ کس نے حرام کیا
30:43اصل میں ہوا یہ کہ
30:44حضرت یعقوب علیہ السلام جو تھے
30:46اللہ کے پیارے نبی
30:48طبعاً وہ کچھ چیزوں کو استعمال نہیں کرتے تھے
30:52اس میں ایک اونٹ کا گوشت بھی تھا
30:54وہ نہیں کھاتے تھے
30:55تو انہوں نے
30:56ان کی طبیعت کی بنا پر
30:58اپنی شریعت میں بعد میں اضافہ کیا
31:01اور اضافہ کرنے کے بعد
31:03انہوں نے کہا کہ اونٹ کا گوشت حرام ہے
31:05حضرت یعقوب علیہ السلام نے نہیں کھایا
31:07تو یہ حرام
31:08تو یہ حرام انہوں نے خود کیا
31:12تو اللہ پاک نے اس چیز کو
31:14یہاں پر بیان کیا
31:15کہ سارے کھانے جو ہیں وہ حلال ہیں
31:17بنی اسرائیل کے لیے
31:18سوائے اس کے جو خود انہوں نے
31:19اپنے اوپر حرام کر لیے
31:21من قبلی انتنزلت تورا
31:22تورات کے نازل ہونے سے پہلے
31:25تو حضرت یعقوب علیہ السلام
31:27تو کتنا پہلے تشریف لائیں
31:29تورات کے نزول سے پہلے
31:31تو یہ تمہاری شریعت کی اندر بھی حلال ہے
31:34یہ تم نے خود اپنی کتابوں کے اندر
31:36تبدیلی کی ہے
31:38اپنی کتابوں کے اندر
31:39جیسے کچھ فقی مسائل یہ داخل کرتے تھے
31:41پھر اس کو شریعت کا حصہ بنا دیتے تھے
31:44کچھ ان کے بزرگوں نے جیسے
31:46کچھ چیزوں کو استعمال نہیں کیا تھا
31:48تو اس کو یہ تسلسل دیتے ہوئے
31:50کہتے تھے کہ یہ چیز حرام ہے
31:52مگر یہ سب ان کے اضافے تھے
31:54اصل تورات اگر اٹھا کے آپ دیکھیں گے
31:56اس کے اندر ایسا کچھ بھی نہیں ہے
31:57کہ اللہ نے کہا ہو
31:58کہ تمہارے لئے اونٹ کا گوشت
32:00جو ہے نا وہ حرام ہو گیا ہے
32:01اللہ نے ان پر کوئی چیز حرام نہیں کی
32:04وہ فرمایا
32:05قل اے نبی فرما دیجئے
32:06فَأْتُو بِالتَّورَةَ لے آؤ تورات
32:09فَتْلُوهَا
32:09اس کی تلاوت کر لیتے ہیں
32:10انکنتم صادقین
32:12اگر تم سچے ہو
32:13تو تورات کی اصل نسخے کو جب دیکھیں گے
32:17اور تمہارے معاملات واضح ہو جائیں گے
32:19کہ اللہ پاک نے
32:20یہ اونٹ کا جو گوشت ہے
32:22وہ حرام نہیں کیا
32:24تو اونٹ کا گوشت استعمال کرنے کے باوجود
32:27جو مسلمان ہیں
32:29وہ ملتِ ابراہیمی پر ہی ہیں
32:31وہ دینِ ابراہیمی پر ہی ہیں
32:33تو تم جو ہے وارثِ ابراہیم نہیں ہو
32:37بلکہ وارثینِ ابراہیم وہ ہیں
32:39جو محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
32:42اور ان کے متبعین ہیں
32:44یہ تھی آیت نمبر 93
32:46اس کے بعد 94 آیت ہے
32:48اس میں اللہ پاک نے فرمایا
32:49فَمَنِ افْتَرَا عَلَى اللَّهِ الْقَذِبَ مِنْ بَعْدِ ذَالِك
32:53تو جس نے افترہ باندھا
32:55جھوٹ باندھا
32:56اللہ پر
32:57مِنْ بَعْدِ ذَالِك
32:58اس کے بعد
32:59فَأُلَائِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
33:01تو وہ بڑے ظالم لوگ ہیں
33:03جب اللہ نے واضح کر دیا
33:05قرآن نازل ہو گیا
33:06چلو ابھی تک تمہاری غلط فہمی تھی
33:08ابھی تک تمہیں پتہ نہیں تھا
33:10ابھی تک تمہیں خبر نہیں تھی
33:11اس کے بعد بھی جو یہ جھوٹ بولے
33:14کہ جی اونٹ کا گوش حرام تھا
33:16ہماری شریعت میں حرام ہے
33:17اور یہ تم جھوٹ بول رہے ہو
33:19اس کے بعد بھی جو جھوٹ بولے
33:21وہ بڑا ظالم آدمی ہے
33:22اللہ نے اس کو واضح کر دیا
33:24کہ اللہ نے اونٹ کے گوش کو حرام نہیں کیا
33:28یہ تھی آیت نمبر 94
33:30اگلی آیت ہے 95
33:31اللہ پاک نے ارشاد فرمایا
33:33قُل اے نبی فرما دیجئے
33:35صدق اللہ
33:36اللہ نے سچ فرمایا
33:38اللہ نے واضح کر دیا
33:41فَاتَّبِعُوا مِلَّتَ عِبْرَاهِيمَ حَنِیفَا
33:44تو تم پیروی کرو
33:45مِلَّتِ عِبْرَاهِيمِ کی
33:48حَنِیفًا يَقْسُو ہو کر
33:50تو آؤ مِلَّتِ عِبْرَاهِيمِ کی طرف
33:53جس کو تم صرف دعووں میں
33:55اپنے سامنے ثابت کرتے ہو
33:57عملی طور پر آ جاؤ
33:58جو راستہ پیغمبر ہے
34:01آخری پیغمبر کا راستہ ہے
34:03یہی مِلَّتِ عِبْرَاهِيمِی ہے
34:04اللہ نے سچ فرما کہ
34:06تمہارے لئے حقائق کو واضح کر دیا ہے
34:08مِلَّتِ عِبْرَاهِيمِ
34:09مِلَّتِ عِبْرَاهِيمِ کی طرف آ جاؤ
34:11وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِقِينَ
34:14اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے
34:16اور بھی غور کرو
34:17تم تو کبھی کس کو خدا بناتے ہو
34:20کبھی حضرت عزیر کو خدا
34:21کبھی حضرت عیسیٰ کو خدا
34:23اہلِ کتاب کی یہ کیفیت تھی
34:25تو تم جس مِلَّتِ کی بات کر رہے ہو
34:28عِبْرَاهِيمِ علیہ السلام کی طرف
34:29اس کو منصوب کر رہے ہو
34:31تو عِبْرَاهِيمِ تو مشرک بھی نہیں تھے
34:33تم لوگ تو شرک پر بھی آگئے ہو
34:35تو اپنی پریکٹیکل چیزیں بھی ٹھیک کرو
34:37اپنے عقائد و نظریات بھی ٹھیک کرو
34:39اور اپنے آپ کو درست کر لو
34:41ان آیات سے یہ پتا چلتا ہے
34:43کہ شریعت میں جو لوگ اضافے کرتے ہیں
34:46اپنے طور پر بہت ساری چیزوں کو حلال کر دیتے ہیں
34:49جو حرام ہوتی ہیں
34:51اور اپنی طرف سے چیزوں کو حرام کر دیتے ہیں
34:53جو حلال ہوتی ہیں
34:54اس میں بہت ڈرنا چاہیے
34:56ہمارے ہاں بڑے آرام سے فتوہ دے دیا جاتا ہے
34:59کہ یہ فلان کھانا حرام ہے
35:02اس کے اوپر جو ہے نا
35:03اسال سواب ہوئے یہ کھانا حرام ہے
35:05یہ نیاز کا کھانا حرام ہے
35:06یہ بہت آسانی سے بھول دیا جاتا ہے
35:09تو اس لیے شریعت کے معاملات میں
35:11بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے
35:17اللہ پہ جو جھوڑ بانتا ہے
35:18نا حرام کا مطلب یہ ہے
35:19کہ اللہ نے منع کی ہے
35:20تو آپ اللہ پہ جھوڑ باندھ رہے
35:22تو چیزوں کو آپ سہولت سے دیکھیں
35:25آسانی سے دیکھیں
35:26شریعت کا مزاج دیکھیں
35:28شریعت کی وحی دیکھیں
35:30پھر اس کے بعد بات کریں
35:31تو یہ آیات ہم سے اس بات کا تقاضہ کرتی ہیں
35:35ان آیات کی تفسیر بھی مکمل ہوئی
35:37اور آج کا جو پروگرام ہے
35:39وہ بھی اپنے اختتام کو پہنچا
35:41اگلی آیات کے ساتھ ایک نئے پروگرام میں
35:44پھر ہم آپ کے سامنے حاضر ہوں گے
35:46اپنا خیال رکھئے گا
35:49اللہ حافظ و نگہبان
Comments

Recommended