- 8 months ago
- #allamahafizowais
- #qarinomannaeemi
- #darsequran
Dars e Quran - Surah e Baqarah
Tilawat (Recitation): Qari Noman Naeemi
Tafseer (Details): Allama Hafiz Owais
#AllamaHafizOwais #QariNomanNaeemi #DarseQuran
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Tilawat (Recitation): Qari Noman Naeemi
Tafseer (Details): Allama Hafiz Owais
#AllamaHafizOwais #QariNomanNaeemi #DarseQuran
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00Al-Fatihah
00:30Al-Fatihah
01:00Al-Fatihah
01:05Al-Fatihah
01:10Al-Fatihah
01:15Al-Fatihah
01:20Al-Fatihah
01:25Al-Fatihah
01:26Al-Fatihah
01:30Al-Fatihah
01:31Al-Fatihah
01:35Al-Fatihah
01:40Al-Fatihah
01:41Al-Fatihah
01:42Al-Fatihah
01:46Al-Fatihah
01:47Al-Fatihah
01:49Al-Fatihah
01:51Al-Fatihah
01:56Al-Fatihah
02:00Yuckti'l hikmata min yajak wa bi yuckti'l hikmata
02:25faqad uti'a khaira kathira
02:40wa ma yakkar illa ulul anbab
03:02wa ma anfaqatum min nafaqatin
03:16au nazartum min nazariya
03:24fa'in mawmallaha ya'almuh
03:36wa ma li'alimina min anfar
03:48ila tumdus qadaqati fali'i'ma hiya wa ila tuktu'uha wa tuktu'uha
04:10wa tuktu'uha al-fuqaraa
04:20wa afahu wa khairun lakum
04:30wa yukafir wa kummi'a saiyyatikum
04:46wa allahu bima ta'amaloon khabir
04:58wa sadaqa allahu al-alim
05:06نحمدuhu wa nusalli wa nusallimu ala rasulihil kareem
05:11اما بعدu
05:12فعوض باللہ من الشیطان الرجیم
05:13بسم اللہ الرحمن الرحیم
05:15سامین محترم
05:16درس قرآن کے
05:18نئے پروگرام کے ساتھ
05:19آپ کے سامنے حاضر ہیں
05:21حسب معمول
05:21قاری صاحب نے
05:22اپنی خوبصورت آواز میں
05:25سورہ بقرہ کی آیات
05:26268 سے لے کے
05:29271 تک کی تلاوت کی
05:31اس کا ترجمہ پہلے دیکھ لیتے ہیں
05:34پھر اس کی تفسیر کی طرف بڑھیں گے
05:36اللہ پاک نے ارشاد فرمایا
05:37شیطان تم کو
05:40تنگ دستی سے ڈراتا ہے
05:42اور تم کو بےہیائی کا حکم دیتا ہے
05:45اور اللہ تم سے اپنی بخشش
05:48اور اپنے فضل کا وعدہ فرماتا ہے
05:50اور اللہ بڑی وسط والا
05:52بہت جاننے والا ہے
05:53وہ جسے چاہے
05:55حکمت اتا فرماتا ہے
05:57اور جسے حکمت دی گئی
06:00تو بے شک اسے خیر کثیر دی گئی
06:03اور صرف اقل والے ہی
06:05نصیحت قبول کرتے ہیں
06:07اور تو تم جو کچھ خرچ کرتے ہو
06:10اور تم جو بھی نظر مانتے ہو
06:12تو بے شک اللہ اس کو جانتا ہے
06:15اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے
06:18اگر تم علانی صدقات دو
06:21تو وہ کیا ہی خوب ہے
06:23اور اگر تم ان کو مخفی رکھو
06:25اور فقراء کو دو
06:27تو وہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے
06:29اور یہ صدقہ کرنا تمہارے لیے
06:31کچھ گناہوں کو مٹا دے گا
06:33اور تمہارے سب کاموں سے
06:36اللہ خبر رکھنے والا ہے
06:37سامین مہترم آپ سے یہ بات
06:41عرض کی تھی
06:42پچھلی جو آیات
06:43انفاق فی سبیل اللہ کے حوالے سے چل رہی ہیں
06:47اور پچھلے پروگرامز میں
06:49آپ نے ان کو سماد بھی کیا
06:50کہ سورہ بقرہ کے یہ جو دو رکوع ہیں
06:53چھتیس اور سنتیس
06:55یہ قرآن کریم میں
06:57اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے حوالے سے
07:00سب سے زیادہ اہم
07:02اور سب سے زیادہ بنیادی رکوع ہیں
07:04انہی کی ہم جو ہے
07:06تشریح و تفسیر بھی کر رہے ہیں
07:08اور اسی سلسلے کی یہ آیات جاری و ساری ہیں
07:12اس سے پہلے
07:13اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو
07:15مثالوں کے ذریعے سمجھایا گیا
07:17پھر
07:18جو ہے وہ
07:19احسان جتلانے سے
07:21کسی کو عذیت دینے سے
07:23روکا گیا
07:24اس کو مثالوں کے ذریعے
07:25اللہ پاک نے
07:26سمجھایا
07:27اب اس کے بعد
07:29اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے
07:31رکاوٹ کیا چیز بنتی ہے
07:34وہ یہاں بتانا مقصود ہے
07:36خرچ کرنے کی ترغیب بھی آگئی
07:38خرچ کرنے کی نیتوں پر بھی بات آگئی
07:41اب خرچ کرنے میں
07:42رکاوٹ کیا چیز بنتی ہے
07:44تو دیکھیں
07:45فرمایا
07:46آیت 268 میں
07:48کہ
07:50شیطان تمہیں ڈراتا ہے
07:54تنگ دست ہو جانے سے
07:56وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءَ
07:58اور تمہیں حکم دیتا ہے
08:00فحشا کا
08:01فحشا کا لفظ
08:03قرآن کریم میں
08:04بدکاری زنا کے لیے بھی استعمال ہوا ہے
08:07ہم جنس پرستی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے
08:10ہر وہ چیز
08:11جس کا ذکر آتے ہی
08:13یہ طبیعت اور فطرت سلیمہ
08:15یہ کہے کہ یہ گندی چیز ہے
08:17اس کو فحشا کہتے ہیں
08:18تو شیطان تمہیں فحشا کا حکم دیتا ہے
08:21اور تمہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے ڈراتا ہے
08:25تو سب سے بڑی رکاوٹ جو انسان کی راہ میں آتی ہے
08:28خرچ کرنے کے حوالے سے
08:30وہ خود شیطان ہے
08:31اور اس میں شیطان کے دو حربیں ہیں
08:34جو یہاں اس ٹکڑے میں بیان کر دیئے گئے
08:36پہلا حربہ شیطان کا یہ ہے
08:38کہ وہ آپ کو مستقبل کی چیزوں سے
08:42آپ کا ذہن متوجہ کر کے
08:44آپ کے ذہن میں وہم ڈالتا ہے
08:46آپ کو ڈراتا ہے
08:47کہ دیکھو تمہارے یہ کام بھی پڑے ہوئے ہیں
08:49تمہارے یہ کام بھی پڑے ہوئے ہیں
08:51بچوں کا کیا ہوگا
08:53مستقبل کا کیا ہوگا
08:54آج اگر تم نے خرچ کر دیا
08:56تو انسان کی وہ اس سوچ کو
08:58جو ہے نا وہ
08:59توڑتا ہے
09:00کہ انسان یہ بھی تو سوچ سکتا ہے
09:02کہ آج جس رب العالمین نے دیا ہے
09:05تو کل کیا وہ نہیں دے گا
09:06آج جس نے میرے کام بنائے ہیں
09:08کل کیا وہ میرے کام نہیں بنائے گا
09:10آج کے کاموں کے لیے جو دیر ہے
09:13کل کیا وہ میرے کاموں کے لیے نہیں دے گا
09:15تو وہ اس سے ڈھرا کر انسان کو روک دیتا ہے
09:18کہ انسان بالکل ہی اپنے آپ کو پیگ کر لیتا ہے
09:21خرچ کرنے سے ڈھرنا شروع ہو جاتا ہے
09:24جہاں اس کو دینا چاہیے تھا
09:26وہاں وہ اپنے ہاتھ کو روک لیتا ہے
09:28تو یہ ایک شیطان کا ہر بار
09:30دوسرا شیطان یہ کرتا ہے
09:32وہ آپ کی جو خرچ کرنے کی جگہیں ہیں
09:38ان کو متعین کر دیتا ہے
09:41آپ کے لیے برائی کے راستے کی طرف
09:43آپ ایاشی میں پڑ جاتے ہیں
09:46آپ اسراف اور تبزیر میں پڑ جاتے ہیں
09:49فضول خرچی میں پڑ جاتے ہیں
09:51فضول خرچیاں ایاشیاں بدکاریاں گناہوں کے کام
09:55آپ اس میں پیسے خرچ کرنے لگ جاتے ہیں
09:57جب پیسہ اس میں خرچ ہوتا ہے
09:59تو جیسے ہی نیکی کی طرف خرچ کرنے کا
10:02انسان کو موقع ملتا ہے
10:04ترغیب دی جاتی ہے
10:06یا ذہن اس طرف جاتا ہے
10:07تو بندہ سوچتا ہے میرے پاس تو ہے ہی نہیں
10:09میرے اپنے جو الللے تللے
10:11یہ کہاں سے پورے ہوں گے
10:13میرے جو اپنے مزے ہیں
10:15وہ کہاں سے پورے ہوں گے
10:16تو شیطان ایک تو ذہنی طور پر
10:19انسان کو ڈراتا بھی ہے
10:20اور ساتھ پریکٹیکلی اس کو
10:23بیزی بھی کرتا ہے اس کو ڈیوائیڈ بھی کرتا ہے
10:26ایسے کاموں کی طرف
10:27کہ انسان اچھے کاموں کی طرف خرچ کرنے کا
10:29سوچ ہی نہیں پاتا
10:30تو بڑے معناخیز جملے ہیں یہ
10:33اس لئے آپ دیکھیں گے
10:38کہ وہ لوگ
10:39جو برے کاموں میں پڑے ہوئے ہیں
10:41وہاں ہزاروں لاکھوں
10:43بڑے آسانی سے خرچ کر دیں گے
10:45اور جیسے ہی انہیں
10:46نیک کاموں کی طرف خرچ کرنے کا حکم دیا جائے گا
10:49تو وہ اپنے آپ کو کلاش محسوس کریں گے
10:52کہ یار ہم کہاں سے لائیں
10:54اور کیسے پورا کریں
10:55پھر فرمایا کہ
10:56وَاللَّهُ يَعِدُكُمْ مَغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلَ
11:00دیکھیں شیطان آپ کو دو چیزوں سے
11:03ہم کنار کرتا ہے
11:05ایک فقر اس سے ڈراتا ہے
11:07اور دوسرا فہشا
11:08اور اللہ آپ سے کیا وعدہ کرتا ہے
11:11اللہ آپ سے مغفرت کا وعدہ کرتا ہے
11:14اگر آپ اللہ کی راہ میں دو گئے
11:16اللہ کی ترغیب یہ ہے
11:18کہ بھئی خرچ کرو گے
11:20تو مغفرت دوں گا
11:22اور دوسرا وَفَضْلَ
11:24اور اللہ کہتا ہے
11:25میں اپنا فضل تم پہ کر دوں گا
11:27ہائے ہائے
11:28جب رب کا فضل بندے پہ ہو جائے
11:31تو پھر بندے کو اور کیا چاہیے
11:33خرچ کرنے والا خدا کے فضل کے سائے میں آ جاتا ہے
11:37اب خدا کا فضل اتنا وسیع و لا محدود ہے
11:41اس کا تعلق دنیا کی برکتوں سے بھی ہے
11:44آخرت کی بخشش سے بھی ہے
11:46اور مغفرت کا تو ویسے ہی الگ ذکر کر دیا
11:48اور وہ فضل کا سایہ اس کو قبر میں نصیب ہو جائے
11:51حشر میں نصیب ہو جائے
11:53دنیا میں نصیب ہو جائے
11:54تو بندے کو اور کیا چاہیے
11:55تو یہ دو تصویریں
11:58اللہ پاک نے بندے کے سامنے رکھ دی ہیں
12:00یا تو وہ شیطان کا شکار ہو جائے
12:02یا وہ اللہ کی طرف سے جو اعلان مغفرت و فضل ہے
12:06اس کی طرف متوجہ ہو
12:07کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہے
12:09اور ناجائز اپنے آپ کو جو ہے نا
12:11سوچوں میں مبتلا کر کے
12:13جو شیطان نے اس کے وہم ڈالے ہیں
12:15خرچ کرنے سے رکے نہ
12:16اللہ خود بڑی وسطوں والا ہے
12:21بڑے علم والا ہے
12:23پھر اگلی آیت اور مانا خیز ہے
12:25جو آیت 269
12:27یُعْتِ الْحِکْمَتَ مَنْ يَشَاءَ
12:30جسے چاہتا ہے حکمت اتا کرتا ہے
12:33وَمَنْ يُعْتَ الْحِکْمَتَ
12:35اور جس کو حکمت دے دی گئی
12:37فَقَدْ اُوْتِيَ خَيْرًا كَسِيرًا
12:39اس کو خیرِ کَسِيرًا دے دی گئی
12:42دیکھیں پچھلی آیت سے اس کا تعلق
12:44کہ شیطان ڈرارا ہے
12:46اللہ پاک اعلان مغفرت کر رہا ہے
12:49خرچ کرنے والے کے لئے
12:50اللہ کے حکم اور اللہ کی ترغیب کی طرف آئے گا کون
12:55وہ جسے رب نے حکمت اتا فرمائی
12:58حکمت کسے کہتے ہیں
13:01حکمت کہتے ہیں انسان کے اقل اور شعور کی پختگی کو
13:05حکمت کسے کہتے ہیں
13:08حکمت کہتے ہیں انسان کے ایمان اور عمل کی مضبوطی کو
13:12جس کی بنیاد گہری بصیرت پر ہو
13:16انسان ڈیپ لی سوچ کر
13:19ڈیپ لی غور و فکر کر کے
13:22اپنا ایمان مضبوط کر رہا ہو
13:24ڈیپ لی غور و فکر کر کے
13:27اپنے عمل پر پختہ ہو رہا ہو
13:28جیسے ہی اس کو کوئی گناہ کے کام کی طرف لے کر جائے
13:32وہ صرف ظاہری مزے کو نہ دیکھے
13:34اس کے پیچھے جہنم کی آگ کو محسوس کر لے
13:37اپنے ڈیپ لی سوچ کی وجہ سے
13:40کہ یار اس کا نتیجہ بہت برا ہے
13:42جس کو یہ راز مل جاتا ہے
13:45کہ وہ اپنے ایمان اور عمل پر گہرائی سے سوچتا ہے
13:48اس کے نتائج پر غور کرتا ہے
13:50اور پھر اپنے عمل کو پختہ کر لیتا ہے
13:53صحیح عمل کو
13:54اور اپنے ایمان کو مضبوط کر لیتا ہے
13:56اس کو اللہ نے سمجھے حکمت عطا کر دی
13:58اب بظاہر انسان کے مزے اسی میں ہیں
14:01وہ زنا پہ
14:02ہمجنس پرستی پہ
14:03شراب کباب پہ خرچ کرتا رہے
14:05یہ ظاہر ہے اس میں مزے ہیں
14:07ظاہری فائدہ انسان کی طبیعت کا
14:09اسی میں محسوس ہوتا ہے
14:10لیکن ان چیزوں سے رکھے
14:12خدا کی راہ میں خرچ کرنا
14:14اور یہ یقین کر لینا
14:16کہ آخرت میں اس کا بڑا عجر ہے
14:18اور دنیا میں بڑی برکت ہے
14:20یہ ہے ڈیپلی سوچ
14:22اس کو کہتے ہیں حکمت
14:23تو اس کا تعلق آیت 269 کا پچھلی آیت کے ساتھ بھی ہے
14:28اور عمومی زندگی سے بھی ہے
14:29کہ آپ کے تمام امور میں
14:31اللہ پاک آپ کو حکمت عطا کر دے
14:34سمجھ عطا کر دے
14:35کہ جس کی وجہ سے
14:37پھر آپ برائیوں فقر کے اندیشوں
14:40فہشہ برائیوں سے بہت دور ہو جائیں
14:44اور نیکی کے تمام امور
14:46آپ کی طبیعت میں
14:47راسخ ہو جائیں
14:48جب یہ حکمت انسان کو مل جاتی ہے
14:51تو جب وہ بولتا ہے
14:53تو موتی جھڑتے
14:54سننے والا سن کے ہی سمجھ جاتا ہے
14:57کہ پتہ نہیں کتنی صدیوں کا تجربہ ہے
15:01اس کی باتوں میں
15:01آپ دیکھیں نا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ہیں
15:05ایک ایک جملہ حضور علیہ السلام کا
15:08آج چودہ صدیوں گزر گئی
15:10لوگ اس کی تشریحات کر رہے ہیں
15:12اور نینے پہلو کھل رہے ہیں
15:14کیوں
15:14حضور حکمت والے تھے
15:16بولتے تھے تو حکمت تھی
15:18عمل کرتے تھے تو حکمت تھی
15:20یہ حکمت انسان کی باتوں سے
15:23اس کے عمل سے کردار سے
15:25پھر اپنا اثر ضرور دکھاتی ہے
15:27ضرور جھلگتی ہے
15:29کئی حضور فرماتے تھے
15:30خیر الناس یمین فاہ الناس
15:32کئی حضور فرماتے تھے
15:34رأس الحکمتی مخافت اللہ
15:36کئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم
15:38کے کیا فرامین ہے جو حکمت سے بھرے ہوئے
15:41تو یہ حکمت ہے جس کو یہاں
15:45قرآن کریم نے بیان کیا
15:46جس کو حکمت دے دی
15:53سمجھو اس کو خیر کثیر دے دیا
15:56زمانے بھر کی بھلائی اس کو عطا کر دی
15:59مگر اس کی سمجھ اسی کو آتی ہے
16:03جو اقل مند ہے
16:04جو اقل مند نہیں ہے
16:07ڈیپلی نہیں سوچتا
16:08وہ حکمت تک نہیں پہنچ سکتا
16:09اور تم اللہ کی بارگاہ میں
16:13جو بھی خرچ کرتے ہو
16:14آیت 270
16:15او نظر تم من نظرن
16:17یا تم جو بھی اللہ کی بارگاہ میں نظر مانتے ہو
16:20کہ اگر میرا فلان کام ہو گیا
16:22تو میں اللہ کی بارگاہ میں یہ نیک کام کروں گا
16:25نماز پڑھوں گا صدقہ دوں گا
16:27جو بھی تم نظر مانتے ہو
16:28اور نظر اللہ ہی کے لیے ہوتی ہے
16:30فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُوا
16:31تو اللہ تمہاری نظروں کو بھی جانتا ہے
16:34تمہارے خرچ کیے ہوئے مال کو بھی جانتا ہے
16:36فَمَا لِزَّالِمِينَ مِنْ انسَار
16:39اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے
16:42اِن تُبْدُ صَدَقَاتِ فَنِئِ اِمَّاہِ
16:45اگر تم
16:45ظاہراً صدقہ دوگے
16:47تو بہت اچھا ہے وہ تمہارے لیے
16:49وَإِن تُخْفُوهَا
16:51اور اگر تم مخفی صدقہ دوگے
16:53وَتُعْتُوهَا الْفُقَرَا فَهُوَ خَيْرُ لَكُمْ
16:56اور اگر تم
16:57چھپا کے فقراء کو دوگے
16:59یہ بھی بہت اچھا ہے
17:00اعلانیہ جو خرچہ ہے
17:02اللہ کی راہ میں خرچ کرنا
17:04دکھا کر
17:06یہ ہے جو
17:08واجبی انسان کے صدقات ہیں
17:10زکاة ادا کرنا
17:11جو چیزیں فرض ہوتی ہیں
17:13نا عبادات وہ دکھا کے کی جاتی ہیں
17:15جیسے نماز ہے
17:16فرض نماز مسجد میں جا کے پڑھی جاتی ہے
17:19ان کا مقصد ہی یہ ہے
17:21کہ جو اللہ کی طرف سے فرض کیوی چیزیں
17:23وہ معاشرے میں دکھائی دیں
17:24کہ بھئی یہ فرض دیکھو
17:26لوگ ادا کر رہے ہیں
17:27ترغیب ہوتی ہے اسے
17:28جیسے حضرت عبو بکر صدیق
17:30بہت دفعہ دکھا کر خرچ کرتے تھے
17:32پتہ چلتا تھا فلانے اتنا دیا ہے
17:34حضرت عمر اور دیگر خرچہ
17:36حضرت علی رضی اللہ عنہ جو ہیں
17:39وہ خرچ کیا کرتے تھے
17:41پتہ چلتا تھا خرچ کیا ہے فلانے
17:43تو وہ کیوں تھا
17:44ترغیب کے لئے
17:45تو مفسرین نے لکھا
17:47کہ جو فرض چیزیں ہیں خرچ کرنے کی
17:49جو زکاة ہے جیسے
17:51وہ اعلانیاں بہتر ہیں
17:52اور جو نفلی صدقات ہیں آپ کے
17:54نفل نمازیں ہیں
17:55نفلی عبادات ہوتی ہیں
17:57وہ چھپ کے اگر کی جائیں
17:58تو وہ زیادہ بہتر ہوتی ہیں
18:00وَيُكَفِّرُواْ أَنْكُمْ مِنْ سَيِّعَاتِكُمْ
18:03اور اللہ اس سے تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا
18:06وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرُ
18:08اور جو تم عمل کرتے ہو
18:09اللہ اسے خبردار ہے
18:11ان آیات کی تفسیر مکمل ہوئی
18:14اور اب ہم بڑھ رہے ہیں
18:15ایک وقفے کی طرف
18:16وقفے کے بعد حاضر ہوتے ہیں
18:18ہمارے ساتھ رہیے
18:19اعوذ باللہ من الشیقان الرجیم
18:23بسم اللہ الرحمن الرحیم
18:33لیس علیکہ وداہم
18:43وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْيَدِی مَنِ يَشَاء
18:59وَمَا تَنْفِقُ مِنِ حَيْرٍ
19:14فَلِيَا فُسِسِمْ
19:20وَمَا تَنْفِقُ مِنْ خَيْرٍ
19:32فَلِيَا فَلِيَا فُسِقُمْ
19:38وَمَا تُنْفِقُونَ
19:44اِلَّ بَتِغَاءَ
19:51وَجَيِ اللَّهِ
19:57وَمَا تَنْفِقُ مِنْ خَيْرٍ
20:12وَفَئِلَيْكُمْ
20:16وَأَنْتُمْ لَا تُولَمُونَ
20:24لِلْبُقَرَاءِ
20:32الَّذِينَ هُحْفِرُوا
20:37فِي سَبِيلِ اللَّهِ
20:41لَا يَسْتَطِعُونَ
20:46ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ
20:52يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ
20:56يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ
21:06هُمُ الْجَاهِلُ أَوْ أَغْنِيَاءُ
21:16وَأَمِنَتَ عَرْضُ
21:24تَعْرِكُمْ بِسِيمَا
21:30هُمْ لَا يَسْأَنُونَ
21:36لَنَّاسَ إِلْحَافَ
21:42وَمَا تُنْفِقُوا
21:46مِنْ خَيْرِ
21:48فَإِنَّ
21:52اُبْنَ اللَّهَ
21:54بِهِ
21:56عَلْمِمْ
22:00صَدَقَوْ
22:02اللَّهُ
22:04العظيم
22:06خوش آمدیج
22:12سامین و ناظرین وقفے
22:14کے بعد حاضر ہیں حسب معمول
22:16قاری صاحب نے بڑی خوبصورت آواز
22:18میں سور بقرہ آیات
22:20ٹو سیونٹی ٹو اور ٹو
22:22سیونٹی ٹری کی تلاوت کی ان کا
22:24ترجمہ دیکھتے ہیں پھر اس کی تفسیر
22:26کی طرف بڑھیں گے اللہ پاک نے ارشاد
22:28فرمایا اے رسول مکرم
22:30انہیں ہدایت یافتہ کرنا
22:32آپ کے ذمہ نہیں ہے لیکن
22:34اللہ جسے چاہتا ہے
22:36اسے ہدایت یافتہ بنا
22:38دیتا ہے اور تم جو اچھی
22:40چیز خرچ کرتے ہو سو
22:42وہ تمہارے نفع کے لئے
22:44اور تم صرف اللہ کی رضا جوئی
22:46کے لئے ہی خرچ کرتے ہو
22:47اور تم جو اچھی چیزیں اللہ کی راہ میں
22:50خرچ کرو گے
22:51ان کا تم کو پورا عجر
22:54دیا جائے گا اور تم پر
22:56ظلم نہیں کیا جائے گا
22:58یہ خیرات ان
23:00فقراء کا حق ہے جو خود کو
23:02اللہ کی راہ میں وقف کیے ہوئے ہیں
23:04جو اس میں شدت
23:06اشتغال کی وجہ سے
23:08شدید مسروفیت کی وجہ سے
23:10زمین میں سفر کی طاقت
23:12نہیں رکھتے نواقف
23:14شخص ان کے سوال نہ کرنے کی وجہ سے
23:17ان کو خوشحال سمجھتا ہے
23:19اے مخاطب
23:20تم ان میں بھوک کے آثار دیکھ کر
23:23سورت سے پہچان لوگے
23:25وہ لوگوں سے گڑ گڑا کر
23:27سوال نہیں کرتے
23:29تم جو اچھی چیز بھی
23:30اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو
23:32بے شک اللہ اس کو خوب جاننے والا ہے
23:35سامین محترم یہ
23:37پچھلی آیات کے ساتھ
23:39جڑی ہوئی آیات ہیں خرچ کرنے کے حوالے سے
23:42مزید اس میں ہم نے
23:44دو آیتیں اور پڑی ہیں
23:46اس میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا
23:48کہ لئیس آلی کا ہداہم
23:49آپ کے ذمہ ان کو ہدایت یا آفتہ
23:52بنانا نہیں ہے
23:53آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
23:55جو اصل ذمہ داری ہے وہ یہ ہے
23:57کہ آپ بشیر و نظیر بنا کر بھیجے گئے ہیں
24:00جو اچھے کام ہیں
24:01ان پر بشارتیں آپ نے بتا دی ہیں
24:03جو برے کام ہیں
24:05اس کے بارے میں آپ نے تنبیہ کر دی ہے
24:07کہ اس کا نتیجہ جنت ہے اس کا نتیجہ جہنم ہے
24:10تو اللہ پاک اپنے نبی سے
24:12کہہ رہا ہے آپ کا کام یہی تک ہے
24:14کہ آپ چیزوں کو واضح کر دیں
24:15حق کی بات ان تک پہنچا دیں
24:17باقی ان پر کوئی زبردستی
24:20کرنا یا اس سے آگے ان کو
24:21صاحب ایمان بنانا یا صاحب
24:24ہدایت بنانا اس کے آپ
24:26مکلف نہیں ہیں
24:27یہ اللہ کا کام ہے کہ
24:29اللہ کسے ہدایت دیتا ہے
24:31اور کسے ہدایت نہیں دیتا
24:33تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ذمہ داری
24:36ہے اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم
24:37کی جو تسلی ہے وہ
24:39تسلی کرنا مقصود ہے
24:41کیونکہ حضور کو یہ پریشانی ہوتی تھی
24:43کہ یہ ایمان نہیں لارہا
24:46یہ ہدایت پہ نہیں آرہا
24:47تو حضور کو تسلی دی جاتی تھی
24:49کہ آپ اس پریشانی اور ٹینشن
24:52میں نہ پڑھیں اگر کوئی ایمان نہیں لاتا ہے
24:54آپ نے اپنا کام پورا
24:56کیا ہے آپ کے کام میں کوئی
24:57کمی نہیں ہے آپ کی ذمہ داری
24:59کی ادائیگی میں کوئی کمی نہیں ہے
25:01آپ کی تبلیغ میں کوئی کمی نہیں ہے
25:06اس کو بڑی خوبی سے ادا کر دیا ہے
25:09وَمَا تُنفِقُوا مِن خَيْرٍ فَلِئَنفُسِكُمْ
25:12اور جو تم خرچ کرتے ہو
25:13اللہ کی راہ میں
25:15تو وہ تمہارے اپنے نفع کے لئے
25:17کوئی بھی عبادت انسان کرتا ہے
25:20تو وہ اس کے
25:22اپنے نفع کے لئے ہوتی ہے
25:24خرچ کرنے کے حوالے سے
25:25خاص طور پر یہ بتایا گیا ہے
25:27کیونکہ خرچ کرتے ہوئے انسان سوچ سکتا ہے
25:29کہ میں اللہ کی راہ میں یہ خرچ کر رہا ہوں
25:32تو میں لوگوں کو فائدہ پہنچا رہا ہوں
25:35اور میں جو ہے وہ
25:36خدا نہ خاصتہ کوئی یہ سوچے
25:39کہ میں اللہ کو کوئی فائدہ پہنچا رہا ہوں
25:41اصل انسان جو ہے نا
25:43کسی بھی چیز سے جو فائدہ پہنچاتا ہے
25:46وہ اپنے آپ کو ہی پہنچاتا ہے
25:48اس سے پہلے آیات گزر چکی ہیں
25:51کہ تسبیت من انفسیہم کی بات کی گئی ہے
25:53کہ انسان کا اپنا نفس جو ہے نا
25:56خرچ کرنے سے
25:57نیکی پر جمتا ہے
25:59انسان کی اپنی تربیت ہوتی ہے
26:02انسان پر خود جو ہے
26:03ایک مشقت برداش کرنے سے
26:05اس کے عمل کی مضبوطی پیدا ہوتی ہے
26:08تو انسان کا اپنا نفع ہے اس چیز میں
26:10وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا بْتِغَاءَ وَجْهِلَّا
26:13اور جو تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو
26:16وہ اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے
26:19اس میں اور کوئی مقصد انسان کے پیش نظر نہیں ہونا چاہیے
26:22وَمَا تُنْفِقُونَ مِنْ خَيْرٍ
26:24اور جو بھی تم خیر کے لیے خرچ کرتے ہو
26:27يُوَفَّا إِلَئِكُمْ
26:29يُوَفَّا کے معنی ہے بھرپور
26:31مکمل
26:32پورا پورا اس کا بدلہ جو ہے
26:35وہ اللہ کی طرف سے تمہیں لوٹا دیا جائے گا
26:38وَأَنْتُمْ لَا تُزْلَمُونَ
26:40اور تمہارے ساتھ بلکل ظلم نہیں کیا جائے گا
26:44یہ تھی آیت نمبر
26:45272
26:47اچھا جو تم خرچ کرتے ہو
26:49اللہ کی راہ میں خیر سے
26:52تو اس کا تمہیں بدلہ دے دیا جائے گا
26:54کس کے لیے خرچ کرتے ہو
26:55فرمایا
26:56لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ اُحْسِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ
27:00ان فُقَرَاء کے لیے محتاج لوگوں کے لیے
27:03کہ جو روک دیے گئے ہیں اللہ کی راہ میں
27:06لَا يَسْتَتِعُونَ دَرْبًا فِي الْأَرْضِ
27:09وہ زمین میں سفر نہیں کر سکتے
27:11یعنی کمانے کے لیے
27:12دربن فِي الْأَرْضِ کے معنی ہوتے ہیں
27:15زمین میں سفر کرنا
27:16جیسے سورہ مزمل میں ہے
27:18وَآخَرُونَ يَدْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ
27:22يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ اللَّهِ
27:24وہ جو دوسرے ہیں جو سفر کرتے ہیں زمین میں
27:27کمانے کے لیے
27:29اللہ کا فضل تلاش کرنے کے لیے
27:30تو اللہ پاک فرماتا ہے
27:32کہ ان لوگوں پر خرج کرنا
27:34کہ جو
27:36اللہ کی راہ میں
27:38اپنے آپ کو وقف کیے ہوئے ہیں
27:40کسی دینی کام کے لیے
27:42او سی رو فی سبیل اللہ
27:44یعنی وہ کوئی
27:46کاروبار نہیں کر سکتے
27:48کہیں جوب نہیں کر سکتے
27:50کہیں کمانے کے لیے نہیں نکل سکتے
27:52کچھ دینی ذمہ داریاں
27:54ان پر آ پڑی ہیں
27:56وہ زمین میں سفر نہیں کر سکتے
27:58یعنی کمانے کے لیے نہیں نکل سکتے
28:00ایسے لوگوں پر اگر تم خرج کرو
28:02کہ جو اپنے آپ کو دین کے لیے
28:04وقف کر دیتے ہیں
28:05تو یہ بہت اچھا مصرف ہے
28:08اللہ کی راہ میں خرج کرنے کا
28:10اس کی جو پریکٹیکل شکل تھی
28:13اہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں
28:15وہ اصحاب صوفہ تھے
28:17یہ تقریباً چار سو لوگ تھے
28:20جو ہر وقت
28:20اپنے آپ کو ایک چبوترے پر پاتے تھے
28:23اور وہاں تعلیم حاصل کرتے تھے
28:26وہیں عبادات کرتے تھے
28:27وہیں نمازیں پڑھتے تھے
28:29وہیں پر یہ سیکھتے تھے
28:31اچھا باہر کے قبائل سے
28:33باہر کے علاقوں سے جہاں اسلام پہنچتا تھا
28:35وہ کہتے تھے بھئی ہمیں کوئی ٹیچر دے دیں
28:38کوئی معلم دے دیں
28:39تو حضور علیہ السلام
28:40اصحاب صوفہ میں سے چند لوگوں کو
28:42اس علاقے میں بھیج دیتے تھے
28:43تو یہ اصحاب صوفہ وہ تھے
28:46جنہوں نے اپنے آپ کو وقف کر رکھا تھا
28:48اللہ کے دین کے لیے
28:50کہ دین سیکھیں گے
28:51دین آگے پہنچائیں گے
28:53تو آج کے دور میں بھی آپ
28:55یہ مصرف دیکھ سکتے ہیں
28:56جیسے دین کے طالب علم ہوتے ہیں
28:58مدارس میں رہنے والے ہوتے ہیں
28:59ان کے اوپر خرج کرنا
29:01یہ ایک بہترین مصرف ہے
29:03اور اللہ پاک فرماتا ہے کہ
29:05جاہل سے مراد یہاں پر بے خبر ہے
29:11اور
29:13تعفف کے معنی ہے
29:16کہ ان کی جو خودداری ہے
29:18ان کی خودداری کی وجہ سے
29:22جو بے خبر انسان ہے
29:25وہ ان کو جو ہے
29:26بہت زیادہ غنی سمجھتا ہے
29:30تعریفہم بسیماہم
29:31اور
29:32ان کی جو
29:35تعریفہم بسیماہم
29:36جو ان کی نشانیاں ہیں
29:38تم ان کے ذریعے ان کو پہچان سکتے ہو
29:40وہ جو ان کی بھوک ہے
29:42وہ ان کے چہرے پہ آیاں ہوگی
29:44تو آپ کو اندازہ ہو سکتا ہے
29:46کہ یہ ضرورت مند ہے
29:47جیسے قرآن کریم میں
29:50سیماہم فی وجوہیہم من اثر السجود آیا ہے
29:53سورہ فتح کے اندر
29:54تو سیما کے معنی ہوتے ہیں
29:56علامت
29:57لا يسألون الناسا الہافا
30:00وہ لوگوں سے گڑ گڑا کے سوال نہیں کرتے
30:03وہ مانگتے ہی نہیں
30:06وہ خودداری پہ قائم ہوتے ہیں
30:08اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں
30:10اب
30:10سامنے والا شخص یہ سمجھتا ہے
30:13کہ یہ تو مانگی نہیں رہا
30:14جب مانگی نہیں رہا
30:15تو یہ ضرورت مند ہی نہیں ہوگا
30:17تو وہ اس کو کچھ دیتا بھی نہیں ہے
30:19تو اللہ پاک توجہ دلا رہا ہے
30:21کہ یہ اپنی نشانی سے پہچانے جاتے ہیں
30:24یہ مانگتے نہیں ہیں
30:25یہ خوددار لوگ ہوتے ہیں
30:27اور خود کو دین کے لیے وقف کیے ہوئے ہوتے ہیں
30:30تو ایسے لوگوں پر خرچ کرنے کی
30:32اللہ پاک نے ترغیب دی ہے
30:34لا يسألون الناسا
30:37لوگوں سے مانگتے نہیں ہیں
30:38الہافا
30:39گڑ گڑا کے
30:41لپٹ کے
30:41چمٹ کے
30:42پیچھے لگ کے
30:43مانگتے نہیں ہیں لوگوں سے
30:45الہافا کی جو قید ہے
30:47یہاں پر
30:49وہ صرف یہ بتانے کے لیے ہے
30:51کہ یہ کتنا گھناؤنا عمل ہے
30:53کسی کے پیچھے لگ جانا
30:55چمٹ جانا
30:56مانگنے کے لیے
30:57یہ لوگ ایسا نہیں کرتے ہیں
30:59قرآن قریب میں بہت ساری قیودات
31:01آیات کے ساتھ
31:02یہی بات بتانے کے لیے آتی ہیں
31:04کہ وہ چیز کتنی مکروح ہے
31:06جیسے
31:06وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ
31:08خَشْيَتَا اِمْلَاقُ
31:09قَتْل نہ کرو
31:10اپنی اولادوں کو
31:11حکم تو پورا ہو گیا
31:13بھئی اپنی اولاد کو
31:14قتل نہیں کر سکتے آپ
31:15لیکن ساتھ
31:16قیت لگائی
31:16خَشْيَتَا اِمْلَاقُ
31:19اس ڈر سے
31:20کہ کہیں
31:21تم موتاج ہو جاؤگے
31:22یا تمہارے پاس
31:23جو ہے وہ
31:24رزق نہیں ہے
31:25کھانا پورا نہیں پڑے گا
31:27اب یہ عمل
31:27بہت گھناؤنا سا ہے
31:29کہ آپ
31:30یہ سمجھیں
31:30کہ جس اللہ نے
31:31اولاد دی ہے
31:32وہ اس کے کھانے کے لیے
31:33بندوبست نہیں کرے گا
31:34تو خَشْيَتَا اِمْلَاقُ
31:36کی جو
31:36قید ہے
31:38وہ اس عمل کی
31:39جو گھناؤنا پن ہے
31:40کراہت ہے
31:41اس کی طرف
31:42صرف اشارہ کرنے کے لیے
31:43ایسی قرآن کریم میں ہے
31:45اے ایمان والو
31:51سود نہ کھاؤ
31:51دگنا چگنا کر کے
31:54اب یہ
31:55حکم تو پورا ہو گیا
31:56کہ
31:56اصل یہ ہے
31:58قید اس لیے لگائی
32:00دگنے چگنے کی
32:01کہ وہ اس کی
32:01قراہت کی طرف
32:02اشارہ بس کرنا
32:03مقصود ہے
32:04کہ جو سود کھانے والا
32:06ہوتا ہے
32:06اس کی یہی فکر ہوتی ہے
32:07کہ میرا دگنا چگنا ہو جائے
32:09بھلے حرام سے ہو
32:10گندگی
32:11بھلے دگنے چگنی ہو جائے
32:12اس کو فکر نہیں ہے
32:13تو اس کی قراہت
32:14بتانے کے لیے
32:15اس کی
32:15جو نفسیات ہے
32:17وہ بتانے کے لیے
32:18اللہ پاک نے
32:18اداف و مدافع کی
32:19قید لگا دیے
32:20تو اصل
32:21حکم پہلے ہی
32:22پورا ہو رہا ہے
32:23لیکن اس کی
32:24ایک قراہت
32:25بتانے کے لیے
32:26ساتھ ایک قید لگتی ہے
32:27وہ یہی پر پیٹرن ہے
32:28کہ
32:29وہ لوگوں سے
32:32مانگتے نہیں
32:33اصل یہی ہے
32:33لیکن کیا ہے
32:34چمٹ کر
32:35اس کی اندر
32:36جو اس کی قراہت ہے
32:37وہ واضح کر دی گئی
32:39وَمَا تُنفِقُوا مِن خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٍ
32:42اور جو بھی تم
32:43نیک کاموں میں
32:44خرج کرتے ہو
32:45تو اللہ پاک
32:46اس کو جاننے والا ہوتا ہے
32:47آج کل بھی
32:49ہمارے معاشرے کے اندر
32:50آپ دیکھیں گے
32:51کہ یہ آیتِ کریمہ
32:52ہماری سوسائیٹی کے حوالے سے
32:54ٹو سیونٹی تھری ہے
32:55یہ کتنی اہم ہے
32:57چرب زبان رکھنے والے
32:59لوگوں کو فراد کرنے والے
33:01چیٹ کرنے والے
33:03اور
33:04مختلف ہیلوں بہانوں سے
33:06لوگوں کا پیسہ بٹورنے والے
33:08لوگ ان کو تو
33:09پھر توجہ دے دیتے ہیں
33:11لیکن وہ شخص کے
33:13جو آپ کے رشتہ داروں میں
33:15بھی ضرورت مند ہے
33:16لیکن آپ سے مانگ نہیں رہا
33:17اس کے نشانی
33:19تعریف ہم بسی ماہ ہم
33:20اگر آپ غور کریں گے
33:21نشانی سے پتا چل جائے گا
33:23کہ یہ کماتا کتنا ہے
33:25اس میں بیماری بھی ہے
33:26شادی بھی ہے
33:27کوئی ضرورت بھی ہے
33:28نشانیوں سے پتا چل جائے گا
33:30لیکن آپ اس کی طرف توجہ نہیں دیتے
33:32کہ وہ مانگ نہیں رہا
33:34مدارس دینیہ کا بھی یہی معاملہ ہے
33:36کہ آپ جو ہے
33:38وہ خود اس کی طرف توجہ کریں
33:40آپ دیکھیں گے
33:40مدارس دینیہ میں
33:42ایک استاذ ہے
33:43وہ قرآن پڑھا رہا ہے بیٹھ کے
33:45اور وہ درس نظامی پڑھا رہا ہے
33:49عالم دین بچوں کو بنا رہا ہے
33:51لیکن آپ دیکھیں گے
33:52اس کی تنخواہ کتنی زیادہ محدود ہے
33:54اور وہ بڑی مشکل سے
33:56اس کا زندگی کا گزارہ ہو رہا ہے
33:58لیکن آپ آج کے معاشرے میں بھی آپ دیکھیں گے
34:01لوگوں کی اس کی طرف توجہ نہیں ہوگی
34:04کہ ہم اس کے پاس جائے
34:06مدارس تک پہنچیں
34:07ان کی تنخواہوں کے بارے میں پوچھیں
34:09تنخواہوں کے بارے میں ڈونیٹ کریں
34:11یا وہ جو بچے وہاں پہ پڑھ رہے ہیں
34:14ان کا لائف اسٹائل کیا ہے
34:15ان کا کھانا پینا کیا ہے
34:17وہ کس طرح کی ضروریات کے متعقاضی ہیں
34:20تو پھر بندہ وہاں پہ جا کے ان پہ خرچ کرے
34:23تو یہ جو اب دین سے ریلیٹ لوگ ہوتے ہیں
34:26ان کے بارے میں جو ہماری چشم پوشی ہے
34:30یا ان کے بارے میں جو ہماری غفلت ہے
34:33وہ آج کے معاشرے میں بھی بہت زیادہ واضح ہے
34:36اصحابِ صفحہ کی ایک مثال تھی
34:38اس دور میں لوگ پھر سمجھ گئے یہ آیتیں آنے کے بعد
34:41کہ بھئی اصحابِ صفحہ والے آ کے مانگیں گے نہیں
34:44لَا يَسَلُونَ النَّاسَ الْحَافَ
34:47کئی کئی دن کے فاقے اصحابِ صفحہ برداشت بھی کر لیتے تھے
34:52ظاہرہ ایک مجموعی صورتحال مالی لحاظ سے ابتر تھی
34:56سارے لوگ پریشان تھے
34:59تو بہت کم اگر کبھی آ پاتا تھا
35:01تو بھی اصحابِ صفحہ
35:02کئی کئی دن کے فاقے کے باوجود
35:05قال اللہ اور قال الرسول کی صدائیں آتی رہتی تھی
35:09ایک روحانی غزہ اللہ رسول کے فرامین سے وہ پوری کرتے رہتے تھے
35:13لیکن جب لوگوں کے پاس مال ہوتا تھا
35:15تو وہ آتے تھے ایک جگہ پہ کوئی چیز ایسے لٹکا کے
35:18اور صدقہ کر کے چلے جاتے تھے
35:20تو وہ کوئی بھی شخص آ کے اس کو اٹھا کے استعمال کر لیتا تھا
35:24تو بہت سارے اپنے رشتہ داروں میں
35:26اپنے دوستوں میں
35:27اپنے معاشرے میں
35:28جو سب سے ریل اور حقیقت پر مبنی خرچ کرنے کی جگہ ہیں
35:33ان کو تلاش کرنا چاہیے
35:35وہ تھوڑا سا ڈیپ لی سوچنے کے بعد ملتی ہیں
35:38مانگنے والے لینے والے بڑی بڑی تنظیمیں ہیں
35:44عربوں اور روپیہ ہو سکتا ہے
35:45کروڑوں روپیہ ہو سکتا ہے
35:46انہوں نے ڈم کیاوا ہوتا ہے
35:48وہ پھر مانگنے کے لیے پہنچ جاتے ہیں
35:51چندے پہ چندہ چندے پہ چندہ
35:53ان کے پیٹ نہیں بھرتے
35:54ان کی مزاج نہیں بھرتے
35:56ان کی طبیعتیں نہیں بھرتی
35:57اور انسان جو ہے نا پورا پورا مال اٹھا کے
36:00ایک تنظیم میں دے دیا
36:01پہلے اپنے اردگرد
36:03ایک پریکٹیکل سوچ اپنائیں کہ
36:06معاشرے کے اندر کون ضرورت مند ہے
36:08جو آپ سے جڑا ہوا ہے
36:09آپ اس کے فقر کو اس کے چہرے پہ دیکھ رہے ہیں
36:12اس کے فقر کو آپ اس کی چال میں دیکھ رہے ہیں
36:16اس کی جھکتی کمر میں دیکھ رہے ہیں آپ
36:19اس کی چال کی کمزوری میں آپ کو فقر نظر آ رہا ہے
36:22لیکن پھر بھی آپ اس کی طرف متوجہ نہیں دے رہے
36:25کہ وہ آپ سے مانگ نہیں رہا
36:27تو اس لیے یہ آیات بڑی اہم ہیں
36:29کہ آپ کے خرچ کا جو اولین مستحق ہے
36:32وہ آپ سے جڑا ہوا شخص ہے
36:34جو مانگ نہیں رہا اور ضرورت مند ہے
36:36آپ اس کے پاس پہنچیں
36:38اچھے سے اس پر خرچ کریں
36:40اگر اللہ نے آپ کو دیا ہے
36:41یہی ان آیات کا مقصد ہے
36:43اور اس میں جو مختلف پہلو ہیں
36:45مدارس دینیہ کے حوالے سے
36:47مولیمین کے حوالے سے
36:48قرآن پڑھانے والوں کے حوالے سے
36:50حتیٰ کہ ترازی بھی جو
36:52حفاظ پڑھاتے ہیں
36:53قرآن پڑھاتے ہیں
36:55ہمارے ہیں دیکھیں پورا مہینہ
36:57وہ قرآن پڑھائیں گے
36:58پھر ان کو پانچ دس ہزار روپے دے کے
37:00رخصت کر دیں
37:01کیوں بھئی
37:02اور کوئی بھی مصرف آئے گا
37:04ایک ایک محفل آپ کرتے ہیں
37:05اس محفل کے اندر آپ
37:07لاکھ لاکھ روپے تو
37:08یوں اڑا دیتے ہیں پڑھنے والوں پر
37:10قرآن پڑھنے والے کو
37:11آپ نے پورا مہینہ قرآن پڑھا
37:13پانچ دس ہزار روپے دے کے
37:14رخصت کر دیا
37:15شرم کا مقام نہیں ہے
37:17تو قرآن پڑھنے والے
37:18قرآن کی تعلیم عام کرنے والے
37:20قرآن کی خدمت کرنے والے
37:22اصحاب سفہ کی
37:23سنت زندہ کرنے والے
37:26ان کی طرف کوئی توجہ نہیں ہے
37:28تو بہت ساری چیزیں ہیں
37:29جن کو غور و فکر سے دیکھنا چاہیے
37:31اور پروگرام کا وقت بھی
37:33اختتام کو پہنچائیں
37:34آیات کی تفسیر بھی مکمل ہوئی
37:36اور نئے پروگرام کے ساتھ
37:38پھر انشاءاللہ ہم حاضر ہوں گے
37:39اپنا خیال رکھیے گا
37:40اللہ حافظ و ناصر
Comments