Dars e Quran - Surah e Aal-e-Imran Ayat 49 to 60
To watch all the episodes of Dars e Quran ➡️https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XicHmWttOceS6grEiS0XALjI
Tilawat (Recitation): Qari Noman Naeemi
Tafseer (Details): Allama Hafiz Owais
#AllamaHafizOwais #QariNomanNaeemi #DarseQuran
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
To watch all the episodes of Dars e Quran ➡️https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XicHmWttOceS6grEiS0XALjI
Tilawat (Recitation): Qari Noman Naeemi
Tafseer (Details): Allama Hafiz Owais
#AllamaHafizOwais #QariNomanNaeemi #DarseQuran
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00abu la rayba fi gudan li'l muttaqin
00:11a'udhu billahi billahi shaytadir rajeem
00:17bismillahirrahmanirrahim
00:25ورسولا الهلاب بإسم رائي
00:39لأني قد جئتكم بآيات من ربكم
00:52أني أحلق لهم من طين كهيئة الطير
01:11فأنفخ فيه فيكون طيرا
01:21فأنفخ فيه فيكون طيرا
01:34بإذن الله
01:41وابدروا الأدمى والأبرص
01:53ووحي الموتى بإذن الله
02:00وأنبئكم بما تأكلون
02:09وما تتدخرون في بيوتكم
02:18إن في ذلك لآيات لكم
02:29إن كنتم مؤمنين
02:36وَمُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْيَ مِنَ التَّورَاتِ
02:48وَلِوْحِلَ لَلَكُمْ بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ وَجِدْتُكُمْ بِآيَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ
03:12فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونَ
03:21إِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ
03:34فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ
03:53هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ
04:01فَلَمَّا حَسَّ عِيْسَا مِنْ مُلْكُ فْرَقَالَ
04:16قَالَ مَنْ أَنْصَارِ
04:25إِلَى اللَّهَ
04:31قَالَ الْحَوَارِيُونَ نَحْنُ أَنْصَارُ
04:40قَالَ الْحَوَارُ اللَّهِ آمَنَّا بِاللَّهِ
04:49وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ
04:55رَبَّنَا آمَنَّا بِبَعْ
05:10أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ
05:19فَاكْتُبَ لَا مَعَ الشَّاهِدِينَ
05:25وَمَكَهُ وَمَكَرَ اللَّهَ
05:36وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِنِينَ
05:44صَدَقَ اللَّهُ عَظِيمُ
05:50نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي وَنُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمُ
05:54اما بعد فاؤذ باللہ من الشیطان الرجیم
05:56بسم اللہ الرحمن الرحیم
05:58السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ سامعین محترم
06:02درس قرآن کے نئے پروگرام کے ساتھ آپ کے سامنے حاضر ہیں
06:06قاری صاحب نے حسب معمول بڑی خوبصورت آواز میں
06:09سورہ آل عمران آیات فورٹی نائن سے لے کے
06:12ففٹی فور تک کی تلاوت کی ہے
06:16اور عموماً ہم آیات کا پہلے ترجمہ کر دیتے ہیں
06:20لیکن ترجمہ طویل ہے تو ہم ساتھ ساتھ آیات کا ترجمہ کرتے جائیں گے
06:25اور تشریح بھی اس کی بیان کرتے جائیں گے
06:27اس سے پہلے کی جو آیات تھیں اس سے اگر ہم اسے جوڑ کر دیکھیں
06:31تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت دے دی گئی ہے
06:34اور کلمے کی بشارت دے دی گئی ہے
06:37اور پھر اس کے بعد جو حضرت بی بی مریم کو بشارت دی گئی
06:41عیسیٰ ابن مریم کی
06:42تو حضرت عیسیٰ ابن مریم کی صفات بیان ہو رہی ہیں
06:45پیچھے ان کی صفتوں میں بیان کیا گیا کہ وہ وجی ہیں صالحین میں سے ہیں
06:50اور مقربین میں سے ہیں
06:53اور یہ ساری صفتیں ان کی بیان کی گئی
06:56اور انہی صفتوں کا جو تسلسل ہے
06:59وہ آیت جو ہے وہ
07:0149 میں بھی جو آج تلاوت کی گئی
07:05جاری و ساری ہے
07:07ان صفتوں کا بیان ہے
07:08حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی
07:10تو فرمایا وہ رسولاً الہ بنی اسرائیل
07:13اور وہ رسول ہیں بنی اسرائیل کی طرف
07:16حضرت عیسیٰ سے پہلے حضرت یحییٰ علیہ السلام تھے
07:21جو نبی بن کر آئے
07:22تو وہ صرف نبی تھے
07:25یعنی ان کے پاس
07:26الگ سے کوئی کتاب نہیں تھی
07:27الگ سے کوئی شریعت نہیں تھی
07:29رسول وہ ہوتا ہے کہ
07:31اس کا ایک معاملہ زیادہ خاص ہوتا ہے
07:33جو نبی کے ساتھ رسول بھی ہو
07:35یعنی اس کو ایک کتاب دی جاتی ہے
07:38ایک شریعت دی جاتی ہے
07:39اور جو ہے وہ
07:41اس کی خاص طور پر مدد کی جاتی ہے
07:45اور خاص معاملات ہوتے ہیں
07:46رسول کے ساتھ
07:48تو یہ نبی بھی تھے اور ساتھ رسول بھی تھے
07:51اور کس کی طرف بھیجے گئے
07:52بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے
07:54تو یہ بات یہاں واضح کر دی گئی ہے
07:56کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام
07:58بھی بنی اسرائیل کے رسول بن کر آئے ہیں
08:01اور یہ بات بھی بتا دی گئی ہے
08:03کہ ان کی رسالت اور ان کی نبوت
08:06بنی اسرائیل کے ساتھ ہی خاص تھی
08:08So this is why his Caesar said that he said that he was going to provide us to the human being of the island of Israel,
08:18from the outside of Israel, that he came from the top of the island.
08:22So he said that he is going to provide us to to you that he had said that
08:26that he has the right that he had to serve the bodies of Israel.
08:33ڈیسی بھی یہ آیات ہمیں یہ واضح کر رہی ہیں کہ حضور علیہ السلام کی جو نبوت اور رسالت ہے وہ عامت الناس اور قافت الناس ہے کہ تمام دنیا کے لوگوں کی طرف کی گئی ہے یہ صرف حضور علیہ السلام کا خاصہ ہے وگرنا ہر نبی کا ٹائم بھی مخصوص تھا لوگ بھی مخصوص تھے دائرہ کار بھی مخصوص تھا قرآن نے اس کو واضح کر دیا ہے اور رسول عنیلا بنی اسرائیل بنی اسرائیل کی طرف آنے کے بعد انہوں نے کہا کہ
09:00انی قد جئتکم بی آیتن
09:02میں بہت ساری نشانیاں
09:04تمہارے پاس لے کر آیا ہوں
09:06نشانی کے ساتھ تمہارے رب کی طرف سے آیا ہوں
09:08وہ نشانیاں اگلی آیات میں
09:10اللہ پاک
09:11اسی آیت میں اللہ پاک نے بیان بھی کر دی
09:13اور یہ نشانیاں انجیل کے اندر بھی
09:16کچھ کمی کے ساتھ موجود ہیں
09:18لیکن فرق یہ ہے کہ جتنی نشانیاں
09:21جو اللہ پاک نے ان کو موجزات عطا فرمائے
09:23مردے کو زندہ کر دینا
09:24اور جو ہے وہ پرندوں کو جو ہے وہ
09:30عزیزوں کو شفایاب کر دینا
09:32انجیل کے اندر بھی اذن اللہ کا لفظ نہیں ہے
09:35یعنی اللہ کے اذن سے
09:36اللہ کی اجازت سے
09:37تو بہت سارے موجزات کو دیکھ کے
09:39چیزوں کو دیکھ کے
09:40جو ہے نا انہوں نے ان کی خدائی کا دعویٰ کر لیا
09:44تو قرآن کریم اس مقام کو جب بیان کر رہا ہے
09:47تو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کر رہا ہے
09:49قرآن اس بات کا رد نہیں کر رہا
09:51کہ ہم نے عیسیٰ کو کوئی کمال نہیں دیا تھا
09:54کوئی موجزہ نہیں دیا تھا
09:55کوئی شان نہیں دی تھی
09:57نہیں قرآن کہتا ہے
09:58سب تھا ان کے پاس
09:59ہماری طرف سے غیب کے علوم تھے ان کے پاس
10:02ہمارے پاس سے ان کو
10:04طبق شعبے کے روحانی موجزات
10:06ان کے پاس موجود تھے
10:07مردے کو زندہ کرنا
10:09یہ سب ہم نے ان کو کمالات دیئے تھے
10:11مگر ہم نے دیئے تھے
10:13بی اذن اللہ
10:14پوری وضاحت ہے
10:16انجیل کی چیزوں کی
10:17کہ تم گمراہیوں میں مت پڑو
10:19ان چیزوں کی وجہ سے
10:20یہ سب کچھ اللہ پاک نے انہیں
10:22عطا فرمایا تھا
10:23انی اخلق لکم من التین
10:26میں تمہارے لیے
10:26خلق کر دوں گا
10:28پرندے کو
10:29مٹی سے جو ہے
10:31تمہارے لیے
10:32پرندے کی شکل بنا دوں گا
10:34فَأَنْفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ تَيْرَمْ بِإِذْنِ اللَّهِ
10:37انہوں نے کہا
10:38کہ آپ کوئی پرندہ بنا کے دکھائیں
10:40تو آپ نے مٹی سے جو ہے
10:41چمگادر بنائی
10:42اور اس میں پھوک ماری
10:43تو وہ پرندہ بن کے اڑ گیا
10:45تو یہ سب کیا تھا
10:47بِإِذْنِ اللَّهِ
10:48یہ اللہ کے اذن سے تھا
10:50جو اللہ پاک نے ان کو
10:51عطا فرمایا تھا
10:52وَأُبْرِعُ الْأَقْمَحَ
10:54وَالْأَبْرَسَ
10:56اور میں اللہ کے اذن سے جو ہے
10:57وہ پیدائشی اندھوں کو
10:59اور برس زدہ کو
11:02جس کے جسم پر
11:03کود کا مرض پھیلا ہوا ہو
11:05میں جو ہے
11:06وہ اس کو
11:06ٹھیک کر دیتا ہوں
11:08جیسے مسیح آپ کا لقب بھی ذکر کیا گیا
11:10تو وَأُبْرِعُ الْأَقْمَحَ
11:12وَأُحْيِ الْمَوْتَ بِإِذْنِ اللَّهِ
11:15کتنے ہی مردے تھے
11:17جو انہوں نے زندہ کیے
11:18اور کہا کہ
11:18میں مردے کو زندہ کر دیتا ہوں
11:20بِإِذْنِ اللَّهِ
11:22اللہ کے اذن سے
11:24تو اللہ پاک اپنے نبیوں کو
11:25شان عطا فرماتا ہے
11:27مقام عطا فرماتا ہے
11:28کچھ موجزے ان کے اختیار میں بھی ہوتے ہیں
11:31جیسا کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے
11:34اس بیان سے اچھی طرح واضح ہو رہا ہے
11:36مگر یہ سب خدا کی طرف سے ہوتا ہے
11:38وَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَعْقُلُونَ
11:41وَمَا تَدَّخِرُونَ
11:43اور جو مردے انہوں نے زندہ کیے تھے
11:46اس میں تازہ مردے بھی تھے
11:47تین دن ہوئے ہیں
11:49اور بہت پرانے جو انتقال کیے ہوئے لوگ تھے
11:53وہ بھی انہوں نے زندہ کیے
11:56سام بن نو کی ایک روایت ہے
11:58کہ حضرت نو کے بیٹے سام کو بھی انہوں نے زندہ کیا ہے
12:02اچھا زندہ ہونے والوں نے خاص طور پر ایک بات کہی
12:05کہ بس یہ دعا کریں
12:06کہ مرتے وقت جو تکلیف ہوتی ہے وہ دوبارہ نہ ہو
12:09تو وہ چونکہ ایک کیفیت سے گزر چکے ہیں
12:13تو بہرحال یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو
12:16اللہ نے موجزہ عطا فرمایا تھا
12:17وَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَعْقُلُونَ
12:20جو تم کھاتے ہو میں وہ تمہیں بتا دوں گا
12:22جو تم زخیرہ کرتے ہو اپنے گھروں میں
12:25کہ تم نے اپنے گھروں میں کیا رکھا ہوا ہے
12:28تم کیا کھا رہے ہو
12:29یہ سب میں تمہیں بتا دوں گا
12:31یعنی غیب کا علم اللہ پاک نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو
12:34عطا فرمایا تھا
12:35مگر یہ سب کیا تھا یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے
12:38نبیوں کو جتنے علوم ملتے ہیں
12:40علوم غیبیہ ہوں
12:41یا علوم شریعت ہوں
12:44یا علوم ظاہر ہوں
12:45یا علوم باطن ہوں
12:46وہ سب اس کا جو چشمہ ہوتا ہے
12:49وہ ان کی طرف وحی کی صورت میں آتا ہے
12:51اور وہ سب اللہ پاک انہیں بتاتا ہے
12:53اس میں تمہارے لئے نشانیاں ہیں
12:58اگر تم ماننے والے ہو
13:00تو یہ کہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے
13:02اپنی شان میں
13:03کہ اللہ نے مجھے نشانی دے کے
13:05تمہارے پاس بھیجا ہے
13:06اب کیوں انکار کرتے ہو
13:08یہ سب میں نے
13:09تمہیں دکھا دیا ہے
13:11جو جو کچھ تم نے طلب کیا ہے
13:13اور میری شان یہ ہے
13:17کہ میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں
13:20میں کوئی تمہارا دشمن تو نہیں بن کیایا
13:23میں یہود کی طرف ہی بھیجا گیا ہوں
13:25تورات کی وضاحت ہی کرنے کے لئے آیا ہوں
13:28میرے صحیفے تکمیل ہیں
13:30انجیل تکمیل ہے تورات کی
13:33میں اجنبی نہیں ہوں
13:34میں الگ نہیں ہوں
13:35میں کوئی دوسرا نہیں ہوں
13:36میں وہی ہوں جس کا تم انتظار کر رہے تھے
13:39ایک نبی کے آنے کی بیست کی خبر تھی
13:42اپنے یہود میں سے بھی یہودیوں کو
13:46تو حضرت عیسیٰ آئے
13:47تو انہوں نے انکار کر دیا
13:49کیونکہ وہ ان کو ریفارم کر رہے تھے
13:51ان کی اصلاح کر رہے تھے
13:53وہ جو انہوں نے دھندے بنا لیے تھے
13:54ان کو درست کر رہے تھے
13:56تو جو حق بولتا ہے وہ برداشت تو نہیں ہوتا پھر
13:59تو اس لئے انہوں نے کہا
14:00وہ مصدق اللی ما بین اے دیہ منت تورا
14:02میں نے تو تورات کی تصدیق کی ہے
14:04یوں بھی آپ کہہ سکتے ہیں
14:06کہ میں تو تورات کا مصداق بن کے آیا
14:08جو تورات میں میرے لئے کہا گیا تھا
14:11میں وہی تو ہوں
14:12جس کے بارے میں حضرت یحیہ نے بھی جیل میں کہا تھا
14:15کہ تم اب کس کی تلاش کر رہے ہو
14:17جب وہ آئے گا
14:18تو لنگڑے چلنے لگ جائیں گے
14:20نابینا دیکھنے لگ جائیں گے
14:22کور کے مرض
14:23جو ہے وہ شفایاب ہو جائیں گے
14:25مرد زندہ
14:26وہ آئے گا تو اپنی شان کے ساتھ آئے گا
14:28حضرت یحیہ نے ان کی بشارت دی تھی
14:30تو سب تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے
14:33پھر بھی تم مانتے نہیں ہو
14:34میں حلال کر دوں گا تمہارے لئے
14:39جو بعض چیزیں تمہیں حرام کی گئی ہیں
14:41پچھلی آیات میں گزرا
14:42ان کی نادانیوں کی وجہ سے
14:44کچھ حلال چیزیں بھی ان پر حرام کر دی گئی تھی
14:46وہ انہوں نے دوبارہ جو ہے
14:48وہ اللہ کی بارگاہ سے
14:49جو ہے وہ ان کو اذن ملا
14:51اور انہوں نے وہ چیزیں ان کے لئے حلال کی
14:53جو خود انہوں نے اپنے اوپر حرام کرائی تھی
14:55تو میں اس شان کے ساتھ تمہارے پاس آیا ہوں
14:57میں جو یہ تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں
15:04تو اللہ سے ڈرو
15:05وَعَتِعُونَ اور میری پیروی کرو
15:08جو میری پیروی کرے گا وہ بچے گا
15:10اور جو میری پیروی نہیں کرے گا وہ مارا جائے گا
15:13اِنَّ اللَّهَ رَبِّ وَرَبُّكُمْ فَعْبُدُوهُ
15:16آیت 51 میں فرمایا
15:18کہ میں بے شک
15:19اللہ میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے
15:22تم اسی کی عبادت کرو
15:23یہ جو رب کا لفظ ہے نا
15:26یہ قرآن کریم نے یہاں پہ اس لیے ذکر کر دیا
15:28کہ ان کی کتابوں کے اندر یہ لکھا ہوا تھا
15:32اللہ پاک کے لیے
15:33اب کا لفظ
15:34اب ان کہتے ہیں والد کو
15:36تشبیحات جیسے آیات ہوتی ہیں
15:39متشابہات آیات ہوتی ہیں
15:41جس کا معنی و مفہوم اللہ ہی کے سو پرد ہوتا ہے
15:44ایسی جو آیتیں
15:46جو ہیں وہ
15:46اتری انجیل کے اندر
15:49اس میں رب کو اب کہا گیا
15:51والد
15:51تو وہ والد کے معنی میں نہیں تھی
15:54یعنی کہ حقیقی والد کے معنی میں نہیں تھی
15:56اس اب سے رب ہی مراد تھا
15:59لیکن انہوں نے اس کو شرک کی بنیاد بنا لی
16:01اور عیسی علیہ السلام کو کہا
16:03کہ خدا جو ہے وہ ان کا والد ہے
16:05اور جو ہے وہ خود انہوں نے یہ کہہ دیا
16:07تو وہ وضاحت کر دی انجیل کی
16:09اللہ پاک نہیں یہاں
16:11ان اللہ ربی و ربکم
16:14وہ سب کا رب ہے
16:15جو تم نے کہا
16:18کہ عیسیٰ کا والد ہے وہ
16:21اور عیسیٰ بیٹا ہے اللہ کا
16:23تو اس نے تو سب کو اب کا ہے انجیل کی اندر
16:25وہ سب کا باپ ہے
16:27سب کے باپ ہونے سے کیا مراد ہے
16:29سب کا رب ہے وہ
16:31یہ آیات متشابہات تھی
16:33جن کے پیچھے پڑھ کے
16:34یہودی جو ہے
16:35عیسائی جو ہے وہ گمراہوں
16:37ان اللہ ربی و ربکم
16:38میرا بھی رب ہے وہ
16:40والد نہیں ہے
16:41ربی و ربکم فابدو
16:43حازہ سراتم مستقیم
16:45فلمہ احس ایسیٰ منہم الكفر
16:47جب عیسیٰ نے محسوس کر لیا
16:49ان سے کفر کو
16:49جب حضرت عیسیٰ نے دیکھ لیا
16:51کہ بھئی یہ ماننے والے نہیں
16:53سازشیں خلاف
16:55اور کیا کیا چیزیں انہوں نے
16:57جو ہے نا وہ پھیلائیں
16:58حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس
16:59قال من انساری اللہ
17:01تو پھر انہوں نے کہا بھئی میرا
17:03مددگار کون ہے اللہ کی طرف
17:05یعنی انہوں نے یہ کہا
17:07کہ بھئی اب جو میرے ساتھ جنڑنے والے ہیں
17:09وہ آجاؤ میں ان پہ محنت کروں گا
17:10جیسے حضور علیہ السلام کے ساتھ
17:13انسار مدینہ کھڑے ہو گئے تھے
17:15جب آپ مکہ سے مدینہ گئے
17:17تو کچھ خاص لوگ ہوتے ہیں
17:19مددگار بن جاتے ہیں
17:20مشکل حالات میں
17:21اللہ ان کو ذریعہ بنا دیتا ہے
17:23تو اسی طرح یہ لوگ بھی تھے
17:25تو حضور علیہ السلام نے پھر
17:26جیسے مکہ میں جو ان کے انسار تھے
17:29یعنی مددگار تھے چند
17:31حضور نے ان کی طرف توجہ کی
17:32و آرد ان المشرقین اور مشرقوں سے اعراض کیا
17:36اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام
17:38نے بھی پھر چند لوگوں کو فوکس کیا
17:40جو حواری اور انسار کہلاتے تھے
17:42اور پھر ان کے اوپر فوکس کر کے
17:44ان پر محنت کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام
17:47تو آپ نے پوچھا کہ
17:48من انساری اللہ
17:49قال الحواریون
17:50تو حواریوں نے کہا
17:51نحنو انسار اللہ
17:53ہم اللہ کے مددگار ہیں
17:54یعنی انہوں نے بڑے جوش اور جذبے میں کہا
17:57ہم اس مشن میں آپ کے ساتھ کھڑے ہیں
17:59تو ان کی زبان سے یہ لفظ نکلا
18:01انسار اللہ
18:02تو یہ جوش جو ان کے اندر پیدا کرنا مقصد تھا
18:05وہ پیدا بھی ہوا
18:06اور انہوں نے اس کا اظہار بھی کیا
18:07آمننا باللہ
18:08پھر انہیں پوری بات کی
18:09ہم اللہ پہ ایمان لائے
18:11حواریوں نے کہا
18:12وشہد بھی انہ مسلمون
18:14آپ گواہ ہو جائیں کہ ہم مسلمان ہیں
18:16ربنا آمننا بما انزلتا
18:19اے رب ہمیں ایمان لائے
18:20اس پر جو تُو نے نازل کیا ہے
18:22وَتَّبَعْنَ الرَّسُولِ
18:23ہم نے عیسیٰ کی پیروی کی ہے
18:25فَقْتُ بْنَا مَا شَاہِدِينَ
18:27اور
18:28تو ہمارے لئے لکھ دے
18:30گواہوں کے ساتھ ہمارا نام لکھ دے
18:33جس نے تیرے رسول کو مانا
18:35تیرے رسول نے جو گواہی دی
18:37اس دیے سے جنہوں نے دیا جلایا
18:39اس گواہی کو آگے پھیلایا
18:41تو ہم جو ہے وہ ان میں شامل ہیں
18:43تو یہ انہوں نے عرض کی
18:46آیت ففٹی فور ابھی باقی ہے
18:48لیکن وقفے کا وقت ہو گیا ہے
18:50تو ہم اگلی آیات کے ساتھ جوڑ کر
18:52اس پر بات کر لیں گے
18:53آپ ہمارے ساتھ رہیے گا
18:55وقفے کے بعد میں
18:56اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
19:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
19:11اِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيْسَا اِنِّي مُتَوَفِيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَعِرُكَ بِلَ الَّذِينَ كَفَرُوا
19:39وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَرُوا
19:50وَالَّذِينَ كَفَرُوا
19:57إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةَ
20:05ثُمَّ إِلَيَّ بَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ مَيْنَكُمْ فِي مَا كُنتُمْ فِيهِ
20:23إِذْ تَحْطَنِنُونَ
20:30فَأَمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا
20:41فَأَعَذِذِهُمْ وَأَبَهُ شَدِدَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
20:56وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ
21:11وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ
21:23وَأَمَّ الَّذِينَ آمَنُوا
21:30وَعَمِنُوا
21:32الصَّالِخَاتِ
21:36فَيُوَفَّ فِيهِمْ أُجُورَهُمْ
21:42وَاللَّهُ لَا يُحِبُ الْوَالِمِينَ
21:57ذَلِكَ نَتْنُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الْآيَاتِ
22:04وَذِكْذِ بِالْحَكِيمِ
22:10إِنَّ مَثَلَ عِيْسَاعِ
22:15مِنْدَ اللَّهِكَ مَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ
22:23وَاللَّهُ مِنْ تُرَابِذْ مِنْهُمْ
22:30فَقَالَ لَهُ كُنْ يَحْيَكُونَ
22:45الْحَقْ حَقُ مِنْ رَابِكَ فَلَاتَكُمْ بِالْمُ تَرِيمِ
23:04وَاللَّهُ مِنْ تَرِيمِ
23:13خوش آمدید سامین و ناظرین حسب معمول قاری صاحب نے بڑی خوبشورت آ آواز میں سورہ آل عمران کی آیات 55 سے لے کے 60 تک کی تلاوت کی ہے
23:23اس سے پہلے جو آخری آیت پچھلے وقفے سے پہلے رہ گئی تھی جس میں آیت نمبر 54 ہے
23:30میں نے کہا تھا کہ اس پر بھی ہم بات کر لیں گے اور اس کو ساتھ ملا لیں گے
23:34تو اس میں پھر اللہ پاک نے فرمایا وَمَكَرُ وَمَكَرَ اللَّهُ
23:37ان یہودیوں نے مکر کیا اور اللہ پاک نے ان کے مکر کا جواب دیا خفیہ تدبیر فرمائی
23:44وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ اور اللہ بہترین خفیہ تدبیر فرمانے والا ہے
23:49اور اس خفیہ تدبیر اور ان کی سازشوں کا ایک طویل باب ہے جو آپ تفاصیر میں دیکھ سکتے ہیں
23:59بڑی انہوں نے مکر کیے یہودیوں میں
24:01ایک مکر تو یہ تھا کہ وہ اپنے علماء اپنے فقہاں کو ان کے پاس بھیجتے تھے
24:06ترہ ترہ کے ان سے سوالات کرتے تھے
24:08پھر جو حضرت عیسیٰ جواب دیتے تھے ان جوابوں میں ان کو پھنسانے کی کوشش کرتے تھے
24:13کبھی ان کے خلاف مرتد کا فتوہ دیتے تھے کبھی کافر کا فتوہ دیتے تھے
24:18یہ عوامی سطح پر انہوں نے جو کرنا چاہا وہ کیا
24:21اسی طرح انہوں نے یہ بھی کیا
24:23کہ بادشاہ تک ان کی شکایتیں پہنچا دیں
24:26ظاہر ہے بادشاہ بھی پریشان ہوتا ہے کہ ایک شخص کا اتنا نام ہو رہا ہے
24:30تو کہا کہ یہ ٹیکس کے خلاف بولتے ہیں
24:34یا ٹیکس کے بارے میں انہوں نے یہ کہہ دیا
24:36آپ کے اس قانون کے خلاف انہوں نے یہ بول دیا
24:39تو حضرت عیسیٰ سازشوں میں گھرے رہے
24:41وَمَكَرُ
24:42لیکن اللہ پاک نے ان کو اپنا کلمہ بنا کے بھیجا تھا
24:46تو اپنی ہر سازش سے انہیں
24:48اللہ پاک نے محفوظ فرمایا
24:50ان کی ہر سازش کو اللہ نے ناکام کر دیا
24:52اللہ نے خفیہ تدبیر کی
24:54اور بالاخر جو انہوں نے چاہا
24:56کہ حضرت عیسیٰ کو مار ہی دیں
24:57اور سولی ہی چڑھا دیں
24:59تو اس میں بھی اللہ پاک نے خفیہ تدبیر فرمائی
25:02کہ وہ جو بندہ منافق تھا
25:04وہ گیا ہے اور اس کی شبیح بن گئی
25:07اور اس کو انہوں نے سولی چڑھا دیا
25:09تو اللہ پاک نے حضرت عیسیٰ کو آسمانوں پر اٹھا لیا
25:12زندہ حالت میں
25:13تو یہ اللہ کی خفیہ تدبیر تھی
25:15وَمَكَرُ
25:16جو اللہ پاک نے کی
25:22عیسیٰ آسمان کی طرف اٹھا لیے گئے
25:24اب یہاں سے آیتیں جو تلاوت کی گئیں
25:27آیت ففٹی فائیو میں اللہ پاک نے فرمایا
25:29اِذْ قَالَ اللَّهُ جَبْ اللَّهُ نے فرمایا
25:31یاد کرو
25:32یہ الفاظ یہاں بڑے قابل غور ہیں
25:37ایک بہت بڑی بحث ہے
25:39یہاں پر لوگ کہتے ہیں
25:40بہت سارے لوگوں نے کہا
25:41کہ حضرت عیسیٰ کی تو وفات ہو گئی تھی
25:43وہ انتقال کر گئے
25:45یہودی بھی یہی کہتے تھے
25:46تو یہودیوں کی طرز میں
25:47لوگوں نے یہ قول کیا ہے
25:49اور یہاں پر وہ یہ کہتے ہیں
25:51کہ متوفی کا
25:52دیکھو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے
25:54لفظ آیا ہے
25:54وفات کا
25:55تو یہاں پر یہ وضاحت ذہن میں رہے
25:58کہ وفا کے معنی ہوتے ہیں
26:00جیسے وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّا قرآن میں آیا ہے
26:03وفات اوفیہ کے اصل معنی ہوتے ہیں
26:05کسی چیز کو
26:06کر دینا
26:07تو اس میں
26:10وہ
26:10مجازی معنی مراد نہیں ہے
26:12وفات دینے کے انتقال کرانے کے
26:14بلکہ اس کا معنی یہ ہے
26:16کہ انی متوفی کا
26:17اے عیسیٰ
26:18میں آپ کی عمر کو پورا کرنے والا ہوں
26:22یعنی آج ہی آپ کو سولی چڑھانا چاہتے ہیں
26:24لیکن آپ کی زندگی ابھی باقی ہے
26:26آپ کے جو زندگی کے
26:29اسباب ہیں
26:30وہ اللہ مقدر فرما دے گا
26:31متوفی کا
26:33آپ کو مکمل عمر
26:34اللہ پاک عطا فرمائے گا
26:35یہ اس کے حقیقی معنی جو ہے
26:37وہ یہاں پر
26:38جو وفا کے ہیں
26:39وہ مراد لیے جائیں گے
26:41اور اس لیے بھی مراد لیے جائیں گے
26:43کہ اگر ان کی وفات ہی ہو جاتی
26:45تو پچھلی آیت میں تو کہا ہے
26:47کہ اللہ آپ کو سازشوں سے بچائے گا
26:49اور اگلی آیت میں یہ ہے
26:51کہ وہ سولی چڑھ گے
26:52تو پھر کہاں بچائے اللہ پاک نے ان کو
26:55تو اس لیے متوفی کا معنی آپ کو یہ کرنا پڑے گا
26:58کہ اللہ آپ کو عمر پوری کر دے گا آپ کی
27:01اس کا قرینہ دوسرا یہ ہے
27:03کہ اگلے ہی لفظ میں فرمایا
27:06ورافیوکا الیہ
27:07اور اللہ آپ کو اپنی طرف بلند کر لے گا
27:11اگر وفات سے مراد ہو انتقال
27:13تو پھر یہ کہنے کی ضرورت کیا ہے
27:14کہ اللہ آپ کو اپنی طرف اٹھا لے گا
27:17تو رافیوکا جو معنی ہے
27:20وہ واضح ہے
27:21کہ اللہ نے آپ کو اپنی طرف اٹھا لیا
27:23اور احادیث نے اس کی شرع کر دی
27:25اور سورہ انعام کے اندر جو ہے
27:28وہ اللہ پاک نے
27:29جو ہے وہ بڑی وضاحت کے ساتھ
27:31سورہ نساء کے آخر میں
27:33بلکہ اللہ پاک نے
27:34بڑی وضاحت کے ساتھ کہا ہے
27:35ان کو نہیں قتل کیا
27:38ان کو نہیں سولی دی
27:40بلکہ ان کی تشبیہ بنا دی گئی
27:45اور یہ بھی سورہ نساء میں
27:46بررفعہ اللہ علیہ
27:48بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے
27:50تو عیسیٰ ابن مریم
27:52واپس آئیں گے
27:53جیسا کہ حضور علیہ السلام نے بشارت دی ہے
27:56اور آپ نے کہا کہ
27:57اس امت کا کیا عالم ہوگا
28:00جس کے اول میں میں مصطفیٰ ہوں
28:02آخر میں عیسیٰ ہوں گے
28:04اور درمیان میں مہدی ہوں گے
28:06آئیں گے وہ
28:07بحیثیت نبی کے نہیں
28:09بحیثیت امتی کے
28:11یعنی جو شریعت مصطفیٰ ہے
28:13اسی کو آگے بڑھائیں گے
28:14الگ سے وہ نئی شریعت
28:16نئی کتاب لے کر نہیں آئیں گے
28:17اسی کو آگے بڑھائیں گے
28:19اس لئے اس سے ختم نبوت پر بھی فرق نہیں پڑتا ہے
28:22تو اس لئے جو ہے
28:23وہ
28:24یہاں پر اللہ پاک نے فرمایا
28:26انی متوفیقہ میں آپ کو
28:28مکمل عطا کرنے والا ہوں
28:30آپ کی عمر
28:30ورافیوکہ علیہ
28:32اور میں آپ کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں
28:34ومتحرکہ من اللذین کفرو
28:37اور آپ کو پاک کرنے والا ہوں
28:40ان لوگوں سے کفرو جنہوں نے کفر کیا ہے
28:42تو یہ جو کافر ہیں
28:43ان کی تانو تشنی سے
28:45ان کی چیزوں سے آپ ہمیشہ متحر رہیں گے
28:48ساف سترے رہیں گے
28:49وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ
28:51اور اللہ پاک بنانے والا ہے
28:53ان لوگوں کو
28:54اتتبعوکہ جنہوں نے آپ کی پہروی کی ہے
28:57فوقہ ان سے اوپر
28:59اللذین کفرو جو کافر ہیں
29:01الہ یوم القیامہ
29:02قیامت کے دن تک
29:03قرآن کریم کی آپ پیش گوئی دیکھیں
29:06اللہ کہتا ہے جو آپ کے ماننے والے ہیں
29:09یعنی عیسائی جو کہلائے
29:10وہ آپ کے دشمنوں پر ہمیشہ بلند رہیں گے
29:14کس پر؟ یہودیوں پر
29:16وَجَاعِلُ الَّا اللہ ایسا کرے گا
29:19اتتبعوکہ جو آپ کے پہروکار ہیں
29:21فوقہ وہ اوپر رہیں گے
29:23الَّذِينَ کَفَرُوا کافروں سے
29:25یہودیوں سے
29:25آپ قرآن کی پیش گوئی دیکھیں
29:28پچھلی تاریخ بھی ساری ایسے ہی ہے
29:30کہ عیسائی ان سے اونچے رہے یہودیوں سے
29:33اور آج بھی آپ دیکھ لیں
29:35کہ اسرائیل نے ریاست تو بنا لی
29:37اپنی یہودیوں نے اپنی ریاست تو بنا لی ہے
29:39لیکن پسے پشت پہ عیسائی کھڑے
29:41عیسائی ہیں تو
29:43ان کا سب کچھ قائم ہے
29:45عیسائیوں نے اگر ان کو چھوڑ دیا
29:47تو یہ بالکل زمین میں رسوہ ہو کے رہ جائیں گے
29:49سربلندی انہی کے پاس ہے
29:51اتتبعوکہ جنہوں نے پہروک کی
29:53یہ قرآن کی پیش گوئی ہے
29:54سُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ
29:57پھر میری طرف ہی تمہارا پلٹنا ہے
29:59فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِي مَا كُنْتُمْ فِي تَخْتَلِفُونَ
30:02یہ جتنے تم نے اختلافات
30:03گورک دندہ بنا لی ہے انہوں نے
30:05چونچون کا مربع بنا لی ہے انہوں نے
30:08دین کو شریعت کو
30:09ایسی ایسی چیزیں ان کے آپس کے فرقے
30:12اختلافات اور نجانے کیا کیا ہے
30:14اللہ کہتا ہے میں سب کا فیصلہ کروں گا
30:17فَأَمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَأَوَذِبْهُمْ عَذَابًا شَدیدًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
30:22اپنا قانون اللہ نے بیان کیا
30:23کہ جو کافر ہیں میں ان کو عذاب دوں گا
30:26شدید دنیا وآخِرَت میں
30:28وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ
30:29ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا
30:31وَأَمَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعْمِلُوا الصَّالِحَاتِ
30:33اور رہے جو ایمان والے ہیں
30:35اور نیک عمل کرنے والے ہیں
30:36فَيُوَفِّهِمْ عُجُورَهُمْ
30:38تو ان کو ان کا عجر مکمل عطا کروں گا
30:41وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
30:43اور اللہ ظَّالِمُونَ کو پسند نہیں فرماتا
30:45ذَلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الْآيَاتِ
30:49یہ وہ آیات ہیں جو ہم آپ پر تلاوت کرتے ہیں
30:51وَالذِكْرِ الْحَكِيمِ
30:52اور ذِكْرِ حَكِيمِ ہیں
30:53یہ تلاوت ہے
30:55یہ آپ کو بتایا گیا ہے
30:57یہ سب آپ نے اپنی طرف سے کہیں لکھا نہیں ہے
30:59اپنی طرف سے کسی بندے نے آپ کو نہیں بتایا
31:02یہ آپ کے رب نے سارے واقعات آپ کو بتائیں
31:04اب جو آیتِ کریمہ آ رہی ہے
31:07آیت ففٹی نائن
31:08یہ اس پورے مضمون کا کلائمکس ہے
31:12جس میں یہ بتایا گیا
31:13کہ حضرت عیسیٰ نشانی بن کر آئے
31:16بشارت ان کی دی گئی
31:17ان کی یہ یہ شانے تھی
31:19ان کے ساتھ لوگوں نے کیا رویہ رکھا
31:21ان کے ساتھ اللہ نے کیا
31:23ان کو کمال تک پہنچایا
31:25کس طرح انہیں آسمانوں پہ اٹھائے
31:26سب کچھ کیوں بیان کیا گیا ہے
31:28کیونکہ عیسیٰ یہ کہتے تھے
31:31کہ دیکھیں جی
31:32یہ بن باپ کے پیدا ہوئے ہیں
31:34کوئی ایسا ہے
31:35یہ بغیر باپ کے ہونا
31:38اس بات کی علامت ہے
31:39کہ یہ انسان نہیں ہیں
31:40یہ بندے نہیں ہیں
31:42یہ خدا ہیں
31:43یہ پورا مضمون اس کے رد میں آ رہا ہے
31:47تو اس رد کی جو کلائمکس کی آیت ہے
31:49وہ یہاں آ گئی
31:51جس نے پورے مضمون کو باندھیا ہے
31:54مقصد کے ساتھ
31:55کہ یہ اللہ نے کیوں بیان کیا ہے
31:57فرمایا
31:58انہ مسل عیسیٰ عند اللہ کا مسل آدم
32:01بے شک عیسیٰ کی مثال
32:03اللہ کی ہاں ایسے ہی ہے
32:04جیسے آدم کی مثال
32:06یہ بات ختم ہو گئی
32:09خلاقہو من ترابن
32:11اللہ نے ان کو بھی مٹی سے پیدا کیا
32:13ثم قال لہو کن فیقون
32:15پھر ان سے کہا کہ پیدا ہو جائیں
32:17یعنی بن جائیں
32:19خلق ہو جائیں
32:20فیقون تو وہ خلق ہو گئے
32:22تو حضرت آدم کا تو کوئی باپ نہیں تھا
32:25بلکہ یہ ایک عیسائی کے ساتھ
32:28جو ہے وہ میرا مقالمہ بھی ہوا
32:30تو اس نے کہا کہ آپ کے اپنے قرآن میں
32:32یہ لکھا ہوا ہے
32:33کہ وہ کن فیقون تھے
32:35اور ان کو اللہ پاک نے کہا ہے
32:39کہ میں نے ان کے اندر اپنی روح پھونکی تھی
32:41تو جب ان کے اندر اللہ کی روح آ گئی
32:44وہ حلول کر گئی ان کے اندر
32:46تو وہ خدا ہو گئے
32:48یہ تو آپ کے اپنے قرآن میں لکھا ہے
32:50کہ وہ اللہ کی روح تھے
32:51یہ ایک عیسائی عالم نے
32:54مجھ سے ایک دفعہ بات کرتے ہوئے کہا
32:56کہ آپ کے اپنے قرآن میں
32:58حضرت عیسیٰ کا خدا ہونا ثابت ہے
33:00تو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں
33:02کہ وہ خدا نہیں تھے
33:03اور آپ ہمارے عقیدے کے خلاف کیسے جا سکتے ہیں
33:05تو اللہ پاک نے ایک آیت میرے ذہن میں ڈال دی
33:08اس وقت
33:08جو اسی طرح یہاں پر جواب دیا گیا
33:11حضرت آدم علیہ السلام کے
33:12کہ جب اللہ پاک نے حضرت آدم کو بنایا
33:15تو ان کے لئے بھی کہا
33:16وَنَفَخْتُ فِيهِ مِرْ رُوحِ
33:18آدم میں میں نے اپنی روح پھونک دی
33:21تو اللہ اپنی روح جب پھونکتا ہے
33:23اس کا معنی یہ نہیں ہوتا
33:24کہ اللہ کا کوئی جز بندے میں حلول کر جاتا ہے
33:27اس کا مطلب یہ ہوتا ہے
33:29کہ اللہ جس کو عزت دینا چاہتا ہے
33:31اس کی نسبت اپنی طرف کر دیتا ہے
33:33یہ میری روح ہے
33:34یعنی یہ عزت والی روح ہے
33:36جیسے بیت اللہ اللہ کا گھر
33:38اللہ کا تو کوئی گھر نہیں ہے
33:40لیکن کیوں کہا
33:41اپنا گھر
33:43کہ اس گھر کو نسبت ہو جائے
33:46عزت مل جائے
33:47تو میں نے اس کے سامنے یہ آیت پڑھی
33:49کہ اگر آپ قرآن ہی کی بات کرتے ہو
33:51تو پھر قرآن قریب میں تو یہ ہے
33:52کہ اللہ نے حضرت آدم کے لئے کہا
33:54کہ میں نے اپنی روح ان میں پھونکی ہے
33:56تو اگر تم عیسیٰ کو
33:57قرآن کی روح سے خدا مانتے ہو
33:59تو آدم کو بھی خدا بنا لے
34:01تو وہ مبہوت رہ گیا
34:03پھر اس کا امولہ ہاں یہ آیت
34:06میرے جواب میں اچھی آیت پڑھی ہے
34:08تو یہ قرآن کریم نے دیکھے
34:10کتنا واضح فرمایا
34:11اِنَّا مَسَلَ عِيْسَا اِن دَ اللَّهِ كَمَسَلِ عَادَم
34:14عیسیٰ کی مثال آدم کی مثال ہے
34:17عیسیٰ خدا کی قدرت بن کر آئے تھے
34:20تم نے تو خدا ہی بنا لیا
34:22تو کتنے خدا بناوگے
34:24پھر ہوا کو بناو
34:25آدم کو بناو
34:26ان کو تو بڑا خدا بناو
34:29کہ وہ تو ماں کے بھی بغیر پیدا ہوئے
34:32وہ تو کن فی اکون کا اور مکمل مظہر ہیں وہ تو
34:37من ترابن مٹی سے بنایا
34:40اور کہا کہ ہو جا
34:41پیدا ہو گئے
34:43اَلْحَقُّ مِنْ رَبِّكْ اے سننے والے
34:47اپنے نہ گھڑ
34:49اپنی چیزیں نہ بنا
34:52حق تیرے رب کی جانب سے ہے
34:54اَلْحَقُّ مِنْ رَبِّكْ فَلَا تَكُمْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ
34:59تو تو شک کرنے والوں میں سے مت بن
35:01اللہ اپنے بندے کو سمجھا رہا ہے
35:03آج حضرت آدم کی تخلیق پہ
35:06کیسے حضرت آدم پہلے انسان ہو گئے
35:08اس وقت کون سی لینگویج بولی جاتی تھی
35:10اس وقت کیا ہوتا تھا نہ پتہ نہیں
35:12کیا الٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں لوگ
35:15اللہ اپنے بندوں کو سمجھا رہا ہے
35:17کہ اللہ ہی نے پیدا کیا ہے سب کو
35:20یہ بندروں سے شروع نہیں ہوئے
35:22یہ آدم سے شروع ہوئے
35:25تو اللہ کی قدرت کو مان
35:28ہر چیز میں خدا کا جلوہ ہے
35:31یہ سمندر کوئی بنا سکتا ہے
35:33یہ پہاڑ کوئی بنا سکتا ہے
35:35یہ چاند کوئی بنا سکتا ہے
35:37یہ سورج کوئی بنا سکتا ہے
35:39یہ اللہ ہی نے بنائے ہیں
35:41عیسائیو تم بھی
35:43راہ پہ آجاؤ
35:44ملہدو تم بھی راہ پہ آجاؤ
35:47شک نہ کرو
35:48ایک وقت آئے گا کہ ساری چیزیں آیا ہو جائیں گی تم پہ
35:51امتحان میں ہو
35:53اپنے امتحان کی طرف توجہ دو
35:55تو یہ مضمون یہاں ایک طرح سے مکمل ہوا
35:57جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بندہ ہونے
36:00اور
36:01مخلوق ہونے
36:03خدا نہ ہونے پر اللہ پاک نے اس کو یہاں پہ بیان کیا
36:06پروگرام کا وقت بھی ختم ہو گیا
36:09پھر آپ کے سامنے حاضر ہوں گے
36:11اپنا خیال رکھئے گا
36:13اللہ حافظ و ناصر
Be the first to comment