Skip to playerSkip to main content
  • 1 day ago
Muamma Ep 28 & 29 Promo Breakdown | Part 2 | Muamma Ep 28 Teaser | Hum Tv Drama Review

Category

😹
Fun
Transcript
00:00جہارہ جیل کی سلاکھوں کے پاس کھڑی سرمت کی طرف نفرت سے دیکھتی ہے اور غرچ کر کہتی ہے کہ
00:06تم اب ساری زندگی یہی رہو گے میں تمہیں پھانسی دلواؤں گی اور تمہاری لاش ہی یہاں سے باہر جائے
00:11گی
00:11یہ کہہ کر وہ وہاں سے نکلتی ہے اور سیدھا گھر پہنچ کر اپنی ملازمہ آسیا کو حکم دیتی ہے
00:17کہ شاہ جہان کے فریج سے سارا کھانا نکال کر میرے پورشن میں رکھ دو
00:21جب شاہ جہان تھکا ہارا گھر آتا ہے اور اپنا فریج بلکل خالی دیکھتا ہے تو اس کے ہوش اڑ
00:26جاتے ہیں وہ غصے میں سیدھا جہارہ کے دروازے پر پہنچتا ہے اور چلاتا ہے کہ آپ کی جرت کیسے
00:32ہوئی میرا کھانا اٹھوانے کی
00:33لیکن جہارہ مکاری سے مسکراتی ہے اور اس کے قریب آ کر کہتی ہے کہ میں جس سے محبت کروں
00:39اس کی ساری چیزیں میری ہوتی ہیں تم پر صرف میرا حق ہے
00:42شاہ جہان اس کی ان میٹھی اور زہریلی باتوں میں آ کر اچانک اس کی محبت میں مائل ہونے لگتا
00:48ہے اور چپ چاپ وہاں سے چلا جاتا ہے
00:50لیکن کہانی میں اصلی ٹویسٹ تب آتا ہے جب اگلے دن شاہ جہان آفیس جا رہا ہوتا ہے راستے میں
00:55اچانک جنید اس کی گاڑی روک لیتا ہے
00:57جنید روتے ہوئے شاہ جہان کو جہارہ کی ساری حقیقت بتا دیتا ہے وہ کہتا ہے کہ شاہ جہان بھائی
01:03اس عورت سے بچ جاؤ اس نے میرا اور مائرہ کا ہستہ کھیلتا گھر بھر بات کیا ہے یہ کپلز
01:08کا طلاق کروا کر خوشی محسوس کرتی ہے
01:11جنید کی باتیں سن کر شاہ جہان کے ہوش اڑ جاتے ہیں اس کی آنکھوں پر بندھی جہارہ کی محبت
01:16کی پٹی اسی وقت کھل جاتی ہے
01:18شاہ جہان غصے میں آگ ببولہ ہو کر گھر واپس پلٹتا ہے جیسے ہی وہ جہارہ کے کمرے کے پاس
01:23پہنچتا ہے وہ پیچھے سے جہارہ اور آسیا کی باتیں سن لیتا ہے
01:27جہارہ ہس ہس کر بتا رہی ہوتی ہے کہ اس نے آئیزہ کی گاڑی کے بریکس فیل کروا دیے ہیں
01:32اور اب آئیزہ زندہ نہیں بچے گی
01:34یہ خوفناک سچ سن کر شاہ جہان کے پیروں تلے زمین نکل جاتی ہے وہ پاگلوں کی طرح آئیزہ کو
01:39کال کرتا ہے
01:40مگر تب ہی اسے ایک انجان نمبر سے کال آتی ہے کہ آئیزہ کا بہت بھائیانک ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے
01:45شاہ جہان بھاگتا ہوا ہسپٹل پہنچتا ہے جہاں آئیزہ خون میں لطپتھ آپریشن تھییٹر میں ہوتی ہے
01:51تب ہی ڈاکٹر باہر آتا ہے اور کہتا ہے کہ ان کی حالت بہت نازک ہے ان کا بہت خون
01:56بہ چکا ہے
01:57آپریشن کے لیے فوراں پانچ لاکھ روپے اور خون کا انتظام کریں ورنہ ہم انہیں نہیں بچا پائیں گے
02:03ایک طرف جہارہ اپنے گھر میں آئیزہ کی موت کا جشن منا رہی ہوتی ہے تو دوسری طرف شاہ جہان
02:08ہوسپٹل کے فرش پر گر کر رو رہا ہوتا ہے
02:10یہ غم اور خوشی کا منظر بہت ہی رولانے والا ہوتا ہے
02:14اچانک جنید وہاں فرشتہ بن کر پہنچتا ہے اور آپریشن کے پیسے جمع کروا دیتا ہے آئیزہ کی جان بچ
02:20جاتی ہے
02:20جیسے ہی آئیزہ ہوش میں آتی ہے شاہ جہان قسم کھاتا ہے کہ وہ جہارہ کو نہیں چھوڑے گا
02:25اسی وقت شاہ جہان پولیس کو لے کر جہارہ کے بھار پہنچتا ہے جو جہارہ اپنی جیت کے نشے میں
02:30چور ہوتی ہے پولیس کو سامنے دیکھ کر اس کے ہوش اڑ جاتے ہیں
02:34شاہ جہان سب کے سامنے اس کی مکاری کا پردہ فاش کرتا ہے
02:37اپنی ساری چالیں الٹی پڑتی دیکھ اور پولیس کی ہتکڑیاں دیکھ کر جہارہ پر اتنا شدید خوف تاری ہوتا ہے
02:44کہ وہ چکر کھا کر وہیں زمین پر بے ہوش ہو جاتی ہے
02:47پولیس بے ہوش جہارہ کو گھسیٹتے ہوئے گاڑی میں ڈال کر لے جاتی ہے جہاں اب اسے ساری زندگی سرمد
02:53کے ساتھ جیل کی ہوا کھانی پڑے گی
02:55شاہ جہان اور آئیزہ ایک دوسرے کے گلے لگ کر روتے ہیں اور ہمیشہ کے لیے اس منحوس گھر کو
03:00چھوڑ
Comments

Recommended