00:00زلفگاہ شاہ نور کو بتا دیتا ہے کہ تم سلار کے بچے کی ماں بننے والی ہو
00:03نور جب یہ سنتی ہے تو اس کے ہوش اڑیاتے ہیں وہ چیکتے ہوئے کہتی ہے
00:06اس پر وہ کہتی ہے نہیں یہ ممکن نہیں یہ سرسر جھوٹ ہے
00:08تب ہی ماری اچانا زلفگاہ کے گھر پہ پہنچ جاتی ہے وہ نور کو دیکھتے ہوئے چیکتے ہوئے کہتی ہے
00:12جس کے بعد وہ افتقار سے کہتی ہے اب میرا یہاں پہ کوئی بھی کام نہیں ہے
00:15جس کے بعد وہ نور سے بلہ لینے کے لیے سلار کے پاس پہنچتی ہے اور اسے اکساتی ہے
00:19کہ تم کیسے مردوں نور تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہو تم ہاتھ پہ ہاتھ درے بیٹھے ہو
00:23اس کے بعد سلار نور کو کال کرتا ہے جھوٹ کا جال بنتے ہوئے کہتا ہے
00:26اور اروشمہ گھر آنے کے لیے مانی نہیں رہی پلیس تم گھر آ کر اسے منا لو
00:29اس کے بعد نور سلار کی باتوں میں آ جاتی ہے اور اس سے ملے ریسٹورنٹ چلی جاتی ہے
00:32اس کے بعد سلار نور سے جھوٹ بولتا ہے وہ اروشمہ کی گھڑی آ رہے ہیں
00:35لیکن بوس یہ ماریہ کا سب سے بڑا پلین تھا
00:37وہ پیچھے سے گھڑی ہو کے سلار اور نور کی ساتھ ایک سا تصویریں کھیچ لیتی ہے
00:41جس کے بعد وہ توراں زرفیگار شاہ کو بھیج دیتی ہے
00:43یہ دیکھنے کے بعد زرفیگار شاہ کو اپنی آنکھوں بھی یقین ہی نہیں آتا
00:46جس کے بعد نور جیسی گھر لوٹتی ہے تو زرفیگار اس پر برس پڑتا ہے
00:49میں مجھے دھوکہ دیا تم میری اجازت کے بغیر سلار سے ملنے کیوں کہیں
00:52جس کے بعد وہ نور کو ماریہ کی بیجیوی تصویریں دکھاتا ہیں
00:55یہ دیکھنے کے بعد نور روتے ہوئے کہتی یقین کریں
00:57اس نے مجھے دھوکے سے بلائے تھا
00:58افتقار شاہ بھی کمرے میں آتا اور چلاکتا ہے
01:00وہ ابھی اسی وقت اسے تلاق دو اور اپنے گھر سے لکال دو
01:03جس کے بعد زرفیگار جیسی گھسے میں آگر نور کو تلاق دینے لگتا ہے
01:06یہ دیکھنے کے بعد نور اچانک بیوچ ہو کر وہیں گڑی آتی ہے
01:09اس کے بعد زرفیگار اسے توراں ہسپیٹی لے کے جاتا ہے
01:11وہاں ڈاکٹر نور کو چیک کرتے ہیں تو بتاتے ہیں انہیں ایسی دوائیاں دی جارہی ہیں
01:15کیونکہ انہیں ذہنی طور پر بیمار کر دیں گی
01:17جس کے بعد زرفیگار شاہ حیران ہوگا
01:18دکٹر سے پوچھتا ہے کیا نور سچ میں ماں بننے والی ہیں
01:20جس پر دکٹر کہتی ہیں آپ کو کس میں کہاں ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے
01:23نور کوئی ماں بننے والی نہیں ہے
01:25گلت دوائیوں کی وجہ سے ان کی طبیعت بگڑی ہے
01:27یہ سننے کے بعد زرفیگار فوراں نور کو لے کر
01:29اس لیڈی ڈاکٹر کے پاس پوچھتا ہے
01:30جس ڈاکٹر نے افتگاہ شاہ کے کہنے پر جھوٹی ریپورٹیں بنائی تھی
01:33اس کے بعد نور حقیقت جاننے کے بعد
01:35اس ڈاکٹر کے پاس جاتی ہے اور گسے میں اس کے موں پر
01:36ایک زور دہ چمار ٹیسیف کر دیتی ہے
01:38جس کے ماں ڈاکٹر روتے ہوئے معافی مانگتی ہے
01:40اور کہتی ہے زرفیگار مجھے معاف کر دو
01:42افتگاہ شاہ نے یہ پیسے دے کر جھوٹ بولنے کیلئے کہا تھا
01:45جس کے ماں زرفیگار شاہ اسی بعد
01:46اسے پولیس کے حوالے کر دیتا ہی
01:48کہ زرفیگار کو اس کے خاص بندے شیریار کی کول آتی ہے
01:50کہ سلار نے برسوں پہلے ندہ نامی لڑکی کا مدر کیا تھا
01:53اور اس کے ہمیں سارے ثبوت بھی مل گئے ہیں
01:55جس کے ماں زرفیگار شاہ یہ دیکھنے کے بعد
01:57تورا نروشمہ کی گھر پہ پہنچتا ہی
01:58جس کے ماں وہ اسے سلار کی ساری کالی کرتوتیں دکھاتا ہی
02:01اس کے بعد نروشمہ کے سامنے جب یہ حقیقت آتی ہے
02:03تو وہ سلار کو چھوڑ دینے کا فیصل کر لیتی ہے
02:05وہ اسے تلاق لے کر چلی جاتی ہے
02:07جس کے بعد زرفیگار گھر پہنچتا تو
02:09افتگاہ شاہ سے کہتا ہے آپ نے میری اور نور کے ساتھ
02:11بلکت سئی نہیں کیا
02:11تبھی وہ گسے میں آ کر
02:13افتگاہ شاہ کا گڑے بان پکڑ لیتا ہے
02:15تبھی پیچھے سے پولیس آ جاتی ہے
02:16اور بتاتی ہے افتگاہ شاہ بہت سے ان لیگل کاموں میں شامل ہے
02:19جس کے بعد زرفیگار شاہ اپنے ظالم باپ کو
02:20خود ہتکڑی لگوا کے جیل بیج دیتا ہے
02:22پارے دشمنوں کے صفائے کے بعد
02:24زرفیگار نور کو ہور کے کمرے میں لے کے جاتا ہے
02:26تبھی نور ہور کی تصریریں دیکھتی ہے تو رونے لگ جاتی ہیں
02:29اس کے بعد وہ زرفیگار شاہ سے کہتی ہے
02:30یہ تو میری جڑوہ بہن ہے
02:31تبھی زرفیگار شاہ کی امی آتی ہیں اور زرفیگار شاہ سے کہتی ہیں
02:34بیٹا تم دونوں نے بہت سے مشکلے جہنی
02:36اب تم نور کو ہنیمون کے لیے اسلام آباد لے جاؤں
02:38اس کے بعد اگلے دیز زرفیگار شاہ ٹکٹیں بک کروا لیتا ہے
02:41اس کے بعد وہ نور کو لے کر اسلام آباد کے ایک شاندار ہوتن میں پہنچ جاتا ہے
02:44اس کے بعد وہ لوگ وہاں پہنچ کر ساری رات محبت بڑی باتیں کرتے ہیں
02:47لیکن اچانک اگلے دن نور کی تبیہ پھر سے کافی زیادہ خراب ہو جاتی ہیں
02:50اس کے بعد زرفیگار گھبراتا وہ اسے ہسپیلی لے کے بھاگتا ہے
02:53وہ دوستوں کیا نور از سچ میں ماں بننے والی ہیں
02:55مجھے تو یہی لگ رہا ہے اس وقت زرفیگار شاہ کو خوشکبری ضرور ملے گی
Comments