Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Ishq Mein Tere Sadqay Epi 29 & 30 | (Part 2) | Story Breakdown & Twist Exposed | Geo Tv Drama

Category

😹
Fun
Transcript
00:00زلفیگار شاہ جیسی آفیس سے باہر آتا ہے تو اس کا ایکسیڈن ہو جاتا ہے
00:03کیونکہ ماریہ اس کے آفیس میں آگے اسے ذہنی توپ اتنا ٹوچر کرتی ہے
00:06یہ اس کے ہوش اڑیا تھے کیونکہ ماریہ اسے تانہ مارتے ہوئے کہتی ہے
00:09زلفیگار مجھے جانتا ہے یاد ہے تمہیں جس چیز میں کوئی کمی دیکھتی تھی
00:12تمہیں اسے ہمیشہ کیلئے اپنے سے جدہ کر دیتے تھے
00:14لیکن اب تو تمہیں نور سے شادی تو کر لی لیکن اب وہ ماں بھی بننے والی ہیں
00:18یہ خوفناک سوچوں میں اور گصے میں جیسی زلفیگار شاہ آفیس سے باہر نکلتا ہے
00:22یہ اچانک ایک تیف رفتار گاڑی سے اس کا اچانک ایکسیڈن ہو جاتا ہے
00:25جس کے بعد زلفیگار کھون میں لطبت ہو کر زمین پر گری آتا ہے
00:28جس کے بعد کچھ لوگ فوراں اسے اٹھا کے ہسپیٹی لے کے جاتے ہیں
00:30اس کے بعد جیسی یہ خوفناک خبر افتقار شاہ کو ملتی ہے
00:33جس کے بعد وہ اپنی بیوی کے ساتھ گھبر آتا وہ ہسپیٹیل پہنچتا ہے
00:36وہاں پہنچ کر ڈاکٹر انہیں بتاتے ہیں
00:38زلفیگار شاہ کی حالت بہت خراب ہے
00:39جنہیں میں نور بھی روتی بھی وہاں پر آ جاتی ہے
00:41جس کے بعد افتقار نور کو دیکھتا ہے تو آپ بھگولہ ہو جاتے چیکٹے پر کہتا ہے
00:45نور یہ سب کچھ تمہاری منوسیت کی وجہ سے ہوا ہے
00:47یہ سننے کے بعد نور رونے لگتی ہے اور اسی وقت ہسپیٹیل کے کونے میں
00:50جہاں نماز بچھا کر زلفیگار شاہ کے لئے دعائیں مانگنے لگتی ہے
00:53کہ تھی یا اللہ زلفیگار شاہ کی زندگی بچ جائیں
00:56یہی میرا واحد آسرہ بچا ہے
00:58یہ نور کی دعائیں قبول ہو جاتی ہیں
00:59تھوڑی دیر میں ڈاکٹر آپ بہار آ کے بتاتے ہیں
01:01پیشن کی جان بچ گئی ہے
01:02لیکن اب وہ کچھ مہینوں کے لئے بیٹ ریس پر لیں گے
01:04اور وہ خود سے چل بھی نہیں پائیں گے
01:06دوسی طرح سنا بخنائے وہاں گھر پہ آتا ہے
01:08مرتوزہ سے کہتا ہے
01:09روشمہ نے میرے ساتھ آنے سے صاف انکار کر دیا ہے
01:12وہ کہہ رہی ہے جب تک موم میرے ساتھ اسے لینے نہیں آئے گی
01:14جب تک وہ اس گھر میں نہیں آئے گی
01:16یہ سننے کے بعد انجم پہلے تو جانے سے صاف انکار کر دیتی ہیں
01:18لیکن مرتوزہ کے فورس کرنے پر مجبورت میں جانا پڑتا ہے
01:21جس کے بعد وہاں پہنچ کر روشمہ کی امپی ایک خوفناک شرط رکھ دیتی ہیں
01:24جس کے بعد وہ انجم سے کہتی ہیں
01:26اگر روشمہ یہاں سے جائے گی تو سلال کو ساری پروپٹی میری بیٹی کے نام کرنی ہوگی
01:30یہ سننے کے بعد انجم کہتی ہیں
01:31یہ بات آپ اچھے سے ٹھان لیں میرے جیتے جیتے یہ ممکن نہیں ہے
01:34میں اپنی جائدہ کسی کے کہنے پر یوں باتتی نہیں رہوں گی
01:37سننے کے بعد روشمہ کی امی کہتی ہیں
01:39ٹھیک ہے پھر میری بیٹی بھی میرے گھر پر بوش رہی ہے
01:41ادھر ہسپیل میں جیسی زرفیقہ شاہ کو ہوش آتا ہے
01:44تو نور دوڑتی بھی اس کے پانچ جاتی ہے
01:45کے بعد نور اس کو بہے پناہ خیال لگتی ہے
01:47جب وہ کچھ بھی نہیں کھاتا تو نور اپنے ہاتھوں سے اسے سوٹ پلاتی ہے
01:50تب ہی نور ڈاکٹر کے پانچ جا کر ماں بننے والی بات بھی کنفرم کر لیتی ہے
01:53وہ ڈاکٹر بتاتی ہے ایسا کچھ بھی نہیں ہے
01:55لیکن نور یہ بات ابھی زرفیقہ شاہ کو نہیں بتاتی
01:57تب ہی زرفیقہ شاہ کی حالت بہتر ہوتی ہے
01:59تو ڈاکٹر زرفیقہ شاہ کو ڈسٹراج کر دیتے ہیں
02:01جس کے بعد نور زرفیقہ شاہ کو کندے کا سہارہ دے کر گھڑ کے اندر لے کے آتی ہے
02:05کے بعد ماریے کو جب یہ خبر ملتی ہے
02:07زرفیقہ اب صحیح سے چل بھی نہیں پاتا
02:09کے بعد وہ اپنی مطلبی فترس سے
02:10زرفیقہ کو پانی کا جنون اپنے دل سے لگان دیتی ہے
02:13دوسری طرح سلاہ کا بھی مقافات عمل کر میں شروع ہو جاتا ہے
02:16اڑشوہ کے چھو جانے کے گھم میں وہ رات کو شدید نشے میں گھم گھڑ پہ آتا ہے
02:20کہ وہ نشے کی حالت میں انجوم کے سامنے سارا سار جگل دیتا ہے
02:23ہاں موم میں نے ہی نور کے ساتھ ظلم کیا تھا
02:26اور میں نے ہی اس پر جھوٹے انظام لگائے تھے
02:27کہ بیانک سر سننے کے بعد انجوم کو تو اپنی آنوں پر یقین ہی نہیں آتا
02:31اس کے بعد وہ روتی میں مرتضی سے کہتی ہے
02:32مرتضی آپ تو کہہ رہے تھے
02:33سلاہ بہت اچھا انسانے ہم سے گلتی ہو گئی ہے
02:36نور تو بلکل صحیح تھی
02:37یقیناً ہماری ہی تربیت میں بہت بڑی کمی رہ گئی تھی
02:39یہ زلفگار کی طبیہ کافی زیادہ بہتر ہو جاتی ہے
02:42جس کے بعد نور کو بھی اس سے بے پناہ محبت ہو جاتی ہے
02:44اچھانک زلفگار جب ریپورٹے دیکھتا ہے
02:46نور کی ماں بننے والی بات ہنڈر پرسنٹ فیک تھی
02:49اور اس کے پیچھے کسی اور کا نیا ہاتھ نہیں
02:50بلکہ فکار شاہ کا آتا ہے
02:52جس کے بعد وہ اپنے باپ پہ برس پڑتا ہے
02:53جس سے ہفتگار اس سے روتے میں معافی مانگتا ہے
02:56اور کہتا ہے بیٹا مجھے معاف کر دے
02:57ایک حالی ماریہ کی باپ سے
Comments

Recommended