00:00سندری صاف لفظوں میں غلام سے کہتی ہے کہ بادشاہ اس سے بے انتہا محبت کرتا ہے
00:05جس پر غلام اپنی بیبسی ظاہر کرتے ہوئے سمجھاتا ہے
00:08سندری دیکھو میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے
00:11بادشاہ ایک امیر نواب ہے وہ تمہیں ساری زندگی خوش رکھے گا
00:14تم اسی سے شادی کر لو لیکن سندری اپنے فیصلے پر اٹل رہتی ہے اور کہتی ہے
00:18میں صرف تم سے محبت کرتی ہوں اور میری شادی صرف تم سے ہی ہوگی
00:22سندری کی یہ باتیں سن کر غلام اپنی امی لاجو کے پاس آتا ہے
00:25لاجو اسے سخت ہدایت دیتی ہے بیٹا بادشاہ کے ساتھ غداری مت کرنا
00:29دھوکہ دینا تمہاری فطرت میں نہیں ہے
00:31لیکن غلام اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی پکی دوستی کو درکنار کرتے ہوئے
00:36سندری سے نکاح کرنے کے لیے راضی ہو جاتا ہے
00:38اگلے دن لاجو امہ خرشید بی بی کے پاس جاتی ہیں
00:41اور انہیں بتاتی ہیں کہ وہ اپنے غلام کی شادی
00:44ایک بلکل بے سہارا اور یتیم لڑکی سے کروا رہی ہیں
00:47جس پر خرشید ہامی بھرتے ہوئے کہتی ہیں
00:49یہ تو بہت سواب کا کام ہے
00:50داجی بھی اس سادگی بھری شادی کے لیے مان جاتے ہیں
00:53اتفاق سے اگلے دن بادشاہ کسی ضروری کام سے شہر گیا ہوتا ہے
00:56غلام اسی موقع کا فائدہ اٹھا کر
00:59سندری سے نکاح کی رسمیں شروع کر دیتا ہے
01:01مولوی صاحب آ جاتے ہیں
01:02اور خود خرشید سندری کو دلہن کے لباس میں تیار کر کے لاتی ہیں
01:06نکاح کی محفل سچ چکی ہے
01:08مولوی صاحب ان دونوں سے پوچھتے ہیں
01:10کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے
01:11سندری بس قبول ہے کہنے ہی والی ہوتی ہے
01:14کہ اچانک دروازے پر بادشاہ آ کھڑا ہوتا ہے
01:17اپنی بے پناہ محبت کو اپنے ہی یار کے ساتھ
01:20بادشاہ غصے سے پاگل ہو جاتا ہے
01:22وہ فوراں آگے بڑھتا ہے
01:23اور غلام کا گریبان دبوچ کر دہارتا ہے
01:26تم نے میرے ساتھ غداری کی ہے
01:27اس کی تمہیں بھیانک سزا ملے گی
01:29اس کے بعد وہ اپنے گنڈوں کو حکم دیتا ہے
01:31کہ غلام کو مار مار کر ادھمرا کر دو
01:34یہ ظلم دیکھ کر سندری چیختے ہوئے
01:36بادشاہ کے سامنے ڈھال بن کر کھڑی ہو جاتی ہے
01:39اور کہتی ہے
01:39بادشاہ سندری صرف غلام کی ہے
01:42یہ کڑوا سچ سن کر
01:43بادشاہ اپنا آپا کھو بیٹھتا ہے
01:45وہ اپنے بندوں سے کہہ کر
01:47غلام کو رسیوں سے جکڑوا کر
01:49ایک اندھیرے کمرے میں قید کروا دیتا ہے
01:51اور سندری کا ہاتھ پکڑ کر
01:53زبردستی اسے اپنے کمرے میں لے جا کر
01:55بند کر دیتا ہے
01:55اگلی صبح سندری کسی طرح بادشاہ کے چنگل سے
01:58نکل کر بھاگنے کی کوشش کرتی ہے
02:00لیکن وہ زیادہ دور نہیں جا پاتی
02:02دوسری طرف رسیوں میں بدھے غلام کو
02:05بھنک لگ جاتی ہے
02:05کہ بادشاہ سندری سے زبردستی نکاح کرنے والا ہے
02:08یہ سنتے ہی غلام کے اندر
02:10ایک نئی طاقت آ جاتی ہے
02:12وہ اپنی رسیاں توڑتا ہے
02:13گنڈوں کی زبردست دھنائی کرتا ہے
02:15اور وہاں پہنچ جاتا ہے
02:17سندری غلام کو دیکھتے ہی بھاگ کر
02:19اس کے پیچھے چھک جاتی ہے
02:20تب ہی بادشاہ اپنی جیب سے پسٹول نکالتا ہے
02:23اور بنا سوچے سمجھے غلام پر فائر کر دیتا ہے
02:26گولی چلتے ہی بادشاہ کو
02:27اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے
02:29کہ اس نے اپنے بھائی جیسے یار کی جان لے لی
02:31وہ تڑپ اٹھتا ہے
02:32اور فوراں اسے اٹھا کر ہسپٹل لے جاتا ہے
02:35کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر باہر آ کر بتاتے ہیں
02:37ہم نے گولی نکال دی ہے
02:38پیشنٹ خطرے سے باہر ہے
02:40یہ سن کر سندری غلام کے پاس جاتی ہے
02:42بادشاہ بھی وہاں آ کر روتے ہوئے کہتا ہے
02:45یار مجھے ماف کر دے
02:46جب بادشاہ سندری کو صحیح سلامت
02:49حویلی واپس لاتا ہے
02:50تو خرشید اس سے پوچھتی ہے
02:52بیٹا تمہارے اببو کا کیا نام تھا
02:54وہ جواب دیتی ہے
02:55آشک علی
02:56یہ نام سنتے ہی خرشید جذباتی ہو کر
02:59اسے اپنے سینے سے لگا لیتی ہے
03:00اور کہتی ہے
03:01تم تو میری سگی بیٹی ہو
03:03تو دوستوں آپ کو کیا لگتا ہے
03:04سندری کی شادی اب بادشاہ سے ہونی چاہیے
03:07یا غلام سے
03:07مجھے تو یہی لگتا ہے
03:09کہ آخر میں سندری اور غلام