00:00غلام سندری سے شادی کرنے کے لیے اسے محفوظ رکھنے کے لیے
00:02جس کے بعد وہ اسے اپنی امی لاجوں کے گھر لے آتا ہے
00:05جس کے بعد اجانہ خرشید ان کے پاس آتی ہے
00:07اور سندری کو دیکھتے ہوئے پوچھتی ہے
00:09غلام آخر کون ہے یہ لڑکی جس پر سندری روتی ہوئے اپنی داستان بتاتی ہے
00:12میرا اس دنیا میں کوئی بھی نہیں ہے
00:14بس میرے ایک ابوت ہے آشیگلی
00:15وہ بھی مجھے کچھ ٹائم پہلے چھوکے چلے گا جب سے غلام میرا خیال رکھ رہا ہے
00:19آشیگلی کا نام سننے کے بعد خرشید کے پیرو تلے سے زمین نکل جاتی ہے
00:22اس کے بعد وہ سندری کو اپنے گلے لگا لے دی اور روتے بے کہتی ہے تم تو میری بیٹی
00:26ہو
00:26لیکن جس پر غلام اسے خوفنا حقیقت بتاتا ہے
00:28یہ دا جی نے سرک منع کیا ہے کہ سندری کو کسی بھی حال میں حویلی میں نہیں لانا
00:32دوسری طرح باشا کام کے سلسلے میں شہر سے بھار کراچی گئیوہ ہوتا ہے
00:36اور خوشید غلام اور سندری کی شادی کرواتی ہیں جس کے بعد غلام سندری کو نکل کے لیے اس کے
00:41کمڑے سے لے کر آتا ہے
00:42لیکن جیسے ہی مولوی صاحب ان دونوں کا نکل شروع کرنے لگتے ہیں
00:45وہ آندھی کی رفتار سے باشا بھی وہاں پہ آ جاتا ہے
00:47اپنی ہی محبت کو غلام کے ساتھ نکل کے جوڑے میں دے کر آگ بھگولہ ہو جاتا ہے
00:51جس پر وہ غلام سے کہتا ہے غلام تم نے یہ میرے ساتھ اچھا نہیں کیا
00:54جس کے بعد وہ آگے پر تھا وہ سندری کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے زبردستی لے جانے لگتا ہے
00:58لیکن وہاں غلام بیچ میں آ جاتا ہے وہ باشا کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے
01:01جس کے بعد باشا غصے میں آگر غلام کا گریبان پکڑ لیتا ہے وہ غصے میں آگر اپنے بندوں سے
01:05کہہ کر
01:05جس کے بعد وہ غلام کی خوب مار لگواتا ہے
01:07وہ سندری کے پاس آ کر سندری سے کہتا ہے سندری تم میری محبت ہو تم میرے سے شادی کرو
01:11گی
01:11لیکن سندری سب کے سامنے باشا سے چلاتے ہوئے کہتی ہے سندری صرف گلام کی ہے
01:15یہ سننے کے بعد خوشیت اپنی بیٹی کی حفاظت کے لیے آگے بڑھتی ہے
01:18جس کے بعد وہ باشا کو کس کے پکڑ لیتی ہے اور گلام سے چلاتے ہوئے کہتی ہے
01:22بیٹا ہے تم سندری کو لے کر یہاں سے بھاگ جاؤں
01:24جس کے بعد فوراں سندری کو گلام اپنی گاڑی میں بٹھاتا ہے اور شیر سے دور لے جاتا ہے
01:28یہ دیکھنے کے بعد باشا پاگل ہو جاتا ہے
01:30جس کے بعد وہ اپنی پاور کا استعمال کرتے ہوئے اپنے بندوں کو بھی اس کے پیچھے لگا دیتا ہے
01:34جس کے بعد گنڈے گلام اور سندری کو راستے میں پکڑ لیتے ہیں ان کی گاڑی کو
01:38جس کے بعد باشا کا ایک بندہ پیچھے سے انگر گلام کے سر پر ایک زوردہ ڈنڈا مارتا ہے
01:42جس کے بعد گلام وہی لوہوں لوہان ہو کر بھی ہوش ہو جاتا ہے
01:45جس کے بعد گنڈے اسے کوارٹر میں لے جا کے رسیوں سے بان دیتے ہیں
01:48جس کے بعد گنڈے باشا کو یہ خبر دیتے ہیں کہ ہم نے گلام اور سندری کو پکڑ لیا ہے
01:51تب بھی باشا سندری کے پاس آتا ہے اور اس سے کہتا ہے
01:54تو یہ اگر تم نے آج مجھ سے شادی نہ کری تو یہ گلام اپنی جان سے جائے گا
01:57اس کی ذمہ دار سے تم ہوگی
01:59جس کے بعد باشا اپنی گاڑی میں سندری کو دال کر اپنے دوسرے گھر پاماؤس میں لے کے جاتا ہے
02:03جس کے بعد وہ وہاں سندری سے نگاہ کرنے کے لیے مولوی صاحب کو بھی بلا لیتا ہے
02:07پہر ویرانے کمرے میں گلام کو جب ہوش آتا ہے تو وہ سندری کو بچانے کے لیے شیڑ بن جاتا
02:11ہے
02:11اس کے بعد وہ اپنی رسیاں توڑتا ہے اور باشا کے گنڈوں کے خوب پٹائی لگا کے
02:14جس کے بعد وہ باشا کو ڈھوننے لگلتا ہے
02:16جس کے بعد وہ باشا کو ڈھونتے وہ اس گھر تک پوچ جاتا ہے تو دیکھتا ہے
02:19باشا زبردستی سندری سے نگاہ کر رہے ہیں
02:22اس کے بعد سندری جیسی گلام کو دیکھتی ہے وہ بھاگتے ہوئے گلام کے پاس جاتی ہے
02:25اور ڈڑ کے اس کے پیچھے چھپ جاتی ہے
02:27یہ دیکھنے کے بعد باشا اپنی گنڈ نکال لیتا ہے وہ گلام پر چلانے لگتا ہے
02:30لیکن یہاں پر گلام بھی سندری کی محبت کے خاطر اپنی گنڈ نکال کے باشا پر چلا دیتا ہے
02:34جس کے بعد گولی سیدھی جا کر باشا کے بازو پر لگتی ہے
02:37گولی چلانے کے بعد گلام خود زیادہ حیران اور پریشان ہو جاتا ہے کہ اس نے یہ کیا کر دیا
02:41اس نے اپنے دور جیسے بھائی پر گولی چلا دی
02:43اس کے بعد اس کا دل بھی پگل جاتا ہے وہ باشا کو فوراں اٹھاتا ہے وہ آسپیٹل لے کے
02:47جاتا ہے
02:47آسپیٹل میں باشا کی حالت کافی کرٹیکل ہوتی ہے لیکن گلام جو کہ خود ایک ڈاکٹر ہے
02:51اس کے بعد وہ خود اس کا علاج کرتا ہے وہ اپریشن کر کے گولی رکال لیتا ہے
02:55پھر جب باشا کو ہوش آتا ہے تو گلام روتا وہ اس کے پاس آ کر اسے معافی مانتا ہے
02:58اس کے بعد باشا کو بھی اپنی گلتی اور گلام بھی سچی محبت کا احساس ہو جاتا ہے
03:02اس طرح وہ مسکراتا ہے وہ کہتا ہے گلام میں چاہتا ہوں تم اور سندری نگاہ کر لو
03:06جس کے بعد وہ ہسپیٹل میں ہی موٹی
Comments