Skip to playerSkip to main content
  • 3 days ago
Ishq Mein Tere Sadqay Mega Ep 26 & 27 Promo Breakdown | Ishq Mein Tere Sadqay Next Ep 26 Full Teaser

Category

😹
Fun
Transcript
00:00ارشمہ اپنی امی کی باتوں میں آگر جب انجون گھر پہ نہیں ہوتی
00:02جس کے بعد وہ اس چیز کا فائدہ اٹھا کر نور کو دھکے مارکہ گھر سے باہر نکال دیتی ہے
00:06جس کے بعد اس کو نکالنے کے بعد دوازہ زور سے بند کر دیتی ہے
00:09تیچھے سے سانجدہ اور فرائے سب کچھ یہ دیکھ لیتی ہے
00:11جس کے بعد تب ہی وہ انجون کو کال کر کے یہ ساری بات بتا دیتی ہے
00:14کہ وہاں ادھر بے آسرا نور اپنی دو زارہ کے ساتھ سڑک پہ جا رہی ہوتی ہے
00:18زرفیگار کا بندہ شہید بھی اسے یہ خبر دے دیتا ہے
00:20نور کو گھر سے نکال دی ہے جس کے بعد وہ توفان کی رفتاز اپنی گاڑی بھگا کر وہاں پہنچتا
00:24ہے
00:24کہ وہ نور کو اس طرح رسے میں جارتا ہے دیکھ کر اس کے پاس گاڑی آگے روکتا ہے
00:27اور اسے ہاتھ پکرتے وہ اسے کہتا ہے
00:29نور چلو میرے سال میں اسے شادی کر لو
00:31لیکن نور اسی وقت اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر رونے لگتی ہے
00:34اس کے سامنے معافی مانگتے ہوئے کہتی ہے یہ سب کچھ آپ کی وجہ سے ہو رہا ہے
00:37جس کے بعد نور زرفیگار شاہ کے ساتھ جانے سے صاف انکار کر دیتی ہے
00:40جیسی وہ مرگے بھاگنے رکھتی ہے اچانے کے تیش رفتاز گاڑی آتی ہے
00:43جس کے بعد وہ نور کو بیانے ٹکر مارتی ہے
00:45جس کے بعد نور خون میں لگتر ہو کر زمین پر گڑی آتی ہے
00:48دیکھنے کے بعد زرفیگار شاہ کے ہوش اڑیاتے ہیں وہ تب ہی نور کو اپنی گوت میں اٹھاتا ہے
00:51اور اس کی محبت میں گاری بھاگا کر سیدھا اسے ہسپیڈی لے کے جاتا ہے
00:54جس کے بعد وہ راستے میں انجوب اپو کو بھی کال کر کے بتا دیتا ہے نور کا ایکسیڈن ہو
00:58گیا ہے
00:58یہ خوفناک حبر سننے کے بعد انجوب توفان کی طرح گھر پوچھتی ہے
01:01جس کے بعد وہ اسی بھاگر اروشوہ کی پا جاتی ہے
01:03اس کے موپر ایک زودہ چمار ریسیف کر دیتی ہے
01:05یہ میرا گھر ہے تم کون ہوتی ہے میری نور کا میرے گھر سے دکھے مار کر نکالنے والی
01:09آج نور جی سالت میں یہ سب کچھ تمہاری وجہ سے ہوا ہے
01:12یہ یاد رکھنا اگر میری نور کا کچھ ہوا تو میں تمہاری جان لے لوں گی
01:15کیونکہ وہ میرے بھائی احمد کی آخری نشانی ہے
01:17یہ خوفناک دھبگی سننے کے بعد اروشوہ کی جیسے ہوشی اڑیاتے ہیں
01:20جس کے بعد وہ سلاح پر تھوک کر اپنی امی کے ساتھ ہمیشہ کے لیے ان کے گھر چلی جاتی
01:24ہے
01:24جس کے بعد انجوب روتی بھی ہسپیڈی پہنچتی ہے
01:29اس کے بعد انجوب نور کے گلے لگتے ہوئے زرفیقار شاہ سے پوچھتی ہے
01:32تو میری نور کا کتنا خیال رکھ سکتے ہو
01:34جس سے زرفیقار کہتا ہے میں نور کا آخری سانس تک اس کا خیال رکھوں گا
01:37کے بعد انجوب زرفیقار شاہ پہ یقین کر کر تب ہی قاضی صاحب کو ہسپیڈی میں بلا لیتی ہے
01:41تب ہی اسی وقت ہسپیڈی کے کمرے میں زرفیقار اور نور کا نگاہ شروع ہو جاتا ہے
01:45جس کے بعد مولین سانس نور سے پوچھتے تو نور بھی قبول لے کے دیتی ہے
01:48زرفیقار بھی قبول لے کے دیتا ہے
01:49ایک کا مکمل ہو جانے کے بعد زرفیقار شاہ اپنی امی کے گلے سے لگتا ہے
01:53جس کے بعد وہ نور کا ہاتھ پکڑ کر اس سے اپنے گھر لے آتا ہے
01:55بہت وہاں پوچھ کر کہانی میں ایک اور بڑا دھماگہ پیدا ہو جاتا ہے
01:58زرفیقار شاہ جب نور کو اپنے ساتھ اپنے کمرے میں لے کے جاتا ہے
02:01تو دیوال پر ہور کی تصویر دیر کا نور کے ہوش اڑی جاتے ہیں
02:04اس کے بعد وہ زرفیقار شاہ سے کہتی ہے یہ تو میری جڑوہ بین ہور ہے
02:07ابو نے مجھے بتایا تھا کہ میری جڑوہ بین بھی ہے
02:09زیدہ افتیقار شاہ جب یو ایس ایک واپس آتے ہیں تو انہیں یہ پتہ چلتا ہے
02:12زرفیقار شاہ نے ماریہ سے شادی نہ کر کے
02:15اس کی بزنس کو تباہ کر دیا کیونکہ افتیقار لالچی قسم کا انسان ہے
02:18یہ اپنی دولت کی لالچ میں اپنی بیٹی کی خوشیاں بھی قربان کرنے کے لئے تلوہا تھا
02:21اس کے بعد وہ گصے میں پاگل ہو کر گھر پہ آتا ہے
02:24اس کے بعد وہ زرفیقار کی اپنی کے پاس آتا ہے
02:26اور اس کے موپر طلاق کے پیپر مارکہ ہمیشہ کیلئے یہاں سے چلا جاتا ہے
02:29ناظرین زرفیقار شاہ نور کے پاس آتا ہے
02:31نور سے کہتا ہے نور
02:32مجھے قسم میں میں تمہارے ایک ایک آسوں کا بدلہ زلار اور ارشما سے ضرور لے کر ہی رونگا
02:36جس کے بعد زرفیقار اپنا بندے شہیڑ کو سلار کے پیچھے لگا دیتا ہے
02:39اس کے بعد اسے سلار کا ایک خوفنا ڈیکارڈ مل جاتا ہے
02:42یہ سلار نے کئی سال پہلے نیدہ نامی لگی کے ساتھ زیادی کر کے اس کی جان لی تھی
02:45اس کے بعد زرفیقار شاہ وہ فائل پولیس کے پاس جمع کروا دیتا ہے
02:48جس کے بعد پولیس بھاری فورس کے ساتھ سلار کی گھر پہ پہنچ جاتی ہے
02:51اس کے بعد مرتوزہ انکل گھبراتے پہ پوچھتے ہیں اسپیکٹر آپ کیوں آئے ہیں
02:54جس میں اسپیکٹر بتاتے ہیں آپ کے بیٹے نے نیدہ کی جان لی تھی
02:57جاننے کے بعد سب کے ہوش اڑی جاتے ہیں
02:59جس کے بعد پولیس ابھی سلار کو گھسیٹے پہ ہتکڑی لگاتے پہ وہاں سے لے جاتی ہے
03:02یہ کہ جاننے کا مرتوزہ کو بھی اپنی گلتیوں کو شدہ سے احساس ہو جاتا ہے
03:06جس کے بعد وہ روتے کے سلوکار شاہ
Comments

Recommended