Skip to playerSkip to main content
  • 5 days ago
Ishq Mein Tere Sadqay Ep 23 & 24 Promo Prediction | Ishq Mein Tere Sadqay Ep 23 Teaser Exposed

Category

😹
Fun
Transcript
00:00ہر اروشمہ کے ساتھ شادی کی شاپنگ کرنے کیلئے ایک بڑے مول میں لے کے جاتا ہے
00:03تب ہی اتفاق سے زرفیغار شاہ بھی وہاں پر آ جاتا ہے
00:05کہ وہاں سلار زرفیغار کو دیکھتے ہوئے زور سے حسن اور تانہ مارتے ہوئے کہتا ہے
00:08دیکھو میں اپنی محبت اروشمہ سے شادی کر رہوں تمہاری نور
00:11جس کے بعد وہ ڈرڈر کی ٹھوکرے کھائے گی
00:13بیانک سر سننے کے بعد زرفیغار شاہ وہ توڑن اپنے ہی گاڑی میں بیٹھ کر نور کو کال کرتا ہے
00:17کہتا ہے نور میرے کھاتے سلار کو چھوڑ دو میرے سے شادی کر لو
00:20لیکن نور روتی بھی اس شادی سے ساو انکار کر دیتی ہے
00:22اس کے بعد اگلے دن یہ سلار اور اروشمہ کی شادی ہو رہی ہی ہوتی ہے
00:25اس کے بعد مولوی صاحب سلار اور اروشمہ کا نکاح شروع کرتے ہیں
00:28لیکن ہنجم کے دل میں ذرہ سے بھی خوشی نہیں ہوتی
00:30کیونکہ وہ اروشمہ کو بالکل بھی پسند نہیں کرتی
00:32جس کے بعد زرفیغار شاہ وہاں پر پہنچ جاتا ہے
00:34اس کے بعد نور اسے دیکھتی ہے تو گھبڑا جاتی ہے
00:36اور اس کے پاس جاگر اس سے کہتی ہے
00:37تم آج بھی یہاں تماشاں بنانے کیوں آگئے
00:40تم یہاں سے چلے جاؤں وہاں کھڑے لوگ بھی
00:41حیرت کرتے ہیں یہ تو وہی شخص ہے جس کے ساتھ نور کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی
00:44یہاں پر کیوں آیا ہے
00:45جس کے بعد مرتوزہ جب یہ باتیں سنتے تو
00:47جس کے بعد وہ سالار سے کہتے ہیں
00:48ابھی تم نور کو تلاق دونیا سے اس کو بے تھکل کر دو
00:51یہ سننے کے بعد اروشمہ بھی کافی زیادہ خوش ہو جاتی
00:53کیونکہ وہ چاہتی ہی ای تھی
00:54یہ سالار آگے بڑھتا ہے اور نور کو تلاق دیتا ہے
00:56جس کے بعد ذرہ کار شاہ کہتا ہے
00:57آپ نے فیصہ کرنے میں بہت بڑی گلتی کر دی
00:59پہلے آپ اپنے اس ہونے والے بھو اور بیٹے کی حقیقت تو جان لیں
01:02بھی وہ اپنی جیف سے بھوائے لکالتا ہو بڑی اسکنین پر کنیک کر دیتا ہے
01:05ان پر سالار کی دوسری لڑکیوں کے ساتھ ویڈیوز
01:07اور فارماؤس میں نور کے ساتھ زبردستی کرنے کی ویڈیوز چلنے لگتی ہیں
01:10جس ست دیکھنے کا وقت پورے گھر کے ہوشیں اڑیاتے ہیں
01:13کہ وہاں نرشمہ خوف کے مارے سالار کے موپے تھوٹی ہے
01:15کہ وہاں دوسری وقت شادی سے انکار کر کے ماں سے چلی جاتی ہیں
01:18کہ وہاں سالار سے اپنی یوں بیانک بیزتی برداشت نہیں ہوتی
01:20کیونکہ بوس دیکھا جائے تو اس نے نور کو بدنام کرنے میں اتنی محنت کی تھی
01:23یہ دیکھ کر وہ پاگل ہو جاتے جس کے بعد وہ زلفکار شاہ کو جان سے مارنے کیلئے
01:27اپنی جیف سے پسٹل لگالتا ہے
01:28زلفکار شاہ کو مارنے لگتا ہے
01:29لیکن پیچھے سے نور یہ دیکھ لیتی ہے
01:31تب ہی وہ زلفکار شاہ کے سامنے آتی ہے
01:32اپنے سینے پہ گولی کھا کر اس کی جان بچا لیتی ہے
01:35وہاں نور خون میں لطپت ہو کر زلفکار کی باہوں میں گر پڑتی ہے
01:37یہ دیکھنے کے بعد زلفکار چھیک اٹھتا ہے
01:39تب ہی وہ پولیس کو بلاتا ہے
01:40اس کے بعد پولیس فورن آ جاتی ہے
01:42اور سالار کو قتل کرنے کے جنم میں گھسیٹے ہوئے لے جاتی ہے
01:44اس کے بعد کوٹ اسے فورن چودہ سال کی سخت سزا سنا دیتی ہے
01:47جس کے بعد زلفکار شاہ پاگلوں کی طرح نور کو گود میں اٹھا کے ہسپیٹل لے جاتا ہے
01:51اس کے بعد دکٹر فورن نور کو آپریشن ٹھیٹر میں لے جاتے ہیں
01:54جس کے بعد تھوڑی دیر میں ڈاکٹر باہر آ کر کہتے ہیں
01:56زلفکار شاہ گولی لکل گئی اور نور اب خطرے سے باہر ہے
01:58سننے کے بعد خوشی کہ ہمارے زلفکار شاہ کے ہوش اڑیاتے ہیں
02:01اس کے بعد پیچھے سے انجو فپو بھی روتی بھی ہسپیٹل پوچھتی ہیں
02:04جس کے بعد وہ نور کے پیڑوں میں گر کر پھوڑ پھوڑ کے روتییں اڑکیتی ہیں
02:07معاف کر دے میری بچی میں اپنے ظالم بیٹے کو نہیں پچان سکی
02:10جس کے بعد انجو مصیبہ سلاڑ کو اپنی پاپٹی سے بے دخل کر دیتی ہیں
02:13نور کے ہوش میں آتے ہی انجو فپو خود نور کا حض زلفکار شاہ کی ہاتھ میں دیتی ہیں
02:16جس کے بعد زلفکار شاہ تبیہ ہسپیٹل کے وی آئی پی روم میں بلاتا ہے
02:20جس کے بعد بینہ کچھ ڈیر کے اسی وقت زلفکار شاہ اور نور کا مولوی صاحب نکاح پڑھا دیتے ہیں
02:24اس کے بعد زلفکار شاہ اپنی نور کو پھولوں کی سجی گاڑی میں بٹھا کر اپنے گھڑ لے جاتا ہے
02:28وہ دونوں بہت ہسی خوشی اور خوشائے زندگی کی شروعات کرتے ہیں
02:31بوس وہ گھڑ لے کے پوچھتا ہے تو
02:32زلفکار شاہ کی موم نور کو دے کر اسے اپنے گلے سے لگا لیتی ہیں
02:35اور کہتی ہیں تم تو میری بلکل بھو
02:37جس کے ماں زلفکار شاہ نور کو اپنے کمڑے میں لے جاتا ہے
02:40اس ساری رات اس سے محبت بڑی باتیں کرتا ہیں
02:41تو بوس یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے
02:43کیا نور نے زلفکار شاہ کی جان بچا کر صحیح فیصلہ کیا
02:45کیا آپ سلال کو ساری زندگی جیل میں سرنا چاہئے
02:48کیا وہ جیل سے بھارا کا دوبارہ ان کے
Comments

Recommended