Skip to playerSkip to main content
Khulasa e Mazameen e Quran | Rehmat e Sehr

Watch Shan e Ramzan 2026 ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw

Speaker: Shujauddin Shaikh

#ShaneRamzan #ramzan2026 #aryqtv

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00Allah'a ta'a kalamu pardha ya Rasul ne
00:04Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
00:30Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
00:45Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
01:17Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
01:45Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
02:12Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
02:32Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
02:52Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
03:00Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
03:07Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
03:19Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
03:30Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
03:59Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
04:19Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
04:40Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
05:06Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
05:38Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
06:05Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
06:14Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
06:35Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
07:04لئے بھی آتا ہے لیکن جهات وسی لفظ ہے کوشش جدجہود محنت اسرغل مجاہدہ
07:10یہ سب کچھ مکی دور میں شرکی نفی کفر کی نفی اعتراضات کی جوابات حق کی
07:16دعوت پیش کرنا یہ ساری جو محنت ہو رہی جہاد ہے وہ یہ جہاد قرآن پاک
07:20پاک کے ذریعے تبلیغ کرنی قرآن پاک کے ذریعے امر بالمعروف نہیں
07:25علمان کر قرآن پاک کے ذریعے سے تسکیر کرنی قرآن پاک کے ذریعے
07:31Yeah, so that's why we are here.
08:01ڈس صفات کا متعلق کریں گے ابھی پانس صفات پہلے
08:04اشاد ہوا
08:05وَعِبَادُ الرَّحْمَانِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنَ
08:08اور رحمان کے محبوب بندے تو وہ ہیں جو زمین پر نرمی سے چلتے
08:12عاجزی سے چلتے
08:13پہلی بات نرمی عاجزی
08:15تکبر نہیں ہوتا
08:16تکبر تو اللہ کی شان ہے
08:17حدیث مبارک مسلم شریف میں ہے
08:19جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا
08:23وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا
08:25تو نرمی سے چلتے ہیں
08:26عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں
08:27زمین پر ان میں بڑائی تکبر نہیں ہوتا
08:30پہلی بات
08:30نمبر دو
08:31وَإِذَا خَوْتَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُ سَلَامَ
08:34اور جب نادان قسم کے لوگ ان سے علجتے ہیں
08:37تو وہ کہتے ہیں سلام
08:38کیا مطلب
08:39بحث میں نہیں پڑتے
08:40فضول بحثوں میں نہیں پڑتے
08:42اور نادان قسم کے لوگ غلط قسم کے سوالات کرتے
08:46بیجا قسم کے سوالات کرتے
08:47بیجا قسم کے اعتراضات کرتے
08:49تو مناظرانہ بحثوں میں نہیں پڑتے
08:51سلام کہہ کر علیدہ ہو جاتے
08:53سلامتی کا رویہ اختیار کرتے
08:55کیوں داعی دین کو بڑا خیال رکھنا پڑتا ہے
08:58کہ آج نہیں کل دعوت دے دیں گے
09:00پرسو دعوت دے دیں گے
09:01دعوت دینے کا موقع باقی رہے
09:03تو علجتے نہیں ہیں جھگڑا نہیں کرتے
09:05بڑا پیارا شعر ہے
09:06کہ مذہبی بحث میں نے کبھی کی ہی نہیں
09:09مذہبی بحث میں نے کبھی کی ہی نہیں
09:14افام و تفہیم الگ شعہ ہے
09:16سمجھنا الگ شعہ
09:17بحث میں پڑنا
09:18مناظرے کی شکر اختیار کرنا
09:20اور لڑائی جھگڑے میں پڑنا
09:22مذہبی بحث میں نے کبھی کی ہی نہیں
09:24فالتو اقل مجھ میں
09:26اگلا مقام
09:28یہ تو دن کی شکیفیت ہو گئی
09:29دن میں کیا ہے نرمی ہے
09:31آجزی ہے اور سلامتی کا رویہ
09:33لڑائی جھگڑا نہیں ہے
09:34رات میں کیا ہے فرمایا
09:36والذین یبیتون لربہم سجدوں و قیامہ
09:39اور وہ جو اپنے رب کے حضور راتے
09:42و سر کرتے سجدہ و قیام کرتے
09:44سبحان اللہ یہ تحجد کی نماز
09:46کی طرف اشارہ
09:47آپ کو یاد ہوگا سورة المؤمنون
09:49اٹھاروے پارے کے شروع میں ہم نے کیا پڑھا تھا
09:51جنت و فردوس پانے والوں کی صفات
09:53وہاں نماز کا ذکر دو مرتبہ آئے تھا
09:55شروع میں بھی اور آخر میں بھی
09:56وہ فرض نماز کا ذکر ہے
09:57لیکن تعمیر سیدھت سبحان اللہ
10:00بندہ مومن کا کردار مکمل کیسے ہوگا
10:02ان صفات کے ذریعے جو بھی سورہ
10:04فرقان کی آیات کی روشنی میں سامنے آ رہی ہیں
10:06اب یہ تکمیلی صفات ہیں
10:08فینشنگ ٹچیس ہے
10:09بندہ مومن کے کردار کے
10:10راتیں کیسے گزرتی ہیں
10:12سجدے اور قیام کرتے ہوئے
10:13اللہ کے حضور تحجد کی نماز میں کھڑے رہتے ہیں
10:16ہماری راتیں کیسے گزرتی ہیں
10:18ہم سب کو پتا ہے
10:19اللہ کے سامنے بھی کھڑے ہو جانا چاہیے
10:22عشاء کی نماز تو فرض ہے
10:23کچھ اس کے ساتھ رکھتے عدا کرنے کم از کم ہے
10:25رات کے آخری سے میں کھڑے ہوں
10:27سبحان اللہ
10:28اللہ پہلے آسمان پر اپنی شان کے مطابق نزول فرماتا ہے
10:31اور دعائیں قبول فرماتا ہے
10:32اللہ راتوں کے قیام کی بھی توفیق
10:34مجھے آپ کو ہمیں عطا فرمائے
10:36مزید کیا ہے
10:37فرمایا
10:37وَالَّذِينَ يَقُولُونَ
10:39اور وہ رحمان کے بندے
10:40یوں دعا کرتے ہیں
10:49بے شک اس کا عذاب تو چمٹ جانے والا ہے
10:55بے شک وہ
10:56تھوڑی دیر کے اعتبار سے بھی بہت برا ٹھکانا
10:58اور ہمیشہ رہنے کے اعتبار سے بھی بہت برا ٹھکانا ہے
11:01اللہ ہم سب کو جہنم کے عذاب سے بچائے
11:04اتنے نیک ہیں
11:05دن میں آجزین کے ساری
11:08سلامتی کا رویہ
11:09راتوں میں قیام تحجت کا اعتبام
11:10لیکن اپنی نیکیوں پر انہیں غرہ دھوکہ نہیں ہے
11:13تکبر نہیں ہے
11:14اکڑ نہیں ہے
11:15اللہ کے حضور دعائیں
11:16جہنم کے عذاب سے بچنے کی وہ کرتے ہیں
11:19پانچویں بات
11:19وَالَّذِينَ اِذَا آنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقُتُرُوا
11:23اور جب وہ خرش کرتے ہیں
11:24تو نہ وہ زیادتی کرتے ہیں
11:26نہ وہ کنجوسی کرتے ہیں
11:28نہ فضول خرش کرتے ہیں
11:30نہ ایسے کنجوس کے جائز حاجات پر بھی خرش نہ کریں
11:33وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا
11:35اور اس کے درمیان اعتدال کا رویہ اختیار کرتے ہیں
11:38ایکسٹریمز پر نہیں جاتے
11:40نہ اتنا خرش کیا کہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑ جائے
11:43نہ ایسے کنجوس بن گئے کہ مال موجود ہے
11:45اللہ کی عطا موجود ہے
11:46اللہ کی عطا کردہ رسورسس موجود ہیں
11:49مگر اپنی ذاتی حاجات پر بھی خرش نہ کریں نہیں
11:51ان ایکسٹریمز سے بچتے ہوئے
11:52اعتدال کا رویہ اختیار کرتے ہیں
11:56میانہ رویہ اسے کہا جاتا ہے
11:58یہ پانچ صفات آگئی
11:59نرمی آجزی
12:00نمبر دو جھگڑے سے بچنا
12:02نمبر تین راتوں کا قیام
12:03نمبر چار جہنم کے عذاب کا ڈر رکھنا
12:05اور جہنم کے عذاب سے بچنے کیلئے دعائیں کرنا
12:08اور نمبر پانچ میانہ رویہ اختیار کرنا
12:10آگے بڑا پیارہ بیانیں
12:12توبہ کے تعلق سے انہی آیات میں
12:14سور فرقان کی آیت نمبر ستر
12:16توبہ کی عظمت کا بڑا پیارہ بیان
12:18اشاد ہوا
12:23سوائے وہ جو توبہ کرے
12:25ایمان لائے اور عمل کرے
12:26نیک سبحان اللہ
12:27کافر ہے تو اسلام میں داخل ہوگا
12:29بندہ مومن ہے تو سچا ایمان اختیار کرنا ہوگا
12:32گناہوں کی وجہ سے ایمان دل سے نکل جاتا ہے
12:35حدیث مبارک کے مطابق
12:36بندہ سچی توبہ کرے
12:38تو ایمان کی کیفیت واپس ملتی ہے
12:40اور پھر نیک عمل میں لگ جائے
12:41ایمان کا دعویہ ہی کافی نہیں
12:43عمل کا ثبوت بھی لازم
12:44تو جو توبہ کرے اور ایمان لائے
12:46اور عمل کرے نیک فرمایا
12:48فَأُولَاءِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّعَاتِهِمْ حَسَنَاتِ
12:51تو پھر ایسا ہے
12:53کہ اللہ سبحان و تعالیٰ ایسے لوگوں کی
12:55برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے
12:58سبحان اللہ
12:59یہ بلیک وائٹ ہو جائے گا
13:01آج ہم دنیا میں بلیک وائٹ کرنے کے چکر میں ہیں
13:03حرام کاموں کے راستوں کے ذریعے سے
13:05پھر تو غلط ہے
13:06لیکن آج سچی توبہ لے آؤ
13:08اللہ معاف کر دے گا
13:09حدیث اللہ کے رسول علیہ السلام فرمایا
13:10مسلم شریف کی روایت ہے
13:12جو کفر سے اسلام میں داخل ہو
13:13کفر سے اسلام میں داخل ہو
13:15سارا معاف
13:16سبحان اللہ
13:17سارا بلیک وائٹ
13:18اللہ ہوا کبر
13:19یہاں اللہ فرما رہے ہیں
13:20اس آیت میں آج دنبہ ستر میں
13:21سور فرقان کی
13:22اللہ برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے گا
13:24سچے ایمان والے
13:25غلطی کر بیٹھتے
13:26توبہ کر لو
13:27اللہ معافی نہیں کر دے گا
13:28برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے گا
13:30اللہ کتنا پیارا ہے
13:30سبحان اللہ
13:31وکہان اللہ غفور ورحیم
13:33اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا
13:35نہائیت رحم فرمانے والا ہے
13:36اللہ مجھے اور آپ کو
13:37ہم سب کو واقع دن
13:38سچی پکی توبہ کرنے
13:40اور قائم رہنے کے
13:41اس پر توفیق عطا فرمائے
13:42اس کے بعد
13:43مزید پاس صفات
13:44عباد ورحمن کی آ رہی ہیں
13:46سورہ فرقان ہی میں
13:47آیت عمر بہتر تا چہتر
13:49عباد ورحمن کی
13:50مزید پاس صفات کا بیان
13:53پانچ پہلے آ چکی
13:53اب مزید پانچ
13:54فرمایا
13:55والذین اللہ یشہدون الزور
13:57اور وہ جو جھوٹ پر گواہ نہیں بنتے
14:00ایک ہے جھوٹ بولنا
14:01وہ تو دور کی بات ہے
14:02جھوٹے کاموں میں شریک نہیں ہوتے
14:04جھوٹی باتوں پر گواہ نہیں بنتے
14:06غلط کاموں میں شریک نہیں ہوتے
14:08سبحان اللہ
14:08جھوٹ بولنا ہی نہیں
14:10یعنی جھوٹ بولنے سے بچنا تو ہی ہے
14:11جھوٹے کام جھوٹی باتیں
14:13غلط کام غلط محفلیں
14:15نہیں اس پر گواہ نہیں منتے
14:17وہاں نہیں جاتے
14:18وَإِذَا مَرُّ بِاللَّغْوِ مَرُّ كِرَامَ
14:20اور جب وہاں سے گدرنا پڑ ہی جائے
14:22تو بڑی شانِ بے نیازی کے ساتھ
14:25بیکار محافل اور کاموں کے پاس سے
14:27گدرنا پڑ ہی جائے
14:28تو بڑی شانِ بے نیازی کے ساتھ گدر جاتے ہیں
14:30بھئی گھر سے بھار تو بندہ ہے
14:32مومن نکلے گا نا
14:32کھیل تماشے ہو رہے ہیں
14:34گناہ کی دعوتیں جی جاری ہیں
14:36گناہ کے کام ہو رہے ہیں
14:37بڑی محافل ہیں
14:38اگر راستے میں آ گئیں
14:39تو دیکھنا بھی نہیں
14:40گزر جانے بڑی شانِ بے نیازی کے ساتھ
14:42کیوں لغواتوں سے بچتے ہیں
14:44یہ بات سوری مؤمنون کے شروع میں تھی
14:47اب اگر ایسا کہی گزرنے کا معاملہ پڑ جائے
14:49تو وہ بڑی شانِ بے نیازی کے ساتھ گزر جاتے ہیں
14:53کیوں مومن کو پتا ہے
14:54کہ زندگی ایک ایسرٹ نہیں
14:55بلکہ لابلٹی ہے
14:56اور جو وہ گزر رہا ہے
14:57اس کا کل جواب دینا ہوگا
14:59تو فضول باتوں سے
15:01اللہ کے یہ نیک بندے
15:02اپنے آپ کو روکتے اور بچاتے ہیں
15:04یہ چھٹی اور ساتھویں بات ہوگی
15:05آٹھویں بات
15:06وَالَّذِينَ اِذَا ذُكِّرُوا بِ آیَاتِ رَبِّهِمْ
15:09لَمْ يَخِّرُوا عَلِيهَا السُمَّ وَعُمِيَانَا
15:11اور جب انہیں ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے
15:14تسکیر کی جاتی
15:14نصیت کی جاتی ہے
15:16تو اندھے اور بہرے بن کر نہیں گر پڑتے
15:18کیا مطلب
15:19پڑھا جا رہا ہے سمجھ نہیں آرہا
15:20قرآن پاک کی محافل ہے
15:22لیکن توجہ نہیں ہے
15:23قرآن پاک بیان ہو رہا ہے
15:24لیکن توجہ نہیں ہے
15:25سمجھ نہیں آرہا
15:26اور انکلینیشن نہیں ہو رہی
15:28نا نا نا نا
15:29ایسے اندھے بہرے بن کر نہیں گر پڑتے
15:32بلکہ رحمان کے بندے
15:33طلب و طلب کے ساتھ
15:34اللہ کی آیات کو سنتے ہیں
15:36ہدایت کی طلب و طلب کے ساتھ سنتے ہیں
15:38ان سے ہدایت لینے کی کوشش کرتے ہیں
15:40یہ ایمان والوں کی شان
15:41یہ آٹھویں بات ہو گئی
15:44وَالَّذِينَ اِذَا ذُكِّرُوا بِ آیَاتِ رَبِّهِمْ
15:46اور وہ کہ جب انہیں
15:47ان کے رب کی آیات کے ذریعے نصیت کی جاتی ہے
15:49لَمْ يَخِرُوا عَلِيهَا سُمَّ وَعُمِيَانَا
15:52ان پر وہ بہرے اور اندھے بن کر نہیں گر پڑتے
15:55مراد آیاتِ قرآنی کو توجہ سے سنتے
15:57اللہ قرآن پاک کا شوق و ذوق
15:59اور توجہ سے تلاوت
16:01اور سمجھ کر اس کا مطالعہ کرنے سننے کی
16:03مجی اور آپ کو اور ہدایت کی طلب کے ساتھ
16:05مطالعہ کرنے کی سمجھنے کی سیکھنے کی
16:07توفیق عطا فرمائیں
16:08اور عمل کی بھی توفیق عطا فرمائیں
16:10آٹھ باتیں ہو گئی نوی بات
16:12وَالَّذِينَ يَقُولُونَ
16:14اور وہ جو دعائیں کرتے ہیں
16:19اے ہمارے رب
16:20ہمیں ہماری بیویوں
16:21اور اولاد کی طرح سے آنکھوں کی تھنڈک
16:23عطا فرمائے
16:24آنکھوں کی تھنڈک کیا ہوتی ہے
16:26اللہ کے رسول علیہ السلام نے فرمایا
16:28قرآنی فی الصلا
16:29آنکھوں کی اصل تھنڈک کیا ہے
16:33اللہ کی آج سے جڑے رہنا
16:35ہاں بیوی کے ایسی تربیت کی ہے
16:37بچوں کے ایسی تربیت کی ہے
16:38بیوی کو دے کر بچوں کو دے کر اتمنان ہے
16:40یہ اللہ کے بندے بن رہے ہیں
16:43یہ اللہ کی بندگی کر رہے ہیں
16:44ان کو دیکھ کر اتمنان
16:45یہ آنکھوں کی تھنڈک ہیں
16:47صرف یہی نہیں
16:47کہ بیوی کو اچھا کپڑا پہنا دی
16:49اچھا زیوت زیلا دی ہے
16:50بچوں کو اچھی گاڑی دلوا دی
16:51اچھے کپڑے پہنا دی
16:52بڑا مزہ آ رہا ہے
16:53بڑے زبد ہے
16:54سمارٹ لگ رہے ہیں بچے
16:55اللہ اچھا رہا ہے ہمارے بچوں کو
16:56لیکن یہ آنکھوں کی تھنڈک نہیں
16:58آنکھوں کی تھنڈک یہ ہے
16:59اللہ کی بندگی پر ہوں
17:00اللہ کے ساتھ جڑے ہوئے ہوں
17:02تو یہ آنکھوں کی ٹھنڈک ہے
17:03معلوم ہوا کہ رحمان کے بندے
17:05اکیلے اکیلے نیک نہیں بنتے
17:07گھر والوں کی بھی فکر کرتے
17:08اکیلے اکیلے اپنی جنت کی فکر نہیں کرتے
17:10گھر والوں کی بھی فکر کرتے
17:11اکیلے اپنے آپ کو جہنم سے بچانے کی فکر
17:14کوشش نہیں کرتے
17:15گھر والوں کو بھی بچانے کی فکر کوشش کرتے
17:18قرآن کریم میں سورة تحریم آیت
17:20اللہ نے حکم دیا
17:25اے وہ لوگ جو ایمان لائے
17:26اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ
17:29تو یہ نوی بات ہوگی دعا کی شکل میں
17:35اے ہمارے رب
17:36ہمیں ہمارے بیور اولاد کی طرح سے آنکھوں کی
17:38ٹھنڈک عطا فرما دسنی بات
17:40وَجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِمَامًا
17:42اور ہمیں متقین کا ایمام بنا دے
17:44کیا مطلب کل جواب دینا اللہ کو
17:46ہاں اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے
17:48اللہ ہم سے ہمارے بارے میں
17:49اور گھر والوں کے بارے میں
17:51زیر تحت لوگوں کے بارے میں پوچھے گا
17:52بخاری شریف کے حدیث
17:54نبی علیہ السلام نے فرمایا
17:55کُلُّکُمْ رَاعِنْ وَكُلُّکُمْ مَسْئُولٌ عَرْعِيَتِهِ
17:59ہر ایک تم میں سے رعی ہے نگبان ہے
18:00اس کے رعیت میں جو لوگ ان کے بارے میں سوال ہوگا
18:02باپ ہے تو اولاد کے بارے میں
18:04شوہر ہے تو بیوی کے بارے میں سوال ہوگا
18:06تو کل کا جواب دہی کا احساس رہتا ہے
18:08وَجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِمَامَ اِلَّا
18:10اے ہمارے رب ہمیں متقین کا امام بنا دیں
18:13نیشے والے اچھے رہیں
18:14نیشے والے متقین رہیں
18:15تاکہ کل جواب دہی آسان ہو جائے
18:17تو کل کی جواب دہی کا احساس رکھنا
18:20یہ بھی عباد و رحمان کی صفات ہیں
18:23ان آیات میں آیات 72 تا 74 میں
18:26پانچ صفات ہمارے سامنے آئیں
18:27جھوٹ پر گوا نہیں بنتے
18:29اور لغ بیکار باتوں کے پاس سے گدرنا پڑتا ہے
18:32تو شان بینیازی کے ساتھ گدر جاتے ہیں
18:34اور آیات کے ذریعے سے نصیت کی جاتی ہے
18:36تو بہرے اور اندھے بن کر نہیں گر پڑتے
18:39توجہ سے سنتے ہیں
18:40اور اپنے بیوی اور اولاد کی بھی فکر کرتے ہیں
18:43ان کے لئے دعائیں کرتے ہیں
18:44آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دی جانے کی
18:45اور کل کی جواب دے ایک احساس ہوتا ہے
18:47تو دعا کرتے ہیں
18:48اے ہمارے رب ہمیں متقین کا امام بنا دیں
18:50یوں ہم نے عباد و رحمان کی دس صفات کا مطالعہ کیا
18:54یہ صور فرقان کا آخری رکو ہے
18:56اس کی ان آیات میں عباد و رحمان کی صفات بھی آگئیں
18:59اور توبہ کا بڑا پیارا ذکر بھی آگئیں
19:01اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں میں ہمیں شامل فرمائے
19:05اور یہ صفات اختیار کرنے کے ہمیں توفیق عطا فرمائے
19:08اس کے بعد صور فرقان کی منتقم آیات کے مطالعے کے بعد چلتے ہیں
19:12حاصل کلام کی طرف
19:13اور چند نکات جو ہم نے سمجھیں
19:15take away lessons کے طور پر انہی کا مطالعہ کرتے ہیں
19:18مزید مختصر انداز میں
19:19قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
19:22اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے
19:24کہ میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا
19:26اللہ اس شکایت سے ہم سب کی حفاظت فرمائے
19:29اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں
19:31خواہش نفس کی پیروی شرک ہی کی قسم ہے
19:33اللہ شرک کی ہر شکل سے ہم سب کی حفاظت فرمائے
19:36اور من چاہی نہیں
19:38رب چاہی زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے
19:41مکی دور میں قتال کا حکم نہ تھا
19:44البتہ قرآن کریم کے ذریعے جہاد جاری تھا
19:47مکہ مکرمہ میں تیرہ برس
19:48قرآن کی تلوار کے ذریعے جہاد ہوا
19:50بہت قیمتی بات ہے یہ
19:51ہمیں دوسروں کے ساتھ عاجزی ان کے ساری کا رویہ اختیار کرنا چاہیے
19:55اور نادان لوگوں سے علجنا نہیں چاہیے
19:58یہ رحمان کے محبوبندوں کی صفات کا ذکر ہو رہا ہے
20:02رات کوٹ کر
20:03اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا
20:05عباد و رحمان کی عالی صفات میں سے ہے
20:07اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے
20:09اللہ تعالیٰ کی محبوب بندے
20:11زندگی میں میانہ رویہ اختیار کرتے ہیں
20:13اسراف اور کنجوسی سے بچتے ہیں
20:15اسراف زیادتی کرنے کو کہتے ہیں
20:17سچی توبہ کرنے پر
20:18اللہ تعالیٰ گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیتا ہے
20:21اللہ ہم سب کو سچی پکی توبہ کی واقعہ
20:23توفیق عطا کر دے
20:24اللہ تعالیٰ کی نیک بندے جھوٹ
20:26اور جھوٹے کاموں سے بچتے ہیں
20:28اللہ ہمیں سچ کی توفیق عطا فرمائے
20:30اور اللہ تعالیٰ ہمیں سچ ہی پر کاربند
20:32رہنے کی توفیق دیئے رکھے
20:34الحمدلہ ناظر کرام
20:35سور فرقان کا مطالعہ مکمل
20:37وہ یاد دہانی
20:38سور مؤمنون کے شروع میں
20:39بندہ مومن کی بڑی پیادی صفات
20:41جنب الفردوس پانے والے
20:42وہ بیسک کوالٹیز ہیں
20:43بندہ مومن کی
20:44یہ تکمیری صفات ہیں
20:46یہ فریشنگ ٹچیز ہیں
20:47بندہ مومن کے کردار کے
20:49حوالے سے
20:50جن صفات کا
20:51دس صفات کا
20:51ہم نے مطالعہ کیا
20:52اللہ اپنے سچے
20:54ایمان والے بندوں میں
20:55ہمیں شامل فرمائے
20:56چھوڑا سا وقفہ لیتے ہیں
20:57اس کے بعد انشاءاللہ تعالیٰ
20:59انشاءاللہ تعالیٰ
20:59انیسے پارے کا
21:00مزید مطالعہ آپ کے سامنے رکھیں گے
21:01ملاقات ہوتی ایک وقفے کے بعد
21:02السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
21:05اسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
21:07ناظرکہ ہم خوش آمدید
21:08کہتے ہیں آپ کو
21:09اللہ تعالیٰ کی توفیق سے
21:10خلاصہ مزامین قرآن حکیم کے
21:13بیان کا سسلہ جاری ہے
21:14آج ہم قرآن حکیم کے
21:15انیسے پارے کے
21:16مزامین کا خلاصہ
21:17اور اہم موضوعات
21:18آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں
21:20اب جو آیات انیسے پارے میں
21:21وہ سورت الشعرہ کی
21:23آیت نمبر ایک
21:24تا سورت النمل
21:25آیت نمبر انسٹھ
21:26سورت الشعرہ
21:27مکمل شامل ہے
21:29انیسے پارے میں
21:29اور سورت النمل
21:31کا آغاز بھی ہوتا ہے
21:32اور آیت نمبر انسٹھ
21:33تک کی آیات
21:34انیسے پارے میں
21:35شامل ہیں
21:35آئیے سف سے پہلے
21:36سورت الشعرہ
21:38کے تعرف کی طرف
21:39چلتے ہیں
21:39شاعر کی جمع
21:41شعرہ
21:42اس سورت کے آخر میں
21:43برے قسم کے
21:44شاعروں کا پول
21:45بھی کھولا گیا ہے
21:46اور اچھے شعرہ
21:47کی صفات کا
21:48تذکرہ بھی کیا گیا ہے
21:49سورت الشعرہ
21:51کا تعرف آپ کے
21:51سامنے رکھتے ہوئے
21:52پہلا نکتہ پیش کریں گے
21:53آیات کی تعداد
21:55کے لحاظے
21:55سورت الشعرہ
21:56طویل ترین
21:57مکی صورت ہے
21:58ایک ہے سورت العراف
22:00وہ اپنے حجم
22:01یعنی سائس
22:02کے اعتبار سے
22:03طویل ترین
22:03مکی صورت
22:04لیکن سورت الشعرہ
22:06آیات کی تعداد
22:07کے اعتبار سے
22:08طویل ترین
22:09مکی صورت ہے
22:09اس میں آیات
22:10مختصر مختصر ہیں
22:11سات انبیاء
22:12اکرام علیہ السلام
22:14کا
22:14اپنی قوم
22:15کو بڑی
22:15حمت
22:16اور عظیمت
22:17کے ساتھ
22:17اللہ تعالیٰ کی
22:18وحدانیت کی
22:19دعوت دینے
22:20کا ذکر ہے
22:20انبیاء
22:21اور رسول
22:21کے حالات
22:22اور واقعات
22:22بار بار
22:23قرآن پاک
22:24میں بیان ہوتے ہیں
22:24مستقل
22:25مکی صورتوں
22:25میں بیان ہوتے ہیں
22:26اس کی بڑی
22:27اہم وجہ
22:27یہ بھی ہے
22:28کہ حق و باطل
22:30کا مارکہ
22:30ہر دور میں سجا
22:31اور جب قرآن پاک
22:32نازل ہو رہا تھا
22:33تو حق و باطل
22:34کا مارکہ
22:35جاری تھا
22:35ایمان وال
22:36استقامت
22:37کا مظاہرہ
22:37کر رہے تھے
22:38اور
22:38اہلِ باطل
22:39کے طرستے
22:40ان پر ظلم
22:41ستم کے پہاڑ
22:41توڑے جارے تھے
22:42ایسے میں
22:43ایمان والوں
22:44کی رہنمائی
22:44کے لیے
22:45رسولوں کی
22:46واقعات
22:46کا بیان
22:46بڑا اہم ہے
22:47کس طرح
22:48اللہ کے رسولوں
22:49نے استقامت
22:49دکھائی
22:50کس طرح
22:50پیغمبروں کے
22:51سچے ایمان والے
22:52ساتھی انہیں
22:53استقامت
22:53کا مظاہرہ
22:54کیا ہے
22:54پھر ان کے لیے
22:55اللہ تعالی کی
22:55مدد شامل حال
22:56ہوئی
22:57اور کس طرح
22:57مخالفین
22:58وہ اکر
22:59دکھاتے تھے
22:59مخالفت کرتے تھے
23:00لیکن پھر وہ
23:01مخالفین حق
23:02اللہ تعالی کی
23:03پکڑ کا شکار
23:04بھی ہوئے
23:04یہ رہنمائی
23:06بار بار
23:07قرآن پاک میں
23:07مکی صورتوں میں
23:08رسولوں کے
23:09واقعات کے
23:09ذریعے عطا
23:10کی جاتی ہے
23:11دعوت توہید
23:12کو قبول کرنے والے
23:13اہل ایمان کے
23:14نجات پانے
23:15اور کفار پر
23:16دنیا میں بھی
23:16عذاب اتارے جانے
23:17کا بیان ہے
23:18دنیا میں بھی
23:18نافرمانوں پر
23:19عذاب آتا رہا
23:20اللہ دکھا رہا ہے
23:21اللہ اس دنیا میں بھی
23:22تمہیں بتا رہا ہے
23:23کہ وہ قادر ہے
23:23سزا دینے پر
23:24اور ایمان والوں
23:25کو نجات وہی
23:26اللہ دیتا ہے
23:27تو اللہ قادر
23:28ایمان والوں کی
23:28مدد فرمانے پر
23:29یہی کچھ
23:30اصل میں تو آخرت میں
23:31ہوگا
23:43ان واقعات کے ذریعے
23:44کفار مکہ کی
23:45مخالفت پر
23:46نبی کریم
23:47صلی اللہ علیہ وسلم
23:48اور آپ کے
23:49صحابے کرام
23:50رضی اللہ عنہم
23:51کو تسلی
23:52عطا کی گئی ہے
23:53یہ بات پہلے بھی
23:54جیسے کہ آپ کے
23:54سامنے ذکر کی گئی
23:55ایک اور بڑا
23:56اہم نقطہ
23:57اس صورت کی آیات
23:58کے اعتبار سے
23:59ہر رکو کے اختتام پر
24:00یہ آیات دہرائی گئی ہیں
24:01آئیے سمجھتے ہیں
24:02ہر قصے کے بعد
24:03دو آیات
24:06یعنی بے شک
24:07اس واقعے میں
24:08ایک نشانی ہے
24:08وما کان اکثرہم
24:10مؤمنین
24:11اور ان میں سے
24:11اکثر ایمان
24:12لانے والے نہ تھے
24:13وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ
24:14الْعَزِيزُ الْوَحِيمُ
24:16اور بے شک
24:16آپ کا رب
24:17یقیناً
24:18وہ غالب ہے
24:19رحم فرمانے والا
24:20یہ دو آیات
24:21کل آٹھ بار
24:22دہرائی گئی ہیں
24:23یہ جو قصے بیان ہوئے
24:24سورت الشعراء میں
24:25بار بار
24:26ان دونوں آیتوں
24:27کو دوہرائے گیا
24:28اور اللہ تعالی
24:28سبق آموزی
24:29کے طور پر عبرت
24:30کے طور پر
24:31یہ باتیں سامنے
24:31رکھ رہا ہے
24:32اچھا
24:32ان دونوں آیات
24:34کے آخر میں
24:34الفاظ کے ہیں
24:35العزیز ورحیم
24:36یہ اللہ کی دو صفات
24:37اللہ عزیز ہے
24:38کل اختیار رکھنے والا
24:39کل غلبہ رکھنے والا
24:41وہ مجرمین
24:42اور مخالفین
24:43حق کی پکر کرنے
24:44کی پوری قدرت
24:44رکھتا ہے
24:45اللہ الرحیم
24:46رحم فرمانے والا
24:47وہ اپنے
24:48سچے ایمان
24:48والے بندوں
24:49کو نوازے گا
24:50ان کو نصرت
24:51عطا فرمائے گا
24:52ان کو رحمت
24:53سے نوازے گا
24:54آخرت
24:54من جنت
24:55عطا فرمائے گا
24:56اللہ رحم فرمانے والا
24:58ہے
24:58تو ان دو صفات
24:59میں بھی
24:59ایک انزار
25:01کا پہلو ہے
25:01دراوے کا
25:02اور ایک
25:02بشارت کا پہلو ہے
25:03آخری نکتہ
25:04سورہ شورا کے
25:05تعارف کے
25:06تعلق سے ہیں
25:06آخر میں
25:07فضائل و عزمت
25:08قرآن حکیم کا
25:09بیان ہے
25:17شعارہ کے حوالے سے
25:18تعارف کے زیل میں
25:19اب چند منتخب آیال
25:20جن کا ہم نے انتخاب کیا
25:22آئیے ان کے
25:23متعلق کی طرف
25:23چلتے ہیں
25:24سب سے پہلے جن آیات
25:25کا ہم نے انتخاب کیا
25:26وہ سورہ
25:27شعارہ کی آیات
25:28اٹھتر تا بیاسی
25:29صفات رب العالمین
25:31کا ذکر
25:32ابراہیم علیہ السلام
25:33کا تذکرہ ہو رہا ہے
25:34اور بڑی قیمتی باتیں
25:36اللہ تعالیٰ کی
25:36شان کے حوالے سے
25:37اس کی صفات کے حوالے سے
25:38ابراہیم علیہ السلام
25:40کی گفتگوں میں
25:40سامنے آتی ہیں
25:41یہ آیات ہیں
25:42سورہ
25:43شعارہ کی آیات
25:44اٹھتر تا بیاسی
25:46سیونٹی ایئر سے ایٹی ٹو
25:47ابراہیم علیہ السلام
25:48کا تذکرہ ہو رہا ہے
25:49اور یہاں ذکر ہے
25:50اللہ تعالیٰ کی توہید
25:54کو وہ بیان فرما رہے ہیں
25:55کہ اللہ ہے
25:56جس نے مجھے پیدا فرمایا
25:57فہو یہدین
25:58پس وہی مجھے رحنمائی
26:00عطا فرماتا ہے
26:01والذی ہوا یتعیمونی
26:03ویسخین
26:03اور وہ اللہ ہی ہے
26:05جو مجھے کھیلاتا ہے
26:06اور پیلاتا ہے
26:07پیغمبرانہ
26:08عاجزی کا بیان بھی ہے
26:09اور اللہ تعالیٰ کی
26:10عظمت کا تذکرہ بھی
26:12پیغمبر بھی کس کے محتاج
26:13اللہ سبحانہ وتعالی کے
26:15پیغمبروں کا خالق بھی کون
26:16اللہ سبحانہ وتعالی
26:17پیغمبروں کو بھی عطا کرنے والا کون
26:19اللہ سبحانہ وتعالی
26:21پیغمبروں کو بھی نعمتیں دینے والا کون
26:23اللہ سبحانہ وتعالی
26:24ہم بھی اللہ تعالیٰ ہی کے موتاج
26:26اسی نے ہمیں پیدا کیا ہے
26:27وہی ہمیں رہنمائی دیتا ہے
26:29وہی ہدایت دینے والا ہے
26:30وہی ہمیں کھلاتا ہے
26:32وہی ہمیں پلاتا ہے
26:33وَإِذَا مَرِدْتُ فَهُوَ يَشْفِينَ
26:35ابراہیم علیہ السلام آگے دیکھر فرمارے ہیں
26:37اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں
26:39تو پس وہ مجھے شفا عطا فرماتا ہے
26:41سبحان اللہ
26:42شفا اللہ ہی دیتا ہے
26:44الشافی اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے
26:54اور آداب کا بیان ہے
26:55خالق وہ ہے
26:56رہنمائی وہ دیتا ہے
26:57کھلاتا وہ ہے
26:58پلاتا وہ ہے
26:59اور جب میں بیمار ہوتا ہوں
27:01وہ شفا بھی دیتا ہے
27:02سبحان اللہ
27:03تو بیماری بھی اللہ ہی کی طرف سے
27:05مگر بہرحال جہاں کہیں کسی معاملے میں
27:08ذرا خیر کے برعکس کچھ پہلو ہو
27:10کچھ نقصان کا پہلو ہو
27:12تو اللہ کے طرف نہیں
27:13اپنی طرف نسبت کی جا رہی ہے
27:15اس سے معلوم ہوا
27:16کہ پیغمبروں کو بھوک بھی لگتی تھی
27:18ان کو پیاس بھی لگتی تھی
27:19ان پر کبھی مرض کا معاملہ بھی آ جائے کرتا تھا
27:22ہاں پیغمبر اللہ کے خاص چنے ہوئے بندے ہوا کرتے ہیں
27:26بارحال
27:27وَإِذَا مَرِدْتُ
27:28اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں
27:30فَهُوَ يَشْفِينَ
27:31وہ مجھے شفا عطا فرماتا ہے
27:33یہ آجزی کا بیان
27:34وَالَّذِي يُمِیتُنِي ثُمَّ يُحْيِينَ
27:36اور وہ اللہ ہے
27:37جو مجھے وفاد دے گا
27:39وہی مجھے زندگی بھی عطا کرے گا
27:40جس نے پہلی مرتبہ پیدا فرمایا
27:42وہ موت دینے پر میں قادر
27:44وہی دوبارہ زندہ کرنے کی بھی قدرت رکھتا ہے
27:46وَالَّذِي أَطْمَعَ يَغْفِرَ لِي خَوْتِئَةِ يَوْمَدِّينَ
27:51اور وہ اللہ ہے
27:52جس سے میں امید رکھتا ہوں
27:54کہ مجھے خطائیں میری بخش دے گا
27:56پدلے کے دن
27:57اللہ اکبر
27:58پیغمبر تو معصوم ہوتے ہیں
27:59یہ ان کی آجزی کا بیان ہوتا ہے
28:01پیغمبر استغفار کا بھی اعتمام کرتے
28:03وہ ان کی آجزی کا بھی اظہار ہوتا ہے
28:05اور امت کے لئے تعلیم ہوا کرتی ہے
28:08مگر کس سے امید
28:09اللہ سبحانہ وتعالی سے
28:10گناہوں کو بخشنے والا کون ہے
28:12اللہ سبحانہ وتعالی
28:13خطاؤں کے معاف فرمانے والا کون ہے
28:15اللہ سبحانہ وتعالی
28:16یہ اللہ تعالی کی بڑی پیاری صفات بیان ہو گئیں
28:18دوبارہ اس کو دہر آلیتے ہیں
28:19اللہ خالق ہے
28:20ہم مخلوق ہیں
28:21ہم محتاج ہیں
28:22اللہ کسی کا محتاج نہیں
28:24مخلوق تو محتاج ہوا کرتی ہے
28:25اچھا پھر مخلوق کو مخلوق سے کوئی توقع رکھنی چاہیے
28:28مخلوق کو مخلوق کا ڈر ہونا چاہیے
28:30مخلوق کو مخلوق سے نفع کی امیدیں رکھنی چاہیے
28:33نہیں بھائی
28:33مخلوق محتاج ہے
28:34ہم سب محتاج ہیں
28:36اللہ کسی کا محتاج نہیں
28:38اللہ خالق ہے
28:39وہ ہدایت دیتا ہے
28:40تو ہدایت کی دعا بار بار مانگتے ہیں نا
28:42اہدین السراط المستقیمِ اللہ
28:44ہمیں سیدھے راستے
28:45کہ ہدایت اتا فرما دے
28:46تو بار بار ہدایت مانگنی اللہ سے
28:48اللہ کھلاتا بھی ہے پیلاتا بھی ہے
28:50کھانے کے بعد کیا دعائیں ہم پڑھتے ہیں
28:52الحمدللہ اللہ
28:53اللہ اطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمین
28:57مسلمین
28:58ہاں یہ صحیح لفظ ہے مسلمین
28:59زیادہ روایات میں من کے بغیر مسلمین کا لفظ آیا
29:03الحمدللہ اللہ
29:04اللہ اطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمین
29:07تمام شکر تعریف اللہ کے لئے
29:08جس نے ہمیں کھلایا جس نے ہمیں پیلایا
29:10اور ہمیں مسلمان بنایا
29:11سبحان اللہ
29:12ہم کھاتے نہیں اللہ کھلاتا ہے
29:15ہم پیتے نہیں اللہ پیلاتا ہے
29:17یہ ہماری محتاجی کی طرف اشار ہے
29:19سبحان اللہ
29:20اور جب ہم بیمار ہوتے تو
29:21اللہ شفا عطا کرتا ہے
29:22صحت اللہ کی کتنی بڑی نعمت ہے
29:24بہت کم لوگ قدر کرتے
29:26حدیث مبارک میں آتا ہے
29:27صحت اور فرصت کا ہونا
29:28بہت کم لوگ ان دو نعمتوں کے قدر کرتے ہیں
29:31اللہ ہمیں قدر کرنے کی توفید
29:32البتہ
29:33اللہ کا دیا ہوا وجود
29:35بیماری بھی آگئے
29:35اس کے حکم سے
29:36شفا بھی وہی عطا کرتا ہے
29:38دوا بھی کرنی ہے
29:39اور اللہ سے دعا بھی کرنی ہے
29:40اور وہ اللہ
29:42موت بھی دیتا ہے
29:43اور وہی زندگی دے گا
29:44جس نے پہلی مرتبہ پیدا فرمایا
29:46اس کے لئے میں دوبارہ پیدا کرنا
29:47کوئی مشکل نہیں ہے
29:48اور جو اللہ
29:49ظاہری مادی نعمتیں عطا کرتا ہے
29:52وہی روحانی نعمتیں عطا کرتا ہے
29:54ہدایت بھی وہ دیتا ہے
29:55یہ روحانی نعمت ہے
29:55اور مغفرت بھی وہی فرمایا
29:57کہ روحانی نعمت ہے
29:58اسی سے مانگنا چاہیے
29:59اسی سے اپنی خطاوں اور گناہوں کی
30:01مغفرت کی التجا کرنی چاہیے
30:03اللہ تعالی ہمیں شکر ادا کرنے والا
30:05اور مانگنے والا بننے کی توفیق عطا فرمائے
30:08اگلی آیات جن کا انتخاب کیا گیا ہے
30:11یہ سورہ شعرہ کی آخر میں
30:13آیات دو سو چودہ اور دو سو پنگرہ
30:15نبی علیہ السلام سے مخاطبت
30:17اور امت کو بڑی اہم تعلیم عطا کی جا رہی ہے
30:19رشتداروں اور اہل ایمان کے بارے میں
30:22ہدایات سورہ شعرہ آیت دو سو چودہ دو سو پنگرہ
30:25ارشاد ہوا
30:26وَأَنذِرْ عَشِیرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ
30:29اور اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
30:31اپنے قریبی رشتداروں کو
30:33ڈرائی مراد اللہ کی پکڑ اور
30:35اللہ کے عذاب سے
30:36اپنی ذات کی بھی فکر کرنی ہے
30:38اور اللہ کے پیغمبر علیہ السلام
30:39تو ساری انسانیت کے لئے رسول بنا کر بھیجے گئے
30:41اللہ کے رسول علیہ السلام نے
30:43گھر والوں کو بھی دعوت دی ہے
30:44خاندان والوں کو بھی دعوت دی ہے
30:46ہم اور آپ جانتے ہیں
30:47سیرت کے کتابوں میں مطالعہ کرتے ہیں
30:49نبی علیہ السلام پر وحی کا آغاز ہوا
30:51تو چار قریبی افراد پہلے دن ہی ایمان لے آئے
30:54دوستوں میں سے صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ
30:57اور زوجہ محترمہ بیمی خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ
31:00آپ کے کزن سیدن علی رضی اللہ تعالی عنہ
31:02اور زید جو غلام پر آزاد کیے گئے
31:05زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ
31:07یہ چاروں افراد پہلے دن ایمان لے آئے
31:09پھر اللہ کا یہ حکم آئے
31:12اور نبی علیہ السلام
31:13اپنے قریب رشداروں کو
31:15اللہ کے عذاب سے ڈرائیے
31:16تو اللہ کے رسول علیہ السلام نے
31:17خاندان والوں کو کھانے کی دعوت پر بلایا
31:20پہلی مرتبہ وہ کھانا کھا کے
31:21بھاگ لیئے انہیں بعد نہیں سنی
31:23اور دوسری مرتبہ اللہ کے رسول علیہ السلام
31:26نے بلوایا دعوت کا اعتمام کیا
31:28بیمی خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ
31:30نے کھانا تیار کیا
31:32سیدن علی رضی اللہ عنہ
31:33اور سیدن عزید رضی اللہ عنہ
31:35انہوں نے کھانا سرف کیا
31:36اور اللہ کے نبی علیہ السلام نے خطبہ عطا فرمایا
31:38اللہ کی توحید کی دعوت پیش کی
31:40جنت اور جہنم کا ذکر کیا
31:42کل کے بارے میں فکر مند ہونے کا ذکر کیا
31:44اپنے خاندان والوں کو بلا کر
31:46حضور دعوت دی
31:47آج ہم سے بھی تقاد ہے
31:49اکیلے کے لئے نیک بننا کافی نہیں ہے
31:50یہ مسلمان کی شان کو زیم نہیں دیتا
31:53کہ وہ اکیلے کے لئے نیک بننے کی کوشش کرے
31:55قرآن پاک ہمیں بھی حکم دیتا ہے
31:56سورہ تحریم کے آیت مبر چھے میں
31:58کو انفسکم و احلیکم نارا
32:00اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ
32:03پھر ہم اپنے گھر والوں کے ساتھ
32:05اپنے رشداروں کی بھی دوستوں کی بھی پڑوسیوں کی بھی
32:07ہمارے جو beloved ones ہیں نا
32:09ہمارے محبوب ہمارے پیارے ان کی بھی فکر کریں
32:11کیا ہم اکیلے کے لئے جنت پر جانا پسند کریں گے
32:13تو کتنی خودغرضی کی بات ہو جائے گی
32:15یہ تو بڑا سیلفش ہو جانے کا معاملہ ہو جائے گا
32:18نہیں اپنی ذات سے بڑھ کر آگے
32:19اپنے گھر والے اپنے شداروں کی بھی فکر کریں
32:21یہ حکم امت کو بھی عطا کیا گیا
32:23دوسرا حکم اسی سورہ شوارہ
32:25کی آیت نمبر دوستو پندرہ میں
32:27وَقْفِتْ جَنَاحَكَ لِمَنِتْتَبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
32:31اور اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
32:33اپنے کاندھوں کو جھکائے رکھیے
32:35اہلِ ایمان میں سے وہ لوگ جنہوں نے آپ کی پیروی کی ہے
32:38سچے ایمان والے صحابے کرام
32:40رضی اللہ تعالی عنہ مجمعین
32:41ان کی دل جوئی کی جا رہی ہے
32:53اللہ تعالی صحابے کرام کی دل جوئی فرما رہا ہے
32:55اور حضور کو حکم دے رہا ہے
32:57اپنے کاندھوں کو جھکائے رکھیے
32:59ایمان والوں میں سے جنہوں نے آپ کی پیروی کی
33:01کاندھوں کو جھکائے رکھنے کا مطلب
33:03شفقت فرمانا نرمی فرمانا
33:05یہ الفاظ والدین کے بارے میں بھی آئے
33:08ہم پڑھ چکے سورہ بنی اسرائیل میں
33:09پندر وے پارے میں
33:10وَقْفِتْ لَهُمَ جَنَاحَ ذُلِّ مِنَا رَحْمَ
33:12اپنی رحمت اور آجزی اختیار کرتے
33:15وہ اپنے کاندھوں کو ان کے سامنے جھکائے رکھنا
33:17یا حضور کو صحابے کرام کے بارے میں
33:19بتایا جا رہا ہے
33:20شفقت کا معاملہ ہو نرمی کا معاملہ ہو
33:22اور حضور علیہ السلام کے ذریعے امت کو تعلیم دی جا رہی ہے
33:25مسلمان مسلمانوں کے ساتھ
33:27بھلا سلوک کریں
33:28اِنَّمَ الْمُؤْمِنُونَ اِخْوَا ایمان والے
33:30آپ اس میں بھائی بھائی ہیں
33:31سورہ حجرات میں آیت 10 میں ذکر آتا ہے
33:33ہم نے احادیث کا مطالب بچپن سے کیا
33:35مسلمان ایک جسم کی معنی ہے نا
33:37ایک امارت کی معنی ہے نا
33:39تو ایک دوسرے کے ساتھ
33:40حمدردی کا معاملہ
33:41شفقت کا معاملہ
33:42کام آنا
33:43آج ہی باتیں بہت پیاری ہیں
33:45اور آج حرکتیں ہماری کیسی ہیں
33:46گھر گھر میں لڑائی جھگڑوں کا معاملہ
33:48ناراضگیوں کا معاملہ
33:49غیبت کا معاملہ
33:51گالم گلوچ کا معاملہ
33:52قبضوں کا معاملہ
33:53وراست کے مال ہڑپ کرنے کا معاملہ
33:55چوری کے معاملے
33:56ڈاکے کے معاملے
33:57دھوکے کے معاملے
33:57فراد کے معاملے
33:58بے وقوب بلا کر مال ہڑپ کرنے کے معاملے
34:00یہ مسلمانوں کو زیب دیتا ہے
34:02استغفراللہ
34:02پیغمبر کو سچے ایمان والوں کے ساتھ
34:05آجزین اور نرمی اختیار کرنے کا حکم
34:07یہ امت کو تعلیم ہے
34:09کہ امت امت کے افراد کے ساتھ
34:11نرمی کا شفقت کا رحمت کا
34:12آفیت کا آسانی کا
34:14معاملت کا نصرت کا معاملہ کرے
34:16اللہ تعالی ہم اس کی توفیق عطا فرمائے
34:19یہ الحمدللہ سورہ شعارہ کی
34:21چند منتخب آیات کا
34:22مطالعہ ہم نے آپ کے سامنے رکھا
34:24سورت شعارہ کے بعد
34:25قرآن پاک 19 پارے میں
34:26سورت نمل کا آغاز ہوتا ہے
34:28نمل چیونٹی کو کہا جاتا ہے
34:30ایک ہے نحل چودھوے پارے میں
34:31وہ شہد کی مکھی کو کہتے ہیں
34:33نمل چیونٹی کو کہا جاتا ہے
34:34اور مشہور واقع ہے نا
34:36سلیمان علیہ السلام
34:37اپنا لشکر لے کر
34:38ایک علاقے کی طرف گئے ہیں
34:40تو وہاں جو چیونٹیوں کی ملکہ تھی
34:42اس نے کہا کہ بھئی احتیاط کرنا
34:44ان کا لشکر تمہیں کچھل نہ دے
34:46تو نمل چیونٹی کو کہا جاتا ہے
34:48سورت کا نام النبل
34:49سورت النمل مکی صورت ہے
34:51آغاز میں قرآن حکیم سے
34:53ہدایت حاصل کرنے والوں کی صفات بیان کی گئیں
34:55جیسے انداز سورت البقرہ میں ہے
34:57غیب پر ایمان نماز قائم کرنا
35:00ایسی صفات کا ذکر
35:02سورت نمل کے شروع میں بھی ہے
35:03سورت البقرہ کی طرح
35:04تو آغاز میں قرآن حکیم سے
35:06ہدایت حاصل کرنے والوں کی صفات بیان کی گئی ہیں
35:09پھر چار انبیاء کرام علیہ السلام کی قصے بیان کیے گئے ہیں
35:13البتہ آگے اگلا نکتہ ہے
35:16حضرت سلیمان علیہ السلام کا قصہ
35:18زیادہ تفسیر سے بیان کیا گیا ہے
35:20جن کو اللہ تعالی نے حکومت
35:22شوکت و حشمت
35:24اور بہت سے موجزات عطا فرمائے
35:26سبحان اللہ
35:27قرندوں کی بولیاں ان کو سمجھ آتی تھی
35:29چیوٹی کا کلام چیوٹیوں سے
35:31چیوٹیوں کی ملکہ نے جو بقیہ چیوٹیوں سے
35:34کلام کیا وہ سن لیا تھا
35:36حضرت سلیمان علیہ السلام نے
35:38ہوا پر ان کو اختیار دے دیا گیا تھا
35:40جنات پر ان کو اختیار دے دیا گیا تھا
35:41ان کا تخت بڑا معروف اور مشہور ہے
35:43بڑے موزات اللہ تعالی نے سلیمان علیہ السلام کو عطا فرمائے
35:46ان کی اس شان کا بیان بھی
35:48سورت النمل میں آتا ہے
35:50آخرت کا انکار کرنے والوں کو جواب دیا گیا ہے
35:52منکرین آخرت کا رد کیا گیا ہے
35:54قیامت کی علامات
35:56اس کے دلائل
35:57اس دن کے احوال
35:59اور انجام کو بیان کیا گیا ہے
36:01مکی صورتوں کے مستقل مدامین
36:03رسالت کے حوالے سے
36:04آخرت کے حوالے سے
36:06یہ بھی سورت النمل میں بیان کیے گئے ہیں
36:08اس کے بعد اب چلتے ہیں
36:09سورت النمل کی چند منتخب آیات کے بیان کے طرف
36:12اس حوالے سے سب سے پہلے جس آیت کا ہم نے انتخاب کیا
36:15یہ سورت النمل کی آیت نمبر انیس ہے
36:17اور دعا سلیمان علیہ السلام کا ذکر ہے
36:21بڑی پیاری بڑی قیمتی
36:23بڑی عاجزی والی دعا کا تذکرہ ہو رہا ہے
36:25سورت نمل آیت نمبر انیس اشاد ہوا
36:27رب اوزعنی
36:29اے میرے رب مجھے توفیق عطا فرما
36:32ان اشکر نعمتک اللتی انعمت علی وعلا والدی
36:37کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں
36:41جو تُو نے مجھ پر فرمائی
36:42اور میرے والدین پر فرمائی
36:44وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ
36:47اور ایسا عمل میں نیک کروں
36:49اے اللہ جس سے تُو راضی ہو جائے
36:52وَأَدْخِلْ لِي بِرَحْمَتِكَ فِي عَبَادِكَ الصَّالِحِينَ
36:56اور اے اللہ اپنی رحمت سے مجھے
36:58تُو نیک بندوں میں
36:59اپنے نیک بندوں میں شامل فرما
37:01اللہ اکبر
37:02اوزعنی
37:05وَزَعْ وَاوزَعِين
37:06جو روٹ ورڈ ہے جس سے اوزعنی
37:08کا لفظ بنا ہے
37:09اس کا مفہوم ہے
37:10تھامے رکھنا
37:11سبحان اللہ
37:12کیا مطلب تھامے رکھنا
37:13اللہ نے جو کچھ عطا فرمایا
37:15بندہ آجزی اختیار کرے
37:16ان کے ساری اختیار کرے
37:18شکر گداری کا روئی اختیار کرے
37:20پھٹ نہ پڑے
37:20تکبر میں نہ جائے
37:22یہ اس کا ویسے گہرائی میں مفہوم ہے
37:24عام ترجمہ کیا ہے
37:25رَبِ اَوزِعْنِي
37:26اے مِرے رہے مجھے توفیق دے
37:28اَنْ اَشْكُرَنِ عَمَتِكَ اللَّتِي
37:30اَنْ عَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَي
37:31کہ میں شکر ادا کروں
37:33تیرے اس نعمت کا
37:33جو تُو نے مجھ پر فرمائی
37:34اور میرے والدین پر
37:36سبحان اللہ
37:36شکر گزار بننے کی دعا
37:38کا ذکر ہو رہا ہے
37:39اللہ تعالیٰ نے
37:40قرآن پاک میں جگہ اشارت فرمایا
37:42وَقَلِلُ مِنِ عِبَادِيَ الشَّكُور
37:44اور میرے بندوں میں
37:45تھوڑے یہ جو شکر ادا کرنے والے
37:47اللہ اکبر
37:48شکر گزار بننا
37:49بڑا درجہ ہے
37:50بڑا معاملہ ہے
37:51بارحال
37:51سلیمان علیہ السلام دعا کر رہے
37:53اور وہ نعمت جو تُو نے
37:54میرے ماباپ پر فرمائی
37:55ماباپ کو یاد بھی رکھنا ہے
37:57ارے ماباپ کے ذریعے سے
37:59ہمیں بہت کچھ ملانا
38:00سبحان اللہ
38:01تو اور
38:01سلیمان علیہ السلام کے والد کون ہے
38:03دعود علیہ السلام
38:04وہ بھی اللہ کے پیغمبر ہیں
38:05سبحان اللہ
38:06اللہ ان کو خلافت کا منصب عطا کی
38:08یا نبوت عطا کی
38:09سبحان اللہ
38:09تو کس قدر بڑی نعمت
38:11تو ماباپ پر جو نعمت ہوئی وہ
38:13اور جو اللہ
38:13تُو نے مجھ پر نعمت فرمائی
38:14اس کا شکر ادا کرنے کی
38:16توفیق عطا فرما
38:17پیغمبر تو
38:18کس قدر عاجزین کے ساری والے ہوتے
38:20کس قدر عظیم ہوتے
38:21اس کے باوجود دعائیں کر رہے ہیں
38:23ہم اللہ کی شکر گدار
38:25بندے بندے کے حوالے سے
38:26فکر مند رہتے ہیں
38:28یہ ہمیں غور کرنا چاہیے
38:29کھاتے رہتے ہیں
38:30پیتے رہتے ہیں
38:39اور اللہ ایسے نیک عمل کی
38:41توفیق عطا فرما
38:42جس سے تُو راضی ہو جائے
38:43بہت پیاری بات ہے
38:45عمل ہمیں بہت اچھے لگ رہے ہوں
38:46لیکن شاید اللہ کی اچھے نہ ہو
38:48پھر عمل ہم بڑا زبدس کر رہے ہیں
38:50بڑا زبدس ہم نے اس کو بہنت کر کے کیا
38:52اللہ راضی نہ ہوا فائدہ کیا
38:54تو اللہ ایسا نیک عمل جس سے تُو راضی ہو جائے
38:56جو تیرے نزدیک نیک عمل بھی ہو
38:59اور جو تیری رضا کا باعث بنے
39:01اس نیک عمل کی توفیق عطا کر دے
39:03تو نیکی کی توفیق بھی اللہ سے مانگنی
39:05بندگی کی توفیق بھی اللہ سے مانگنی
39:07سور فاتحہ کی الفاظ کیا ہے
39:09ایاک نعبدو و ایاک نستعین
39:11علم تیری ہی عبادت کرتے ہیں
39:13اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
39:15کیونکہ اللہ کی توفیق کے بغیر
39:16اللہ کی بندگی ممکن نہیں
39:17فرض نماز کا سلام پھیڑنے کے بعد
39:19جو دعائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے
39:29اور اپنے شکر کے لیے
39:30اور اپنے عمدہ عبادت کے لیے
39:31اللہ میں توفیق دے
39:32تیسری بات
39:33وَأَدْخِلْ لِي بِرَحْمَدِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِعِينَ
39:36اور اللہ اپنی رحمت سے
39:37تو مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل فرما
39:39صالحین میں شامل فرما
39:40نبوت کتنا بڑا منصب ہے
39:42مگر پیغمبر کی آجزی
39:43اللہ اپنی رحمت سے نیک بندوں میں شامل فرما
39:46اللہ اکبر کبیرہ
39:47پیغمبر اللہ سے نیک ہونے
39:49اور نیک بندوں میں شامل کیے جانے کی دعا کر رہے ہیں
39:52ہم گنہگاروں کو کس قدر
39:54اللہ سے مانگنے کا اعتمام کرنا چاہئے
39:56میں سمجھنوں کے اندازہ کیا جا سکتا ہے
39:58یہ دعا مفہوم کے ساتھ
40:00ہمارے ذہنوں میں رہے
40:01ترجمے کے ساتھ ذہنوں میں رہے
40:03اور اللہ ہمیں مانگنے کی توفیق عطا فرمائے
40:05اگلی دو آیاء جن کا ہم نے انتخاب کیا ہے
40:07وہ سورہ نمل کی آیاء تیس اور اکتیس
40:10حضر سلیمان علیہ السلام کا خط اور دعوت
40:12بہت پیارا مقام ہے
40:14اور ہم سب کو یاد بھی ہے
40:15کہ واحد مقام جہاں قرآن پاک میں کسی صورت میں
40:18بسم اللہ آئی ہے وہ یہی مقام ہے
40:20سورہ نمل آیاء تیس اور اکتیس
40:23انہو من سلیمان
40:24بے شک کہ سلیمان کی طرف سے ہے
40:26علیہ السلام
40:27و انہو بسم اللہ رحمن الرحیم
40:29اور اس کا آغاز ایسے ہے بے شک کہ
40:31اللہ کے نام سے جو رحمن ہے
40:33رحیم ہے
40:36ہمارے مقابلے میں سرکشی نہ کرنا
40:41اللہ اکبر کبیرہ
40:43یہ اتنا جامع مقام قرآن پاک کا
40:46خط کا
40:47کانٹینٹ کتنا ہے
40:48چن الفاظ
40:51سینڈر کون ہے سلیمان علیہ السلام
40:53کیسے شروع ہوتا ہے
40:54اللہ سبحان و تعالی کے نام سے
40:56میسج کیا ہے
40:58سرکشی نہ کرنا
40:59یہ قوم سبا کا ذکر
41:01ملکہ سبا جس کا نام بلقیس مشہور ہے
41:04وہ اس کو جو خط لکھا ہے
41:06اور وہ جو خط پہنچا ہے
41:08سبحان اللہ
41:09اور کیا اس کا کانٹینٹ ہے
41:11سرکشی نہ کرو
41:12یہ پیغمبر ہے سلیمان علیہ السلام
41:14بادشاہت بھی اللہ نے عطا فرمائی
41:16ایسی بادشاہت کہ کسی کو
41:17اللہ تعالی نے نہیں عطا فرمائی
41:19بڑے موزے عطا فرمائے
41:20تو جب پیغمبر کے پاس اختیار ہے
41:22تو اختیار کہاں استعمال ہو رہا ہے
41:23ظلم کے خاتمے کے لیے
41:25شرک کے خاتمے کے لیے
41:26سرکشی کے خاتمے کے لیے
41:27اسلام کی دعوت کے لیے
41:29اسلام کی سربلندی کے لیے
41:30اسلام کی قیام کے لیے
41:31اسلام کی نفاظ کے لیے
41:32واتونی مسلمین
41:33مسلم ہو کر ہمارے پاس آجاؤ
41:35سبحان اللہ
41:36یہ ہے شہان انداز
41:38لیکن دعوت کیا دی جا رہی ہے
41:40سرکشی نہ کرنا
41:41شرک نہ کرنا
41:42کفر نہ کرنا
41:42اور اللہ سبحان اللہ تعالی کے مقابلے میں
41:45کھڑے نہ ہونا
41:45مسلم ہو کر فرمائے بردار ہو کر
41:47ہمارے پاس آجاؤ
41:48بہت بڑی رہنمائی ہے
41:50ایک تو یہ کہ جو ہماری کمیونکیشن
41:52میکسیمم حد تک کوشش ہو
41:54کہ وہ بڑی کانسائز ہونی چاہیں
41:56سیمن سیز اور کمیونکیشن
41:57ہم نے بچپن میں پڑے ہیں
41:58سپنے پڑے ہیں
41:59انگلیش کی کلاسز کے اندر
42:01نہ جانے کیا کچھ
42:02ایک طرف رکھ دیں
42:03یہ ماسٹری پیس ہے
42:04کنان پاک میں
42:05بالکل ٹو دی پوائنٹ
42:06کانسائز قسم کی کمیونکیشن
42:08اور ٹو دی پوائنٹ بات
42:09لیکن شہانہ انداز کیا ہے
42:10طاقت ہے قوت ہے
42:12یہ طاقت ظلم کے لیے نہیں
42:13ظلم کے خاتمے کے لیے
42:14سرکشی کے نہیں
42:15سرکشی کے خاتمے کے لیے
42:16استعمال ہو رہی
42:17اے اصحاب اقتدار کے لیے
42:19حکمرانوں کے لیے
42:20بڑی رہنمائی ہے
42:21طاقت قوت تمہیں دی
42:22اللہ نے
42:22تو اللہ کے کلمے کی سر بلندی
42:24شرک اور کفر ظلم کے خاتمے
42:25اور اسلام کے نفاظ کے لیے
42:27اس کو استعمال ہونا چاہیے
42:28یہ دعوت بھی
42:29ہمارے سامنے ان الفاظ میں آ رہی ہے
42:32اگلا انتخاب ہے
42:33سورہ نمل کی آیت نمبر چالیس کا
42:35زندگی امتحان ہے
42:37یہاں وہ ملکہ سبا کے
42:39تخت کے آنے کا تذکرہ بھی ہو رہا ہے
42:41تفسیر واقعہ تفاصیل میں پڑھئے گا
42:43البتہ اس قدر بڑی شہانہ حکومت
42:46جو عطا ہوئی ہے
42:46حضر سلیمان علیہ السلام کو
42:48تو ان کی زبان پر کیا الفاظ آ رہے ہیں
42:51یہ بات ہم نے منتخب کی ہے
42:53اس آئیت کے حوالے سے
42:54فرمایا جا رہا ہے
42:55سورہ نمل کی آیت نمبر چالیس
43:00کہا اس شخص نے جس کے پاس
43:02کتاب میں سے علم تھا
43:04واضح نام موجود نہیں ہے
43:05بعض حضرات عاصف برخیہ کا ذکر کیا
43:07وہ ایک رائے کی طور پر ہے
43:09کونسا علم تھا یہ بھی ذکر نہیں
43:11لیکن کوئی علم تھا خاص
43:12کیا کہا ان صاحب نے
43:17میں تو اس ملکہ سبا کے
43:20تخت کو لا کر حاضر کر دوں گا
43:23آپ کے سامنے
43:24اس سے پہلے کہ آپ کی آنکھ
43:27جھپک کر پلٹ کر بھی آئے
43:28سبحان اللہ
43:29پلک جھپکتے ہی گویا
43:30کہ یہ تخت سامنے آ جائے گا
43:32فلما رآہ مستقرن عندہ
43:35پس جب انہوں نے وہ تخت
43:36اپنے سامنے رکھا ہوا
43:37موجود پایا
43:38قول سلیمان علیہ السلام نے
43:40عرض کی
43:40ہادا من فضل ربی
43:42یہ تو میرے رب کے فضل میں سے ہے
43:44پلک جھپکنے کی مقدار میں
43:46یہ آ گیا
43:46اللہ اکبر
43:48یہ تو اس شخص ہے
43:49دربار میں ہے
43:50سلیمان علیہ السلام کے
43:51اور سلیمان علیہ السلام کی
43:52باشاعت ہے
43:53سلیمان علیہ السلام کو
43:54نبوت عطا کی گئی
43:55ان کی عظمت کا عالم کیا ہوگا
43:57یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے
43:58ہمارے بہت سے لوگ کہتے ہیں
43:59وہ کون سا علم تھا بتائیے
44:01وہ کون سا نسخہ تھا بتائیے
44:02وہ کون سا کلام تھا بتائیے
44:04شارٹ کارٹس شائعہ میں
44:05ہاں
44:09حضور کی زندگی سے
44:10تو محنت کا عصوہ ملتا ہے
44:11اسی پر توجہ رکھیے گا
44:13مزید تفصیل میں نہیں جارے
44:14سلیمان علیہ السلام نے کیا عرض کی
44:16حادہ من فضل ربی
44:17یہ میرے رب کے فضل میں سے ہے
44:18یہ اللہ کا عطا کرنا ہے
44:20میرا کمال نہیں
44:20کیوں دیا اللہ نے فضل کیوں ہوا
44:22یہ سب کچھ نہیں عطا ہوا
44:24لیبلوانی تاکہ اللہ میرے امتحان لے
44:26اشکر ام اکفر کے آئے میں شکر ادا کرتا ہوں
44:28یا نا شکری کرتا ہوں
44:30یہ زندگی امتحان کے لئے
44:31باشاہت بھی ملی تو امتحان کے لئے
44:33اور اگر کسی کو غربت کے ساتھ جینا پڑ رہا ہے
44:35ہے سب کا سب امتحان
44:37کہیں شکر کا کہیں صبر کا
44:39ہاں
44:39وَمَن شَكْرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِينَ
44:42اور جو شکر ادا کرتا ہے
44:43تو اپنے بھلے کے لئے شکر ادا کرتا ہے
44:45اللہ کو ہماری شکر گذارے گی
44:46کوئی حاجت نہیں
44:47وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّ غَنِيٌّنْ كَرِيمٌ
44:50اور جس نے کفر یعنی ناشکری کے رویش اختیار کی
44:52تو بس بے شک میرا رب بڑا بینیاز ہے
44:55بڑا کرم فرمانے والا ہے
44:57تو زندگی امتحان کے لئے
44:59اللہ ہمیں اپنے شکر گذار بندوں میں شامل فرمائے
45:02اسی کے ساتھ
45:03صورت النمل کی آیات
45:04جن کا ہم نے انتخاب کیا
45:05ان کا مطالب مکمل ہوا آخر میں
45:07حاصل کلام کے طور پر
45:08چند ٹیک اوئے لیسنس آپ کے سامنے رکھتے ہیں
45:11اللہ تعالی نے ہمیں پیدا فرمایا
45:13وہی ہدایت عطا فرماتا
45:14اور وہی ہمیں کھلاتا پلاتا ہے
45:16اللہ تعالی ہی بیماری میں شفا عطا فرماتا ہے
45:19اللہ تعالی ہی ہمارے گناہ
45:21معاف فرمانے والا اسی سے مانگنا ہے
45:22ہمیں اپنے شداروں کو دین کے دعوت دینے
45:25اور نافرمانی پر اللہ تعالی کی پکڑ سے
45:27خبردار کرنا چاہیے
45:29یہ کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے
45:32انبیاء کرام علیہ وسلم کی اتباہ و پیریوی کرتے ہوئے
45:35ہمیں بھی
45:36اپنے اور اپنے آباؤ اجداد پر ہونے والی
45:38اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر کرتے ہوئے
45:41زندگی گزارنی چاہیے
45:43اصحاب اقتدار کو اپنے وسائل و قوت
45:45دین حق کی دعوت اس طر بلندی
45:47اور ظلم اس طرکشی کے خاتمے کے لئے
45:49استعمال کرنی چاہیے
45:50یہ حکمرانوں کے لئے بہت بڑا میسج ہے
45:52ہماری تمام ذین و جسمانی صلاحیتیں
45:54اور دنیا کی تمام نعمتیں
45:56اللہ تعالی کا فضل ہیں
45:57اور بطول امتحان ہمیں عطا کی گئی ہیں
45:59اللہ اپنے شکر و بہدار بندوں میں
46:01ہمیں شامل فرمائے
46:02پرگرام کے خطام پر معمول کے مطابق
46:04حدیث مبارک آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں
46:06فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
46:09رسول اللہ علیہ السلام نے اشارت فرمایا
46:11قرآن کریم فیصلہ کن کلام ہے
46:13اور کہ بے وقعت شہ نہیں
46:15اجام ترمیزی شریف کی روایت
46:17یہی بات قرآن پاک میں سورة طاریخ کی آیدن
46:19میں تیرہ چودہ میں آتی
46:20قرآن فیصلہ کن کلام ہے
46:22اور کوئی بے وقعت شہ نہیں
46:23جس کو تم نظر انداز کر دو
46:24اللہ ہمیں قرآن پاک سے محبت
46:27اور اس کے حقوق کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے
46:29آمین یا رب العالمین
46:31وآخر دعوانا
46:32ان الحمدللہ رب العالمین
46:33والسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Comments

Recommended