00:00جمہور میں انہدامی کاروائی انجام دینے کے بعد جمہور کشمیر میں سیاسی حل چل شروع ہوئی ہے جہاں برسر اقدار نیشنل کانفرینس لیفٹن گورنر انتظامیہ کو نشانہ بنا رہی ہے وہی بہرتیہ جنتہ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کاروائیہ حکومت ہی کرتی ہے
00:22میرے ساتھ اس وقت موجود ہے پیپلز جموکریٹک پارٹی کے سینئر لیڈر جنرل سیکریٹری امتیاز شان جی جن سے ہم بات کریں گے شان صاحب جس طرح سے جمہور کشمیر میں سیاسی صورتحال پائدہ ہوئی ہے
00:33اس کے بعد وزیر اعلی عمر عبداللہ کا بیان سامنے آتا ہے کہ جو آفیسر ہے جمہور ڈیولپنٹ ایتھارٹی کے یا دیگر ادھاروں کے جو سیوز ہے وہ تائنات لیفٹن گورنر منوشنر کی طرف سے کیے جاتے ہیں
00:49تو وہ ہمارے قابو میں نہیں ہے یعنی ان کا صاحب کہنا تھا کہ جس طرح کی یہ کاروائی ہوئی ہے یہ ہم نیشنل کانفرنس کی گورنمنٹ نے نہیں کیا
01:00دیکھیں بڑی افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ جس چیز کا خدشہ پیڈی پی کو پہلے سے تھا وہ ایک شروع بات ہو گئی ہے
01:14آپ نے شاید دیکھا ہوگا کنگن کے علاقے میں ابھی دو چار دن پہلے کشمیر میں انہوں نے ایسا کیا
01:20ایک گریب آدمی کا مقام توڑ دیا اور اس کے بعد ابھی جمعوں میں آپ کو یہ دیکھنے کو ملا
01:26اور اسی چیز کی وجہ سے ہمارے وحید رحمان پرہ صاحب نے ایک بل لائے تھا
01:35کہ کم از کم جتنے بھی لوگوں کے پاس یہ جو زمینے ہیں جو جنگلات میں کسی نے مکان بنایا
01:43یا کسی نے اس میں سٹیٹ لینڈ میں بنایا گاس چرائی میں بنایا جے ڈی اے لینڈ پہ بنایا
01:48کم از کم یہ دیکھیں جو دس بیس سال سے یہاں رہ رہے ہیں ان کو ایک بار ریگولائز کر دیجئے
01:53اور آنے والا جو وقت ہے اس کے لیے ایک کوئی بنا دیجئے پالیسی کی کیسے آگے چلنا ہے
02:02لیکن جو لوگ بچارے گریب لوگ تیس تیس چالیس چالیس سالوں سے رہائش پذیر ہیں
02:09تو ان کے لیے کم از کم ایک پالیسی بنا دیجئے ان کو ریگولائز کیجئے
02:12تو عمر صاحب کا کہنا تھا کہ نہیں یہ زمین چوروں کی حمایت کے لیے یہاں پہ بل لائے گیا ہے
02:21جہاں بی جے پی نے کہا کہ یہ زمین جہاد کرنے والوں کا بل ہے
02:27وہاں عمر صاحب یہ کہتے ہیں کہ یہ زمین چوروں کا بل ہے لینڈ گریپرز کا بل ہے
02:32دوسرے نے کہا یہ لینڈ جہاد ہے اور نیشنل کانخص کی سرکار
02:37اور خاص کر کے عمر صاحب کی اپنی وارڈنگ کہ یہ زمین چور لوگوں کا بل ہے
02:43تو بڑی بدقسمتی سے ہمیں جو خدشہ تھا جو اندیشہ تھا وہ چیز آج آپ کو گرونڈ پہ دکھ رہی ہے
02:51اور اس کے بعد جو ڈپارٹمنٹ خود عمر عبداللہ صاحب چلا رہے ہیں
02:57جس ڈپارٹمنٹ کی دگرانی خود عمر عبداللہ صاحب کر رہے ہیں
03:00اگر ان کو اس ڈپارٹمنٹ کا ہی پتا نہ ہو تو پھر مجھے لگتا ہے
03:04چیف مشرقی کرسی پہ بیٹھنا مجھے لگتا ہے کہ نائنصافی ہے اس کرسی کی
03:09بات کریں گے سیاسی پہلو کی آپ نے بھی متاثرہ خاندان کا دورہ کیا
03:14جن کا غرم اسمار کیا گیا آپ بھی وہاں پہ آئے
03:18بھارتی اجنتہ پارٹی کے سینئر لیڈر رویندر اینہ بھی وہاں آئے
03:22حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے لیڈران اور نائی بھی وزیر اعلی سرندر چودری بھی وہاں پہنچے
03:28کانگریس لیڈران بھی وہاں پہ پہنچے لیکن یہ جو آپس کی الزام تراشی ہے حکومت اور
03:34ال جی انتظامیہ کی کیا یہ ڈیول پاور سسٹم واقعی میں ہے کہ نیشنل کانفرنس ناکام ہو رہا ہے
03:39نہیں دیکھیں ڈیول پاور سسٹم میں نہیں مانتا ہوں کیونکہ اگر آپ کے پاس پی ایم یا سوی
03:48روڈ بنانے کی کیا بولتے ہیں پاورز ہیں آپ کے پاس پیڈولوڈی روڈ بنانے کی پاور ہے
03:54آپ کے پاس سٹیٹ سیکٹر کے روڈ بنانے کی پاور ہے ریبند کاٹنے کی آپ کے پاس پاور ہے
04:00تو آپ کو یہ نہیں پتا کہ کسی کا گھر گرایا جا رہا ہے اور آپ کہتے ہیں مجھے خبر ہی نہیں
04:06یہ تو وہی ہو گیا نا کہ بھئی دیئے تلے اندھیرہ یہ آپ کے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی بات ہے
04:13تو باقی پھوڈ سپلائی کو کون دیکھ رہا ہے شیف ہیزبینٹری کو کون دیکھ رہا ہے
04:17ہٹی کلچر کو کون دیکھ رہا ہے یہاں جب کشمیر کا سیب سڑ گیا اس وقت بھی یہی بات انہوں نے کہی
04:23جب مکان گرائے جا رہے ہیں اس وقت بھی انہوں نے یہی بات کہی
04:26جب بجلی کا بل بڑھایا جا رہا ہے یہ کہتا نہیں جی میں نے تو بڑھا ہی نہیں
04:31تو مجھے نہیں لگتا ہے کہ اگر ان کو کسی چیز کی خبر نہیں
04:35تو میں نے وہی کہا پھر اس کرسی کے ساتھ یہ زیادتی ہے
04:41پھر اس کرسی پہ بیٹھنا مجھے لگتا ہے کہ اس کرسی کے ساتھ زیادتی ہے
04:46اس لیے یہ صرف بہنہ بازی ہے یہ سب نیشنل کانفرنس کروا رہی ہیں
04:52یا ان کی جو سلینڈر پالسی ہے وہ کروا رہی ہیں
04:57بار بار نیشنل کانفرنس حکمرانوں کا حکومت کا کہنا ہے
05:01کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ خود بھی کہتے ہیں
05:04کہ سٹیٹھوڈ نہیں ہے سٹیٹھوڈ ریسٹور ہو
05:06تو وہ کام ہم کریں گے یہ کام ہوگا
05:09سٹیٹھوڈ فی الحل ہے بھی نئے یونین ٹیٹری ہے جمہو کشمی ریسٹور ہو
Be the first to comment