00:00Aگر یہ ارشاد ہوا تھا 130 آیت میں
00:02وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَى فِرَعَونَ بِالسِّنِينَ
00:06اور بے شک ہم نے فرعون والوں کو
00:10یعنی فرعون اور اس کی قوم کو پکڑ لیا سالوں کے ساتھ
00:15سالوں کے ساتھ
00:16انہیں سالوں کے ہی سالوں کے قہد کے ساتھ
00:18وَنَقْسِم مِنَ الثَّمَرَاتِ
00:20اور پھلوں کی کمی کے ساتھ
00:21لَعَلَّهُمْ يَذَّكَرُونَ
00:23تاکہ وہ نصیحت مانے
00:24اس سے معلوم یہ ہوا کہ
00:26اللہ تبارک و تعالی کبھی تو دے کر آزماتا ہے
00:29اور کبھی چھین کر آزماتا ہے
00:31کمی میں مبتلا کر کے آزماتا ہے
00:33اور اکثر جو اللہ تعالی کمی میں مبتلا کرتا ہے
00:36وہ دراصل نصیحت عطا فرمانہ مقصود ہوتا ہے
00:39کہ آدمی تنگدستی میں جب مبتلا ہو جائے گا
00:42تو اس کو یقین ہوگا کہ ایک ضرور رب ایسا ہے
00:45جس نے ہمیں تنگدستی میں مبتلا کیا
00:47اور یقیناً جو نعمت لینے پر قادر ہے
00:50وہ عطا فرمانے پر بھی قادر ہے
00:52تو اسی رب کے طرف رجوع کیا جائے
00:54تو یہ نصیحت عطا فرمانے کے لئے
00:56بعض اوقات اللہ تبارک و تعالی
00:58اس طرح آزمائش اور قہت میں مبتلا کرتا ہے
01:00لہذا انہیں بھی قہت میں مبتلا کیا
01:03تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں
01:04فَإِذَا جَاءَتُهُمُ الْحَسَنَا
01:07تو جب انہیں کوئی بھلائی حاصل ہوتی
01:09قَالُوا لَنَا هَذِهِ
01:11تو وہ کہتے کہ یہ ہمارے لئے ہے
01:13یہ ہمارے لئے ہے
01:15مطلب یہ تو ہماری وجہ سے ہے
01:16ہم نے حکمت اختیار کی
01:18تو یہ حاصل ہو گئی
01:19وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّعَتُونَ يَتْطَيَّرُوا بِمُوسَى وَمَمَّعَهُ
01:23اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچتی
01:26تو وہ موسیٰ علیہ السلام
01:27اور جو آپ کے ساتھ تھے
01:29ان کے ساتھ بدشگونی لیتے تھے
01:32بدشگونی کا مظہرہ کرتے تھے
01:34حاصل کرنے کا مظہرہ کرتے تھے
01:36یعنی یہ کہتے تھے
01:37تو موسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے
01:39مصیبت ہم پہ آگئی
01:40یا ان کے قوم کی وجہ سے
01:41ہم پر مصیبت آئی
01:42اس سے معلوم ہوا
01:43کہ بدشگونی اختیار کرنا
01:45یہ کفار کا طریقہ رہا ہے
01:47مسلمان کا نہیں
01:48اور اسلامی نقطہ نگا سے
01:50یاد رکھئے
01:50کہ بدشگونی کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہوتی
01:54نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
01:56نے اس سے سختی کے ساتھ منع فرمایا
01:59لہذا ارشاد فرمایا
02:01کہ جب تمہارے دل میں
02:02کسی چیز کے بارے میں
02:03بدفالی یا بدشگونی پیدا ہونے لگے
02:05تو اس کام کو کر گزرو
02:07یہ بخاری کی روایت ہے
02:08کہ اس کام کو کر گزرو
02:10ہوگا وہی جو اللہ تعالی و تعالی چاہتا ہے
02:12لہذا جو یہ بعض اوقات
02:14کہا جاتا ہے
02:15کالی بلی رستہ کار جائے گی
02:17تو یہ مسئلہ ہو جائے گا
02:18جوتی میں جوتی رکھ دی جائے گی
02:19تو یہ ہو جائے گا
02:21یا جیسے
02:21بہت سے اور معاملات ہوتے ہیں
02:25مثال کے طور پر
02:26اگر رات میں جھاڑو دی
02:28تو اس سے تنگدستی واقع ہو جائے گی
02:30یا اسی طرح کہا جاتا ہے
02:31کہ منگل کی دن کپڑا کٹا
02:33تو وہ جل جائے گا
02:34یا کوئی مطلب اور نقصان ہو جائے گا
02:37تو یہ تمام بدشگونیاں ہیں
02:39ان سے ہمیں بچنا چاہئے
02:40ہاں یہ ضرور یاد رکھئے
02:42کہ اکابرین سے منقول ہے
02:44کہ انہوں نے
02:45اس قسم کی باتیں کہیں ہیں
02:46یعنی اگر جیسے
02:48رات میں جھاڑو دی
02:49تو تنگدستی ہو جائے گی
02:50یہ بزرگوں کا قول بھی آپ کو ملے گا
02:52اسی طرح منگل کی دن اگر کپڑا کٹا
02:54تو وہ کپڑا جل جاتا ہے
02:56یا ڈوب جاتا ہے
02:58اس قسم کی اقوال بھی ملیں گے
02:59لیکن خدا نہ خواستہ
03:01ان اکابرین نے
03:02بدشگونی پیدا کرنے کے لیے
03:04یا بدشگونی لیتے ہوئے
03:06یہ باتیں نہیں کی
03:07اس میں حکمت یہ پوشیدہ ہوتی ہے
03:09کہ بعض ایسی بے سروپہ باتیں
03:12لوگوں میں معروف اور مشہور ہو جاتی ہیں
03:15اس وقت اگر لوگوں کو یہ کہا جائے
03:17کہ تم ان باتوں کے لحاظ نہ کرو
03:18بلکہ صرف اللہ تعالیٰ پر تبکل کرو
03:20یہ چیزیں کوئی موصر نہیں ہیں
03:22رات میں جھاڑو دینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا
03:24اصل تو فائل حقیقی اللہ تعالیٰ ہے
03:26منگل کے دن کپڑا کٹنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا
03:29اصل تو جلانے والا
03:30دوبانے والا
03:31اللہ تعالیٰ و تعالیٰ ہے
03:33لوگوں کو یہ کہہ کر ان کاموں سے روک دیا جائے
03:36اور اگر بالفرض وہ ہی ہو جائے
03:38جیسا مشہور ہے
03:39مثلا کسی کو آپ نے کہا
03:42رات میں جھاڑو دو
03:45اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا
03:46اللہ تعالیٰ تعالیٰ فرمانے والا ہے
03:48لیکن مشہور یہ ہے کہ رات میں جھاڑو دیں گے
03:50تو تنگدستی ہو جائے گی
03:51اب وہ شخص نے آپ کے کہنے پر جھاڑو دی
03:53اور واقع اس کی گھر میں تنگدستی آگئی
03:56تو ایسی صورت میں
03:57اگر وہ ضعیف العیتقاد ہے
03:59تو اللہ تعالیٰ پر سے
04:02اس کا توقع ہٹے گا
04:03اور ان بے سروپہ باتوں کے طرح بڑھ جائے گا
04:05لہذا کابرین نے یہ حکمت اختیار کی
04:08کہ اس قسم کے جو اس زمانے میں
04:09ان کے زمانوں میں باتیں مشہور تھیں
04:11ان کاموں سے لوگوں کو روک دیا
04:13مثلا رات میں جھاڑو مت دو
04:15اس لیے نہیں کہ اس جھاڑو دینے کے وجہ سے
04:17تنگدستی آئے گی
04:18بلکہ اس وجہ سے
04:19کہ اگر ان کو ہم
04:20یہ اس کام کے کرنے کا حکم دیں
04:22کہ تم کرتے جاؤ نہ رکو
04:24اور پھر خدا نہ خاصتہ
04:25جسے بات مشہور اس کے مطابق ہو جائے
04:27اور وہ ان مشہد الہی کے مطابق ہوگی
04:29تو ان کا اعتقاد متزلزل ہوگا
04:31یہ پہلے ضعیف الاعتقاد ہیں
04:33اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ میں
04:35کوئی نازیبہ کلمہ کہہ دیں گے
04:36اور ان کا ایمان ضائع ہوگا
04:38لیکن کامل ایمان والوں کے لیے
04:40جو مضبوط ایمان رکھتے ہیں
04:42صاحب علم لوگ ہوتے ہیں
04:43ضعیف الاعتقاد نہیں ہوتے ہیں
04:45انہیں اس قسم کی باتوں کا لحاظ رکھنے کی
04:47بلکل ضرورت نہیں ہے
04:49منگل کے دن کپڑا
04:50کیا باہر کے ملکوں میں منگل کے روز
04:52کپڑا نہیں کٹا جاتا
04:53تو کیا سارے کے سارے کپڑے جل رہے ہیں
04:55سارے کے سارے کپڑے پہن کے کوئی ڈوب رہا ہے
04:58اس طرح پاکستان میں ہزارہ درزی
05:01منگل کے روز کام کرتے ہیں
05:02کپڑے کٹتے ہیں
05:03یہ کوئی ایسا واقعی زور پذیر نہیں ہوتا
05:04یوں ہی اگر رات کو صفائی کی جائے
05:07تو اس سے گھر میں تنگدستی آتی ہے
05:17بلکہ بہت زیادہ خوشحالی ہوتی ہے
05:19تو اصل تو اللہ تبارک و تعالی
05:22عطا فرمانے والا ہے
05:23کمی دینے والی اللہ کی ذات ہے
05:25اس قسم کی بے سروپہ باتوں پر توجہ
05:27ایک کامل الایمان شخص کو
05:30ہرگز نہیں کرنی چاہیے
05:31ہاں ضعیف الایمان کو شخص ہو
05:33تو اس وجہ سے کہ یہ اس کا ایمان کا
05:35بالکل ہی خاتمہ ہو جائے گا
05:36انہیں اس کاموں سے روک دیا جائے
05:38تو اس میں ایک حکمت نظر آتی ہے
05:40لہذا یاد رکھیے کہ کوئی جھاڑو
05:42ایسی پیدا نہیں ہوئی
05:43کہ اللہ تعالی تو خوشحالی دینا چاہے
05:45اور آپ اس کو رات میں پھیریں
05:46تو وہ اللہ تعالی کے اس فیصلے کو بدل کے
05:48تنگدستی لے آئے
05:49کوئی ایسی قینچی پیدا نہیں ہوئی
05:51کوئی ایسا دن پیدا نہیں ہوا
05:52کہ اللہ تعالی اس دن میں تو نعمت
05:54عطا فرمانا چاہے
05:55یا اس دن میں تیار ہونے والی چیز
05:59کو دوام عطا فرمانا چاہے
06:01اور وہ قینچی یا وہ دن
06:02اس کو جلا دے یا ختم کر دے
06:04اس قسم کا اعتقاد
06:05ایک مسلمان کامل الایمان کا
06:07نہیں ہونا چاہیے
06:08تو بہرحال
06:11ان لوگوں نے
06:12جب ان کو کوئی برائی پہنچتی
06:13تو موسیٰ علیہ السلام
06:14اور ان کے ساتھ والوں کے ساتھ
06:15بدشگو نہیں لیتے
06:17کہ ان کی وجہ سے ایسا ہوا ہے
06:18سن لو کہ ان کے نصیب کی شامت
06:25تو اللہ کے یہاں سے ہے
06:26یعنی کیا مطلب
06:27کہ اگر ان کو کوئی برائی پہنچتی ہے
06:29تو یہ حقیقتاً
06:30موسیٰ علیہ السلام
06:30یا ان کے جو ساتھ رہنے والے
06:32معاذ اللہ
06:33ان کی نوہست کی بنا پر نہیں ہے
06:35بلکہ تو اللہ کی طرف سے ہے
06:37ان کو جو کچھ تکلیف پہنچ رہی ہے
06:39من جانب اللہ ہے
06:40وَلَكِنَّا أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
06:41اور لیکن ان میں سے اکثر
06:43جانتے نہیں
06:44یہ خبر نہیں رکھتے ہیں
06:45تو دیکھ لیجئے آخر جملے پہ غور کریں
06:47وَلَا اِنَّا أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
06:49اور لیکن ان میں سے اکثر
06:51جاہل ہیں لا علم ہیں
06:53اسی طرح ہمارے مسلمانوں کے اندر
06:54یہ جہالت عام ہے
06:55کہ انہیں علم نہیں ہے
06:57کہ حقیقتاً تو تنگ دستی دینے والی
06:59اللہ کے ذات ہے
06:59جھاڑو کیا کر لے گی
07:00اصل تو کپڑا جلانے والی ذات
07:03اللہ تعالیٰ کی ہے
07:03منگل کو روز کیا کر لے گا
07:05لیکن وہ مطلب
07:06ان باتوں پہ ایسا کامل یقین رکھتے ہیں
07:08کہ پھر ان چیزوں کو ترک کر دیتے ہیں
07:10اور اس پہ
07:11اللہ تعالیٰ کی طرف سے توجہ ہڑ جاتی ہے
07:21اور روزی عورت کے نصیب کی ہے
07:24اور اولاد شوہر کے نصیب کا ہے
07:27یعنی اگر روزی میں تنگ دستی پیدا ہوتی ہے
07:29تو بولتے ہیں
07:29یہ عورت کی نحوست کی بنا پر ہے
07:31کہ تنگ دستی پیدا ہوئی ہے
07:32یہ بھی غلط خیال ہے
07:34یہ بدشگونی لینے ہی ہوتا ہے
07:35ایسا نہیں ہوتا
07:36اللہ تعالیٰ ہی روزی عطا فرمانے والا ہے
07:39وہی اس میں کمی کرنے والا ہے
07:41کسی عورت کا نصیب
07:43آپ کے کاروبار پر اثر انداز نہیں ہوتا
07:46کہ ماذا اللہ اس کی وجہ سے کاروبار ڈاؤن ہونا شروع ہو جائے
07:49اور اگر بالفرض ہم کر لیں
07:52کہ عورت کی نحوست کی بنا پر ہوا ہے
07:54تو وہ تو ہوئی منوس چلیں
07:55آپ بابا رکت ہیں یا نہیں ہیں
07:58یہ آپ کی بھی نحوست ہے
07:59اگر شوہر کہے کہ
08:01ہاں میں بھی منوس ہوں ماذا اللہ
08:02تو پھر تو برابر ہو گئے عورت کے کیا قصور
08:04اور اگر آپ کہیں کہ میں بابا رکت ہوں
08:06تو آپ کی برکت کہاں چلے گئی
08:08اگر اس کی نحوست کام کر رہی ہے
08:09تو آپ کی برکت نہیں بھی تو کام کرنا چاہیے تھا
08:11لہذا یہ بالکل غلط خیال ہے
08:13کہ عورت کی نحوست کی وجہ سے کاروبار تباہ ہوتا
08:16یا روزی عورت کے نصیب کی ملتی ہے
08:18روزی ہر ایک کو اس کے نصیب کی ملے گی
08:21عورت کو عورت کے نصیب کی
08:22مرد کو مرد کے نصیب کی
08:24بلکہ اگر اللہ تبارک و تعالی نے
08:26اس عورت کی روزی شوہر کے ہاتھ میں رکھی ہے
08:29کہ اس کو نانفقہ دے گا
08:31تو عورت کے نصیب سے آپ کو روزی ملے گی
08:39بارک و تعالی جس کو چاہتا ہے
08:41اولاد سے نوازتا ہے لڑکے دیتا ہے
08:43کسی کو چاہتا ہے لڑکی عطا فرماتا ہے
08:45یہ کسی کے نصیب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے
08:47اور اس کا صراحتاً
08:50بطلان یوں سمجھ لیجئے
08:51کہ اگر کسی عورت کے ہاں
08:53مسلسل لڑکیاں پیدا ہو رہی ہوں
08:55تو اگر اولاد مرد کے نصیب کی ہے
08:57تو پھر عورت کو کیوں کہا جاتا ہے
08:59کہ تمہارے بچیاں کیوں پیدا ہو رہی ہیں
09:00بلکہ بعض وقت تو یہ جہلانا جملہ کہا جاتا ہے
09:03کہ یہ تو بچیاں ہی پیدا کرتی چلے جا رہی ہیں
09:05تو ماذا اللہ ماذا اللہ
09:07یہ عورت خود اپنی مرضی سے
09:08تو کوئی بچا پیدا نہیں کر رہی نا
09:10جنس کا انتخاب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے
09:12کسی انسان کی طرف سے نہیں ہوتا
09:14لہٰذا یہ تمام باتیں
09:17توجہ طلب ہیں
09:18کہ یہ طریقہ ہمیشہ کفار کر رہا ہے
09:20کہ بدشگو نہیں لینا
09:21کسی کوئی غلط بات
09:23کوئی مسئیبت پہنچے
09:24تو اسے کسی ایک فرد کی طرف
09:26کسی اور کی طرف منصوب کر دینا
09:29اچھائی پہنچے تو اپنی طرف
09:30برائی پہنچے تو دوسری کے طرف
09:32یہ طریقہ مسلمانوں کا
Comments