Skip to playerSkip to main content
  • 5 months ago

Category

📚
Learning
Transcript
00:00and now we will be a song of the Lord
00:05this is a song of the Lord
00:08and there are 11 verses
00:11in the name of the Lord
00:13this is the song of the Lord
00:16because in the first time there was a song of the Lord
00:20and there was a song of the Lord
00:22so the Lord was a song of the Lord
00:24and this is why Arab people were very well
00:26and they were very important to have a
00:28privilege of the Lord
00:30that Allah Fadeshori
00:34Now that Allah Fadeshori
00:36He was very important to Song of the Lord
00:40and this was the end
00:42Himisla
00:44that we have had 65
00:46and that we have loved
00:48that God and that would be
00:52for control
00:55It's not a good thing.
00:56But if it's an issue that if a man has a relationship with a man,
01:03it's a good thing.
01:08This is why you have a good thing.
01:11You have a good thing.
01:13That's why it's a good thing.
01:16شنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
01:19وَالْعَادِيَاتُ دَبْحَن
01:20قسم ان گھوڑوں کی جو دوڑتے ہیں سینے سے آواز نکلتی ہوئی
01:26یعنی اس حال میں دوڑتے ہیں کہ ان کے سینوں سے آواز نکلتی ہے
01:29فَالْمُورِيَاتِ قَدْحَن
01:31پھر پتھروں سے آگ نکالتے ہیں سم مار کر
01:35یعنی جو گھوڑے کے نیچے کھر ہوتا ہے
01:38اس کو سم کہتے ہیں
01:40اور وہ جو نال سے لگی ہوتی ہے
01:42لہکنچے لگاتے ہیں
01:43جو گھوڑا زمین پر مارتا ہے
01:44اور پتھری لے کر زمین ہو تو اس میں سنگاری نکلتی ہے
01:48اس کی اللہ تعالیٰ نے مثال دی
01:51کہ پھر پتھروں سے آگ نکالتے ہیں سم مار کر
01:54فَالْمُورِيَاتِ سُبْحَن
01:56پھر صُبو ہوتے تاراج کرتے ہیں
01:59صُبو ہوتی ہے تو تاراج کا مطلب
02:01تباہی مچا دیتے ہیں
02:03اور جو ان کے ساتھ ہوتے ہیں ان کو غلبہ دلواتے ہیں
02:07فَأَثَرْنَا بِهِ نَكْعَن
02:09پھر اس وقت غبار اڑاتے ہیں
02:12تو ان گھوڑوں کی قسمیں یاد فرما کر
02:14اللہ تعالیٰ نے ان کی اہمیت کے طرف اشارہ فرمایا
02:16فَأَثَرْنَا بِهِ جَمْعَن
02:20پھر دشمن کے بیچ لشکر میں جاتے ہیں
02:23یعنی یہ گھوڑا ایسا وفادار جانور ہے
02:26اور اتنا جررت مند ہوتا ہے
02:27کہ گھبرا کے بھاگتا نہیں
02:28بلکہ مجاہد کو لے جاتا ہے
02:30اور دشمنوں کی صفوں میں داخل ہو جاتا ہے
02:32اِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُود
02:36بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرہ ہے
02:40اور یہ خصوصاً کفار مشرقین منافقین کے بارے میں ہے
02:44کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر طرح کی نعمت عطا فرمائی
02:46لیکن اس کے باوجود انہوں نے ناشکر پن کا مظہرہ کیا
02:50ناشکرہ پن کا مطلب یہ ہوتا ہے
02:53پہلے ہم شکر کی تعریف دیکھ لیتے ہیں
02:55کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اس کی فرما برداری میں استعمال کرنا
02:59فقط اس کی فرما برداری میں استعمال کرنا
03:02اور زبان سے ان نعمتوں کا اعتراف کرنا
03:05تو کفار کو اللہ نے جو نعمت عطا فرمائی
03:08نہ یہ زبان سے ان کا اعتراف کرتے تھے
03:11کہ اللہ نے میں عطا فرمائی
03:12بلکہ ہر نعمت کے حصول کو اپنا ذاتی کمال تصور کیا جاتا تھا
03:16اور یہ بیماری آج کل مسلمانوں میں بھی ہے
03:18اور اسی طریقے سے وہ اپنے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ
03:22تمام نعمتوں کو نافرمانیوں میں استعمال کرتے تھے
03:25فرما برداری میں استعمال نہیں کرتے تھے
03:29اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں ناشکرہ قرار دیا
03:31اور آج یہ بیماری بھی ہم مسلمانوں میں بہت ہے
03:35کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ
03:37ہر نعمت کو تقریباً کس نے کسی زاویے سے گناہ میں استعمال کرتے ہیں
03:41وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَلِكَ الْشَهِیدِ
04:08اور بے شک یہ انسان اس پر خود گواہ ہے
04:12کہ میں غلط کر رہا ہوں نافرمانی کر رہا ہوں
04:15کیونکہ ضمیر تو اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو دیا ہے
04:18کفار بھی بعض اپنے عامال پر ضمیر کے ملامت میں گریفتار ہو جایا کرتے تھے
04:23اور انسان اس پر خود گواہ ہے
04:25وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ الْشَدِيدِ
04:29اور بے شک وہ مال کی چاہت میں بڑا تیز ہے
04:33مال کی چاہت میں بہت تیز ہے
04:35مال کی طرح بڑھتا ہے لیکن اللہ کی فرما برداری نہیں کرتا
04:39قَفَلَا يَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ
04:42تو کیا نہیں جانتا
04:43کہ جب اٹھائے جائیں گے وہ جو قبروں میں ہیں
04:47یعنی اس کے بارے میں غور کیوں نہیں کرتا
04:49کہ اللہ تعالیٰ کی ناشکری میں نافرمانی میں مبتلا ہے
04:52ان لوگوں پر غور تفکر کریں
04:54کہ جس میں خود بھی یہ ایک دن شامل ہونے والا ہے
04:57اور پھر قبروں سے ان کو اٹھایا جائے گا
04:59وَحُصْفِ الْمَا فِي الصُدُورِ
05:01اور کھول دی جائے گی وہ جو سینوں میں ہے
05:04یعنی نیکی یا بدی
05:06صحیح عقیدہ ہے یا غلط عقیدہ
05:09یہ سب کھول دیا جائے گا
05:10بے شک ان کا رب اس دن ان کی سب خبریں ہیں
05:21یعنی وہ دن قیامت کے روز
05:23اللہ تبارک و تعالیٰ ایسا نہیں ہے
05:25کہ یا رب و خرب و انسان آئیں گے
05:27اور کسی کی عمر سو سال
05:29کسی کی پانسو سال
05:30کسی کی ہزاروں سال
05:32پشلے دور کے سے لوگ تھے
05:33اور مختلف خطہ زمین پر رہے
05:36اور ہر شخص نے کچھ تنہائی میں گناہ کیے
05:39کچھ سب کے سامنے کیے
05:40کچھ صرف ذہن کے لحاظ سے کیے
05:42اور کچھ اور اعتبار سے کیے
05:45تو اللہ تعالیٰ شاید ان میں سے
05:47بعض کو فراموش کر بیٹھے
05:48بھول جائے معدلہ
05:49ایسا نہیں
05:50اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح طور پر
05:52قرآن میں شاید فرمایا
05:53کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کو
05:55اپنے رب کو
05:56اپنی صفات پر قیاس مت کرو
05:59اس کی صفات بڑی عالی ہیں
06:00تم چار پانچ چیز اگر تمہیں بتا دی جائیں
06:03تو کچھ سالوں بعد
06:04تمہارے ذہن سے محاف ہو جاتی ہیں
06:06مکمل جميع تفاصیل کے ساتھ
06:07یاد نہیں رہتی ہیں
06:08لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ
06:10بھولنے سے
06:11اور کسی چیز سے
06:13غافل ہونے سے پاک و صاف ہے
06:14لہذا اشارت فرمایا
06:16کہ انہا ربہم بشب
06:17ان کا رب بہم
06:18ان کو یوم اذن
06:20اس دن لخبیر
06:22ضرور خبر دینے والا ہے
06:23یا ان کے تمام آمال سے
06:25خبردار ہے
06:26تو اس سے معلوم ہوا
06:27کہ ایسے ہی رب کی اطاعت کرنی چاہیے
06:29کہ جو اتنی وسیع علمیت رکھتا ہو
06:32اور اتنی بہترین صفات کا حامل ہو
06:34اس کے برعکس ایسے کی عبادت کرنا
06:36کہ جو خود اپنے وجود میں
06:39ہمارا محتاج ہو
06:40ہمارے بنانے کا محتاج ہو
06:41یقینا یہ
06:43صاحبِ عقل کے لیے
06:45ایک لمحہِ تفکر ہے
06:47تو یہاں تک
06:49سورة العادیات کا بھی اختتام ہوا
06:52اب انشاءاللہ
06:53سورة
Comments

Recommended