00:00lha an amanna bi ayati rabbina lemma jahatna
00:04اور تمہیں کیا صرف یہی برا لگانا
00:07کہ ہم اپنے رب کی آیات پر ایمان لے آئے
00:11جس وقت وہ ہمارے پاس آئیں
00:13یعنی انہوں نے کہا کہ تم یہ بالکل غلط کر رہے ہو
00:16کیونکہ تمہیں صرف اتنی سی بات کے اوپر
00:20کہ ہم اپنے رب کی طرف سے آنے والی آیات پر ایمان لے آئے
00:23یہ چیز کو تم نے برا محسوس کر کے
00:26ہمارے ساتھ انتقامی کارروائی کر رہے ہو
00:28بہرحال ہم اس سے باز نہیں آئیں گے
00:30پھر انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں دعا کی
00:32کہ ربنا افریق علینا صبر
00:33اے ہمارے رب ہم پر صبر کو انڈیل دے
00:37صبر بہا دے
00:38یعنی ہمیں خوب کثیر صبر عطا فرما
00:40مضبوط صبر عطا فرما
00:42کہ ہم اس کی آزمائش پر
00:45جو ہمیں تکلیف پہنچا رہا ہے
00:46اس آزمائش پر پورا اتر جائیں
00:48وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ
00:50اور ہمیں مسلمانی کے حالت میں اٹھا
00:53وَقَالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَا
00:56اور کہا فرعون کی قوم کے سرداروں نے
01:00اَتَذَرُ مُوسَى وَقَوْمَهُ لِيُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَيَذَرَكَ وَآلِحَةَ تَك
01:06انہوں نے کہا کہ کیا تو موسیٰ علیہ السلام
01:10اور ان کی قوم کو چھوڑ دے گا
01:13تاکہ وہ زمین میں فساد کریں
01:14حالانکہ انہوں نے تجھے بھی چھوڑ دیا
01:16اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دیا
01:18قالا تو فرعون نے کہا
01:20سَنُقَتِّلُوا أَبْنَاءَهُمْ وَنَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ
01:24ان قریب ہم قتل کریں گے ان کے بیٹوں کو
01:27اور زندہ چھوڑ دیں گے ان کی عورتوں کو
01:30تو گویا کہ دو مرتبہ اس نے فاسد ارادے کا اظہار کیا
01:33ایک مرتبہ اس نے خواب دیکھا تھا
01:35اور ایک مرتبہ اس مناظرے میں
01:36یا اس مقابلے میں شکست کے بعد دوبارہ اس نے یہ کہا
01:39کہ ہم ان کے بیٹوں کو ماریں گے
01:41اور ان کے عورتوں کو زندہ چھوڑ دیں گے
01:43وَإِنَّا فَاقَهُمْ قَاهِرُونَ
01:45اور ہم بے شک ان پر غالب ہیں
01:47اس وقت ان لوگوں نے
01:50یعنی بنی اسرائیل نے جب اس کا یہ ارادہ سنا
01:52تو موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے
01:54اور ان سے کہا کہ یہ تو اس طریقے سے
01:56ہمارے بیٹوں کو مارنا چاہتا ہے
01:57عورتوں کو چھوڑے گا
01:58تو آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کیجئے
02:01اس سے معلوم ہوا کہ جو
02:03اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے مقرب
02:05بنتے ہوتے ہیں بوقت تکلیف
02:07بوقت حاجت کسی آزمائش کے وقت
02:09ان کے پاس آ کر
02:10اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی درخواست کرنا
02:13یہ ہمیشہ سے معامول رہا ہے
02:15اور یہ بالکل جائز عمل تھا
02:18اگر اسی ناجائز عمل ہوتا
02:19تو موسیٰ علیہ السلام منع فرما دیتے
02:21اور اللہ تعالیٰ کے طرف سے بھی
02:23اس کی ممانعت کے بارے میں
02:25کوئی بات نازل ہوتی
02:26لیکن ایسا نہیں ہوا
02:28یہ ہر دور میں ہوتا رہا ہے
02:29نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں
02:32بھی صحابہ کرام بہت سے معاملات میں
02:34آپ کی خدمت میں حضر ہوتے تھے
02:35اور دعا کی درخواست کرتے تھے
02:37اور اسے درہ تقریباً پندرہ سو سال کے عرصے میں
02:40یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے
02:42دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد سے لے کر
02:45آج تک یہ مسلمانوں میں معامول رائج ہے
02:48جس کے بارے میں گمان ہوتا ہے
02:50کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کا مقبول بندہ ہے
02:54کوئی اللہ کے ولی ہیں
02:55نیک شخص ہیں
02:56تو ان کے پاس آ کر
02:57اپنی مسئیبتوں پریشانیوں کے دور کرنے کے لیے
03:01دعا کروائی جاتی ہے
03:02اس میں شرعن کوئی حرج نہیں
03:04لہذا یہ لوگ جب حاضر ہوئے
03:06موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں عرض کی
03:07کہ آپ اللہ کی بارگاہ میں دعا کیجئے
03:09تو موسیٰ علیہ السلام نے اب یہ دعا کی
03:11قال موسیٰ علیہ السلام نے کہا
03:13موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کی فریاد پر کہا
03:30کہ تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رجوع کرو
03:32اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو
03:34اور خوب صبر اختیار کرو
03:36تو انشاءاللہ زمین تو اللہ تعالیٰ کی لیے ہے
03:39وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے
03:44اس زمین کا وارث بنا دیتا ہے
03:46یعنی آج موسیٰ فرعون کو یہ زمین پر تسلط دیا
03:50کل اللہ تعالیٰ انہیں ہٹا کر تمہیں دے دے گا
03:53تو گویا کہ یہ زمین کا ان کو وارث بنا دیا
03:56اور یہ ہر دور میں ہوتا رہا ہے
03:58کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو
04:00دائمی طور پر قبضہ یا حکومت عطا نہیں فرماتا
04:05بلکہ تبدیل ہوتی رہتی ہے
04:06نئینے لوگ آتی رہتے ہیں
04:07والعاقبت للمتقین اور بہتر انجام متقین کے لیے ہے
04:12کہ ہمیں عذیت دی گئی آپ کے آنے سے پہلے بھی
04:21اور آپ کے تشریف لانے کے بعد بھی
04:25یہ مجھے ہمیں تخلیف دیتے رہے ہیں
04:27تو موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا
04:31کہ قریب ہے کہ تمہارا رب
04:33این یحلک عدوکم تمہارے دشمن کو حلاک کر دے
04:38ویستخلفکم فی الارض اور تمہیں زمین میں
04:42اپنا نائب مقرر کرے
04:44فینظرہ کیفا تعملون
04:46پھر وہ یہ دیکھے
04:48کہ تم کس طرح کے عمل کرتے ہو
04:50گویا کہ انہیں صبر کی تلقین کی
04:52اور یہ موسیٰ علیہ السلام کو
04:53اللہ کی طرف سے گویا کہ
04:55آئندہ کے حالات کے بارے میں بتا دیا گیا تھا
04:58کہ انقریب بنی اسرائیل کو
05:00فرعونیوں پر غلبہ حاصل ہوگا
05:02فرعون حلاک ہوگا
05:04لہذا آپ نے ان سے فرمایا
05:05کہ انقریب اللہ تبارک و تعالی
05:07تمہارے دشمن کو حلاک کرے گا
05:08تمہیں اس کے جگہ خلیفہ بنائے گا
05:10نائب بنائے گا
05:11اور پھر یہ ملحظہ کرے گا
05:13کہ تم کیسے عمل کرتے ہو
05:14گویا کہ آئندہ کے لئے تنبیح تھی
05:16کہ جب اللہ تعالی تمہیں زمین پہ غلبہ عطا فرمائے
05:18تو غلبہ حاصل کرنے کے بعد
05:20اپنے سابقہ اوقات کو
05:23سابقہ حالات کو بھول نہیں جانا ہے
05:25بلکہ اللہ تبارک و تعالی کی
05:27اطاعت میں زندگی گزارنی ہے
Comments