00:00and it was actually very important for us.
00:02We must also warn our God.
00:05Then that after he made us من بعدهم
00:06Mucer vi ayatina ila fir'auna wamailiih faovalamubhiha
00:11Then we will be able to send in the tomb of hiseps.
00:15We must be able to send in the tomb of their own
00:18Those will be passed by theBS of Nabiil alayhi wawar.
00:19Mucer could be a system of need forovalamubhiha
00:23Firaun and his own faith in his own
00:27or his own sovereignty or his own youth.
00:28فَظَلَمُوا بِهَا تو انہوں نے ان نشانیوں کے ساتھ زیادتی کی
00:34زیادتی کرنے کی صورت یہ تھی کہ انہوں نے ان نشانیوں کو ماننے سے انکار کیا
00:39ان کو جھٹلایا اور ان کے بارے میں نازیبہ کلمات زبان سے نکالے
00:44فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ
00:47تو دیکھئے کہ فساد کرنے والوں کا کیسا انجام ہوا
00:52یعنی چونکہ اب یہ خطاب فَانْظُرْ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے
00:58تو جس نے اللہ تبارک و تعالی کی نشانیوں کو جھٹلایا
01:01تو اس کا انجام بڑا دزناک ہوا
01:03اور چونکہ یہ پہلے معاملہ ہو چکا تھا
01:06کہ فرعون غرق ہوا تھا
01:08لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیا
01:11کہ دیکھئے کیسا مفسدوں کا برا انجام ہوا
01:15وَقَالَ مُوسَى اور کہا موسیٰ نے
01:20یہ پہلے بھی واقعہ پچھلی صورتوں میں گزر چکا ہے
01:24کہ موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل کو
01:27فرعون اور اس کی قوم نے اپنے تسلط میں لیا ہوا تھا
01:30اور ان سے مختلف قسم کے کام لیا کرتے تھے
01:32اور پھر موسیٰ یہ فرعون نے خواب دیکھا تھا
01:36کہ ایک آگ آئی ہے
01:39اور جس نے فرعونیوں کے مکانوں کو جلا دیا ہے
01:42تو اس نے جب تعبیر پوچھی تو پتا چلا
01:44کہ ایک بچہ ایسا پیدا ہوگا
01:46جو فرعون کی حکومت کے زوال کا سبب بنے گا
01:50اس وقت اس نے حکم دیا تھا
01:52کہ بنی اسرائیل کے تمام بیٹوں کو قتل کر دیا جائے
01:55اور لڑکیوں کو زندہ رکھا جائے
01:57اس پر عمل شروع ہوا
01:58تو چونکہ پھر جب سب لڑکے قتل کیے جانے لگے
02:02تو تیزی کے ساتھ مردوں میں کمی واقع ہوئی
02:05عورتیں کسرت سے ہونے لگی
02:06اور فرعون کو اس کے درباریوں نے مشورہ دیا
02:09کہ اگر بنی اسرائیل کے مردوں کو اسی طرح قتل کیا جاتا رہا
02:12تو ایک وقت آئے گا
02:14کہ ہمارے پاس مزدوری کرنے والا کوئی نہیں بچے گا
02:17اور پھر یقینا ہمیں خود مزدوری کرنے پڑے گی
02:20تو ان کو کچھ اس میں حکمت عملی میں تبدیلی پیدا ہونی چاہیے
02:23اس وقت فرعون نے کہا
02:25کہ چلے ایسا کرو
02:26کہ ایک سال ان کے لڑکوں کو زباہ کرو
02:28اور دوسرے سال ان کو زندہ چھوڑ دیا جائے
02:30جس سال زباہ کرنے کی باری تھی
02:33اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے
02:36اور چھوڑنے والے جو سال تھا
02:38اس میں حارون علیہ السلام آپ کے بھائی پیدا ہوئے تھے
02:40اور پھر یہ طویل واقع ہے
02:42جو اگلی صورتوں میں بھی انشاءاللہ آئے گا
02:44کہ آپ کی والدہ نے آپ کو پانی میں بہا دیا تھا
02:46اور پھر فرعون کے گھر تک آپ پہنچے
02:49پھر آپ پرورش پائی آپ نے
02:50اور پھر اللہ کے حکم سے
02:53اس فرعون کے پاس دین کے دعوت لے کر پہنچے
02:55تو یہاں سے یہ اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے
02:58وقال موسیٰ اور کہا موسیٰ علیہ السلام نے
03:01یا فرعون انی رسول من رب العالمین
03:04کہ اے فرعون بے شک میں
03:06عالمین کے رب کی طرف سے ایک رسول ہوں
03:11حقیقن علی اللہ اقول علی اللہ اللہ اللہ الحق
03:14مجھے یہی سزاوار ہے
03:16میرے لئے یہی لائق ہے
03:18کہ میں اللہ تبارک و تعالی پر
03:21سوائے حق کے اور کچھ نہ کہوں
03:23یعنی اللہ تعالی کی طرف سے
03:25حق ہی بیان کروں
03:26اس کے علاوہ اللہ تعالی کی طرف
03:27حق کے علاوہ کسی چیز کو منصوب نہ کروں
03:30قَدْ جِئِتُكُمْ بِبَيِّنَاتِمْ مِنْ رَبِّكُمْ
03:33میں تم سب کے پاس
03:35تمہارے رب کی طرف سے
03:37نشانی لے کر آیا ہوں
03:38فَأَرْسِلْ مَعِيَ بَنِي إِسْرَائِيْل
03:40تو تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے
03:44تو آپ نے بنی اسرائیل کو بھیجنے کا
03:47مطالبہ کیا
03:49جس پر فیرون نے کہا
03:50کہ قَالَ وَبُلَا
03:52اِن كُنْتَ جِئْتَ بِآیَةٍ فَأَتِ بِهَا
03:55اِن كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ
03:56کہ اگر آپ کوئی نشانی لے کر
03:58ہمارے پاس آئے ہیں
03:59تو اس نشانی کو پیش کریں
04:01اگر آپ سچے ہیں
04:02تو گویا کہ اس نے مطالبہ کیا
04:04کہ اگر آپ اللہ تعالی کی وجود
04:06کا اقرار کرتے ہوئے
04:08یہ کہتے ہیں کہ میں اس کا رسول ہوں
04:09تو کوئی اس کی بھیجنے کی نشانی بھی
04:11ہمارے سامنے بیان کریں
04:12اگر آپ نشانی بیان کریں گے
04:14تو پھر ہم ایمان لے آئیں گے
04:16یہ آدھ رکھیے کہ فیرون جو تھا
04:19یہ خدا کے وجود کا منکر تھا
04:22یہ دہریہ تھا
04:23اس کو دہریہ کہتے ہیں
04:24جو خدا کے وجود کا منکر ہو
04:25اور یہ کہا کرتا تھا
04:27کہ تمام جو زمین کا نظام ہے
04:30وہ ستارے چلا رہے ہیں
04:31یہی وجہ ہے کہ اس نے کچھ بط بھی
04:33بنائے ہوئے تھے جو ستاروں کے شکل پر تھے
04:35ان کے پرستش وغیرہ کیا کرتا تھا
04:37تو جب موسیٰ علیہ السلام نے
04:39دعوت دین اس کو دی
04:40اور بنی اسرائیل کو ساتھ لے جانے کا
04:43مطالبہ کیا تو اس نے نشانی طلب کی
04:45فَأَلْقَاعَصَاهُ
04:47تو موسیٰ علیہ السلام نے
04:49اپنا عصا ڈال دیا
04:50فَإِذَا هِيَا ثُعْبَانُ مُبِينَ
04:53تو اچانک وہ اس وقت
04:55ایک بلکل واضح طور پر
04:57ازدہہ ہو گیا
04:58یہ اس کے بارے میرے وعیت میں آتا ہے
05:01کہ زرد رنگ کا ازدہہ بن گیا تھا
05:03اور یہ اپنے دوم پر سیدھا
05:05کھڑا ہو گیا تھا
05:06اور تقریباً اس کی مسافت
05:08ایک میل کے برابر تھی
05:10تو بہت بڑا ازدہہ
05:12اور ایک میل کے فاصلے پر
05:14یعنی اتنا اونچا وہ ہو جائے
05:15اور اتنا بڑا اس کا جبڑا تھا
05:17کہ ایک یہ نشلہ حصہ زمین پر رکھے ہوئے تھا
05:19اور اوپر والا حصہ محل کے اوپر تھا
05:22جب اس نے فراؤن کے طرف دیکھا
05:24تو فراؤن اٹھ کے بھاگ گیا
05:25اور وہ گرتا پڑتا تخت کے پیچھے گیا
05:28اور جب لوگوں کے طرف دیکھا
05:29تو ہزاروں لوگ کچل کر ہلاک ہو گئے تھے
05:32یہ اتنا خطرناک قسم کا ازدہہ
05:34بظاہر شکل کا بن گیا تھا
05:36وَنَزَعَيَدَهُ فَإِذَا هِيَا بَيْضَعُوا لِلنَّاظِرِينَ
05:40اور آپ نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکالا
05:45فَإِذَا هِيَا بَيْضَعُوا لِلنَّاظِرِينَ
05:48تو یہ دیکھنے والوں کے لئے اس وقت سفید ہو گیا
05:51یعنی سفید ہو کر جگمگانے لگا
05:53تو یہ دو واضح طور پر نشانیاں
05:56حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پیش فرمائی
05:58دو موجزیں پیش فرمائے
05:59کہ ایک تو عصہ کو ڈالا تو سام بن گیا
06:01اور اپنا ہاتھ آپ اس طرح گریبان میں اندر ڈال کے
06:04جب باہر نکالتے تھے
06:06تو آپ کا دست مبارک
06:07اپنی اصلی شکل میں گندو میں رنگ کا تھا
06:10اور جب آپ اندر ڈال کے نکالتے تھے
06:12تو سفید ہو جائے کرتا تھا
06:14اور جگمگاتا تھا
06:15قَالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَونَ
06:18تو کہا فرعون کی قوم کے سرداروں نے
06:21اِنَّ هَذَا لَسَّاحِرُونَ عَلِيمِ
06:24بے شک یہ تو ایک صاحب علم جادوگر ہے
06:28کیونکہ بنی اسرہ اسم فرعون کی قوم میں
06:33بہت زیادہ جادو عام تھا
06:34اور بڑے بڑے جادوگر تھے
06:35خود فرعون ایک بہت بڑا جادوگر تھا
06:38تو انہوں نے جب درباریوں نے دیکھا
06:40تو ان میں بہت سارے جادوگر تھے
06:41اس تمام معاملے کو دیکھا
06:43تو وہ سمجھ نہ پائے
06:44کیونکہ جادو بہرحال اور چیز ہے
06:46معجزہ اور چیز ہے
06:47تو حیران ہو کر انہوں نے کہا
06:48کہ یہ تو جادوگر بہت بڑے علم مارا لگتا ہے
06:51کہ اس کا علم ہمارے علم سے بہت زیادہ ہے
06:54یہ تمہیں ارادہ کرتا ہے
06:58کہ تمہیں تمہاری زمین سے نکال دے
07:00فما ذات امرون
07:02تو تم کیا اس کے بارے میں مشورہ دیتے ہو
07:07گویا کہ فرعون کے درباریوں نے مشورہ دیا
07:25کہ موسیٰ علیہ السلام ان کے بھائی کو ٹھہرا لیا جائے
07:27اور تمام لوگوں کو یہاں پر جمع کیا جائے
07:29تاکہ باقاعدہ مقابلہ ہو
07:31تاکہ ہر علم والے جادوگر کو تیرے پاس لے آئیں
07:37ہر طرف سے جمع کر لیا جائے
07:39انہوں نے کہا کہ بے شک ہمارے لیے
07:50ہمیں کچھ انام ملے گا
07:53اگر ہم غالب آنے والوں میں سے ہوں گے
07:55اس نے کہا کہ ہاں کیوں نہیں
07:58وَإِنَّكُمْ لَا مِنَ الْمُقَرَّبِينَ اس وقت تم میرے مقرب ہو جاؤ گے
08:02یعنی میں تمہیں قریب کر لوں گا
08:04اور قریب جب کروں گا تو یقینی سی بات ہے
08:06کہ تم پر انام اور نوازشوں کے دروازے کھول دوں گا
08:10ملے گا تو یقینی سی بات ہے
Comments