Skip to playerSkip to main content
  • 6 months ago
Hazrat Bilal Habshi (رضی اللہ عنہ) Islam ke pehle muazzin (اذان dene wale) the.
1. Hazrat Bilal Habshi (RA) Islam ke azeem sahabi the.

2. Aap ko sabse pehle azaan dene ka sharaf hasil hua.

3. Aap Habsha (Ethiopia) se taluq rakhte the aur kaale rang ke the.

4. Aap ne Islam ke liye bohot zyada zulm saha, lekin kabhi imaan nahi chhoda.

5. Hazrat Umar (RA) ne kaha tha: "Bilal hamara sayyid hai (leader hai)."

6. Rasool Allah (SAW) aap se bohot muhabbat karte the.

7. Aap ki sabr aur wafadari qiyamat tak ke Musalmanon ke liye misaal hai.


Transcript
00:00nd so that bilal abhi bachpon men chotay se the ke walid intikal kar gaye
00:12yatiimi me perevrash payi jenaabi bilal me
00:15yatiimi me
00:18And then two of them, one does a daughter, one brother.
00:25He is a servant.
00:26He is a master.
00:31He is a master.
00:33His master, he is a master.
00:37He was a master.
00:40He was a master.
00:44He was a master.
00:48We have to go on the way.
01:18ڈائے گا تو وہ تجھے مکہ کی گلی سے اٹھا کے کعبے کی چھت پہ کھڑا کر
01:22دیں گے گلی ہے میرے پاس دامن مصطفیٰ سے جو بھی لپٹا وہ یگانہ
01:28ہو گیا اس کے حضور ہو گئے اس کا زمانہ ہو گیا حضرت بلال عبشیر
01:33رضی اللہ تعالیٰ نے کو بات بتلائی سلیم الفطرت آدمی تھے سنجیدہ
01:37آدمی تھے اچھا مزاج رکھتے تھے فام و فراسط رکھتے تھے جناب بلال
01:42史ال نے کلمہ پڑھ لیا ایک کلمہ پڑھ کے نا تو سب لوگوں نے کہا بہت سارے
01:51لوگوں نے اپنا اسلام چھپا کے رکھا ہوا تھا دو واقعات ایسے ہوئے کہ
01:55حضرت بلال کا اسلام ظاہر ہو گیا کسی کام سے بت خانے میں جب اللہ
02:01بن جدان نے بت خانے گئے تو لگے ہوئے تھے بت کتار اندر کتار
02:09that our friends had been
02:12and we had to do that
02:15which we had to do
02:18that we had to do it
02:20which people saw
02:22and they came to see
02:22Abdullah ibn جدان
02:23that this guy is a good guy
02:25and you can read it
02:27and you can see it
02:28and you can see it
02:29that if you can see it
02:30that Abdullah'sが
02:31a good guy is a good guy
02:33Abdullah bin Jadhan
02:35that's what I want to talk about
02:35and I want to talk about
02:37and he said
02:39And he said, that he's a victim, a my god.
02:42He didn't have to know what he said.
02:46He didn't have to know that he was a Muslim, he didn't have to know.
02:48He would have to know that he had to know.
02:52He had to know what was going on in the day of the day.
02:57But it was not a Christian, he didn't have to know.
03:02And if Muslims have seen Islam without him,
03:06you have to know what is going on in order to know.
03:09حضرت بلال پھر ظاہر ہو گئے
03:12ہوا کیا
03:12حضرت امار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
03:16مکہ کے سارے کافر کٹھے ہو کے
03:20کہ غریب آدمی کو مار رہے ہیں
03:22غریب آدمی کو
03:24جب اندر انسان کے چور ہوتا ہے
03:27تو بڑا سے بڑا آدمی بھی بزدل ہو جاتا ہے
03:29اندر چور جب اندر چور بیٹھ جائے نا
03:33تو بڑے سے بڑا آدمی بزدل ہو جاتا ہے
03:36اور جب اندر صفائی ہو تو غریب سے غریب آدمی بھی بہادر ہو جاتا ہے
03:40حق پہ ہونا چاہیے سچا ہونا چاہیے
03:42پھر بہادر ہو
03:43حضرت امار بن یاسر رضی اللہ عنہ
03:45غریب آدمی مکہ کے سارے زردار
03:47مکہ کے چوک میں کٹھے ہیں
03:50پھر ایک دیوار کے ساتھ کھڑا کیا ہوا ہے
03:52حضرت امار بن یاسر کو کوڑے مار رہے ہیں
03:55زور زور سے کوڑے
03:58حضرت امار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بدن پہ لگتے ہیں
04:02وجود لہو لہا نے
04:04حضرت امار بن یاسر کو پتا تھا
04:07کہ بلال بھی مسلمان ہو گئے
04:08لیکن ان کا خیال تھا
04:11کہ یہ کسی کو بتلائیں نہ تو ہی بہتر ہے
04:13امیہ بن خلف آیا
04:16سخت دھوک تھی
04:18جب کوڑے مار مار کے تھک گیا
04:19ابو جال نے بھی مارا
04:20ابو لہب نے بھی مارا
04:21ابو سفیان نے بھی مارا
04:23ابو البختری نے بھی مارا
04:25اخنص بن شلیک نے بھی مارا
04:26امیہ بن خلف کی باری آئی
04:29تو تھک گیا نا مار مار کے
04:30اسے پتا تھا کہ بلال بڑا
04:33سخت آدمی ہے
04:36جو کام بھی کہو بلال کر دیتا ہے
04:38امیہ نے کہا بلال سے
04:39کہا بلال ادھر آ
04:40حضرت بلال گئے
04:43کہا یہ کوڑا پکڑ اور اس کو مار
04:45جناب بلال نے
04:48کوڑا
04:50کوڑے کی طرف دیکھا
04:51پھر حضرت امار کی طرف دیکھا
04:54جناب امار نہ دیوار سے
04:56ذرا آگے ہوئے تھوڑے سے
04:57کام پتی ٹانگوں کے ساتھ تھوڑے آگے ہوئے
05:01اور حضرت بلال کے کان میں کہنے لگے
05:03یار دو چار کوڑے مار لے
05:05میرا کیا ہے
05:07مجھے تو مار پاڑی رہی ہے نا
05:09چل تو نہ بھی ظاہر نہ کر بیٹھنا
05:11دو چار کوڑے مار لے
05:13حضرت سیدنا بلال اپشن نظر اٹھائی
05:16جب پتا ہونا کے سامنے آگ ہے
05:19اس میں کردنا بڑا مشکل کام ہے
05:21جب پتا ہونا سامنے دریا ہے
05:24اس میں چھلانگ لگانا بڑا مشکل ہے
05:27موت نظر آ رہی ہو
05:28تو اس طرف قدم اٹھتے نہیں
05:29حضرت بلال کو پتا تھا
05:31یہ سارے کٹھے ہیں
05:32اور مجھے بھی ماریں گے
05:35کوڑا دیا ہے
05:36اور اسلام اجازت دیتا ہے رخصت کی
05:38آپ کی گن پٹی پہ
05:41گن پٹی پہ کسی شخص نے پسٹل رکھ دیا
05:43اور اس نے کہا کہو کہ میں کافر ہوں
05:44تو اجازت ہے کہہ دو
05:45جان بچاؤ
05:46اسلام اجازت دیتا ہے
05:50لیکن سیدنا بلال
05:51حضرت بلال
05:53رضی اللہ تعالیٰ انہو
05:56حضرت بلال ابشی رضی اللہ تعالیٰ انہو نے
05:58حضرت امار بن یاسر نے کہا
06:00یار تو دو چار کوڑے مار لے
06:01لیکن اپنا آپ بچا
06:03حضرت بلال کہنا لگے ٹھیک ہے
06:06حضرت بلال کہتے ہیں ٹھیک ہے
06:09میں دو چار کوڑے مار لیتا ہوں
06:11لیکن اپنا آپ
06:11بچا لیتا ہوں
06:13اب جلدی سے
06:14امیہ بن خلف
06:16چلالا کہنے لگا
06:18تجھے کہا کھوڑا مار پکڑ کھوڑا
06:19حضرت بلال نے کھوڑا ہاتھ میں لیا
06:22ایک دفعہ امیہ کی طرف دیکھا
06:25پھر ابو جاہل کی طرف دیکھا
06:27پھر ابو لہب کی طرف دیکھا
06:28سارے کافنوں پہ نظر دوڑائی
06:29اور پھر امار بن یاسر کی طرف دیکھا
06:32کہا امار
06:33تو مار کھا سکتا ہے
06:35تو میں نہیں کھا سکتا
06:36امار
06:37تو تیرے وجود پہ زخم لگ سکتے ہیں
06:40تو میرے پہ نہیں لگ سکتے
06:41امار جس خدا کا تُو کلمہ پڑتا ہے
06:44اسی کا میں پڑتا ہوں
06:45اور جس زلفوں کا تُو قیدی ہے
06:47میں بھی اسی محمد عربی کے
06:49زلفوں کا قیدی ہوں
06:50اب دیکھ ذرا
06:51مل کے مار کھانے میں کیا مزا ہے
06:54ذرا دیکھتے ہیں
06:55ذرا کٹھے ہو کے
06:56ظلم سینے میں کیا لطف آتا ہے
06:58حضرت سکر جنہ بلال احفشی نے
07:00زور زور سے کھوڑا گھمایا
07:02اعلان بغاوت ہونے لگا ہے
07:04بلال آنے لگے ہیں میدان عمل میں
07:06جناب بلال نے زور زور سے
07:08کھوڑا گھمایا
07:10اور گھما کے دور پھینکا
07:11اور امیہ کی طرف دیکھ کے کہنے لگے
07:13یہ امار اکیلہ نہیں
07:16اسے تنہا نہ سمجھنا
07:17یہ اکیلہ مار نہیں کھائے گا
07:19اشہد واللہ الہ الا اللہ
07:22واشہد والن محمدن عبدہ ورسول
07:24فرمایا تیاری کر کے نکلو
07:26اب امار اکیلہ مار نہیں کھایا کرے گا
07:29جب امار مار کھائے گا
07:31تو اس کے ساتھ حصہ داری کرنے بلال بھی آیا کرے گا
07:34حضرت بلال میدان عمل میں
07:36اب کافروں پہ سناٹا چھا گیا
07:38بلال تیری جرت
07:40تیری یہ حمد
07:41تو انکار کرے
07:43تیرا یہ چارہ
07:44تیرے مو سے یہ لفظ نکلے
07:46رب فرماتا ہے تم کہو میں نے اللہ کو مان لیا
08:02رب کو مان کر پھر ٹٹ جانا
08:05تمہاری دنیا مدد کرے نہ کرے
08:08اللہ تمہاری مدد کے لیے فرشتوں کا نزول فرما دے گا
08:11لوگ مدد کرے نہ کرے
08:13اللہ کے فرشتے تمہاری مدد کریں گے
08:15جناب سیدنا بلال نے اعلان کر دیا
08:18میں نہیں ماروں گا
08:20ادھر آ ستمگر ہنر آزمائیں
08:22تو تیر آزماء ہم جگر آزمائیں
08:25فرمایہ کارلو تیاری آ جاؤ
08:27اب وہ سارے نا
08:29کیونکہ سب تے سخت مشہور تھا نا امیہ
08:32اب سارے دیکھنے لگے امیہ کی طرف
08:34امیہ کو اب اسے سمجھ نہیں آری میں کیا کروں
08:39بلال نے تو کبھی نہ کی نہیں
08:41جو کہتے تھے کر گزرتا تھا یہ عجیب معاملہ ہے
08:45کہنے لگا بلال تجھے پتا ہے تو کیا کرنا ہے
08:49تو نے جذبات میں آکے اعلان تو کر دیا
08:52تجھے اس کا پتا ہے
08:53جناب بلال ابشیرہ دی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے
08:57مجھے پتا ہے تو مجھے مارے گا
08:59مجھے پتا ہے مجھے سزائیں دے گا
09:02مجھے سارا پتا ہے
09:03لیکن عقل کو تنقیب سے فرصت نہیں
09:06عشق پر ایمان کی بنیاد رکھ
09:09فرمایا میں نے عقل کے گھوڑے دوڑانے چھوڑ دیئے
09:11بس
09:12کلمہ جو پڑھ لیا ہے
09:14جب اعلان جو کر لیا ہے
09:16جب محبت جو کی
09:17تو اب اس میں کسی قسم کی مسلحت کی اجازت نہیں
09:21اقبال کہتا ہے
09:22اقبال کہتا ہے کہ پختہ ہوتا
09:24پختہ ہوتی ہے اگر مسلحت اندیش ہو عقل
09:27عشق ہو مسلحت اندیش
09:30تو ہے خام ابھی اور بے خطر کود پڑا
09:34آتش نمرود میں عشق
09:36عقل تھی مہوے تماشائے لبے بام ابھی
09:40فرمایا عقل پختہ ہوتی ہے اگر سوچا جائے
09:44عشق کے معاملے میں سوچا جائے
09:46تو عشق کمزور ہوتا ہے
09:47وہاں سوچنے سمجھنے کی اجازت ہوتی نہیں
09:50سوچنا سمجھنا تھا کلمہ پڑھنے سے پہلے
09:53اب تو پڑھ لیا
09:53اب سوچنے کا نہیں
09:55اب عمل کرنے کا وقت ہے
09:56اب جناب بلال پر سختی شروع ہوئی
09:58مارنا شروع ہوئے
10:01کس کی سنداز میں مارا
10:02لوہے کی سلاخیں پینا کر
10:05عرب کی تبتی ہوئی ریت پہ لٹا دیا
10:08جب لوہا گرم ہوتا
10:10سلاخیں گرم ہوتی
10:12وہ وجود کو لگتی
10:13پہلے خموش رہتے
10:15پہلے خموش علامہ
10:17ندبی نے لکھے پہلے چوب رہتے
10:19پہلے آہد آہد نہیں کہتے تھے
10:21پہلے آہد آہد نہیں کہتے
10:23جب تکلیب بڑھ جاتی نا
10:25تو پھر زبان سے نکلتا آہد
10:27آہد
10:28آہد وہ وحدہ لا شریک ہے
10:31وہ وحدہ لا شریک ہے
10:32جب تکلیب بڑھتی
10:33پھر امیہ کیا کرتا
10:35پھر امیہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گلے میں رسی ڈالتا
10:40اور مکہ کے عباش لڑکوں کے آتھ میں دیتا
10:44مکہ کی گلیوں میں
10:46کبھی کسی پاگل کو آپ گزرتے دیکھو نا
10:49لڑکے اسے چھیڑ رہے ہوں
10:50آپ کو پتا ہے وہ پاگل ہے
10:51اس نے زیادتی بھی کی ہے
10:55کہتے ہیں باتمیزو نہ کرو
10:57وہ تو بیچارہ دیوانہ ہے
10:59وہ تو پاگل ہے
11:00مکہ کی گلیوں میں
11:02حضرت بلال
11:03جب گلے میں رسی ڈال کے
11:06دوستو خیال تو کرو
11:07بٹن کھلا ہو تو ہم بازار میں جانا پسند نہیں کرتے
11:11کپڑے تھوڑے میلے ہو تو گلی میں نکلتے نہیں
11:14بلال تو محضب آدمی یا سنجیدہ آدمی ہے
11:17یہ کیا ہو رہا
11:17حضرت بلال کے گلے میں رسی ڈال کے نہ
11:20جب مکہ کی گلیوں میں وہ نوجوان دوڑایا کرتے تھے
11:23حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ انہوں کے قریب سے گزرتے
11:27تو گزرنے والے بھی عجیب بات کرتے
11:29کوئی کہتا ذرا اور کلمہ پڑ
11:31کوئی کہتا بلاب اپنے خدا کو تجھے بچائے
11:34کوئی کہتا بلال
11:36تجھے کیا ضرورت پڑی تھی یہ سارا کچھ کرنے کی
11:39ایک آدمی آیا
11:41کہنا لگا بلال
11:42اگر تیرا رب سچا ہے
11:45تیرے رسول سچے ہیں
11:47پھر تجھے بچاتے کیوں نہیں
11:48پھر تجھے بچاتے کیوں نہیں
11:51جب تو اتنا مخلص مومن ہے
11:54اور اتنا تیرے اندر خلوص پایا جاتا ہے
11:57تو وہ آتے کیوں نہیں تیرے دفاع کے لیے
11:58وہ تیرے لیے ڈھال کیوں نہیں بنتے
12:01حضرت بلال اپشی کا جواب بڑا زبردست تھا
12:04نابی بلال کہنے لگے میں مخلص تو ہوں
12:07میرا رب قادر بھی ہے
12:09لیکن فرمایا جب تم جاتے ہونا
12:11بازار میں برتن خریدنے
12:12مٹی کا برتن لینا ہو
12:14تو ذرا ٹھوک بجا کے چیک کرتے ہو
12:16کچھا ہے کے پکا ہے
12:17فرمایا رب رسول پر ذرا ٹھوک بجا رہے ہیں
12:20کچھا ہے کے پکا ہے
12:21فرمایا میں دعا کرو
12:23میں امتحان میں پورا اترو
12:24وہ ذرا مجھے
12:28وہ ذرا مجھے ٹھوک بجا کے چیک کر رہے ہیں
12:30ٹھوک بجا کے
12:31حضرت بلال اپشی
12:33مارا ستایا تینہ لب دے ام
12:36آپ گواشے
12:37سانو اپنی خبر نہ کوئی
12:41ڈالیان دے سانو آخ دے لوگ شدائی ننگ نموس دا ساڑ کے چولا گل پہنے تاج گدائی آزم اپنا آپ گوایا تا یار نے چاہتی پائی
12:54حضرت بلال ابشیر اتنی مار اتنی تکلیفیں اچھا حضرت صدیق ایک پر گزرے اچھا ایک بات اور لکھی ہے
13:02سیرت نگاروں نے وہ کہتے ہیں کہ ایک تو تھا نا جب تکلیف ہوتی تھی تو آہد آہد کہتے تھے
13:08ایک جب کوئی کافر نظر آتا تھا نا اس طرح بندہ چڑھاتا نہیں کسی کو
13:12جب کوئی بیمان کافر نظر آتا حضرت بلال کو تو آپ فرماتے آہد آہد آہد اللہ ایک ہے
13:22اللہ ایک ہے اللہ ایک ہے جب کوئی نظر آتا اب وہ مارتا پھر آستا آستا وظیفہ پاک گیا
13:31پھر سارا دن آہد آہد چلتا رہتا سارا دن آہد آہد چلتا رہتا
13:36حضرت صدیق اکبر گزرے قریب سے بڑی تکلیف ہوئی
13:39جناب ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا بلال انچی ذکر نہ کیا کر آستا کر لیا کر
13:46انچی آواز میں مارتے جو ہیں تجھے
13:50تو اس طرح کر ذرا ذکر دو ہے نا ایک ذکر جلی ہے ایک ذکر خفی ہے
13:54تو دل میں ذکر کر لیا کر
13:57انچا نہ کیا کر مار سے تو بچ جا
14:01بلال نے کہا ٹھیک ہے آپ نے جو نسخہ دیا اس پر عمل کروں گا
14:06دو دن حضرت بلال ابشی نے دل میں ذکر کیا مار ہی نہیں پڑی
14:09مار ہی نہیں پڑی جفا جو عشق میں ہوتی ہے اکبال کہتا ہے
14:14جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں
14:17ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزا ہی نہیں
14:21حضرت بلال کو مارنا نہ پڑی
14:23دو دن مارنا کھائی تو تیسرے دن
14:26امیہ داخل وعدوں کا نہیں لگے آہاد
14:28آہاد
14:29آہاد
14:30اس نے پھر پکڑ لیا درہ
14:32پھر اٹھایا کوڑا
14:34پھر لگا مار نے
14:35جناب حضرت بلال نے بھی
14:36ابشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مار پڑ رہی ہے
14:39جناب صدیق اکبر گزرے
14:40کہ بلال تجھے منع کیا تھا
14:42تو پھر شروع ہو گیا ہے
14:44کہ حضور آہستہ ذکر کرنے میں مزا ہی نہیں آتا
14:47یہ مجھے مارتے ہیں
14:49ایکی جی کو کیا پتا چلے گا
14:50کہ بلال پر سختیاں ہو رہی ہیں
14:52حضرت بلال ابشی
14:53اب
14:54سیدنا صدیق اکبر فرماتے ہیں
14:56کہ رسول پاک گزرے
14:57بلال کو مار پڑ رہی تھی
14:59میں نے حبیب پاک کی آنکھوں میں آنسو آگئے
15:03بے خبر ہو جو غلاموں سے وہ آقا کیا ہے
15:07حضور کی آنکھوں میں آنسو
15:08اور حضور نے دعا فرمائے
15:09کہا یا اللہ میرے بلال کو نجات دے دے
15:12یا اللہ میرے بلال کو نجات دے دے
15:14رسول پاک یہ کہہ کے گزر گئے
15:16ایک کونے میں
15:18حرم شریف کے کونے میں بیٹھ کے
15:20رسول پاک رو رہے ہیں
15:21جناب سیدیق اکبر نے کہا
15:22حضور کیا ہوا
15:23فرمائے
15:24اگر مجھے پیسے دے
15:27تو میں بلال کو خرید لوں
15:28اگر اگر وہ پیسے دے
15:30تو خرید لوں
15:31سوچ رہا ہوں
15:32جناب اگر بکر سیدیق گھر گئے
15:35گھر جا کے حضرت عباس کو بھیجا
15:37کہا
15:38امیہ میرا مخالف ہے
15:39مجھ سے وہ بات نہیں کرے گا
15:41آپ جائیے
15:42آپ جا کے کہیے
15:43بلال کو بیچ ڈالے
15:45حضرت عباس نے جا کے کہا
15:47بلال کو بیچ دو
15:48کہنے لگا
15:49میری قیمت بہت زیادہ ہے
15:51پچاس دینار کا میں نے خریدا ہے
15:55اور میں
15:56منافع لے کے بیچ ہوں گا
15:58حضرت عباس نے آ کے
16:00جناب سیدیق اکبر کو بتایا
16:02تو بکر سیدیق فرمانا لے
16:03کہ چل مجھے ساتھ ہی لے جا
16:04دیکھ لیتے
16:05پہنچے
16:06ابو بکر سیدیق کو آتے دیکھا
16:08نا تو چڑ گیا
16:09کہنے لگا ابو بکر
16:10اگر تُو بلال کو خریدنا چاہے
16:13تو وہ جو تیرے پاس
16:14رومی غلام ہے
16:15وہ مجھے دینا پڑے گا
16:16دو لونڈیاں اس کے ساتھ دینی پڑیں
16:18اور یہ پچاس دینار کا ہے
16:20میں تجھ سے دو ہزار دینار لوں گا
16:23پچاس دینار کا ہے
16:25دو ہزار دینار لوں گا
16:27حضرت عباس نے صدیق اکبر
16:28رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا
16:29مجھے منظور ہے
16:30مجھے منظور ہے
16:33منظور ہے مجھے
16:35ابو بکر سیدیق نے
16:36وہ تینوں غیر مسلم
16:37غلام لیے
16:38دو ہزار دینار لیے
16:40حضرت عباس نے بھی
16:42کلمہ نہیں پڑا تھا
16:43کہنے لگے
16:44ابو بکر تُو
16:45کامیاب تاجر ہے
16:46کیا کرنے لگے ہو
16:47تو حضرت ابو بکر سیدیق
16:49کہنے لگے
16:49آپ نے بھی کلمہ نہیں پڑا
16:51آپ کو
16:51اس اس سعودے کا پتہ نہیں
16:53آپ ابھی
16:55اس لذتِ عاشنائی سے
16:56واقف نہیں
16:57آپ نے بھی
16:59ابھی اس راہ سے گزرے نہیں
17:01آپ کو پتہ نہیں
17:02یہ بھی ایک ذائقہ ہے
17:03یہ بھی ایک سعودہ ہے
17:05یہ بھی ایک لذت ہے
17:06یہ بھی ایک گہرائی ہے
17:07یہ بھی ایک مزہ ہے
17:08اس کا بھی
17:09آپ کو علم نہیں
17:10آپ نے کلمہ نہیں نہ پڑا
17:11محبت کو سمجھنا ہے
17:12تو نہ سے خود محبت کر
17:14کنارے سے کبھی
17:16اندازہِ طوفاں نہیں ہوتا
17:18فرمایا
17:18ابھی
17:19تو راہ گزر میں ہے
17:20کہتے مقام سے گزر
17:22ابھی ذرا آگے چلیں گے نا
17:24جب آپ
17:24کلمہ پڑھیں گے
17:25تو آپ کو پتہ چلے گا
17:26حضرت سیدنا بلال عبشی
17:28کو لینے کے لئے
17:29صدیق اکبر پہنچے
17:31دو ہزار دینار
17:32تین غلام
17:32پڑے لکھیں
17:33سیانے سمجھدار
17:34جب دیئے نا
17:36تو امیہ
17:38کھل کھلا کیا تھا
17:40کہنے لکھا
17:41ابو بکر
17:42بڑے گھاٹے کا سعودہ کیا
17:43تو نے
17:43ابو بکر
17:45تو نے بڑے
17:46گھاٹے کا سعودہ کیا ہے
17:48یہ پڑا لکھا
17:49مجھے دے کے جا رہا ہے
17:51اور یہ انپر
17:51تو لے کے جا رہا ہے
17:52یہ خوبصورت
17:53رومی غلام
17:54دے کے جا رہا ہے
17:55اور یہ
17:56حبشی کالے رنگ
17:57کا تو لے کے جا رہا ہے
17:58اور پچاس دینار
17:59کا غلام
18:00دو ہزار دینار
18:01میں تو لے کے جا رہا ہے
18:02اتنے گھاٹے کا سعودہ
18:03اتنی بڑی نادانی
18:05حضرت جناب سیدنا
18:07صدیق اکبر
18:08رضی اللہ تعالیٰ
18:09کہنے لگے
18:09امیہ
18:09تو کافر ہے
18:10لیکن
18:12تو نے ابھی بھی
18:13پیسے تھوڑے مانگے ہیں
18:14تو نے
18:15بلال کا رنگ دیکھا ہے
18:16میں نے
18:16مصطفیٰ کے
18:17عشق کا رنگ دیکھا ہے
18:18فرمایا
18:19تو ابھی
18:20اس کے رنگ میں
18:20الجا ہوا ہے
18:21اور میں جو
18:22اس کے باطن کا
18:23حسن ہے
18:23وہاں تک پہنچ گیا ہوں
18:25حضرت سیدنا
18:26بلال ابشی رضی اللہ تعالیٰ
18:27انہوں
18:27ساتھ کھڑے
18:28نابو وکر صدیق
18:29رضی اللہ تعالیٰ
18:31انہوں نے
18:32ارشاد فرمایا
18:32اگر میں
18:33یمن کا حکمران ہوتا
18:34یمن کا بادشاہ ہوتا
18:37اور تو
18:38مجھے کہتا
18:39کہ بلال میں
18:40تب دوں گا
18:41جب تو
18:42مجھے
18:42یمن کی حکمرانی دے گا
18:44فرمایا
18:45میں تجھے
18:45یمن کی حکمرانی
18:46بھی دے دیتا
18:47لیکن بلال
18:47کو ضرور
18:48خرید کے لے جاتا
18:49حضرت بلال ابشی
18:51جناب سیدنا
19:01بلال ابشی
19:02حضرت سیدنا
19:04ابو بکر صدیق
19:06فرماتے ہیں
19:07جب میں بلال
19:07کو لینے گیا
19:08تو حال پتہ کیا تھا
19:09ادھر دیکھئے گا
19:12فرماتے ہیں
19:13کہ ٹانگیں
19:13اوپر کر کے
19:14جس طرح آدمی
19:15رکو میں بیٹھتا ہے
19:17اس طرح کر کے
19:19نہ ٹانگیں
19:20اور سر پھر
19:21زمین کو لگا کے
19:22اس طرح
19:24سجدے میں
19:24آپ جاتے ہیں
19:25لیکن بالکل
19:25ٹانگوں کے ساتھ
19:26سر رکھ کے
19:27فرماتے ہیں
19:28چار بھاری چکیاں
19:30ریت پہ
19:31حضرت بلال تھے
19:32ان کے اوپر
19:32چکیاں رکھی
19:33امی تھی
19:33اور فرماتے ہیں
19:35حضرت بلال
19:35تھوڑی تھوڑی
19:36ارکت کرتے تھے
19:37تو وہ چکیاں
19:37جسم کے ساتھ
19:38لگتی تھی
19:39نا پاٹ ان کے
19:40فرماتے ہیں
19:41زخم بن گئے تھے
19:41خون نکلتا تھا
19:43فرماتے ہیں
19:44میں نے وہاں سے جا کے
19:45حضرت بلال کو نکالا
19:46پیسے دیئے
19:47لے کے آیا
19:48تو جناب بلال
19:49کہنے لگے
19:49جلدی جلدی چلو
19:50حضور کے پاس
19:51میرا جلدی جلدی چلو
19:54در مصطفیٰ پہ
19:54جلدی کرو
19:55تو جناب سیدنا
19:56بلال ابشی
19:57رضی اللہ تعالیٰ
19:59انہوں کے
19:59جواب میں
20:00حضرت ابوبکر
20:01صدیق کہنے لگے
20:01بلال جلدی نہ کر
20:03جب میں آیا تھا
20:04تو حضرت تیرے لی
20:05یانسو بہا رہے تھے
20:07اگر تجھے
20:08اس حالت میں
20:09زخمی دیکھیں گے
20:10تو میرے مصطفیٰ
20:10کو اور زیادہ
20:11رونا پڑے گا
20:12تو میرے ساتھ
20:13گھار چل
20:14میں تجھے
20:15کپڑے پہناتا ہوں
20:16میں تیرے
20:17زخموں پہ
20:17پٹی کرتا ہوں
20:18حضرت ابوبکر
20:19صدیق
20:20مزاج شناسہ
20:21نبوت تھے نا
20:22فرمایا
20:23چل میرے ساتھ
20:24میں ذرا تیری
20:24مرم پٹی کرلوں
20:25میں ذرا تیرا
20:26مون دھوڑا لوں
20:27میں ذرا تجھے
20:28کنگی کرلوں
20:29تو میرے ساتھ چل
20:30جناب بلال فرماتے ہیں
20:31جب سے پیدا ہوا
20:32تب سے غلام تھا
20:34کبھی کسی نے
20:35میرے کپڑوں
20:35کے فکر نہیں کی تھی
20:36مجھے تو
20:37امیہ چار چار دن
20:38روٹی نہیں دیتا تھا
20:39فرماتے ہیں
20:40جب میں گیا
20:41ابوبکر کے ساتھ
20:42ابوبکر صدیق
20:43نے ایک چٹائی بچھائی
20:44صدیق ایک پر
20:46چٹائی کے اوپر
20:47میرے ساتھ بیٹھ گئے
20:48فرماتے ہیں
20:48ابوبکر نے
20:49تیل مگایا
20:50وہ تیل
20:51میرے زخموں پہ
20:52ابوبکر صدیق
20:53نے وہ تیل
20:54میرے سر پہ
21:02منگوائی
21:03وہ پگڑی کھول
21:04کے میرے سر پہ
21:05بندوائی
21:06فرماتے ہیں
21:07ابوبکر نے
21:07مجھے تیار کیا
21:08فرمایا
21:09تو آج جا رہا ہے
21:10در رسالتِ معاپ پہ
21:12در رسالتِ معاپ پہ
21:14آج تو پہنچ رہا ہے
21:15حضور کے دروازے پہ
21:17بن کے جوگن
21:18مدینے نجاں آنگی میں
21:19جو جو بیتی نبی نو
21:21سناں آنگی میں
21:22حضرتِ جنابِ سجرنا
21:24اور وہ کسی شاعر
21:25نے تو بڑی شاندار بات کی
21:27اس نے کہا
21:27بڑی امید ہے
21:28سرکار قدموں میں
21:30بلائیں گے
21:31کرن کی جب نظر ہوگی
21:33مدینے ہم بھی جائیں گے
21:35اگر جانا
21:36مدینے میں ہوا
21:37ہم غم کے ماروں کا
21:39مکینِ گمبدِ خضراء
21:42کو حالِ دل سنائیں گے
21:43حضرتِ بلالِ ابشیرہ دی
21:45ان کے دل میں
21:45بڑی امانگتی آج جاؤں گا
21:47در رسالتِ معاپ پہ
21:49ملا رومی لکھتے ہیں
21:50کہ جنابِ سیدنا
21:51صدیق اکبر نے
21:52سجایا سوارا
21:53جنابِ بلال کی آنسو
21:54رکھتے ہی نہیں
21:55کہا
21:56باپ ہوتا ہے
21:58جو خدمتیں کرتا ہے
21:59میں نے آنکھ کھولی
22:01تو باپ کا سایہ
22:02تو میں نے دیکھا ہی نہیں
22:03اور فرمایا
22:04ماں تھی
22:04تو ماں جب بھی
22:05میں کام کر کے آتا تھا
22:07تو مجھے دیکھ کے
22:08میری امہ بس
22:08رو دیا کرتی تھی
22:09دو تین بہنیں تھی
22:11اور حضرتِ بلال
22:13فرمانے لگے
22:14ان بہنوں کو
22:14میں دیکھتا تھا
22:15تو وہ میرا حال دے کے
22:16روتی تھی
22:17اور جب وہ
22:18مجھے دیکھتی تھی
22:19تو میں رو دیا کرتا تھا
22:22فرمایا
22:22ابو بکر
22:23میں نے تو یہ رنگ ڈھنگ
22:24دیکھے نہیں
22:24جو آج
22:25تو مجھے دکھا رہا ہے
22:26جنابِ شیدنا
22:27صدیق اکبر
22:28رضی اللہ تعالیٰ
22:30نے بنا سوار کے نہ
22:31حضرتِ بلال
22:32کا ہاتھ پکڑ
22:33کے سینے پہ رکھا
22:34جنابِ بلال
22:35ہج کی لے کے روئے
22:36حضرت ابو بکر
22:37صدیق نے فرمایا
22:38جتنا رونا
22:39یہاں رو لے
22:40میں کائنات کے آنسو
22:41دیکھتا ہوں
22:42لیکن جب نبی کی آنکھوں
22:43میں آنسو دیکھتا ہوں
22:44تو دیکھے نہیں جاتے
22:45تو میں یہاں رو لے
22:46حضرت کے دروازے پہ جا کے
22:48تیری آنکھ میں آنسو
22:49نہیں آنا چاہیے
22:50پہاڑ
22:51اتنے آنسو بہا سکتا ہے
22:53حضرتِ بلال
22:53اپشی بھی روئے
22:54جنابِ صدیق اکبر بھی روئے
22:56جب پہنچے
22:58نا دروازہِ رسول پہ
22:59اولے کے سینے
23:01جنابِ بکر صدیق
23:10نکلے
23:10پھر کوئی نیریندہ جارکے
23:12حضرتِ سیدنا بلالِ اپشی
23:14کو لے کے پونٹے درِ مصطفیٰ پہ
23:16رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
23:20نے
23:20ایک نظر حضرتِ بلال پہ ڈالی
23:22جنابِ بلال نے
23:24یوں آنکھ میں لائی
23:25تو سر جھکا لیا
23:25بادہ کیا تھا نا رونا نہیں
23:27سر جھکا لیا
23:28اب دوسری نظر
23:30نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
23:33نے جب اٹھائی نا
23:34حضرتِ ابو بکر صدیق کی طرف
23:36تو حضور نے فرمایا
23:37صدیق تیرا شکریہ
23:39ابو بکر اللہ تجھے جزا دے
23:42جب رسولِ پاک کی زبان سے
23:44یہ نفذ نکلے
23:45تو جنابِ صدیق اکبر نے
23:46ہاتھ اٹھائے
23:47یہ ہاتھ باندھے
23:49جب رسولِ پاک کے سامنے
23:50تو سب سے زیادہ آنسو
23:51ابو بکر صدیق کے اپنے نکل گئے
23:54کہا یا رسول اللہ
23:56میں غریبے
23:58بے نواتو امیرِ حرم
23:59تو کجا من کجا
24:01کہا حضور یہ شکریہ کے لفظ
24:03یا رسول اللہ
24:04میں کہاں اور آپ کا شکریہ کہاں
24:06نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
24:07نے فرمایا
24:08ابو بکر کاش
24:09تو تھوڑے سے پیسے
24:11میرے بھی ملا لیتا
24:12بلال کو خریدنے میں
24:14میرا بھی حصہ ڈال لیتا
24:15میں چاہتا تھا
24:16ابو بکر پھر روئے
24:18کہا یا رسول اللہ
24:19میرے پیسے کس کے ہیں
24:20آقا میں بھی آپ کا
24:22یہ بھی آپ کے
24:23جنابِ سیدنا
24:24بلالِ عبشی رضی اللہ
24:26تعالیٰ
24:26انہوں کی طرف
24:27حضور نے دیکھا
24:28تو فرمایا
24:28بلال آئی
24:29یار ذرا سینے سے
24:30تو لابی جا
24:30اب حضرتِ بلال
24:32دوڑے
24:33دوڑے
24:34جو رسول پاک
24:35کے سینے سے لگے تھے
24:36ایک جملہ
24:37میرے معبوب کی زبان سے
24:38فرمایا
24:39بلال
24:39تو انہیں بڑی سختیاں
24:41ورداش کی ہیں
24:41تجھے میرا اللہ
24:42ہی جزا آتا فرمائے گا
24:43انہیں بڑے دکھ دیکھے ہیں
24:45اب سیدنا بلال
24:46تڑپے
24:47رسول پاک
24:48صلی اللہ
24:48تعالیٰ
24:49علیہ وسلم
24:50بھی روئے
24:50حضور نے اپنے ساتھ
24:52بٹھا لیا
24:52سیدنا بلال کو
24:53حضور نے گھر پہ
24:55گام بھیجا
24:55فرمایا
24:55ختیجہ
24:56گھر میں کچھ ہے
24:59تو بھیجو
24:59بلال آیا ہے
25:01اب حضرتِ خدیجہ
25:03تلکبراہ
25:03اندر سے
25:04کیا آواز دیتی ہیں
25:05کہتے ہیں
25:06حضور مبارک ہو
25:07اللہ نے بلال
25:08کو ازادی
25:08عطا فرما دیے
25:09وفہ شار
25:10بیوی اندر سے
25:11اب حضرتِ سیدنا
25:13زینب
25:14رضی اللہ تعالیٰ
25:14انہا
25:15میرے معبوب کی
25:16شہزادی چھوٹی سی
25:17عمر ہے
25:18ایک برطن کے اندر
25:19خجورے لے کے آئیں
25:20ایک برطن میں
25:22خجورے
25:23اب لاکہ جب
25:24خجورے رکھینا
25:25تو سیدنا
25:27صدیق اکبر
25:28نے ہاتھ بڑھایا
25:28خجورے اٹھانے کے لئے
25:30تاکہ میں دو
25:30حضور نے فرمایا
25:32نا ابو بکر
25:32بلال پہلے دن آیا ہے
25:34پہلے
25:35تُو نے جتنی خدمت
25:36کرنی تھی
25:37تُو گھر کر کے آیا
25:38میری باری ہے
25:39حضرتِ بلالِ
25:40اپشی فرماتے ہیں
25:41کائنات میں
25:41میں نے اتنا پیار
25:42کبھی دیکھا ہی نہیں تھا
25:43تیس سال سے
25:44زیادہ میری عمر تھی
25:45مجھے تو کبھی
25:47کسی نے پاس
25:47بٹھا کے کھانا
25:48کھلایا ہی نہیں
25:49فرماتے ہیں
25:49رسول پاک
25:50سخت سخت
25:51خجورے سائیڈ پہ کرتے
25:52اندر سے
25:53نرم خجور نکالتے
25:54اس خجور سے
25:56تھوڑا سا چھلکا
25:57جدا کرتے
25:57فرماتے ہیں
25:58پھر اس کو توڑتے
25:59اس کے اندر سے
26:00وہ گھڑلیا اٹھار کے
26:02حضور ایک سائیڈ پہ کرتے
26:03وہ نرم خجور
26:04رسول جب میری طرف
26:05بڑھاتے
26:06حضرتِ بلال فرماتے ہیں
26:07بھوک تو بڑی تھی
26:08لیکن آج بھوک
26:10ساری بھول گئی تھی
26:11آج مجھے یوں لگتا تھا
26:12جیسے میں زمین پہ
26:13نہیں
26:13عرش کی بلندیوں
26:14پہ بیٹا ہوا ہوں
26:15آج لگتا تھا
26:16کائنات کی
26:17ساری نعمتیں
26:18ساری رحمتیں
26:19سارا کرم
26:20ساری عطا
26:21سارا فضل
26:22ساری عنایتیں
26:23میری جھولے میں
26:23گھر گئی ہیں
26:24فرماتے ہیں
26:25رسول پاک
26:26صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
26:28نے مجھے
26:30بڑے محبت سے بٹھایا
26:31حضور علیہ السلام
26:32نے محبت سے کھلایا
26:33دودھ پلایا
26:34فرماتے ہیں
26:35بڑا پیار کر کے
26:36نا
26:36تو جنابہ سیدنا
26:38صدیق اکبر نے
26:39کہا حضور بلال
26:40کی ڈیوٹی کیا ہوگی
26:41حضور بلال کی
26:44ڈیوٹی کیا ہوگی
26:46حضرت بلال
26:47کہنے لگے
26:47حضور میں
26:47فارغ رہنے کا
26:48تو عادی نہیں
26:49میں تو جفاق
26:51کش آدمی
26:52یوں محنت کرنے والا
26:53ڈیوٹی کیا ہوگی
26:54رسول پاک نے فرمایا
26:55بلال یہ میرا گھار ہے
26:56آج کے بعد
26:58میرا نہیں
26:58یہ تیرا گھار ہے
26:59فرمایا
27:00میں مصروف ہوتا ہوں
27:01تبلیغ کے کاموں میں
27:02گھار کیا لانا ہے
27:04وہ تیری
27:04ذمہ داری ہے
27:05کہاں سے لانا ہے
27:06وہ بھی
27:07تیری ذمہ داری ہے
27:09پیسے کہاں سے آئیں گے
27:10میں تجھے
27:11بلاؤں گا
27:12کہاں لگانے ہیں
27:13تجھے ایک دفعہ بتاؤں گا
27:14پھر تُو لائے کرے گا
27:16تُو ہی لگایا کرے گا
27:17فرمایا
27:18میرا پرسنل سیکٹری
27:19بن کے رہے گا تُو
27:20خاص
27:21مقام تجھے دیا جائے گا
27:23حضرت سیدنا
27:24بلال ابشی
27:25رضی اللہ تعالیٰ عنہ
27:27کو رسول اکرم
27:28صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
27:30نے
27:31علم نے
27:32اس کام پر مقرر فرما دیا
27:33اب دیکھئے
27:35حضرت بلال
27:37رضی اللہ تعالیٰ عنہ
27:39جب در مصطفیٰ
27:40صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
27:42پر پہنچ جاتے ہیں
27:43اور پہنچنے کے بعد
27:45کیا مسئلہ ہے
27:46یہ کیوں نہیں چاہتا ہے
27:47درود پاک
27:51پڑیئے
27:52صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
27:54کی گا لائے
27:55میں یہ گلائش کر رہا تھا
28:02کہ حضرت بلال ابشی
28:03رضی اللہ تعالیٰ عنہ
28:04کو رسول پاک نے
28:05یہ ڈیوٹی عطا فرما دی
28:06اب پتہ کیا ہوتا
28:08حضرت پردے کی آیتیں
28:11تو ابھی آئے نہیں تھی
28:11حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ
28:13اور رسول پاک کے ساتھ
28:14نکلتے تولیق کے لئے
28:15کسی کام کے لئے
28:17سودہ صلی اللہ تعالیٰ
28:18بازار سے
28:18یہ مکہ کے دنوں کی بات ہے
28:20مکہ کے دنوں کی
28:22سودہ صلی اللہ بازار سے
28:25لاتے
28:25اب چار بیٹیاں تھی
28:27حضرت خدیدہ
28:28تن کو برات کی
28:29گھر کے کام کاج ہوتے تھے
28:31جب ذرا فارق ہوتے
28:32دروازے پر دستک دیتے
28:33حضرت خدیدہ فرماتی
28:35بلال تو آ گیا ہے
28:36وہ دستک سے پہچانتی ہے
28:39کہ بلال کے دستک
28:40بلال آ گیا ہے
28:41کہاں مہ جی
28:42میں سارے کام کاج بار کے
28:43ختم کار آیا ہوں
28:44گھر کا کوئی کام ہے
28:45تو ذرا مجھے بتاؤ
28:45آپ فرماتے ہیں
28:48گھر کے کام ہے
28:48پر میں کر رہی ہوں
28:50اب حضرت بلال
28:51کلنا شروع کرتے
28:52یہ ہے محبت
28:52آج
28:54اگر ہم کہیں
28:56خادم ہو بھی نہ
28:57تو بانے
28:57ڈونڈتے پھرتے ہیں
28:58فارق ہونے کے
28:59حضرت بلال فرماتے ہیں
29:01آپ نے چکی پیچھ لیا ہے
29:03گھر میں جھاڑو دے لیا ہے
29:05بچوں کے لیے دودھ آ گیا ہے
29:07بکریوں کا دودھ دھو لیا گیا ہے
29:10ایک ایک کام پوچھتے ہیں
29:11حضرت خدیدہ تلکبرہ
29:12فرماتے ہیں یہ بھی ہو گیا
29:13یہ بھی ہو گیا
29:14چکی رہ گئی ہے پیچھنے والی
29:15فرماتے ہیں
29:16دروازہ کھول دو
29:17میں پیچھ ڈالتا ہوں
29:18حضرت بلال گھر کی چکی پیستے
29:21گھر کے کام کاج کرتے
29:22ایک دن نہ دارِ ارکم میں
29:24رسول پاک تھے
29:25تو بار سے کوئی شورش ہوئی
29:26حضرت بلال افشی کہنے لگے
29:28حضور ایک نیزہ نہیں مگوا دیتے مجھے
29:30ایک نیزہ
29:32ساری دنیا حضرت بلال کو
29:34موزن رسول سمجھتی ہے
29:36اور ہیں بھی
29:37لیکن حضرت بلال
29:39سب سے پہلے نیزہ بردار بھی ہیں
29:41سب سے پہلے
29:43نبی پاک کی افاظت
29:44کیلئے نیزہ
29:45جس شخص نے اٹھایا ہے
29:47تلوار اٹھانے والے اور ہیں
29:48جان قربان
29:50نیزہ سب سے پہلے
29:51حضرت بلال
29:52کہا حضور ایک نیزہ نہیں مگوا دیتے
29:54بلال کیا کرنا ہے
29:56کہا یا رسول اللہ
29:57یہ کعور
29:57ہلکی پھل کی شرانت کرتے رہتے ہیں
29:59کہا میرے آت میں نیزہ ہوگا
30:00تو قریب کوئی نہیں آئے گا
30:02یہ کرتے رہتے ہیں
30:04ہلکی پھل کی شرارت
30:05باز نہیں آتے ہیں
30:06نیزہ دے دیں گے نا
30:06تو قریب کوئی نہیں آئے گا
30:08اب رسول پاک نے نیزہ دے دیا
30:09مگوا دیا
30:10اب حضرت بلال کے آت میں نیزہ ہوتا
30:12حضرت بلال کے آگے آگے چلتے
30:15آگے آگے
30:17آگے آگے
30:18نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
30:21دارِ ارکم میں جا کے
30:22تبلیغ کا کام شروع کرتے
30:24تو حضرت بلال دروازے پہ
30:25نیزہ لے کے کھڑے ہو جاتے
30:26حضرت بلال تو ادھر کھڑا ہو گیا
30:29یا رسول اللہ انشاءاللہ
30:30جب تک میں کھڑا ہوں
30:31اندر کوئی کافر آ نہیں سکتا
30:32اندر کوئی نہیں آئے گا
30:34میں محافظ بن کے کھڑا ہوں
30:35حضرت بلال ابشیر رضی اللہ تعالی
30:38انہوں نے ہمیشہ
30:38اور یہ نیزہ ہمیشہ پاس رکھا
30:40بدر میں بھی
30:41یوہد میں بھی
30:42طبوق میں بھی
30:42یرموک میں بھی
30:43خندق میں بھی
30:44جب نبی پاک نمال پڑھانے کے لئے
30:46کھڑے ہوتے
30:46حضرت بلال نیزہ
30:48نبی پاک کے آگے گاڑ دیتے
30:49یہ سترہ بن گیا
30:51اب کوئی آگے سے گزرے گا
30:52تو اسے تکلیف نہیں ہوگی
30:53گناہ نہیں ہوگا
30:54حضرت بلال ابشیر نے
30:57مکہ کے تیرہ سال
30:59سابقون الاولون میں سے ہیں
31:02قرآن کہتا ہے
31:03وَسَّابقون الاولون
31:05مِنَ الْمُحَاجِرِينَ وَالْأَنسَارِ
31:07فرمایا وہ جو پہلے سبقت لینے والے ہیں
31:10نا محاجر والانسار
31:11پہلے جنہوں نے سب سے پہلے کلمہ پڑھا
31:13وہ محاجر والانسار جنہوں نے پہلے کلمہ پڑھا
31:16وَالَّذِينَ اتَّابَهُمْ بِ
31:18اِخْسَانٍ
31:19اور وہ جنہوں نے اخسان کے ساتھ
31:21ان کی پیروی کی
31:22رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُ عَنْ
31:24فرمایا وہ اللہ سے راضی ہیں
31:26اللہ ان سے راضی ہے
31:27اللہ انہیں جنت میں داخل کرے گا
31:30جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں
31:31ذَلِكَ الْفَوْضُ عَزِينَ
31:33فرمایا یہ بہت بڑی کامجابی ہے
31:35پہلے کلمہ پڑھ لیں
31:36حضرتِ بلال صحابقون الاولون میں سے
31:38پہلے کلمہ پڑھنے والے لوگوں میں سے
31:40نا محاجر کے جنہ بلال عمشی رضی اللہ تعالیٰ
31:43انہوں نے پوری دلیری کے ساتھ کام کیا
31:46اب آگیا وقت عجرت کا
31:48رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے
31:52حضرتِ بلال کو فرمایا
31:53فرما بلال
31:54تو عجرت کر جا مدینے کی طرف
31:56تلا جا
31:58انہوں نے بلال نے ارز کی
32:00حضور میں غلام ہوں
32:02خادم ہوں
32:03ہر حکم مانا میری ڈیوٹی ہے
32:05لیکن ایک ارز کرنی ہے صرف
32:07حضور نے فرمایا بلال کرو
32:10کہا یا رسول اللہ آپ مدینے آئیں گے نا
32:13آپ آئیں گے مدینے
32:15حضور نے پاک صلی اللہ علیہ وسلم
32:17اس کو راپڑے فرمایا ہاں میں بھی آوں گا
32:19کہا حضور بس ٹھیک ہے بتائیں کب جانا ہے
32:21بس اتنی سی بات ہے
32:23آپ آئیں گے نا
32:25حضور نے فرمایا ہوں گا
32:26کہا پھر ٹھیک ہے بتائیں کب جانا ہے
32:28سرور کون مکہ سیاہ لا مکہ
32:30صلی اللہ علیہ وسلم نے
32:32بلال یہ سولہ مرد
32:33عورتوں بچوں پر مشتمل
32:36سولہ لوگوں پر مشتمل یہ کافلہ ہے
32:38اس کافلے کے اوپر
32:40تجھے میں امیر مقرر کرتا ہوں
32:42تو ان کو لے کے جائے گا
32:44مکہ سے مدینے
32:46دھائی سو کلومیٹر کا سفر
32:48دھائی سو میل کا سفر
32:50حضرت بلال عبشی رضی اللہ تعالیٰ
32:52کافلے کے امیر بن کے
32:54سخت گرمی کا موسم
32:55حضرت بلال کے آتھوں میں تلوار ہے
32:57ایک آت میں نیزہ ہے
32:59ایک آت میں تلوار ہے
33:00تیر آپ نے پیچھے باندھ رکھے
33:02پشت پہ
33:03اور آپ لے کے جا رہے ہیں
33:04کبھی کافلے کے آگئے
33:05کبھی پیچھے
33:06کبھی دائیں کبھی بائیں
33:07وہ عورتیں اور بچے
33:08لڑا پریشان ہوتے
33:09تو حضرت بلال فرماتے
33:11پریشان ہونے کی ضرورت نہیں
33:12ہمیں مصطفیٰ قریب نے بیجا ہے
33:13ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیجا
33:17میرا یقین بڑا مضبوط ہے
33:18اور میں نبی پاہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیجا
33:20فکر نہ کرو چلو
33:21اب یہ کافلہ جا رہا ہے
33:24حضرت بلال عبشی نے
33:25بخیر و آفیہ سپا سالار بن کر
33:27اس کافلے کو پہنچایا مدینے میں
33:30اب مدینے پہنچا کے
33:31سارے لوگ مدینے والے مدینے میں لگ گئے
33:34اپنے اپنے کام
33:35حضرت بلال پہلے دن ہی آکے
33:37مدینہ منورہ سے باہر سراج پہ کھڑے ہو گئے
33:40کہا بلال ادھر کیا کر رہے ہو
33:42کہا وعدہ کیا تھا
33:44یار نے آؤں گا دن ٹلے
33:45نبی پاک علیہ السلام نے وعدہ فرمایا تھا
33:48میں آؤں گا
33:49اب میرا تو کام ہے نبی پاک کا انتظار کرنا
33:52استقبال کرنا
33:53حضرت بلال روز انتظار کرتا
33:55رسول پاک تشریف لے آئے
33:57حضور حکم کیا ہے
33:58فرمایا مسجد بنانی ہے
33:59مسجد ایک کباب بن رہی ہے
34:01تو سب مسجدوروں سے زیادہ کام
34:02حضرت بلال نے کیا
34:04مسجد نبی کی تعمیر شروع ہوئی
34:06تو سب سے زیادہ کام
34:07حضرت بلال نے کیا
34:08مسجد بن گئی
34:10اب جناب آذان
34:11کا معاملہ شروع ہو گیا
34:13مسلمانوں کا نماز کے لیے کیسے بلائیں
34:15ایک سیابی کہنے لے
34:17کہ حضور ہم اوپر آگ جلایا کریں
34:19کہ جب آگ جلے گی
34:20تو لوگوں کو پتہ چلے گا
34:21نماز کا وقت ہو گیا
34:22ایک نے کہا
34:24ہم بڑی دفت بگا
34:25منگواتے ہیں
34:26دفت بجائیں گے
34:27نماز کا وقت ہو گیا
34:28حضور نے فرمایا
34:28جاؤ
34:29صبح فیصلہ کریں گے
34:30رات سے آپ آس ہوئے
34:32حضرت عبداللہ ابن زہد
34:33رضی اللہ تعالیٰ عنہ
34:34اور حضرت عمر فاروق
34:35رضی اللہ
34:36خواب دیکھتے
34:37خواب میں کوئی آذان پڑھ رہا ہے
34:39اللہ اکبر
34:40اللہ اکبر
34:41اللہ اکبر
34:42اللہ اکبر
34:43آذان
34:44آذان پڑھنی چاہیے نا
34:45کیا خیال آپ
34:47آذان آنی چاہیے نا
34:50میں ویسے
34:50معذرت کے ساتھ
34:51کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے
34:52کہیں جماعت کرانے لگے نا
34:53تو کسی سے کہنا
34:54تکبیر پڑھو
34:55تو ایک دوسرے کو
34:56کہنا شروع کر دیتا ہے
34:56تو وہ پڑھ
34:58تو وہ پڑھ
34:59میں اپنے استادوں کے پاس
35:00جب ہم پڑھتے تھے
35:01عضی طویسی صاحب
35:02رحمت اللہ علیہ کے پاس
35:03تو ہم پڑھ رہے تھے
35:04سبق تھوڑا رہتا تھا
35:06دیر ہو گئی کلاس کو
35:08تو ایک لڑکا آیا
35:09تو استاد کہنے لگے
35:10یا ادان پڑ
35:11کہنے لگا
35:12جی مجھے شرم آتی ہے
35:13تو استاد فرمانے لگے
35:15یار میں تو بڑا بشرم ہوں
35:17چالیس سال ہوگئے
35:17ادانے پڑھ رہا ہوں
35:18تمہیں شرم آتے
35:20بڑا بے شرم ہوں
35:21چالیس سال سے ادان
35:23کہنے لگے
35:23کہا نہیں جی
35:23بہت والا معاملہ نہیں
35:24فرمانے لگے
35:25کہ یار گالی نکالتے وقت
35:27شرم آنی چاہیے
35:28کسی کو برے لفظوں سے
35:30یاد کرتے وقت
35:30کسی کا گلہ کرتے وقت
35:32غیبت کرتے وقت
35:33چوگلی کرتے وقت
35:34جھوٹ بولتے وقت
35:35دگا اور فریب
35:36اور فراد کرتے وقت
35:37شرم آنی چاہیے
35:38تجھے ادان دیتے وقت
35:39شرم آ رہی ہے
35:40یہ ہمارا حال ہے
35:41ادان آنی چاہیے
35:42مشکل کامنے سیکھنی چاہیے
35:44میرے نبی کریم
35:45صلی اللہ علیہ وسلم
35:46نے فرما جس نے
35:47چالیس دن تک
35:48اللہ کی رضا کے لیے
35:51پانچوں وقت کی ادان پڑی
35:52چالیس دن صرف
35:53فرمایا
35:54اللہ اس کے پچھلے
35:55سارے گناہ
35:56امام فرما دے گا
35:57اور فرمایا
35:58قیامت کے دن
35:59سب سے لمبی گردنیں
36:01موزنوں کی ہوں گی
36:02ادان دینے والوں کی
36:04گردنیں اور قاد
36:05لمبے ہوں گے
36:06یا رسول اللہ پھر
36:07فرمایا
36:08وہ لائن بنا کے
36:09جنت میں جائیں گے
36:10فرمایا
36:11جب موزن جنت میں
36:12جا رہے ہوں گے
36:13تو سب سے آگے آگے
36:13میرا بلال ہوگا
36:14سب سے آگے آگے
36:17موزنوں کا قائد
36:18اور لیڈر
36:19میرا بلال ہوگا
36:20حضرت بلال ابشی
36:21رضی اللہ تعالیٰ
36:22اب آزان
36:23کوئی کہنے لگا
36:24یہ کریں
36:24کوئی کہنے لگا
36:25وہ کریں
36:25اب حضرت عمر
36:26خواب دیکھتے ہیں
36:27کوئی ادان پڑھ رہا
36:28عبداللہ ابن زید
36:29خواب دیکھتے ہیں
36:30کوئی ادان پڑھ رہا
36:31اب جب یہ آئے
36:32آکے سویرے
36:33حضور کو خوابیں
36:33شنائیں
36:34حضور اس اس طرح
36:35سے ادان پڑھئے
36:36فرمایا
36:36جس جس طرح
36:37کی تمہاری خواب
36:38اے نا
36:39اسی اسی طرح
36:40میرے اللہ کی
36:41رضا بھی ہے
36:41حضور ادان پڑھے گا
36:44کون فرمایا
36:45بلال پڑھے گا
36:46حضرت بلال کی آواز
36:48میں لقنت تھی
36:49اشحد نہیں
36:50کہتے تھے
36:50اسحد کہتے تھے
36:52لقنت تھی
36:53حضور نے فرمایا
36:54بلال کا
36:54اسحد بھی
36:55اللہ شد
36:56بنا کر
36:56قبول فرماتا ہے
37:03حضور نے
37:03حضور نے
37:04حضرت بلال کو
37:04اب اصحاب سوفہ
37:06میں پڑھتے بھی تھے
37:07بقیدہ علم بھی
37:07حاصل کرتے تھے
37:08نبی پاک کے پاس
37:09تعلیم حاصل کرتے تھے
37:10حضرت بلال عبشی
37:11اب حضور نے فرمایا
37:13بلال یہ ادان کے لفظ ہیں
37:14تو ادان پڑھا کرے گا
37:15حضور نے بلال عبشی
37:16کو ادان سکھا دی
37:17رسول پاک
37:18صلی اللہ علیہ وسلم
37:20نے فرمایا
37:20چڑھ جا
37:21مسجد نبوی کے ساتھ
37:23منارے پہ
37:23چڑھ جا
37:24ایک کونے پہ
37:25اور چڑھ کے ادان پڑھ
37:26اب حضرت بلال عبشی
37:28رضی اللہ تعالیٰ
37:29انہوں نے
37:29سب سے پہلی ادان
37:30تاریخ میں پڑھی
37:31سب سے پہلی ادان
37:33دو مرتبہ
37:35حضرت بلال ادان
37:37نہیں پڑھ سکے
37:38جب تک
37:39رسول پاک موجود ہے
37:40دو مرتبہ
37:41ایک مرتبہ تو
37:43مدینہ منورہ میں
37:44کسی وجہ سے
37:44حضرت بلال ادان
37:46نہ دے سکے
37:47ایک مرتبہ
37:47تو بھوک سے
37:48واپسی پہ سو گئے
37:49حضرت بلال
37:51تیری ڈیوٹی
37:51ہمیں جگانے کے
37:52حضرت بلال
37:53خود بھی سو گئے
37:54صبحرے جب
37:55اچھی طرح سے
37:56صورت چمکا
37:57تو رسول پاک کی آنکھ کھلی
37:58حضرت بلال کو
38:00حضرت بلال کو
38:00حضرت بلال
38:00اجنابی بلال
38:01چونک کے اٹھے
38:02فرمایا
38:02تجھے کہا تھا جگانہ ہے
38:03یا رسول اللہ
38:05ساری رات جاگتا رہا
38:06جب جاگنے کا
38:07ٹائم آیا
38:08تو سو گیا
38:08میں نے کہا
38:10میں ذرا کمر سی دی
38:11کرنوں
38:11حضرت بس لیٹا
38:12یوں تو آنکھ لگ گئی
38:13ٹیک لگائی ہے
38:14بس میں نے
38:15پتھر کے ساتھ
38:16آنکھ لگی
38:16حضرت بلال نے
38:19آزان پڑی
38:20اور صورت چمکتے میں
38:21رسول پاک نے
38:22نماز آدھا فرمائی
38:23عجیز دوستو
38:24حضرت بلال
38:25افشی نے
38:26ہمیشہ آزان پڑی
38:27ہمیشہ
38:27نبی کریم
38:30صلی اللہ علیہ وسلم
38:32کسی آبا
38:33ایک دن
38:34حضرت بلال سے
38:35کہاں نے لگے
38:35بلال
38:36تو ساری زندگی
38:37آزان پڑھتا رہا
38:38مزا کب آیا
38:39آزان پڑھنے کا
38:40مزا کب آیا
38:41حضرت بلال
38:42کہاں نے لگے
38:42ایک اس دن
38:43جس دن
38:43مجھے حضور نے
38:44آزان سکھائی تھی
38:45بڑا لطف آیا تھا
38:47حضور سے آزان سیکھنے کا
38:49اور فرمایا
38:50ایک اس دن
38:50مجھے مزا آیا
38:51جب میں نے
38:52کعبے کی چھت پہ
38:53کھڑے ہو کے
38:53آزان پڑھی ہے
38:54حضرت بلال
38:55فرماتے ہیں
38:56سارے کافر
38:57زمین پہ
38:58کھڑے تھے
38:58گردنے جھکائے
38:59اور میرے
39:00مصطفی کریم
39:01جب کسوان
39:02نامی اونٹنی
39:03پہ بیٹھے تھے
39:03اور میں آزان
39:05دے رہا تھا
39:05تو میں آج
39:06بڑا راضی تھا
39:07میں کہہ رہا تھا
39:08یا اللہ کیا بات ہے
39:09آج
39:09تُو نے میرے حبیب
39:10کو کتنی عزتوں
39:11سے نوازا ہے
39:12ایک
39:13کام کاج کرنا
39:15اور میں پہلے بھی
39:17حدیث سنا چکا
39:18حضرت بلال
39:20ابشی خود بخود
39:21لوگوں سے
39:21کرزہ لے لیتے تھے
39:22حضور کو تکلیف ہی نہیں
39:23بخاری مسلم
39:24بتاتی ہے
39:25خود بخود
39:26کرزہ لے لیتے تھے
39:27خود بخود
39:29نبی پاک کو
39:30تکلیف ہی نہیں
39:31دیتے تھے
39:31کام کہا جائے
39:32مہمان آ جا رہے ہیں
39:33ان کی خدمت کر دی ہے
39:34بلال نے خود ہی
39:35کرزہ اٹھا لیا
39:36کرزہ اٹھا کے
39:37خود بخود
39:38حضرت بلال
39:38سعودہ لے آئے
39:39سعودہ لا کے
39:40جناب بلال
39:41نے پکا دیا
39:42ایک دن
39:44ایسا بھی آیا
39:44بخاری شریف کے لفظیں
39:46جن کے کرزے دینے تھے
39:48وہ کہنے لے
39:48بلال
39:49سویرے کرزہ دو
39:50ورنہ
39:50تجھے لے جائیں گے
39:51بکریاں چرانی پڑیں گے
39:52دلت بلال
39:53ابشی رضی اللہ تعالی
39:54انہوں نے
39:54حضور کی خدمت میں
39:55ارض کی کھا کھا
39:56اگر کوئی بندوبست ہو گیا
39:58تو ٹھیک ہے
39:59ورنہ میں تو
39:59سویرے باہر جاؤں گا
40:00میں شام چلا جاؤں گا
40:02پیسے آگئے
40:03تو مجھے پیغام
40:04بھیجنا آ جاؤں گا
40:05سویرے فجر سے پہلے
40:06حضور نے پیغام بھیج دیا
40:08فرمایا
40:08بلال
40:09تیری مدد کے لیے
40:10اللہ نے
40:10تین اونٹنیاں
40:12سمان کی بھیج دی ہیں
40:13حضرت بلال
40:14ابشی رضی اللہ تعالی
40:15انہوں نے
40:16سارا گھر کا کام کار
40:18خود سے سمال لیا تھا
40:19ایک دن غائب ہو گئے
40:21حضرت بلال
40:22عزان دے کے
40:22فجر کی عزان دے کے
40:25ایک دے نا
40:25فجر کی عزان دے کے
40:27غیب نہیں ہونا چاہیے
40:28کیا خیال ہے آپ کا
40:30موزن کو عزان دے کے
40:32غائب ہے
40:33اسے مسجد میں پھر
40:34رہنا چاہیے
40:35حضرت بلال
40:36ابشی رضی اللہ تعالی
40:37انہوں نے عزان پڑھی
40:38غائب ہو گئے
40:40اسے آبا
40:40ڈھونڈ رہے ہیں
40:41بلال کدھر ہے
40:41اکامت پڑھے
40:42حضور نے فرمایا
40:44ٹھئر جو بلال آئے گا
40:45تو اکامت پڑھے گا
40:46بلال آئے گا
40:48تو
40:48جلدی نہ کیا کرو
40:50مسجد میں
40:51اگر دو چار منٹ
40:51کبھی دیر ہو جائے نا
40:52نماز میں تو جلدی
40:54کوئی بات نہیں
40:56اللہ کے گاری آئے ہو نا
40:57جلدی نہ مچایا کرو
40:58اللہ کا گار ہے
40:59رحمت والی جگہ ہے
41:00حضور نے فرما
41:02بلال آئے گا
41:03تو عزان پڑھے گا
41:05اب سب سے آبا
41:06خموش ہیں
41:07کہ بلال
41:08جاتا نہیں
41:09کام بھی اس کا
41:10کوئی ایسا نہیں
41:10حضرت بلال دوڑے آئے
41:12جلدی جلدی جلدی
41:13جلدی دوڑے آئے
41:14رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم
41:16نے سوال ہی نہیں کیا
41:17کہ بلال
41:17تو کدھر سے آیا ہے
41:19فرمایا آگئے ہو
41:20حضور آگیا ہوں
41:21پڑھو اکامت
41:22پڑھو اکامت
41:24پڑھو اکامت پڑی
41:24جماعت ہو گئی
41:26اب سہابہ اکرام علی
41:27مریدوان حیران ہے
41:28کہ حضور نے پوچھا ہی نہیں
41:29اور بلال آیا بھی دیر سے
41:31حضرت جناب سیدنا
41:33صدی کے اقبر
41:34جناب مقداد
41:35جناب سلمان فارسی
41:36چند شہابہ
41:37حضرت بلال کو لے کے
41:39کون ہے
41:39بلال تُو کدھر تھا
41:40راج کی کوئی بات ہے
41:42جو بتاتا نہیں
41:43کدھر تھا
41:44حضرت بلال رضی اللہ تعالی
41:46انہوں کی آنکھوں میں
41:47ہسو آگئے
41:47رو پڑے
41:49رو پڑے
41:50کہ بلال کوئی گہری بات
41:52اب بتا معاملہ کیا ہے
41:53روتا کیوں ہے
41:54حضرت بلال ابشی رضی اللہ تعالی
41:56ہمیں فرمانے لگے
41:57جب حضرت خجیدت القبرا
41:59گھر میں چکی پیستی تھی
42:01تھک جاتی تھی
42:02نہ تو میں مدد کرایا کرتا تھا
42:04کتنے دن بیٹ گئے
42:06جب فجر کی آزان دینے
42:07اس کے لئے گزرتا ہوں
42:08تو حضرت فاطمہ
42:09تُو زہرہ کے بچے
42:10روتے ہوتے ہیں
42:11فرمایا
42:12میں نے حضرت فاطمہ
42:13کو گود میں کھلایا ہے
42:14مجھے اپنے معبوب کی
42:16شہزادی سے بڑا پیار ہے
42:17کئی دنوں سے
42:18حضرت کی خدمت میں
42:19ارز کر رہا تھا
42:20یا رسول اللہ
42:21کو میربانی فرمائے
42:22حضور نے رات پیغام
42:23بھیجا ہے
42:24سیدہ فاطمہ کو
42:25کہ بلال جب آئے
42:26تو پردہ کر
42:27کے اندر چلی جایا کر
42:28حضرت بلال فرماتے
42:30آزان دے کے گیا
42:31تھا حضرت فاطمہ کے گھر
42:32میں نے کہا
42:33معبوب کی بیٹی
42:34ذرا پردہ کر لے
42:35تو بچوں کو دودھ پلا
42:37میں تیری چکی پیز دیتا ہو
42:38حضرت بلال نے
42:40ابشی کی آنکھوں میں
42:40اسے رو رو کے بتلاتے ہیں
42:42فرمایا
42:42سیدہ
42:43تیبہ
42:43طاہرہ
42:44حضرت فاطمہ
42:45تظہرہ
42:46میرے حبیب نے پتا
42:47کیا فرمایا
42:47فرمایا
42:48جس نے فاطمہ کو
42:49راضی کیا
42:50اس نے تو مجھے
42:50راضی کیا
42:51حضرت سیدنا
42:53بلال ابشی
42:53فرماتے
42:54میں نے چکی پی سی
42:55اور میں تمہیں
42:56کیا بتاؤں
42:56میرے معبوب کی بیٹی
42:58نے مجھے
42:58بڑی ہی دعائیں دی ہیں
42:59انہوں نے
43:00مجھ پر بڑا
43:01اظہر محبت
43:02فرمایا
43:02فرمایا
43:03میں آذان سے لے کر
43:04جماعت تک
43:05لوگ تصمیع
43:07رولتے ہیں
43:08لوگ
43:08قرآن کی آیات
43:09کی تلاوت کرتے ہیں
43:11آذان سے لے کر
43:12جماعت تک
43:13لوگ
43:14مختلف قسم
43:15کی اذکار میں
43:16مشغول ہوتے ہیں
43:17فرمایا
43:18میرا ذکر سنو
43:19میری تلاوت سنو
43:20میرا وظیفہ سنو
43:22میں آذان سے لے کر
43:23جماعت تک
43:24محمد عربی کی
43:25بیٹی کی خدمت
43:26کرنے چلا جاتا ہو
43:27رسول پاک
43:28صلی اللہ علیہ وسلم
43:29کی شہزادے کی
43:30چکی پیس کے آیا
43:31حضرت بلال
43:32نے اس انداز میں
43:32بدر کی جانگل آگ گئی
43:34بدر کا مارکا
43:36حضرت بلال
43:38کے ہاتھ میں
43:38تلوار ہے
43:39کہا میں لڑوں گا
43:40پورا پورا
43:40جہاد کروں گا
43:41امیہ بن خلف
43:42جو بڑا مارا کرتا تھا
43:43وہ دوڑ رہا تھا
43:44اپنے بیٹے کو لے کے
43:45آگے کچھ
43:46شعبہ کھڑے تھے
43:47وہ قریب سے گزرنے لگا
43:48حضرت بلال نے فرمایا
43:49ذرا پکڑنا
43:50امیہ کو
43:51یہ مجھے مارا کرتا تھا
43:53ذرا پکڑنا
43:54جانے نہ دینا
43:55امیہ کو
43:56اسے آبا نے روکا
43:57حضرت عبدالعمن
43:58ابن عوف نے
43:59پکڑ کے
43:59ایک زور سے
44:00گھونسہ مارا
44:01ادھر جاتے گرا
44:02حضرت بلال
44:03تلوار لے کے
44:04کھڑے ہیں
44:04امیہ کے سر پہ
44:05کہا امیہ
44:06میں تجھے نہیں
44:07کہا کرتا تھا
44:07اللہ میرے مصطفیٰ
44:09کو بڑی عزتیں
44:09عطا فرمائے گا
44:10میں تجھے نہیں
44:11کہا کرتا تھا
44:12کہ خدا ہمیں
44:13غلبہ دے گا
44:14میں نہ کہا کرتا تھا
44:21کہ اللہ
44:21اس دین کو
44:22ہر دین پر غلبہ دے گا
44:23اور میں دیکھ
44:24اللہ نے ہمیں عزت دے دی
44:25دیکھ
44:26تو زلیل کر دیا گیا
44:27حضرت بلال نے مارا
44:29گردن اڑا دی
44:30حضرت بکر صدیق پیچھے
44:32دیکھ رہے تھے
44:32دوڑے ہوئے آئے
44:33کہا بلال مبارک ہو
44:34بلال مبارک ہو
44:37آج تو تیرے سارے
44:37بدلے پورے ہو گئے
44:38حضرت بلال نے سجدہ شکر ادا کیا
44:40میرے دوستو
44:41بڑی باتیں ہیں
44:43جناب بلال کی کرنے والی
44:45یہ وقت ساعت نہیں نہ دیتا
44:46کسی کا یہ رک جاتا ہے
44:48یہ کہتا ہے
44:48کہ بس اب
44:49رک جاؤ وقت ہو گئے
44:50آگے گزرنے کا
44:51حضرت بلال عبشیر
44:53رضی اللہ تعالیٰ
44:54رسول پا کا وصال ہوا نا
44:56حضرت بلال نے
44:58موں سے لفظ ہی کوئی نہیں ادا کیا
45:00کسی نے اپنا
45:01اپنا دکھڑا
45:03کسی انداز میں سنا لے
45:04حضرت عمر نے کہا
45:05جس نے کہا
45:05حضور وصال کر گئے
45:06گردن اڑا دوں گا
45:08حضرت عثمان گنی نے کہا
45:09خبردار
45:10کوئی مجیہا کے نام بتائے
45:12کہ مصطفیٰ وصال کر گئے
45:13حضرت علی المرتضاء
45:14رضی اللہ تعالیٰ
45:15انہوں نے فرمایا
45:16نا بھئی میرے مصطفیٰ پر
45:17تو موت آتی نہیں
45:18جس طرح آپ لوگوں پہ
45:19سب لوگوں نے
45:20اپنے اپنے اظہار کر لیے
45:21بلال نے کسی کو
45:23دکھ بتایا ہی نہیں
45:24ایک کونے میں بیٹھ کے
45:26نا حضرت بلال
45:26اکیلے ہاں صبح آتے رہے
45:28کسی کو بتایا ہی نہیں
45:29اکیلے روئے
45:30ایک شخص کہنے لگا
45:32یار بلال بولتا نہیں
45:33کہا نہ بولاؤ اسے
45:35اثر کی نماز کا وقت ہوا نا
45:37تو وہ بلال
45:38جو کعبے کی چھت پر
45:39بغیر سیڑنیوں کے چڑ گیا تھا
45:42وہ بلال جو کعبے کی چھت پر
45:43بغیر کسی سہارے کے چڑ گیا تھا
45:45اس بلال کو کہا
45:47کہ بلال چل جنا
45:48آزان پر مسجد کی چھت پر چڑ جا
45:50حضرت بلال کئی بار چڑے
45:52اور کئی بار گرے
45:53کئی بار چڑے اور کئی بار گرے
45:56حضرت بلال ابشی رضی اللہ تعالی
45:58انہیں آواز دی
45:59کہا سلمان میری مدد کرنا
46:01میری مدد کرنا
46:03اب مجھ سے چڑا نہیں جاتا
46:04اب مجھ سے جایا نہیں جاتا
46:06جناب سلمان فارسی نے بھی
46:08سوال نہیں پوچھا
46:08کہ بلال تو بیمار ہے
46:10یہ نہیں پوچھا
46:11حضرت بلال کو دو چار سے
46:13آوانیں اٹھایا
46:18جب کہنا اللہ اکبر اللہ اکبر
46:20وہ آواز جس میں بڑا سوز ہوتا تھا
46:23بڑی درد بڑی بلندی ہوتی تھی
46:24بڑا جوش کروش ہوتا تھا
46:26آج وہ آواز دب گئی
46:28جب بلال نے کہا
46:29ناشادو اللہ الا اللہ
46:31سوزرت بلال رضی اللہ تعالی
46:33انہوں نے تھوڑی در روک کے سانس لیا
46:35جب کہنا
46:36ناشادو انہ محمد الرسول اللہ
46:39جو سارے چوب کھڑے تھے
46:41ان میں سے ایک بابا رو پڑا
46:42جس کا نام اب ابو بکر صدیق تھا
46:48آیا تو حضرت بلال چھت کے اوپر زمین پہ گرے
46:50زمین پہ گرے
46:52اور قابو بکر یہ ڈیوٹی
46:54کسی اور کی لگا دے
46:55یہ ڈیوٹی کسی اور کی لگا دے
46:58اب میری لوح اجازت نہیں دیتی
47:00مصطفیٰ کریم کے بعد
47:02مجھ یہ آزان نہیں پڑی جائے گی
47:04آپ نے واقعہ سن رکھا ہے کہ ایک بار سے
47:06آبا نے بلایا دوبارہ آئے
47:07حضور خواب میں ملے کا بلال تو آتا کیوں نہیں
47:10بلال چھوڑ کے چلے گئے تھے
47:12فرمایا اب میرا یہاں دل نہیں لگتا
47:14ملکہ شام کے شہر حلب میں چلے گئے تھے
47:17چھوڑ دیا تھا مدینہ منورہ
47:18اب میری نگاہوں میں ججتا نہیں کوئی
47:21جیسے میرے محبوب ہیں
47:23ایسا نہیں کوئی
47:24حضور خواب میں ملے آئے
47:26مدینہ حضرت بلال آخری بار
47:28لوگوں نے کہا آزان پڑھو
47:29کہا مجھے وہ آزان بھولی گئی ہے جو مجھے
47:32مصطفیٰ کریم کے زمانے میں بڑا کرتا تھا
47:34مجھ سے نہیں پڑی جاتا ہے
47:35نہ مجھے کہو میں کیسے پڑھو
47:37امام حسن اور حسین نے آ کے دامن تھا مانا
47:40تو کہا بیٹا میں تمہاری نانی کا بھی نوکر رہا ہوں
47:43میں تمہاری ماں کی چکی بھی پیستا رہا ہوں
47:46مجھ سے کوئی فرمایش نہ کرے ڈالنا
47:48میں نے نوکری کی ہے
47:50اور مجھے اگر اللہ نے توفیق دی
47:51تو میں تمہارے بچوں کے پیر بھی دویا کروں گا
47:54لیکن امام حسن رضی اللہ تعالیٰ
47:56نے فرمایا بلال ایک بار تو آزان سنانی پڑے گی
47:58سنائی بلال نے آزان
48:00کوئی گھر مدینے میں ایسا نہیں تھا
48:02جہاں سے رونے کی آواز نہ آئی ہو
48:04حضرت عمر فاروق
48:06رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے زمانے میں شام گئے
48:09جناب بلال عبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا
48:12کہ آزان پڑھو
48:13حضرت بلال نے فرمایا میں پڑھی نہیں سکتا
48:15بڑی ہمت کے بعد آزان پڑھی
48:17اور جناب بلال نے کہا تم اگر روئے نہ
48:20تو میں آزان پڑھوں گا
48:21رونا نابادہ لے لیا
48:23حضرت عمر تو نہ روئے
48:25لیکن معاج ابن جبل نے رونا شروع کر دیا
48:27جب معاج ابن جبل روئے تو پھر عمر بھی روئے
48:30جب عمر روئے تو پھر بلال بھی روئے
48:32وہ آزان اشہدو اللہ الا اللہ تک گئی
48:34رسول پاک کے بعد
48:36پھر آزان اس سے آگے بڑھ
48:38نہ سکی
48:50مولای صلی وسلم دائما
49:01آبادا آلا حبیبیك خیر الخلق
49:08كل حمی مولای

Recommended