Skip to playerSkip to main content
  • 15 hours ago
ستورہ، ترال، جموں کشمیر (شبیر بھٹ)جموں اینڈ کشمیر اکیڈیمی آف کلچر اینڈ لنگویجز نے مراز ادبی سنگم کے اشتراک سے آج ستورہ ترال میں معروف صوفی شاعر رجب حامد کی یاد میں ایک سیمینار منعقد کیا۔ اس سیمینار کی صدارت معروف شاعر علی شیدا نے کی، جب کہ اس موقع پر رجب حامد میموریل ستورہ ترال کے ندیم الطاف بطور مہمان زی وقار شامل ہوئے۔ سیمینار کے دوران رجب حامد کی زندگی کے متعلق دو مقالے پڑھے گئے۔ اس موقع پر مراز ادبی سنگم کے مقررین نے رجب حامد کی ادبی و روحانی خدمات کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی راہِ سلوک، معرفت اور حقیقت کی تلاش کے لیے وقف کر دی۔ ان کی شاعری کشمیری صوفی روایت کا ایک اہم سرمایہ ہے۔اپنے صدارتی خطاب میں علی شیدا نے کہا کہ کشمیری زبان و ادب کو صوفی شعرا نے استحکام اور دوام بخشا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رجب حامد کو تصوف، معرفت اور حقیقت کے مختلف پہلوؤں پر گہرا مطالعہ حاصل تھا، جس کی جھلک ان کے کلام میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ جاوید اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیری ادب صوفیانہ کلام سے مالامال ہے اور جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز ہمیشہ ایسے صوفی شعرا کے کلام کو منظرِ عام پر لانے کے لیے کوشاں رہی ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ آخر میں الطاف ندیم نے کلچرل اکیڈمی اور مراز ادبی سنگم کے منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی ادبی تقریبات ہمارے اسلاف کے مشن کو مضبوط بنانے اور نئی نسل تک ان کے افکار پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ سیمینار کے اختتام پر ایک محفلِ مشاعرہ بھی منعقد ہوئی، جس میں جنوبی کشمیر کے متعدد شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔ مشاعرے میں علی شیدا، اظہار مبشر، قمر حمید اللہ، ڈاکٹر شیدا حسین شیدا، یوسف جہانگیر، ڈاکٹر شوکت شفا، ثاقب فہیم، رشید صدیقی، ریاض انزنو، نذر الاسلام نذر، مشاق سلفی، جاوید جمیل، ناصر منور، رحمان بڈرو، زرگر عزیز، آکاش بشیر، غلام محمد شیخ، غلام حسن لون پوری اور دیگر شعراء نے شرکت کی۔ اس کے بعد ایک مشاعرے کا اہتمام کیا گیا جس میں شعراء نے تازہ کلام سنا کر داد تحسین حاصل کی۔ میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے معروف شاعر علی شیدا نے بتایا کہ کلچرل اکادمی اگرچہ اپنے حساب سے کام کر رہی ہے تاہم اکادمی کو صوفی شعراء کے کلام کو ڈیجیٹلائز کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ 

Category

🗞
News
Transcript
00:00I
00:30Then he says he's going to bazel is like this and I'm going to have to say that this is
00:34the natural,
00:34and then the math about it is the normal,
00:37the moral, the moral, the moral of the world.
00:56That's right now.
00:56That's right now.
00:57He wants us to be 200 years old.
00:58I think the Moral AlVENM would be a thousand years old and more fast.
01:02For all the people I want to learn is a lot not for the people.
01:13But for all the people I want to learn is always a lot.
01:18From the prime ministering living in front of the church, the one who is being the president of the country
01:29is
01:35The picture is on the screen and the music is on the screen.
01:38This is my first time.
01:39When I'm here, I'm here to talk to you.
01:44You have the problem.
01:48The problem is that the picture is only clear and a impossible place.
01:51.
01:53Now...
01:54This is the wrong question.
01:59It's a question.
02:05...the Absuzdunya kitabın andan, Şaya Karnamud.
02:11Rajaw Hamidinne, Şayri Munch,
02:14Sushu Palsifiyan'a bicheydi gehu,
02:17Pekinyar, Nez Grez Gredi.
02:23...dre hal iskun Rajabhan'dan Kurbayan...
02:28...tral sutre hal iskun Rajabhan'dan Kurbayan...
02:32...futulu yil gukunay...
02:35Thank you very much.
03:08Thank you very much.
Comments

Recommended