Roshni Sab Kay Liye
Watch All The Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xic1NLGY05O7GY70CDrW_HCC
Topic: Insan
Host: Dr. Tahir Mustafa
Guest: Mufti Khalil Ahmed Qadri, Prof. Taimoor Farooqi
#RoshniSabKayLiye #islamicinformation #ARYQtv
A Live Program Carrying the Tag Line of Ary Qtv as Its Title and Covering a Vast Range of Topics Related to Islam with Support of Quran and Sunnah, The Core Purpose of Program Is to Gather Our Mainstream and Renowned Ulemas, Mufties and Scholars Under One Title, On One Time Slot, Making It Simple and Convenient for Our Viewers to Get Interacted with Ary Qtv Through This Platform.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch All The Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xic1NLGY05O7GY70CDrW_HCC
Topic: Insan
Host: Dr. Tahir Mustafa
Guest: Mufti Khalil Ahmed Qadri, Prof. Taimoor Farooqi
#RoshniSabKayLiye #islamicinformation #ARYQtv
A Live Program Carrying the Tag Line of Ary Qtv as Its Title and Covering a Vast Range of Topics Related to Islam with Support of Quran and Sunnah, The Core Purpose of Program Is to Gather Our Mainstream and Renowned Ulemas, Mufties and Scholars Under One Title, On One Time Slot, Making It Simple and Convenient for Our Viewers to Get Interacted with Ary Qtv Through This Platform.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00ڈاللہ وحدہ والصلاة والسلام علام اللہ نبی عبادہ
00:06اما بعد فوض باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:12السلام علیکم ناظرین
00:13اے آر وائی کیو ٹی وی لاہور سٹوڈیو سے
00:16لائیو نشریات میں
00:18پروگرام روشتنی سب کے لیے
00:20لے کر ڈاکٹر محمد طاہر مصطفیٰ آپ کی خدمت میں حاضر
00:24ناظر کرام یہ جو انسان ہے نا
00:28یہ اللہ کی شاہکار تخلیق ہے
00:30اسی تخلیق کو اللہ رب العزت نے
00:33اپنی اشرف ترین مخلوق کہا ہے
00:37اور ناظر کرام جب یہ مخلوق اللہ رب العزت نے
00:42تخلیق کرنا چاہی
00:44تو ملائکہ کو بتایا
00:47کہ میں اپنا نائب اور خلیفہ بنانا چاہتا ہوں
00:51ناظر کرام ملائکہ نے عرض کیا
00:55الہ العالمین کس لیے کیا ہم آپ کی عبادت نہیں کرتے
00:59کیا اس میں کوئی کمی ہے آپ جس انسان کو تخلیق کرنا چاہتے ہیں
01:06وہ زمین پہ خون بہائے گا فساد کرے گا
01:10جس پر اللہ رب العزت نے جو تخلیق کائنات کا بھی خالق ہے
01:16انسان کا بھی خالق ہے
01:18اللہ رب العزت نے ناظر کرام کہا ارشاد فرمایا
01:22کہ انی آلمو مالا تعلمون
01:25جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے
01:28ناظر کرام
01:30اللہ رب العزت کے اس جواب میں
01:33جو ملائکہ کو دیا گیا
01:35اللہ نے بڑا مان رکھا ہے اس تخلیق پر
01:39اور جب یہ انسان تخلیق کر دیا
01:43ناظر کرام پھر سورہ بنی اسرائیل میں اعلان عام بھی کر دیا
01:48ولقد کرمنا بنی آدم
01:50ہم نے انسان کو تقریم عطا کی ہے
01:53عزت عطا کی ہے
01:56اور سورہ بتین میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا
01:59لقد خلقنا الانسان فی احسنی تقویم
02:03ہم نے انسان کو جو تخلیق کیا ہے
02:06دی بیسٹ اویلیبل فارمولا کے تحت اس کو تخلیق کیا ہے
02:10بیسٹ تخلیق ہے
02:12شاہکار تخلیق ہے
02:14اور پھر ناظر کرام جب اس انسان کو اللہ رب العزت نے تخلیق کر کے
02:19کارگاہ عالم میں بھیجا
02:21تو آپ مشاہدہ کریں
02:24کہ اس سے پہلے کائنات کو تخلیق کیا گیا
02:27پھر انسان کو تخلیق کیا گیا
02:30اس سے پہلے اس کی احتیاجات اور ضروریات کو تخلیق کیا گیا
02:34پھر اسے تخلیق کیا گیا
02:36اور تخلیق کرنے کے بعد
02:37کائنات کی اشیاء کے نام بتائے
02:40وَاللَّمَا آدَمَ الْأَسْمَا أَكُلَّهَا
02:43ہم نے آدم کو
02:44اشیاء کے نام بتائے
02:46کہ آدم آپ کی ضروریات ہیں
02:49آپ کی احتیاجات ہیں
02:50آپ کو علم ہونا چاہیے
02:52یہ یہ چیز ہے
02:53یہ یہ چیز ہے
02:54پھر آج ناظرین کرام
02:56اگر ہم مشاہدہ کریں
02:57تو جتنے مظاہرے کائنات ہیں
03:00ان سب کے عکس اور نمونیں
03:03پوری کائنات میں جتنے مظاہر ہیں
03:05جو ہمیں نظر آتے ہیں
03:08ان کے عکس
03:09اللہ رب العزت نے
03:10اپنی اس شاہکار تخلیق میں رکھ دیئے
03:13اس پانچ چھے فٹ کے جسم میں
03:16پوری کائنات کو سمو دیا گیا
03:18اتنا قیمتی ہے یہ انسان
03:21ناظرین کرام
03:22آپ غور کریں
03:23کہ زمین پہ جس پر ہم چلتے ہیں
03:27پھرتے ہیں
03:28اٹھتے ہیں
03:29بیٹھتے ہیں
03:29یہ مٹی ہے
03:31انسان کی تخلیق کا مادہ ہی
03:34مٹی سے رکھا
03:35دیکھ لیں
03:36کہ لوہے کو مٹی میں رکھیں
03:39وہ مٹی نہیں ہوتا
03:40انسان کو مٹی میں رکھیں
03:42یہ مٹی ہو جاتا ہے
03:43پھر ناظرین کرام
03:44ہم دیکھتے ہیں
03:45دنیا میں کائنات میں
03:46مٹی کے علاوہ پانی ہیں
03:48سمندر ہیں بے شمار
03:50سمندروں کا پانی ہے
03:52انسان کی تخلیق کے اندر
03:54اس پیکر کے اندر بھی
03:55پانی رکھ دئیے گئے ہیں
03:57جس طرح کائنات میں
03:58مختلف قسم کے پانی ہیں
04:00کہیں میٹھا پانی ہے
04:01یہ ہمارا لواب
04:03میٹھا پانی ہم
04:04نگل سکتے ہیں
04:05یہ لواب بھی نگل سکتے ہیں
04:07یہ اسی میٹھے پانی کا عکس ہے
04:09پھر ناظرین کرام
04:10اسی کائنات میں
04:11کہیں نمکین پانی ہیں
04:13آپ دیکھ لیں
04:14انسان کی آنکھوں سے
04:15نکلنے والا پانی
04:17نمکین ہوتا ہے
04:18پھر کہیں ناظرین کرام
04:20ایسا پانی ہوتا ہے
04:21جو کڑوا ہوتا ہے
04:23جو کیمیکلائزڈ ہوتا ہے
04:24انسان کے پیٹ میں
04:26جو پانی غزا کو
04:28حضم کرتے ہیں
04:29وہ کیمیکلائزڈ ہیں
04:30وہ کڑویں ہیں
04:32اور اسی طرح سے
04:33ناظرین کرام
04:33جس چیز نے
04:35اس کائنات کو
04:37سنبھال رکھا ہے
04:38کیا ہیں پہاڑ
04:39اسی طرح پہاڑوں کا کام
04:41کس سے لیا گیا
04:42انسان کے پیکر میں
04:43ہڈیوں سے لیا گیا
04:45پھر ناظرین کرام
04:46اس کائنات میں
04:46نباتات پیدا کیے
04:48دیکھیں ہمارے ہاتھ کے اوپر
04:49بازوں کے اوپر
04:50چھٹو چھٹے بال
04:51یہ نباتات کا عقس ہیں
04:53پھر کہیں گھنے جنگل ہیں
04:55اس زمین کے اوپر
04:56ہمارے سر کے بال
04:57اس کا نمونہ پیش کرتے ہیں
04:59پھر ناظرین کرام
05:00اس کائنات میں
05:01روشنی اور اندھیرہ بھی ہے
05:04آنکھیں کھول لیں
05:05روشنی ہے
05:06آنکھیں بند کر لیں
05:08اندھیرہ ہے
05:09پھر ناظرین کرام
05:10اس کائنات میں
05:11موسم ہیں
05:12گرم اور سرد
05:13اپنے ہاتھ کے اوپر
05:15ہم گھی رکھیں
05:16پگل جائے گا
05:17کیونکہ اس میں
05:18حرارت ہے
05:19اور کبھی یہ جسم
05:20تھنڈا ہو جاتا ہے
05:21ناظرین کرام
05:22یہ ہیں کمالات
05:23میں نے
05:23مختصر طور پر
05:24ارز کر رہا ہوں
05:25حالانکہ
05:25اس کی بڑی تفصیل ہے
05:26کہ کائنات کے
05:27جتنے مظاہر ہیں
05:28اگر ہم غور کریں
05:29جتنے جہان
05:30ہمیں
05:31ان دو آنکھوں سے
05:32زمین و آسمان میں
05:33نظر آتے ہیں
05:34وہ انسان کے
05:35پیکر میں
05:36اللہ رب العزت
05:36نے رکھ دیا ہے
05:37اتنا رکھ کے
05:38قیمتی بنا دیا ہے
05:39ناظرین کرام
05:40آج پروگرام
05:41روشنی سب کے لیے میں
05:43ہم اسی انسان
05:45پہ گفتگو کریں گے
05:47اس کے ظاہری
05:48اور باطنی
05:49کمالات کیا ہیں
05:50اور یہ
05:52کتنا قیمتی ہے
05:53کیوں اللہ رب العزت
05:54نے اس کو
05:55اپنی اشرف المخلوقات
05:56کہا ہے
05:57اس موضوع پہ
05:58آج ہم گفتگو کریں گے
05:59اور گفتگو کرنے
06:00کے لیے
06:00میری بائیں جانب
06:01میرے مہمانان
06:03گرامی میں
06:03تشریف رکھتے ہیں
06:04سب سے پہلے
06:05جنابی پروفیسر مفتی
06:06خلیل احمد
06:07قادری
06:08ماشاءاللہ
06:08آپ
06:09عالم بھی ہیں
06:10اور
06:11علم کا پورا
06:12عالم بھی
06:13اپنے اندر
06:14رکھتے ہیں
06:15آپ
06:15استاذ بھی ہیں
06:16خطیب بھی ہیں
06:17عدیب بھی ہیں
06:18خوبصورت ترین
06:19گفتگو کرتے ہیں
06:20ہمارے آج کے مہمان
06:21السلام علیکم ورحمت اللہ
06:29شریف رکھتے ہیں
06:29جناب پروفیسر
06:31تیمور فاروقی
06:33ماشاءاللہ
06:34آپ بھی استاذ ہیں
06:35خوبصورت
06:36گفتگو کرتے ہیں
06:37اور خوبصیرت
06:39آپ رکھتے ہیں
06:40آج ہمارے
06:41پروگرام کی زینت ہیں
06:42السلام علیکم
06:42کیسے مزاج
06:44حریصے ہیں
06:45مفتی صاحب
06:47گفتگو کا آغاز کرتے ہیں
06:49انسان
06:50میں نے تمہیدن
06:51کچھ ارز کیا ہے
06:52اس کے کمالات کے بارے میں
06:54جو اللہ رب العزت نے
06:55اس پر
06:56نچھاور کیے ہیں
06:57سب سے پہلا سوال
06:59آپ ہمارے ناظرین کے لیے
07:01یہ ارشاد فرمائیں
07:02اس کے جواب میں
07:03کہ
07:03معروف ہے
07:06کہ انسان
07:07اشرف المخلوقات ہے
07:08مجھے صاحب
07:09کس پیرائے میں
07:11تھوڑا سا اس بات کو
07:12مزید کھولیے آپ
07:13کس طرح سے اشرف ہے
07:15کس پیرائے سے اشرف ہے
07:16اور
07:17کن صورتوں میں
07:18اور کن سیرتوں میں
07:19یہ
07:20افضل بھی ہے
07:21اور اشرف بھی ہے
07:22ارشاد
07:22بسم اللہ الرحمن الرحیم
07:24اللہم صلی اللہ
07:25مہترم المقام
07:31ڈاکٹر طہر مصطفی صاحب
07:34آپ نے
07:34بہت اچھے انداز سے
07:36انسان کو
07:37جو اللہ نے
07:37ان آیات
07:38عطا فرمائی ہیں
07:39اس کی ایک اکاسی پیش کی ہے
07:40کہ انسان کے وجود
07:42پوری کائنات
07:43کا ایک
07:44خوبصورت نمونہ
07:45اللہ پاک نے بنایا
07:46اللہ رب العزت نے
07:48قرآن کری
07:48فرقان حمید میں فرمایا
07:49وَلَقَدْ قَرَّمْنَا بَنِي آدَمَا
07:51ہم نے آدم الاسلام کی اولاد
07:53یعنی انسانیت کو
07:54تقریم سے
07:55کرامت سے
07:56عزت سے
07:56نوازا ہے
07:57اللہ رب العزت نے
07:59انسان کو
08:00باقی مخلوقات سے
08:01ممتاز بھی رکھا ہے
08:02جی بالکل
08:03اس میں
08:03کئی پرائے میں دیکھا جا سکتا ہے
08:05تخلیق سے لے کر
08:06انسان کے وجود تک
08:08اور وجود سے لے کر
08:09انسان کے سارے معاملات
08:10زندگی کی
08:10اور موت
08:11اور موت کے بعد
08:12اس کا قفن
08:13اور اس کا دفن
08:13اور اس کے بعد
08:14قینات میں
08:15اس کو دوبارہ
08:16اللہ پاک نے
08:17جب زندہ کرنا ہے
08:17تاب اس کے معاملات
08:18ہر چیز کی تفصیل
08:20قرآن پاک کے اندر
08:21حدیث طیبات کے اندر
08:22وضعات کے ساتھ کر دی گئی ہے
08:23ساری مخلوقات کو
08:24اللہ پاک نے پیدا فرمایا
08:26مگر کسی مخلوق
08:27کے پیدا کرنے سے پہلے
08:28اعلان نہیں کیا
08:29کہ اب میں
08:29کس کو پیدا کر رہا ہوں
08:31مگر انسانیت کی
08:32تقریم تو ابتدا سے
08:33تخلیق کے وقت ہی
08:35شروع ہو گئی
08:35کہ اللہ پاک نے
08:36خود اعلان فرمایا
08:37کہ این نی جعالن
08:38فلرزی خلیفہ
08:39اب جس کو پیدا
08:40فرمانا چاہتا ہوں
08:41یا فرما رہا ہوں
08:42وہ زمین کے اوپر
08:43میرا جانشین بھی ہے
08:44اور میرا نامزد خلیفہ بھی ہے
08:45یہ کسی اور مخلوق
08:46کسی اور مخلوق
08:47یہ نہیں ہے
08:47اور پھر
08:48جب پیدا کیا
08:50تو پیدا کرتے ہی
08:51آدم علیہ السلام کے اندر
08:52جب روح پھونکی
08:53پوری کنات کو
08:54اللہ نے پیدا کیا
08:55اپنے کلمہ کن سے
08:56اور اذا اراد اللہ
08:58جب اللہ ارادہ فرماتا ہے
08:59تو فَيَكُولُكُن
09:00قرآن پاک گوائی دیتا ہے
09:02لیکن جب انسان کی باری آئی
09:03تو فرمایا
09:03خَلَقْ تُو بِيْدَئِيَ
09:05میں نے انسان کی تخلیق
09:07اپنے دستِ قدرت سے فرمائی
09:08جو میری شایانِ شاہن ہے
09:09اور یہاں تک
09:10کہ جب روح پھونکنے کی باری ہے
09:12تو فرمائی
09:12نفخ تو فی ہے
09:13مِر روحی
09:14میں نے اپنی جناب سے
09:16روح مقدس
09:16انسان کے اندر ڈالی
09:18تو یہ ساری نسبتیں
09:19اللہ تعالیٰ نے
09:20پھر فرشتوں کو کھڑا کر دیا
09:22لینے لگا کے
09:23اور فرمایا
09:23کہ جس وقت میں
09:25آدم علیہ السلام کے جسم کے اندر
09:27روح پھونک لوں
09:28تو فَقَعُ لَهُ سَاجِدِن
09:30تو سب کے لئے حکم ہے
09:32کہ یقدم
09:33سب نے سجدے میں گر جانا ہے
09:34اس طرح کی اعزازات
09:35اور تقریمات
09:36جو انسان کی تخلیق کے وقت
09:37شروع ہوئی ہیں
09:38وہ انسان کے اپنا مقام ہے
09:40پھر پیدا ہوا
09:41تو چونکہ فرشتوں نے
09:42ایک اعتراض کیا تھا
09:43کہ یہ خون رزی کرے گا
09:44یہ فتنہ و فساد فیلائے گا
09:45اور اس کی ایک وجہ
09:46سب سے بڑی یہ تھی
09:47کہ وہ
09:48اس سے پہلے انسان کے
09:49وجود سے پہلے
09:51نو ہزار سال
09:52یا سات ہزار سال
09:53دو تعدادیں ذکر کی جاتی ہیں
09:54جنات کی حکومت
09:55دیکھ چکے تھے
09:56اور یہ سارے معاملات
09:57ان کے سامنے گزرے تھے
09:58تو اب ایک نئی مخلوق
09:59کے ساتھ
09:59وہ خدشہ پیش کر دیا
10:00تو اللہ پاک نے فرمایا
10:01جو انسان کو
10:02میں نے عطا کیا
10:03تمہیں وہ بھی دکھا دو
10:04اور وہ کیا چیز تھی
10:05وہ علم تھا
10:06یہ سب سے بڑی
10:07نعمت عظمہ
10:08اللہ تعالیٰ کی
10:09جو انسان کو
10:10علم کی شکل میں ملی ہے
10:11یہ پوری کائنات پر
10:12انسان کو فیق کر دیتی ہے
10:13علم اور حلم
10:15ہاں حلم
10:15دونوں
10:16ہاں جی
10:16علم اور حلم دونوں
10:17اور اس میں
10:18کیونکہ حدیث پاک بھی ہے نا
10:20کریم اقرؐ صلی اللہ علیہ وسلم
10:21نے ارشاد فرمایا تھا
10:22ایک شخص سے
10:23جو ایک قبیلے کا سردار
10:25بنو عبدالقیس
10:26ان کا سردار حضور کے پاس آیا
10:27تو حضور نے فرمایا
10:28تیری دو باتیں
10:29اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں
10:31بہت زیادہ پسند دیدہ ہیں
10:32تو فرمایا کہ
10:33اس میں الحلم و العنایت
10:35ایک تیرے پاس
10:36علم ہے
10:37دوسرا تیرے پاس
10:38عقل اور دانست ہے
10:39اور شعور ہے
10:40اللہ تعالیٰ
10:41ان دو چیزوں کی وجہ سے
10:43تیرے ساتھ محبت فرماتا ہے
10:44سبحانہ
10:44یعنی علم اور دانائی
10:45یہ دونوں چیزیں
10:46انسان کو اللہ پاک نے
10:47حدیث پاک بھی ہے
10:48حضور ارشاد فرماتی ہے
10:49صحیح مسلم کی
10:50ایک ہزار تری اپن حدیث
10:51حدیث نمبر
10:52قریم اقر نے ارشاد فرمایا
10:54کہ
10:54جب اللہ تعالیٰ
10:58کسی بندے سے
10:59بھلائی کا ارادہ فرما لیتا ہے
11:00اس سے دین کی حقیقی
11:02سوج اور بوجھ اتا فرما دیتا ہے
11:03دانائی اتا ہے
11:04یہ دانائی اور حکمت کا معاملہ ہے
11:06جنابی پروفیسر تیمور صاحب
11:08کیسے مزاج آپ کے
11:09مفتی صاحب نے
11:11قرآن کریم کی
11:12ایک آیت کا حوالہ دیا
11:13جس میں
11:14اللہ رب العزت نے
11:15میں نے بھی ارس کی تھی وہ
11:16کہ
11:17اعلان کیا ہے
11:18ولکت کرم نہ بنی آدم
11:20ہم نے انسان کو
11:21عزت عطا کی ہے
11:22اور یہ پیداشی طور پر
11:23اس کو عزت عطا کر دیا
11:24پروفیسر تیمور صاحب
11:27میرا سوال یہ ہے
11:28کہ
11:28کیا انسان کو
11:31یا مسلمان کو
11:33عزت عطا کی ہے
11:34اس کو کھول یہ بات کو
11:37اور دوسرا
11:38اسی میں
11:38ارشاد یہ بھی فرما دیجئے گا
11:40کہ جو لوگ
11:42اللہ کو نہیں مانتے
11:43کیا وہ بھی عزت کے لائق ہیں
11:46پیار شاہد
11:47اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
11:49بسم اللہ الرحمن الرحیم
11:51ڈاکٹر صاحب
11:52بڑا اہم سوال ہے
11:53چونکہ ہمارا عنوان
11:54بھی بڑا خوبصورت ہے
11:55اور وہ حضرت انسان
11:57سے متعلق ہے
11:57اس میں
11:58سب سے پہلی بات
11:59میں ارز کروں
12:00کہ جو آپ نے
12:00دوسرا سوال پوچھا
12:01کہ
12:02جو عزت کا ماملہ ہے
12:04اور
12:04اللہ رب العزت کا
12:05جو ماملہ ہے
12:06یا اپنوں کے لئے
12:07یا بیگانوں کے لئے
12:08بیگانوں کے لئے
12:08اب اس میں
12:17وہیں پر
12:18اس انسان کے اندر
12:19ایک
12:20ضمیر کا بھی
12:21میٹر پایا جاتا ہے
12:23معاملہ پایا جاتا ہے
12:24اگر اس حوالے سے
12:25ہم دیکھا جائے
12:26تو
12:27اللہ تعالی نے
12:28حضرت انسان کو
12:29اچھائی اور برائی کا
12:30شعور بھی
12:31عطا فرمایا ہے
12:31ایک ایسا
12:33کانشنس
12:33جس کو میں کہہ سکتا ہوں
12:34کہ جو
12:35ایک
12:35نون میٹیریل
12:37تینگ ہے
12:37لیکن
12:38جس کے اندر
12:41اچھائی اور برائی کا بھی
12:42جونس ہے
12:42وہ سارا
12:43معاملہ موجود ہے
12:44بسیگلی
12:45جو
12:46انسان کے اندر کی
12:48جو ایک
12:48کیفیت ہوتی ہے
12:49وہی اس کو
12:50اچھائی یا برا جونس ہے
12:51وہ بناتی ہے
12:52مطلب وہ
12:53اچھائی کو
12:53اڈاپٹ کر لے
12:54یا پھر وہ
12:55برائی کو
12:55اڈاپٹ کر لے
12:56اسی کو انسان کے
12:57اس کیفیت کو ہی
12:58اس حص کو ہی
12:59ضمیر کہا جاتا ہے
13:01اب ایک چیز
13:02یہاں پر میں
13:03ارز کروں
13:03کہ
13:04رسالت ماف
13:05صلی اللہ علیہ وسلم
13:05کی حدیث مقدسہ
13:06اور قرآن مجید
13:07فرقان حمید
13:08کی جو آیات ہیں
13:09وہ بھی
13:10اس پر شاہد ہیں
13:10کہ
13:11ایک جو شخص کی
13:13تربیت کا
13:13معاملہ ہوتا ہے
13:14انسان کی
13:15تربیت کا معاملہ
13:16انسان جب
13:17اپنے آپ کی
13:17تربیت کرتا ہے
13:18اپنے آپ کو
13:19ٹھیک کرتا ہے
13:19وہ ایک اچھے
13:20رستے کو
13:20اڈاپٹ کرتا ہے
13:21تو وہ صرف
13:22نہ اپنی
13:23تربیت کر رہا ہوتا ہے
13:23بلکہ
13:24اس کے ساتھ
13:24منسلک
13:25معاشرے کے
13:25دوسرے افراد
13:26کی بھی
13:26تربیت ہو رہی ہو
13:27ٹھیک
13:27میں ایک بریک لے لوں
13:28اور اس کے بعد
13:29انشاءاللہ
13:29اس بات کو
13:30مزید ہم
13:30اس پہ تفصیل سے
13:31مفتگو کرتے ہیں
13:32ناظرین کرام
13:33پروگرام ہے
13:34روشنی سب کے لیے
13:35لائیو نشریات ہیں
13:36اے آر وائی
13:37کیو ٹی وی
13:37لاہور سٹوڈیو سے
13:38وقفہ ہے پروگرام میں
13:40اور وقفے میں
13:41ہم چلیں گے
13:41درباری رسالت میں
13:42اور اپنے نبی کریم
13:44صلی اللہ علیہ وسلم
13:44کی ذات اکدس پر
13:45بالحانہ انداز میں
13:46ایک مرتبہ
13:47درود کریم کا
13:48نظرانہ پیش کریں گے
13:49اور واپس آئیں گے
13:50وقفے کے بعد
13:54ناظرین کرام
13:55دوبارہ آپ کے خدمت میں
13:56حاضر
13:56اے آر وائی
13:57کیو ٹی وی
13:57لاہور سٹوڈیوز ہے
13:58ہماری لائیو نشریات ہیں
14:00اور پروگرام ہے
14:01روشنی سب کے لیے
14:02اور آج ہم
14:03ناظرین کرام
14:04گفتگو کر رہے ہیں
14:05کہ یہ جو انسان ہے
14:06یہ اللہ کی نگاہ میں
14:08کتنا قیمتی ہے
14:09کتنا اشرف ہے
14:11کتنا ظاہری
14:13اور باطنی
14:14کمالات کا مالک ہے
14:15گفتگو فرمارے ہیں
14:16جناب پروفیسر تیمور فاروقی
14:19جی پروفیسر صاحب
14:20جیسا کہ آپ نے
14:21سوال بڑا خوبصورت کیا تھا
14:22عزت کے انسان کی عزت کے حوالے سے
14:23تو اس میں ایک چھوٹا سا نکتہ
14:26میں اس پر یہ عرض کروں گا
14:27کہ بطور تخلیق
14:29ہر شخص کا
14:31ہر انسان کا احترام لازم ہے
14:32اور بطور ایمان
14:34مسلمان کا احترام لازم ہے
14:35تو جو آیت مقدسہ
14:37ہم نے تلاوت کی ہے
14:38کہ والا قد کررم نہ بنی آدمہ
14:40تو اس حوالے سے کر دیکھا جائے
14:41تو ایک عزت کا ماملہ
14:43وہ نیک اور بد کے ساتھ بھی
14:45مسلمان غیر مسلمان کے ساتھ بھی
14:47کافر اور مسلمان
14:48ان سب کے ساتھ کیا جائے
14:49تکریم سب کے لیے ہے
14:51اب اس پر درجے جو ایمان لے آئے
14:54ظاہرہ وہ اس سے فائق ہو گیا
14:56ایسی ہے
14:56اب ایمان کی بات کریں
14:58تو ایک نارمل سا ایک انسان ہے
14:59کہ جو ایمان کی لذت سے ناشنا ہے
15:01پھر اس کے بعد وہ ایک مسلمان ہے
15:03جس کو اللہ نے ایمان کی دولت عطا فرمائی ہے
15:05اور پھر اس سے بڑھ کر
15:06ایک مومن کا درجہ آتا ہے
15:08یہ وہی مومن ہے
15:09پھر ولایت کا درجہ آتا ہے
15:10بلکل ایسی ہے
15:11جس کے بارے میں
15:11رسالت مام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا
15:13کعبے سے افضل مقام رکھتا ہے یہ مومن
15:15تو یہ رسالت مام صلی اللہ علیہ وسلم کی
15:17احدیث اور قرآن کی یاد
15:18اس بار پر شاہد ہیں
15:19کہ احترام انسانیت سب سے پہلے ضروری ہے
15:22انسان نسیان کے بھی ایک پیکر بن جاتا ہے
15:25انسان انسو محبت کا بھی پیکر بن جاتا ہے
15:28محطی صاحب
15:29ابھی جناب پروفیسر تامور صاحب نے
15:31جو آخری جملہ بولا
15:32میں اسی سے بات اٹھا رہا ہوں
15:34کہ انسان نسیان کا بھی پیکر بن جاتا ہے
15:37اور انس کا بھی
15:39اہل لغت یہ دعویٰ کرتے ہیں
15:41کہ انسان کا جو مادہ ہے نا
15:43لفظ انسان کا مادہ
15:45وہ انس سے ہے
15:46اور انس کے معنی ہے محبت
15:49قربت
15:49الفت
15:50احساس
15:51ایک دوسرے کا
15:52تو ایک تو اللہ نے
15:55انسان کے خمیر میں ہی
15:57یہ قربت رکھ دی
15:58محبت رکھ دی
15:59الفت رکھ دی
16:00صرف اپنے لیے نہیں
16:02دوسروں کے لیے بھی
16:03اور دوسری تمام مخلوقات کے لیے بھی
16:05احساس اور دردمندی رکھ دی
16:07اور اہل لغت کا یہ بھی دعویٰ ہے
16:09کہ انسان کا جو لفظ ہے
16:12اس میں نسیان کی صفت بھی
16:15اس کے خمیر میں ہے
16:16اور نسیان کے معنی ہے
16:17بھول جانا
16:18آپ کیسے موازنہ کریں گے
16:21انس کا اور نسیان کا
16:22ماشاءاللہ بہت اچھی بات ہے
16:24پہلی بات تو یہ ہے
16:25کہ گرامیٹرک کے لیے
16:26اگر ہم دیکھیں
16:27عربی لغت کے اعتبار سے
16:28تو یہ انس ہی
16:29انسان کے مادے میں شامل ہے
16:31اور اس میں سب سے بڑی بات یہ ہے
16:33کہ انسان اپنی قابلیت کے ساتھ
16:35اپنی لیاقت کے ساتھ
16:37اور اپنے جو فطرتی
16:39اس کے نظر پاک نے محبتیں رکھی ہیں
16:40اس کی صفت میں یہ بات رکھی
16:42پوری مخلوقات کو
16:44وہ اپنی طرف میل کر لیتا ہے
16:45اور اس میل کرنے میں
16:46سب سے بڑا
16:47اس کے پاس ہتھیار
16:48جو اللہ پاک نے سے عطا کیا ہے
16:49وہ اس کی عقل ہے
16:50اور انسان اپنی عقل
16:51اپنے شعور
16:52اپنے علم کے ساتھ
16:53پوری کعنات کو
16:54مزے کی بات یہ ہے
16:55کہ پوری کعنات پر
16:56حکومت انسان کی ہی جا رہی ہے
16:57چاہے وہ چریند ہیں
16:59چاہے وہ پریند ہیں
16:59چاہے وہ جنور ہیں
17:00یہاں تک کہ کوئی
17:02پہاڑ ہار ہیں
17:03اور یہاں تک کہ
17:03ہم یوں سمجھے
17:05کہ دھاتوں میں چلے جائیں
17:06پھر لوہا ہے
17:06آسمان کی حدوں تک
17:08اڑاتا ہے انسان
17:09اس کو تو اپنی عقل
17:10اور شعور کے ساتھ
17:11نسیان اس کی طبیعت میں
17:13ایک میلان پیا جاتا ہے
17:14تو زیاری بات ہے
17:15نسیان کی وجہ رکھنے والی
17:18معاملہ بھی یہی ہے
17:19کہ اللہ تعالیٰ خود غفور ہے
17:20ستار ہے
17:21اور وہ اپنی شان غفور
17:23اور ستار
17:23کسی انسان کے ساتھ جوڑتا ہے
17:25تو تب ہی جوڑتا
17:25جب انسان سے بھول ہوتی ہے
17:27اور صحیح مسلم شریف کی
17:28وہ حدیث پاک بھی ہے
17:29اللہ رسول سے فرماتی ہیں
17:31کہ اللہ تعالیٰ نے
17:32رشاد فرمایا
17:32حدیث قدسی کے اطرف اشارہ کر کے
17:34کہ اگر سارے کے سارے بندے
17:36نیک بن جائیں
17:36اور سالے بن جائیں
17:37اور کوئی گناہ کرنے والا نہ ہو
17:39تو میں ایک ایسی مخلوق پیدا کروں گا
17:41جس سے کبھی خطا ہو
17:42اور پھر میں اس کو معاف فرماؤں
17:43سبحانہ بہت
17:44تو شان اس کی غفار ہونے کی
17:46اور ستار ہونے کی
17:47اور رحمت ہونے کی شان جو ہے
17:49وہ اس طرف جو ہے
17:50اشارہ کرتی ہے
17:51کہ نسیان
17:52اللہ تعالیٰ کی شان رحمت
17:54کو دعوت دینے والی ایک قیفیت ہے
17:55تو اس میں کوئی شک نہیں
17:56کہ یہ انسان کی قیفیت ہے
17:58مگر اس پر انسان کا
18:00اقل اور شعور
18:00پھر دوسری بات یہ ہے
18:02جیسے آپ نے شروع میں
18:02اشارہ بھی فرمایا
18:03کہ لقد خلقنا لینسان
18:05فی آسانی تاقویم
18:05آگے فرمایا
18:06سمہ رددنا ہو
18:08اسفل سافلین
18:10بلکل
18:10اب یہاں جو اسفل سافلین ہے
18:12اس کی تشریح میں
18:13حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں
18:14کہ جس شخص کے پاس
18:16علم ہے
18:17اگر کوئی اس قیفیت سے بچنا چاہتا ہے
18:19تو اس کے پاس
18:19سب سے بڑا اتھیار
18:20دین کا علم ہے
18:21اللہ تبارک و تعالی
18:22جس کو دین کا علم
18:23عطا فرما دیتا ہے
18:24وہ بڑھاپے کی حالت میں
18:26جا کر بھی
18:26اس قیفیت کو نہیں چھوتا
18:27کیونکہ اللہ تبارک و تعالی
18:29کی رحمت
18:29اس پر سایف اگن ہوتی ہے
18:30سبحان اللہ
18:31سبحان اللہ
18:31بالکل ٹھیک ہے
18:32جناب پروفیسر
18:33اسی کو بات کو
18:35ہم آگے بڑھاتے ہیں
18:36کہ نسیان جو ہے
18:38انسان کی جبلت میں
18:40اللہ نے رکھا ہے
18:41کیا یہ
18:43انسان کی
18:45خوبیوں میں آتا ہے
18:46یہ خامیوں میں آتا ہے
18:48نسیان ہونا
18:49جہاں تک
18:50میں مشاہدہ کرتا ہوں
18:52اگر اللہ
18:53رب العزت
18:53انسان کے خمیر میں
18:54نسیان نہ رکھتا
18:56یہ ایک نعمت ہے
18:57نسیان بھی
18:57ایک پیرائی میں
18:58اگر ہم اس کو دیکھیں
18:59تو ایک نعمت بن جاتی ہے
19:00وہ ایسے کہ
19:02ہمارے قریب بھی
19:03رشتہ دار
19:03ماں باپ
19:04بہن بھائی
19:05جب دنیا سے چلے جاتے ہیں
19:07مر جاتے ہیں
19:08تو ہم روتے ہیں
19:10لیکن
19:11کتنا روتے ہیں
19:12دو دن
19:13اور دو دن کے بعد
19:15وہی نسیان کی
19:16کیفیت غالب ہوتی ہے
19:18کہ وہ غم
19:19وہ افسوس
19:21وہ صدمہ
19:21ہم سے ڈرین ہو جاتا ہے
19:24اور ہم کاروبار زندگی میں
19:25واپس آ جاتے ہیں
19:26بیٹا
19:27دو دن بعد دکان کھولیتا ہے
19:29اگر نسیان نہ ہوتا
19:31تو انسان ساری زندگی
19:32روتا ہی رہتا
19:33کیا ارشاد فرمائیں گے
19:35اس پر میں یہ ارز کروں گا
19:36کہ جیسا کہ
19:37قبلہ پروفیسر صاحب نے
19:39یہ بات بڑی خوبصورت بیان کی
19:40کہ یہ جو نسیان کا
19:42ایک معاملہ ہے
19:43یہ میلان کے حوالے سے
19:44اللہ رب العزت کی طرف سے
19:46انسان کے اندر ہے
19:47انسان کا جو
19:49مقصد حیات ہے
19:50وہ
19:51رجوع اللہ ہے
19:52اللہ کی عبادت ہے
19:53اس کو راضی کرنا ہے
19:55صحیح
19:55انسان کے اندر یہ
19:56کیفیات آتی ہیں
19:57خوشی کی
19:58غمی کی
19:59میں یہ کہتا ہوں
20:00کہ اگر ایک انسان
20:01کی اندر غم کی
20:02کیفیت نہ ہو
20:03تو اس کو خوشی کا
20:04احساس نہیں ہو سکتا
20:05اگر وہ
20:06انسان
20:06نسیان میں
20:07اگر مبتلا نہ ہو
20:08تو اس کو
20:09نیکی کی عظمت
20:11کا پتہ نہیں چل سکتا
20:12اور جہاں تک
20:13بات رہی کہ
20:14انسان جو ہے
20:14وہ رشتوں کو
20:15بھول جاتا ہے
20:16اور دیگر معاملات میں
20:17جونسا ہے وہ
20:18نسیان کا
20:18ایک پیکر بن جاتا ہے
20:20تو میں اس پر
20:21یہ ارز کروں
20:21کہ رسالت
20:22معاف صلی اللہ علیہ وسلم
20:23کی سیرت بھی
20:23اگر ہم دیکھیں
20:24تو آقا علیہ السلام
20:25نے جب تبلیغ
20:26آغاز فرمایا
20:35جو امت کے لیے
20:36پیغام آپ کا
20:36امانت ہے
20:37کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
20:38نے ویسے ہی
20:39اپنا رجوع
20:40جو ہے وہ
20:40اللہ کے ساتھ
20:41مضبوط کرتے گئے
20:42تعلیم امت کے لیے
20:43کہ انسان کو
20:45ایک چیز سمجھ لینی چاہیے
20:46کہ اس کا
20:48جو ایک یہ
20:48وقتی طور پر
20:49یہ گھر ہے دنیا
20:50وہ آرزی ہے
20:51ٹیمپریری ہے
20:52اس کا جو
20:53اصل گھر ہے
20:54وہ اللہ کے ہاں ہے
20:55اور جب اس نے
20:56یہاں سے رخصت ہونا ہے
20:57تو وہ کچھ ایسا
20:58کام کر جائے
20:58ایسا عمل کر جائے
20:59کہ جس سے
21:00اس کا اگلا جہان
21:01جو ہے وہ سمر جائے
21:02غلطیاں ہوتی ہیں
21:03انسان سے
21:04معاملات جو ہے
21:05وہ ڈسٹرب ہوتے ہیں
21:05نسیان ہوتے ہیں
21:07لیکن
21:08ایک چیز اس پر
21:08یہ ہونا چاہیے
21:09کہ انسان کو
21:10مایوس نہیں ہونا چاہیے
21:11لا تک نہ تمہیں
21:12رحمت اللہ
21:13بعض اوقات
21:13وہی نسیان
21:14رجوع اللہ
21:15اللہ کا سبب بن جاتا ہے
21:16بلکل ایسی
21:17بہت سارے بزرگانے
21:18دین کا واقعہ
21:18جو ہے ہمارے سامنے ہیں
21:19ان کی زندگیاں
21:20ہمارے سامنے ہیں
21:21وہ ملامت کرتے ہیں
21:22ملامت کرتے ہیں
21:23اور یہ چیز
21:23ڈاکٹ صاحب
21:24یہ چیز بندے کے اندر
21:25پیدا ہونا
21:25یہ بھی اللہ کی توفیق
21:26وہی کا انعیمت ہے
21:27بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں
21:28کہ جو بے زمیر ہو جاتے ہیں
21:30جس طرح کہ میں مثال دوں
21:31کہ عرب کے معاشرے
21:32کو اگر ہم دیکھیں
21:33تو عرب کے معاشرے میں
21:34وہ لوگ بھی تھے
21:47اور بے ایمانی کی حالت میں
21:48دنیا سے رخصت ہوئے
21:49تو رجوع اللہ
21:50کرنا ضروری ہے
21:51نسیان ہو جائے
21:52تو اللہ رب العزت کی طرف سے
21:54توبہ کا دروازہ کھلا ہے
21:55بلکل
21:55کہ انسان کو جو ہے
21:56وہ توبہ میسر آ جاتی ہے
21:57بلکل چھیک ہے
21:58مفتی صاحب
21:59بعض وقت جناب پروفیسر تیمور صاحب نے فرمایا
22:02کہ نسیان سے
22:04ضمیر مردہ ہو جاتے ہیں
22:05یہ ضمیر کیا ہے
22:07بعض وقت ہم نکی کرتے ہیں
22:09تو دل میں اتمنان محسوس ہوتا ہے
22:11اور بعض وقت گناہ ہو جائے
22:13کوئی غلطی ہو جائے
22:14کوتاہی ہو جائے
22:15تو ضمیر ملامت کرتے ہیں
22:17اور بعض وقت ضمیر مردہ ہو جاتے ہیں
22:19مجھ سے یہ ضمیر کیا ہے
22:21ماشاءاللہ اللہ رب العزت نے
22:22قرآن کری فرقان حمید کے اندر
22:24یہ انسان کو جب مخاطب کیا ہے
22:25تو دونوں چیزوں سے مخاطب فرمایا ہے
22:27کسی جگہ پر
22:28یا ایوہل انسان کہہ کے مخاطب کیا ہے
22:30اور کسی جگہ پر
22:31اب یہ کیفیت جو ضمیر والی ہے
22:35اس کے اندر تین کٹاگریز جو پائے جاتی ہیں
22:37نفس امارہ ہے
22:38نفس مطمئنہ ہے
22:39تو یہ نفس مطمئنہ ہے
22:42یہ انسان کے ضمیر کی
22:43خوبی والی ایک خاصیت کا ذکر
22:45اللہ پاک نے
22:45تخاتم کے طور پر فرمایا ہے
22:47حدیث پاک میں یہ بات موجود ہے
22:50کہ حضرت واسجہ حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے
22:53اور وہ کافی پیچھے تھے
22:54جیسے مشکات شریف کے حدیث پاک کے
22:55مستدیام شریف کے اندر بھی آئے
22:56امام دارمی نے بھی اس کو
22:57صحیح سند کے ساتھ نکل کیا
22:59وہ پیچھے تشریف فرما تھے
23:01تو صحابہ سے وہ
23:02صفحے چیرتے چیرتے آگے
23:03تشریف لیا ہے حضور کی بارگاہ میں
23:04تو صحابہ نے ان کو روکا ٹھوکا
23:06تو کہا میں حضور سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں
23:08اور یہاں حدیث پاک
23:09جو بہت زیادہ قیفیت
23:11ہمارے اوپر محبت والی پیدا کر دیتی
23:13وہ یہ ہے
23:13جب وہ حضور کے درگاہ میں پہنچے تو
23:15سرکار نے فرمایا
23:15یا واسجا
23:16آئے واسجا
23:17کیا تو مجھ سے یہ پوچھنے آیا ہے
23:21کہ خیر کیا یا شر کیا ہے
23:22یعنی سرکار نے اس کی تبیت کو بھاگتے ہوئے
23:24خود ہی سوال جو ہے
23:26وہ اپنے پاس سے ارشاد فرما دیا
23:27تو فاکول تو بلا
23:29میں نے ارز کی آکا ضرور آیا ہوں
23:30تو حضور نے ارشاد فرمایا
23:31آپ فرماتے ہیں
23:32فجامہ اسابیہو
23:34آپ نے اپنے انگلیوں کو جمع کیا
23:35اور پھر ارشاد فرمایا
23:36میرے سینے پر رکھ کے
23:37استفتی قلبہ کا
23:39استفتی نفسہ کا
23:40اپنے دل سے پوچھ
23:41اور اپنے نفس سے پوچھ
23:43اور ارشاد فرمایا
23:44اذا مت نہ آتا
23:46جس وقت تیرے سمجھنے کوئی قیفیت ہو
23:48کوئی کام تو کرے
23:49اور تو اس پر اتمنان اصل کر لے
23:51تو تو سمجھ لے کہ میں صحیح ہوں
23:52اگرچہ لوگ تجھے فتوہ کوئی اور دیں
23:54اور جس وقت تیرا ضمیر
23:56تجھے ملامت کرے
23:57اندر سے تیرے آواز ہے
23:58کہ میں غلط کر رہا ہوں
23:59تو سمجھا کہ میں غلط ہوں
24:01تو یہ جو قیفیت ہے انسان کی
24:02وہ بخاری شریف کی حدیث پاک
24:04بھی حضور نے فرمایا
24:05کہ انسان کے دل کے اوپر
24:06جب کوئی گناہ کرتا ہے
24:07تو وہ ایک نقطہ تنسودہ بن جاتا ہے
24:10اور جب انسان دوبارہ گناہ کرتا ہے
24:12تو وہ پھیل جاتا ہے
24:13پھر کرتا ہے تو پھیل جاتا ہے
24:14جو قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے
24:19وہ اسی کی تشریح ہے
24:20کہ سارا دل کالا ہو جاتا ہے
24:21پھر اس کو اندر سے آواز دینے والی
24:23قیفیت
24:24جل کے کالا ہو جانے سے
24:25نہیں باقی رہتی
24:26جو اسے سمجھا سکے
24:27کہ تو غلط کر رہا ہے
24:28اور وہ گناہ پہ گناہ کرتا جاتا ہے
24:29یہ ضمیر کا ذکر
24:31قرآن کری فرقان حمید کی روح میں
24:32اور حدیث تیبات کے فرمودات
24:34یا علی شان کے اندر یہی موجود ہے
24:35کہ اللہ پاک نے انسان کو
24:37جو ایک شعوری قیفیت دی ہے
24:38جس میں خید اور شرک کو
24:40پہچاننے کا مادہ رکھا ہے
24:41یہی انسان کا ضمیر ہے
24:42جو انسان کا مفتی ہے
24:43ہم کہہ سکتے ہیں
24:44کہ باطن کی آواز
24:45یا باطن کی آواز
24:46جو انسان کو بھٹکنے سے روکتی ہے
24:48ہم یوں کہہ سکتے ہیں
24:49کہ وہ باطن کی آواز
24:50جو انسان کی روح کے اوپر
24:52اللہ نے پیرے دار مقرر کی ہوئی ہے
24:54کہ اس کی روح جو ہے
24:55وہ صلاحیت کی طرف جائے
24:56اور وہ اساعت سے بس سکے
24:58گناہ سے بس سکے
24:59وہی باطن کی آواز ہے
25:00کہ جو نیکی پر اتمنان بخشتی ہے
25:03بخشتی ہے
25:03اور گناہ پر ملامت زدہ کرتی ہے
25:05ملامت زدہ کرتی ہے
25:06اور اس آواز کو
25:07اپنے علاوہ کوئی نہیں سنتا
25:08کوئی نہیں سنتا
25:09خوبصورت
25:10یہ ہے وہ
25:11اللہ کے طرف سے ایک عطا ہے
25:13جی بالکل ٹھیک ہے
25:14ناظرین اکرام
25:16بہت خوبصورت گفتگو
25:18انسان کیا ہے
25:19اس کے باطنی اور ظاہری
25:20کمالات کیا ہیں
25:21ای آر وائی کیو ٹی وی ہے
25:23اور ہماری لائیو نشیات ہیں
25:24لاہور سٹوڈیو سے
25:25پروگرام ہے
25:26روشنی سب کے لیے
25:27وقفہ ہے
25:28دوبارہ
25:29اور دوبارہ ہم چلتے ہیں
25:31دربار رسالت میں
25:32اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اکدس پر
25:35والیہانہ انداز میں
25:36محبت کے ساتھ
25:37درود کریم پیش کرتے ہیں
25:39اور واپس آتے ہیں
25:39وقفے کے بعد
25:41ناظرین کرام دوبارہ آپ کے خدمت میں حاضر ہیں
25:42ای آر وائی کیو ٹی بی
25:43لاہور سٹوڈیوز ہے
25:44ہماری لائیو نشیات ہیں
25:46اور پروگرام ہے
25:47روشنی سب کے لیے
25:48اور آج ہمارا موضوع ہے
25:50کہ انسان
25:51کتنا قیمتی ہے
25:52کتنا اشرف ہے
25:53اور کس طرح
25:55اور کیوں
25:55ناظرین کرام
25:57اس پر ہم گفتگو کر رہے ہیں
25:58اور میرے مہمان ہیں
25:59جناب پروفیسر مفتی خلیل قادری
26:01اور جناب پروفیسر تیمور فاروقی
26:03مفتی صاحب
26:04آپ نے اپنے گفتگو میں
26:12جو کسی اور مخلوق پر
26:15نہیں اللہ نے نازل کیا
26:17یہ اعزاز صرف انسان کو دیا
26:19وہی انسان
26:20علم انسان کو عطا کیا
26:22سب کچھ
26:24یہ
26:24اللہ رب العزت نے
26:26اپنے رحم و کرم کی بارشیں
26:28انسان پر کی ہیں
26:29اپنی نعمتوں کی بارشیں
26:30مجھ صاحب
26:31یہ جو
26:32زیورِ علم ہے
26:34یہ انسان کے
26:35ظاہر و باطن کو
26:37کس طرح سے ممتاز کرتا ہے
26:39کس طرح سے
26:39بالیدگی پیدا کرتا ہے
26:41انسان کے اندر
26:42ایک وہ شخص
26:43جو علم سے
26:45نہ آشنا ہے
26:46اور ایک وہ شخص
26:47جو علم سے آشنا ہے
26:49اور علم کا پیکر ہے
26:50دونوں میں فرق کیا ہوتا ہے
26:51ماشاءاللہ
26:52ایک ہے
26:54علم کا ہونا
26:55ایک ہے
26:56علم سے فیدہ اٹھانا
26:57دونوں چیزوں میں فرق ہے
26:59علم
27:00اللہ پاک نے
27:01جنوازوں کو بھی دیا ہے
27:02کچھ نہ کچھ
27:03زیاری باتیں
27:03ان کو بھی پتا ہے
27:04کہ میری جان کہاں
27:05خطرے میں ہے
27:05کہاں فیدے میں ہے
27:06انسان کو جو علم عطا فرمایا ہے
27:09وہ ایسا علم ہے
27:10جس پر انسان کو
27:11پوری کائنات پر فوقیت آسل ہے
27:13اور وہ کائنات کے اوپر
27:14باتشاہد کرتا ہے
27:16اللہ رب العزت نے
27:17قرآن کری فرقان حبید میں فرمایا
27:18کہ
27:18جن کو اللہ پاک نے
27:22علم اطا فرمایا
27:23ان کے درجات زیادہ بلاند ہیں
27:24تو علم کے ساتھ
27:26انسان کے درجات بڑھتے رہتے ہیں
27:27اور یہ بھی فرمایا
27:28کہ جو جاننے والے ہیں
27:29اور نہ جاننے والے
27:30وہ برابر نہیں ہو سکتے
27:32تو اللہ رب العزت نے
27:34قرآن پاک میں اس کا اعلان کیا ہے
27:35کہ برابری نہیں ہے
27:36علم والے کے مقام جو ہے
27:37وہ زیادہ ہے
27:38اور جس کے پاس علم نہیں
27:39اس کے پاس مقام کام ہے
27:40اللہ رب العزت نے
27:42علم کے ساتھ
27:43جب انسان طالب علم بن کے چلتا ہے
27:45تب سے
27:46اس کی عزت شروع ہو جاتی ہے
27:47جیسی حدیث پاک ہے
27:48بخاری شریف کی
27:50اور عبدالد شریف کی
27:50کہ جب کوئی شخص چلتا ہے
27:52تو فرشتے اس کے راستے میں
27:54اج نیتی ہا
27:54اپنے پروں کو بچھا دیتے ہیں
27:56وہ چلتا ہے
27:57تو فرشتے
27:58اس کے راستے میں پر بچھاتے ہیں
28:00وہ فرشتوں کے پروں پہ جا رہا ہوتا ہے
28:01اور حدیث پاک یہ ہے
28:03کہ
28:03مماتا فی طلب العلم
28:05اگر کوئی شخص دنیا سے
28:07اس انداز میں رخصت ہوا
28:08کہ وہ طلب کر رہا تھا
28:10علم کو
28:10اور پھر وہ دنیا سے چلا گیا
28:12تو حضور نے رشاد فرمایا
28:13کانمائی یوم القیامہ
28:14اللہ پاک اس کو
28:15قیامت کا دین میرا ساتھ کھڑا کرے گا
28:17اور ایک حدیث پاک میں یہ ہے
28:18کہ اللہ تبارک و تعالی
28:19اس کو نبوت سے
28:21ایک درجہ کم رکھے گا
28:22یعنی جہاں انبیاء کھڑے ہوں گے
28:23ایک درجہ کم
28:24اس کے ساتھ اہل علم
28:25جو علم حاصل کرتے کرتے
28:27دنیا سے فوت ہو گئے
28:28اگر کوئی شخص دنیا سے
28:29رخصت بھی ہوتا ہے نا
28:30اور کریم عقی صلی اللہ علم نے جو بتایا
28:32کہ اس کو کوئی چیز فائدہ دے سکتی ہے
28:34مرنے کے بعد بھی
28:35تو اس میں تین چیزوں کا واضح طور پر
28:37نام لیا صحیح مسلم شریف کی
28:38حدیث پاک کے اندر
28:39جس میں فرمایا کہ
28:39علمون ینتفو بہی
28:41وہ علم کا خدمت گزار تھا
28:43جس سے لوگ نفع حاصل کرتے رہے
28:46اور جب تک اس سے نفع چلتا رہے گا
28:48اس کو قبر میں بھی فائدہ دے گا
28:50اور ایک حدیث پاک جو حضرت ابو ذر غفاری فرماتے ہیں
28:53دارمی شریف کی حدیث پاک ہے
28:54اور امام بہگی نے بھی اس کو نکل کیا ہے
28:57حضرت ابو ذر کہتے
28:58کنت رضیف النبیہ
28:59میں کریم عقیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
29:01سواری پر حضور کے پیچھے سوار تھا
29:02بڑی پور قیفیت ہے
29:04حضور نے فرمایا
29:05کہ یا ابا دردہ
29:06کن آلیمن
29:07او متعالیمن
29:09او محبن
29:09او متابیان
29:11وَلَا تَكُنِ الْخَامِسْ فَتَحْلِق
29:13اے ابو دردہ
29:14یا آلیم بن کے پڑھانا شروع کر دے
29:16یا طالب اللہ بن کے پڑھنا شروع کر دے
29:18یا دونوں سے محبت کرنے والا بن
29:21ان کی مدد کر
29:21یا فرمایا
29:22یہ تینوں کفیات پیدا نہیں کر سکتا
29:24وہ متابیان
29:25پھر ان کی پیروی کرنا شروع کر دے
29:27ان کے طریقے پر چلنا شروع کر دے
29:28فَلَا تَكُنِ الْخَامِسْ پَانچ وَا رَاسْتَہْ نِي لَيْنَا فَتَحْلِق
29:31اس کے آگے ہلاکتیں
29:33حضرت مولا کنات علی المرتضی شہرِ خدا علیہ السلام
29:36آپ کے ایک شیر بھی ہے نا
29:38ہاں فرماتے ہیں
29:38رَضِيْنَا قِسْمَةَ الْجَبَّارِ فِيْنَا لَنَا عِلْمٌ وَلِلْجُحَالِ مَالُ
29:43ہم اللہ تعالیٰ کی اس قیفیت اور اس تقسیم پر ناز کرتے ہیں
29:48اور خوش ہیں
29:48راضی ہیں
29:49کہ اللہ پاک نے ہمیں علم اطا کیا
29:51اور غیروں کو اللہ پاک نے دولت دی
29:53حقے فرمایا
29:54فَإِنَّ الْمَالَ يَفْنِيَنْ قَرِيبٍ
29:57مال تو وہ ہے جو انقریب ختم ہو جائے گا فَنَا ہو جائے گا
30:00وَأَنَّ الْعِلْمَ بَاقِي لَا يَزَالُ
30:02لیکن علم وہ دولت ہے جو باقی رہے گی سے زوال ہی کوئی نہیں ہے
30:05علم کی روشنی میں جو آمال ہیں وہ باقی رہنے پا ہے
30:08جناب پروفیسر صاحب ہمارے پروگرام کے وقت
30:11اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں
30:13ایک بڑی اہم بات رہتی ہے
30:15انسان سے پہلے جو مخلوق تھی
30:19جس کو اللہ رب العزت نے ایڈریس کر کے بتایا تھا
30:22کہ میں اپنا خلیفہ اور نائب پیدا کرنا چاہتا ہوں
30:25انسان وہ ملائکہ تھی
30:27اور ملائکہ کی سرشت میں یہ بات شامل ہے
30:30کہ حکم کی بجا آوری
30:32اطاعت و فرما برداری
30:34اللہ رب العزت کے حضور
30:35پروفیسر صاحب
30:38لیکن قول معروف یہ بھی ہے
30:41کہ فرشتوں سے بڑھ کر ہے انسان ہونا
30:43اس سے کیا مراد ہوئی
30:45بسم اللہ الرحمن الرحیم
30:47ڈاکٹر صاحب اس میں کوئی شک نہیں
30:49کہ انسان جو ہے
30:51یہ اللہ تعالیٰ کی بہترین شہکار مخلوق ہے
30:55اور اللہ تعالیٰ نے
30:57اس کو بہت ساری صفات اور خصوصیات کی بنیاد پر
31:01دیگر مخلوقات پر فضیلت بخشی
31:03اور پھر اس کو اشرف المخلوقات کہا ہے
31:06اب اس میں ایک چیز یاد رکھنی شاہیے
31:09کہ فرشتوں کے اندر عبادت کا جذبہ
31:12وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ہیں
31:14اللہ کے حکم کے تابع ہیں
31:15جیسا رب تعالیٰ حکم دیتا ہے وہ ویسا کرتے ہیں
31:18لیکن حضرت انسان سے میں کہوں گا
31:20کہ اللہ تعالیٰ کا اتنا پیار ہے
31:22اتنا ذات کے ساتھ
31:25اس مخلوق کے ساتھ لاد ہے
31:27کہ اگر یہ انسان
31:29غلطی بھی کر بیٹھتا ہے
31:30تو اللہ تعالیٰ پھر بھی اس کے لیے معافی کو
31:32رکھتا ہے
31:33کہ اس کی توبہ کا انتظار کیا جاتا ہے
31:36مثال کے دور پر یہ جو
31:38ایک بات ہم کرتے ہیں
31:40کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے یہاں فرشتے رکھے ہیں
31:43کہ رامن قاتبین جو لکھتے رہتے ہیں
31:45ہر وقت انسان کے افعال کو
31:47اس کے اقوال کو جو بھی معاملات ہیں
31:49تو یہ چیز جو ہے
31:51وہ کسی اور مخلوق کے ساتھ نہیں ہے
31:53یہ انسان کے ساتھ ہے
31:54دراصل احساس دلانا انسان کو
31:57کہ حضرت انسان
31:58تو بے شک اللہ تعالیٰ کی شہکار مخلوق ہے
32:01تیرا مقام و مرتبہ دگر مخلوقات سے زیادہ ہے
32:04تجھے اللہ تعالیٰ نے
32:05ان سو محبت والا پیدا کیا ہے
32:07تجھے اللہ تعالیٰ نے
32:08اپنی ایک خوبصورتی کا ایک شہکار بنا کر
32:11دنیا کے سامنے پیش کیا ہے
32:13اور ممکن ہے
32:14کہ تجھ سے غلطیاں اور کتائیاں بھی ہو جائیں
32:15ممکن ہے
32:16تو بھول بھی جائے
32:17ممکن ہے
32:18کہ تجھے غلط کاری میں مبتلا ہو جائے
32:20لیکن تیرا مقام اگر جاتا ہے
32:23تو تجھے اللہ تعالیٰ نے عزاز بھی یہ دیا ہے
32:25کہ جب بھی تُو معافی مانگے گا
32:26توبہ کرے گا
32:27تو رب تعالیٰ نے تیرے لئے
32:28توبہ کا دروازہ بھی کھول رکھا ہے
32:29یہی وہ چیز ہے
32:30جو تجھے تمام مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے
32:33ہم اس میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں
32:35کہ ملائکہ کے پاس
32:36فرشتوں کے پاس
32:37آپشن نہیں ہے کوئی
32:39بلکل ایسی
32:40ان کی سرشت میں شامل ہے
32:42خمیر میں شامل ہے
32:43کہ عبادت ہی کرنی ہے
32:44انسان کے سامنے آپشن رکھ دی گئے
32:47یہ نیکی ہے یہ بدی ہے
32:48نیکی میں تلخی بھی ہو سکتی ہے
32:50بدی میں لذت بھی ہو سکتی ہے
32:52ہم دیکھتے ہیں
32:53تو کس کو اڈاپٹ کرتا ہے
32:54جب وہ بدی کو چھوڑ کر
32:56اس لذتوں کو چھوڑ کر
32:58اس نیکی کے راستے کو
33:00اپناتا ہے
33:01اور اس میں تلخیوں کو بھی قبول کرتا ہے
33:03تو پھر وہ
33:04ملائکہ سے بھی ایک درجہ
33:06میں آپ کی بات کو آگے بڑھوں
33:07بڑی خوبصورت بات کی
33:08آپ نے جس طرح
33:08اپنے قبلہ
33:09پروفیسر صاحب سے سوال پوچھا تھا
33:11ضمیر سے مطلق
33:12اس میں ضمیر کا رول بڑھا ہے
33:13میں کہہ سکتا ہوں
33:14کہ بندہ جب ضمیر والا ہونا
33:16تو وہ
33:17قانون جہاں پر خاموش ہوتا ہے
33:19وہاں پر انسان کا ضمیر بولتا ہے
33:21اور جب انسان
33:22اپنے ضمیر کی آواز
33:23سننے لگ جائے
33:24اس کو سمجھ آ جائے
33:25اس کو مقصد حیات سمجھ آ جائے
33:27تو تب پھر اس کے اندر
33:28یہ تقویٰ کے دولت آتی ہے
33:29اور اسی وجہ سے
33:30تقویٰ کا جو مقام ہے
33:32وہ قانون سے زیادہ ہوتا ہے
33:33کہ انسان جو ہے
33:34وہ اپنی ایک دل کی کیفیت کو سمجھتا ہے
33:37کہ میرا مقصد حیات کیا ہے
33:38یہ بات بالکل ٹھیک ہے
33:39کہ فرشتوں کو
33:40اللہ تعالیٰ نے
33:41مقصد ہی ان کا صرف عبادت ہے
33:42وہ فرشتے اللہ کی عبادت میں مصروف ہیں
33:44لیکن انسان کے پاس
33:45یہ دو آپشنز موجود ہیں
33:47کہ وہ اچھائی کو ڈاپٹ کر لیں
33:49یا برائی کو ڈاپٹ کر لیں
33:50تو یہی پر انسان کے
33:52ضمیر کا ایک ٹیسٹ ہوتا ہے
33:53کہ وہ اپنے مقصد حیات کو
33:55بھولا تو نہیں ہے
33:56اس کے سامنے
33:57نیکی کا بھی شعور رکھ دیا
33:59بدی کا بھی شعور رکھ دیا
34:00تو رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم
34:01نے اس لیے فرمایا تھا
34:02کہ
34:02جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا
34:05اپنی ذات کو پہچان لیا
34:07اس نے اللہ کا قرب حاصل کر لیا
34:08اللہ کی ذات کو پہچان لیا
34:10اور پھر دوسری چیز
34:11اس میں ڈاکٹر صاحب بہت ساری چیزیں میٹر کرتی ہیں
34:13اس میں انسان کی زبان بھی میٹر کرتی ہے
34:15انسان کا کردار بھی میٹر کرتا ہے
34:16اب زبان کے حوالے سے اگر ہم بات کریں
34:18تو یہی وہ چیز ہے جو انسان کو
34:21بلندیوں اور عروج تک پہنچا دیتی ہے
34:22انسان کا انسان کے ساتھ
34:24dealing معاشرت اور یہی وہ چیز ہے
34:26جو اس کو ہلاکت کے گھڑے میں بھینک دیتی ہے
34:28اب باقی مخلوقات کے اندر
34:30یہ جو ایک چیز ہے زبان
34:32وہ باقی مخلوقات کے اندر نہیں ہے
34:34لیکن انسان کے پاس ہے
34:36تو اس لئے قرآن نے کہا کہ
34:37سچی بات کہا کرو اچھی بات کہا کرو
34:40تو اگر انسان اپنے جسم کے
34:42ہر ایک عزف کو دیکھے
34:43جو اللہ نے دوسری مخلوقات کو نہیں اتا فرمایا
34:46اس کو اتا فرمایا ہے
34:47وہ انسان شکر بھی کرتا ہے
34:49اور وہ اللہ کے رستے پر بھی آتا ہے
34:51اور اللہ کے رستے پر آ کر وہ ایک اچھے رستے کو
34:53ڈاپٹ کر کے جنت کو بھی حاصل کر لیں
34:55سبحان اللہ
34:55مجھ سے کیا پیغام دیں گے
34:58ماشاءاللہ پیغام میں یہی سب سے بڑی بات ہے
35:00انسان کو اللہ پاک نے
35:07نہ پیتے ہیں نہ شادی بیعہ کرتے ہیں
35:09نہ کمانے کی فکر ہے نہ کسی جگہ پر رہنے کی فکر ہے
35:11نہ کچھ بنانے کی فکر ہے
35:12لیکن انسان کے اوپر جس ساری فکریں رکھ دی گئی ہیں
35:15اس کے باوجود بھی اگر وہ اپنے آپ کو
35:17اللہ کے سامنے جھکاتا ہے
35:18تو وہ اللہ کے طرف سے اس کے لیے
35:20انام اتر قربت بڑھ جاتی ہے
35:22جیسے وہ مولانا روم نے کہا تھا نا
35:23کہ آپ در کشتی کشتی است
35:27زیر کشتی پشتی است
35:29پانی اگر کشتی کے اندر چلا جائے
35:31تو اس کی موت ہے
35:32اور نیچے رہے تو اس کے لیے سپورٹ ہے
35:33تو انسان دنیا کے اوپر سوار ہو کے رہے
35:36اور اللہ کے طرف رجوع رکھے
35:37تو انسان کامیاب ہے
35:38لیکن دنیا میں گھس جائے
35:40تو انسان کے لیے ادنا کامی ہے
35:41بہت شکریہ جناب مفتی خلیل قادری صاحب
35:44اور آپ کے پیغام کا بہت شکریہ
35:47پروفیس صاحب
35:48ایک منٹ میں آپ کیا پیغام دیں گے
35:49پروفیس صاحب میں
35:50میں ڈاکٹر صاحب اس پر یہ بات کروں گا
35:52کہ بڑا ہی خوبصورت ٹاپک تھا
35:53انسان سے متعلق
35:54اور ہم نہ
35:56اس پروگرم کی وساطت سے
35:58ایک پیغام یہ دینا چاہیں گے
35:59کہ ہمارے نہ انسان کا معاملہ
36:02اچھکا لیے ہوگا
36:02کہ مٹیرلیسٹک اس دور کے اندر
36:04اس کی اپروچ ٹوٹلی ڈیفرنٹ ہو گئی ہے
36:06ہم اپنے اس دور کے اندر
36:09اپنے مزاج میں سنبھل نہیں پا رہے
36:12ہم اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ بھی
36:14جو ہے وہ ٹھیک طریقے سے نہیں چل پاتے
36:16عبادت میں ہم جو ہے وہ کمی بیشی کر جاتے ہیں
36:19ہم لیندین کے معاملات میں کمی بیشی
36:21رشتوں کے معاملے میں ہم جو ہے وہ کمی بیشی کر جاتے ہیں
36:23جبکہ ایک حضرت انسان کو یہ معاملات زیب نہیں دیتے
36:27وہ ایک شیر تھا جس میں کہا جاتا ہے
36:29کہ جنون ہوتا ہے ہر عمر میں جدا جدا
36:31جنون ہوتا ہے ہر عمر میں جدا جدا
36:34کھلونے عشق پیسہ پھر خدا خدا
36:36We think that our life is a lot of good.
36:39We will have to do that.
36:41We will have to do that.
36:43But we will have to do that.
36:45We will have to do that.
36:47When we have to do that,
36:49we will have to do that.
36:51Thank you very much.
36:53Prof. so far,
36:55we will have to do that.
36:57This is a way of being a person.
36:59And I have to do that.
37:01I have to do that.
37:03We will have to do that.
37:06We will have to do that.
37:08We will have to do that.
37:10We will have to do that.
37:12We will have to do that.
37:14We will have to do that.
37:16We will have to do that.
37:18We will have to do that.
37:20We will have to do that.
37:22We will have to do that.
37:24We will have to do that.
37:26We will have to do that.
37:28We will have to do that.
37:30But we will have to do that.
37:32ndzikram allah to unsebhi mhobbeta kerta
37:35joh dynke 24 ghen'to me 24
37:381000 mertaba allah ke
37:40akam ki hukam udulhi kerta
37:43hai allah kubhi
37:44bi unka sans bend nahi kerta
37:46kubhi bi unka risk bend nahi kerta
37:48ndzikram ایک minit
37:50me baat arz karunga ki beny israel
37:52me eek shucks tha johke budh
37:54pres tha wo 40 buras
37:56tak budh ko samanne bita ker
37:58ya sanam ya sanam ya sanam
38:00pukarta raha ایک dyn zuban
38:02لڑک گئی اور zuban سے nikل گیا
38:04ya samad to foraan khano
38:06ki samadon se awaz tk rai
38:08بتa میre bendye kiya chahata hai
38:10وہ sar ptk ke thak gya
38:12ki mein to sanam kehta kehta
38:14bholkar samad keha gya ya
38:16ya awaz ágayi to phir allah ne awaz
38:18us koji samadon se tk rai
38:20اے میre bendye اگer mein tujhe áج
38:22jawaab na djeta
38:23to sanam mein اور samad mein fərق
38:25کیا رہتا فرق یہی ہے
38:27کہ sanam sunta نہیں ہے samad sunta
38:29ہے اور سب کی sunta ہے
38:31ناظرین اکرام اسی کے ساتھ
38:33اپنے میزبان ڈاکٹر محمد
38:34طاہر مصطفیٰ کو اجازت
38:35دیجئے اپنا بہت خیال
38:36رکھئے اللہ حافظ
Be the first to comment