- 3 months ago
- #allamahafizowais
- #qarinomannaeemi
- #darsequran
Dars e Quran - Surah e Aal-e-Imran Ayat 33 to 36
To watch all the episodes of Dars e Quran ➡️https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XicHmWttOceS6grEiS0XALjI
Tilawat (Recitation): Qari Noman Naeemi
Tafseer (Details): Allama Hafiz Owais
#AllamaHafizOwais #QariNomanNaeemi #DarseQuran
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
To watch all the episodes of Dars e Quran ➡️https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XicHmWttOceS6grEiS0XALjI
Tilawat (Recitation): Qari Noman Naeemi
Tafseer (Details): Allama Hafiz Owais
#AllamaHafizOwais #QariNomanNaeemi #DarseQuran
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00ذلك الكتاب لا ريب فيه هدى للمتقين
00:15أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
00:22بسم الله الرحمن الرحيم
00:37إِنَّمَّ اللَّهَ اصطَفَ آدَمَا وَنُوحَا
01:01وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ
01:31ذُلِّيَّةَ مِنْ بَعْضُ هَا مِنْ بَعْضَ
01:46وَآلَّهُ سَمِيرٌ عَلِيمٌ
02:01إِنَّمَّ اللَّهَ اصطَفَ آدَمَا وَنُوحَا
02:20وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ
02:35وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
02:50وَآلَهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
03:05وَآلَهُ سَمِيرٌ عَلَهُ سَمِيرٌ عَلَيْا
03:12وَآلَهُ سَمِيرٌ عَلَةَ مَنْ لَهُوا
03:20Surah Al-Fatiha.
03:50Surah Al-Fatiha.
04:20Surah Al-Fatiha.
04:50Surah Al-Fatiha.
04:52Surah Al-Fatiha.
04:54Surah Al-Fatiha.
04:56Surah Al-Fatiha.
04:58Surah Al-Fatiha.
05:00Surah Al-Fatiha.
05:02Surah Al-Fatiha.
05:04Surah Al-Fatiha.
05:06Surah Al-Fatiha.
05:08Surah Al-Fatiha.
05:10Surah Al-Fatiha.
05:12Surah Al-Fatiha.
05:14Surah Al-Fatiha.
05:16Surah Al-Fatiha.
05:18Surah Al-Fatiha.
05:20Surah Al-Fatiha.
05:22Surah Al-Fatiha.
05:24Surah Al-Fatiha.
05:26Surah Al-Fatiha.
05:28Who are those who read Koran Kariyam
05:30Those who can't use them
05:31They can't use them
05:32They can't have a philosophy
05:33They can't just
05:34How to use them
05:35These are
05:35A good enough
05:36There is a lot of
05:37Through God of Ayers
05:38Of the 30
05:39Now you can understand
05:41That's 33
05:42That's 33
05:43That is part of a
05:44Part of the
05:45That is the actual
05:46The important thing
05:48That was the
05:50The fact of
05:51Isis
05:51Insium
05:52That's where
05:53We can't
05:54This way
05:55As a
05:56Deen
05:56What
05:56It is
05:57نشانہ بنایا شرک
05:59کا نشانہ بنایا گمراہیوں
06:01کا نشانہ بنایا اور
06:03کس طریقے سے وہ غلط نظریات
06:05رکھ کے ایک نبی علیہ السلام
06:07کے بارے میں
06:08اپنے دین اپنے کتاب کو
06:11تباہ برباد کر رہے تھے
06:12یہ مضمون ان آیات میں
06:15اب آگے بیان کیا جائے گا
06:16اور آیات 33 سے
06:19جو ہے وہ اس کا آغاز ہو گیا
06:21اچھا جب
06:23اس مضمون کا آغاز
06:25ہوا ہے تو اس کو بھی اللہ پاک نے
06:26دو آیتوں کی تمہید کے ساتھ
06:29ہی شروع کیا فرمایا کہ
06:30ان اللہ استفا آدم بے شک
06:33اللہ نے چن لیا ہے آدم
06:35کو و نوحا اور نوح
06:37کو و آلہ ابراہیم
06:39اور آلہ ابراہیم کو و آلہ عمران
06:41اور آلہ عمران کو علی العالمین
06:43سارے جہانوں پر
06:45یہ انبیاء کرام کی
06:47جو نسل ہے نسل مبارک ہے
06:49انبیاء کرام کے جو نام ہیں
06:51ان کی زوات ہیں
06:52ان کے بارے میں اللہ پاک نے ذکر کیا
06:55کہ اللہ پاک نے ان کو چن لیا ہے
06:57اللہ پاک نے ان کو منتخب کر لیا
06:59اس سے ایک بات تو یہ سمجھ میں آئی
07:01کہ نبی وہ ہوتا ہے
07:03جو چنا ہوا ہوتا ہے
07:05اب اپنے آپ کو کوئی چن نہیں سکتا
07:08کہ میں آج بن گیا ہوں
07:10اور فلانا آج بن گیا ہے
07:11یہ چناؤ رب کی طرف سے ہوتا ہے
07:13ان اللہ استفا
07:15وہ چنتا ہے
07:17نبوت کے لیے جس کو چاہتا ہے
07:19منتخب فرماتا ہے
07:21تو نبوت کوئی جو ہے وہ اختیاری چیز نہیں ہے
07:24یہ وحبی چیز ہے
07:26اللہ کی طرف سے
07:27عطا ہوتی ہے
07:28جن ہستیوں کا نام اللہ پاک نے لیا
07:31اس میں حضرت آدم ہیں
07:33حضرت نو ہیں
07:34اور آلِ ابراہیم
07:36اور آلِ عمران ہیں
07:37ان کا نام لے لینے سے
07:40ساری نبوت کے سلسلے کا تقریباً ذکر آ جاتا ہے
07:45یہ ایک جامع تذکرہ ہے
07:47حضرت آدم سے لے کے
07:49حضور علیہ السلام تک
07:50اس انداز میں اللہ پاک نے
07:52سارے ہی نبوت کے سلسلے کو
07:54ذکر فرما دیا ہے
07:56حضرت آدم ہیں
07:57پھر اس کے بعد حضرت نوح تشریف لائے ہیں
08:00حضرت نوح کے بعد
08:02جو ابراہیم ہیں
08:03وہ ابراہیم حضرت نوح کی اولاد سے ہیں
08:07اچھا آلِ ابراہیم کہہ کے
08:09اللہ پاک نے
08:10حضرت اسحاق کا ذکر بھی کر دیا
08:13پھر آگے حضرت اسحاق سے
08:15حضرت عیسیٰ تک جتنے نبی آئے ہیں
08:19وہ سب آلِ ابراہیم میں
08:20اور آلِ اسحاق میں داخل ہو جاتے ہیں
08:23اور پھر آلِ ابراہیم میں
08:26حضرت اسماعیل بھی ہیں
08:27تو حضرت اسماعیل سے لے کے
08:30حضور علیہ السلام تک
08:31کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
08:33بنو اسماعیل سے ہیں
08:34اس کا تذکرہ بھی اس میں آ جاتا ہے
08:37تو یہ سارے جو الفاظ ہیں
08:39اس میں ساری نبوت کا
08:40جو تذکرہ ہے
08:42سلسلے کا وہ آ جاتا ہے
08:43اور پھر آلِ عمران
08:45آلِ عمران اس صورت کا بھی نام ہے
08:47اور یہاں اس آیت 33 میں بھی
08:50اس کا ذکر آ گیا
08:51عمران نام کے دو معروف لوگ ہیں
08:55شخصیات ہیں تاریخ میں
08:57ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے
09:01جو والد ہے نا
09:02ان کا نام بھی عمران ہے
09:04اور دوسرے حضرت مریم کے جو والد ہیں
09:08وہ عمران ہیں
09:09عمران بن ماسان
09:11یہ آپ سمجھ لیں
09:12کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے
09:14نانا ہے
09:14اور جو آگے ان کی ضروریت ہے
09:19یعنی ان کی بیٹی مریم
09:21پھر مریم کے بیٹے عیسیٰ
09:24یہ سب ان کی آل ہیں
09:25تو آلِ عمران کا بھی
09:27اللہ پاک نے ذکر فرما دیا
09:29تو یہ ایک جامع تذکرہ ہے
09:30اور یہ ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے
09:33تمہید سے
09:34اللہ پاک یہ بتانا چاہتا ہے
09:36کہ جس عیسیٰ کو
09:38یا ان کی والدہ کو
09:40تم نے خدا بنایا ہے
09:42وہ تو مبارک نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں
09:45ان کے ہاں نسل ہوتی ہے
09:48پیدائش ہوتی ہے
09:49سلسلہ نسب آگے بڑھتا ہے
09:51وہ پیدا ہوتے ہیں
09:52پھر دنیا سے جاتے ہیں
09:54پھر آگے ان کی اولاد آتی ہے
09:56وہ دنیا سے گئی
09:57پھر ان کی اولاد آئی
09:58پھر وہ دنیا سے گئی
10:00یہ پیدا ہو کر
10:01انتقال کر جانے والے
10:03نسب اور خاندان بنانے والے
10:05آل بنانے والے
10:06خدا کان سے ہو گئے
10:08یہ اصل مقصد ہے
10:11اس آیت سے یہ بتانے کا
10:13کہ انہیں اللہ نے عزت دی ہے
10:15یہ جو اہل عمران کا
10:17اس کا مطلب یہ ہوا
10:18کہ نبی ہیں
10:19وہ بھی فضیلت والا ہے
10:21نبی کی اولاد بھی فضیلت والی ہیں
10:23لیکن اس فضیلت کا یہ مطلب
10:26کہاں سے ہو گیا
10:26کہ وہ خدا بن گئے
10:28یہ بات صحیح نہیں
10:29تو اس لئے اللہ پاک نے
10:31تمہید میں ہی
10:32اس بات کو ذکر فرما دیا
10:34کہ یہ آل والے تھے
10:36یہ اولاد والے تھے
10:37ان کا خدای سے کوئی تعلق نہیں ہے
10:40اس لئے اگلی آیت میں فرمایا
10:42کہ ذریعتم بادوہا ممباد
10:44یہ ذریعت تھے
10:45باز باز کی
10:47یہ باز باز کے بیٹے تھے
10:50حضرت اسحاق ابراہیم کے بیٹے ہیں
10:52حضرت اسماعیل
10:53جو ہے وہ ابراہیم کے بیٹے ہیں
10:56پھر سارے نبی اسحاق کے بیٹے ہیں
10:59حضور علیہ السلام
11:00جو ہیں وہ بیٹے ہیں
11:02حضرت اسماعیل کے امران
11:04جو ہے ان کی بیٹی آگے
11:06مریم ہیں
11:07اور مریم کے بیٹے آگے
11:09جو ہے وہ
11:10عیسیٰ ہیں
11:10ذریعتم بادوہا ممباد
11:12یہ آپس میں ایک دوسرے کی
11:14اولادیں ہیں
11:15یہ آپس میں ایک دوسرے کے
11:17بیٹے بیٹیاں ہیں
11:18تو اس میں خدای کا
11:20کوئی تعلق نہیں بنتا
11:21واللہ سمیع نالیم
11:22اور اللہ سننے والا ہے
11:24اور جاننے والا ہے
11:25پھر آیت نمبر
11:2735 میں فرمایا
11:28اس واقعے کو شروع کیا
11:29حضرت مریم کا جو ذکر ہے
11:32وہ یہاں سے شروع ہو رہا ہے
11:34اس قالت امراءت و امران
11:36جب کہا
11:37امران کی بیوی نے
11:39ربی اے میرے رب
11:41انی نظرت لکا ما فی بطنی
11:44جو میرے پیٹ میں ہے
11:45میں نے اس کی نظر مانی
11:47تیرے لیے
11:48اب یہ حضرت امران جو ہیں
11:51ان کی بیوی تھی
11:53حضرت حنہ
11:54یہ بھی ان کی عمر بھی زیادہ تھی
11:57ایک مرتبہ یہ ایک درخت کے نیچے بیٹھی ہوئی تھی
12:00تو دیکھا کہ
12:01چڑیا جو ہے وہ اپنے بچے کو دانہ کھلا رہی
12:05تو ان کے دل میں
12:06ایک بہت
12:07غوک اٹھی
12:08اور شوق پیدا ہوا
12:10کہ میرے ہاں بھی اولاد ہو
12:11ان کے ہاں اولاد نہیں تھی
12:12اور
12:13پھر ان کے ذہن میں یہ آیا
12:15کہ میری جو اولاد ہو
12:17وہ اس درجے کی ہو
12:19کہ میں اسے بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف کر دوں
12:22تو انہوں نے فوراں اللہ پاک سے یہ نظر مانگی
12:26کہ انی نظر تو لکا
12:28ما فی بطنی
12:30کہ میں جو ہے
12:31وہ نظر مانتی ہوں تیرے لیے
12:34ما فی بطنی جو میرے پیٹ میں ہے
12:36تو اس سے پتا چلا کہ
12:38نظر ماننا جو ہے
12:39وہ پچھلی شریعتوں کے اندر بھی جاری تھا
12:43ہماری شریعت میں بھی ہے
12:44کہ کسی کام کے بھی
12:46آپ پورا ہونے کے لیے
12:48اللہ سے ایک استعداء کر دیں
12:50ایک دعا کر دیں
12:51کہ یا اللہ میرا یہ کام ہو جائے
12:53اور اگر میرا یہ کام ہو جائے
12:55تو میں اپنی بندگی کا ایک تحفہ
12:57تیری بارگاہ میں یہ پیش کر دوں گا
12:59اس کو نظر کہتے ہیں
13:00اللہ کی بارگاہ میں
13:01اور یہ نظر جو ہے
13:03جب کام پورا ہو جائے
13:05تو پھر آپ نے جو چیز اس پر مانی ہوتی ہے
13:08اس کو اس راہ میں دینا ضروری قرار پاتا ہے
13:11واجب قرار پاتا ہے
13:13کسی بھی عبادت کی آپ نظر مان سکتے ہیں
13:16اور یہی کوشش کرنی چاہیے
13:17کہ جس چیز کی نظر مان رہے ہوں
13:19وہ عبادت ہو
13:20عبادت مقصودہ ہو
13:22جیسے کوئی صدقہ خیرات کرنا ہے
13:24یا نماز پڑھنی ہے
13:26یا روزہ رکھنا ہے
13:27اللہ کی بارگاہ میں
13:28کوئی اور دینی کام ہے
13:30اس کی جو ہے وہ نظر مانی جا سکتی ہے
13:33تو انہوں نے بھی
13:34اللہ کی بارگاہ میں یہ نظر مانی
13:36کہ جو میرے پیٹ میں ہے
13:37وہ میں نے تیرے لیے
13:39تیرے گھر کے لیے وقس کر دیا
13:41محررن
13:42وہ بالکل آزاد ہوگا
13:45ایک ہی ہوتا ہے کہ گھر میں کوئی بیٹا پیدا ہو
13:48تو اس کو جو ہے نا
13:50وہ آپ ایک وقت آنے کے بعد
13:52کام پہ لگاتے ہیں
13:53اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں
13:55وہ اس کی کمائی ہوتی ہے
13:57اس سے گھر چلتا ہے
13:58تو وہ کہنے لگی
13:59کہ میں جس کی نظر مان رہی ہوں
14:03محررن
14:03وہ محرر ہوگا
14:05وہ بالکل آزاد ہوگا
14:07اس کا ایک ہی زندگی میں مقصد ہوگا
14:09کہ وہ بیت المقدس کے لیے
14:11وقف ہو جائے
14:13اور یہ اس دور میں طریقہ تھا
14:16کہ بیت المقدس کے لیے
14:17جو ہے وہ لوگ وقف ہو جائے کرتے تھے
14:19اور پھر اسی کی جو خدمت ہے
14:22وہ ہمیشہ ان کی زندگی کا مقصد ہوتا تھا
14:25اور وہیں پر رہ کر وہ جو ہے
14:27بیت المقدس کی خدمت کیا کرتے تھے
14:29یہ ایک بڑا عہدہ تھا
14:31یہ ایک بڑا عزت افضا کام تھا
14:34اور بڑا عونریبل کام تھا
14:37کہ جو اللہ پاک نے
14:38جو ہے وہ اس دور میں لوگوں کو عطا کیا تھا
14:41تو اس کے لیے لوگ خواہش رکھتے تھے
14:43کوشش کیا کرتے تھے
14:45تو انہوں نے بھی وہ نظر مانے
14:46تو دعا کی فتقبل منی
14:48یا اللہ اس کو میری طرف سے قبول فرما لے
14:50انکا انت السمیع العلیم
14:52بے شک تو سننے والا ہے
14:55بے شک تو جاننے والا ہے
14:57تو اب یہ حضرت عمران کی جو اہلیہ ہے
15:01ان کی نظر کو
15:02اللہ پاک نے جو ہے وہ یہاں پر
15:04بیان فرما دیا ہے
15:05کہ کس طریقے سے جو ہے
15:07وہ میں اپنی اس دعا کی قبولیت کی جواب میں
15:10اس کو اللہ پاک کے لیے جو ہے
15:12وہ وقف کر دوں گی
15:14تو ان تین آیات کے اندر
15:16اللہ پاک نے نبوت کے سلسلے کا بھی ذکر کر دیا
15:20ان کی اولادوں کا بھی ذکر کر دیا
15:22اور پھر یہاں پر حضرت مریم کے خاندان کا بھی
15:26جو ہے وہ ایک تعارف آ گیا ہے
15:28یہاں پر یہ بھی اس زمن میں عرض کر دوں
15:31کہ جو حضرت حنہ ہیں
15:35جن کا جو ہے وہ ابھی ذکر ہوا
15:37یہ عمران کی بیوی تھی
15:39ان کی ایک اور بہن بھی تھی
15:41جن کا نام تھا عشاء
15:42اور یہ عشاء جو تھی
15:46یہ اہلیہ تھی حضرت زکریہ علیہ السلام
15:49تو آپ یہ سمجھ لیں
15:52کہ عمران اور حضرت زکریہ علیہ السلام
15:55یہ آپس میں ہم ذلف تھے
15:57اور جو ان کی بیوی ہیں
16:01ان کا نام حنہ تھا
16:02اور حنہ کی بہن کا نام جو تھا وہ عشاء تھا
16:06جو عشاء تھی
16:07یعنی حضرت زکریہ کی جو اہلیہ تھی
16:10ان کے ہاں پھر آگے حضرت یحیہ پیدا ہوئی
16:13اور ان کے ہاں جو ہے
16:16وہ حضرت حنہ کے ہاں جو ہے
16:19وہ حضرت بیوی مریم پیدا ہوئی
16:21تو حضرت بیوی مریم کے والد ہوئے
16:24حضرت عمران
16:25اور حضرت بیوی مریم کے جو خالو ہوئے
16:29وہ ہوئے حضرت زکریہ علیہ السلام
16:32اور بیت المقدس میں
16:35اس وقت جو حضرت زکریہ علیہ السلام تھے
16:39وہ اس جو ہے وہ
16:41اہدے پر فائز تھے
16:43جس کو کہا جاتا تھا
16:44کاہنِ آزم
16:45یعنی بیت المقدس کے خدام میں
16:48جو سب سے بڑا اہدہ تھا
16:50اور سب سے بڑا مرتبہ تھا
16:52وہ حضرت زکریہ علیہ السلام کے پاس شامل تھا
16:56تو آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ خاندانی طور پر
16:59یہ ایک نیک فیملی تھی
17:01یہ بڑے صاف ستھرے لوگ تھے
17:03یہ بڑے پاکیزہ لوگ تھے
17:06یہ اللہ پاک کی طرف سے چنے ہوئے لوگ تھے
17:08ان کا دیہان
17:09ان کی توجہ جو ہے نا وہ سب کی سب
17:12اللہ کے گھر کی طرف
17:14اس کے مابت کی طرف
17:15عبادتگاہ کی طرف ہوتی تھی
17:17ان کے دل اس کی طرف کھنچتے تھے
17:19اس لیے جو ہے یہ حضرت حنہ نے
17:21عمران کی بیوی نے یہ نظر مانگی
17:23اور یہ دعا مانگی
17:25اللہ کی بارگاہ میں
17:26اور اس دعا کا نتیجہ کیا نکلا
17:28ایک وقفے کا وقت ہے
17:29وقفے کی طرف ہم بڑھتے ہیں
17:32وقفے سے واپس آ کر
17:33اگلی آیات کی طرف ہم توجہ کریں گے
17:35آپ ہمارے ساتھ رہیں
17:37اعوہ باللہ من الشیخان الرحیم
17:44بسم اللہ الرحمن الرحیم
17:59فلما وضعتها
18:09قال
18:12I saw the Lord, if I put it in my heart
18:30Surah Al-Fatihah
19:00Surah Al-Fatihah
19:30Surah Al-Fatihah
20:00Surah Al-Fatihah
20:30Surah Al-Fatihah
21:00Surah Al-Fatihah
21:02Surah Al-Fatihah
21:04Surah Al-Fatihah
21:06Surah Al-Fatihah
21:12Surah Al-Fatihah
21:14Surah Al-Fatihah
21:16Surah Al-Fatihah
21:18Surah Al-Fatihah
21:20Surah Al-Fatihah
21:22Surah Al-Fatihah
21:24Surah Al-Fatihah
21:26Surah Al-Fatihah
21:28Surah Al-Fatihah
21:30Surah Al-Fatihah
21:32Surah Al-Fatihah
21:34Surah Al-Fatihah
21:36Surah Al-Fatihah
21:38Surah Al-Fatihah
21:40Surah Al-Fatihah
21:42Surah Al-Fatihah
21:44Surah Al-Fatihah
21:46I'm not going to be able to do this.
22:16بیت المقدس کے لئے وقف کر دوں گی
22:18ظاہر ہے کہ یہ دعا کرتے ہوئے
22:21یہ نظر مانتے ہوئے
22:22ان کے ذہن کے ہر ہر گوشے میں
22:24یہ بات موجود تھی کہ بیٹا پیدا ہوگا
22:28تو وہی وقف ہوگا
22:29کیونکہ بیٹا ہی وقف ہوتا تھا
22:31بیٹی وقف نہیں ہوتی تھی
22:32لڑکیاں اس حرم میں داخل نہیں ہوتی تھی
22:35اس مقصد کے لئے
22:36ظاہر ہے کہ ان کے ساتھ معاملات ہوتے ہیں
22:39چیزیں ہوتی ہیں
22:40اور ان کو رکاوٹ سمجھا جاتا تھا
22:42ہر وقت بیت المقدس میں حرم میں رہنے کے لئے
22:45تو ان کے ذہن میں یہ تھا
22:46کہ میرے ہاں پھر بیٹا پیدا ہوگا
22:48اگر قبول ہو گئی بات
22:49تو بیٹا ہونے کے بعد
22:51جو ہے میں اس کو مابت کے لئے وقف کر دوں گی
22:53اب جو ہے وہ معاملہ
22:55اس کے الٹ ہوا
22:56جو آیت نمبر 36 میں
22:59اللہ پاک نے بیان فرمایا
23:00فَلَمَّا وَدَعَتْهَا
23:03اور جب انہوں نے
23:05اسے جنا
23:06ان کے ہاں اولاد پیدا ہوئی
23:09قَالَتْ تو وہ کہنے لگی ربی
23:12اِنِّ وَدَعَتْهَا
23:13اُنسَا
23:14میں نے تو لڑکی جن دی
23:16میرے ہاں تو لڑکی کی پیدائش ہو گئی
23:20یہ ایک دکھ بھری آواز تھی
23:22یہ ایک حسرت بھری آواز تھی
23:25اور یہ حسرت
23:27یہ دکھ
23:27یہ درد
23:28اس وجہ سے نہیں تھا
23:29اللہ آیازو باللہ کے بیٹی پیدا ہو گئی
23:32یہ دکھ اس وجہ سے تھا
23:33کہ وہ ایک نظر مان چکی تھی
23:35اور اس نظر کے لئے بیٹا ہی اہل تھا
23:38بیٹا ہی پورا اترتا تھا
23:39اس میعار پر
23:41تو بیٹی اپنی جگہ پیاری ہے
23:43مگر ان کی وہ
23:44جو ایک دل کی تمنہ تھی
23:46بیت المقدس کے ساتھ جو لگاؤ تھا
23:49وہ پورا نہیں ہو پا
23:50تو اس لئے انہوں نے
23:52بڑی حسرت کے ساتھ یہ بات کہی
23:53کہ اِنِّ وَدَعَتْهَا
23:55اُنسَا
23:55میں نے تو بیٹی جن دی ہے
23:57اچھا ان کا جو
24:00سلسلہ ایک کلام ہے
24:02حضرت بیبی مریم کا وہ جاری ہے
24:04لیکن یہی پر
24:05اللہ پاک نے جو اگلا جملہ ہے
24:07وہ اپنا ارشاد فرمایا ہے
24:09بات حضرت مریم کی چل رہی ہے
24:11مگر وہ جو ٹکڑا ہے
24:12بیچ میں ایک
24:13وہ اللہ کی طرف سے
24:14اس کا جواب آگئے
24:15جب انہوں نے کہا
24:17کہ اِنِّ وَدَعَتْهَا
24:18اُنسَا
24:19کہ میں نے بیٹی جن دی ہے
24:20وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَدَعَتْ
24:23اللہ نے درمیان میں فرمایا
24:25کہ اللہ خوب جاننے والا ہے
24:28کہ تم نے کیا جنہ ہے
24:29اللہ کو پتا ہے
24:31بیٹی جنی ہے
24:33اور اللہ یہ بھی جانتا ہے
24:35کہ کس شان کی جنی ہے
24:36کس مقام کی بیٹی
24:39آپ کے ہاں پیدا ہوئی ہے
24:40اللہ یہ بات جانتا ہے
24:42یہ درمیان میں ایک ٹکڑا
24:43ایک جملہ جملہ
24:44محترزہ اسے کہا جاتا ہے
24:46کسی کے سلسلے کلام میں
24:48ایک جملہ کسی اور کا ایڈ ہو
24:50تو بات حضرت بی بی مریم کی چل رہی تھی
24:52اور درمیان میں یہ جملہ آگیا
24:54فرمایا کہ
24:55واللہ اعلم بما وضعت
24:57اور اللہ ہی خوب جاننے والا ہے
24:59کہ انہوں نے
25:00کیا جنہ ہے
25:02کس بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے
25:05جو اپنے زمانے کے تمام مردوں پہ بھی
25:08فضیلت رکھتی ہے
25:09تو
25:11واللہ اعلم بما وضعت
25:13تو
25:14اپنے زمانے کے تمام مردوں سے مرادی ہے
25:17کہ جو غیر نبی ہیں
25:18یعنی
25:18ان پر بھی جو ہے
25:19واللہ پاک نے ان کو فضیلت اتا فرمائی
25:22پھر فرمایا کہ
25:24حضرت بی بی مریم کا جو کلام ہے
25:26سلسلہ وہ جاری ہو گیا
25:27فرمایا
25:27وہ کہنے لگیں
25:30کہ میں نے بیٹی کو جن دیا ہے
25:32اور بیٹا
25:34جو ہے
25:35اور بیٹی کی طرح نہیں ہو سکتا
25:38ظاہر ہے کہ
25:38اس میں جو معاملہ ہے
25:40کہ جو میں نے وقف کرنا ہے
25:42جو میں نے بات کہنی ہے
25:43تو اس میں تو ظاہر ہے
25:45کہ وہ بیٹا ہی کام آئے گا
25:47اور بیٹے کی طرح تو بیٹی نہیں ہو سکتی
25:49بیٹے کا الگ مقام ہے
25:51وہ اس کام کے لئے ہو سکتا ہے
25:53تو
25:55وَإِنِّي سَمَّئِتُهَا مَرْيَمْ
25:57اور میں نے اس کا نام رکھ دیا ہے
25:58مریم
25:59پیدا ہوتے ہی
26:02انہوں نے بیٹی کا نام رکھ دیا
26:03تو یہ جو بعض جگہ پہ مشہور ہے
26:06کہ نام ساتھویں دن ہی رکھا جائے گا
26:09یہ درست نہیں
26:10ساتھویں دن تک رکھ لینا چاہیے
26:13سات دنوں میں
26:14لیکن جیسے ہی پیدا ہوا کوئی
26:17اور اس کا نام رکھ دیا گیا
26:18تو یہ قرآن کے مطابق ہے
26:20وَإِنِّي سَمَّئِتُهَا مَرْيَمْ
26:24حضور علیہ السلام کے ہاں جب
26:26بچے کی پیدائش ہوئی
26:28تو آپ نے فرمایا کہ
26:29میرے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے
26:33آج رات
26:34اور میں اس کا نام اپنے
26:37جدہ امجد کے نام پہ رکھتا ہوں
26:39ابراہیم
26:40تو ابراہیم کا نام بھی حضور علیہ السلام
26:42نے اسی دن رکھا تھا
26:44رات پیدائش ہوئی ہے جیسے
26:45اگلے دن انہوں نے کہا
26:46کہ میں اپنے بیٹے کا نام
26:48اپنے جدہ امجد کے نام پہ رکھتا ہوں
26:50تو اس لئے فرمایا کہ
26:52یہاں پہ انہوں نے کہا
26:54کہ میں نے جو ہے نا
26:55ان کا نام رکھ دیا ہے
26:56وَإِنِّي سَمَّئِتُهَا مَرْيَمْ
26:58مریم ان کا میں نے نام رکھ دیا
26:59وَإِنِّي أُعِيزُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
27:05وَإِنِّي أُعِيزُهَا
27:06اور میں اسے
27:07پناہ میں دیتی ہوں
27:09بِكَ تَيْرِيَّتَهَا
27:12اور اس کی ذریت کو
27:14شیطان مردود سے
27:16شیطان مردود سے
27:17میری بیٹی پناہ میں رہے
27:19اور پناہ تیری ہو
27:20اور میری بیٹی کی جو
27:23اولاد ہے
27:24وہ بھی تیری پناہ میں رہے
27:26شیطان مردود سے
27:27یہاں یہ بڑی ایک لطیف بات ہے
27:31اس میں ایک اشارہ تو یہ ہے
27:33کہ
27:35جس کو تم نے خدا بنایا
27:37یا جس کو تم نے خدا کی ماں کہا
27:41ان کی والدہ
27:44ان کو اصل خدا کی پناہ میں دی رہی ہے
27:48وہ خدا کی پناہ میں ہیں
27:52خدا کی پناہ کے بغیر
27:56ان کا گزارہ نہیں ہے
27:57وہ بندے ہیں
27:59ان کو بھی پناہ چاہیے
28:01ان کو بھی سہارہ چاہیے
28:04اور وہ سہارہ کس کا ہے
28:05رب العالمین کا
28:06یہ ایک لطیف اشارہ ہے
28:08کہ پچھلے جو احوال ہیں
28:12قرآن کریم میں
28:13اللہ پاک نے ان کو کھول کر
28:14اس وقت کے عیسائیوں کے سامنے
28:17رکھ دیا
28:17کہ تم جو یہ عقیدہ لے کر آ رہے ہو
28:20آؤ میں تمہیں تمہاری تاریخ سے بتاتا ہوں
28:23اللہ پاک ان کو یہ ان کی تاریخ سے بتا رہا ہے
28:28کہ بی بی مریم کی والدہ نے کیا کہا تھا
28:31جب بی بی مریم پیدا ہوئی تھی
28:32ان کی والدہ نے کہا تھا
28:34میں اس بچی کو اللہ کی پناہ میں دیتی
28:36بچی خدا نہیں تھی
28:39بچی کا بیٹا آگے خدا نہیں تھا
28:42بچی اور ان کی اولاد
28:44ان کی ضروریت
28:45وہ خدا کی پناہ میں تھی
28:47تو تم بھی خدا کی پناہ میں آؤ
28:50جس پناہ میں عیسیٰ نے سہارہ لیا
28:52اس پناہ میں آؤ
28:54جس میں مریم نے سہارہ لیا
28:55اور یہ غلط نظریات اپنے چھوڑ دو
28:58تو یہ بڑی خوبصورت آیت ہے جو نتیجے کے طور پر ہوئی
29:01کہ انہوں نے ایک نظر مانی تھی بیٹے کی
29:04اور آگے جو ہے نا وہ پیدائش جو ہوئی ہے وہ بیٹی کی ہو گئی
29:10اور اس بیٹی کی پیدائش کو جو ہے وہ انہوں نے ایک آر سمجھا
29:15یعنی بیٹی کی پیدائش کو نہیں بلکہ اس طور پر
29:18کہ اب جو ہے یہ بیٹی بیت المقدس کے لیے وقف نہیں ہوگی
29:22اس چیز کو انہوں نے اپنے لیے جو ہے نا وہ اچھا نہیں جانا
29:25تو اللہ پاک نے کہا کہ اللہ جانتا ہے کہ تم نے کیا جانا ہے
29:28اچھا اس میں ایک اور لطیف اشارہ بھی میں آپ کے سامنے ارز کروں
29:32دیکھیں یہ جو ان آیات کے اندر واقعات آ رہے ہیں
29:36ان میں تین واقعات ایسے ہیں جو بلکل تاریخ میں چونکا دینے والے
29:44یعنی روٹین سے ہٹ کر ہیں
29:46ایک کام ہو جاتا ہے نا روٹین سے ہٹ کے
29:49تو وہ تین واقعات اللہ پاک نے یہاں پہ بیان فرمائے
29:52ٹھیک ہے نا ایک تو ہم نے یہ پڑھا
29:55کہ حضرت مریم کی والدہ ہنہ جو ہیں
29:58وہ یہ سمجھ رہی تھی کہ بیٹا پیدا ہوگا
30:02اور پیدا کون ہوا بیٹی
30:04ایک بلکل ہٹ کے ایک چیز ہوں گے
30:08ایک دوسرا جو ہے وہ بغیر والد کے جو ہے
30:13وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئی
30:15ایسا ہوتا تو نہیں ہے
30:17لیکن ہوا ہے اس کو ماننا پڑے گا
30:20اور تیسرا جو ہے حضرت زکریہ کے ہاں
30:24بڑھاپے میں اولاد ہو گئی
30:26آگے اس کا ذکر آنے والا
30:27تو اس میں جب بیوی بانج ہو
30:31اور انسان بوڑا ہو
30:33تو پھر اے اولاد کا تو کوئی چانس نہیں رہتا
30:36لیکن ہو گئی
30:37تو اللہ پاک یہودیوں کو یہ بتانا چاہتا ہے
30:41جو دور رسالت میں حضور سے یہ کہہ رہے تھے
30:45کہ نبی تو بنو اسماعیل میں پیدا نہیں ہو سکتا
30:50بنو اسحاق میں پیدا ہوگا
30:54اللہ نے کہا
30:55تاریخ میں تین چیزیں ایسی ہوئی ہیں
30:58کہ جس کو تم نے مانا بھی ہے
31:01تمہارے حقیقی علماء نے مانا بھی ہے
31:04کہ وہ یک دم ماحول سے ہٹ کے ہو گئی تھی
31:08یہ تو تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے
31:10جب وہ ماحول سے ہٹ کے واقعات تم نے قبول کر لیے تھے
31:15تو یہ بھی قبول کر لو
31:17کہ پچھلے سارے نبی بنو اسحاق میں آئے ہیں
31:21اب ذرا ہٹ کے وہ نبوت بنو اسماعیل میں آگئے
31:25تو یہ ایک بڑا خوبصورت اشارہ بھی
31:29ان واقعات کے تحت جو ہے
31:31وہ ہم نے اس کو جو ذکر کیا
31:35تو ہم یہ سمجھ سکتے ہیں
31:37کہ اللہ پاک نے کس وضاحت کے ساتھ جو ہے
31:40وہ اس چیز کو بیان فرمایا ہے
31:42اور حضرت بی بی مریم کی اس میں جو ہے نا
31:46وہ فضیلت بھی آگئی
31:48اور ان کی جو ہے وہ
31:50ان کے خاندان کی فضیلت بھی آگئی
31:53ان ساری فضیلتوں کے باوجود جو ہے
31:56وہ یہ حقیقت سمجھ میں آگئی
31:59کہ وہ ایک پروسس سے پیدا ہوئیں
32:02اور آگے جو ہے وہ حضرت عیسی علیہ السلام
32:05ایک پروسس سے پیدا ہوئے
32:07یہ سارے لوگ ایک اللہ کی طرف سے
32:10ایک طریقہ کار کے مطابق
32:12اور ایک عطا کے مطابق
32:15ایک چناؤ کے مطابق
32:16یہ لوگ دنیا میں آئے ہیں
32:18انہوں نے دنیا کو نہیں بنایا ہے
32:20یا یہ خدا نہیں ہے
32:21یا یہ خدا کے شریک نہیں ہے
32:24بلکہ اللہ پاک کی طرف سے یہ چنے ہوئے تھے
32:27تو یہ آیات 36 تک جو ہے
32:29وہ ہم پہنچ چکے ہیں
32:30اور یہ سلسلہ کلام آگے جاری رہے گا
32:33سلسلہ گفتگو ان واقعات کی جاری رہے گی
32:37اگلے پروگرام تک آپ نے انتظار کرنا ہے
32:39آج کے پروگرام کا جو وقت ہے
32:42وہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے
32:43تو نیکس انشاءاللہ آئیں گے
32:45تو اس سے اگلی آیات میں ذکر کریں گے
32:47تفصیل سے
32:48کہ آگے یہ واقعات کس طرف
32:50نتیجہ خیز ہوئے
32:51اللہ پاک سے دعا ہے
32:53کہ وہ ہمیں
32:54اپنے عقائد کی سلامتی عطا فرمائے
32:56اور وہ عقائد جو قرآن میں ہیں
32:59آسمان سے اتری ہوئی کتابوں میں ہیں
33:01اللہ پاک ہمیں وہ اختیار کرنے کی
33:03توفیق عطا فرمائے
33:05اپنا خیال رکھئے گا
33:06اللہ حافظ و ناصر
33:08ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِي غُدَرْ لِلْمُتَّقِينَ
Comments