Skip to playerSkip to main content
Roshni Sab Kay Liye

Watch All The Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xic1NLGY05O7GY70CDrW_HCC

Topic: Tafakkur o Tadabbur

Host: Raees Ahmed

Guest: Mufti Khurram Iqbal Rehmani, Dr. Muhammad Ahmed Qadri

#RoshniSabKayLiye #islamicinformation #ARYQtv

A Live Program Carrying the Tag Line of Ary Qtv as Its Title and Covering a Vast Range of Topics Related to Islam with Support of Quran and Sunnah, The Core Purpose of Program Is to Gather Our Mainstream and Renowned Ulemas, Mufties and Scholars Under One Title, On One Time Slot, Making It Simple and Convenient for Our Viewers to Get Interacted with Ary Qtv Through This Platform.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00Allah subhanahu wa ta'ala
00:30وَمَوْلَانَا مُحَمَّدِ عَلَىٰ آلِ سَيِّدْنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدِ مُبَارِكُ وَسَلِّمْ
00:35ناظرین مہدرم السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکات میں ہوں
00:38آپ کا میزبان محمد رئیس سے ہم ادر پیش کیا جا رہا ہے
00:40پروگرام روشنی سب کے لیے
00:42اور یہ روشنی سب کے لیے جو ہے یہ واقعیتاً سب کے لیے ہے
00:45آگہی کی روشنی ہے
00:47ادراک کی روشنی ہے
00:48علم کی روشنی ہے
00:50اصلاح احوال کی روشنی ہے
00:52غور و فکر کی روشنی ہے
00:54تفکر و تدبر کی روشنی ہے
00:57اور کتنی ہی روشنیاں مل کر
00:59جو ہے یہ ایک جہان روشن کر رہی ہیں
01:02اور پوری دنیا میں رہنے والے
01:04آر وائی کیو ٹی وی دیکھنے والے ناظرین
01:05اس روشنی کے ساتھ منسلک ہیں
01:07اور اپنے گرد و پیش کو بھی اس سے روشن
01:10وہ محسوس کرتے ہیں
01:11ناظرین محترم آج جو موضوع ہے ہمارا
01:14بہت ہی اہم موضوع ہے
01:15تفکر و تدبر ہمارا موضوع ہے
01:17قرآن بار بار اس کے حوالے سے
01:19ہمیں بیدار کرتا ہے
01:21غور و فکر کرو غور و تدبر کرو
01:23اور تم غور کیوں نہیں کرتے
01:25اور قرآن پر غور کیوں نہیں کرتے
01:27کائنات پر غور کیوں نہیں کرتے
01:29بلکہ غور نہ کرنے والوں کی مضمت آئی ہے
01:32کہ کیوں نہیں کیا جاتا غور و فکر
01:34اور غور و تفکر کیوں نہیں کیا جاتا
01:37اس حوالے سے ہم یہ جاننا چاہیں گے آج
01:40کہ قرآن نے کیوں فوکس کیا
01:43اتنا غور و فکر کو
01:44کیا وجہ ہے اس کی
01:45اور کیا یہ ایک عمومی حکم ہے
01:48یا وہ خاص لوگ ہیں جو غور و فکر کریں گے
01:51اس کی شرائط کیا ہیں
01:53اور دیگر چیزیں
01:54کیا ہر شخص غور و فکر کرنے کا دعویٰ کر سکتا ہے
01:58اور عام طور پر ہم نے یہ دیکھا ہے
02:00کہ جب لوگ اپنی زندگیوں کی دیگر ذمہ داریوں سے
02:03فراغت حاصل کر لیتے ہیں
02:05تو کہتے ہیں جناب ہم قرآن کا ترجمہ کر رہے ہیں
02:07اب موقع ملائے اب وقت ملائے
02:10قرآن پر غور کر رہے ہیں
02:11اور اس کے تراجم کی طرف
02:13اور اس کی ہم تفاصیر کی جانب بڑھ رہے ہیں
02:16بہت اچھا عمل ہے
02:18تو اس پر بھی علماء حضرات رہنمائی فرمائیں گے
02:21سکولرز حضرات رہنمائی فرمائیں گے
02:23کہ آیا یہ کون لوگ ہیں
02:25جو غور و فکر کے اہل ہیں
02:26اس امت کے وہ لوگ
02:28تو انشاءاللہ اس پر بات کریں گے
02:29بہت اہم موضوع ہے
02:31اور ایک ایسا موضوع ہے
02:32کہ از خود اس پر ہمیں غور و فکر کرنا چاہیے
02:36کہ اس موضوع کو ہم نے کیوں کر
02:38بالا اطاق رکھتے ہوئے
02:39اپنی زندگی کو آگے بڑا رکھا ہے
02:41اس حوالے سے بات کرنے کے لئے موجود ہیں
02:43اللہ امہ مفتی خرم اقبال رحمانی صاحب
02:46امتاز و معروف عالم دین ہیں
02:47ہمارے اس پینل کا حصہ ہوا کرتے ہیں
02:49اس کے علاوہ بھی دیگر کئی پروگرامز کیا کرتے ہیں
02:52تشریف فرمائے
02:52اور میرے بائیں جانب اہد حاضر کی
02:58وہ بلند پایا شخصیت موجود ہے
03:00ماشاءاللہ
03:00جو صرف پاکستان میں نہیں
03:02پاکستان سے باہر بھی
03:03آپ کے جو تلامزہ ہے
03:05آپ کے متقدین
03:07اور آپ کے متوصلین
03:08آپ سے علم کی روشنی حاصل کرتے ہیں
03:11پاکستان میں بھی
03:12بڑے پیمانے پر
03:13ماشاءاللہ
03:13انسٹیٹویشنز میں
03:14آپ کے لیکچر ہوتے ہیں
03:16اور آپ کے خطابات
03:17سنے جاتے ہیں
03:18پسند کیے جاتے ہیں
03:19پاکستان سے باہر بھی
03:20بیرونی دنیا بھی ماشاءاللہ
03:22آپ کا ایک بہت بڑا حلقہ اثر ہے
03:24اور پاکستان میں بھی
03:26آپ کے ہم جیسے بہت سے
03:27تلامزہ موجود ہیں
03:29کہ جو خود اپنے اپنے شعبوں میں
03:30کام کر رہے ہیں
03:31پروفیسر ڈاکٹر محمد احمد قادری صاحب
03:33تشریف فرمائے
03:34سر السلام علیکم
03:35علیکم السلام
03:36ورحمت اللہ تعالی
03:37حیر مقدم سر آپ کا
03:38اچھا آغاز کرتے ہیں
03:39آپ لوگوں کی اجازت سے
03:40قرآن میں بار بار
03:41تفکر تدبر کا ذکر آیا ہے
03:43تو یہ فرمائے گا
03:45کہ قرآن فکری دعوت
03:47کو زیادہ فوکس کرتا ہوا
03:48نظر آتا ہے
03:49اس پر کچھ کلام فرمائے گا
03:50میں چاہتا ہوں
03:51اس پر کچھ کلام
03:51بسم اللہ الرحمن الرحیم
03:54وصلاة والسلام
03:54علا رسولہ الكریم
03:56اما بعد
03:56بلہ شبہ یہ قرآن مجید
03:58فرقان احمید کی خاصیت ہے
04:00بلکہ ابھی
04:00اسمجھے دین اسلام کی خاصیت ہے
04:02کہ وہ دیگر مذاہب کی طرح
04:04اپنے ماننے والے کی
04:05عقل کو بند نہیں کرنا چاہتا
04:07بلکہ وہ عقل کے
04:09اور سوچ کے
04:09ایسے ایسے زاوی
04:10اسے فراہم کرتا ہے
04:11کہ اس کی ارتقائی منزلتے ہوتی ہیں
04:13بلکت بلکت
04:14اسے دنیا کے بارے میں
04:15پتا چلتا ہے
04:16دنیا بنانے والے کے بارے میں
04:18پتا چلتا ہے
04:19اور دنیا کو کس طرح برتنا ہے
04:20کیا بات
04:21یہ ساری کے سارا جو ایکسپلور ہے
04:23علم کا جو سارا کا سارا
04:24ایڈوانسمنٹ ہے
04:25یہ قرآنِ مجد فرقانِ حمید کی
04:27مرہونِ منت ہی ہے
04:28اور اس کی بیچھے
04:29یہ تفکر اور تدبر شامل ہے
04:31یعنی اگر قرآنِ مجد
04:33فرقانِ حمید کی طرف
04:34ہم غور کریں
04:34تو قرآن صرف
04:36تلاوت کیلئے نہیں آیا
04:37بلکہ اللہ سبحانہ وتعالی نے
04:39بارہر اشارت فرمایا
04:40کہ اس کی تلاوت کے ساست
04:41کیا کرنا ہے
04:41غور بھی کرنا ہے
04:43فکر بھی کرنا ہے
04:44تدبر بھی کرنا ہے
04:45عموماً اگر ہم دیکھیں
04:46تو ویسے تو بہت سارے کلمات
04:48مگر چار کلمات
04:49جو ہے وہ خاص طور پر
04:49اس کی طرف
04:50رہنمائی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں
04:51جی فرمائی
04:51ایک تو بالخصوص
04:53یہی تفکر کا لفظ
04:54کہ کہیں تتفکرون
04:55کہیں یتفکرون آیا
04:56کہیں یتدبرون کا لفظ آیا
04:58کلمہ آیا
04:59کہیں یعلمون کا کلمہ آیا
05:01کہیں یعقلون اور تاقلون کا کلمہ آیا
05:03یہ مراتب ہیں بقائدہ
05:06یعنی یعلمون
05:07یہ جاننے کا مرتبہ ہے
05:08اس جاننے کے بعد
05:16ظاہر کو دیکھنے کے بعد
05:18باطنگ کی طرف
05:19جب رہنمائی ہوئی
05:19تو وہ تدبر ہونا شروع ہو گیا
05:21تو جب قرآن مجید فرقان حمید
05:23نے انسان کو یہ علم
05:24اطاف فرمایا ہے
05:25کہ تم صرف زمین پر
05:27رہنے اور بسنے کے لئے نہیں آئیں
05:29بلکہ ہم نے تمہارے لئے
05:30اس کو مسخر کر دیا ہے
05:31اب جس چیز کو مسخر کیا گیا ہے
05:33اس کو ایکسپلور کیسے کریں گے
05:35تو اس کو ایکسپلور کرنا سکھا ہے
05:36تو قرآن مجید فرقان حمید نے سکھایا ہے
05:38یعنی دین کے ساتھ
05:40دنیاوی احکام اور دینی احکام
05:42ان سب کی ایسی بنیاد پر آہم کی ہے
05:44کہ تم اندے گنگے بہرے ہو کر نہیں ماننا
05:47کہ تم پر رحمان کی آیتیں تلاوت کی جائیں
05:49تو بس تم خرر و سجدہ و بوکیہ نہیں
05:51ایسا نہیں ہے
05:53کہ بس اندے گنگے بہرے بن کر ایمال نہیں
05:54بلکہ تم اس کو سنو
05:56سمجھو
05:57اور پھر اپنے دل میں اس کو جگہ دو
05:59تو اللہ سبحانہ و تعالی کی رحمت
06:01جب تمہارے شامل حال ہوگی
06:02تمہارے فکر کے ذاویے کھلتے چلے جائیں گے
06:04دوسری چیز یہ ہے
06:06کہ قرآن مجید فرقان حمید
06:07ایک ایسا مسلمان چاہتا ہے
06:09جو نظریاتی مسلمان ہو
06:11یعنی دین ایک ٹرینڈ نہیں ہے
06:12کہ جب دل چاہے اختیار کر لیا
06:14اور جو چیز چاہی لے لی
06:16بلکہ دین تو ایک نظریہ ہے
06:17اور نظریہ کی بنیاد فکر پر ہوتی ہے
06:20فکر جہاں پر شامل حال ہوگی
06:22وہی نظریہ مضبوط ہوگا
06:23جتنی مضبوط فکر ہوگی
06:24اتنا مضبوط نظریہ اور عقیدہ ہوگا
06:26تو دین تو نظریہ حیات ہے
06:28اور نظریہ حیات
06:30فکری طور پر جتنا مضبوط ہوگا
06:32اتنا ہی زیادہ زندگی میں شامل ہوگا
06:34اگر میں نے روایت کی طور پر
06:36اس کو لے لیا
06:36تو کبھی میں قبول کروں گا
06:38کبھی میں قبول نہیں کروں گا
06:40کبھی عمل کروں گا
06:41کبھی عمل نہیں کروں گا
06:42And Islam means that
06:43That
06:49There will be a lot of
06:55To think
06:56That he will do it
07:08That can say
07:10That to them
07:11What is the meaning of Islam?
07:41ذات کے اندر داعی بن جائیں گے
07:43اسلام خاص طور پر فکری دعوت کو
07:45اس لیے فوکس کرتا ہے کہ دین
07:47ہماری زندگی کا حصہ بن جائے
07:49اور جب تک ہم غور و فکر نہیں کریں گے
07:51دین ہمارے زندگی کا حصہ نہیں بنے گا
07:53سبحان اللہ آپ نے بہت اچھی بات کہی
07:55کہ نظریہ حیات بھی ہے
07:58یہ اور ایک مکمل
07:59ذابطہ حیات ہے جب غور و فکر کی جائے
08:01تو پھر اسے اندازہ ہوگا
08:03انسان کو کہ آیا کہاں کہاں مجھے
08:05عوامر و نواہی کو پیش نظر رکھتے ہوئے
08:07اپنی زندگی گزارنی ہے اور کس انداز میں
08:09زندگی گزارنی ہے اچھا اس حوالے سے
08:11ہم یہ بھی جاننا چاہیں گے سر آپ سے
08:13کہ
08:14تفکر و تدبر
08:16ان کے حوالے سے سر فرمائی گا کیا فرق ہے
08:19کیا یہ ان کے معنی الگ الگ ہیں
08:21ان کے حوالے سے تفہیم میں چاہتا ہوں
08:23ہمارے ناظرین تک پہنچ جائے تو بہت اچھا ہو
08:35بعد ہم دو صلات کے قبلہ علماء
08:41برادر محترم رحمانی صاحب نے
08:44بہت ہی خوبصورت پیرائے میں
08:47غور فکر کرنے کو تفکر کرنے کو
08:51اور نظریاتی تعلق قائم کر کے
08:55مرکزی طور پر ایک مسلمان کو
08:59عبادت سے کیسے
09:01اور معاشرے سے کیسے جھڑنا ہے
09:05اس فلسفے کی طرف اشارہ کیا ہے
09:07سوال یہ پیدا ہوتا ہے
09:10کہ قرآن نے
09:14تو سبجیکٹ بنایا ہے انسان کو
09:17اور انسان کو عقل دے دی سمجھنے کے لیے
09:21اور نشانیاں آیات
09:24یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا بتایا ہے
09:29اس کے سامنے
09:29ہر طرح سے مزین کر کے پیش کر دیں
09:32کہ دیکھ لو
09:33تمہارے لیے نشانیاں ہیں اس میں
09:35اب تم اس کے باوجود بھی
09:38اپنے عقل سلیم کو
09:39اور فطرت سلیمہ کو
09:41تفکر کے اعتبار سے
09:44اور تدبر کے اعتبار سے
09:46بغاوت کی طرف لے کر جاتے ہو
09:48تو وہ جو معاشرتی استدلال
09:51اور مقصد حیات تمہارا
09:54جس کی ہم نے تمہیں
09:56وعدہ اولہ میں یہ کہا تھا
09:58تم نے اس کو فراموش کر کے
10:01اپنے ذات کے ذریعے
10:04از خود
10:04اس کیفیت کو لوگوں کے سامنے نمائے کیا
10:08کہ جہاں کہا
10:10کہ کیا اللہ ایک ہی ہے
10:11اچھا قرآن ہے
10:14تو قرآن کی کیفیت کیا ہے یہ
10:16قرآن کیا ہے
10:18پھر اچھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:22یہ تو ہماری معاشرے میں تھے نا چھوٹے تھے بچے تھے
10:26یہ ہماری طرح ہی تو چلتے پھڑتے ہیں
10:27ہماری طرح ہی تو رہتے ہیں
10:28ہم نے کیا کیا
10:30اپنے اقل کو اطاعت کے بجائے
10:33فکری اعتبار سے
10:34منفی انداز سے سوچ کر
10:37شیطان کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا
10:39اور نتیجہ یہ نکلا
10:41کہ بھٹکاؤ کے معاشرے کے اندر
10:44جا کر وہ انسان
10:46جو اپنے پہلے سبق کو بھول گیا
10:48کہ جس میں رب کے سامنے سجدہ کرنا ہے
10:51اور رسول کی اطاعت کرنی ہے
10:52اسے فراموش کر کے
10:54فرد نے اپنے معاشرے کو
10:55اس طریقے سے بنا لیا
10:57کہ جس کو آپ آج کے معاشرے میں
10:59استبدادیت کا معاشرہ
11:01خواہشات کا معاشرہ
11:03حوث پرستی کا معاشرہ
11:04نفس پرستی کا معاشرہ
11:06تو اس کو ختم کرنے کے لئے
11:08قرآن کا ابھی وقت ہے
11:10یہ ساڑھ باسٹھ چوہ سٹھ پیسٹھ ستر سال کی عمر ہے
11:13اس کے بعد تمہارے پاس
11:14عقل تو رخصت ہو چکی ہوگی
11:16تم زندہ بھی رہو گے
11:17تو تم مردوں کی طرح ہی ہوگے
11:18تو اس عقل کو تابع کر لو
11:21اطاعت کے
11:22اطیع اللہ و اطیع رسول
11:23اور اطاعت بھی ایسی ہو
11:25کہ جس میں حضور کی پوری زندگی
11:28تمہارے سامنے ہے
11:29اور کامل اسوہ حسنہ ہے
11:31لقت کانا لکم فی رسول
11:32اسوہ تن حسنہ
11:34تو اب قرآن نے
11:36جو غور اور فکر کی بات کی
11:38قبلہ مفتی صاحب نے
11:39تو یہ افلا کو کیوں استعمال کیا
11:45قرآن کریم نے
11:46دیکھیں یہ بڑی اہم بات ہے
11:47کہ خالق کائنات
11:49تو نفسیات کو جانتا ہے انسان کی
11:50پھر اس نے کیوں
11:52اس نے
11:53ایک متغیر معاشرے کو
11:56خاص طور پر
11:58مخاطب کر کے یہ کہا
11:59کہ کیا تمہیں
12:01اس بات کا احساس نہیں ہے
12:02کہ تمہیں ہم نے
12:04کن کن چیزوں سے نوازہ ہے
12:05ہواس خمسہ تمہیں دی ہے
12:08علم تمہیں دیا
12:09تحقیق تمہیں دی
12:11ترقی تمہیں دی
12:12اور وجدان کی کیفیت تمہیں دی
12:14نبی تمہارے سامنے موجود ہے
12:16اور کائنات کی ہر شہ تمہارے سامنے
12:18اچھے اور برے میں
12:19تمیز کی صلاحیت
12:20تمہاری عقل کی بنیاد پر تمہیں دی
12:22پھر بھی تم نے اپنے آپ کو
12:24شیطان کا ساتھی بنا لیا
12:25کیا کہنے
12:26ڈاکسا بڑی خوبصورت گفیت کو فرمان ہے
12:28میں چاہتا ہوں
12:29کنٹینئی رکھیں
12:29کنٹینئر رکھیے گا
12:30ایک مختصر سا وقفہ آ گیا ہے
12:32بس اللہ میں اقبال کے
12:33اس شہر کے ساتھ کے
12:34گزر جا
12:35عقل سے آگے
12:36کہ یہ نور
12:37چراغ راہ ہے
12:40منزل نہیں ہے
12:41بہت اچھے انداز میں
12:42ڈاکسا بڑی خوبصورت صاحب
12:42میں نہیں چاہتا تھا
12:43کہ وقفہ ہو لیکن
12:44چونکہ ضرورت ہے
12:45اس کے بعد انشاءاللہ
12:45ڈاکسا بڑی خوبصورت صاحب
12:46کنٹینئیو کریں گے
12:46ہمارے ساتھ رہیے
12:47چلیں جناب آپ کا خیر مقدم ہے
12:49ایک سو اڑتالیس ماں
12:50یوم ولادت
12:51اللہ میں اقبال رحمت اللہ علیہ
12:52کا کل گزرا ہے
12:53نو نومبر کو
12:54انہی کے اس شہر پر
12:56میں نے اختتام کیا تھا
12:57کہ گزر جا
12:58عقل سے آگے
12:59کہ یہ نور
13:00چراغ راہ ہے
13:02منزل نہیں ہے
13:03عقل کی گتھیوں نے
13:04جتنا بھی
13:05الجھایا انسان کو
13:06لیکن ایک لائن آف ڈیریکشن
13:08قرآن نے جو دے رکھی ہے
13:09اس پر
13:09ڈاکٹر صاحب بہت کمال انداز میں گفت
13:11تو وہ فرما دے رہے میں چاہ رہا تھا
13:12ڈاکٹر صاحب
13:12مکمل فرما
13:13انسان نے کھویا کیا ہے
13:15انسان نے
13:17اصل میں اپنا آب کھو دیا ہے
13:19اور انسان
13:20تلاش میں کس کے ہیں
13:22تلاش میں ہے
13:23سہر بار بار گزری ہے
13:25اور یہ جو
13:26ارتداد زمانہ ہے
13:27اور یہ امتداد کیفیات ہے
13:29اور تراتیب منزلت ہے
13:31اس کے اندر کبھی غور کیجئے
13:33آپ یقین جانئے
13:34اپنے آپ ہی کو پائیں گے آپ
13:35اور یہ خود وارثگی
13:37یہ وارثگی کی جو کیفیت ہے
13:39اور خودی کی جو کیفیت ہے
13:40جس میں اقبال کھو کر
13:41بعض اوقات آسمان میں
13:43کچھ شاہینوں کی بات کرتا ہے
13:44یا زمینوں پر
13:45زمینی کیفیات کے اندر
13:46اولیاء اکرام نے
13:47زمین پر بیٹھ کر
13:48آسمانوں پر کمندے ڈالی ہیں
13:50ذرا ان سارے
13:51حریم ناز کے لوگوں کے انداز
13:54تو پوچھئے
13:55کہ یہ بتا کہ
13:56یہ بتا کہ
13:58دیکھا کیا اس میں
13:58اس حرم میں
13:59تیرا دل تو ہے
14:02سنم آشنا
14:02تو سنم آشنا
14:03معاشرے سے نکل کر
14:04اس معاشرے میں جاؤنا
14:06جس معاشرے میں
14:07حضور کی خوشبو
14:08سون کر لوگوں
14:09لوگ یہ کہتے تھے
14:10ہم نے حضور کو
14:10یہی تو دیکھا
14:11یہاں سے گزرے ہیں
14:11حضور یہاں سے
14:12عقیدت کا اور عقیدے
14:14کی وہ منزلیں لے کر آؤ
14:15جہاں آنکھیں نہ دیکھیں
14:17قلب دیکھیں
14:18وہ حدیث عشق کہلاتی ہے
14:20کیا کہنے
14:20اور وہ حدیث عشق
14:22اس وقت ہوتی ہے
14:22کہ جب آپ کی
14:24عقل
14:24عشق کی تابع ہو جائے
14:26کیا کہنے
14:27اور جب عشق کی تابع ہو جائے
14:29تو بقول
14:30حضرت امام غزالی کے
14:33اس وقت
14:34فکر
14:36جس کو آپ غور کرنا
14:39سوچنا
14:40تفکر
14:41فلا
14:41پھر وہ فکر غلام بن جاتی ہے
14:44اطاعت کی
14:45اور اطاعت محض ہوتی ہے وہ
14:47اور اس اعتبار سے
14:49اطاعت محض
14:49قلب استعمال کر رہا ہوں
14:50کہ وہ اس لیے ہوتی ہے
14:52کہ اس میں پھر کوئی سوال نہیں ہوتا
14:54جس کو سوال کہتے ہیں ہم
14:56تو اس سوال کے اندر
14:58کوئی سوال نہیں ہوتا
15:00صرف ایک ہی جواب ہوتا ہے
15:01کہ سمینا واتان
15:03کیا کہنے
15:04بس اس کے علاوہ
15:06اس پر رضا نے ختم سخن
15:07اپنا کر دیا
15:08اب یہ جو
15:11آج کا جو دور ہے
15:12اب آئیے
15:12ابتلا کا دور
15:13جس کو ہم کہتے ہیں
15:14یہ اصل میں
15:15نظریاتی ابتال کا
15:17نظریاتی کشمکش کا
15:19نظریاتی تصادم کا
15:21اور نظریاتی
15:23بتلان کا دور ہے
15:24ایک تو مسلمانوں نے
15:27خود اپنے اندر
15:28تحمل کے
15:30اس
15:31نظریے کو
15:33فراموش کر دیا
15:33جس کے اندر
15:35ہمیں وہ تحمل
15:36امام آزم ابو حنیفہ میں
15:38امام شافی میں
15:39امام احمد بن حنبل میں
15:41اور تمام ایمہ میں
15:42نظر آتا ہے
15:42وہ تحمل
15:43آج ہم میں سے رخصت ہو گیا ہے
15:45جلد بازی کے اندر
15:47ہم نے
15:47اپنی منزلوں کا
15:48تعیون اس طرح کر لیا
15:50کہ نشان منزل
15:51کو اپنی منزل
15:52سمجھ بیٹھے
15:52تو نشان منزل
15:54کو نشان منزل
15:55نہیں رہنے دو
15:55منزل نہ بناو
15:57اس لیے کہ
15:58منزل تو
15:58سرکار کی نسبت
15:59اور ان کی
16:01نسبت کے ساتھ
16:02کامیہ بھی
16:02کراستہ ہے
16:03جو خود بولے گا
16:04کہ تمہیں سیماؤں
16:05فیوجی
16:06کیا بات ہے
16:06کیا بات
16:06یہ جو غور و فکر
16:09کرنا ہے نا
16:10وہ کس بات میں
16:11کرنا ہے
16:11اس بات میں
16:12نہیں کرنا
16:13کہ مجھے
16:14کوئی بہت بڑا
16:14علامہ کہے
16:15کوئی بہت بڑا
16:15مفتی آزم کہے
16:16کوئی بہت بڑا
16:18مجھے
16:18مفقر پاکستان
16:21کہے
16:21یا بہت بڑا
16:21مفقر اسلام
16:22کہے
16:23یا پتہ نہیں
16:24کیا کیا کہے
16:25مجھے تو صرف
16:26ایک ہی بات کہے
16:26کہ یہ حضور کا
16:27سچا امتی ہے
16:28حضور سے پیار کرتا ہے
16:29سنت کو
16:30اور حضور کے سیرت
16:31کو اپنے زندگی
16:31کا حصہ بنایا ہے
16:32لہٰذا یہ جو
16:33کچھ بھی غور و فکر
16:34کرتا ہے
16:34کہ حضور
16:35راضی رہے
16:36رب راضی رہے
16:37بقیہ کچھ بھی نہیں
16:37سوچنا
16:38کیا کہنا ہے
16:38سبحان اللہ
16:39ایک بندہ مومن کی
16:40جو فکر اور
16:41غور و تفکر
16:42کرنے کے بعد
16:43جو بالکل
16:43اس کا خلاصہ ہے
16:44ڈاکس صاحب نے
16:45وہ بیان فرمایا
16:46کہ جب
16:47عقل جو ہے
16:48عشق کے تابع ہو جائے
16:49گی تو پھر
16:49اس کی ڈائریکشن
16:50بہت درست ہو جائے گی
16:51بہت اچھی بات
16:52ارشاد فرمائیے آپ نے
16:53اچھا
16:54اب قرآن
16:54پر تدبر کرنے کے
16:56حوالے سے
16:56کن شرائط
16:58کو بطور خاص
16:59ان کو
16:59ملہوز رکھنا ہے
17:01ان کا لحاظ
17:02رکھنا ہے
17:02میں چاہتا ہوں
17:03اس کا حوالے سے
17:03مفت صاحب کچھ فرمائیے گا
17:05رجبی
17:06بنیادی طور پر
17:07اگر دیکھا جائے
17:08تو قرآن
17:08مجید فرقان
17:09نے بھی چونکہ
17:09عربی زبان میں
17:10اللہ پاک نے نازل فرمایا
17:11اور یہ بھی
17:12اللہ سبحانہ وتعالی
17:13کی حکمت ہے
17:13کہ اللہ نے
17:14عربی زبان میں
17:15قرآن نازل فرمایا
17:16تو قرآن
17:17چونکہ براہ راست
17:18عربی زبان میں ہیں
17:19تو عمومہ
17:20لوگ یہ سمجھتے ہیں
17:21کہ اگر قرآن
17:22کو سمجھنا ہے
17:22تو عربی سیکھ لو
17:23عربی سیکھو
17:24عربی گرامر سیکھ لیں
17:25نہاور سرف
17:26اور اس کے قوائد
17:26و ترقیب وغیرہ سیکھ لیں
17:28تو آپ
17:28عربی سمجھنے لگ جائیں گے
17:29تو براہ راست
17:30ترجمہ کر لیں گے
17:30اور اگر آپ کو
17:32قرآن پاک کا
17:32ترجمہ آگے
17:33تو قرآن سمجھ گئے آپ
17:34صحیح
17:35لوگ سمجھتے ہیں
17:35کہ یہی منزل ہے
17:36بلکل
17:37حالانکہ ہم
17:38یہ عرض کریں گے
17:39کہ قرآن مجید
17:40فرقان امید
17:41عربی زبان میں
17:42نازل ہوا
17:42لیکن عرب
17:43معاشرے میں ہی
17:44نازل ہوا تھا
17:45ان کے درمیان
17:46نازل ہوا
17:47جو خود عربی
17:47بولنے والے تھے
17:49عربی سمجھنے والے تھے
17:51ان کی
17:51مادری زبان ہی
17:52عربی تھی
17:52عربی تھی
17:53بلکل
17:53ان کے درمیان
17:54نازل ہو رہا تھا
17:55مگر ان کے لئے بھی
17:56اللہ نے نہیں فرمایا
17:56کہ تم براہ راست
17:57سمجھ جاؤ گے
17:58ان کے لئے کیا فرمایا
17:59ہُوَ الَّذِي بَعَاثَ فِي الْأُمِّيِّنَ
18:01وَصُولًا مِّنْهُمْ
18:03يَتْلُو عَلَيْهِمْ آیَاتِهِ
18:04وَيُزَكِّهِمْ
18:05وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ
18:08وَالْحِكْمَةِ
18:08وہی ہے جس نے
18:10ان امیوں کے درمیان
18:11انہی میں سے
18:12ایک نبی مکرم
18:13مبروز فرمایا
18:14اور نبی مکرم
18:15صلی اللہ علیہ وسلم
18:17کی بیست کیوں ہوئی
18:18فرما
18:18يَتْلُو عَلَيْهِمْ آیَاتِهِ
18:20یہ جس قرآن میں
18:21تم غور و فکر کرنا چاہتے
18:22بھلے پڑھنا تو سیکھ لو
18:23اور یہ پڑھنا کون سکھایا گا
18:25کہا یہ نبی مکرم سکھائیں گا
18:27يَتْلُو عَلَيْهِمْ آیَاتِهِ
18:28اب قرآن سیکھنے کے لیے
18:30جو قرآن کا ظاہر ہے
18:31وہ تو آپ نے پڑھ لیا
18:32اس کو سمجھنے کے لیے
18:33تذکیہ ہونا بہت ضروری ہے
18:34اس کا حقیقی فہم حاصل کرنے کے لیے
18:37اندر کی گندگی دور ہونا بہت ضروری ہے
18:39تو پھر رسول اللہ کیا فرمائیں گے
18:41وَيُزَكِّهِمْ
18:42تذکیہ فرمائیں گے
18:43اندر اس کو پڑھنے کے بعد
18:45اگر کوئی خراب فکر پیدا ہونا شروع ہو گئی
18:47یا کہیں گمراہی کی طرف جانے لگے ہو
18:49تو اس کا تذکیہ فرمائیں گے
18:51وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابِ
18:53یعنی تلاوت اور تعلیمِ کتاب میں فرق ہے
18:56تو پہلا درجہ تو تلاوت کا ہے
18:58پھر تذکیہ کا پھر تعلیمِ کتاب ہے
19:00اور تعلیمِ کتاب کے لیے
19:02گریجولی ہر چیز بتائی جا رہی ہے
19:03تعلیمِ کتاب کے لیے بھی کون
19:06خود رسولِ مکرم
19:08صاحبِ قرآن
19:09وہ سکھائیں گے
19:10وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابِ
19:11اور پھر چوتھا درجہ حکمت کا ہے
19:13یعنی وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابِ
19:15کے اندر قرآن کے ظاہری رموز کے ساسد
19:18جو اس کے باطنی اثرار ہیں
19:19وہ بھی اللہ نے سکھانے کے لیے
19:21اپنے حبیب کو بھیجائے
19:22جن کے درمیان قرآن نازل ہوا
19:24جن کی اپنی زبان عربی تھی
19:26وہ بھی قرآن کو سمجھنے کے لیے
19:27معلمِ قرآن کے مہتاج تھے
19:29تو یہ سمجھ لینا
19:31کہ آپ صرف اردو ترجمہ پڑھ لیں گے
19:33یا آپ کو اردو ترجمہ کرنا آ جائے گا
19:34آپ قرآن کے حقیقی مفاہین کو سمجھ لیں گے
19:37یہ غلط فہمی ہے
19:38نہیں اس سے تو لوگ یہ اعتراض بھی کرتے ہیں
19:40مفصد میں کاؤنٹر نہیں کر رہا
19:42بلکہ ارز کر رہا ہوں
19:43کہ لوگ یہ کہتے ہیں
19:44کہ یار علمان حضرات جو ہیں
19:45یا مولوی حضرات جو ہیں
19:46ہمیں قرآن سے دور رکھنا چاہتے ہیں
19:48وہ چاہتے ہیں
19:49ہم آپ ہی کے مرون و منت رہے ہیں
19:50ہم قرآن پڑھ رہے ہیں
19:51اس کا ترجمہ پڑھ رہے ہیں
19:52یہ موترزین کے سوالات ہیں
19:53میرا نہیں سوال ہے
19:54تو اس سوالے سے بھی رہنمائی کر دیئے ہیں
19:55نہیں تو ہم اس میں آپ کوئرس کر رہیں گے
19:57دیکھیں ہم اردو زبان
19:59جو اکثر لوگ اردو زبان بولتے ہیں
20:01پاکستان کے اندر
20:02سوشل سٹیڈیز ہے
20:03سائنس ہے
20:04فیدکس ہے
20:05کیمیسٹری
20:05اگر یہ اردو زبان میں ہو
20:07تو کیا میں یہ کہتا ہوں
20:08کہ مجھے استاد کی ضرورت نہیں ہے
20:09کیونکہ یہ اردو زبان میں ہے
20:11تو میں براہ راست پڑھ لوں گا
20:12مجھے خصے فیدکس آجائے گی
20:14خصے کیمیسٹری آجائے گی
20:15ساری کتابیں اردو زبان میں ہیں
20:17تو میں خصے سمجھ لوں گا
20:18صحیح سے
20:19جب یہ فنون میں
20:19اردو زبان میں ہونے کے باوجود
20:21میری مادری زبان ہے
20:22میں نہیں سمجھ سکتا
20:23مجھے استاد کی ضرورت ہے
20:25حقیقی فہم کے لیے
20:26تو پھر وہ جو کلام اللہ ہے
20:27اللہ
20:28اللہ کا کلام ہے
20:29اللہ نے اپنے نبی مکرم کے
20:31قلبِ اثر پہ نازل فرمایا ہے
20:33اب اس کا حقیقی فہم
20:34کیسے حاصل کر سکتے ہیں
20:36رسول اللہ کو چھوڑ کر
20:36یہ ممکنی نہیں ہے
20:37اور صحابہ اکرام نے
20:39رسول اللہ کی بارکس
20:40اقتصاب فیض کیا ہے
20:41دروازہ بند نہیں ہو
20:42ہم یہ نہیں کریں
20:42کہ دروازہ بند ہے
20:43ہم یہ عرض کر رہے ہیں
20:44تدبر کی بات کر رہے ہیں
20:45تلاوت کا درجہ
20:47سب کیلئے عام ہے
20:47اور کوئی تلاوت کرے
20:49تلاوت اور کوئی سیکھ رہے ہیں
20:50لیکن جب ہم بات کرنے
20:52شرائط کی
20:52تدبر کیلئے شرائط کیا
20:54تو یہ گریجولی
20:54ساری منازل تے کرنی پڑیں گی
20:56صرف تلاوت کرنے سے
20:57اور اردو میں ترجمہ کرنے سے
20:59آپ کو حقیقی فہم قرآن حاصل
21:01نہیں ہوگا
21:02اس کیلئے آپ کو
21:03جہاں عربی کی تمام مضامین
21:05پڑھنے ضروری ہیں
21:05ان تمام مضامین کے ساتھ
21:07بارگاہ رسالت میں
21:09زانو تلمس تے کرنا ضروری ہے
21:10اور آج اگر بارگاہ رسالت میں
21:12زانو تلمس تے کرنا ہے
21:14تو جو رسول اللہ کے وارثیر
21:15ان کی بارگاہ میں
21:16زانو تلمس تے کرنا ہے
21:17اور یہ سلسلہ
21:18چودہ سو سال سے چلتا چلا رہا ہے
21:20یہ ہماری علمی وراست ہے
21:21علمی روایت ہے
21:22کسی نے بھی نہیں کہا
21:24کہ میں اس علمی توارث کو چھوڑ کر
21:25یعنی چودہ سو سال کا
21:26جو ہمارا نظریہ
21:27اور تسلسل توارث کا علمی
21:29اس کو چھوڑ کر
21:30میں قرآن کی فہمی کروں گا
21:31تو میں گمراہی کی طرف چلا جاؤں گا
21:33اور خود قرآن نے کہا ہے
21:34کہ قرآن مجد فرقان حمید کی آیاتیں
21:36بینات کو لوگ
21:37اگر اپنے نفس امارہ کے تحت
21:39اپنی خواہشات نفسانی کے تحت
21:41سمجھنے کی کوشش کریں گے
21:42تو یدلو بھی کسیرہ
21:44و یادی بھی کسیرہ
21:44قرآن تو کتاب ہدایت ہے
21:47لیکن جب اس کو خواہش نفسانی
21:49کتاب ہو کر پڑھیں گے
21:50تو پھر آپ گمراہی کی طرف بھی جا سکتے ہیں
21:52تو اس گمراہی سے بچائے گا کون آپ کو
21:53یہ بتائے گا کون
21:54کہ آپ جو سمجھیں
21:55وہ صحیح ہے کہ غلط ہے
21:56اس سمجھ کے اوپر بھی
21:58تو کوئی پہردار ہونا چاہیے نا
22:00اور وہ پہردار
22:00اللہ نے اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم
22:02کو بنایا
22:03کہ وہی اللہ نے اپنے حبیب پر نازل فرمائی
22:05اور جس کے قلب اثر پہ
22:06وہی نازل فرمائی
22:07اسی کو فرمائی
22:08کہ حبیب آپ ہی ان کو سکھائیے
22:09ہم نے آپ کو سکھایا
22:11الرحمن واللہ من القرآن
22:12اب خلق کو جو سکھائیں گے
22:14وہ پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم
22:15آپ نے ان کو سکھانا ہے
22:16اور پھر حضور سے جنہوں نے سیکھا
22:18آج وہ امت کو سکھائیں گے
22:19تو تدبر قرآن کے لیے
22:21جہاں تمام علوم عربی کا جاننا ضروری ہے
22:23وہیں آخر میں آپ کو بارگاہ رسالت میں
22:26حاضر ہونا ضروری ہے
22:27اس کے بغیر تدبر قرآن مکمل نہیں ہو سکتا
22:29یعنی قرآن جو ہے
22:30وہ ایک کتابی شکل میں ہے
22:32بلا شبہ اللہ کی کتاب ہے
22:35آخری کتاب ہے
22:36جو نبی مکرم علیہ السلام پر نازل ہوئی
22:39ایک کتابی شکل میں ہے
22:40اور قرآن ناتق جو ہیں
22:42وہ میرے اور آپ کے کریم آقا
22:44صلی اللہ علیہ وسلم ہے
22:45جو بولتا ہوا قرآن ہیں
22:47تو ان کی بارگاہ میں حاضر ہوئے
22:49بغیر قرآن فہمی
22:51یہ ممکن ہی نہیں ہے
22:53کسی بھی شخص کے لیے
22:53کہ وہ دربار رسالت میں پہنچے
22:55بغیر قرآن کریم کو سمجھ لے
22:58یا اس کے رموز کو سمجھنے کوش کر
23:00ایک مختصر سا وقفہ لیں گے
23:01وقفے کے بعد جب میں لوٹوں گا
23:03سرنامہ کلام میں
23:04ایک میں نے بات کہی تھی
23:05انشاءاللہ اسی پر ایک سوال ہے
23:06بہت اہم سوال ہے
23:07جو آپ کے لیے بھی بڑا اہم ہوگا
23:09کہ بھئی یہ بات تو
23:10ہمارے ذہن میں تھی نہیں اور
23:11یہ سوال اچھا ہوا شامل ہو گیا
23:12شامل کرتے ہیں کہ وقفہ ہے
23:13وقفے کے بعد حاضر ہوتے ہیں
23:14مرسا ترہیے
23:14جی جناب آپ کا خیر مقدم ہے
23:17آج تفکر و تدبر پر بات ہو رہی ہے
23:19موضوع ایک بہت اہم
23:21اور آپ کو ایک سمجھ لے دستک دے رہا ہے
23:24آپ کے ذہنوں پر
23:25آپ کی سوچ پر
23:26آپ کی فکر پر
23:27کہ آپ نے کہاں لگایا ہوا ہے خود کو
23:29غور کریں
23:30تدبر کریں
23:32تفکر کریں
23:33ہم نہیں کریں
23:34رب کائنات فرما رہا ہے
23:36یہ اس کا حکم ہے
23:37کریں غور و فکر کریں
23:38کیا ہے
23:39کائنات کیسی ہے
23:40اس کائنات کو کیسے
23:41خلق کیا گیا
23:43اس میں کیا کیا چیزیں اللہ نے
23:44اور جب ہم غور و فکر کر لیں گے
23:46تو اللہ کی حمد کریں گے
23:48سبحان اللہ کہیں گے
23:49ماشاءاللہ کہیں گے
23:50اور اپنے لئے بہت سارے راستے
23:51ہمارے لئے
23:52کشادہ ہوں گے
23:53اچھا میں نے سرنامہ کلام میں جو ارز کیا
23:55وہ یہ کہ
23:56یہ جو تفکر کا حکم ہے
23:58یہ صرف صاحبان علم کے لئے ہے
24:01صاحبان دانیش و بینیش کے لئے ہے
24:02یا ایک حکم عمومی ہے
24:05عام شخص کے لئے بھی
24:07ڈاکس صاحب یہ بہت ہی عام سوال ہے
24:09اور آج کے معاشرے کا یہ سوال
24:11اس لئے ہے کہ ہر شخص جو ہے
24:12وہ مذہب پر بات کرنی شروع کر دیتا ہے
24:14مسائل دینیاں پر بات کرنی شروع کر دیتا ہے
24:16جو یہ ایسا ہو گیا ہے
24:18کہ جیسے کوئی عام سا موضوع ہو گیا
24:19کیا آپ فرمائیے گئے
24:20اس کے دو پہلو ہیں
24:21ایک پہلو وہ ہے
24:23کہ جس میں
24:23ہر ایک پر ذمہ داری ہے
24:25فرض کفایا
24:27اور ہر ایک پر ذمہ داری
24:30اس لئے یہ ہے
24:30کہ سرور کشوری رسالہ صلی اللہ علیہ وسلم
24:32نے واضح طور پر فرمایا ہے
24:33بلگو انی
24:34بلگو آیا
24:36تو یہ اب حکم ہو گیا
24:38بلگو کا مطلب حکم ہو گیا
24:40لیکن اب بلگو کا مطلب یہ نہیں
24:42کہ فساد فی لرد کرو
24:43تم خود سوچو
24:43دماغ کے اندر
24:45اپنے تمہارے خلل ہو
24:46رات بر نین نہ آتی ہو
24:47سوچا یہی سوچ لو
24:49ہاں ایسا ہوا نیوارک کے اندر
24:51میرے پاس ایک دعوت نام آیا
24:52مختصر بیان کروں
24:53اور کہا کہ صاحب
24:54وہاں کچھ خواتین ہیں
24:55وہ سب بیٹھ کر
24:55ایک ان کے مجلس ہوتی ہے
24:57صاحب ایک
24:57آپ بھی اس میں شامل ہو جائیں
24:59میں نے کہا وہ خواتین کی
25:00میں کیا کروں گا اس وے
25:01ایک آیت پڑھتی ہے
25:03پھر دو آیتیں پڑھتی ہیں
25:04پھر اس میں گفتگو ہوتی ہے
25:05آپ بھی اس میں گفتگو کر لیجئے گا
25:06میں نے کہا ایسا ہے
25:07کہ مجھے کچھ اس کا
25:08لکھا ہوا
25:09کوئی ایسی چیز ہو جو
25:11میں دیکھ لوں
25:11کہ آگے اب تک گفتگو ہوئی ہے
25:12تو وہ دیکھا
25:13تو اللہ اکبر
25:14میں نے اللہ کا شکر ادا کیا
25:15کہ اللہ ترہ شکر ہے
25:16کہ میں اس سرکل کا حصہ نہیں بنا
25:18اب اگر غور فکر
25:20قرآن کا مطلب یہ ہوا
25:31اپنے مزاج کے مطابق
25:32اس کو تفسیر بررائے بنانے لگے
25:34تو اس میں بھٹکنے کے
25:36آثار زیادہ ہیں
25:37اور وہ جو آپ نے ایک جملہ کہا تھا
25:39بڑا خطرناک جملہ ہے وہ
25:40وہ جملہ یہ ہے
25:41کہ جب بڑھا پہ قریب آ جاتا نا
25:44پوری زندگی تو
25:45سارے لیندین کرتے رہے
25:47اب تفسیر قرآن لکھ رہا ہوں
25:48اب بھائی تو اب تفسیر قرآن لکھ رہا ہوں
25:51وہ الحمدللہ بہت اچھی بات ہے
25:52اچھی بات ہے
25:53پہلے تفسیر کے آداب تو پڑھ لو
25:54طریقہ کیا ہے
25:56حدیث
25:56بھائی پہلے حدیث کی اقسام
25:58حدیث کا طریقہ علم
25:59یعنی حدیث ورسول حدیث تو پڑھ لو پہلے
26:01حدیث ورسول تفسیر تو پڑھ لو
26:03پھر تفسیر پڑھ جاؤ
26:04یہ علوم ہے جیسے قبلہ مفتل صاحب نہیں بات
26:06علوم ہے بقاعدہ
26:07اب کیا ہوتا ہے
26:08ہم کسی بھی ایک مسئلے کو لے لیتے ہیں
26:11یہ چڑیا اڑی
26:12تو یہ اڑ کر اگر یہ یوں نہیں گئی
26:14اور یوں چلی گئی
26:15تو اب بتائیے اس میں کیا ہوگا
26:16تو اب یہ جو مفقرین ہیں نا
26:18ہمارے جو نوزادہ مفقرین ہیں
26:19جو علم سے بے بہرہ ہیں
26:21لیکن انگریزی بہت اچھی ہے
26:22یا جدید علوم کے امتزاج بہت اچھا ہے
26:25اور لفاظ بھی اچھے
26:26تو وہ انٹرنیٹ کے ظلمہ
26:28ان کو میں علمہ نہیں کہتا
26:30ظلمہ
26:30تو یہ انٹرنیٹ کے ظلمہ
26:32اب نوجوانوں کو متحصر
26:33ظلمہ
26:34علمہ نہیں ہے
26:37علمہ یہ علمہ نہیں
26:39ظلمہ ہیں بھائی
26:39اور اچھا دیکھئے
26:41اور ان کی پرلی کرنے والے
26:43انہی جیسے کوئی جوحال پیدا ہو جاتے ہیں
26:45اور ہر دور میں تاریخ نے
26:46اپنے آپ کو یہ مطلع ہے
26:47کہ آپ کوئی بھی نعرہ لگا دی
26:48جا آپ کی پیچھے جائل آ جائے گا
26:49ایسا ہی ہے
26:50جائل کا مطلب ہے لائل
26:51لائل
26:52میں کوئی گالی کے معنی میں استعمال نہیں کرتا
26:54لائل ملک
26:54لائل ملک
26:55تو بھائی
26:56اس تقلیل سے روکا ہے اسلام نے
26:58اور غور فکر کا مطلب یہ
27:01پہلے تم اپنے پیدائش کا مقصد جانو
27:03کیا بات
27:04تخلیق کائنات کو سمجھو
27:05رسالت محب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
27:07اقوال کو
27:08افعال کو
27:09ان کے کردار کو
27:10ان کے زندگی کو
27:10ان کے رویے کو
27:11ان کے معاشرتی اقدار کو
27:13اور معاشرتی امانتوں کو سمجھو
27:15جو وہ دے کر گئے ہیں سب کو
27:17حجرت الوعدہ میں
27:18بلکل
27:18جو غائب ہیں
27:21ان کو بتلا دینا
27:22اب آج کیا ہوا
27:23کہ دو کتابیں پڑھنی ہیں آپ نے
27:24مدرسے سے بھاگ گئے
27:26صرف کبیر صرف صغیر سیکھی نہیں سیکھی
27:28اور
27:29ہدایت الحکمت پڑھ لی نہیں پڑی
27:31کوئی بات نہیں
27:32جلالین پڑھا
27:34نہیں پڑھا
27:35بخاری کا ختم کیا نہیں کیا
27:37لیکن
27:38دماغی بخار تمہارا آ گیا
27:39اور بیٹھ کر
27:40اپنی مرضی کے مطابق
27:41ایسے ایسے مسئلہ بیان
27:42اور اس انٹرنیٹ نے
27:43اللہ
27:44ہدایت انٹرنیٹ والوں کو
27:45پتہ نہیں کیا کیا
27:46انہوں نے
27:46ایسے ایسے لوگ پیدا کر دی ہیں
27:49کہ آپ حیران ہو جائیں گے
27:50سوائے فتنہ و فساد
27:51کہ
27:51اکثر و بیشتر
27:53آج معاشرے کے اندر
27:54مسلمانوں کو
27:55علم کی ضرورت ہے
27:56جیل کی ضرورت نہیں ہے
27:58یہ علم نہیں ہے
27:59کہ جو
27:59خود ساختہ اور خود
28:00اپنے مزاج کے مطابق
28:02ہم ڈھال کر
28:03علم کو
28:03علم کا حاصل کرنے کا کیا طریقہ ہے
28:05دیکھیں نا
28:08اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
28:09کیا فرمایا تھا
28:09کہ میں تمہارے درمیان
28:10دو بنیادی
28:11اناثر ترقیبی
28:12یا اہم ترین
28:13ماخذ چھوڑے جا رہا ہوں
28:15نتارکم فکم السقلین
28:17کیا ہے
28:18کتاب اللہ و سنتی
28:19اور ایک اور حدیث میں
28:20اترتی
28:21اب آپ ذرا سے اس کو دیکھیں
28:23کہنے کوئی کتاب اللہ ہے
28:25اور حضور کی سنت ہے
28:26بلکل
28:26لیکن یہ پورے علوم ہیں یہ
28:28ان کو باقاعدہ پڑھا جاتا ہے
28:31اس میں
28:32آپ یہ ذہن سے نکال دیں
28:34کہ مولوی اپنی کوئی گرفت چاہتا ہے
28:35مولوی کوئی گرفت نہیں چاہتا
28:37اللہ نے اسے ایک منصب دیا ہے
28:39آپ یہ کہیں
28:40کہ ہائی کورٹ کا جج
28:41یا سپریم کورٹ کا جج
28:42اگر بیٹھ کر
28:44اس منصب پر کوئی فیصلے کر رہا ہے
28:45تو اللہ نے اس منصب پر
28:46اس کو بٹھایا
28:47اتنا علم دیا
28:48کہ وہ فیصلہ کر سکے
28:49تو ایسے ہی
28:50علماء کو
28:51العلماء ورست الانبیاء
28:52یہ وارث دین انبیاء ہے
28:54تو ان کو
28:55اللہ نے یہ علم دیا
28:55تو ان کی توہین کرنے کے بجائے
28:58ان سے سیکھئے
28:59ان کے قریب جائیے
29:01اور آج بھی
29:02بغداد میں جب میں گیا ہوں
29:04کچھ عرصہ پہلے
29:05تو وہاں باقاعدہ
29:07مدارس کے اندر
29:08اسی طریقے سے
29:09مجلسیں لگتی ہیں
29:10واہ واہ
29:11ایک ہی
29:12مسجد ہے
29:13گولائی کے اندر
29:14وہ درس کے لیے
29:15چھوٹے چھوٹے درس
29:16الگ الگ لگے ہیں
29:17کہیں اصول حدیث پڑھائی جاری
29:19کہ تفسیر ہے
29:20کہیں فقہ ہے
29:20کہیں علم الافلاق ہے
29:22کہیں حرکت افلاق ہے
29:24کہیں علم الہیات ہے
29:25اور کہیں تقابل ادیان ہے
29:27جب پڑھیں گے تو
29:29بات کریں گے نا
29:30اب کچھ بھی نہیں ہے
29:31تو خالی پیٹ
29:33تو پھر وہی سوچیں گے
29:33جو سوچتے ہیں
29:34تو علم سے پہلے
29:36ذہن کو اور پیٹ کو بھریے
29:38تاکہ
29:39ملا ایم لاؤ
29:40ملا ان کے معنے معلوم ہو
29:42جب ملا ایم لاؤ
29:44ملا ان کے معنے نہیں معلوم
29:45تو لفظ مولوی اور ملا پہ لوگ طرح
29:47چڑھ جاتے ہیں
29:48اور مجھے ملا کہہ دیا
29:49ملا جو علم سے بھرا ہوتا ہے
29:51اس کو ملا کہتے ہیں
29:52ملا احمد جیون کو دیکھ لو
29:54کیا بار
29:55اچھا سر
29:56ریسرچ سکولر ہونے کے ساتھ
29:58باقاعدہ عالم دین بھی ہیں
30:00تو اس اعتبار سے وہ
30:01تمام چیزوں کو پیش سے نظر رکھتے ہوئے
30:03جواب انعیت فرماتے ہیں
30:04اچھا ایک جو سوال بہت اہم سوال ہے
30:07وہ یہ کہ
30:09عام طور پر مذہب میں
30:10کیا حوالے سے
30:11سوال یہ کیا جاتا ہے
30:17اقلی چیزیں نہ لائیں
30:19اس کے اندر اور اس کے اوپر
30:21کیا کہیے گا
30:21آپ یہ بھی ایک ڈیبیٹ ہے
30:23پوری
30:23اس پر میں چاہتا ہوں کچھ ارشاد
30:25اصل میں ڈیبیٹ وہ لوگ کرتے ہیں
30:26جنہوں نے اسلام کو سمجھا ہی نہیں
30:28نہ اسلام کو سمجھا
30:29نہ قرآن کو سمجھا
30:30میں نے کہا نا
30:30اگر قرآن
30:31اور اسلام
30:33اگر اپنے ماننے والوں کو
30:34اقل سے بے بہرہ رکھنا چاہتا
30:36تو کبھی بھی تفکر
30:37تدبر کی تلقین ہی نہیں فرماتا
30:39یہ واحد قرآن ہے
30:41جس نے علم کا جو مزاج ہے نا
30:43وہ ورٹیکل کر رہا ہے
30:45بگرنا وہ ہوریزنٹل تھا
30:46یہیں زمین زمین پر انسان دیکھ رہا تھا
30:48اور جس کو دیکھتا تھا
30:49اس کو خدا بنا لیتا تھا
30:50اس کو کہا نیچے کہاں دیکھ رو
30:51اوپر بھی تو دیکھو
30:52اتنا کچھ بنایا
30:53اسمان بنایا
30:54چاند سورج تارے
30:55اور تمہارے لیے بنایا
30:56بلکہ اس سے آگے کا جہان
30:57اور اس سے آگے کا جہان
31:00بھی تمہارے لیے ہے
31:01یہ پوجنے کے لیے نہیں
31:02بلکہ تمہارے استعمال کرنے کے لیے
31:03بنایا یہ ساری چیزیں
31:04یہ واحد قرآن ہے
31:06جس نے سوچنے کی دروادے کھولے
31:07کھولے ہیں
31:08جتنے علم کی ارتقائی منزلوں کے لیے
31:10راستے ہموار کیے ہیں
31:11اگر اسلام چاہتا
31:12کہ اقل کا دروادے بند رہے ہیں
31:14تو کبھی تفکر تدبر
31:15تعقل کی بات ہی نہیں کی جاتا
31:16بلکل ہے صحیح
31:17کہ فقط اسلام ہے
31:18جس نے سب سے پہلے دستگ دی
31:19کہ کھولو
31:20اپنے اقل کے دروادے کھولو
31:22غور فکر تدبر کرو
31:23لیکن
31:24اقل امام نہیں ہے
31:25کس آپ کہہ رہے تھے نا
31:27آپ نے علام اکبال کے شعر میں کہا
31:29کہ یہ چراغ راہ تو ہے
31:30منزل نہیں ہے
31:31اقل تابع ہے وحی کے
31:33جو چیز اقل میں نہیں آرہی
31:36تو اس کا مطلب یہ نہیں
31:37کہ وہ ہے ہی نہیں
31:37آپ کی سمجھ میں نہیں آرہی
31:39آپ کہیں میری اقل کا قصور ہے
31:41تو اقل کو امام بنانے سے منع کیا گیا
31:43ہاں امام وحی ہے
31:45قرآن ہے
31:47قرآن اقل کی تابع نہیں ہے
31:48اقل قرآن کی تابع ہے
31:50اب قرآن مجد فرقان امید میں
31:51صرف ہم احکامات کو یہ اگر دیکھ لینا
31:53اللہ بغیر صرف فرما دی
31:55تم نماز قائم کرو
31:56اقیم الصلاح کافی ہے
31:57ہمیں پڑھنی پڑے گی
31:58چونکہ ہم مومن ہیں
31:59لیکن کیسے پڑھیں کب پڑھیں
32:01اتنی پڑھیں
32:02اس نے فرمایا کہ
32:02جب تم نماز قائم کرو گی
32:04بے شک
32:08کہ نماز تمہیں بے حیائی
32:09برے کاموں سے روکے گی
32:10رب سے تو ملائے گی
32:11لیکن اس کے سوشل امپیکٹ بھی ہیں
32:13معاشرے کے اندر تن دیکھو گی
32:15کہ تم ایک صدرے و شخص بن جاؤ گی
32:17بلکل ایسا یہ
32:17زکاة
32:18رب کریم فرماتا
32:19آتو زکاة زکاة دو
32:20بس کافی تھا
32:20لیکن نہیں
32:21فرمایے زکاة دوگے
32:22تو کیا ہوگا دل سے
32:23مال کی جو محبتیں وہ ختم ہوگی
32:25بلکل ایسا
32:26ہمارا ظاہر و باطن پاک ہوگا
32:28اسی طرح جتنے احکاماتِ الہیہ ہیں
32:30اللہ سبحانہ وتعالی
32:32ان احکاماتِ الہیہ میں
32:33حکم کے ساسط
32:34کہیں کہیں حکمتیں بھی بیان فرمائی ہیں
32:36تاکہ پتہ چلے
32:37یہ عبادت فقط
32:38عبادت نہیں کروائی جاری
32:39اس عبادت کا جہاں
32:41سپیچول امپیکٹ ہے
32:42وہیں سوشل امپیکٹ بھی ہے
32:43بہت امدار
32:43کہیں ایکنومیکل ایسپیکٹ بھی ہے
32:45کئی پولٹیکل ایسپیکٹ بھی ہے
32:46بہت سارے امتزاج ہیں
32:47اس کے اندر
32:48جو اسلام نے ہمیں عطا فرمائے
32:49اور پھر اسی طرح
32:51قرآنِ مجید فرقانِ احمید کی
32:52کچھ آیاتِ بیانات
32:53ایسی بھی جن کے خود
32:54اللہ نے فرما
32:54اس میں نہیں سوچنا
32:55اس کے بارے میں
32:57تمہیں غور کرنے کی
32:57اور تعاقل کرنے کی اجازت
32:59ہم نے اتنی ساری چیزیں دی دی ہیں
33:01اس میں اللہ کی تخلیق میں غور کرو
33:02اللہ کی مخلوقات میں غور کرو
33:03قرآن کی آیات میں غور و فکر کرو
33:05اپنی ذات میں غور و فکر کرو
33:07نباتات، حیوانات، جمادات میں
33:08غور و فکر کرو
33:09بہت کچھ ہے کائنات
33:10اتنا کچھ ہے
33:10ان میں غور و فکر کروگے
33:12تو یہ غور و فکر جب کروگے
33:13تو پردے ہٹیں گے
33:14اور جو بنانے والا ہے
33:15اس کی طرف رہنمائی حاصل ہونا شروع
33:17سبحان اللہ
33:17تو یہ جو عقل دی گئی ہے
33:19عقل کا دخل
33:20سوالی انداز میں نہیں
33:22عقل کا دخل
33:23امام بنا کر نہیں
33:24عقل اگر وحی کے تابع ہو جائے
33:26اور جساں سر نے فرما
33:26عشق رسول کے تابع ہو جائے
33:28تو پھر ساری گتیاں سلجنا شروع ہو جاتے
33:30کیا کہنے
33:31اصل میں تو بات یہ ہے کہ
33:32سر نے جب تہلہ سوال کا جواب دیا
33:33اس میں اس موضوع کو
33:34بہت آگے پہنچا دیا
33:36اور اس موضوع کی بہت ساری چیزوں کو
33:38بہت سارے سوالات دی پیدا ہو گئے
33:40لیکن ظاہر ہے
33:40ہمیں اپنے سوالات میں رہتے ہو
33:42اس پروڈرام کو ترتیب دینا ہوتا ہے
33:44اب پیغام کی جانب آ جاتے ہیں
33:46تدبر اور تفکر
33:47یہ ہمارا موضوع ہے
33:48اس حوالے سے سر کیا پیغام دیجئے گا
33:50آج ہمارے معاشرے میں
33:51اس کی کتنی ضرورت ہے
33:53میرا خیال ہے کہ
33:54سب سے پہلے تو
33:56ہمیں اس بات کو
33:58سمجھنا چاہیے
34:00کہ ہم وفا کریں
34:02اور وفا اس سے کریں
34:05جو وفا کا مستحق ہے
34:07خالق کائناس سے
34:09سبحان اللہ
34:10حضور سے
34:11کی محمد سے وفا
34:13تنہیں تو ہم تیرے ہیں
34:14اور پھر
34:15یہ چھوڑیں کہ
34:17تم کون ہو تم کون ہو تم کون ہو
34:19مجھ سے یہ سوال نہیں کیا جائے گا
34:21پہلے ہی کیا جائے
34:22تم کون ہو
34:23تم بتاؤ
34:23تم نے کیا کیا
34:24جب تمہارے آزا و جوارے
34:25تمہارے خلاف جو گبائی نہیں
34:27بس انہیں روک لو
34:28اللہ اللہ
34:29انہیں روک لو
34:30واب واب
34:33آپ یقین جانے
34:33اگر تفکر کرنا ہے نا
34:36اس پر کرنا
34:36تو روزانہ
34:37عشاء کی نماز کے بعد
34:38پندرہ منٹ
34:39اپنے آپ سے بات کرو
34:42واب واب
34:42اے بندے
34:43تو نے آج کیا کیا
34:44کیا کیا ہے
34:44مقال امام تستری کے
34:46جواب خود مل جائے گا
34:47کہ تمہارا عمل
34:48کیا کہہ رہا ہے
34:49تو
34:49کیا بات ہے
34:50اور
34:51کوئی نکی کر جاؤنا
34:54تو یہ اللہ کا
34:56کرم ہے
34:57لیکن ایک بات
34:59ارس کرتا چلوں
34:59کہ
35:00آج اسلام جو زندہ ہے
35:03وہ تفکر کے وجہ سے زندہ ہے
35:05بے شکر
35:05اگر وہ علماء
35:07نازک ترین وقت میں
35:09دین اسلام کی
35:11آبیاری نہ کرتے
35:12اور تمام
35:14ان
35:16افکار و خیالات
35:18جن کو تزادات کا
35:20مجموعہ کہتے ہیں
35:21ان میں ملت اسلامیہ کی
35:22رہنمائی نہ کرتے
35:23تو ملت اسلامیہ برباد ہو جاتی
35:26آج مسلمانوں کو چاہیے
35:28کہ وہ
35:30قرآن کریم سے جڑیں
35:32جڑیں
35:32اور
35:33احادیث سے جڑیں
35:35اور
35:36اگر
35:38اختلافات
35:39ہے بھی
35:39تو انہیں
35:41نفرتوں کا
35:42ذریعہ بنا کر
35:43تقسیم کے
35:44عمل سے گزر کے
35:45کمزور اپنے آپ کو
35:46نہ کریں
35:46بہت اچھی بات
35:46بہت خوبصورت پیغام
35:47کیونکہ کل
35:48رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
35:50کی بارگاہ میں
35:51کچھ بھی نہیں
35:52تو کم از کم ایک عمل
35:53ہم لے آسکتے ہیں
35:53کہ اللہ میں نے
35:54تیرے حکامات کو
35:55اور تیرے رسول کے
35:56حکامات کو
35:56پڑھ کر یہ کوشش کی
35:58کہ میں تیرے
35:59کسی بندے کی
36:00دلازاری نہ کروں
36:01کسی کو
36:01کافر قرار نہ دوں
36:02کسی کو
36:03برا نہ کہوں
36:03ہاں کوشش کروں
36:05کہ خیر کی بات
36:06دوں
36:06نرمی کے ساتھ
36:07اس پر غور کریں
36:09کہ ہمیں
36:10اپنا رویہ
36:11بدلنا ہے
36:11رویہ
36:12ٹھیک ہوگا
36:13غور و فکر کی
36:14بنیاد پر
36:15تو معاشرے میں
36:16استحقام آئے گا
36:18ورنہ
36:19یہ سمجھیں
36:20کہ
36:20دھولتاشے کا
36:22معاشرہ
36:22بلکہ
36:23نہیں چلتا
36:24بہت شکریہ
36:25ڈاکٹس صاحب
36:25آپ کی تشریفہ
36:25افریقہ
36:26سر آپ تشریف لائے
36:26مفیس صاحب
36:27آپ تشریف لائے
36:27ناظرین محترم
36:28بہت خوبصورت
36:29کائنات تو
36:29بہت بڑی
36:30اللہ نے بنایا
36:31ایک کائنات
36:32آپ کے اندر
36:32موجود ہے
36:33اس کائنات
36:34پر غور کریں
36:35سر کے بال سے
36:36لے کر
36:36پاؤں کے ناخن
36:37تک
36:37کہ اللہ نے
36:38کتنی نعمتوں سے
36:39آپ کو
36:40سرفراز فرمایا ہے
36:41کوئی چیز
36:42طلب نہیں کی
36:42آپ نے
36:43بے طلب
36:43اس کی عطائے ہیں
36:44آپ پر
36:45تو اس پر غور کریں
36:46کہ وہ
36:47یہ جو سانسیں
36:48لے رہے ہیں
36:48وہ ونٹی لیٹر پہ بھی
36:49ہے جو شخص
36:50وہ بھی سانسوں
36:51کا محتاج ہے
36:52لیکن بڑی مہنگی
36:53پڑی ہیں
36:53اس کو سانسیں
36:54اس طرح
36:54یہ جو بینائی ہے
36:56یہ سماعت ہے
36:56یہ تو ہواس خمسہ ہے
36:57یہ جو
36:58پورا سراپہ
36:59ہمارا اللہ کی
37:00نعمت ہے
37:00اور پوری
37:01کائنات ہے
37:01اس پر غور
37:02و فکر کریں
37:03اللہ کا شکر
37:04ادا کریں
37:04قرآن پڑھیں
37:05اس پر غور
37:06و فکر کریں
37:06اللہ کی
37:07بندگی کریں
37:08رسول کریم
37:09صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
37:10کی اطاعت کریں
37:11یہ ہے اصل
37:12غور و فکر
37:12عوامر و نوائی
37:13کو سمجھیں
37:14اور آج کے
37:15اس پرگرام کو
37:15دیکھنے کے بعد
37:16ضرور
37:16اور سب کی بات پر
37:17غور کیجئے گا
37:18رات کو سونے سے پہلے
37:19اپنا محاسبہ
37:20خود کریں
37:21کہ ہم نے
37:21کیا کیا
37:22اور ہمیں
37:23کیا کرنا چاہیے تھا
37:24ہمارا کون سا عمل
37:25متصادم تھا
37:26شریعت کے
37:27کون سا عمل
37:28مطابق تھا
37:29اس کے حوالے سے
37:29ذرا کام ہو جائے
37:31تو میں سمجھتا ہوں
37:31غور و فکر کا
37:32صحیح نتیجہ نکل آئے گا
37:33اسی پیغام کے ساتھ
37:34اپنے میزبان
37:35محمد رئیس احمد
37:35کو اجازت دیجئے
37:36اللہ حافظ
Comments

Recommended