Skip to playerSkip to main content
  • 3 months ago
Bayan

Category

📚
Learning
Transcript
00:00سیدنا بلال افشی رضی اللہ ان کی جو محبت کا ایک انداز ہے پوری جماعت صحابہ میں ایک انفرادی ہے
00:05ایک منفرید شخصیت عزد بلال افشی رضی اللہ ان کی ہے جتنے ظلم و ستم آپ پر ہوئے
00:10کہ بچے آپ کو خاردار تار اڈال کے مکہ کی زمین پر ایسے گھسیٹتے تھے جیسے جانور کو گھسیٹا جاتا ہے
00:16اور آپ کا جسم جو ہے وہ ہمیشہ لہو لہان ہوتا ہے جس وقت میں سیدنا صدیقی اکبر رضی اللہ ان نے آپ کو آزاد کرایا
00:22تو اس وقت بھی جو بیڑیاں آپ کی کھولی گئی ہیں تو وہاں سے خونی خون بیہ رہا تھا
00:26اور جس پیار سے صدیقی اکبر نے انہیں گلے لگایا میں نے کہا نا کہ حضور کے دربار کے یہ طلبہ
00:32جن کو سرکار علیہ السلام نے عشق سکھایا ہے تو وہ محبت سے ایسے گلے لگایا
00:37تو بلال افشی نے اس وقت کیا کہا اے ابو بکر اتنے پیار سے آج تک مجھے کسی نے گلے گیا
00:42تو حضرت بلال افشی رضی اللہ ان کو پھر سرکار علیہ السلام نے کیا تمغہ دیا
00:47اس لیے کہ دین اور اسلام کسی کا ادھار نہیں رکھتا کہ ایک طرف اگر بلال نے وہ سخرات اور چٹانوں کے اوپر
00:54ان کو ایسے لٹا کر ان کی کھال جل جاتی اندر کی چربی پگلتی اور اس کی چڑھ چڑھا ہٹ سنائی دیتی
01:00اور اس وقت بھی بلال کہتے تھے احد احد میرا خدا ایک ہے میرا خدا ایک ہے میرا مصطفیٰ ایک ہے
01:07یہ جان تو بدن سے نکل سکتی ہے لیکن نبی کا کلمہ نہیں نکل سکتا
01:11اور فتح مکہ کے دن آقا علیہ السلام نے پھر ان کو جب کعبے کی چھت پر چڑھایا اور کہا کہ بلال آج کعبے کی چھت پر اذان دیں گے
01:18تو اس وقت حضرت عمر رضی اللہ ان نے بڑا تاریخی جملہ کہا
01:22اے کاش کہ عمر بلال کے گھر میں پیدا ہوا ہوتا ہے
01:25یعنی آج جو حضرت بلال افشی رضی اللہ ان کو یہ رتبہ مقام دیا جا رہا ہے
01:31اچھا حضرت بلال افشی رضی اللہ ان نے بھی آقا علیہ السلام کی شان بیان کی
01:36صدیق اکبر نے تو کمال کیا ہے نا
01:39ان کے پاس ایک شخص آتا ہے اور غالباً اس کا اسلام بھی نہیں ہے
01:43وہ آ کر کہتا ہے کہ
01:44ما شأنو نبی جی
01:46اپنے نبی کی شان بیان کرو
01:48تو صدیق اکبر رضی اللہ ان نے کیا فرمایا
01:51فرمایا کہ میں کیا ان کی شان بیان کرو
01:56یعنی صدیق اکبر رضی اللہ ان سے زیادہ آقا علیہ السلام کو کون جانتا ہے
02:01دودھ میرے نبی پیتے ہیں پیٹ صدیق اکبر کا بھرتا ہے
02:05یعنی یہ جسم ابو بکر کا ہے جان حضور کے وجود میں
02:09ان سے زیادہ حضور کو کون جانتا ہوگا
02:12کہا ایسا کرو میرے بھائی عمر سے پوچھ لو
02:14اب وہ حضرت عمر کے پاس آیا
02:16تو حضرت عمر کو جب پتا چلا ہے کہ ابو بکر نے کہا ہے کہ وہ بیان کریں گے
02:20تو کہا جب وہ نہیں کر رہا تو میں کیا بیان کرو
02:22ایسا کرو میرے بھائی علی سے پوچھ لو
02:24اب یہ پہنچے ہی حضرت سیدنا مولا کائنات رضی اللہ ان کے پاس
02:27مولا کائنات حکمت کا جو ہے وہ سارا سمندر آپ کے سینے میں ہے
02:31تو سوال کیا کہ اپنے نبی کی شان بیان کرو
02:34تو مولا علی نے اس سے سوال پھر کیا
02:36کہنا ایسا کرو کہ تم اس جہاں کی شان بیان کرو
02:40تو وہ کہنے لگے یہ تو بہت بڑا جہاں ہے
02:43یہاں پہ سمندر کی ایک دنیا ہے
02:44بادلوں کی ہے آسمانوں کی ہے تاروں کی جھرمٹ ہے
02:47چاند کیا اپنا ایک جہاں ہے
02:50سورج کا اپنا ایک جہاں ہے
02:51یہ سارے جہاں ہی جہاں ہیں
02:52تو اتنے سارے جہانوں کا میں ذکر کیسے کرو
02:55مولا کائنات رضی اللہ عنہ نے فرمایا
02:58کہ ہمارا قرآن تو کہتا ہے
02:59مطاع الدنیا قلیل
03:01یہ پورا جہاں اتنا سا ہے
03:03اور تو اتنے سے کو بیان نہیں کر پا رہا
03:05اور جن کے بارے میں تو پوچھنے کے لیے آیا ہے نا
03:08وَإِنَّكَ لَا عَلَى خُلُقِ نَعَظِيم
03:11جب تو قلیل کو بیان نہیں کر سکتا
03:13تو علی پر عظیم کو کیسے بیان کریں
03:15کیا کہنے اللہ
03:16حضرت بلال افشی رضی اللہ عنہ
03:19ایسے تاروں کی وہ انجمن
03:21سجیوی زمین پر
03:22کہ ابو بکر بھی عمر بھی عثمان بھی
03:25اہدر بھی سعید بھی سعید بھی تلہ زبیر
03:27سارے صحابہ اکرامہ پر مدود ہیں
03:28اور آج یہاں پر مقابلہ چلاتا
03:31ناتگو شائری کا
03:32کہ سب سے پیاری نات حضور کی کون پڑتا ہے
03:34تو وہاں پر پڑنے والے حضرت سعیدنا
03:37حسان بن ثابت بھی تھے
03:38حضرت عبداللہ بن رواحہ بھی تھے
03:40اور دیکھر بھی تھے
03:41تو حضرت بلال افشی رضی اللہ عنہ
03:42نے ارز کی کہ
03:43سرکار کیا مجھ کو بھی اجازت ہے
03:45کہ میں پڑھوں
03:45حضرت علیہ السلام نے فرمایا
03:47کہ بلکل بلال آپ کو بھی اجازت ہے
03:48پڑھئے
03:49لیکن سرکار جیسی فساد اور بلاغت
03:51ان لوگوں کی ہے
03:52میں ٹھہرا حبشے کا
03:53تو میری اصل جو مادری زمان ہے
03:56وہ حبشی ہے
03:56تو میں کیسے
03:58ایسا کرتا ہوں
03:58میں اپنی زمان میں پڑھتا ہوں
03:59تو انہوں نے پھر اپنی زمان میں پڑھا
04:02آپ یقین کریں حافظ صاحب
04:03آج بھی وہ شیر
04:05عبداللہ بن رضی اللہ عنہ کی
04:07قبر شریف کے ساتھ
04:08جو ان کی محراب ہے
04:09اس محراب پہ ایسے راؤنڈ کر کے
04:11یوں کی شکل میں وہ شیر لکھا ہوا ہے
04:13وہاں پر لکھا ہوا ہے
04:14اور میں ایک نہیں
04:15الحمدللہ
04:16سینکڑوں مرتبہ
04:17سیدنا بلاللہ بن رضی اللہ عنہ کی
04:19دربار شریف میں حاضری کا شرک ملا
04:20وہ شیر ہے کیا
04:22میں نے اس کو غور سے پڑھا
04:23تو اس میں لکھا ہوا ہے
04:24عرابرہ
04:26کنکرہ
04:27کرے کرہ
04:28مندرہ
04:29تو وہاں پر جو صاحبی بیٹھے ہوئے تھے
04:31وہ کہنے لے کہ
04:32بھائی بلال یہ عرابرہ کا مطلب
04:33ہمیں بھی بتاؤ
04:34اس کا مطلب کیا ہے
04:35تو سیدنا بلالہ
04:36ابشیر الدلان نے جب اس کی تفسیر کی
04:37کہ اس کا مطلب کیا ہے
04:38تو اس کی فصاحت کو پھر صاحبی نے
04:40فصاحت و بلاغت کے ساتھ
04:41اس کو یوں بیان کیا
04:42اِذَا الْمَكَارِمُ فِي آفَاقِنَا ذُكِرَتْ
04:46فَإِنَّمَا بِكَ فِيكَ يُدْرَبُ الْمَثَلُ
04:49کہ جس وقت
04:51عزتداروں کے ذکر کیے جائیں گے
04:53اور وہ ذکر
04:55آفاق کی بلندیوں کو جب پہنچیں گے
04:57تو جہاں پر تمام
04:59عزتداروں کے ذکر ختم ہوتے ہیں
05:01وہاں سے میرے نبی کا ذکر شروع ہوتا ہے
05:04اللہ اکبر
05:05یہ سیدنا بلالہ عبشی رتی اللہ تعالی ان کا ہے
05:08تو آقالی صلاة و تسلیم سے
05:10جو ہے وہ قلبی تعلق
05:12زندگی کے تمام شعبوں میں
05:15دینی رہنمائی حاصل کرنے
05:17اور آخرت کو بہتر کرنے کے لیے
05:19ہمارے یوٹیوب چینل
05:20اسلامیک ڈیجٹل سٹوڈیو کو
05:22سبسکرائب کرلیں
05:23اور بیل آئیکن بھی پریس کرلیں
05:25ہمارا آئی ڈی ایس
05:28قرآن سے بھی ملاتا ہے
05:31ہمارا آئی ڈی ایس
05:35ہمارا آئی ڈی ایس
Be the first to comment
Add your comment

Recommended