اللہ ہر چیز کا خوابیدہ علم رکھتا ہے؛ اولاد پر باپ کے گناہوں کا کوئی اثر نہیں، ہر انسان اپنے اعمال کا ذمہ دار۔
قضا و قدر کا معاملہ انفرادی ہے۔
---
📖 آیت ۴۰: إِنَّ الَّذِينَ…
کل اعمال کا وزن
جو گناہ کرے، اس کا وزن برابر اور اس سے بڑی بے انصافی نہیں؛ اللہ عدالت والا ہی حاکم ہے۔
---
🔟 اہم نکات / ٹیگز:
1. نور کا معنی: روشنی، ہدایت، ایمان۔
2. تشبیہی مثال: مشکاة، مصباح، زجاجہ، شفافیت۔
3. زیتون کا تذکرہ: “نہ مشرقی نہ غربی” ایک صاف، عالمگیر اور پاک ہدایت کی نشانی۔
4. نور بر نور: نور کا مسلسل اضافہ اور برکت۔
5. ہدایت کی مشیت: اللہ اپنے پسندیدہ بندوں کو روشنی دکھاتا ہے۔
6. کفر کا انجام: ظلم کی اندھیروں میں خدا کی نور نہیں پہنچتی۔
7. ذاتی ذمہ داری: باپ کے گناہوں کا اثر اولاد پر نہیں۔
8. عدل الہی: ہر انسان کے اعمال برابر ہمارے سامنے محفوظ ہیں۔
9. مثالوں کی حکمت: انسانی سمجھ بوجھ کے لیے مشابہتیں۔
10. نور کی حقیقت: مادی و معنوی دونوں جہتوں میں، نور اللہ کی صفات میں سے ہے۔
---
🌟 خلاصۂ کلام:
اللہ سبحانہٗ کی قدرت اور ہدایت اس "نورانی چراغ" کے ذریعے عالمی اور فردی سطح پر ظاہر ہوتی ہے۔ روشنی کی یہ تشبیہ ہمیں بتاتی ہے کہ ایمان، قرآن، نبوت و وحی اور الہٰی رہنماؤں کا نور کس طرح ہمارے دل و فکر کو منور کر کے ظلمتِ جہالت سے بچاتا ہے۔ اللہ ہمیں اس نور کی ہدایت نصیب فرمائے اور اندھیروں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
اگر آپ مزید تفصیل چاہیں، جیسے تفسیر ابنِ کثیر یا میزان وغیرہ سے مقتطفات، یا مخصوص نکات پر توسع چاہیے، تو براہِ کرم بتائیں۔
---
نوٹ: آیات ۳۵–۴۰ میں “لا شرقیّة ولا غربیّة” زندہ مثال کے طور پر ایک خالص، صاف اور عالمگیر ہدایت کی قوت کو ظاہر کرتی ہیں، جو نہ کسی خاص جغرافیے سے مشروط ہے اور نہ ہی وقتی یا علاقائی بندی میں۔