00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:02عنم سلمت رضی اللہ تعالی عنہ قالت
00:05قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
00:08من رآہ لال ذی الحجہ فأراد ان یضاحی فلا یأخذ من شعره ولا من اضفاره حتی یضاحی
00:16رواح النسائی
00:18نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
00:21جو شخص ذو الحج کا چاند دیکھ لے
00:24اور وہ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو
00:26تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کٹے
00:28حتیٰ کہ وہ قربانی کر لیں
00:30دوستو
00:32جن لوگوں کا قربانی کرنے کا ارادہ ہے
00:36ان کے لیے مستحب عمل یہ ہے
00:39کہ ذو حج کا چاند نظر آنے سے لے کر
00:41قربانی کا جانور زبا ہونے تک
00:44وہ اپنے ناخن اور بال وغیرہ نہ کٹوائیں
00:47بلکہ ذو حج کا چاند نظر آنے سے پہلے
00:50وہ اپنے ناخن اور بال وغیرہ درست کروالیں
00:53یہاں دو باتیں ذہن میں رکھیں
00:55ایک تو یہ عمل ان لوگوں کے لیے ہے
00:58جو قربانی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں
01:01حضور نے خود فرمایا
01:04کہ اس کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو
01:07لہذا جو قربانی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں
01:10یہ عمل ان کے لیے مستحب ہیں
01:11اور دوسری درخواست یہ ہے
01:14کہ ہر عمل کو اس کی جگہ پر رکھنا چاہیے
01:17یہ مستحب عمل ہے
01:19اس کو کرنا چاہیے
01:21یہ باعث سواب ہے
01:22لیکن اگر کوئی شخص اہتا ہے
01:24جو سفر پر تھا
01:25یا اس کے علم میں نہیں تھا
01:27یا سستی کی وجہ سے
01:28وہ بال ناخن وغیرہ نہیں کٹوا سکا
01:31اور اب زلحج کا چاند نظر آ گیا
01:33اور بال بڑھ رہے ہیں
01:34اور ناخن بڑے بڑے ہو رہے ہیں
01:35تو اب ان کو چاہیے
01:37کہ وہ ناخن اور بال وغیرہ کٹ لیں
01:39کہ زلحج کے دس دنوں کے اندر بھی
01:42بال اور ناخن کٹنا جائز ہے
01:44اگر کسی کے بہت زیادہ بڑھ رہے ہیں
01:46باقی بہتر یہی ہے
01:48جو درخواست کر دی گئی ہے
01:49حضور علیہ السلام نے بقاعدہ فرمایا
01:52کہ زلحج کا چاند نظر آنے سے
01:53پہلے پہلے بال اور ناخن بنوالیں
01:55کہ جب زلحج کا چاند نظر آ جائے
01:57اس وقت سے لے کے
01:59قربانی کا جانور جبا ہونے تک
02:01مستحب یہ ہے
02:02کہ وہ ناخن اور بال وغیرہ نہ کٹوائیں
02:05السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Comments