چار بھائی اور ایک غلط فہمی — سسپنس اور جذبات سے بھرپور فیملی کہانی
ایک بڑے شہر کے پُرہجوم علاقے میں رہتے تھے چار بھائی: حارث، فیضان، عدیل اور ارسلان۔ ان کے والد ایک درویش صفت انسان تھے، جن کی اچانک وفات نے گھر میں ایک خاموش طوفان برپا کر دیا۔ ماں حوصلہ رکھتی تھی، مگر دل سے چاہتی تھی کہ اس کے چاروں بیٹے ہمیشہ ایک ساتھ رہیں۔
---
1. بڑے خواب، الگ راستے
چاروں بھائیوں کے مزاج الگ تھے:
حارث: سب سے بڑا، ذمہ دار اور سخت گیر۔ اپنے باپ کی دکان سنبھالتا تھا۔
فیضان: بہت جذباتی، فنکارانہ طبیعت، فوٹوگرافی کا شوقین۔
عدیل: حساب کتاب میں ذہین، ہمیشہ کاروبار کرنے کا خواب دیکھتا تھا۔
ارسلان: سب سے چھوٹا، نرم دل، مگر غصہ جلد آ جاتا تھا۔
والد کی وفات کے بعد حارث نے دکان سنبھال لی، لیکن فیضان نے اپنے کیمرے کا پیچھا، عدیل نے بزنس پلان اور ارسلان نے پڑھائی کو ترجیح دی۔ رفتہ رفتہ ان میں بحثیں، اختلافات اور خاموشیاں بڑھتی گئیں۔
---
2. دکان پر حملہ — کہانی کا موڑ
ایک رات دکان پر اچانک ڈاکوؤں نے حملہ کیا۔ حارث کو معمولی چوٹ آئی مگر دکان کا کافی سامان لوٹ لیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ یہ کام اندر کی معلومات رکھنے والے کسی شخص نے کیا ہے۔
یہ بات سن کر حارث کو شک ہوا… اور اس کا شک سیدھا اپنے ہی بھائی عدیل پر گیا، کیونکہ چند دن پہلے دونوں میں کاروباری معاملے پر سخت تلخ کلامی ہوئی تھی۔
حارث نے غصے میں آکر کہا: "یہ سب تم نے کروایا ہے!"
عدیل تڑپ اٹھا: "میں ایسا کبھی نہیں کر سکتا!"
لیکن جذبات اتنے شدید تھے کہ بھائی ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔ گھر کا ماحول ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا۔
---
3. سچ سامنے آتا ہے
چند ہفتے بعد ایک دن ارسلان نے اتفاقاً پڑوس کے ایک لڑکے کو اپنے موبائل پر ڈاکوؤں کی ویڈیو چلاتے دیکھا۔ ارسلان چونک گیا، کیونکہ ویڈیو میں وہی لڑکا ڈاکوؤں کا ساتھی تھا۔
جلد ہی پتہ چلا کہ ڈاکوؤں کو اندر کی معلومات پڑوسی نے دیں تھیں کیونکہ وہ عرصے سے دکان پر نظر رکھے ہوئے تھا۔
ارسلان نے فوراً ویڈیو گھر لائی اور سب بھائیوں کو دکھائی۔ سچ سامنے آتے ہی عدیل کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے۔ حارث گھنٹوں خاموش رہا… پھر اٹھا اور عدیل کو گلے لگا لیا۔
"مجھ سے غلطی ہوئی، بھائی… میں شرمندہ ہوں۔" عدیل بھی روتے ہوئے بولا: "میں بڑے بھائی ہوں… مجھے شک برداشت کرنا چاہیے تھا۔"
---
4. بھائیوں کی واپسی
اس واقعے کے بعد چاروں بھائی پھر ایک ہوگئے۔
حارث نے دکان کی سیکورٹی بڑھائی۔
عدیل نے کاروبار کو بڑھانے میں اپنا دماغ لگایا۔
فیضان نے دکان کے لیے اشتہاری فوٹوگرافی کی۔
ارسلان نے پڑھ کر پولیس کے شعبے میں جانے کی ٹھان لی تاکہ دوسروں کے ساتھ ایسا نہ ہو۔
گھر میں پھر سے ہنسی واپس آگئی۔ ماں کی آنکھیں برسوں بعد سکون سے بھر گئیں۔
---
5. سٹوری کا پیغام
غلط فہمی وہ زہر ہے جو سب سے مضبوط رشتوں کو بھی کمزور کر سکتی ہے… لیکن ایک سچ، ایک قدم اور ایک گلے لگانا سب کچھ واپس جوڑ سکتا ہے۔
Be the first to comment