00:00لا اله الا اللہ پڑھ لا اله الا اللہ
00:09ان زمانے اس زمانے کے اندر اللہ تعالیٰ رکھی ہے وہ قربانی کی عبادت
00:14اور ایام نحر میں یعنی تین دن جو ہیں دس یارہ بارہ دلہجہ
00:25اس میں حدیث میں آتا ہے کہ کوئی عبادت اللہ کو اتنی محبوب نہیں
00:31جتنا خون بہانا یعنی قربانی کرنا
00:36تو یہ بڑی عظیم عبادت ہے اور چلی آ رہی ہے حضرت آدم علیہ السلام کے وقت ہے
00:45حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں نے بھی قربانی کی تھی
00:51اس کا ذکر قرآن کریم میں ہے
00:53اور اس کے بعد تمام انبیاء کرام کی شریعتوں میں
00:59قربانی کسی نہ کسی صورت میں موجود رہی ہے
01:03اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں
01:07یہ تین دن قربانی کے لیے مقصود فرمائے گئے ہیں
01:11آج اس کے بارے میں کچھ غلط فہمی ہیں
01:15لوگوں کے دلوں میں کچھ پیدا ہو رہی ہیں
01:19کچھ پیدا کی جا رہی ہیں
01:21جن لوگوں کو دعویٰ ہے کہ ہم اپنے عقل سے کام لیتے ہیں
01:33وہ یہ کہتے ہیں کہ بھئی
01:36یہ قربانی کی عبادت جب ادا کی جاتی ہے
01:40جانور اتنے جانور قربان کیے جاتے ہیں
01:43تو قوم کا عربوں روپیہ
01:48یہ اس کے اندر خرچ ہو جاتا ہے
01:51نالیوں میں بہ جاتا ہے
01:53تو بجائے اس کے
01:56کہ قربانی کریں ہم
01:59اتنے روپیہ جو ہم کسی فقیر کو دے دیں
02:02کسی غریب کو دے دیں
02:03اور اس کی مدد کر دیں
02:05تو یہ شاید زیادہ
02:06سواب ہوگا
02:08وہ تو شاید بھی استعمال نہیں کرتے
02:10وہ تو کہتے ہیں
02:10ضرور ایسا کرنے میں
02:12زیادہ سواب ہوگا
02:14ابھی مرے سے
02:15کوئی صاحب ذکر کر رہے تھے
02:17کہ کسی نے یہ اعلان کیا ہے
02:19کہ میں اگر قربانی کرتا
02:22میرے گھر والے قربانی کرتے
02:23تو اتنے ہزار روپے
02:25خرچ ہوتے
02:26تو میں نے اس ہزار روپے میں
02:29ایک کولر رگا دیا ہے
02:30اپنے محلے کے اندر
02:32جس سے لوگ
02:34ٹھنڈا پانی پیئے
02:35تو بجائے
02:37قربانی کرنے کے
02:39میں لوگوں کے فائدے کے لیے
02:40کولر رگا دیا
02:41تاکہ
02:42اس سے لوگ فائدہ اٹھائیں
02:44ان عقل سے پیدل لوگوں کو
02:48یہ پتہ نہیں ہے
02:50کہ ہر عبادت کا
02:51اپنا ایک مقام ہے
02:53ہر عبادت کا اپنا ایک مقام ہے
02:57نماز
02:58کوئی شخص کہہ کہ
03:00بھئی نماز میں میرے
03:02پندرہ منٹ خرچ ہوتے ہیں
03:05تو یہ پندرہ منٹ میں جا کے
03:07مریضوں کے عیادت کر لیا کروں گا
03:09بجائے نماز پڑھنے کے
03:11مریضوں کی تیمارداری کر لیا کروں گا
03:14تو ان سے پائدہ ہوگا
03:16تو یہ
03:17ہماقت ہوگی نہیں ہوگی
03:20کہ آدمی
03:21جو کام جس وقت میرے مولا نے فرض کیا ہے
03:26اس کو ادا کرنا یہی بندگی ہے
03:29اور قربانی کا فلسفہ ہی یہ ہے
03:33قربانی کا سارا فلسفہ ہی یہ ہے
03:38کہ آدمی
03:39اللہ تعالیٰ کے حکم کے آگے
03:42سر جھکا کر
03:43اپنے سارے مفادات کو قربان کر دے
03:46جو قربانی کس کی یاد میں ہو رہی ہے بھائی
03:50سب مسلمان جانتے ہیں
03:53کس کی یاد میں ہیں حضرت
03:56ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام
04:00اب اچانک
04:03ابراہیم علیہ السلام کو حکم آ جاتا ہے
04:06کہ اپنے پیارے چہیتے
04:07بیٹے کو
04:08قربان کر دو
04:10زبا کر دو
04:12پلٹ کے ابراہیم علیہ السلام نے یہ نہیں پوچھا
04:16یہ میرے بیٹے نے کیا قصور کیا ہے
04:20نابالک بچہ ہے
04:22نابالک بچہ جو ہوتا ہے
04:24وہ تو جہاد کی حالت میں بھی
04:26جنگ کی حالت میں بھی
04:29اس کو مارنا جائز نہیں ہے
04:30اور یہ نہ جنگ کی حالت ہے نہ کچھ ہے
04:34نہ اس نے کوئی گناہ کیا ہے
04:36یہ معصوم بچہ ہے
04:38کیوں قربان کروں اس کو
04:40اللہ تعالیٰ سے پلٹ کے نہیں پوچھا
04:43بیٹے سے کہا کہ
04:46بیٹا میں تمہیں خواب میں دیکھ رہا ہوں
04:49کیا میں تمہیں زبا کر رہا ہوں
04:50بیٹے کو بتایا
04:53کہ انبیاء کا خواب بھی بہی ہوتا ہے
04:55تو اس سے پوچھا
04:57بتاؤ تمہاری کیا رہا ہے
04:58فنظر مازا ترہ
05:00تو بیٹا بھی
05:03اگرچہ نابالک تھا
05:05لیکن وہ بیٹا تھا
05:06جس کے صلب سے رحمت العالمین
05:08صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لانے والے تھے
05:10اس نے بھی پلٹ کر یہ نہیں کہا
05:12اب بجان
05:13مجھ سے کیا قصور ہوا
05:15مجھ سے کیا غلطی ہوئی
05:18جس کی وجہ سے مجھے قتل کیا جا رہا ہے
05:20جواب میں کیا بولا
05:22جواب میں کہا
05:24کہ
05:24اب بجان
05:31جس بات کا آپ کو حکم دیا گیا ہے
05:34وہ کر گزری ہے
05:35اور میری فکر نہ کیجئے
05:38ستجدونی انشاءاللہ من الصابرین
05:40آپ مجھے انشاءاللہ صبر کرنے والوں میں پائیں گے
05:44یہ ہے نا یادگار قربانی کی
05:48تو اس سے آپ بتاؤ کہ
05:51یہ جو حکم تھا
05:53کہ میں اپنے بیٹے کو قربان کر دو
05:55اس کو عقل کی کسی طرح ذو میں
05:58تول کے دیکھ لو
05:59اس کا کوئی تعلق
06:02عقل سے سمجھ میں آتا ہے
06:03باپ اپنے بیٹے کو مارے
06:06ایسے بیٹے کو جو نابالی گئے
06:09ایسے بیٹے کو جو بے قصور ہے
06:11اور خود اپنے ہاتھ سے زبا کرے بیٹے کو
06:17کوئی عقل میں آتی ہے کوئی بات
06:19لیکن
06:21پیغمبر تھے
06:24تو انہوں نے کہا
06:25جی عقل بقل کچھ نہیں ہے
06:26ہماری اصل بات تو میرے مالک کا حکم ہے
06:29لہذا
06:31لٹا دیا
06:32فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ الْجَبِينَ
06:37دونوں اللہ کے حکم کے آگے جھگ گئے
06:39اور باپ نے بیٹے کو
06:42پیشانی کے بر لٹا دیا
06:43خاص طور پر قرآن نے ذکر کیا
06:46کہ پیشانی کے بر لٹایا
06:48یعنی الٹا
06:49کیوں
06:51تاکہ میں باپ ہوں
06:53کہیں جب چھوڑی چلا ہوں
06:54اس کے اوپر
06:55اس کا معصوم چہرہ میرے سامنے آئے
06:58تو کہیں میری چھوڑی رک نہ جائے
07:00تو الٹا لٹایا
07:04یہی عظمائش تھی
07:07اللہ تبارک و تعالی نے
07:08فرمایا کہ
07:11یا ابراہیم قد صدقت الرؤیہ
07:14تم نے خواب پورا کر دیا
07:17اپنے کرنے کا کام کر لیا
07:20میرے حکم کے آگے جھک گئے
07:22اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے
07:26تو اب دیکھو ہم نے کیا
07:28مجزہ دکھانا ہے
07:29کہ اسماعیل تو ایک جگہ بیٹے مسکر آ رہے ہیں
07:33اور ان کی جگہ ایک مینڈہ
07:35زبا کیا ہوا پڑھائے
07:36یہ ہے نا اصل ابراہیم
07:39یہ سنت ابراہیمی
07:42تو یہ سنت تو ہے ہی اس کام کے لئے
07:46کہ جب
07:47اللہ سبارک و تعالی کا حکم آ جائے
07:49تو عقل کے گھوڑے
07:50دوڑانا یہ بندے کا کام نہیں آئے
07:53بندے کا کام یہ ہے
07:55کہ اس کو اتباع کرے
07:56یہ جو تم عقل کے گھوڑے
07:58دوڑا رہے ہو
07:59کہ عربوں روپیہ خرچ ہو جائے گا
08:01ملت کا
08:03تو یہ
08:04یہ عقل کے گھوڑے
08:06کہیں اور بیچ کے آؤ
08:08اللہ کا حکم ہے
08:10لہذا کرنا ہوگا
Comments