00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:02عن جابرن رضی اللہ تعالی عنہ قال
00:05فَذَبَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْيَدِهِ وَقَال
00:09بسم اللہ واللہ اکبر
00:12هَذَا عَنِّي وَعَمَّن لَمْ يُضَحِ مِنْ أُمَّتِي
00:15رواح ابو داود
00:17حضرت جابر رضی اللہ تعالی نے بیان فرماتے ہیں
00:21کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی موجود تھا عیدگاہ میں
00:25جب آپ نے عید الازحاء کی نماز پڑھائی پھر خطبہ ارشاد فرمایا
00:30اس کے بعد جب میمبر سے نیچے اترے
00:32تو ایک میڑھا آپ کے پاس لائیا گیا
00:34آپ نے اپنے ہاتھ سے اس کو زباہ فرمایا
00:37اور اس پر بسم اللہ پڑھی اور تکبیر کہی
00:40اور پھر فرمایا
00:41هَذَا عَنِّي یہ میری طرف سے ہے
00:43وَعَمَّن لَمْ يُضَحِ مِنْ أُمَّتِي
00:46اور میرے ہر اس امتی کی طرف سے جو قربانی کرنے کی گنجائش نہیں رکھتا
00:51دوستو
00:53نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
00:57ہر اس شخص کے لئے قربانی
00:59یا ہر اس شخص کی طرف سے قربانی کر دیا
01:02اور اس کو اپنے ثواب میں شامل کر لیا ہے
01:05جو قربانی کی گنجائش نہیں رکھتا
01:07اس کے پاہ وساط نہیں ہے
01:08اسی لئے کل یہ جملہ کہا گیا تھا
01:10کہ جو لوگ استعتاعت و گنجائش نہیں رکھتے قربانی
01:13کہ وہ دل چھوٹا نہ کریں
01:14نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
01:17ان کو اپنی قربانی کے ثواب میں شامل کر لیا ہے
01:20اب رہیے بات کہ جو لوگ صاحب وسائل ہیں
01:24جن کے پاس استطاعات اور غصات ہے
01:26وہ لوگ قربانی ضرور کریں گے
01:29دیکھیں ہمیں روایات میں یہ بھی ملتا ہے
01:31کہ حضور کے زمانہ میں
01:33گھر کا ایک فرد پورے گھر والوں کی طرف سے قربانی کر دیتا تھا
01:37یعنی ایک فرد کی قربانی سارے گھر والوں کی طرف سے سمجھی جاتی تھی
01:41جیسا کہ ترمدی کی روایت میں
01:43حضرت ابو عیوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ
01:45انہوں نے اسی بات کو بیان فرمایا ہے
01:47کہ ایک فرد قربانی کرتا تھا اور پورے گھر والوں کی طرف سے کافی ہو جاتی تھی
01:51تو اس بات کو سمجھیں کہ احکام شریعت بتدریج نازل ہوئے ہیں
01:57اور چونکہ قربانی ایک عبادت ہے
02:00جس طرح زکاة ایک عبادت ہے حج ایک عبادت ہے
02:03تو جہاں ہر ایک کا نصاب ہر شخص کا الگ ہے
02:07زکاة میں حج میں
02:09ویسے ہی قربانی میں بھی
02:10ہر ایک کے نصاب کا الگ سے احتبار کیا گیا ہے
02:13اس وقت چونکہ گھر میں سے عام طور پر ہوتا ہی
02:16کوئی ایک فرد تھا صاحب نصاب
02:18تو وہ قربانی کرتا تھا تو کہا جاتا تھا
02:20سب گھر والوں کی طرف سے قربانی ہو گئی
02:22جبکہ دوسری روایت میں ہمیں یہ ضرور ملتا ہے
02:25کہ
02:26کہ حضور نے اپنی ازواج متحارات کی طرف سے گائے کی قربانی کی
02:34اور یہ بات ہم پہلے پڑھ چکے ہیں
02:36کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
02:38وہ مینڈے کی قربانی کیا کرتے تھے
02:41یعنی حضور نے اپنی طرف سے یہ قربانی کی
02:43وہ مینڈے کی قربانی
02:44اور ازواج متحارات کی طرف سے حضور نے گائے کی قربانی کی
02:48اسے یہ معلوم ہوا
02:49کہ ازواج متحارات یعنی گھر والوں کی طرف سے
02:51الگ سے قربانی کی گئی ہے
02:53تو اس لیے ہم سب کو چاہیے
02:55اس بات کی کوشش فرمالیں
02:56کہ جن لوگوں کے پاس گنجائش اور وسط ہے
02:59وہ لوگ اپنی الگ سے قربانی کریں
03:02جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
03:04نے اپنی ازواج متحارات کی طرف سے
03:06الگ سے قربانی کی ہے
03:08اور جن کے پاس گنجائش نہیں ہے
03:10ان کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں
03:12کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
03:14نے ان کو قربانی کے ثواب میں شامل
03:16کر لیا ہے
03:17السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Comments