Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago

Category

🎈
Fun
Transcript
00:00شام کا وقت تھا اور بند روڈ لاہور پر گاڑیوں کا شور اپنے اروج پر تھا
00:04حاجی احشت صاحب اپنی آٹو پارس کی دکان کے باہر لکڑی کی کرسی پر بیٹھے چائے کی پیالیاں سلک رہے
00:10تھے
00:10ان کا شمار شہر کے ان پرانے تاجروں میں ہوتا تھا جنہوں نے 1980 کی دہائی سے چائنہ اور دیگل
00:16ملکوں کے ساتھ تجارت کی تھی
00:17اور مارکیٹ کی اونچ نیچ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا
00:21اسی وقت ان کا ایک نوجوان دوست اور کریانے کا تاجر کاشف پریشان حال حالت میں داخل ہوا
00:27اور کرسی پر بیٹھتے ہی بولا حاجی صاحب بزنس تباہ ہو رہا ہے
00:31مقامی منفیکچر سے جو ٹریکٹر کے پسٹن اور ذریعی آلات کا سامان منواتا ہوں
00:36گاہت دو دن بعد واپس لاکر مو پر مارتا ہے کہ یہ تو ہم کا میٹیریل ہے
00:40خود بنانے بیٹھو تو نہ ویسی مشینری ہے اور نہ وہ میٹیریل
00:44سمجھ نہیں آ رہی کیا کروں
00:46حاجی صاحب نے مسکرا کر چائے کا گھونٹ لیا اور کاشف کے کٹھہرے پر ہاتھ رکھ کر بولے
00:51کاشف بیٹے اپنے آپ کو اور اپنے نام کو کیوں بدنام کرتے ہو
00:55جب تمہارے پاس وہ مشینری نہیں وہ میٹیریل نہیں
00:58تو حالت چیز بنا کر کیوں بیچتے ہو
01:00زمانہ بدل چکا ہے
01:02تو پھر میں کیا کروں حاجی صاحب
01:04کاشف نے ناومیدی سے پوچھا
01:06حاجی صاحب نے اپنا موبائل نکالا اور اس کی سکرین کاشف کے سامنے کی
01:10سب سے پہلے اپنے موبائل میں ویچیٹ انسٹال کرو
01:13کاشف نے حیرت سے دیکھا
01:15یہ چینی ایپ
01:16اس سے کیا ہوگا
01:17اس ایپ سے تم چائنہ کے اصل سپلائر اور فیکٹری سے ڈاریک جڑ جاؤگے
01:22حاجی صاحب نے سمجھاتے ہوئے کہا
01:24چاہے آٹوپارٹسوں
01:25کریانہ
01:26گارمنٹسوں
01:27یا کاسمیٹک
01:28سب کا سامان وہاں سے ڈاریک ملتا ہے
01:30تمہارے شہر میں بند روڈ پر اور راولپنڈی
01:33کراچی میں ایسی پاکستانی کارگو کمپنیاں موجود ہیں
01:36جو وہاں سے سامان سیدھا
01:38تمہاری دکان تک پہنچا دیتی ہیں
01:40بلکل ایسے جیسے ہم لاہور سے
01:42فیصل آباد ٹرک کے اڈے پر
01:44سامان بک کراتے ہیں
01:45کاشف کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ دیں
01:48لیکن حاجی صاحب پیسے ڈوبنے کا ڈر نہیں
01:50بلکل نہیں
01:51حاجی صاحب نے سنجیدگی سے کہا
01:53اگر اعتبار ہو تو ڈاریک بھیج دو
01:56نہیں تو انہی کارگو کمپنیوں کے ذریعے
01:58محفوظ طریقے سے بھیجو
01:59تم خود فیزیبیلٹی بناو
02:01یہاں ہلکا سامان خود اسیمبل کرنے پر
02:04کتنی لاغت آتی ہے
02:05اور چائنہ سے میاری سامان منگبانے پر
02:08کیا ریٹ پڑتا ہے
02:08ہندوستان نے بھی یہی کیا
02:10چائنہ سے ٹیکنالوجی لی اور آگے نکل گیا
02:13ہم وہیں پرانے میٹیریل پر اٹھ کے رہے
02:15کاشف کو حاجی صاحب کا
02:17چالیس سالہ تجربہ اور بات کی
02:19سچائی فوراں سمجھا دئی
02:20اس نے اسی وقت اپنا فون نکالا اور بھولا
02:23حاجی صاحب پہلے مجھے یہ
02:25ایپ انسٹال کروائیں اور طریقہ سکھائیں
02:27اب میں گھٹیا میٹیریل بیچ کر
02:29اپنا نام خراب نہیں کروں گا
02:31حاجی صاحب کے چہرے پر ایک اتمنان
02:33بکش مسکراہت آگئی کیونکہ انہوں نے
02:35ایک اور نوجوان کو پرانے طریقوں سے
02:37نکال کر جدید اور سچے
02:39بزنس کی راہ دکھا دی تھی
Comments

Recommended