Skip to playerSkip to main content
  • 5 hours ago
Roshni Sab Kay Liye

Watch All The Episodes ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xic1NLGY05O7GY70CDrW_HCC

Topic: Makkah al-Mukarramah

Host: Safdar Ali Mohsin

Guest: Dr. Mufti Irfanullah Saifi, Peer Irfan Elahi Qadri

#RoshniSabKayLiye #islamicinformation #ARYQtv

A Live Program Carrying the Tag Line of Ary Qtv as Its Title and Covering a Vast Range of Topics Related to Islam with Support of Quran and Sunnah, The Core Purpose of Program Is to Gather Our Mainstream and Renowned Ulemas, Mufties and Scholars Under One Title, On One Time Slot, Making It Simple and Convenient for Our Viewers to Get Interacted with Ary Qtv Through This Platform.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00. . . . . . . .
00:30. . . . .
01:00. . . . . .
01:01. . . . . . .
01:02. . . . . . . . .
01:02and all of them have their own way
01:04and the Lord's presence of God
01:05and the Lord's presence of his for example
01:09and the Lord's presence of his disciples
01:11and the Holy Spirit of God
01:13and the Lord's presence of his father
01:16our today's presence
01:17our today's presence
01:19will be related to the
01:22which we should have
01:24as well as the Lord's presence of his father
01:31we have our own remem and our own
01:34our family
01:35that is our home
01:35cordless
01:36home
01:36we had
01:37the
01:38way
01:39the
01:40peace
01:40peace
01:40peace
01:40peace
01:42peace
01:43peace
01:43peace
01:43We have to go with Allah, His s.s. and the power of His s.s.
01:48and the power of His s.s.
01:48His s.s. has come to bear with us,
01:52His monument has been very high and the power of His s.s.s.
01:55and that is our hair,
01:57and that is our honor to be prepared.
01:59And we will try to do that in our days,
02:01that we will try to do this with our somnets and conversation.
02:07We will see in ourachter's activities here that is
02:10our focus on our subject.
02:11We are going to start our subject.
02:13Thank you very much.
02:43Thank you very much.
03:20Thank you very much.
03:43Thank you very much.
04:13Thank you very much.
08:28We have a voice.
08:29For example, we have a voice.
08:31This is a voice.
08:32This is a voice.
08:33We have a voice.
08:35We have a voice.
08:36We have a voice.
08:39How do we have a voice?
08:40This is a voice.
08:43This is a background.
08:47We have a voice.
08:52Let's hear it.
08:52Bismillah ar-Rahman ar-Rahim.
08:54Allah تعالیٰ نے قرآن مجید
08:56میں اس کا ذکر فرمایا ہے.
08:58اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُدِعَ لِلنَّاسِ
09:00کہ یہ پہلا گھر
09:02جو تعمیر کیا گیا.
09:04بِبَكَّةَ مُبَارَكًا هُدَلْ لِلنَّاسِ
09:06پہلا گھر مکہ المکرمہ
09:08میں لوگوں کے لئے بنایا گیا.
09:11اور یہ برکتوں والا بھی ہیں.
09:13اور لوگوں کے لئے باعث
09:14ہدایت اور غہنمائی بھی ہیں.
09:17تاریخ اعتبار سے
09:18اگر دیکھیں تو جب
09:20تاریخ انسانی کا آغاز
09:22ہوتا ہے. وہیں سے
09:24حرمِ کعبہ کا آغاز ہو جاتا ہے.
09:26صحیح.
09:28روایات میں آتا ہے کہ حضرتِ آدم
09:30علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ
09:32نے حکم ارشاد فرمایا.
09:34کہ اوپر جہاں پر بیت المعمور ہے
09:36اور فرشتے جس کی عبادت کرتے
09:38اور جس کے اردگرد تواف کرتے ہیں
09:40بلکل اس کے نیچے
09:42زمین کے اوپر اس گھر کی تعمیر کی جائے.
09:44تو حضرتِ آدم علیہ السلام
09:46نے اس کا آغاز فرمایا. اس تعمیر
09:48کو شروع کیا.
09:50حضرتِ آدم علیہ السلام کے دور میں
09:52یہ تعمیر ہوئی. اور
09:54اولادِ آدم جن کو حکم
09:56دیا گیا وہ عبادت کرتے رہے اور
09:58اس گھر میں اللہ کے حضور اپنی نیازمندیاں
10:00پیش کرتے رہے. یہ سلسلہ
10:02حضرتِ نو علیہ السلام
10:03تک قائم رہا. صحیح. جب
10:06توفانِ نو آیا تو
10:08خانہ کعبہ کو اٹھا لیا گیا.
10:10روایات میں آتا ہے کہ پھر اس کے بعد
10:12جو ہے وہ یہ ایک میدان کی صورت میں
10:14اور ایک یعنی
10:16میدانی علاقے اور ریتلی علاقے کی صورت میں
10:18جو ہے وہ وادی غیری زی
10:20ذر جس کو قرآن نے کہا اس کی صورت میں
10:22رہا. پھر جب حضرتِ عبراہیم
10:24علیہ السلام کو حکم ہوا
10:26کہ آپ اپنے لختِ جگر اسمائیل
10:28کو اور اپنی زوجہ
10:30مائی حاجرہ کو آپ وہاں
10:32پر چھوڑائیں. تو یہ وہی
10:34جگہ ہے جہاں پر حکم دیا.
10:36اور حضرتِ عبراہیم علیہ السلام
10:38کے جو الفاظ ہیں. اب قرآنِ مجید میں دیکھیں
10:40نا تو وہ اللہ کی بارگاہ میں یہ ارز
10:42کرتے ہیں. کہ یا اللہ
10:44میں نے اپنی اولاد
10:46کو تیرے اس برکت والے حرم
10:48والے گھر کے قریب چھلا. حالانکہ
10:50اس وقت ابھی ظاہری تعمیر نہیں ہوئی.
10:52لیکن اس کی ایک روحانی تعمیر
10:54موجود تھی. یعنی پہلے حضرتِ عبراہ
10:56علیہ السلام کے صورت میں موجود تھی. اور اس کے
10:57روحانی معاملاتیں موجود تھے. اور نبی
11:00جو ہے وہ اس کو ملاحظہ بھی فرماتے ہیں. اور پھر
11:02جب اللہ تبارک و تعالی نے حکم
11:04دیا. جب حضرتِ اسماعیل
11:06علیہ السلام وہاں
11:08چھوٹی سی عمر میں وہاں قیام پذیر
11:10رہے. اور پھر حضرتِ مائی حاجرہ
11:12تو پانی نہیں تھا. اور
11:13اللہ تعالی نے آبِ زمزم کی صورت میں وہاں
11:15چشمہ عطا فرمایا حضرتِ اسماعیل علیہ السلام
11:17کی برکت سے. تو اس کے بعد
11:20عرب کا رواج تھا کہ جہاں
11:22پر پانی ہوتا تھا وہاں پر آکے قیام کرتے
11:24تھی. تو وہاں قبیلہ جرحم
11:26وہاں پر آیا. اور اس نے آکے دیکھا
11:28کہ پانی ہے. اور ایک مائی صاحبہ اور ایک چھوٹا
11:30سا بچہ ہے. تو ان سے گزارش کی کہ ہمیں یہاں
11:32قیام کی اجازت دی جائے. تو
11:34انہوں نے کہا کہ آپ اجنبی لوگ ہیں. انہوں نے کہا
11:35آپ ہم سے بے فکر رہے ہیں. ہم آپ کے ساتھ
11:38رہیں گے. ہم آپ کا پانی
11:39لیں گے. اور ہم آپ کی خدمت
11:42کریں گے. اور ہم کھانا پیش کریں گے. تو
11:44اس طرح قبیلہ جرحم جو ہے. وہ وہاں
11:46پر آباد ہوا. اور یہاں سے پھر
11:48وہاں پر حصل انسانی کی اصل
11:50حصلہ جو ہے وہ شروع ہو گیا. اور پھر
11:52حضرت ابراہیم علیہ السلام کو
11:54حکم ہوا. جب حضرت اسماعیل تھوڑے سے جوان
11:56ہوئے. تو حکم ہوا کہ جاؤ اور خانہ
11:58کابہ کی تمیر کرتے ہیں. اور قرآن نے ذکر
12:00کیا ہے. کہ اِذْ يَرْفَعُ عِبْرَاهِمُ
12:02القواعدہ. کہ ابراہیم نے
12:04ان قواعد کو یعنی ان بنیادوں کو
12:06بلند کیا. اس کا مطلب یہ ہے کہ
12:08بنیادیں موجود تھیں. بلند حضرت
12:10ابراہیم علیہ السلام. بہت نوازش. بہت
12:12نوازش. بہت مبارک موضوع ہے. اور انشاءاللہ
12:15وقفے میں ہمیں جانا ہے. چند سیکنڈ کے
12:18بعد جب واپس آئیں گے. تو یہ
12:20تبرک جو ہے ذکر خیر کا. یہ جاری
12:22اصالی رہے گا. ویلکم بیک ناظرین
12:24آپ کا خیر بقدم ہے. پروگرام روشنی
12:26سب کے لیے. داتا کی نگری لاہور سے ائر وائی
12:28کیو ٹی وی پر. اور ذلحج
12:30کی آمند سے پہلے
12:32اللہ کے کریم گھر کا تذکرہ
12:34مکت المکرمہ کا تذکرہ
12:36اس شہر کا تذکرہ
12:38جو میرے اور آپ کے کریم آقا صلی اللہ
12:40علیہ وسلم کی جائے ولادت ہے. جس کی
12:42محبت کا آپ ہمیشہ دم بھرا کرتے
12:44تھے اور جس کا ذکر خیر بھی
12:46بڑی خوبی سے اور بڑے حسن سے
12:48سرکار دعالم صلی اللہ علیہ وسلم
12:50فرمایا کرتے تھے. مکت المکرمہ
12:52کا ذکر خیر ہے. آج ہمارا
12:54موضوع سخن. ہم بڑھتے ہیں
12:55جناب علامہ پیر عرفان علیہ صاحب کی
12:58جناب. پیر صاحب اس شہر
13:00کو بالد الامین
13:02بھی کہا گیا ہے. تو یہ
13:04جو شہر مکت المکرمہ
13:06ہے. اس کی جو یہ شان ہے
13:07بالد الامین والی. اس کو ذرا
13:09وضحات سے بیان فرمائیے. جی بالکل دیکھیں
13:12امن والا شہر. صحیح. جسے
13:14قرآن کہتا ہے یہ امن والا شہر
13:15ہے. اور دو مقام پر فرمایا گیا
13:18یہ امن والا شہر ہے. اور جو
13:19اس میں داخل ہوا اس کے لیے بھی امن ہے.
13:21بڑی بات ہے. مکت المکرمہ
13:24میں جو داخل ہوا حدود حرم میں
13:26اس کے لیے بھی امن ہے.
13:28اور مکت المکرمہ
13:30کے اگر ہم دس
13:31فضائل جو ہیں اس میں سب سے پہلا کیا ہے
13:33یہ امن والا شہر ہے
13:35اور اس کا امن کس طریقے
13:38سے ہے. وہ فضائل
13:40میں بھی ہے. وہ اس کے کمال
13:42میں بھی ہے. وہ اس
13:43میں رہنے والوں کے لیے بھی ہے
13:45اور وہ اس مقام کے لیے بھی ہے
13:48پہلا کہ امن
13:50والا شہر ہے. دوسرا
13:51کہ مکت المکرمہ
13:54میں گزارا
13:56گیا ایک رمضان
13:57مکت المکرمہ میں
13:59گزارا گیا ایک
14:01رمضان غیر مکہ میں
14:03ہزار رمضان سے افضل ہے
14:05اللہ
14:06حدیث ہے واقع ہے
14:07اللہ اکبر
14:08تیسرا نبی پاک علیہ السلام کا
14:11محبوب ترین شہر
14:12قربان جائیے ذرا غور
14:14کیجئے ابن ماجہ کی روایت ہے
14:16رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
14:18مدینہ المنورہ جب ہجرت کے لیے
14:20تشریف لے جا رہے تھے تو
14:22سرکار دوالوں صلی اللہ علیہ وسلم
14:23نے مکت المکرمہ کے درو دیواروں
14:25کو دیکھ کر یہ فرمایا
14:26اے مکت کے درو دیواروں
14:28مجھے تم سے پیار ہے
14:30محبت ہے
14:31میں تمہیں کبھی نہ چھوڑتا
14:33اگر یہاں کے رہنے والوں نے
14:35مجھے یہاں رہنے پر
14:36مجبور نہ کر دیا ہوتا ہے
14:37یعنی یہ آمن والا شہر ہے
14:39تو حضور کی اس کے ساتھ محبت ہے
14:42بلکل ٹھیک
14:42چوتھا
14:43مکہ کی زمین قیامت تک کے لیے حرم ہے
14:47پاک ہے
14:48پاکیزہ ہے
14:49ابن ماجہ کی روایت ہے
14:50حضور نے فتح مکہ کے دن
14:52ارشاد فرمایا
14:53اے لوگو
14:55یہ وہ شہر ہے
14:56کہ جس کو اللہ نے حرم بنا دیا ہے
14:59اور جس دن آسمان و زمین پیدا کیے گئے
15:03اسی دن قیامت تک کے لیے
15:05اللہ تعالیٰ نے اس کو
15:06حرم قرار دے دیا گیا
15:08اللہ
15:09پانچ ماہ
15:10دجال اس میں داخل نہیں ہوگا
15:12اللہ
15:13قرب قیامت کے علامات میں
15:15ہم بیان کر چکے ہیں
15:16بلکل ٹھیک
15:16کہ یہ امن والا شہر ہے
15:18کہ اس میں دجال داخل نہیں ہوگا
15:20بلکہ دونوں
15:21حرمین شریف ہیں
15:22مکہ اور مدید
15:22دجال داخل نہیں ہوگا
15:24چھٹا مکہ مکرمہ کی گرمی
15:28حضور علیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
15:30جو شخص دن کے کچھ وقت
15:31مکہ کی گرمی پر سبر کرے
15:34جہنم کی آگ اس سے دور ہو جاتی ہے
15:37آئے آئے
15:38ساتوہ
15:39مکہ میں بیمار ہونے کا عجر
15:42یہ کس وجہ سے ہے
15:43کیوں کہ امن والا شہر ہے
15:45بلد الامین ہے
15:48بیمار ہونے والے کا عجر کیا ہے
15:50حضرت سعید بن جبیر
15:51رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا
15:53جو شخص ایک دن
15:55مکہ میں بیمار ہو جائے
15:56اللہ تعالیٰ اس کے لیے
15:58نیک عمل کا ثواب
16:00عطا اتنا فرماتا ہے
16:01جو وہ سات سال سے کر رہا ہوتا ہے
16:04اللہ
16:04سات سال سے جو نیکی کا عمل جاری ہے
16:07ایک دن یہاں بیمار ہوا
16:09اتنا عجر اس کو ملتا ہے
16:12اور اس پر سبر کر رہا ہے
16:15آٹھوہ
16:15مکہ میں فوت ہونے والا
16:17قیامت کے روز
16:19امن والوں میں اٹھایا جائے گا
16:21یعنی مکہ میں جو فوت ہوا
16:23وہ بھی امن والوں میں اٹھایا جائے گا
16:24کیا بات ہے
16:25اس شہر کا یہ مقام ہے
16:26نوہ
16:27حضور کے ولادت کی جگہ ہے
16:35رب قسمیں کھاتا ہے
16:37کیوں کہ یہاں قدم مصطفیٰ لگے ہیں
16:40محبوب کا چلنا پھرنا ہے
16:41محبوب کا آڑنا بچھونا ہے
16:43محبوب کا رہنا ہے
16:44محبوب کی ولادت ہے
16:46دسوہ
16:47یہاں ایک نماز
16:48پچھلے سوال میں میں نے ارض کیا
16:50ایک نماز کا ثواب
16:51لاکھ کے برابر ہے
16:53یعنی درجات میں بھی اس کو
16:54تمام شہروں میں سے یہ فضیلت دے دی گئی
16:57کہ یہ امن والا شہر ہے
16:59اور ہر لحاظ
17:00یہاں آنے والوں کو امن ملتا ہے
17:02یہاں مرنے والوں کو امن ملتا ہے
17:04جینے والوں کو امن ملتا ہے
17:06یہ شہر ہی بلد الامین ہے
17:08آپ نے قسمیں اٹھا کر فرمایا ہے
17:10کہ یہ بلد الامین ہے
17:12کیا سراحت سے بیان کیا
17:13اپنے اللہ آپ کو شاہیان ہے
17:14شاہن عجر دے
17:15ڈاک ساب کبلا
17:16پیر صاحب کی گفتگو سے ہی
17:18ہمیں آگے بڑھ جانا ہے
17:19زادیرہ مل گئے آپ کی گفتگو سے
17:21کہ میرے اور آپ کے آقا کو
17:23بڑی محبت تھی مکہ تل مکرمہ سے
17:25آپ نے ہمیشہ پوری حیات مبارکہ میں
17:28ظاہری حیات مبارکہ جتنی گرزی
17:30گزری ہے
17:31اس میں اس شہر کی محبت کا دم بھرا
17:34اس کا ذکر کیا
17:35صحابہ کے سامنے
17:36ان نفوسِ قدسیہ کے سامنے
17:38تو ذرا وہ یادیں تازہ کیجئے
17:39جس میں سرکار دعالم علیہ السلام
17:41اس پاک گھر سے
17:44مکہ سے
17:45اس شہر کی مٹی سے
17:46محبت کا ذکر فرماتے ہیں
17:48سبحان اللہ
17:49بلا شبا جی
17:50دیکھیں سب سے بڑی بات تو یہ ہے
17:52کہ نبی کریم سروے کائنات
17:53صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت
17:55اس مبارک شہر میں ہوئی ہے
17:57اور ہم جہاں پیدا ہوتے ہیں
18:00ہمیں ایک قلبی لگاؤ
18:01ایک میلان ہے جی
18:02اچھا وہ علاقہ جس میں کوئی اور
18:05وجہ دلچسپی نہ بھی ہو
18:07صرف اس وجہ سے کہ ہم وہاں پیدا ہوئے
18:09ہمارا اسے تعلق ہوتا ہے
18:10تو مکہ میں تو ہزاروں دلچسپی کی وجہ
18:12یہ اڑی قیمتی بات ہے
18:14حبیاء کریم صلی اللہ علیہ وسلم
18:15با با با سبحانہ
18:18حضرت ابراہیم علیہ السلام
18:19اسمائیل علیہ السلام
18:21اس کو آباد کیا
18:22وہاں پر صفا اور مروح
18:24جس کو اللہ تعالیٰ نے شاعر اللہ
18:26اپنی اشتران کرار دیا
18:27وہاں پر آبِ زمزم
18:30اور وہاں پر
18:32یعنی مدانِ عرفات
18:33منا مزدلفہ
18:34یہ سارے وہ مقامات ہیں
18:36جو باعثِ فضل ہیں
18:38باعثِ فضیلت ہیں
18:40قبلہ پیر صاحب ذکر فرما رہے تھے
18:42تو میرے ذہن میں آ رہا تھا
18:43کہ وہاں جو شہر ہے
18:45مکہ شہر
18:46یہ صرف امن والا
18:47انسانوں کے لئے نہیں ہے
18:48بلکہ جانوروں کے لئے بھی امن والا ہے
18:50آئے آئے آئے آئے
18:51حرمِ مکہ کے اندر شکار کرنے کی بھی ممانت ہے
18:53حرمِ مکہ میں درخت کو کھیڑنے کی ممانت ہے
18:56کہ وہاں کے درخت کو نہیں کٹا جائے گا
18:58یعنی اتنی برک
18:59اور پھر نبی کریم
19:00سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم
19:02کو اس شہر سے بڑا پیار ہے
19:04پیر صاحب نے اس روایت کا ذکر فرمایا
19:06کہ حضور علیہ السلام
19:07ارشاد فرماتے ہیں
19:08جب ہجرت ہو رہی ہے
19:10تو حضور مکہ کی طرف دیکھ کے فرماتے ہیں
19:13کہ تم مجھے بہت پیارا ہے
19:14اور مجھے تم سے بڑی محبت ہے
19:18اور اگر مجھے یہاں کے لوگ
19:19نکلنے پر مجبور نہ کرتے
19:21تو میں کبھی بھی تمہیں چھوڑ کر نہ جاتا
19:22اور پھر آپ دیکھیں
19:24کہ جب حضور مدینہ گئے
19:25تو اللہ کی بارگاہ میں دعا کیا کرتے ہیں
19:27اے اللہ میرے دل میں
19:28مدینہ کی ویسے محبت ڈال دے
19:31جیسی مکہ کی محبت میرے دل میں
19:33بلکہ اس کے لئے
19:34اس سے ڈگنا ڈال دے
19:36یعنی
19:36اس کا مطلب ہے
19:37کہ مکہ کی بہت محبت تھی
19:39تو اب وہ جدائی بھی تھی نا
19:41جو جدائی بھی تھی
19:42اب اس کی تلافی بھی چاہیے
19:43تلافی کے لئے بھی
19:44اللہ کی بارگاہ میں ارز کی
19:45میرے دل میں مکہ کی محبت غالب ہے
19:48اب میں مدینہ میں آگیا ہوں
19:49تو مدینہ کی محبت
19:50تو مجھے عطا فرما
19:51کیا کنورٹ ہوئی محبت
19:53اور آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم
19:55کی زندگی کے
19:56صدر بھائی
19:5753 سال اس مبارک شہر میں گزرے ہیں
19:59اور صرف 10 سال مدینہ طیبہ میں گزرے ہیں
20:02طیبہ کی بہت فضیلت ہے
20:0353 سال حضور صلی اللہ علیہ وسلم
20:05کے اس مبارک فضاؤں میں گزرے ہیں
20:08اور 40 سال
20:09اعلان نبوت سے پہلے
20:10اور 13 سال
20:11اعلان نبوت کے بعد کی
20:12اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
20:14حضرت مولا کائنات شہر خدا
20:16رضی اللہ تعالی نے فرماتے ہیں
20:17کہ ایک مرتمہ میں
20:18حضور علیہ السلام کے ساتھ جا رہا تھا
20:19تو اردگرد سے آواز آنے لگیا
20:21السلام علیکہ یا رسول اللہ
20:24آپ فرماتے ہیں
20:25میں نے ادھر ادھر دیکھا
20:26تو مجھے کوئی نظر نہیں آیا
20:27میں نے اس کی حضور آپ کو
20:29سلام کون کر رہا ہے
20:30کوئی دکھائی نہیں دے رہا
20:31حضور نے فرمایا
20:32کہ علی مجھے مکہ کے پتھر بھی سلام کر رہا ہے
20:34اس کا مطلب ہے
20:35کہ ان پتھروں کو حضور سے محبت تھی
20:37اور حضور کو ان سے محبت
20:39تو اس محبت میں
20:41نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
20:44جب آپ تشریف لائے
20:45جب آپ فتح مکہ ہوا
20:48تو آپ دیکھیں
20:49کہ وہی مکہ والے
20:50مکہ کے رہنے والے
20:51جنہوں نے حضور کو نکلنے پر مجبور کیا
20:53حضور کو ستایا تنگ کیا
20:55آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم
20:56وہاں تشریف لاتے ہیں
20:58مکہ فتح ہوتا ہے
20:59تو پھر انہی مکہ والوں کے لئے
21:01آپ امن کا اعلان کرتے ہوئے
21:03ان کو فرماتے ہیں
21:04لا تسریب علیکم اليوم
21:05انتم التلقا
21:07جو تم سب ازاد ہو
21:08میں آج اپنے اس شہر میں واپس آگیا ہوں
21:11جس سے مجھے محبت تھی
21:12اللہ نے مجھے دوبارہ
21:13وہ شہر عطا فرما دیا
21:14اور آپ دیکھئے
21:15کہ جب حضور مکہ تشریف لائے
21:17تو مکہ کے ساتھ
21:19جو حضور کی محبت تھی
21:20وہ حضور کی آنکھوں سے بھی نظر آ رہی تھی
21:22اور حضور کے وجود سے
21:23اس کا اظہار ہو رہا تھا
21:24تو انسار مدینہ نے اس کو معصوص کیا
21:27انہوں نے ارز کیا
21:28حضور ہمیں معصوص ہو رہا ہے
21:30کہ اب آپ یہاں پر
21:31پکا پکا رہنے کا پروگرام تو بنا لیں گے
21:34کیونکہ اب آپ کا یہ شہر ہے
21:35اور آپ یہاں تشریف لے آئیں
21:36آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم
21:38نے ارشاد فرمایا
21:39کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے
21:41مجھے مکہ برا پیارا ہے
21:42مجھے مکہ سے بڑی دل لگی ہے
21:44اور بہت محبت ہے
21:45اور میں یہاں پہنچ بھی گیا ہوں
21:46لیکن تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا ہے
21:48وہ پورا رہے گا
21:49میں رہوں گا مدینہ میں
21:50تمہارے ساتھ جاؤں گا
21:51اس کا مطلب ہے
21:52کہ صحابہ نے بھی اس محبت کو محسوس کیا تھا
21:55تو شہر مکہ کے ساتھ
21:56نبی کریم سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی
21:58محبت و عرفتگی
21:59اور حضور علیہ السلام کا پیار دیدنی تھا
22:02اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
22:05یادیں وہاں بابستہ تھی
22:06صرف آپ کی نہیں
22:07آپ کے اباؤ اجداد کی
22:08حضرت آدم علیہ السلام سے چلیں
22:11حضرت ابراہیم حضرت اسمائیل
22:12حضرت مائی حاجرہ
22:13اور آپ چلتے آئیں
22:14یہ ساری یادیں وہاں بابستہ ہیں
22:16تو کس طرح پھر حضور علیہ السلام نے
22:19اس سے محبت فرمائی ہوگی
22:20اور کیسے حضور کے دل میں
22:21ان پاک جگوں کا لگاؤ ہوگا
22:24اور حضور علیہ السلام کیسے ان کے ساتھ
22:27تعلق کا اظہار فرماتے ہوگی
22:28کیا کہنے ہیں
22:29سبحان اللہ
22:30کیا ایمان افروز تذکرہ ہے
22:32مکہ المکرمہ کی مبارک یادوں کا
22:34جو ہمارے کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے منصوب ہیں
22:38آپ کے جد
22:39آپ کے اصلاف
22:40آپ کے بزرگ
22:41اور آپ کے وہ بڑے
22:43اور عصوة علمبیہ
22:44سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے لے کر
22:46آپ کی اجداد اور اصلاف میں آتے آتے
22:49حضرت عبد المطلب
22:50اور آپ کا پورا خانبادہ
22:52قربان جائیے ان یادوں پر
22:54ان خوشبودار لمحوں پر
22:56ہم فقیروں کا سلام
22:57اس شہر کی مٹی کو
22:59اس شہر کی مٹی کے ذرات کو
23:01اور وہاں کی خوشبو کو
23:02ایک مختصر وقفہ
23:04خوش آمدید ناظرین
23:06آپ کا ایک دفعہ پھر خیر مقدم ہے
23:08پروگرام روشنی سب کے لیے
23:10اور آج
23:11روشنی کے
23:14جس رستے پر ہم روانہ ہیں
23:16وہ روشنی پھوٹ رہی ہے
23:17مکت المقرمہ سے
23:18اللہ کے پاک گھر سے
23:19اور اس پاکیزہ مٹی کے ذرات سے
23:21جو ہماری کریم آقا
23:23صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے ولادت
23:24اللہ کا پاک گھر جس میں ہے
23:26تجلیات الہی کا جلوہ
23:29جس شہر میں ہما وقت
23:31بغیر کسی انکتا کے
23:33جاری و ساری رہتا ہے
23:35اس پاک شہر کا
23:36اور اس پاک گھر کا
23:37در کا تذکرہ ہے
23:38بڑھتے ہیں
23:39جناب پیر عرفان الہی صاحب کی جانب
23:42پیر صاحب مکت المقرمہ میں
23:44ظاہر ہے دو ہمارے حرم ہیں
23:46ایک حضور علیہ السلام کی نسبت سے
23:49ایک اللہ کے گھر کی نسبت سے
23:50تو جب میں خصوصاً مکت المقرمہ کی حاضری کا
23:54ارادہ کرتے ہیں
23:55پہنچتے ہیں
23:56تو یقیناً
23:57اس حاضری کے کچھ عداب بھی ہوں گے
23:59کچھ میرٹس بھی ہوں گے
24:00کچھ ایتھکس بھی ہوں گے
24:01وہ آپ ہمیں اس سے آگا فرمائے
24:04جس چیز سے آپ کو محبت ہے
24:07اس کا عدب آپ کے دل میں موجود ہونا چاہیے
24:10متفق
24:11عدب پہلا کرینا ہے
24:13محبت کے کرینوں میں
24:14اور دیکھیں
24:16مولا کائنات
24:17اصد اللہ الغالب
24:19امام المشارق والمغارب
24:21سیدنا مولا علی شیر خدا
24:23قطرم اللہ وجل کریم
24:25مسجد میں جلوہ فروز ہیں
24:27رنگ زرد ہیں
24:28آہیں سرد ہیں
24:30اور آنکھیں تر ہیں
24:33آنکھوں میں آنسو ہیں
24:34ایک شخص نے سوال کیا
24:36کہ آپ شیر خدا ہیں
24:38شجاعت کے تاجدار ہیں
24:40اتنے
24:41بڑے شہنشاہ ہیں
24:43لیکن یہاں کیا کیفیت ہے
24:45مولانا روم نے اس کو
24:47اپنے انداز میں یوں
24:48کلم بند کیا ہے
24:50کہ رنگ زردو
24:51آہ سردو
24:52چشم تر
24:54یہ کیا وجہ ہے
24:56آپ نے فرمایا
24:57تم میں معلوم ہے
24:58یہ کس کے گھر میں آئے ہو
24:59اللہ
25:01یہ اللہ کا گھر ہے
25:02تو یہاں کے عداب
25:04مولا علی شیر خدا نے
25:06ہمیں کیا بتا دیئے
25:07کہ مسجد کے یہ عداب ہیں
25:10تو خانہ کعبہ
25:11جو عبادت کے لیے
25:12پہلا گھر بنایا گیا ہے
25:15وہاں کی حاضری
25:17وہاں کے عداب
25:18کہ جہاں جانے کا
25:20قصد کرتے ہو
25:21ارادہ کرتے ہو
25:22احرام باندھ لیتے ہو
25:24کیڑی بھی نہیں مار سکتے
25:26اللہ
25:27اللہ
25:28اپنی مرضی سے
25:29اپنے ہاتھوں کا
25:30بال بھی نہیں توڑ سکتے
25:33یعنی وہ
25:33تمہارے اوپر
25:35وہ حدود
25:35ایسی قائم کر دی گئی ہیں
25:37کس لیے
25:38کہ بھئی تمہیں سمجھ آ جائے
25:40بروقت پتا چل جائے
25:42میں کس بارگاہ میں جا رہا ہوں
25:43سبحان اللہ
25:44مکاد کیوں ہے
25:47ہر میں
25:47کعبہ کے باہر
25:49مکاد کیوں ہے
25:50کہ یہاں روک
25:51ٹھہر جا
25:53تو جس بارگاہ میں
25:54جا رہا ہے
25:55وہ بہت بڑی
25:56بلند بارگاہ ہے
25:58وہاں جانے کے
25:59عداب کیا ہے
25:59یہاں غسلگار
26:00احرام باندھ
26:01اس لباس میں ہو جاں
26:03جو اللہ کو
26:04اپنے خلیل کا
26:05پسند آ چکا ہے
26:06سبحان اللہ
26:07یہاں تیری مرضی نہیں چلے گی
26:09یہاں اس خالق کی مرضی ہے
26:11جس کا گھر ہے
26:12ہر ملک کا
26:13اپنا قانون ہوتا ہے
26:15فرمایا
26:16یہ اللہ وعدہ
26:17اللہ شریف کا گھر ہے
26:18عبادت کے لیے ہے
26:19یہاں اس لباس میں آو گے
26:21جو اس کو پسند آ چکا ہے
26:24جو
26:24جناب
26:25اپنا اس پر
26:26جو اللہ
26:27نے حکم
26:28ارشاد فرما دیا ہے
26:30صحابہ اکرام
26:31رضوان اللہ تعالی
26:32علیہ مجمعین
26:33حضرت سیدنا فاروق
26:34آزم
26:35یہاں کے عداب
26:36کو یوں سمجھتے ہیں
26:37آپ فرماتے ہیں
26:38یہاں میں ایک گناہ کرنا
26:39باہر کے ستر گناہوں سے
26:42ستر گناہ گناہوں سے
26:43بہتر ہے
26:44اللہ اکبر
26:45اس کے عدام میں شامل ہیں
26:47یعنی یہاں آنے سے پہلے
26:49تم سمجھ جو دیکھیں
26:50موسیٰ علیہ السلام کو
26:51کیا حکم فرمایا گیا
26:52مقدس وادی میں آ رہے ہو
26:54جوتے اتار دو
26:55واہ واہ
26:57اور افعال لکھا ہے
26:58یہ فرمایا گیا
26:59کہ اپنی پہچان بھی اتار دو
27:02اپنے ہونے کو ختم کر دو
27:04کیوں
27:07یہ مقدس وادی توا ہے
27:09رب سے ہم کلامی ہے
27:10اور یہ رب کا گھر ہے
27:11جسے بلد الامین کہا جا رہا ہے
27:14جسے بکہ کہا جا رہا ہے
27:16ام القرہ کہا جا رہا ہے
27:17اور یہ وہ شہر جو
27:19امن والا شہر ہے
27:20فرمایا یہاں اپنی شناخت
27:22اپنی پہچان کو ختم کرو
27:23یہاں لباس پہننے بھی
27:26یہ کیفیت ہے
27:27اور پھر دیکھیں
27:28وہاں جا کر تمام
27:29جو ہے وہ لباس ایک ہیں
27:31شکلیں ایک ہو جاتی ہیں
27:33بال اتروا دو سر مڈوا دو
27:35اور کلام بھی ایک ہے
27:37ان الحمدہ
27:38والنعمت
27:39لاکہ والملک
27:40اب ان تین لفظوں میں بڑی جامعیت ہے
27:43حمد ہے مالک تیری ہے
27:46نعمت بھی تیری ہے
27:48ملک بھی تیرے ہیں
27:50اب اس مالک کی بارگاہ میں آ رہے ہو
27:52کہ جہاں تمہاری مرضی سے کلام نہیں ہے
27:54تمہاری مرضی سے وہاں رین سین نہیں ہے
27:57اب تم اپنی مرضی سے
27:59بے عدبی وہاں کیسے کر سکتے ہو
28:01دیکھیں حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں
28:03ہم جاتے ہیں
28:04تو حضور کی بارگاہ میں
28:06جانا اور وہ بارگاہ کا
28:07شان اور مقام کیا ہے
28:09کہ عدب گاہیشت زیر آسمان
28:11عزار شناز اکتر
28:12نفس گم کر دمی آید
28:14جنید و بایزی دی جا
28:16بہت شکریہ
28:16یہاں سانسوں کا شور بھی بھی عدبی ہے
28:18تو مکہ تل مکرمہ تو وہ ہے
28:20جو مصطفیٰ کا بھی محبوب شہر ہے
28:22جو مصطفیٰ کی بھی محبوب جگہ ہے
28:24جو حضور کی ولادت کی جگہ ہے
28:26جو خانہ کعبہ ہے
28:27تو ہم نے وہاں کیا کرنا ہے
28:29عدب کے ساتھ
28:31تو بچا بچا کے نہ رکھ
28:32اسے تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
28:35کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ
28:37آئینہ سانس
28:38کہاں شکستگی کے ساتھ ہو
28:40عجز کے ساتھ ہو
28:41ان کے ساری کے ساتھ ہو
28:42بہت شکریہ
28:43عدب کی بات
28:44ڈاک سب
28:45پیر صاحب فرمارے تھے
28:46ظاہر ہے عدب
28:49ساری عبادتوں کی بنیاد ہے
28:51بندہ مومن کی زندگی کی بنیاد ہے
28:53اس کے کریکٹر کی بنیاد ہے
28:55اس کی خوشحالی کی
28:56اور اس کے مدام زندہ رہنے کا
28:58سارا جو کرینہ ہے
29:00وہ اللہ نے عدب میں رکھا ہے
29:01تو اللہ کرے کہ ہمیں عدب بھی نصیب رہے
29:03شہر مکہ کا تذکرہ
29:05ڈاک سب فرمارے تھے
29:06اب
29:07ایک بڑا
29:08طالب علمانہ سا سوال ہے
29:10کہ جانے والے خوش نصیب
29:12جن کو اللہ طلب فرمارے ہیں
29:13وہ تو جا رہے ہیں
29:14کشان کشان
29:15طلبیہ پڑھتے پڑھتے جا رہے ہیں
29:17ہم جیسے فقیر ابھی کچھ لائنوں میں منتظر ہیں
29:19کچھ بلاوے کے انتظار میں ہیں
29:21کچھ طلبی کے انتظار میں ہیں
29:23کچھ اللہ کی رحمت
29:24کس وقت جو ہے وہ جوش میں آئے
29:26ان کا نام پکارا جائے
29:28اس انتظار میں ہیں
29:29تو جو یہاں بچ گئے
29:30جو مکہ نہیں جا پا رہے
29:32اب وہ کیا کریں
29:33کیا انتظار کرتے رہیں
29:34اس کے لئے استغاثہ کرتے رہیں
29:36یا اس کے لئے
29:37کوئی ورد وظیفہ کرتے رہیں
29:38ان کے لئے آئیڈیل عمل کیا ہے
29:40بہت شکریہ
29:43صدر بھائی ایک تو بات یہ ہے
29:44کہ اللہ تبارک و تعالی
29:48جو ہمارے بھائی حج کے لئے
29:50وہاں پر پہنچ چکے ہیں
29:51اللہ کریم انہیں سب کو
29:54یہ سعادت نصیب فرمائے
29:56ان کے لئے آسان فرمائے
29:57اور قبول فرمائے
29:58اور ہم سب کے لئے
29:59جو دعائیں کریں اللہ تعالی
30:01ان کے حق میں بھی ہے
30:02اور ہمارے حق میں بھی قبول
30:03آپ کی دعا سے یاد آیا
30:04کہ جب لاسٹ ہیر
30:05آپ حج پہ گئے
30:06تو وہاں جب دعا فرمائی
30:07تو اس کے فوراں بعد
30:08مجھ فقیر کو بھی
30:09عمرہ کے لئے طلب کر لیا گیا
30:10تو آپ اسی دعا کے صدقے
30:12آج پھر دعا فرمائیں
30:13ہم مکہ تلمکرنمہ کا ذکر کر رہے ہیں
30:15کہ ہم سارے دوستوں کو
30:17آباب کو
30:17کیو ٹی وی کے
30:18ہمارے انساتھیوں کو
30:19اور ہم جن سے خصوصاً
30:21محبت رکھتے ہیں
30:22بہت قریب ہیں ہمارے جو لوگ
30:23ان کو وہاں
30:24اللہ حج کی سعادت سے
30:26بہرابند فرمائے
30:27آمین آمین
30:27بالکل اللہ تعالی
30:28سب کو یہ سعادت نصیب فرمائے
30:30اور بار بار نصیب فرمائے
30:31اللہ حمار برہ
30:31دیکھیں جی سب سے پڑی
30:32اور پہلی بات تو یہ ہے
30:34کہ تڑپ ہونی چاہیے
30:35دل میں
30:36طلب ہونی چاہیے
30:37یعنی جو یہاں رہ گئے ہیں
30:38وہ تڑپ برقرار رکھیں
30:39تڑپ برقرار رکھیں
30:40آرزو رکھیں
30:41اور اس کے حضور
30:41گزارش کرتے رہیں
30:42اور یہ قطعی بات ہے
30:44اس میں کوئی لگی لپٹی نہیں ہے
30:46کوئی اظہار عقیدت نہیں ہے
30:48کہ وہاں یقیناً آدمی
30:50صرف اللہ کے کرم سے
30:52اور بلاوے سے جاتا ہے
30:53وہاں نہ پیسوں سے جاتا ہے
30:55نہ وہاں ظاہری اسباب سے جاتا ہے
30:57ظاہری اسباب ہوتے ضرور ہیں
30:58لیکن حقیقتاً
31:00اللہ کا کرم ہوتا ہے
31:01اور ادھر سے بلاوہ آتا ہے
31:02تو جاتا ہے بندہ
31:03ورنہ
31:04کوئی ایسی
31:05ظاہری صورتحال نہیں ہے
31:06میں ارز کروں آپ کو
31:07بڑی کام کے باتے
31:08جاننے والے ہیں
31:08وہ
31:09ہمارے بھائی
31:10وہ ایک ورکشاپ میں
31:12پینٹر ہے
31:13تو
31:13وہ اس سال
31:15الحمدللہ حج پہ گئے ہوئے ہیں
31:16اللہ
31:17میرے ساتھ
31:17چونکہ مسائل کے سلسلے میں
31:19رابطے میں رہتے ہیں
31:20تو وہ
31:20جب ان کا
31:22نام آیا
31:23اور ان کے جو
31:24باس تھے
31:24انہوں نے کہا
31:25جی آپ نے حج پہ جانا ہے
31:26تو وہ حیران ہو گئے
31:27کہتے ہیں جی میں
31:28دعائیں تو کرتے تھے
31:29تڑپتے تھے
31:30لیکن یہ
31:30مسائل کی
31:31ذہن میں بھی نہیں تھا
31:32کہ وہ عام جائیں گے
31:33کبھی سوچ نہیں
31:33اور زیادہ سے زیادہ یہ تھا
31:35کہ چلے عمرے کے لیے
31:35چلے جائیں گے
31:36اور حج کی سعادت
31:37لیکن اللہ تعالیٰ
31:38تو فیق عطا فرماتا ہے
31:39تو
31:40دوسری بات یہ ہے
31:41کہ آداب کی حوالے سے
31:42قبلہ پیر صاحب نے بھی
31:43بات فرمائی ہے
31:44دیکھیں سب سے پہلا
31:45عدب تو
31:46مکہ المکرمہ کا یہ ہے
31:48کہ وہاں
31:49بورڈ بھی لگے ہوئے ہیں
31:50اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
31:51نے بھی
31:51اعلان فرما دیا تھا
31:52آخری حج
31:53کہ آج کے بعد
31:54صرف وہ
31:55اس سرزمین میں
31:56داخل ہو سکے گا
31:57جس نے
31:57لا الہ الا اللہ
31:58محمد الرسول اللہ
31:59پڑھا
31:59اللہ اکبر کبیرہ
32:01آج بھی وہاں پر
32:01بورڈ لگے ہیں
32:02اور لکھا ہے
32:02فقط للمسلمین
32:04یعنی یہ پہلا
32:05پروٹوکول ہے
32:06مکہ المکرمہ کا
32:07کہ فاہاں
32:08صرف اور صرف
32:08اسلام والے داخل ہو سکتے ہیں
32:10دوسرے داخل نہیں ہو سکتے
32:11یہ بھی
32:11اللہ تبارک و تعالیٰ
32:12کرم اور فضل ہے
32:13بلہ احرام کی حالت میں
32:14جاخل ہوں گے
32:15آپ نے مکہ
32:16کسی کام سے جانا ہے
32:17آپ کا کوئی اور کام
32:19کیوں نہیں ہے
32:19آپ نے مکہ المکرمہ
32:21جانا ہے
32:21تو احرام باندھ کے
32:22پہلے حاضری وہاں
32:23خانہ کعبہ کی دیں گے
32:25عمرہ شریف کریں گے
32:26پھر باقی
32:26اپنے کام کریں گے
32:28تو یہ
32:28ایک
32:30بحث بڑی رہی ہے
32:31کہ جو
32:31ڈرائیور حضرات ہوتے ہیں
32:32ان کا روز آنا جانا ہوتا ہے
32:34تو وہ کیا کریں گے
32:35انہوں نے تو
32:35سواری کو لے کے آنا
32:36پھر حرم سے باہر جانا
32:38پھر آنا
32:38تو ان کے لئے
32:39بامر مجبوری
32:40یہ اجازت دی گئی
32:41ورنہ
32:41مکہ المکرمہ کا
32:43پروٹوکول یہ ہے
32:43کہ جو بھی مکہ میں داخل ہوگا
32:45اس نے حرام کے ساتھ
32:46اس نے احرام کے ساتھ
32:47داخل ہونا ہے
32:48اور پہلے عمرہ کرنا ہے
32:49باقی کام
32:50کسی سے ملنے آیا ہے
32:51بعد میں ملے گا
32:52کسی کا
32:53اس کا اپنا کوئی کام ہے
32:54وہ بعد میں کرے گا
32:55پہلے اس مبارک گھر کی حاضری دے گا
32:57پھر اس کے بعد باقی کام کرے گا
32:59اور مکہ المکرمہ کا
33:00پروٹوکول یہ بھی ہے
33:01کہ اللہ تبارک و تعالیٰ
33:03نے وہاں
33:03رہنے والی
33:05ہر چیز میں
33:05برکتیں آتا فرما دی ہیں
33:07اور
33:08اس شہر کو جو
33:09امن والا بنایا ہے نا جی
33:10امن
33:10ظاہری اعتبار سے بھی بنایا ہے امن
33:12اور حقیقی اعتبار سے بھی
33:14باطنی اعتبار سے بھی
33:15اب ظاہری اعتبار سے
33:15امن یہ بھی ہے
33:17کہ ظاہری اعتبار سے
33:18جو شخص وہاں ہوگا
33:19اس کے ساتھ
33:20کوئی بدسلوکی نہیں ہوگی
33:21کوئی لڑائی جگڑا نہیں ہوگا
33:22کوئی اس کے ساتھ
33:23جو ہے وہ دھنگا فساد نہیں ہوگا
33:25اور دوسرا یہ ہے
33:26کہ اللہ کریم نے
33:27اس شہر میں
33:28ہر ایک شخص
33:29وہ فقیر و موتاج و جیسا بھی ہو
33:31اس کو
33:32اللہ نے رزق کے حوالے سے بھی
33:34امن اتا فرمایا ہے
33:35کبھی وہ بھوکا نہیں سوئے گا
33:36اس کو اللہ تعالی رزق بھی
33:37اتا فرمایا گا
33:38اور کبھی وہ ایسا
33:39لا وارث نہیں ہوگا
33:41اللہ تعالی اس کو
33:42چھت بھی اتا فرمایا گا
33:43یعنی اس اعتبار سے بھی
33:44مکہ کو اللہ تعالی نے
33:46امن والا بنایا ہے
33:47ابنا
33:48ایک پروٹوکول کا حوالے سے
33:50ایک دو باتیں
33:50میں ضرور ارز کرنا چاہوں گا
33:52کیونکہ ابھی
33:53حاجی کچھ جا رہے ہیں
33:54کچھ پہنچ چکے ہیں
33:55جن تک آواز جائے
33:56ان سے گزارش یہ ہے
33:58کہ جب بھی وہاں حاضر ہوں
33:59پیر صاحب نے
34:00جس کی طرف اشارہ کیا
34:02آجزی اور ان کی ساری کے ساتھ
34:03اور اب تو میرا خیال ہے
34:05کہ وہاں پر
34:05میں نے خبروں میں دیکھا
34:07کہ وہاں پر بقاعدہ
34:08سیلفی پر
34:09یہ پبندی لگ چکی ہے
34:11وہاں میرا خیال یہ ہے
34:13کہ اس کو ہمیں
34:14بہت احتیاط کرنی چاہیے
34:15کہ وہاں پر
34:17جو ہے نا
34:17وہ ایسی چیزوں سے
34:18گریز کیا جائے
34:19کہ جو آداب کعبہ کے خلاف ہوں
34:21کہ ہم کعبہ کی
34:22وہاں حاضری کے لیے گئے ہوں
34:24اور وہاں پر
34:25اپنے معاملات میں
34:26مصروف ہو جائیں
34:27وہاں سیلفی لینے میں
34:28مصروف ہو جائیں
34:29وہاں کلپ بنانے میں
34:31مصروف ہو جائیں
34:31یا اس طرح کی چیزیں
34:32ان چیزوں سے بھی
34:33ہمیں گریز کرنے کی
34:34کوشش کرنی چاہیے
34:35اور وہاں پر آدمی
34:37جو کچھ بھی ہے
34:39بہت کچھ بھی ہے
34:40وہ سارا کچھ پیچھے چھوڑ کے جائے
34:42اور وہاں اللہ کی بارگاہ میں
34:43حاضر ہو
34:44کہ مالک میں تیرا
34:44آجز
34:45اور گناہگار آدمی
34:47میں تیرا بندہ
34:48ایسا بندہ ہوں
34:49جس کے پلے کچھ نہیں ہے
34:50میں تیری بارگاہ میں
34:51حاضر ہوا ہوں
34:51اور اللہ تعالیٰ
34:52کرم فرماتا ہے
34:53جو جتنی توازع کرتا ہے
34:55اللہ اس کو اتنی بلندیات
34:57فرماتا ہے
34:57اس لئے فرمایا
34:58من توازع للا
34:59رفعہ اللہ
35:00اور وہ جگہ
35:01سب سے زیادہ آجزی
35:03اور انکساری والی جگہ ہے
35:04اس لئے جب آدمی جائے
35:06دک جھک جائے
35:08ہم وہاں پر
35:08جب جاتے ہیں نا
35:09تو عمومی طور پر
35:10وہاں پر شہکار ہے نا جی
35:11عمارت ہے شہکار
35:13تعمیر شہکار ہے
35:14وہاں پر چیزیں لگی ہوئی ہیں
35:15آدمی کو اٹریکٹ کرتی ہیں
35:17لیکن سب سے زیادہ
35:18جو اٹریکشن والی چیز ہے
35:19وہ خانہ کعبہ ہے
35:20اور آدمی
35:21کمز کم
35:22جب پہلی مرتبہ
35:23وہاں حاضر ہو
35:23اور حاضری دے
35:24تو ادھر ادھر کسی چیز کی طرف
35:26متوجہ نہ ہو
35:26بہت شکریہ
35:27فوکس اس کا صرف اور صرف
35:28خانہ کعبہ ہو
35:29اس کی زیارت کرے
35:30اس کو آدمی پھر جب فارغ ہو
35:32تو پھر
35:32باقی مسجد حرم کی زیارت
35:34حرام کی زیارت کر لے
35:36باقی چیزوں کی زیارت کر لے
35:37اور اس کو دیکھ لے
35:38لیکن سب سے پہلا
35:39اس کا فوکس جو ہے
35:40وہ خانہ کعبہ ہونا شاہیے
35:42اور اس دعا کے ساتھ
35:43کہ یا اللہ
35:44مجھے مستجاب الدعوات بنا دے
35:46اور اللہ کریم
35:47یقیناً ان دعاوں کو
35:48قبول فرماتا ہے
35:49جو اس کے گھر کے سائے میں کی جاتی ہے
35:50سبحان اللہ
35:51سبحان اللہ
35:52سبحان اللہ
35:52پیر صاحب کی بلا
35:53بالکل اختتامی لمحات ہیں
35:55ہمارے آج کی پروگرم میں
35:56اور موضوع
35:57مکت المکرمہ
36:00دو جملوں کا
36:01مختصر پیغام
36:02آج کی ساری
36:03بحث کو
36:04گفتگو کو
36:04کنکلوٹ کرنے کے لئے
36:05آج چونکہ
36:06فلسفہ عشق ہے
36:08درست ہے
36:09اور فلسفہ عشق
36:11کو سمجھنے کے لئے
36:13قلبی میلان
36:14رجعان
36:15اور محبت
36:15کا ہونا بڑا ضروری ہے
36:17یکسوی
36:19اس سفر کی ابتدا ہے
36:22للہیت خشیت
36:23یہاں دیکھیں
36:24فرمایا گیا ہے
36:24کہ پیسہ
36:25جس جو خرچ کرنا ہے
36:26اس میں بھی احتیاط ہے
36:28اب وہاں جا کر
36:29ایک ایک لمحہ
36:30جو ہے نا
36:31وہ محتاط ہو کر رہنا ہے
36:33اور
36:34اجلال و جلال
36:35الہیہ کو
36:36محسوس کرنا ہے
36:37سبحان اللہ
36:38خانہ کعبہ کی
36:39زیارت کرتے وقت
36:41جلال اور
36:42اجلال
36:42دونوں کو
36:43محسوس کرنا ہے
36:44پھر اس بات کی
36:45معرفت ملے گی
36:46کہ ہم خانہ کعبہ
36:47میں آذر ہوئے ہیں
36:48اور یہاں آنے
36:49کا مقصد کیا ہے
36:50وہاں جا کر
36:51جس طرح یہ
36:52پبندی والی بات
36:53ڈالکس صاحب نے کی ہے
36:54یہ بہت اچھا ہے
36:55چونکہ
36:56ہماری توجہ
36:56یکسوی میں
36:57اس میں فرق آ رہا تھا
36:59اس میں کیا ہوگا
37:00کہ اب توجہ
37:01للہیت
37:02خشیت
37:02بغیر توجہ کے
37:04تو نماز قبول نہیں
37:05ریاکاری
37:06والی نماز
37:06تو موں پہ ماری جاتی ہے
37:08تو اللہ کی بارگاہ میں
37:09جا کر ریاکاری
37:10اور
37:12غیر
37:13توجہ رکھنا
37:14اس میں
37:15ضروری یہ ہے
37:16اس ظاہر کے لیے
37:17اس حاضرین کے لیے
37:19اللہ کے گھر میں
37:20جانے والوں کے لیے
37:21کہ وہ ہر لمحہ
37:22گھر سے لے کر
37:23خانہ کعبہ تک
37:25اور تمام زیارات تک
37:26اور واپس گھر پلٹتے
37:28نے تک
37:29اس بات کو
37:30محسوس بھی کریں
37:31ہم کہاں جا رہے ہیں
37:32کہاں سے آ رہے ہیں
37:33جانے کا مقصد کیا تھا
37:35وہ خالص اللہ کی رضا تھی
37:37وہ عبادتِ الہیہ تھی
37:39بہت شکر گزار پیر صاحب
37:40آپ کا تشریف لائے
37:41شرف یاب کیا
37:42اور قیمتی معلومات سے
37:43ہمارے ناظرین تک
37:45روشنی کے اس سفر کی ترسیل فرمائی
37:46ڈاک صاحب آپ کا بھی بہت شکریہ
37:48اور جو دعائیں
37:49آج کی نشست میں
37:51یا اس سے پہلے بھی
37:51یا پچھلے
37:53حاجم خانہ کعبہ میں
37:54جو دعائیں آپ نے کی ہیں
37:55ہم سارے فقیروں کے لئے
37:56اللہ ان کی گئی دعائوں کا صدقہ
37:58ہمیں بارے دگر
37:59سارے دوستوں کو طلب فرمائے
38:00ناظرین مکرم پروگرام
38:02اپنے اختتام کی طرف
38:03آج کے ہمارے موضوع تھا
38:04مکت المکرمہ
38:05وہ پاک شہر جس کی
38:07قسمیں کھائی گئی
38:08جس کی حرمت
38:09جس کی عزت
38:10جس کی توکیر
38:11خود رب تعالی نے بیان کی
38:13اس کے قریم
38:14محبوب علیہ السلام نے بیان کی
38:16میں چند لمحوں میں
38:18پروگرام کے بالکل
38:18اختتامی لمحوں میں
38:20ایک پیغام کے طور پر
38:21میں آپ کو
38:22دعوت فکر دینا چاہتا ہوں
38:23اور میں
38:24چاہتا ہوں کہ
38:25تھوڑا سا ویجیولائز
38:26اگر ہم کر سکیں
38:28ماضی میں
38:29اپنی یادوں کا دریچہ
38:30جو ہیں وہ واق کر پائیں
38:31تو دیکھئے
38:33کہ خانہ کعبہ میں
38:34مکت المکرمہ
38:35کی اس مبارک سرزمین میں
38:37کن کن نفوس سے
38:38قدسیہ کے
38:39قدم لگے ہوئے ہیں
38:40سرکار دو عالم
38:42صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد
38:44اور اس سے پہلے ترتیب بر دیکھیں
38:45آدم علیہ السلام
38:46نو علیہ السلام
38:47شیس علیہ السلام
38:48دعوت علیہ السلام
38:50سلمان علیہ السلام
38:51ابراہیم علیہ السلام
38:52اسمائیل علیہ السلام
38:54ان سارے انبیاء سے ہوتے ہوئے
38:55جناب موسیٰ
38:56جناب عیسیٰ تک آئیے
38:57اس کے بعد
38:58اصحاب کا ذکر کرتے کرتے
39:00جناب ابو بکر صدیق
39:01جناب عمر فاروق
39:03جناب عثمان
39:04جناب تلہا
39:05جناب زبیر
39:06جناب سلمان
39:07جناب ابو زر
39:08مولا علی
39:09مخدرات خانوادہ
39:11نبوت کی بات کی جائے
39:12تو حضرت خدیجہ پاک سے لے کر
39:14عائشہ پاک سے لے کر
39:15امہات المومنین سے لے کر
39:17بی بی پاک سے لے کر
39:18حسن حسین سے لے کر
39:20زین العابدین سے لے کر
39:21آئمہ اہل بیعت سے لے کر
39:23سلاسل کے تمام
39:25ترک کے مشایخ
39:26کا ذکر کیا جائے
39:27تو جناب حسن بصری سے
39:28جنید بغدادی تک
39:29حضرت علی حجویری سے
39:31شاہ نقشبن تک
39:32شاہ سورورد تک
39:33بابا فرید سے لے کر
39:35مہر علی تک
39:35جماعت علی شاہ تک
39:37عرض پاک کے
39:38بر سغیر کے
39:39عالم اسلام کے
39:40جتنے نفوس سے
39:41قدسیاں گزرے
39:42ان منتخب
39:43اور چنیدہ
39:44لوگوں کے قدم
39:45اس خانہ کعبہ کی زمین
39:47کو چومتے رہے
39:48وہ اس سے سرفراز
39:49ہوتے رہے
39:50آئیے
39:50اجسارے گروہ
39:52قدسی کے سد کے
39:52دعا کریں
39:53کہ اللہ رب العزت
39:54ہمیں اس پاک
39:55مٹی کی پھر سے
39:56زیارت نصیب کرے
39:57ہمیں جانا نصیب ہو
39:59اور بار بار
40:00آنا نصیب ہو
40:01آج کی نشیس
40:02اپنے اختتام
40:03کو پہنچتی ہے
40:03نیکی اور خیر کی
40:04اگلی مجلس کے ساتھ
40:06پھر آپ سے
40:06ملاقات تہہرے گی
40:07و السلام علیکم
40:08و رحمت اللہ و برکاتہ
Comments

Recommended