- 5 minutes ago
Hero of Islamic history wars
Category
🎈
FunTranscript
00:03شام میں عیسائی باغیوں کی مکمل بربادی اور سینڈ مارلوف کی گرفتاری کی خبر پوری عیسائی دنیا پر قیامت بن
00:10کر ٹوٹی
00:10شاہی یروشلم بارون سانی نے تین دن تک سوگ بنانے کا اعلان کیا
00:15شہنشہ جرمنی اور شہنشہ فرانس نے بھی اس خبر پر افسوس کا اظہار کیا
00:20مگر اب ان کے دلوں میں مقدس جنگ کے حوالے سے کوئی جذبہ نہیں ابرتا تھا
00:24وہ اپنی اپنی سلطنتوں کی سرحدیں مضبوط کرنے پر مصروف تھے
00:28صرف ایک سلیبی کو اس واقعے سے شدید عذیت پہنچی اور وہ تھا ریمن
00:33انتاکیا کا حاکم اور ملکہ ایلینر کا چچا
00:37ریمن یہ خبر سنتے ہی سیدھا انگلستان پہنچا
00:40ملکہ نے بڑے والہانہ انداز میں اپنے چچا کا استقبال کیا
00:44پھر جب ریمن نے ملکہ ایلینر کو سلیبیوں کی علمناک تباہی کا حال سنایا
00:48تو پہلے وہ غضبناک ہو گئی پھر شدت جذبات سے رونے لگی
00:53میں اس سلسلے میں کیا کر سکتی ہوں
00:55ملکہ نے انتہائی رقت آمیز لہجے میں کہا
00:59میں تمہارے پاس صرف اس لیے آیا ہوں
01:01کہ اگر تم اپنے چند ہزار سپاہی میرے ہمراہ کر دو
01:04تو میں زنگی خاندان سے عیسائیت کی شکست کا انتقام لے سکتا ہوں
01:08حاکم انتاکیا ریمن نے بڑے جذباتی لہجے میں کہا
01:12مسلمانوں سے انتقام لینے کی بات سن کر
01:14یکا یک ملکہ کے بہتے ہوئے آنسو تھم گئے
01:17اور اس کے ہنٹو پر مسکرہات اُبھرائی
01:19اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے
01:22تو میں ہنڈری سے کہہ کر اپنے سپاہیوں کا انتظام کروا سکتی ہوں
01:27ملکہ کا اشارہ اپنے بوڑے شہر شہنشاہ ہنڈری دوم کی طرف تھا
01:30پھر جب شہنشاہ انگلستان اور ریمن کے درمیان اس موضوع پر مذاکرات ہوئے
01:35تو ہنڈری دوم نے صاف انکار کر دیا
01:37میں کسی سلیبی کو نہیں جانتا
01:40اور نہ میرے نزلیت مقدس جنگ کی کوئی حیثیت ہے
01:43میں صرف اس جنگ کو مقدس سمجھتا ہوں جس میں مجھے فتح حاصل ہو
01:46اور میرا اقتدار قائم رہے
01:49شہنشاہ انگلستان کا جواب سن کر ریمن کو سکتا سا ہو گیا
01:52وہ کچھ دیر تک کسی پتھر کے مجسمی کی طرح ساکت بیٹھا رہا
01:56پھر جب ریمن کے ہونٹوں کو جنبش ہوئی
01:59تو اس کی آواز بجی بجی تھی
02:01شہنشاہ میں تو بڑی امیدیں لے کر آیا تھا
02:04شاہ فرانس اور شاہ جرمنی کے بعد
02:06عیسائی دنیا کی توقعوں کا مرکز
02:08صرف آپ ہی کی ذات ہے
02:10ریمن نے ایاری سے کام لیتے ہوئے خوشامدانہ لہجے میں کہا
02:14دراصل ریمن بھی ایک خودگرز اور دنیا دار حاکم تھا
02:17اسے ذاتی طور پر مقدس جنگ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی
02:21وہ تو صرف انتاکیہ کے رقبے کو وسط دینے کے لیے
02:24فریب کاری سے شاہ انگلستان کی فوج کی مدد کا سہارا لینا چاہتا تھا
02:29شہنشاہ انگلستان ریمن سے بھی زیادہ چلاک اور صفاق تھا
02:33شہنشاہ فرانس اور شہنشاہ جرمنی اس وقت کیا کر رہے ہیں
02:37کیا وہ مقدس جنگ میں مسلمانوں کے خلاف صفحے آ رہا ہیں
02:41شہنشاہ ہنڈری اردوم نے بظاہر ایک سیدھا سادھا سوال کیا تھا
02:45مگر در پردہ اس کا کچھ اور ہی مفہوم تھا
02:49اس لئے حاکم انتاکیہ ریمن ہنڈری کی چال کو سمجھنے سے قاسر رہا
02:54اور انتہائی تحقیر عامیس لہجے میں کہنے لگا
02:57شہنشاہ لویس اور شہنشاہ کانڈریٹ نے سلیبی جنگوں سے مو موڑ لیا
03:01اب وہ دونوں اپنے تخت و تاج کی پرستش کر رہے ہیں
03:05انہیں مذہب کی ذرہ بھی پروا نہیں
03:07شام اور فلسطین کے عیسائی اپنے خون میں نہائے ہوئے ہیں
03:10اور وہ دونوں شراب سے غسل کر رہے ہیں
03:13ریمن کا خیال تھا کہ اس جذباتی تقریر سے شہنشاہ ہنڈری پگھل جائے گا
03:17مگر جواب میں والی انگلستان نے ایک زوردار قیقہ لگایا
03:21ریمن نے انتہائی حیرت سے شہنشاہ کی طرف دیکھا
03:24اور انتہائی ناغوار لہجے میں کہا
03:26یہ ہسی کا موقع تو نہیں شہنشاہ
03:30شہنشاہ ہنڈری دون فطرتاً ایک تند خو اور ظالم انسان تھا
03:34اس نے انتہائی جارہانہ لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا
03:37ریمن میں ہس نہیں رہا ہوں
03:41تمہاری بیمار عقل کا ماتم کر رہا ہوں
03:43کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں اس صورتحال سے بے خبر ہوں
03:46ان مقدس محذبی پیشواؤں نے شہنشاہ فرانس اور شہنشاہ جرمنی پر بھی جادو کر دیا تھا
03:51پھر اس کے اثر سے وہ دونوں بھی کچھ دنوں کے لیے تمہاری طرح بیمار ہو گئے تھے
03:56آخر لاکھوں سپاہی کٹوانے کے بعد ان کے سروں سے مقدس راہبوں کا جادو اترا
04:00اور وہ ہوش میں آئے
04:02پھر تمہاری مقدس جنگوں کے حصار سے نکل کر اپنے گھروں کو لوٹ گئے
04:06مگر میں یہ ہماقت ہرگز نہیں کروں گا
04:08اگر میرا بس چلے تو ساری عیسائی دنیا کو ان پادریوں سے نجات دلا دوں گا
04:14ملکہ اینی نربی شوہر کا جواب سن کر حیرت زدہ رہ گئی
04:17ہنڈری سے اس کی شادی کو تقریباً چار سال ہو گئے تھے
04:20مگر آج اتنے طویل عرصے بعد
04:23اس پر یہ راز فاش ہوا تھا کہ ہنڈری ایک انتہائی خودگرز اور دنیا پرست انسان ہے
04:28اور اسے اپنے مذہب سے برائے نام بھی دلچسپی نہیں ہے
04:31ریمن نے تنہائی میں شہنشاہ ہنڈری کی اس بے حیثی کی شکایت کی
04:35تو ملکہ نے انتہائی غضبناک لجے میں کہا
04:37چچا میں ہنڈری کی اس حرکت کو آخری سانس تک فرموش نہیں کروں گی
04:42مجھے شادی سے پہلے اندازہ نہیں تھا
04:44کہ وہ اس قدر بے غیرت انسان ثابت ہوگا
04:47یقیناً آج میں بہت مجبور ہوں
04:49مگر مجھے اس دن کا انتظار ہے
04:52جب وقت کی گردش میرے حق میں ہوگی
04:54پھر میں دنیا کو بتاؤں گی
04:56کہ سلیوی جنگ کیسے لڑی جاتی ہے
04:58اس کے بعد ملکہ نے اپنے بیٹے ریچارٹ کو بلایا
05:01جو اب تین سال کا ہو چکا تھا
05:03ریچارٹ نے کمرے میں داقل ہوتے ہی
05:05ریمن کو سلام کیا اور ماں کے قریب بیڑھ گیا
05:07پھر ملکہ اپنے چچا سے مخاطب ہوئی
05:10اب آپ میرے بیٹے سے سوال کریں
05:12کہ یہ دنیا میں کیوں آیا ہے
05:14ریچارٹ نے کسی ججک کے بغیر ریمن کو جواب دیا
05:17یسو مسینہ مجھے دنیا میں اس لیے بھیجا ہے
05:20کہ میں مسلمانوں کا قتل عام کروں
05:21اور ساری دنیا پہ عیسائیت کا جھنڈا لہ رہا ہوں
05:25ریچارٹ کا جواب سن کر
05:26حاکم انتاکیہ کچھ دیر کے لیے
05:28شدید حیرت میں مبتلا ہو گیا
05:29پھر اس نے اپنی بھتیجی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
05:32ایک میں ہی نہیں
05:34دنیا کا کوئی بھی زیہوش انسان تسلیم نہیں کرے گا
05:37کہ یہ ایک تین سالہ بچے کے خیالات ہیں
05:41ریمن کی بات سنکا ملکہ ایلین کے ہوتوں پہ
05:43فاتحانہ توسم ابر آیا
05:45آپ نے سچ کہا چچا
05:47یہ خیالات ریچارٹ کی نہیں میرے ہیں
05:49یہ کہکہ ملکہ نے بڑی محبت سے
05:51بیٹے کے کندے پہ ہاتھ رکھ دیا
05:53میں نے پیدائش کے بعد اسے دودھ نہیں
05:55یہ الفاظ پلائے ہیں
05:56یہی ریچارٹ کا پہلا اور آخری سبق ہے
05:59جو ہر وقت اس کے خون میں گردش کرتا رہتا ہے
06:02ریمن نے شدت جذبات سے مغلوب ہو کر
06:05ریچارٹ کو گلے لگا لیا
06:06اور کچھ دیر تک اس کے ماتھیں اور اخصاروں پہ بوسے دیتا رہا
06:10اس دوران ریمن کے ہنٹوں پر بس دو ہی جملے گردش کر رہے تھے
06:14زندہ بعد میری بیٹی
06:17زندہ بعد میرے بچے
06:18پھر جب ریمن انگلستان سے رخصت ہونے لگا
06:21تو ملکہ نے خفیہ طور پر اسے بہت سا سونا دیتے ہوئے کہا
06:24آپ اس سے ہتیار اور گھوڑے خریدیں
06:27اور ریچارٹ کے جوان ہونے کی دعائیں کریں
06:29وہ بہت جلد آپ سے آمی لے گا
06:33ابھی سلطان نور الدین زنگی اپنے علاقوں میں عیسائیوں کی بغاوہ سے فارغ ہی ہوئے تھے
06:38کہ ایک اور علمناک واقعہ پیش آ گیا
06:41پانس سو چوالیس ہجری میں مادرین کے حاکم نے آگے بڑھ کر
06:45سلطان سیف الدین غازی کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا
06:49یہ خبر ملتے ہی سلطان سیف الدین غازی ایک لشکر جرار لے کر برق رفتاری کے ساتھ آگے بڑھا
06:56پھر خون ریز جنگ کے بعد
06:58سلطان نے نہ صرف اپنے علاقے واپس لے لیے بلکہ انتقامی کاروائی کے طور پر مادرین کے کچھ علاقوں پر
07:04بھی قبضہ کر لیا
07:04آخر مادرین کے حاکم میں سلطان سیف الدین غازی کی خدمت میں معذرت نامہ پیش کرتے ہوئے یقین دلایا
07:11کہ وہ آئندہ ایسی کوئی جارہانہ کاروائی نہیں کرے گا
07:14اور اچھے پڑوسی ہونے کا عملی ثبوت فراہم کرتا رہے گا
07:18اس تحریری یقین دہانی کے بعد
07:21سلطان سیف الدین غازی نے مادرین کے علاقے واپس کر دئیے
07:25اور اپنے دارالحکومت موسل کی طرف روانہ ہو گیا
07:28راستے میں سلطان کو بخار آ گیا
07:30جس میں لحظہ بلحظہ شدت آتی چلی گئی
07:34درباری طبیبوں نے اپنی تشخیص کے مطابق بہترین دوائیں تجویز کی
07:38مگر ہر دوائے بے اثر ثابت ہوئی
07:40سلطان سیف الدین غازی بڑی مشکل سے موسل پہنچا
07:44اور تیسرے دن انتقال کر گیا
07:46سلطان اماد الدین زنگی کے تیسرے بیٹے قدب الدین مودود نے فوری طور پر اپنی تخت ناشینے کا اعلان کر
07:53دیا
07:53اسے وزیر آزم جمال الدین اور قلعہ دار زین الدین کی حمایت حاصل تھی
07:58مگر سلطان سیف الدین غازی کے دوسرے عمرہ قدب الدین کے حق میں نہیں تھے
08:03انہوں نے فوری طور پر دو برک پروتار قاسدوں کو سلطان نور الدین زنگی کی خدمت میں یہ پیغام دے
08:09کر بھیجا
08:10کہ موسل کی حکومت پر ان کا حق ہے
08:12سلطان عادل اس وقت انتاکیہ پر حملے کی تیاری کر رہے تھے
08:16بڑے بھائی کے انتقال کے خبر نے سلطان کو رنجیدہ کر دیا
08:20مگر وہ اپنے خاندان کو انتشار سے بچانے کے لیے موسل کی طرف روانہ ہوئے
08:24اس وقت سلطان نور الدین زنگی کے حمرہ ستر عمرہ خاص تھے
08:29ان میں اسد الدین شیرکو اور یوسف صلاح الدین بھی شامل تھے
08:33بڑے بھائی کے آنے کے خبر سن کر قدب الدین مودود بھی اپنا لشکر لے کا نکلا
08:38اس سے پہلے کہ دونوں بھائیوں کے درمیان جنگ چھڑ جاتی اور ہزاروں مسلمان خاک میں مل جاتے
08:44وزیر عظم جمال الدین نے بڑی فراست سے کام لیا
08:48اور قدب الدین مودود کو تنہائی میں بہت دیر تک سمجھاتا رہا
08:53تم سلطان عادل کی محبت سے واقف نہیں ہو وہ اقتدار کے بھوکے نہیں ہیں
08:58ایک بار فرما برداری کا مظاہرہ تو کر کے دیکھو
09:01وزیر عظم کی بات قدب الدین مودود کی سمجھ میں آ گئی
09:05اور وہ اکیلا گھوڑے پہ سوار ہو کا سلطان نور الدین محمود زنگی کے خیمے کی طرف روانہ ہوا
09:10سلطان عادل نے چھوٹے بھائی کو اپنی طرف آتے دیکھا تو خود بھی بے تابانہ آگے بڑھے
09:16پھر دونوں بھائی گلے ملے اور بہت دیر تک سلطان سیف الدین غازی مرہوم کو یاد کر کے روتے رہے
09:22پھر اسی دن دربار عراستہ کر کے موسل کے تخت پر بیٹھے
09:26اور اپنے برابر چھوٹے بھائی قدب الدین مودود کو بٹھایا
09:30اس کے بعد عمرہ کو مخاطب کر کے ایسی پرسوس تقریر کی کہ حاضرین دربار کی آنکھوں میں آنسو آ
09:36گئے
09:37لوگوں آج میں جس تخت پر بیٹھا ہوں کل اسی جگہ میرے بڑے بھائی جلوہ افروز تھے
09:42تم نے دیکھ لیا حیات انسانی کیسی بے اعتبار ہے
09:46اور یہ اقتدار کتنی بے وفا شہ ہے
09:49اس لکڑی کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کو حاصل کرنے کے لیے
09:53ہم کس قدر بے رحمی کے ساتھ اپنے ہی بھائیوں کا خون بہاتے ہیں
09:57اسی وحشیانہ خودغرضی نے عالم اسلام کو ہزاروں ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا
10:02اور دنیا کی سب سے عظیم طاقت اتنی کمزور ہو گئی
10:05کہ اقوام عالم کے دلوں سے اس کا خوف جاتا رہا
10:08میں تمہیں اس دن سے ڈراتا ہوں
10:10کہ تمہاری کسرت گناہ اور مسلسل نافرمانیوں کے سبب
10:15اللہ تمہاری طرف سے اپنی نظر کرم پھیر لے
10:17اور تم دنیا میں ظلیل و خوار ہو کر رہ جاؤ
10:20اس کے ساتھ ہی میں اپنے چھوٹے بھائی قدب الدین مودود کو
10:24موسل کا امیر مقرر کرتا ہوں
10:26اللہ اسے مخلوق خدا کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے
10:31اور میں ان عمرہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں
10:33کہ جنہوں نے دو بھائیوں کے درمیان صلح صفائی کروا کے
10:36سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو زندہ کیا
10:41اللہ تم سب پر اپنی رحمتیں نازل کریں
10:46پھر ایک ہفتے موسل میں قیام کرنے کے بعد
10:49سلطان نور الدین زنگی شام پہنچے
10:51اور دوبارہ انتاکیہ پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کرنے لگے
10:55اچانک انہیں ایک اور علمناک خبر ملی
10:58دمشق کے وزیر آزم امیر مہین الدین نے وفاد پائی
11:01اس کے مرتے ہی دمشق کے نا اہل حکمران امیر مجید الدین نے حکومت کی باگڑور سمال لی
11:07امیر مہین الدین اسلام کا درد رکھنے والا دور اندیش اور انتہائی لائق منتظم تھا
11:13اس کی موت نے دمشق کے گرد و نوامے بسنے والے عیسائیوں کے حوصلے بلند کر دیئے
11:18اور انہوں نے حران کے علاقے کو تباہ و برباد کرنا شروع کر دیا
11:22وہ کھلے عام مسلمان عورتوں اور بچوں کو گرفتار کر کے لے جاتے تھے
11:26اور پھر انہیں غلام بنا کر بزاروں میں فروخت کر دیتے تھے
11:29جب سلطان نور الدین زنگی کو ان واقعات کی خبر موصول ہوئی
11:33تو وہ بہت رنجیدہ خاتر ہوئے
11:35پھر فوری طور پر سلطان عادل نے ایک قاسد کو یہ پیغام دے کر
11:40امیر مجیر الدین کے پاس دمشق بھیدا
11:42اگر ان فتنہ پرداس عیسائیوں کی سرکوبی نہیں کی گئی
11:46تو ایک دن تمہاری سلطنت بھی غیر محفوظ ہو جائے گی
11:51امیر مجیر الدین نے اس مخلصانہ مشورے کو بڑی حقارہ سے ٹھکرا دیا
11:55اور سلطان نور الدین زنگی کے خط کے جواب میں صاف صاف لکھ دیا
11:59کہ وہ اپنی حفاظت کرنا خوب جانتا ہے
12:02امیر مجیر الدین کے جواب سے سلطان عادل کو سخت مایوسی ہوئی
12:06وہ جانتے تھے کہ اگر مجیر الدین کی اصلاح نہیں کی گئی
12:09تو عیسائیوں کو دوبارہ قدم جمانے کا موقع مل جائے گا
12:12اور پھر اس پورے علاقے کی ازادی خطرے میں پڑ جائے گی
12:16مجبوراً سلطان نے اپنے لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کیا
12:19ایک لشکر کی قیادت اصد الدین شہر کوہ کو سوپی
12:23اور یوسف صلاح الدین کو اس کا نائب مقرر کیا
12:26پھر یہ لشکر مفسد عیسائیوں کی سرکوبی کے لیے حران کی طرف روانہ ہوا
12:30دوسرے لشکر کی قیادت خود سلطان نور الدین محمود زنگی کر رہے تھے
12:34جس کا رخ دمشق کی طرف تھا
12:36سلطان عادل برق رفتاری کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے دمشق نواہی علاقے بالبک میں داخل ہو گئے
12:43جو دو سال سے قہد کا شکار تھا
12:46اور یہاں کے مقامی باشندش سخت عذاب میں مبتلا تھے
12:50پھر عجیب بات یہ ہوئی کہ جیسے ہی سلطان عادل نے بالبک کی حدود میں قدم رکھا
12:54تو یکا یک مشرق کی سم سے ایک گہرہ سیاہ بادل اٹھا
12:58اور دیکھتے ہی دیکھتے مستدھار بارش شروع ہو گئی
13:01اس علاقے کے رہنے والوں نے سلطان نور الدین زنگی کی آمد کو نہایت مبارک سمجھا
13:06اور پانی میں بھیگتے ہوئے سلطان عادل کے دیدار کو حاضر ہوئے
13:10پھر جب سلطانی لشکر آگے بڑھا
13:12تو بالبک کے باشندوں کے ہونٹوں پہ بس ایک ہی دعا تھی
13:15اے اللہ تُو امیر مجیر الدین کو برباد کر
13:19اور سلطان نور الدین کو فتح نسرت سے ہم کنار کر کے
13:22ہمیں ایسے ہی مہربان اور عادل حکمران کی ضرورت ہے
13:27جیسے ہی امیر مجیر الدین کو سلطانی لشکر کے آنے کی خبر ملی
13:31تو اس نے ایک نہایہ گستہ خانہ خط نور الدین زنگی کے نام تحریر کیا
13:36تمہارے حق میں یہی بہتر ہے کہ تم بلا تاخیر واپس چلے جاؤ
13:39ورنہ ہماری شمشیریں اور نیزیں تمہارا استقبال کریں گی
13:42اور تمہیں شکست و نامرادی کے سبب کچھ حاصل نہ ہوگا
13:47امیر مجیر الدین کا خط پڑھ کر سلطان عادل کو سخت غصہ آیا
13:51مگر انہوں نے بے مثال ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا
13:54اگر وہ چاہتے تو چند روز میں دمشقی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے
13:58لیکن انہوں نے مسلح تصادم کے بجائے
14:01مذاکرات کو ترجیح دیتے ہوئے جوابی خط تحریر کیا
14:04تم خود میرے پاس آؤ یا اپنے کسی معتبر امیر کو بھیج دو
14:08کہ ہم دونوں ملکہ سلامتی کا کوئی راستہ اختیار کریں
14:12امیر مجیر الدین نے سلطان عادل کے جواب کو
14:15والی شام کی کمزوری سمجھا اور فوراں دوسرا خط لکھا
14:18ہم اپنے الفاظ واپس نہیں لیتے
14:21ایک بار جو کہہ دیا سو کہہ دیا
14:23تمہاری سلامتی اسی میں ہے کہ اٹھے قدموں لوٹ جاؤ
14:28مجبوراں سلطان نور الدین زنگی نے آگے بڑھ کر
14:31پورے دمشق کا محاصرہ کر لیا
14:32پھر اس قدر دباؤ بڑھایا کہ امیر مجیر الدین نے گھٹنے ٹیک دیئے
14:36اور سلطان عادل سے صلح کی درخواست کی
14:39سلطان نور الدین زنگی نے اپنی طرف سے صلح کی دو شرائط پیش کی
14:43پہلی یہ کہ امیر مجیر الدین اپنے ہاتھ سے صلح نامہ تیری کرے
14:48اور دوسری یہ کہ صلح کی ذرخواست لے کر وہ خود سلطان کی خدمت میں حاضر ہو
14:53وہ بڑا زلت آمیز منظر تھا
14:56کہ جب امیر مجیر الدین اپنے چند محافظوں کے ساتھ
14:59صلح نامہ ہاتھ میں لیے ہوئے سلطان کی خیمے میں داخل ہوا
15:02پھر کچھ دیر بعد سلطان نور الدین زنگی دمشق کے تخت پر جلوہ افروز ہوئے
15:07امیر مجیر الدین ان کے بائیں ہاتھ پر سر جھکائے بیٹھا تھا
15:11پھر سلطان عادل انتہائی پر جلال لہجے میں حاضرین دربار سے مخاطب ہوئے
15:16میں نے والی دمشق کی تمام گستاقیوں کو ماف کرتے ہوئے
15:20سلح و سلامتی کا راستہ صرف اس لیے اختیار کیا
15:22کہ اہل ایمان کا خون زمین پر نہ گرے
15:25جو میری نظر میں دنیا کی ہر شئے سے زیادہ قیمتی ہے
15:28اس کے بعد سلطان نور الدین اور امیر مجیر الدین کے درمیان مندجہ زیل محایدہ تیہ پایا
15:34جس کے مطابق جامع مسجد دمشق میں خلیفہ بغداد اور سلطان مسعود سلجوقی کے ناموں کے بعد
15:42خدموں میں سلطان نور الدین محمود زنگی کا نام بھی پڑا جائے گا
15:45اس کے علاوہ تمام فوجی افسروں کا تقرر سلطان عادل کی منظوری سے ہوا کرے گا
15:51اور انہی کے نام کا سکہ دمشق میں رائش کیا جائے گا
15:54صرف مالی انتظامات امیر مجیر الدین کے پاس رہیں گے
15:58اس محایدے کے بعد سلطان نور الدین محمود زنگی خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر حلب واپس آ گئے
16:04پھر جب دوسرے دن حلب کا دربار آراستہ تھا
16:08تو اسطردین شہرکو اور یوسف سراہ الدین اس خوشخبری کے ساتھ داخل ہوئے
16:13کہ حران میں عیسائیوں کی فتنہ پردازیوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا گیا
16:17یہ اتنی بڑی خبر تھی کہ سلطان عادل شدت جذبات میں تقس سے نیچے اتر آئے
16:22اور والہانہ انداز میں اسطردین شہرکو کی پیشانی کو بوسا دیا
16:27پھر یوسف کے ماتھے کو چوما جہاں شمشیر کے کئی زخم نمائی تھے
16:31سلطان نور الدین محمود زنگی نے بڑے جذب و کیف کے عالم میں کہا
16:36معزز اور سربلند ہے وہ پیشانی جو حق کے راستے میں کھائے ہوئے زخموں سے سجائی جائے
16:42یوسف صلاح الدین کا یہ دوسرا جنگی کارنامہ تھا
16:45حران کی عیسائیوں کا خاتمہ کرنے میں
16:48یوسف نے اپنے چچا کے ساتھ مل کر جو کارنامہ انجام دیا تھا
16:52اس نے یوسف کو سلطان کی نگاہ میں عزیز تر بنا دیا تھا
16:56انصاف پسند معزز درباری عمرہ جن کے سینے جذبات حسد سے پاک تھے
17:01وہ بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ سلطان عادل کا انتخاب درست تھا
17:07یوسف کا باپ نجم الدین ایوب بھی بہت خوش تھا
17:11مگر کبھی کبھی اس زمانے کو یاد کر کے دل ہی دل میں شرمندہ ہو جاتا تھا
17:17جب وہ یوسف کی پیدائش کو منحوس سمجھتا تھا
17:20اور اب وہی بچہ اپنے باپ کے لیے مبارک ثابت ہوتا جا رہا تھا
17:24دمشق سے حل پہنچنے کے بعد
17:27یوسف صلاح الدین سب سے پہلے اپنی والدہ زبیدہ کے قدم بوسی کو حاضر ہوا
17:32پھر بے شمار دعاوں کے سائے میں اپنے استاد گرامی قاضی ابن عرسون کی درزگاہ میں حاضر ہوا
17:39اس وقت قاضی صاحب چند علم دوز موززین شہر کے ساتھ اپنے مسنط پر تشریف فرما تھے
17:45جیسے ہی یوسف درزگاہ میں داخل ہوا قاضی ابن عرسون اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے
17:51حاضرین درزگاہ کے لیے قاضی صاحب کا یہ عمل شدید حیرت کا باعث تھا
17:56قاضی ابن عرسون سلطان نور الدین محمود زنگی کے علاوہ بڑی سے بڑی شخصیت کے احترام میں بھی کھڑے نہیں
18:03ہوتے تھے
18:03خود یوسف کو بھی اپنے استاد گرامی کے اس انداز پر بڑا تاجب تھا
18:08قاضی ابن عرسون بڑے والہانہ انداز میں اپنے شاگر سے ملے
18:12پہلے یوسف کو گلے لگایا
18:14پھر اس کی کشادہ پیشانی کو جن پر زخموں کے کئی نشان تھے محبت آمیز نظروں سے دیکھتے رہے
18:21پھر یوسف کے ماتھے کو بوسہ دیتے ہوئے فرمایا
18:24سبحان اللہ کیسا نور ہے جو اس درزگاہ کے بام و در کو روشن کر رہا ہے
18:30پھر یوسف صلی اللہ علیہ وسلم کو مسند پر اپنے قریب بٹھایا
18:34اور حاضرین مجلس کو نہایت اثر انگیز لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے کہا
18:39میں اپنے شاگرد یوسف کے نہیں ایک مرد مجاہد کے احترام میں کھڑا ہوا تھا
18:44ہم لوگ تو گوشنشین ہیں جو کتابوں کے اوراک الٹتے رہتے ہیں
18:49اور یہ مجاہدین کفار کی صفوں کو الٹتے رہتے ہیں
18:52دونوں کاموں میں بڑا فرق ہے
18:55یہ کہہ کر قاضی ابن عرسو نے حاضرین درزگاہ کو سرور کونین
18:59حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ سنائی
19:03جس کا کم و بیش مفہوم کچھ اس طرح ہے
19:06اسلامی سلطنت کی سرحدوں کی حفاظت میں پہرہ دینے والے مرد مجاہد کی ایک رات
19:12گوشنشینی زاہدوں کی سو سالہ عبادت سے بہتر ہے
19:15قاضی ابن عرسو کی خدمت میں حاضری دینے کے بعد
19:19یوسف اس حجرے پہ پہنچا
19:21جہاں شارعہ دن رات عبادت اور تلاوت میں مصروف رہتی تھی
19:25یوسف نے دروازے پہ دستک دی
19:27شارعہ اس وقت اپنے فرشی بستر پہ دراست تھی
19:30یہ فرشی بستر ایک چٹائی اور دری پر مشتمل تھا
19:34دستک کے آواز سنکا شارعہ چونکی اور اٹھ کر بیٹھ گئی
19:38اس کے چونکنے کی وجہ یہ تھی
19:40کہ مدرسے میں صرف ایک بوڑی عورت تھی
19:42جو شارعہ کے کمرے میں بغیر اجازت آ جایا کرتی تھی
19:46پھر دستک دینے والا کون تھا
19:48شارعہ عجیب سے الجھن میں مبتلا تھی
19:50اسی دوران میں دوسری دستک ہوئی
19:52اس نے گھبرا کر پوچھا
19:54کون
19:55باہر سے ایک مانوز آواز سنائی دی
19:58یوسف
20:00شارعہ کا چہرہ مسررہ سے کھل اٹھا
20:02اس نے بدھواسی کے عالم میں اپنے سر پر چادر ڈالی
20:05اور تیجی سے اٹھ کر دروازہ کھول دیا
20:08سامنے یوسف
20:09صلاح الدین کھڑا تھا
20:10شارعہ کچھ دیر کے لیے اپنے گرد و پیش سے بے خبر ہو گئی
20:14یوسف نے بڑی حیرت سے شارعہ کے چہرے کو دیکھا
20:16کسرت ریاضت سے
20:18اس کا سرخ و سفید رنگ
20:19زردی مائل ہو چلا تھا
20:21شارعہ میں یوسف ہوں
20:23کیا تم مجھے پہچانی نہیں
20:24یوسف نے شارعہ کو مخاطب کیا
20:27یوسف کی آواز سے
20:29اس کے سکوت و حیرت کی کیفت زائل ہو گئی
20:31پھر اس نے بڑی سرشاری کے لہجے میں کہا
20:34حق تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے
20:36کہ ایک بار پھر تمہیں اپنی نظروں کے سامنے پا رہی ہوں
20:39یہ کہہ کر شارعہ نے راستہ چھوڑ دیا
20:41یوسف صلاح الدین کمرے میں داخل ہو گیا
20:44پھر شارعہ نے
20:45اپنے معمولی بستر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
20:48بیٹھ جاؤ یوسف
20:49اگرچہ یہ تمہارے جیسے شہنشاہ کے شایان شان نہیں
20:53لیکن کیا کروں
20:54کہ اس غریب کنیز کے پاس
20:56اس سے زیادہ کچھ نہیں
20:57اور یہ بھی استاد گرامی کا صدقہ ہے
20:59شارعہ کے لہجے سے ندامت کے ساتھ
21:01بے قصی بھی جھلک رہی تھی
21:03یوسف کے دل پر چوٹ سی لگی
21:05عشق نے شارعہ کو کیا سے کیا بنا دیا تھا
21:08تمہارا یہ معمولی بوریا
21:10ان ریشمی اور حریری نوسندوں سے
21:12کہیں بہتر ہے
21:12جنہیں دنیا داری کی چادروں
21:14اور منافقوں کے تکیوں سے
21:16اراستہ کیا جاتا ہے
21:17یہ کہتے ہوئے
21:18یوسف شارعہ کے فرشی بستر پر بیٹھ گیا
21:21شارعہ باعدب کھڑی رہی
21:22جیسے آقا کے سامنے کوئی کنیز
21:25یا مالک کے سامنے روبرو
21:26کوئی فرش شناز ملازمہ
21:28تم بھی بیٹھ جاؤ
21:30یوسف نے شارعہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
21:32ایک شہنشاہ کے سامنے کنیز
21:35کس طرح بیٹھ سکتی ہے
21:36شارعہ کے لہجے میں عجیب سی سرشاری تھی
21:39مگر اس میں حویس کی آمیدش نہیں تھی
21:41بلکہ جانی ساری ہی جانی ساری تھی
21:44میں تو ایک معمولی سپاہی کے سوا کچھ بھی نہیں
21:47یوسف نے سادگی کے ساتھ جواب دیا
21:49مگر شارعہ کے اس طرز عمل کے سامنے
21:51وہ خود کو بڑا عجیب سا محسوس کر رہا تھا
21:54لیکن میرے لیے تو ایک شہنشاہ سے بھی زیادہ ہیں
21:57شارعہ کے لہجے میں انتہائی وارفتگی جھلک رہی تھی
22:01شارعہ تم جس استاد کی شاگرد ہو
22:03ان کا ہی کہنا ہے
22:04کہ اسلام میں مسابات ہے
22:05کوئی آقا کوئی غلام نہیں
22:07یوسف نے نہایت پرسوز لہجے میں کہا
22:10اور اٹھ کھڑا ہوا
22:11میں تمہیں زہمت دینے نہیں آتا ہوں
22:13اگر تم نہیں بیٹھ سکتی
22:15تو پھر میں بھی کھڑا رہتا ہوں
22:16پھر یوسف کے کہنے پہ شارعہ بھی بیٹھ گئی
22:19اس کی نظر مستقل یوسف کے چہرے پہ مرکوز تھی
22:22پھر اچانک اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے
22:25یوسف نے رونے کا سبب پوچھا
22:27تو انتہائی رقت آمیس لہجے میں کہنے لگی
22:29میں اس اپنی محرومی پر روتی ہوں
22:31کہ تمہاری کوئی خدمت نہیں کر سکتی
22:34میرا دل چاہتا ہے کہ شہ سواری سیکھوں
22:36اور تمہارے ساتھ جنگ میں شریک رہوں
22:38پھر دشمن کی جو شمشیر تمہاری طرف لپکے
22:41اسے اپنے کمزور اور ناتوان جسم پر روکوں
22:44یہاں تک کہ لڑتے لڑتے ماری جاؤں
22:47پھر شارعہ نے یوسف کی پیشانی کی جانب
22:50اشارہ کرتے ہوئے کہا
22:51یہ زخم جو تمہارے ماتھے پر ابرے ہیں
22:53وہ میرے دل تک آئے ہیں
22:55میں اپنی اس بدنصیبی پر ماتم کرتی ہوں
22:58کہ ان زخموں پر مرہم بھی نہیں رکھ سکتی
23:01شارعہ کی اس استرابی کیفیت نے
23:03یوسف کو اور بھی اداس کر دیا تھا
23:05پھر شارعہ نے بڑی مشتل سے
23:07اپنے جذبات پر قابو پایا
23:08آنسو پوش ڈالے اور مسکراتے ہوئے کہنے لگی
23:11تمہیں یہ فتوحات مبارک ہو
23:13مگر ابھی اور بھی عظم شان فتوحات
23:16تمہارا انتظار کر رہی ہیں
23:17پھر جب یوسف صلاح الدین
23:19رسط ہونے لگا تو شارعہ نے
23:21اپنے محبوب کی بارگاہ میں ایک انوکھی نظر
23:23پیش کرتے ہوئے کہا
23:24یوسف تم جب بھی میدان کارزار کی طرف جاؤ
23:27تو خود کو تنہا نہ سمجھنا
23:29میں گھوڑے کے سموں سے اٹھنے والے
23:31غبار کی طرح تمہارے ساتھ ہوں
23:35سلطان نور الدین محمود زنگی
23:37کے عمرہ میں ایک امیر زنجار بھی تھا
23:39جو امیر ابن مرکوم کی طرح
23:41سادشی بلحوس
23:43اور کینہ پرور انسان تھا
23:45یوسف صلاح الدین پر
23:47ازام تراشی کے موقع پر اس نے
23:49ترکی کنیز شارعہ کو دیکھا تھا
23:51اور اس کے بے پناہ حسن و جمال پر
23:53دل و جان سے فرفتہ ہو گیا تھا
23:55ابن مرکوم کے معتوب ہونے کے بعد
23:57امیر زنجار نے سوچا
23:59کہ شارعہ بے سہرہ ہو گئی ہوگی
24:01تو اسے وہ اپنی کنیز بنا لے گا
24:03مگر جب سلطان نے شارعہ
24:05کو اپنے محل سرہ میں پناہ دے دی
24:07تو امیر زنجار کے سارے ہوسناک
24:10مجذبوں اور منصوبوں پر
24:11اوس پڑ گئی
24:12پھر اس وقت امیر زنجار کی ناعسودہ
24:15خواہشوں نے دوبارہ کور بدلی
24:17جب شارعہ سلطان عادل کے محل سے نکل کر
24:19قاضی ابن عرسون کی درزگاہ
24:22میں داخل ہو گئی
24:22امیر زنجار کچھ دیر تر خاموشی سے
24:25حالات کا جائزہ لیتا رہا
24:27پھر ایک دن وہ قاضی ابن عرسون کی درزگاہ
24:29میں داخل ہوا اور شارعہ کی بیچارگی
24:31پر اپنی ریاہ کارانہ
24:33ہمدردی کا اظہار کرنے لگا
24:35قاضی صاحب
24:36یقین اس بے سہارا لڑکی کے ساتھ
24:38بڑا ظلم ہوا ہے
24:39اگر آپ حکم دیں
24:41تو میں اس کی تلافی کر دوں
24:42قاضی ابن عرسون حیرت سے
24:44امیر زنجار کی طرف دیکھا
24:46تم اس لڑکی کی مدد کس طرح کرنا چاہتے ہو
24:49میں چاہتا ہوں کہ وہ آپ کے مدرسے پر بوجھ نہ بنے
24:53امیر زنجار نے بڑی ایاری کے ساتھ
24:55اپنا مدعہ بیان کرتے ہوئے کہا
24:57اس لیے میں نے سوچا ہے
24:58کہ اسے اپنی کنیز بنا لوں
25:00تاکہ وہ ایش و ارام کی زندگی گزار سکے
25:03امیر زنجار کی بات سنکا
25:04قاضی ابن عرسون کے چہرے پر
25:06ناغواری کا رنگ ابر آیا
25:07اگر وہ ایش و ارام کی طلبگار ہوتی
25:10تو دربارے سلطانی چھوڑ کر
25:12ایک فقیر کے مدرسے میں کیوں آتی
25:14اسے کسی کی غلامی کی عرضو نہیں
25:16عزت و سکون کی تلاش ہے
25:18میں سمجھتا تھا کہ تم اسے شادی کر کے
25:20ایک مسلمان عورت کو باوقع زندگی دینا چاہتے ہو
25:24امیر زنجار کا منصوبہ ناکام ہو چکا تھا
25:27مگر اس کے شاطر ذہن نے
25:28چند لمحوں میں نئی ترقیب سوچ لی تھی
25:30اگر وہ مجھ سے شادی کرنے پر
25:32ازامن ہے تو میں اس کے لیے بھی تیار ہوں
25:35امیر زنجار کے جواب
25:37نے قاضی ابن عرسون کو مطمئن کر دیا
25:39میں شارعہ کے سامنے
25:40تمہاری اس خواہش کا ذکر کروں گا
25:42اگر وہ راضی ہو گئی
25:43تو اس طرح ایک اچھی رسم کی بنیاد پڑ جائے گی
25:46اور حق تعالیٰ تمہیں
25:48اس حسن نیت کا بہترین صلح عطا کرے گا
25:51امیر زنجار کو یقین تھا
25:53کہ ترکی کنیس اس شادی کی پیشکش کے دواب میں
25:55اس قدر خوش ہوگی
25:56کہ وہ اپنا سر اس کے قدموں پر رکھ دے گی
25:59اور پھر یکا یک ایک شیطان
26:01مسکرہت امیر زنجار کے ہوتوں پر اُبھر آئی
26:03اور پھر کیا ہوگا
26:05کچھ دن بعد مہر کی رقم ادا کر کے
26:07اسے طلاق دے دوں گا
26:08امیر زنجار نے خود کلامی کے انداز میں کہا
26:12پھر جب قاضی ابن ارسو نے شارعہ کو
26:15امیر زنجار کی طرف سے شادی کا پیغام دیا
26:17تو وہ کچھ دیر کے لیے ساکت ہو کر رہ گئی
26:19شارعہ کی یہ کیفت دے کر
26:21قاضی ابن ارسو سمجھے
26:22کہ اسے اس پیشکش پر یقین نہیں آ رہا ہے
26:25انہوں نے شارعہ کی بے یقینی کو دور کرنے کے لیے
26:28محبت آمیز لہجے میں کہا
26:35کہ وہ ایک شریف انسان ہے
26:37استاد محترم کی زبان سے
26:39امیر زنجار کی تعریف سن کر شارعہ سمل گئی
26:42اور انتہائی عدب کے ساتھ عرض کرنے لگی
26:44امیر زنجار فرشتہ صرف تھی کیوں نہ ہو
26:47شادی میری زندگی کا مقصد نہیں ہے
26:49قاضی ابن ارسو شارعہ کی بات سن کر چونک اٹھے
26:53اور پھر شادی کے سلسلے میں شرعہ احکام سمجھانے لگے
26:57عورت ہو یا مرد دونوں کے لیے
26:59تنہا زندگی ہمیشہ خطرات سے بھئی رہتی ہے
27:02اور تم جیسی بے یار و مددگار عورت کے لیے
27:05اس سے بہتر سہارا ممکن نہیں
27:06یکا یک شارعہ بہت زیادہ اداس نظر آنے لگی
27:10میں آپ کے توسط سے علم کی پنہ میں آئی ہوں
27:13آپ مجھے دوبارہ ایک ایش پرست امیر کے حوالے کر رہے ہیں
27:17شارعہ کے لہجے میں بے پنہ درد شامل تھا
27:20اگر امیر زنجار اتنا ہی شریف نفس انسان ہے
27:23تو مجھے اپنی بیٹی کیوں نہیں بنا لیتا
27:26اگر کسی کو میری غربت کا اتنا ہی احساس ہے
27:28تو میری کفالت کے لیے وظیفہ مقرر کیوں نہیں کر دیتا
27:31یہ سب نفس کے بندے ہیں
27:33جو لباس بدل بدل کر دنیا کو فریب دیتے رہتے ہیں
27:36شارعہ کی حقیقت پسندانہ گفتگو سن کر
27:39قاضی ابن عرسون شدید حیرت میں مبتلا ہو گئے
27:42اگر آپ کے مدرسے کی زمین بھی مش پر تنگ ہو گئی ہے
27:45تو میں آج ہی یہاں سے چلی جاؤں گی
27:47یہ کہتے کہتے شارعہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے
27:50یہ منظر دیکھ کر قاضی ابن عرسون مسترب ہو گئے
27:54اور شارعہ کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولے
27:56تم میری بیٹی کی طرح ہو
27:58نہ میں تمہیں مجبور کر سکتا ہوں
28:00نہ اس مدرسے کی زمین تم پر تنگ ہو سکتی ہے
28:03پھر جب امیر زنجار دوبارہ مدرسے میں آیا
28:06تو قاضی ابن عرسون نے بہت نرم لہجے میں شارعہ کا اندیار ظاہر کر دیا
28:10کہ وہ کسی امیر سے شادی کرنا نہیں چاہتی
28:13امیر زنجار کے ہنٹوں پہ ایک ایار مسکراہت اُبھر آئی
28:17اور وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولا
28:20آپ گواہ رہیں گے
28:22کہ میں نے ایک غمزدہ اور بے سہارا عورت کا بھلا چاہا تھا
28:26یہ کہہ کر امیر زنجار جانے کیلئے کھڑا ہو گیا
28:29قاضی ابن عرسون نے اسے رخصت کرتے ہوئے کہا
28:32حق تعالی انسان کو حسن نیت کا صلح ضرور دیتا ہے
28:38اپنے منصوبے پر ناکام ہو جانے کے بعد
28:40امیر زنجار کو شیطان نے نئے انداز سے ورغل آیا
28:43پھر اس نے ایک اور خوفناک چال چلی
28:46وہ اس علاقے کے چند غریب لوگوں سے ملا
28:49جہاں قاضی ابن عرسون کی درزگاہ تھی
28:51پھر اس نے کچھ غریب طالب علموں کو بھی اپنا ہمنوہ بنا لیا
28:55کہ ضرورت پڑھنے پر وہ قاضی ابن عرسون کے خلاف گواہی دیں گے
28:59ان تمام نادار لوگوں کو امیر زنجار نے پیسے دے کر خریدا تھا
29:03اپنا دوسرا شیطانی منصوبہ ترتیب دینے کے بعد
29:06امیر زنجار ایک دن سلطان نور الدین محمود زنگی سے تنہائی میں ملا
29:10پہلے اس نے سلطان عادل کے شان میں ایک طویل قصیدہ پڑا
29:14بے شک ہم گم رہتے مگر آپ نے ہمیں ہدایت کی راہ دکھائی
29:20سلطان خاموشی سے امیر زنجار کی مبالغہ آمی ستائشی کلمات سنتا رہا
29:24پھر جب ایار امیر خاموش ہوا تو سلطان عادل نے پرزوز لہجے میں کہا
29:29تمام تعریفیں اور بڑھائیاں صرف اللہ کے لیے ہیں اور وہی انسانوں کو ہدایت دیتا ہے
29:34مگر آج تمہیں اس تعریف کی کیا ضرورت پیش آگئی
29:38یکا یک سلطان نور الدین زنگی کے لہجے سے تنز جھلکنے لگا
29:42سلطان کی ذہانت اور فراست نے اندازہ کر لیا تھا
29:45کہ امیر زنجار کی یہ خوش آمدانہ گفتگو بے سبب نہیں ہے
29:48یقینا وہ کوئی مقصد لے کر آیا ہے
29:52سلطان عادل نے مجھے سب سے زیادہ نازک ذمہ داری سوپی ہے
29:56کہ میں آپ کو عوامی رائے سے آگاہ کرتا رہوں
30:00امیر زنجار نے بڑے آجزانہ لہجے میں کہا
30:03وہ سلطان نور الدین محمود زنگی کے شعبہ جاسوسی کا ایک افسر تھا
30:07اس منصب پر تین اور مطبر افراد بھی فائز تھے
30:11امیر زنجار نے اپنے اسی عہدے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی
30:15میں جانتا ہوں تم اپنا مدعا بیان کرو
30:18سلطان نے پر جلال لہجے میں کہا
30:20قاضی ابن ارسوں کی وجہ سے کچھ لوگوں میں بدگمانیاں پیدا ہو رہی ہیں
30:25آخر بہت سوچ سمجھ کر امیر زنجار نے پہلی چال چل دی
30:29اور سلطان نور الدین زنگی کے چہرے پر اپنی چال کا رد عمل تلاش کرنے لگا
30:34کیسی بدگمانی؟
30:36ایک لمحے میں سلطان عادل کے چہرے کا رنگ بدل گیا
30:39کیا کوئی مذہبی معاملہ ہے؟
30:42مذہب سے اس کا تعلق ہے بھی اور نہیں بھی
30:45امیر زنجار لفظ چبا چبا کر بول رہا تھا
30:48عام طور پر یہ طرز گفتگو ایاری اور شرارت کا غماز ہوتا ہے
30:52مقامی لوگوں اور کچھ طالب علموں کو قاضی صاحب کے اس عمل پر اعتراض ہے
30:57کہ انہوں نے اپنی درزگاہ میں ایک خوبصورت کنیز کو رکھا ہے
31:00جہاں ان کا ایک شاگرد اور آپ کا مساحب خاص
31:04یوسف اس کنیز سے ملنے کے لیے بلا ناغہ آتا ہے
31:06بہلے کے لوگ آپ کے روب جلال کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں
31:10ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے منصب قضا بھی بدنام ہو رہی ہے
31:14اور دینی درزگاہ کا تقدز بھی
31:17اور سب سے بڑھ کر یہ
31:18کہ سلطان عادل کے دور اقتدار میں یہ نائنصافی کیوں؟
31:22امیر زنجار کی گفتگو سنکا سلطان نور الدین زنگی کے چہرے پر
31:26فکر و تشفیش کا رنگ بھر آیا
31:29امیر زنجار کے خیال کے مطابق
31:31اس نے قاضی ابن عرسون کی بے داق قبع کے دامن میں ایک انگارہ ڈال دیا تھا
31:36پھر اس انگارے کو دہکانے کے لیے
31:38امیر زنجار نے اپنے غلیز دامن کی ہوا دینے کی کوشش کی
31:41ابھی تو کچھ لوگ سرگوشیوں میں باتیں کر رہے ہیں
31:45کل یہی زبانیں سر عام کھلیں گی
31:47اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے نقارہ بن جائیں گی
31:51قاضی ابن عرسون اور یوسف صلاح الدین میں دستیں انصاف کی پہنچ سے دور نہیں ہیں
31:56سلطان عادل کے لہجے سے جلال ایمانی جھلک رہا تھا
31:59جب ادارت آلیہ ہم سے باز پرس کر سکتی ہے
32:03تو کوئی شخص بھی قانون سے بالاتر نہیں
32:05چاہے وہ کتنا ہی محترم ہو
32:08سلطان نور الدین محمود زنگی کے خلوتگاہ سے نکل کر
32:11وہ فتنہ گر امیر نجم الدین ایوب اور اسد الدین شہر کوہ کے پاس پہنچا
32:16اور اس نے اپنی چرب زبانی سے یہاں بھی آگ لگا دی
32:19میں خود بھی عزتدار ہوں
32:21اور عزتداروں کو رسوائی سے بچانا اپنا فرض سمجھتا ہوں
32:25نجم الدین ایوب اور اسد الدین سے بات کرتے ہوئے
32:28امیر زنجار کا لہجہ بہت ہمدردانہ تھا
32:31تمہارا جذباتی بیٹا اور نوجوان بھتیجا
32:34اس خوبصورت کنیس کے دام میں پھنس گیا ہے
32:37امیر زنجار کے اس انکشاف پر نجم الدین ایوب
32:40اور اسد الدین کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں
32:44اپنے منصوبے کو کامیابی سے ہم کنار ہوتا دیکھ کر
32:48امیر زنجار کے فتنہ گر زہن نے ایک اور کروٹ لی
32:51اس میں یوسف صلاح الدین کا کوئی قصور نہیں
32:54وہ تو ابھی نو عمر ہے اور عورتوں کی چالوں کو نہیں سمجھتا
32:58وہ ترکی کنیس بہت شاتر ہے
33:00جب اسے یہ معلوم ہوا کہ یوسف قاضی ابن ارسل کا شاگرد ہے
33:04اور پابندی سے مدرسے جاتا ہے
33:06تو شارعہ بھی تعلیم حاصل کرنے کے بہانے
33:08قاضی صاحب کی درزگاہ جا پہنچی
33:10اس طرح دونوں کی ملاقات کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہی
33:18اس نے تعلیم حاصل کی ہے
33:19عورت کے ہر بال میں ایک فریب چھپا ہوتا ہے
33:22اور شارعہ سر سے پاؤں تک فریب ہے
33:25اپنی نیک نامی کو بچانے کی فوری تدبیر کریں
33:28ورنہ یہ معزز خاندان سلطان عادل کی نظروں سے گر بھی سکتا ہے
33:33امیر زنجار نجم الدین ایوب کے گھر آگ لگا کر رخصت ہوا
33:37اب اسے پورا یقین تھا کہ چند روز میں شارعہ قاضی ابن ارسل کے مدرسے سے نکال دی جائے گی
33:43پھر اس کے سر پہ کوئی سائبان نہیں رہے گا
33:46مسائل کی دھوپ اسے جلا ڈالے گی
33:48اور پھر وہ اس کی پناہ میں آ جائے گی
Comments