- 1 day ago
Category
😹
FunTranscript
00:28ڈالجزیرہ
00:31پھر ایک خون ریز جنگ کے بعد اسلامی لشکر نے تقرید پر قبضہ کر لیا
00:35بہت ہی مقتصر تعداد میں ایرانی اور رومی اپنی جانیں بچا کر فرار ہو سکے
00:40باقی سب کے سب موت کی خوراک بن گئے
00:43اسلامی پرچم مزید بلند ہوا
00:45اور قسطنزنیہ میں بیٹھے ہوئے مغرور عیسائی بادشاہ قیسر روم کو ایک اور صدمہ برداشت کرنا پڑا
00:51پھر وقت اپنی موقررہ رفتار سے گزرتا رہا
00:54اور اسلامی سلطنت سیاسی نشیب و فرار سے دوچار ہوتی رہی
00:58یہاں تک کہ پانچ صدیاں گزر گئیں
01:02یہ بارہ سو بتیز ہجری کی ایک تاریخ رات کا واقعہ ہے
01:06اس وقت نجم الدین ایوب قلعہ تقرید کا حاکم تھا
01:11نجم الدین ایوب کا تعلق قردوں کے معزز ترین قبیل کرویا سے تھا
01:16نجم الدین ایوب آسائش اور عزت و وقار کے ذنگی گزار رہا تھا
01:20کہ اچانک بدبختی اس کے خاندان پر سایہ فگن ہو گئی
01:23تقرید کے حاکم آلہ مجاہد دین کی طرف سے ایک حکم نامہ جاری ہوا
01:28جس میں کہا گیا تھا کہ نجم الدین ایوب اور اس کا چھوٹا بھائی
01:32اسد الدین شہر کو اسی وقت تقرید چھوڑ کر بہت دور چلے جائیں
01:38جب نجم الدین ایوب انتہائی شکستگی کے آلہ میں سامانے سفر باندھ رہا تھا
01:43اسی وقت محل میں ایک نومولود بچے کی چیخیں سنائی دینے لگیں
01:47دنیا میں آنے والا یہ بچہ تقرید کی معذول حاکم نجم الدین ایوب کا فرزن تھا
01:53کچھ دیے بعد ایک کنیز بچے کو لیے ہوئے نجم الدین ایوب کی خدمت میں حاضر ہوئی
01:58پہلے اس نے انتہائی پرجوش لہجے میں بیٹے کی پیدائش پر باپ کو مبارک بات دی
02:03پھر عدب و احترام کے ساتھ عرض کرنے لگی
02:06امیر محترم چھوٹے امیر کے کانوں میں آزان دیکھ کر ان کا نام تجویش کر دیجئے
02:12کنیز کی بات سنکر نجم الدین ایوب غزب ناگ ہو گیا اور چیخ کر بولا
02:17میرے سامنے سے لے جاؤ اس کو میں اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا
02:21یہ بچہ فاتح آزم صلاح الدین ایوب ہی تھا
02:26نجم الدین ایوب کی کنیز بچے کو لیے ہوئے اس کی ماں کے پاس پہنچی
02:31کنیز کا چہرہ بجھا ہوا تھا
02:33خانم کیا بات ہے نجم الدین ایوب کی بیوی نے کنیز سے پوچھا
02:37جب تو بچے کو لے کر اپنے آقا کے پاس جا رہی تھی تو بہت زیادہ خوش تھی
02:41مگر اب تیرے چہرے سے گہری اداسی جھلک رہی ہے
02:45آخر اس کی وجہ کیا ہے
02:48کنیز خانم نے بچے کو اپنی مالکہ کے پہلوں میں لٹایا
02:52اور اداس لہجے میں کہن لگی آقا اپنے بیٹے کی پیدائج سے خوش نہیں ہے
02:56نجم الدین ایوب کی بیوی کے چہرے پہ حیرت و فکر کے سائے لہرانے لگے
03:01آخر میرے بچے میں کیا خرابی ہے
03:03وہ خوبصورت ہے اس کے ہاتھ پاؤں صحیح سلامت ہیں
03:06ماں کے لہجے سے ناگواری کا رنگ جھلک رہا تھا
03:09کنیز خانم سر جھکایا خاموش کھڑی رہی
03:11وہ اپنے آقا نجم الدین ایوب کے الفاظ دوہرانا نہیں چاہتی تھی
03:16نجم الدین ایوب کی بیوی کچھ دیر تک کنیز کے جواب کا انتظار کرتی رہی
03:20مگر جب وہ کئی بار سوال کرنے پر بھی نہیں بولی
03:22تو اس نے تیز لہجے میں خانم کو حکم دیتے ہوئے کہا
03:26دوبارہ اپنے آقا کے پاس جا اور میرا پیغام دے کہ میں انہیں یاد کر رہی ہوں
03:31کنیز خانم خاموشی کے ساتھ چلی گئی
03:33اور اس نے نجم الدین ایوب کے سامنے اپنی مالکہ کے الفاظ دورا دیئے
03:37اس وقت نجم الدین ایوب اپنی پورسی پہ اداز بیٹھا ہوا تھا
03:40اور اس کی نظریں سامنے کھلنے والی کھڑکی پر مرکوز تھی
03:43خانم کچھ دیر تک کھڑی اپنے آقا کے جواب کا انتظار کرتی رہی
03:47مگر جب نجم الدین ایوب اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا
03:51تو وہ الڈے قدموں واپس چلی گئی
03:53نجم الدین ایوب کی بیوی زبیدہ کے لیے شوہر کا یہ طرز عمل
03:57اور کنیز کے خاموشی ناقابل فہم تھی
03:59کئی بار اس کے جی میں آئی کہ وہ اٹھ کر نجم الدین ایوب کے کمریک تک جائے
04:04اور اس سے پوچھے کہ اس بیروخی اور ناخوشی کا سبب کیا ہے
04:07مگر وہ شدید زوف اور ناتوانی کے باعث
04:09اپنے ارادے پر عمل کرنے سے قاسر تھی
04:12وہ بہت دیر تک ذہنی خلفشار کا شکار رہی
04:15ہزاروں اندیشے اور وسوسے اسے گھیرے ہوئے تھے
04:18اس نے کئی بار اپنے نومولود بچے کی طرف دیکھا
04:21جس کا رنگ سرقی مائل تھا
04:22اور وہ آنکھیں بند کی دنیا ہوں مافیہ سے بے خبر سو رہا تھا
04:26زبیدہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے
04:28اور وہ مامتہ کی بے مثال جذبے سے بے قرار ہو کر
04:31بچے کے چہرے پر جھکی
04:32اور اس کی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے
04:35میرے بچے تم اس دنیا میں کیوں آ گئے
04:38ابھی زبیدہ اپنی بات مکمل کرنے نہیں پائی تھی
04:40کہ جکاجہ کمرے میں ایک باروب آواز گونجی
04:43آپ کو فرزند کی پیدائش مبارک ہو
04:46زبیدہ بہت تیزی سے اٹھ کر بیٹھ گئی
04:48اس کے سامے نجم الدین ایوب کا چھوٹا بھائی
04:51اسد الدین شہرے کو
04:52کھڑا مسکر آ رہا تھا
04:54اس کے چہرے سے گہری مسررت کی جھلک نمائی تھی
04:57اسد کیا تم اپنے بھائی کے پاس سے آ رہے ہو
05:00زبیدہ کا لہجہ اداس تھا
05:02اور آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے
05:04میں خوشی کی یہ خبر سنن کر
05:06سیدھا آپ کے پاس آ رہا ہوں
05:07اسد الدین شہرے کو کے لہجے میں
05:09کسی قدر حیرک تھی
05:11آپ رو کیوں رہی ہیں
05:12یہ سوال اپنے بڑے بھائی سے کرو
05:15وہ بیٹے کی پیدائی سے خوش نہیں ہیں
05:17زبیدہ نے غم زدہ لہجے میں جواب دیا
05:19اسد الدین کی حیرت میں
05:22مزید ادافہ ہو گیا
05:23وہ چند لمحوں تک اپنی بھابی کے بہتے ہوئے
05:26آنسووں اور دھوان دھوان چہرے کو
05:27غور سے دیکھ رہا تھا
05:28پھر تیزی کے ساتھ کمرے سے نکل گیا
05:31تھوڑی دیر بعد اسد الدین اپنے بڑے بھائی
05:34نجم الدین ایوب کے سامنے کھڑا تھا
05:36برادر محترم
05:37مجھے بتایا گیا ہے
05:39کہ آپ اپنے چھوٹے فردن کی پیدائی سے خوش نہیں ہیں
05:42نہ اس کی شکل دیکھی
05:43اور نہ کوئی نام رکھا
05:45اس نرازگی کی وجہ
05:46اسد الدین کے لہجے سے تلقی جھلک رہی تھی
05:49حالانکہ وہ بڑے بھائی کا بہت احترام کرتا تھا
05:52تمہیں معلوم ہے
05:54کہ مجھے آج ہی قلعہ داری کے منصف سے
05:56معذول کر دیا گیا ہے
05:57نجم الدین ایوب نے اپنے چھوٹے بھائی کو
05:59انتہائی سخت لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے کہا
06:01اور اس کے ساتھ ہی یہ حکم بھی ملایا
06:04کہ ہم دونوں بھائی ایک ہفتے کے اندر
06:06صوبہ تقرید کی حدود سے نکل کر
06:07بہت دور چلے جائیں
06:09نجم الدین کی معذولی اور شہر بدری
06:12کا سبب یہ تھا
06:13کہ وہ ایک دن تیر اندازی کر رہا تھا
06:15کہ بدقسمتی سے ایک عیسائی سامنے آ گیا
06:17اور نجم الدین ایوب کا تیر
06:19اس کی گردن میں پیوست ہو گیا
06:21عیسائی زمین پر گرا اور چند لمحوں میں
06:23تڑپ تڑپ کر مر گیا
06:24اتفاق سے مرنے والا عیسائی
06:26تقرید کے حاکم اعلی مجاہد دین بہروز کا غلام تھا
06:31نجم الدین ایوب نے بہت آجزانہ لہجے میں
06:34اپنی صفائی اور معذرت پیش کی
06:35مگر بہروز نے اس کی کوئی دلیل قبول نہیں کی
06:38اور شدید غضب کی حالت میں حکم دیتے ہوئے کہا
06:41برسوں کی خدمت کے سلے میں بس اتنی ریایت دی جا سکتی ہے
06:45کہ تم دونوں بھائی ہمیشہ کے لیے
06:46اپنے ناپسندیدہ چہرے میری نظروں کے سامنے سے گم کر دو
06:51عصد الدین نے بڑی عذیت و قرب کے ساتھ
06:53حاکم اعلی مجاہد دین بہروز کا حکم سلا
06:56اور پھر اداس لہجے میں کہنے لگا
06:58برادر معظم یہ سب نوشتہ تقدیر ہے
07:02کبھی تخت شاہی اور کبھی تخت مرگ
07:04یہی دنیا کا نظام ہے
07:08جب میرا بڑا بیٹا توران شاہ پیدا ہوا
07:10تو میں ایک سپاہی کے عہدے سے ترقی پا کر
07:13تقرید کا قلعہ دار بن گیا
07:15نجم الدین ایوب میں چیختے ہوئے کہا
07:17اسے اپنے اصاب پر ذرا بھی قابو نہیں ہو رہا تھا
07:21اور آج جب یہ دنیا میں آیا
07:22تو میں بساد حسرت و یاس تقرید چھوڑ کر
07:25کسی خانہ بدوش کی طرح
07:26ایک نامالو منزل کی طرف جا رہا ہوں
07:29ہم اہل ایمان ہیں
07:31ہمارے مذہب کے مطابق
07:32نہ کوئی سعاد منوس ہے اور نہ مبارک
07:34یہ سب اللہ کا نظام ہے
07:37اور اپنے نظام کو وہی بہتر سمجھتا ہے
07:39اسے تقرید نے بڑے بھائی کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے
07:43انتہائی نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا
07:47مت سمجھاؤ مجھے کہ منحوس کیا ہوتا ہے
07:49اور مبارک کسے کہتے ہیں
07:51نجم الدین کی آواز کچھ اور بلند ہو گئی
07:53بڑے بھائی کی طرف سے غیز و غضب کے اس مظاہرے پر
07:57اسے تقرید بھی خاموش نہ رہ سکا
08:00غستاخی معاف
08:01عیسائی غلام کا قتل آپ کے ہاتھوں سے ہوا ہے
08:03پھر اس معصوم بچے کو یہ سزا کیوں دی جا رہی ہے
08:06نجم الدین ایوب
08:08اپنی معذولی سے اس قدر بدحواس ہو گیا تھا
08:11کہ اس نے چھوٹے بھائی کو بھی بری طرح ڈانٹ دیا
08:14مجبوراً اسد الدین واپس چلا گیا
08:16پھر وہ اپنی بھاوچ کے کمرے میں داخل ہوا
08:19بڑی سلشاری کے عالم میں بھتیجے کو پیار کیا
08:21اس کے کان میں ازان دی
08:23اور والہانہ انداز میں کہنے لگا
08:26یہ میرا یوسف ہے
08:28بچے کے چہرے پہ ایک عجیب سا نور تھا
08:30بڑی کشش تھی
08:31اسی لیے اسد الدین نے بھتیجے کو
08:33یوسف کا مبارک نام دیا
08:35پھر اسی بچے یوسف نے
08:37علاہ الدین ایوبی کے نام سے شہرت دوام حاصل کی
08:42یہ ایوبی خاندان پہ بڑا گراہ وقت تھا
08:45کئی سال کی شدید محنت اور جانفشانی کے بعد
08:47نجم الدین قلعہ داری کے منصب تک پہنچا تھا
08:50اور پھر چند گھنٹوں میں اس سے سب کچھ چھن گیا
08:53نجم الدین ایوب کا اقتدار
08:55اس مکان کی طرح تھا
08:57جسے ذرے کثیر خرش کر کے
08:59تعمیر کیا گیا ہو
09:01اور زلزلے کے ایک جھٹکے نے
09:03اسے زمین بوز کر دیا ہو
09:05وقت تیزی سے گزرتا جا رہا تھا
09:07اور تقرید کے حاکے میں آلہ
09:09مجاہد دین بحروز کے حکم کی تعمیر میں
09:12صرف ایک دن رہ گیا تھا
09:13دونوں بھائی
09:15نجم الدین ایوب اور اسد الدین
09:17ایک کمرے میں بیٹھے غور کر رہے تھے
09:19کہ ان کا یہ خانہ بدوش خاندان
09:21کس علاقے کا رخ کرے
09:22کہ جہاں اسے پناہ مل جائے
09:25بظاہر کوئی جائے آمان نظر نہیں آ رہی تھی
09:28دور تک کھلا آسمان تھا
09:29اور مایوسیوں کا گہرا اندھیرہ
09:32یکا یک اس تاریخی میں
09:34روشنی کی ایک لکیر نمودار ہوئی
09:36اور نجم الدین ایوب
09:37مسترب ہو کر کھڑا ہو گیا
09:40کاش ایسا ہو جائے
09:41نجم الدین ایوب شدید بیچینی کے
09:43عالم میں بار بار اپنا ایک ہاتھ
09:45دوسرے ہاتھ پر مار رہا تھا
09:47اور اس کے زبان سے بس یہی مخصوص
09:49الفاظ ادا ہو رہے تھے
09:51کاش ایسا ہو جائے
09:52بڑے بھائی کی یہ استرابی کیفت دیکھ کر
09:55عصد الدین بھی کھڑا ہو گیا اور پوچھنے لگا
09:58کیا ہو جائے برادر محترم
10:00چھوٹے بھائی کی بات سنکر
10:01نجم الدین ایوب کے سامنے چھ سال پرانا
10:04ایک واقعہ پورے خد و خال
10:06کے ساتھ اُبھر آیا
10:08یہ پانچ سو چھبیس حجری کا
10:10زمانہ تھا اور بغداد پر
10:11اباسی خلیفہ مسترشد
10:13بلہ کی حکومت تھی
10:15اسی دوران میں زنگی حکومت کے
10:18بانی عماند الدین نے عراق میں
10:19شکست کھائی اور اپنے سپاہیوں کے
10:21ہمرا فرار ہو کر دریائے دجلہ کے
10:23بائیں کنارے پر دم لیا
10:24مگر ابھی اس کے لئے کوئی جائے پانا نہیں تھی
10:27کیونکہ دشمن کا لشکر مسلسل
10:29عماند الدین زنگی کا تاقب میں تھا
10:32دریائے کے اس پار ایک
10:33چٹان پر تکریت کا ناقابل تسخیق
10:36قلعہ واقعہ تھا
10:37قلعے کے دفعہ کے لئے خوشکی کی طرف
10:39ایک گہری خندق کھو دی گئی تھی
10:41جس تک پہنچنے کے لئے چٹانے کاٹ کر
10:43خفیاں سیڑھیاں بنائی گئی تھی
10:45جو قلعے کے بیچ سے گزر کر
10:47دریائے دجلہ تک جاتی تھی
10:49اب عماند الدین زنگی کے شکست خردہ
10:51لشکر کے بچاؤ کی ایک ہی صورت تھی
10:53کہ اسے تکریت کے قلعے میں
10:55عارضی پناہ مل جائے
10:56مگر یہ سب کچھ قلعہ دار کی مرضی پر منحصر تھا
10:59ایسی سنگین صورتحال میں
11:01نجم الدین نے فراغ دلی
11:03بلند حوصلہ گی
11:04اور اسلامی روداری سے کام لیتے ہوئے
11:06کچھ دن کے لئے
11:07اپنے دینی بھائیوں کو قلعے میں پناہ دے دی
11:10پھر بڑی رازداری کے ساتھ
11:12عماند الدین زنگی کو
11:14کشتیوں کا ایک بیڑا فرہام کر دیا
11:17آخری کشتی پر سوار ہونے سے پہلے
11:19عماند الدین زنگی نے
11:20بڑے والہانہ انداز میں
11:21نجم الدین ایوب کو گلے لگاتے ہوئے کہا
11:24میرے بھائی
11:25نہ میں اپنے اس برے وقت کو بھولوں گا
11:27اور نہ تمہارے احسان کو
11:29پھر نجم الدین ایوب اس وقت تک کھڑا رہا
11:32جب تک عماند الدین زنگی اور لشکر
11:34دریائے دجلہ کے دوسرے کنارے پہ اتر کر
11:36دشمن کے تاقب اور حملے سے محفوظ نہ ہو گیا
11:39پھر چھ سال بعد بق بدلا
11:41تو عماند الدین زنگی کو پناہ دینے والا
11:43خود کھلے آسمان کے نیچے بے امان کھڑا تھا
11:45اور بار بار ایک ہی جملہ دور آ رہا تھا
11:48کہ کاش ایسا ہو جائے
11:49نجم الدین کے ان پر اسرار
11:51الفاظ کا صرف ایک ہی مفہوم تھا
11:53کہ عماند الدین زنگی کو اپنا وعدہ
11:55یاد آ جائے جس نے اس عرصے میں
11:57دشمن کو شکست دے کر
11:58دوبارہ اپنے علاقے پہ قبضہ کر لیا تھا
12:01پھر نجم الدین نے اپنے چھوٹے بھائی
12:03کو عماند الدین زنگی کی رخصت کا
12:05آخری منظر پوری تفصیل کے ساتھ سنایا
12:07تو عصد الدین بیخ ساختہ بلٹھا
12:10عزمائش کی اس گھڑی میں
12:12سلطان کے ذرف کو ضرور عزمائی جائے
12:14ڈرتا ہوں کہ کہیں وہاں سے بھی
12:16ناکام و نامراد نہ لوٹایا جاؤں
12:18نجم الدین نے اداس لہجے میں کہا
12:20عیش و اقتدار بہت بڑا فتنہ ہے
12:22جب انسان اسے حاصل کر لیتا ہے
12:24تو اپنے برے دنوں کو اس طرح بھول جاتا ہے
12:27جیسے اس پر کبھی کوئی
12:28مصیبت کی گھڑی گزری ہی نہیں تھی
12:30آخر ہمارے پاس اس کے سوا چارہ بھی کیا ہے
12:33عصد الدین نے ایک ایک لفت پر
12:35زور دے کر کہا
12:36ہمیں ایک بار سلطان عماد الدین
12:38زنگی کے محل پر دستک ضرور دینی چاہیے
12:40اگر دروازہ کھل گیا
12:42تو ہم سمجھیں گے کہ وہ ایک احسان شناس انسان ہے
12:45ورنہ اللہ کی زمین تنگ نہیں
12:47اور وہ بڑا پناہ دینے والا ہے
12:50عصد الدین
12:51بڑا اولوالعظم اور شجاہ نوجوان تھا
12:53چھوٹے بھائی کی اس بلند حوصلگی نے
12:56بڑے بھائی کو بڑا سہارا دیا
12:57پھر وہ بیوی چھوٹے بھائی
13:00عصد الدین اور تین بیٹوں
13:01توران شاہ شمس الدولہ اور یوسف کے ساتھ
13:04تقرید کے قلعے سے بہا نکلا
13:06اس وقت یوسف
13:08یعنی صلاح الدین صرف سات دن کا تھا
13:10اس اعتبار سے اس کا شمار دنیا کے
13:12کمسند ترین مہاجروں میں ہوتا ہے
13:16پھر دشوار گزار اور طویل فاصلہ
13:18تیہ کر کے چند افراد پر ہی
13:20یہ خانمہ برباد قافلہ موسل پہنچا
13:24نجم الدین ایوب کو ہرگز امید نہیں تھی
13:27کہ عماد الدین کا درباد میں
13:28اس کی شاندار پذیرائی کی جائے گی
13:30زنگی ہنک مران نے تخت سے اترکا
13:33نجم الدین کا استقبال کیا
13:35اور بڑے والہانہ انداز میں
13:36اسے گلے لگاتے ہوئے کہا
13:37خوش آمدید میرے بھائی نجم الدین
13:41پھر عماد الدین نے
13:42اسے اپنے تخت کے قریب وزیروں کی
13:44صف میں کرسی پر بٹھاتے ہوئے
13:46با آواز بلند کہا
13:47تم امن و سکون اور عزت و فراقت کے ساتھ
13:50موسل میں رہو
13:51اس کے بعد زنگی حکمران نے
13:53اہل دربار کی طرف دیکھتے ہوئے
13:55سورہ رحمان کی یہ آیت مقدسہ تلاوت کی
13:57ترجمہ
13:59احسان کا بدلہ سوائے احسان کے کچھ نہیں ہے
14:03یہ اس واقعے کی طرف اشارہ تھا
14:05جب دربدری کی حالت میں
14:06نجم الدین نے سلطان عماد الدین
14:08زنگی کو چند روز کے لیے
14:10تقریب کے قلعے میں پانہ دی تھی
14:12بدبقتی کا زمانہ گزر چکا تھا
14:14اور اب خاندان ایوب پر خوش قسمتی
14:16کی گہرے سائے پڑھنے لگے تھے
14:18سلطان عماد الدین نے
14:20نجم الدین کو اپنے مقرب دربیاریوں میں
14:22شامل کر لیا تھا
14:23خانہ بدوشی کی زندگی سے نجات پاتے ہی
14:25نجم الدین ایوب
14:27اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف متوجہ ہوا
14:30اب یوسف چار سال کا ہو چکا تھا
14:33اس زمانے کے رواز کے مطابق
14:35یوسف کو قرآن کریم کی تعلیم
14:37حاصل کرنے کے لئے مکتب میں داخل کرا دیا گیا
14:39وہ اپنے دونوں بڑے بھائیوں
14:41توران شاہ اور شمسد دولہ سے
14:43بہت مختلف مظر آتا تھا
14:44بچہ ہونے کے باوجود
14:46نہ وہ کسی سے جھگڑا کرتا
14:48اور نہ اس کے کسی عمل سے شرارہ جھلکتی تھی
14:50یوسف غیر معمولی حد تک سنجیدہ تھا
14:53اور اس کی شربتی آنکھیں
14:55ہر وقت کھوئی کھوئی سی رہتی تھی
14:56جیسے وہ کسی گہری سوچ میں گم ہو
14:59اسازہ اس کی بہت تعلیفیں کرتے تھے
15:01یوسف کا حافظہ بہت قوی تھا
15:04سرسری باتوں کو بھی
15:05اپنے ذہن میں محفوظ رکھتا تھا
15:06زبیدہ اپنے چھوٹے بیٹے سے
15:08بہت محبت کر دی تھی
15:10مگر جب موسل آ کر
15:11اس کا چوتھا لڑکا
15:13ملک العادل پیدا ہوا
15:15تو فطری طور پر ماں کی محبت تقسیم ہو گئی
15:18وقت تیجی سے گزر رہا تھا
15:20اب یوسف کی عمر سات سال تھی
15:22کہ ایک عجیب واقعہ پیش آیا
15:25سلطان عماند الدین زنگی کا دربار آرستہ تھا
15:28اتفاق سے اس روش یوسف بھی
15:30اپنے باپ کے ساتھ دربار میں موجود تھا
15:32موسل میں رہنے والا ایک بڑھا عیسائی راہب
15:35مرزبان دربار میں داخل ہوا
15:37سلطان عماند الدین زنگی نے
15:39گرم جوشی کے ساتھ عیسائی راہب کا استقبال کیا
15:42میں سلطان کا نہائے شکر گزار ہوں
15:45کہ میری درخواست قبول کی گئی
15:47اور حکومت کے کارندوں نے
15:49وقت سے پہلے خانکہ کا تعمیری کام مکمل کر دیا
15:53پادری مرزبان نے با آواز بلند کہا
15:56اس کے لہجے سے سلطان عماند الدین زنگی کے لیے
15:58انتہائی عقیدت جہلک رہی تھی
16:01اسلامی مملکت میں بسنے والے
16:03ہر شخص کے جان و مال اور عبادت گاؤں کی حفاظت
16:06حکومت کے اولین فرائز میں شامل ہے
16:09سلطان عماند الدین نے انکسار کے لہجے میں
16:12جواب دیتے ہوئے کہا
16:14یہ تم پر کوئی احسان نہیں ہے
16:16مگر میں اس کے جواب میں اتنا ضرور چاہوں گا
16:19کہ تم اپنی قوم کو اہل اسلام کی رواداری
16:21اور حسن سلوک کے بارے میں ضرور بتاؤ
16:24اس واقعے کی مختصر تفصیل یہ ہے
16:26کہ عیسائی راہب مرزبان کی خانکہ بہت شکستہ ہو گئی تھی
16:30اور تیز بارش میں اس کی ایک دیوار بھی گر گئی تھی
16:34نتیجتا مرزبان نے سلطان عماند الدین زنگی کی خدمت میں
16:38ایک درخواست ارسال کی تھی
16:39کہ اس طرف توجہ دی جائے
16:41سلطان نے کسی تاخیر کے بغیر اپنے کارندے بھیج کر
16:45اس طرح خانکہ کی مرمت کرا دی
16:47کہ اس پر نئی عمارت کا گمان ہوتا تھا
16:49جواباً پادری مرزبان سلطان عماند الدین زنگی کے دربار میں
16:53شکریہ ادا کرنے کے لیے حاضر ہوا تھا
16:55پھر جب مرزبان واپس جانے لگا
16:58تو اتفاق سے اس کی نظر سات سالہ
17:00یوسف پر پڑی
17:01عیسائی راہب چوک کر رک گیا
17:04کچھ دیر تک یوسف کے چہروں کو بہت غور سے دیکھتا رہا
17:07پھر آہستہ قدموں کے ساتھ
17:08دربار سے نکل کر چلا گیا
17:11سلطان عماند الدین زنگی کے ساتھ
17:13دوسرے درباریوں نبی مرزبان کے
17:14اس ناقابل فہم عمل کو دیکھا تھا
17:17مگر سب سے زیادہ حیرت
17:18نجم الدین کو ہوئی تھی
17:20پھر دوسرے دن نجم الدین
17:22اپنے بیٹے یوسف کو لے کر
17:24عیسائی راہب مرزبان کی خانکہ میں پہنچا
17:27کل تم سلطان کے دربار میں
17:29اس بچے کو اتنی غور سے کیوں دیکھ رہے تھے
17:31نجم الدین نے داخل ہوتے ہی
17:34بڑے بے باکانہ لہجے میں سوال کیا
17:36عیسائی راہب نے
17:37نجم الدین کے سوال کا جواب دینے کے بجائے
17:40کمسن یوسف کو اپنے قریب
17:41بٹھا لیا اور ایک بار پھر
17:43اس کی پیشانی کو غور سے دیکھنے لگا
17:45نجم الدین خاموشی سے مرزبان
17:47کے چہرے کا جائزہ لے رہا تھا
17:50کچھ دیر بعد عیسائی راہب کے
17:57نہیں کھایا تھا مرزبان
17:58نجم الدین ایوب سے مخاطب تھا
18:00اگر تم اس بچے کے باپ ہو
18:02تو بے شک اس دنیا کے خوش نصیب ترین
18:04انسان ہو
18:06بڑی عجیب بات تھی نجم الدین نے
18:08بے اختیار ہو کر کہا ہاں میں ہی
18:10اس بچے کا باپ ہوں مگر تم
18:12اس کے چہرے میں کیا تلاش کر رہے ہو
18:14میں اس تحریر کو پڑھ رہا ہوں
18:16جو خداون نے اس بچے کے حوالے سے
18:18روز عزل میں لکھی ہے
18:20پادری مرزبان کے چہرے سے
18:22عالمانہ وقار جھلک رہا تھا
18:24خالق کائنات ایسے بچے صدیوں میں
18:26پیدا کرتا ہے
18:27نجم الدین ایوب عیسائی راہب کی پیش گوئی
18:30سن کر بہت جذباتی نظر آنے لگا
18:32وہ کیا تحریر ہے
18:34مجھے بتاؤ
18:36میری گناہگار آنکھیں
18:37اس آسمانی تحریر کو مکمل طور پر
18:40نہیں پڑھ سکتی
18:41پادری مرزبان نے پرسوز آجزانہ
18:44لہجے میں کہا وہ انتہائی نیک
18:46اور غیر متعاصب راہب تھا
18:47اس لئے کبھی کبھی اس پر قدرت کے راس
18:50منکشف ہو جاتے تھے
18:51اور آج اس پر ایک اور راس فاش ہو گیا تھا
18:54میں اس بچے کے چہرے پر
18:56وہ روشنی دیکھ رہا ہوں
18:57جو عظیم الشان شہنشاہوں کے خد و خال میں
19:00نظر آتی ہیں
19:02عیسائی راہب کی بات سن کر نجم الدین پر
19:04سکتے کیسی کیفت تائی ہو گئی
19:06آج تک وہ جس بچے کو
19:08اپنے لئے شومہی قسمت تصور کرتا تھا
19:10وہی بچہ مرزبان کی نظر میں
19:12آنے والے زمانے کا
19:13جلیل اور قدر شہنشاہ بھی ہو سکتا تھا
19:17عیسائی راہب کے خانخواہ سے جانے کے بعد
19:19نجم الدین نے
19:20اس عجیب واقعہ کا ذکر
19:22اپنی بیوی زبیدہ سے بھی کیا
19:23ماں پہلے ہی سے
19:25اپنے بیٹے سے بے پناہ محبت کرتی تھی
19:26شہر کی بات سن کر
19:28شدت جذبات سے وارفتہ ہو گئی
19:29اور رونے لگی
19:31عیسائی راہب کیا بتائے گا
19:33وہ روشنی
19:34تو میں ہر وقت
19:35اپنے یوسف کے چہرے پر دیکھتی ہوں
19:37زبیدہ نے شکایت آمیز
19:39اور کسی قدر
19:40تنزیہ لہجے میں کہا
19:42اگرچہ نجم الدین عیوب
19:43خود بھی ایک عابد و زاہد انسان تھا
19:46لیکن اپنی معذولی کے حادثے سے
19:47متاثر ہو کر
19:48توہم پرستی کا شکار ہو گیا تھا
19:51بیوی کی جذباتی کیفیت دے کر
19:53خود بھی عابدیدہ ہو گیا
19:54اللہ میرے اس گناہ کو ماف کرے
19:56کہ میں شیطان کے فریب میں آ کر
19:58اپنے بیٹے سے کتنی دور چلا گیا تھا
20:01اس واقعے کے بعد
20:02نجم الدین عیوب
20:04یوسف کی تعلیم و تربیت پر
20:05خصوصی توجہ دینے لگا
20:06پھر ایک سال بعد ہی
20:08نجم الدین عیوب کو
20:09اپنی بیوی بچوں کو
20:10موسل میں چھوڑ کر
20:11ایک خوفناک مہا سے جنگ پر جانا پڑ گیا
20:16تقریباً پانچ سو سال بعد
20:17وقت نے عجیب کروٹ بدلی
20:19حضرت عمر فاروق نے
20:21جس بیت المقدس کو
20:22سولہ حجری میں
20:23انسانی خون کا
20:24ایک قطرہ بہائے بغیر
20:26فتح کیا تھا
20:27اسی مطاع عزیز کو
20:29اسلام کے وارثوں نے
20:30چار سون اکانوے حجری میں
20:33ظلط و رسوائی کے ساتھ گما دیا
20:35جس کے نتیجے میں
20:36ایک مضبوط عیسائی ریاست قائم ہو گئی
20:38اور ایک انتہائی متعاصب عیسائی
20:41گارڈ فری یروشلم کا شہنشاہ بن گیا
20:44اس سے پہرے دو اور عیسائی سلطنت انتاکیہ
20:47اور ایڈیسیا قائم ہو چکی تھی
20:49ایڈیسیا پہ جوسلن سانی کی حکومت تھی
20:52جو اپنے مذہبی عذبیت میں
20:54شاہ یروشلم گارڈ فری سے
20:56کسی طرح بھی کم نہیں تھا
20:59یروشلم، انتاکیہ، روم اور قسطنتنیہ کے بعد
21:02مذہبی تقدس کے اعتبار سے
21:04ایڈیسیا کو عیسائی دنیا میں
21:06پانچمہ درجہ حاصل تھا
21:07تاریخی لحاظ سے
21:09اس شہر کو الجزیرہ کی آنکھ سمجھا جاتا تھا
21:12سلیبیوں نے یہاں
21:14زبردست فوجی طاقت جمع کر رکھی تھی
21:16اور اس کے ساتھ ہی
21:17ایڈیسیا کو شاہ یروشلم کی
21:19تائیت اور سرپرستی بھی حاصل تھی
21:22مسلمانوں کو اس شہر کی
21:23جنگی احمد کا بخوبی اندازہ تھا
21:26اور وہ ایڈیسیا کو
21:27اسلامی اقتدار کے لیے
21:29ایک مستقل خطرہ سمجھ رہے تھے
21:31نتیجتاً
21:321110 عیسوی سے لے کر
21:341115 عیسوی تک
21:36مسلمانوں نے اس شہر پہ
21:38مسلسل حملے کیے
21:39مگر فتح حاصل نہ کر سکے
21:41یہاں تک کہ شدید مایوسی کے
21:43عالم میں تھک کر بیٹھ گئے
21:45پھر جب ایماد الدین زنگی نے
21:47موسل اور دمشق میں
21:48دوبارہ اقتدار حاصل کر لیا
21:50تو وہ ایڈیسیا کی طرف متوجہ ہوا
21:52اس موقع پہ اس کے بعض
21:54مشیروں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا
21:57سلطان کو ایڈیسیا پہ حملہ کرنے کے بجائے
21:59اپنے علاقوں کے استحقام کی فکر کرنی چاہیے
22:02جوسلین ثانی ایک طاقتور حکمران ہے
22:05مزید یہ
22:06کہ اسے شاہ یروشلم کی حمایت بھی حاصل ہے
22:09وزیروں کے چہرے سے قبل
22:11ازبق شکست و ناکامی کے اندیشیں ظاہر ہو رہے تھے
22:15اور مجھے
22:16خدا وادہو لا شریک کی تائد حاصل ہے
22:19ایماد الدین زنگی نے
22:21اپنے انگشت شہادت بلند کرتے ہوئے
22:23انتہائی پرجلال لہجے میں کہا
22:25ایڈیسیا اس زہر آلود خنجر کی طرح ہے
22:28جو مسلمانوں کی شہرہ کے قریب رکھا ہوا ہے
22:30اس سے پہلے
22:32کہ وہ خنجر حرکت میں آئے
22:34میں اسے توڑ دینا چاہتا ہوں
22:37وزیروں نے
22:37ایماد الدین کی اس جوش اور جذبے
22:40کو وحشت و جنون سے تعبیر کیا
22:41مگر وہ مرد مجاہد
22:43تمام قیاس آرائیوں
22:45اور مسلحاتوں سے بے نیاز ہو کر
22:47توفان برق و بات کی طرح
22:49ایڈیسا کی طرف بڑھا
22:51اس جنگ میں نجم الدین ایوب
22:53اور اسد الدین شہرہ کوہ بھی
22:55اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ شریک تھے
22:57ان کے سینوں میں بھی
22:59اپنے حکمران کی طرح جہاد کی آگ روشن تھی
23:03سلطان ایماد الدین زنگی
23:04کی حکمت عملی یہ تھی
23:06کہ وہ اپنے لشکر کے ساتھ رات کے اندھیرے میں
23:08سفر کرتا تھا
23:09تاکہ دشمن کے جاسوس اس کی پیش قدمی سے
23:12باخبر نہ ہو سکیں
23:13پھر سلطان ایماد الدین زنگی
23:15اس وقت ایڈیسا کے قریب پہنچا
23:17جب جوسلن ساننگ کی سرحدی سپائی
23:20شراب کے نشے میں ایک دوسر سے
23:22چھیڑ شار کر رہے تھے
23:23مسلمان فوجیوں کی تلوارے بے نیام ہوئیں
23:26اور ایڈیسا کے سرحدی سپائیوں کی
23:28اکثریت دیکھتے ہی دیکھتے خاک و کون میں
23:30مل گئی
23:30کچھ سپاہی جو مدھوشی کی کیفے تک نہیں پہنچے تھے
23:34وہ فرار ہو کر عیسائی حکمران
23:36جوسلن سانی کی خدمت میں حاضر ہوئے
23:39اور اسے
23:40مسلمانوں کے ناگہاں
23:41اقابی حملوں کی خبر دی
23:43کھلے مہدان میں مقابلہ کرنے کا وقت گزر چکا تھا
23:46اس لئے جوسلن سانی
23:47اپنی فوج کے ساتھ قلعہ بند ہو گیا
23:51سلطان نے تیز رفتاری سے آگے بڑھ کر
23:53ایڈیسا کے قلعے کا محاصرہ کر لیا
23:55قلعے کے اندر سمانے رسد بڑی مقدار میں موجود تھا
23:58اس لئے جوسلن سانی کو اتمنان قلب حاصل تھا
24:01کہ وہ دشمن کی دسترہ سے دور رہے گا
24:03اور اگر مسلمان کے محاصرے نے زیادہ طول کھینچا
24:06تو بالآخر وہ تنگ آ کر قلعے کی مضبوط سنگی دیواروں سے
24:10سر ٹکراتے ٹکراتے ایک دن
24:12ناکام و نامراد واپس چلے جائیں گے
24:15قلعے کا محاصرہ کرنے کے بعد
24:17سلطان عماد الدین زنگی
24:18کچھ جن تک صورتحال کا جائزہ لیتا رہا
24:20پھر اس نے اسلامی طریقہ جنگ کے مطابق
24:23نجم الدین ایوب کو عیسائی حکمران جوسلن سانی کے نام
24:27ایک خط دے کر روانہ کیا
24:28جوسلن سانی کا دربار
24:30شہان قدیم کی طرح قیمتی ساز و سامان سے آرستہ تھا
24:34مگر اسلامی صفیر جوسلن سانی کے تقت کے قریب پہنچا
24:39اور اپنے امیر کا خط عیسائی حکمران کے حوالے کیا
24:42جوسلن سانی کے وزیر ڈیریک نے
24:44اپنی نشست پہ کھڑا ہو کر
24:46سلطان عماد الدین کا خط باعواز بلند پڑھا
24:50حاکم ایڈیسا کو معلوم ہونا چاہیے
24:52کہ اسلامی فوجیں اس کے دروازے تک آ پہنچی ہیں
24:56یہ اس بات کی کھلی علامت ہے
24:58کہ تم جنگ کے پہلے مرحلے میں مغلوب ہو چکے ہو
25:01ہم نہیں چاہتے کہ جگہ جگہ انسانی خون کے تعلاب بن جائیں
25:06اور ایڈیسا کی پر رونک گلیاں انسانی لاشوں سے پٹ جائیں
25:10اس لیے اس پر لازم ہے کہ وہ قلعے کے دروازے کھول کر ہتھیار پھینک دے
25:14اس صورت میں ہم تمام عیسائیوں کے جان و مال
25:18اور عزت و عبرو کی حفاظت کی مکمل زمانت دیتے ہیں
25:22ورنہ پھر تلوار ہی فیصلہ کرے گی
25:24کہ کون تخت نشین ہوتا ہے
25:26اور کون زیر زمین
25:29سلطان عماد الدین زنگی کا خط سن کر
25:32عیسائی حکمران جوسل ثانی غزبناک ہو گیا
25:35اور پھر اس نے اپنے وزیر ڈیرک کے ہاتھ سے مراسلہ چھین کر
25:38اسے پرزے پرزے کر دیا
25:40پھر انتہائی تیقیر آمیز دہجے میں نجم الدین ایوب کو مخاطب کرتے ہو بولا
25:45اپنے سلطان سے کہہ دینا کہ اس کے خط کا یہی جواب ہے
25:49نجم الدین ایوب باوقار انداز میں چلتا ہوا
25:53حاکم ایڈیسا کے دربار سے نکل گیا
25:55پھر اس نے عماد الدین کی خدمت میں حاضر ہو کا سارا ماجرہ بیان کر دیا
26:01سلطان نے جوسلن ثانی کے اس طرز عمل کے جواب میں ایک لفظ بھی نہیں کہا
26:06وہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا
26:08اور اس کے ہنٹوں پہ ہلکی سی مسکراہت نمائی تھی
26:12دوسرے دن سلطان عماد الدین زنگی نے نماز فجر میں اپنے لشکر کی امامت کی
26:17پھر طویل دعا مانگنے کے بعد
26:19اس نے اپنے سپاہیوں کو قلعے کی فصیل کے مختلف حصوں پر حملہ آور ہونے کا حکم دیا
26:25منجنیقوں سے 28 دن تک مسلسل سنگباری کی گئی
26:28یہاں تک کہ سامنے کی فصیل میں بڑے بڑے شگاف پڑ گئے
26:31اور مسلمان سپاہی قلعے میں داخل ہو گئے
26:35بعض موریخین کا خیال ہے کہ سلطان عماد الدین نے بارودی سرنگیں بچھا کر قلعے کی فصیل اڑا دی تھی
26:42ہمارا خیال ہے کہ 1144 میں بارود ایجاد نہیں ہوا تھا
26:46یہ عیسائی موریخین کا جھوٹ اور بہتان ہے
26:49وہ بارودی سرنگوں کا ذکر کر کے یہ ثابت کرنا چاہتے تھے
26:52کہ قلعہ شکنی میں سلطان عماد الدین زنگی کی جانبازی اور حکمت عملی کا کوئی دخل نہیں تھا
26:58بس یہ بارودی سرنگوں کا ہی کمال تھا
27:01کہ جوسلین سانی کے مضبوط قلعے کی فصیل زمین بوس ہو گئی
27:04اور اسلامی لشکر اندر داخل ہو گیا
27:06آج سے پچاس سال پہلے شاہی یروشلم گارڈ فری نے
27:11بیت المقدس کی فتح کے وقت جس بے رحمی کے ساتھ مسلمانوں کا خون بہایا تھا
27:16اہل ایمان وحشت و درندگی کی اس منظر کو آج تک نہیں بھولے تھے
27:20اور ان کے سینے آتش انتقام سے دہک رہے تھے
27:24یہی وجہ تھی کہ سلطان عماد الدین زنگی کے سپاہی
27:28قلعہ اڈیسا کی اینٹ سے اینٹ بجا دینا چاہتے تھے
27:32اسی جذبے کے تحت مسلمانوں کا حملہ اس قدر شدید تھا
27:36کہ عیسائی سپاہی کی صفیں درہم برام ہو کر رہ گئیں
27:39خود سلطان عماد الدین کے جوش کا یہ عالم تھا
27:42کہ اپنے محافظ سپاہیوں کو پیچھے چھوڑ کر
27:45اکیلا دشمن کی صفوں میں گھس جاتا تھا
27:48جنگ اڈیسا میں بھی ایسا کئی بار ہوا
27:51ننجم الدین ایوب اور اسد الدین شہرے کو
27:54سلطان کے دوش بدوش لڑ رہے تھے
27:56دونوں بھائیوں نے کئی مرتبہ سلطان کو سمجھانے کی کوشش کی
28:00آپ خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں
28:02کسی فرما روا کے لیے یہ طریقہ جنگ مناسب نہیں
28:07سلطان عماد الدین زنگی اپنے سپاہ سالاروں کو سخت لہجے میں جواب دیتا
28:11ہلاکت و آفیت صرف اللہ کے اختیار میں ہے
28:15قبر کی رات تو قبر ہی میں کٹے گی
28:17پھر چند گھنٹوں بعد عیسائی فوجیں پسپا ہونے لگیں
28:21مسلمان سپاہی قلعے کی بلند دیواروں کو انسانی خون میں ڈبو دینا چاہتے تھے
28:25مگر سلطان عماد الدین زنگی نے ایک سخت فرمان کے ذریعے
28:29اپنے فوجیوں کو عیسائی کے قتل عام سے روکا
28:32عام شہریوں کے لیے ہتیار ڈال دینے والے سپاہیوں کو بھی امان بخشی گئی
28:37پھر جب یہ طوفان بلاخیز تھم گیا
28:39تو سلطان عماد الدین زنگی نے تمام قیدیوں کو رہا کر دیا
28:43اور عیسائیوں کی گھروں سے لوٹا ہوا مال بھی انہیں واپس کر دیا
28:47ایڈیسا کا حکمران جوسلن سانی کسی خفیہ راستے سے فرار ہو گیا
28:52ایڈیسا کی شکست کی خبر سن کر پوری عیسائی دنیا میں صفے ماتم بج گئی
28:56یروشلم کے ایک پادری شمون نے اپنے گریبان چاک کر دیا
29:00اور سر کے بال نوش ڈالے
29:02بہت دیر تک سینہ کو بھی کرتا رہا
29:05پھر گریہ اور ازاری کرتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھ کر بولا
29:08یسو مسیح تم اپنے نام لیواؤں کی مدد کو نہیں آئے
29:12یہاں تک کہ عیسائی قصر اقتدار کا پہلا اہم ستون گر گیا
29:16میں نہیں جانتا کہ اب مسلمانوں کے قدم کہاں رکیں گے
29:20اے مقدس باپ تو ہی انہیں روک
29:22کہ ہم بہت آجز اور ناتواں ہیں
29:26ایک ہی شکست نے سلیبیوں کے ہوش و حواظ اڑا دیئے تھے
29:29دوسری طرف مسلمانوں کی مسررت کا یہ علم تھا
29:33کہ عربی کے بڑے بڑے شاعروں نے
29:35سلطان امان الدین کی شان میں طویل قصیدے لکھے تھے
29:39علماء اور مشایق نے سلطان کو محافظ اسلام
29:42اور مجاہد کبیر کے القاب سے یاد کیا
29:46اس کے ساتھ ہی خلیفہ بغداد کا فرمان جاری ہوا
29:49کہ امان الدین زنگی کا نام خدباد میں شامل کیا جائے
29:53ایڈیسا کی فتح کے بعد سلطان امان الدین زنگی
29:56نسوہ تو فتح کا پرچم اڑاتا ہوا
29:58دریائے فرات کے مشرقی علاقے کی طرف بڑھا
30:00اور کئی شہر فتح کر ڈالے
30:02ان میں سیروچ کا مشہور قلعہ بھی شامل تھا
30:07وہ پانچ سو اکتالیس کی ایک سیاہ رات تھی
30:10جب سلطان امان الدین زنگی نے قلعہ جابر کا محاصرہ کر لیا تھا
30:14اور وہ اپنے خیمے میں گہری نیند سویا ہوا تھا
30:17پہرے پر ایک مسلح غلام کھڑا تھا جب آدھی رات سے زیادہ بیٹھ گئی
30:22اور ہر طرف سناٹا پھیل گیا
30:24تو وہ غلام دب قدموں اپنے آقا کے خیمے میں داخل ہوا
30:29اور اس کے سرحانے جا کھڑا ہوا
30:33شما کی مدھم روشنی میں غلام کی نظر سلطان کے چہرے پر مرکوز تھی
30:37پھر جب اسے پورا اتمنان ہو گیا کہ سلطان پر گہری نیند کا غلبہ تاری ہے
30:42تو اس نے آہستہ سے تلوار نکالی اور پیہ در پیہ سلطان پر کئی وار کیے
30:4865 سالہ سلطان نے سمجھنے کی بہت کوشش کی
30:52مگر خون اس قدر بہت چکا تھا کہ تھوڑی سی ہی دیر میں اماد الدین زنگی کی موت واقع ہو
30:57گئی
30:58قاتل غلام رات کے اندھیرے میں فرار ہو گیا
31:01لوگوں کا خیال ہے کہ قلعہ جابر کے حاکم نے
31:04ذرے کثیر دے کر سلطان کے غلام کو خریدا تھا
31:07لیکن حقیقت یہ ہے کہ اماد الدین زنگی کا وہ غلام اپنے عقیدے کے اعتبار سے باطنی تھا
31:13اور حسن بن سبح کا پیروکار
31:16اگرچہ شیطان حسن بن سبح کو مرے ہوئے کافی عرصہ گزر چکا تھا
31:20مگر اس کے فیدائین دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تھے
31:24اور مسلمانوں کے صفوں میں شامل ہو کر اسلام کو شدید نقصان پہنچا رہے تھے
31:29سلطان اماد الدین زنگی کی شہادت کی خبر مسلمانوں پہ برق بن کر گری
31:34محافظ اسلام اور مجاہد کبیر کی شہادت نے پوری ملت اسلامیہ کو سوگوار بنا دیا تھا
31:40دوسری طرف عیسائی دنیا میں جشن کا سا سما تھا
31:43سلیبیوں کی اکثریت شراب پی کر رقص کر رہی تھی
31:48تمام گرجوں میں خصوصی عبادتوں کے بات کہا جا رہا تھا
31:52خدا ون خدا دو سال کے اندری مسلمانوں سے اڈیسا کی شخص کا انتقام لے لیا
31:58شاہ یروشلم نے اپنے درباریوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا
32:02یہ مقدس باپ اور بیٹے کا قہر ہے جو مسلمانوں پر نازل ہوا ہے
32:07اب وہ زندگی بھر سلیبی ریاستوں پر بری نظر ڈالنے کی حمد نہیں کریں گے
32:13سلطان اماد الدین زنگی بڑا وجیح اور پرشکوہ انسان تھا
32:17بڑے سے بڑا بہادر بھی اس سے آنکھ ملا کر بات نہیں کر سکتا تھا
32:21وہ عابد و زاہد بھی تھا اور منصف و عادل بھی
32:24رحمدل بھی تھا اور فیاض و سخی بھی
32:27وہ سر بلندی اسلام کے لئے زندہ رہا
32:30اور اسی مقصد کی تکمیل کے لئے اپنی جان بھی نظر کر دی
32:34سلطان اماد الدین زنگی کا مشہور قول ہے
32:36میں ریشم کے نرم بستر سے گھوڑے کی پشت کو
32:41دلکش راک سے جنگ کے شور کو
32:44اور زہرہ جبینوں کی میٹھے سروں سے ہتھیاروں کی جھنکار کو زیادہ پسند کرتا ہوں
32:52موسیقی
32:54موسیقی
32:55موسیقی
32:55موسیقی
Comments