- 1 day ago
Category
🎈
FunTranscript
00:03ुدھر سلیبی جنگ کی تیاریاں پوری زور شور کے ساتھ ہو رہی تھی
00:07اور ادھر سلطان نور الدین زنگی کے دربار میں ایک ایسا تکلیف دے واقعہ پیش آیا
00:12جس نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا
00:16ایک دن سلطان کا دربار سجا ہوا تھا
00:19کہ 16-17 سال کی ایک حسین و جمین لڑکی
00:22دو محافظ سپائیوں کے ساتھ زار و قطار روتی ہوئی داخل ہوئی
00:27اور تقت کے قریب پہنچ کر فریاد کرنے لگی
00:30سلطان عادل مجھے انصاف چاہیے
00:33لڑکی کے آنسوں اور دردناک لہجے نے سلطان نور الدین زنگی کو مسترب کر دیا
00:39اے قوم کی بیٹی تیرے ساتھ کیا ظلم ہوا ہے
00:43بیان کر
00:45سلطان عادل میں ظالم کا نام لیتے ہوئے ڈرتی ہوں
00:48اچانک لڑکی کے چہرے پہ خوف کے سائل رزنے لگے
00:51میرا مجرم آپ کے دربار کا ایک باعثر شخص ہے
00:56مجھے خدشہ ہے کہ کہیں یہ قربت و رسائی آپ کے انصاف میں خلل نہ ڈال دے
01:02لڑکی کی بے باکانہ گفتگو سن کر دربار میں بیٹھ ہوئے عمرہ بھی پریشان نظر آنے لگے تھے
01:08کیونکہ آج تک کسی سوالی نے اس طرح سلطان کو مخاطب نہیں کیا تھا
01:13درباریوں کا خیال تھا کہ سلطان برہم ہو جائیں گے
01:16لیکن سلطان نور الدین زنگی نے بے مثال ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے لڑکی سے کہا
01:22میرے سردار امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ فرمایا کرتے تھے
01:28تمہارا کمزور شخص میرے نزدیک قوی ہے جب تک میں اسے اس کا حق نہ دلا دوں
01:34اور تمہارا قوی آدمی میرے نزدیک کمزور ہے جب تک اس کے ذمہ جو حق ہیں وہ اس سے نہ
01:40لے لوں
01:41میں بھی امیر المومنین کے اسی قول مبارک پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتا ہوں
01:46اگر اللہ نے مجھے توفیق بخشی تو میں تمہیں تمہارا حق دلا کر رہوں گا
01:51چاہے وہ دعویٰ میرے کسی قریب ترین عزیز کے خلاف ہی کیوں نہ ہو
01:55جب لڑکی کو پوری طرح اتمنان ہو گیا تو وہ درباری عمرہ کے قطار کی جانب بڑھی
02:00تھوڑی دیر کے لیے ہر امیر کو اپنے دل کی دھڑکن رکتی ہوئی محسوس ہونے لگی
02:05لڑکی چند قدم آگے بڑھ کر سلطان کے سپہ سالار نجم الدین ایوب کے سامنے ٹھہر گئی
02:11پورے دربار پر سناٹا چھا گیا اور نجم الدین ایوب کی حالت غیر ہونے لگی
02:17اسے سختہ ہو گیا تھا
02:20سالار نجم الدین ایوب کے بیٹے یوسف نے میرے ساتھ ایسی شرم ناگ زیادتی کی ہے
02:25کہ جسے بیان کرنے کا مجھ میں حوصلہ نہیں
02:31اور سسک سسک کر رونے لگی
02:34لڑکی کے اس انکشاف نے اہل دربار پر سختہ تاری کر دیا تھا
02:38اور نجم الدین ایوب کو تو یوں محسوس ہوا جیسے عرض شام شدید زلزلے کی لپیٹ میں ہیں
02:44شہر کی تمام امارتیں اور گھر اس زلزلے سے محفوظ ہیں
02:49لیکن اس کا اپنا وجود ہزاروں من مٹی کے نیچے دفن ہو چکا ہے
02:53یہی حال اسد الدین شہر کوہ کا تھا
02:56اس کی آنکھوں کے سامنے چند لمحوں کے لیے گہری تاریخی چھا گئی تھی
03:01دونوں بھائی ویش زدہ انداز میں اس حسین و جمیل لکی کی طرف دیکھ رہے تھے
03:06جو یوسف یعنی صلاح الدین کی بہرہ روی پر سلطان نور الدین زنگی سے سر دربار انصاف مانگنے آئی تھی
03:14نجم الدین ایوب نے پہلے سلطان کی طرف اور پھر عمراء دربار کی جانب دیکھا
03:20جانباز سپہ صلاح کو یوں محسوس ہوا کہ ہر آنکھ میں
03:23اس کے لیے لانت و ملامت کا گہرا رنگ جھلک رہا ہے
03:26ابھی نجم الدین ایوب ذہنی اور قلبی عزید میں مبتلا تھا
03:30کہ سلطان نور الدین زنگی کی پڑ جلال آواز دربار میں گونجی
03:34نجم الدین تم نے سن لی اس غمددہ لڑکی کی فریاد
03:38نجم الدین ایوب اپنی نشست پہ کھڑا ہو گیا
03:41ایک ایک حرف سن لیا
03:43سلطان عادل شدت غم سے نجم الدین ایوب کی آواز لرز رہی تھی
03:47یوسف کہاں ہیں
03:49سلطان نور الدین زنگی کے لہجے سے غیز و جلال جھلک رہا تھا
03:52وہ کل رات سے شدید بخار میں مبتلا ہے
03:56اس لیے دربار میں حاضر نہ ہو سکا
03:58اگرچہ نجم الدین ایوب ایک جامباز سیلار تھا
04:02اور میدان جنگ میں ہمیشہ سر بکف رہتا تھا
04:05لیکن بیٹے کی اس ممکنہ جرم نے
04:07فولات کے اساب رکھنے والے اس سپاہی کے جسم اور زبان میں ارتعاش پیدا کر دیا تھا
04:13تم خود ہی اس تک ہمارا حکم پہنچاؤ
04:16کہ کل وہ بہر سورت دربار میں حاضر ہو
04:19سلطان نور الدین زنگی کے غیز و جلال میں مزید اضافہ ہو گیا تھا
04:23اس سلسلے میں کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا
04:26چاہے اس کی جان پر ہی کیوں نہ بنی ہو
04:28یہ کہتے ہوئے سلطان نور الدین زنگی اٹھ کھڑے ہوئے
04:32اور اس کے ساتھ ہی تمام حاضرین دربار بھی کھڑے ہو گئے
04:36وہ غمددہ لڑکی جس کا نام شارعہ تھا
04:39تیز قدموں سے سلطان نور الدین زنگی کی قریب پہنچی
04:42اور گریہ و زاری کرنے لگی
04:44سلطان عادل میں بھرے دربار میں اپنی روداد غم بیان نہیں کر سکوں گی
04:50لڑکی ہمیں بھی اس بات سے شرم آتی ہے
04:52کہ دکتر قوم نامحرموں کے سامنے اپنے داستان علم بیان کرے
04:56شارعہ سے خطاب کرتے وقت سلطان نور الدین زنگی کے لہجے سے اداسی چھلک رہی تھی
05:01ہم تمہیں خلوت فرہام کریں گے
05:04کہ تم اپنے دل کی بات کہہ سکو
05:05اور عدالت کے تقاضے پورے ہو سکیں
05:08اس کے ساتھ ہی دربار برخواست ہو گیا
05:11وہ رات نجم الدین ایوب کی گھرانے پہ بہت بھاری تھی
05:15زبیدہ کا روتے روتے برا حال ہو گیا تھا
05:18نجم الدین ایوب اور اسد الدین
05:20بخار میں مبتلا یوسف پہ برس رہے تھے
05:23ہم نے اپنی عزت و عبرو
05:25اور جاہو حشمت کی جس عمارت کو برسوں کی انتق محنت کے بعد تعمیر کیا تھا
05:30تُو نے اسے ایک لمحے میں ڈھا دیا
05:34بخار کی شدہ سے یوسف کا چہرہ تپ رہا تھا
05:36پھر بھی اس نے قوت ارادی کو بروے کار لا کر سمجھنے کی کوشش کی
05:41اور عدب کے اسی روایتی لہجے میں باپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
05:45بابا محترم میں قصور ہوں
05:48میں نے ہر قدم پر اس بات کا خیال رکھا ہے
05:51کہ میری کسی لغز سے باپ دادا کی عزت و توقیر میں کوئی کمی نہ آنے پائے
05:55پھر اس لڑکی نے اپنی شرم و حیاء کو بالائے تاق رکھ کر
05:59تجھ پر یہ الزام تراشی کیوں کی
06:01نجم الدین ایوب کے لہجے سے شدید غصہ جھلک رہا تھا
06:05میں نہیں جانتا
06:07اس عورت کو مجھ سے شکایت کیوں پیدا ہوئی
06:09یوسف نے نہایت ماسومانہ لہجے میں کہا
06:12اگر تجھ پر یہ جرم ثابت ہو گیا
06:15تو پھر ہمارے عہدہ منصب کا کیا ہوگا
06:17ہمیں بھی ظلت و ندامت کے ساتھ معذول کیا جا سکتا ہے
06:22اسد الدین شیر کوہ کا لاجہ سخت غزبناک تھا
06:25اگرچہ وہ اپنے اس بھتیجے سے بے پناہ محبت کرتا تھا
06:29لیکن اس سنگین صورتحال میں بھی وہ بھی حراسہ نظر آ رہا تھا
06:32یوسف نے اپنی فطرت کے مطابق انتہائی ضبط و تحمل کا مجاہرہ کرتے ہوئے کہا
06:38ام مہدرم
06:40ایک شخص کے گناہ کا بوجھ
06:42دوسرے کے کاندھے پہ ہرگز نہیں ہوگا
06:45یوسف نے قرآن کریم کی ایک آیت مقدسہ کا حوالہ پیش کیا
06:49اگر میرا گناہ ہے
06:51تو اس کا بوجھ بھی میں خود ہی اٹھاؤں گا
06:54نجم الدین اور اسد الدین
06:56عجیب عذیت و کشمکش میں مبتلا تھے
06:59جب وہ یوسف کی استقامت دیکھتے تو انہیں یقین سا ہونے لگتا
07:03کہ ان کا بیٹا بے گناہ ہے
07:05مگر جب انہیں اس کمزدہ لڑکی کی گریہ و زاری
07:08اور بے قراری یاد آتی
07:10تو یوسف گناہگار نظر آنے لگتا
07:12بڑے سنگین اور عذیتناک لمحات تھے
07:16جن سے شامی افواج کا سپہ سالار
07:18اور اس کے اہل خانہ بری طرح متاثر تھے
07:21دوسری طرف
07:22سلطان نور الدین نے اپنے محل کے ایک مخصوص کمرے میں
07:25قاضی ابن عرسون اور اس لڑکی شارعہ کو طلب کر لیا تھا
07:30جو یوسف کے خلاف مدعی تھی
07:33لڑکی اس وقت تم دربار شام میں نہیں
07:36ایک ایسے خفیہ کمرے میں ہو
07:38جہاں میرے اور قاضی صاحب کے سوا کوئی تیسرا فرد موجود نہیں
07:43سلطان نور الدین نے نہائیت نرم لہجے میں شارعہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
07:47اب تم بے جزک ہو کر اپنی روداد غم پوری تفصیل کے ساتھ بیان کر سکتی ہو
07:54شارعہ نے انتہائی رقت آمیس لہجے میں کہنا شروع کیا
07:57سلطان عادل
07:58مجھے یوسف یعنی صلاح الدین کی شاہ سواری بہت پسند تھی
08:02میں نے اسے کئی بار آپ کے ساتھ چگان کھلتے دیکھا تھا
08:06پھر رفتہ رفتہ میری پسندیدگی بڑھتی چلی گئی
08:09یہ کہتے کہتے شارعہ کے چہرے پہ شرم ہویا کا ایک ہلکا سا رنگ اوبھر آیا
08:14اور اس نے سر جھکا لیا
08:16آخر میں ایک دن یوسف کی محبت میں گرفتار ہو گئی
08:20اور اس کے سامنے اپنی محبت کا اظہار بھی کر دیا
08:23یوسف نے بھی بھرپور انداز میں میری محبت کی پذیرائی کی
08:27مجھے یقین تھا کہ وہ ایک لائق شاہ سوار کی طرح قابل اعتبار نوجوان بھی ہوگا
08:33یہ کہہ کر شارعہ نے سر اٹھایا
08:35اور سلطان نور الدین زنگی کی طرف ہاتھ کے اشارے سے کہا
08:38اور اس اعتبار کی وجہ آپ تھے
08:41سلطان عادل
08:42ہم
08:44والی شام نے چونک کر کہا
08:46وہ کس طرح
08:47اس بات کی وضاحت کرو لڑکی
08:50اس لیے کہ یوسف آپ کا مساحب خاص ہے
08:53شارعہ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے
08:55مگر اس کے لہجے سے بہت زیادہ اعتماد جھلک رہا تھا
08:59شارعہ نے ایک ایک لفت پر زور دیتے ہوئے کہا
09:02اور سلطان عادل ایک بے اعتبار شخص کو اپنا مساحب خاص نہیں بنا سکتے
09:07شارعہ کے لہجے میں اس قدر بے ساقتگی تھی
09:10کہ سلطان نور الدین بھی اس کی بات سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے
09:15لڑکی اس حسن زنگ کے لیے ہم تیرے شکر گزار ہیں
09:18قاضی ابن عرسون بار بار اپنی کرسی پر پہلو بدل رہے تھے
09:22وہ اس واقعے کا انجام جاننے کے لیے مستعرب تھے
09:25کیونکہ معاملہ ان کے شاگرد خاص یوسف کا تھا
09:29مگر یہ حوالہ بھی غیر معتبر ٹھہرا
09:32یکا یک شارعہ کے بہت ہوئے آنسوں میں تیزی آگئی
09:35یوسف نے مجھے دھوکہ دیا
09:37کچھ دن شادی کرنے کے فریب میں مبتلا رکھا
09:39اور پھر ایک روز ٹھکرا دیا
09:41اپنے تمام وعدوں سے منحرف ہو گیا وہ
09:45ہو سکتا ہے کہ تمہارے اور یوسف کے خیالات میں ہم آنگی نہ ہو
09:49قاضی ابن عرسون نے شارعہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
09:53اس صورت میں عورت و مرد کا الگ ہو جانا ہی مناسب ہے
09:57تاکہ شادی کے بعد ازدواجی زندگی ایک عذاب نہ بن جائے
10:01شارعہ زارو قطار رونے لگی
10:03مجھے یوسف کی بے وفائی کا گلہ نہیں
10:06مگر اس نے میرے ساتھ جو ناروہ سلوک کیا
10:09اس کا ازالہ کون کرے گا
10:11اس نے میری شدید محبت اور سادگی سے یہاں تک فائدہ اٹھایا
10:15کہ مجھے گناہگار بنا ڈالا
10:16اور میرے چہرے پہ کبھی نہ مٹنے والی سیاہی مل دی
10:20سلطان نور الدین نے اس انکشاف پہ کسی خاص رد عمل کا اظہار نہیں کیا
10:25کیونکہ وہ پہلے ہی لڑکی کی رداد غم حاضرین دربار کے سامنے سن چکے تھے
10:30مگر قاضی ابن عرسون کے لیے یہ بات ناقابل یقین تھی
10:33اس لیے وہ جوش استراب میں اٹھ کھڑے ہوئے
10:36اور شارعہ کو مخاطب کر کے کہنے لگے
10:38یوسف ایسا نہیں کر سکتا
10:41میں اسے خوب جانتا ہوں
10:42وہ ایک صاحب کردار نوجوان ہے
10:45انتہائی پاکباز اور سنجیدہ
10:47میں اس سے کسی ایسے شرمناک فیل کی توقع نہیں رکھتا
10:51قاضی ابن عرسون کا بیان سن کر
10:53سلطان نور الدین نے مداخلت کی
10:56قاضی صاحب آپ کا طرز عمل انصاف کے تقاضوں کی نفی کر رہا ہے
11:01آپ اس وقت اپنے جذبات کی گرفت میں ہیں
11:04اس لیے کہ یوسف آپ کا شاگرد ہے
11:08سلطان عادل
11:09میں اپنے اس استراری عمل پر نادم ہوں
11:12بے شک میں یوسف کے معاملے میں بہت زیادہ جذباتی ہو گیا تھا
11:16یہ کہہ کر قاضی ابن عرسون دوبارہ اپنی نشست پر بیٹھ گئے
11:20پھر شارعہ سے مقاطب ہو کے بولے
11:22لڑکی کیا تمہارے والدین اس علمناک واقعے سے باخبر ہیں
11:28بدقسمتی سے میرے مواب اس دنیا میں موجود نہیں ہیں
11:31شارعہ نے انتہائی رقت آمیز لہجے میں کہا
11:35میرا کوئی والی وارث نہیں
11:36بہت دور کے ایک عزیز کے پاس رہتی ہوں
11:40کیا تم اس سلسلے میں کوئی گواہ پیش کر سکتی ہو
11:43قاضی نے شارعہ سے سوال کیا
11:46غریبوں کو گواہ کون ہوتا ہے
11:48شارعہ نے روتے ہوئے کہا
11:50بس اللہ ہی میری محبت کا گواہ ہے
11:52اتمنان رکھو لڑکی
11:54تمہارے ساتھ پورا انصاف ہوگا
11:56اس واقعے کے مکمل تفصیلات سننے کے بعد
11:59سلطان نے انتہائی پرجلال لہجے میں کہا
12:02عدالت کے فیصلے میں کوئی رشدار
12:04کوئی منصب خلل انداز نہیں ہو سکتا
12:07چاہے مجرم نور الدین کا مسائب خاص ہو
12:10یا قاضی ابن عرسون کا شاگرد خاص ہو
12:14سلطان عادل مجھے امان دی جائے
12:16یکا یک شارعہ کے چہرے پر گہر خوف کے سائل ارزنے لگے
12:20میں ایک بے سہارا لڑکی ہوں
12:23اور بہت طاقتور لوگ ہیں وہ
12:25مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے
12:26سلطان نور الدین زنگی نے اس وقت فرمان جاری کر دیا
12:31کہ جب تک شارعہ کے مقدمے کا فیصلہ نہیں ہو جاتا
12:34وہ اس وقت تک محل کی کنیزوں میں شامل رہے گی
12:38وہ رات نجم الدین ایوب اور اس کے اہل خانہ پہ ہی گرا نہیں تھی
12:42بلکہ قاضی ابن عرسون بھی شدید عذیت و قرب میں مبتلا تھے
12:47انہیں اس بات کا قلق تھا کہ ان کے شاگرد خاص کے نام سے
12:50ایک شرمناک واقعہ منصوب کر دیا گیا تھا
12:53اگر وہ سچ ثابت ہو گیا
12:55تو میری ساری تعلیم و تربیت رائے گاں جائے گی
12:58اس خیال کے آتے ہی قاضی ابن عرسون گھبرا کر اڑ بیٹھے
13:02اور انہوں نے مالک حقیقی کے سامنے دست و سوال دراست کر دیا
13:06اے تمام جہانوں کے پالنے والے
13:08میرے یوسف کی دستگیری کر
13:11اس کی مشکل کشائی فرما
13:12اور مجھ ناچیز کو اہل شہر کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچا لے
13:16دوسری طرف یوسف کی کیفیت ناقابل بیان تھی
13:20الزام تراشی کا کرب
13:22بخار کی شدت
13:24باپ اور چچا کے تانے اور ان کے عہدوں سے معذولی کے اندیشے
13:27غرض ایک نازک سی شاخ
13:30خوفناک آندھیوں کی زد میں تھی
13:32اپنی اس بے قصی پہ یوسف کی آنکھی بھی بھگ گئیں
13:35اور وہ اپنے مالک حقیقی کو پکارتا رہا
13:38یہاں تک کہ فجر کی آزان سنائی دینے لگی
13:40سارے عالم میں اللہ کی قبریائی بیان ہو رہی تھی
13:44یوسف اسی بخار کی حالت میں اٹھا
13:46اور وضو کر کے نماز کے لیے کھڑا ہو گیا
13:50سورج طلو ہوا وہ دن اہل شام کے لیے بڑا ہی عجیب دن تھا
13:55ایک طرف ایک بے سہارہ لڑکی تھی
13:57اور دوسری طرف سلطان نور الدین زنگی کا مساحب قاس
14:01لوگ عدالت آلیہ کا فیصلہ سننے کے لیے مسترب تھے
14:05سلطان کا دربار عمرہ اور دیگر سرکاری ملازمین سے بھرا ہوا تھا
14:10نجم الدین ایوب اور اسددین شہرکو
14:13اپنی نشستوں پر موجود تھے
14:15مگر ان کے چہرے آنے والی رسوائی کے خوف سے دھواں ہو رہے تھے
14:19سلطان نور الدین زنگی اپنے پورے جاہو جلال کے ساتھ جلوہ افروز تھے
14:24تخت کے بائیں جانب قاضی ابن عرسوں کی نشست تھی
14:28اور تخت سلطانی کے نیچے
14:30یوسف دست بدستہ کھڑا تھا
14:33اگرچہ بخار کی شدہ سے اس کا چہرہ تم تمہا رہا تھا
14:36لیکن گھبراہٹ اور پریشانی کے اثار دور دور تک نہ تھے
14:40حاضرین دربار کو حیرت تھی کہ ایسی ناسازگار فضا میں بھی
14:45یوسف غیر معمولی حد تک پرسکون نظر آ رہا تھا
14:47بعض عمرہ آپس میں سرگوشیاں کر رہے تھے
14:51یوسف مجرم ہے
14:52مگر اس لیے مطمئن ہے کہ باپ اور چچہ درباری سلطانی میں رسائی رکھتے ہیں
14:57اور وہ اسے سلطان کے عطاب اور عدالت کی سزا سے بچا لیں گے
15:01ابھی یہ قیاس آرائیاں جاری تھی
15:03کہ عدالت آلیہ کے ایک کارکون نے کھڑے ہو کر با آواز بلند
15:07یوسف کے خلاف فرد جنب پڑھ کر سنائی
15:11پھر قاضی ابن عرسون اپنے شاگر سے مخاطب ہوئے
15:15یوسف تم اس سلسلے میں اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا اختیار رکھتے ہو
15:21استاد محترم جب میں مدعیہ سے واقف ہی نہیں
15:24تو پھر مجھ سے یہ گناہ کس طرح سرزد ہو سکتا ہے
15:28بخار کی شدت کے سبب
15:31یوسف کے جسم میں بھی ہلکی سی لرزش تھی
15:33اور زبان میں بھی
15:36حاضرین دربار کی اکثریتیں یوسف کی یہ کیفت دیکھ کے اندازہ کر لیا
15:40کہ وہ بے قصور نہیں ہیں
15:42اور اس سے یہ جرم سرزد ہو چکا ہے
15:45سلطان نوردین نے یوسف کی اس کیفت کو سرسری انداز میں دیکھا
15:50اور پھر تخت کے بائیں جانب کھڑے درباری محافظ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
15:56مدعیہ کو عدالت کے روبرو پیش کیا جائے
16:00تھوڑی ہی دیر میں دو محافظ سپاہی شارعہ کو لے کر دربار میں داقل ہو گئے
16:04شارعہ اس وقت ایک سفید چادر میں اس طرح لپٹی ہوئی تھی
16:08کہ حاضرین دربار کو صرف اس کی آنکھیں نظر آ رہی تھی
16:11شارعہ آئسہ آئسہ چلتی ہوئی تخت کے قریب آئی اور سر جھکا کر کھڑی ہو گئی
16:17لڑکی تمہارے دعوے اور یوسف کے بیان میں ذرا برابر بھی مطابقت نہیں
16:22یکا یک دربار سلطانی میں قاضی ابن عرسوں کی باوقار آواز گنجی
16:28وہ تمہیں جانتا تک نہیں پھر اس سنگین جرم کا مرتقب کس طرح ہو سکتا ہے
16:35قاضی ابن عرسوں کی آواز سنکا شارعہ نے چادر میں لٹا ہوا چہرہ بے نقاب کر دیا
16:40اس کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے مگر نظریں جھکی ہوئی تھی
16:45یوسف نے بڑی بینیازی کے ساتھ شارعہ کے دلکس چہرے پر ایک اچھٹی ہوئی نظر ڈالی
16:50اور بڑے پور اعتماد لہجے میں سلطان نور الدین سے مخاطب ہوا
16:55سلطان عادل میری آنکھیں دھوکہ نہیں کھا سکتی
16:59یقیناً میں اس نامحرم لڑکی کو پہلی بار دیکھنے کا گناہ گار ہوں
17:03اس سے زیادہ کچھ نہیں
17:05باقی سب بہتان ہیں
17:07اگرچہ بخار کی شدت کے باعث یوسف کی آواز میں ہلکہ سا ارتعاش تھا
17:12لیکن چہرے سے معصومیت ظاہر ہو رہی تھی
17:15دربار پر سناٹہ تاری تھا
17:17یوسف کے بیان نے ان عمرہ کو بھی حیرہ زدہ کر دیا تھا
17:21جو کچھ دیر پہلے سرگوشیوں میں نجم الدین ایوب کے بیٹے کے جرم پر قیاس آرائیاں کر رہے تھے
17:27پھر اس مقدمے کا فیصلہ کس طرح ہوگا جب مدعیہ اسرار کر رہی ہے
17:32اور مدعا علی مسلسل انکار
17:36قاضی ابن ارسو نے سلطان نور الدین زنگی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
17:41ابھی سلطان عادل قاضی صاحب کے سوال کا جواب دینے بھی نہیں پائے تھے
17:46کہ یوسف درمیان میں بول اٹھا
17:49سلطان عادل ہم اہل ایمان ہیں
17:52جب اہل دنیا کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پاتے
17:55تو ہمیں اپنے اللہ کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے
17:58اگر یہ نامحرم خاتون
18:00ذات وادہ لا شریک کو درمیان میں لے آئے
18:03اور خالق کائنات کی قسم کھالے
18:06تو میں اس گناہ کو بھی تسلیم کر لوں گا
18:09جو مجھ سے سرزد ہوا ہی نہیں
18:12یوسف کے لہجے میں اس قدر سوس تھا
18:15کہ حاضرین دربار کی اکثریت نے بھی اس خلش کو اپنے دلوں میں محسوس کیا
18:20شارعہ نے بدحواز ہو کر یوسف کی طرف دیکھا
18:23محترم خاتون
18:24تو میں اپنے اللہ سے در نہیں لگتا
18:27یوسف کے لہجے میں بڑا در تھا
18:29یوسف کے طرز گفتگو نے شارعہ کے جسم پر لرزہ تاری کر دیا
18:33اور پھر وہ گریہ ازاری کے انداز میں چیخ چیخ کر کہنے لگی
18:37سلطان عادل یوسف بے قصور ہے
18:40اور میں گناہگار ہوں
18:42کہ اس پاکباز نوجوان پر تحمت لگائی
18:45شارعہ کے اعتراف نے چند لمحوں میں مقدمے کی نویت ہی بدل ڈالی تھی
18:49نجم الدین ایوب اور اسد الدین کے ہوتوں کی مسکراہتیں واپس لوٹ آئیں تھی
18:54اور ان کے چہروں سے طویل عزیت و کرب کا غبار دھل گیا تھا
18:58باقی عمرہ بھی مطمئن نظر آنے لگے تھے
19:01بس ایک امیر ابن مرکوم تھا جس کے چہرے پہ گہری سیاہی پہل گئی تھی
19:08نادان لڑکی تجھے بہتان ترازی کی سدا معلوم ہے
19:11سلطان نور الدین زنگی کے پر جلال آواز سے پورا دربار گونج اٹھا تھا
19:16جانتی ہوں سلطان عادل مگر میں یوسف پہ تحمت لگانے کے لئے مجبور تھی
19:22شارعہ کے لہجے میں دنیا بھر کی غمزدہ عورتوں کا درد سمٹ آیا تھا
19:26اور مجبوری ہی ہم کلنیزوں کا مقدر ہوتی ہے
19:30کس نے تجھے مجبور کیا؟ تیرے نفس نے یا کسی اور نے؟
19:34یکا یک سلطان نور الدین محمود زنگی کے لہجے سے شدید غیظ و غزب کا اظہار ہونے لگا تھا
19:41شارعہ نے اپنے آپ کو سمحالا اور درباری عمرہ کی اگلی صرف کی طرف دیکھا
19:45اور امیر ابن مرکوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
19:49میں اس آلی مرتبت امیر کی کنیز ہوں
19:52مجھ سے کہا گیا تھا کہ اگر میں نے یوسف کا دامن داغدان نہیں کیا
19:56تو قتل کر دی جاؤں گی
19:59ایک بار پھر دربار شام میں زلزلہ سا آ گیا
20:02تمام عمرہ ابن مرکوم کو ملامت زیادہ نظروں سے دیکھ رہے تھے
20:05سلطان عادل یہ لڑکی پیدائشی جھوٹی ہے
20:09جوش وحشت میں امیر ابن مرکوم اپنی نشست پہ کھڑا ہو گیا
20:13اور درباری آداب کے خلاف چیخ چیخ کل بور رہا تھا وہ
20:17اور اس کے جھوٹا ہونے کی دلیل یہ ہے کہ میں بھی اسے نہیں پہچانتا
20:22سلطان نور الدین نے امیر ابن مرکوم سے کوئی حجت کیے بغیر
20:26دربار کے محافظ سپاہیوں کو اشارہ کیا
20:29ابن مرکوم کو گرفتار کر کے زندان میں ڈال دو
20:32کون سچا ہے اور کون جھوٹا اس کا فیصلہ ہم کل کریں گے
20:37حکم سلطانی سنتے ہی دربار کے محافظ سپاہی آگے بڑھے
20:41اور ابن مرکوم کو کھینچتے ہوئے باہر لے گئے
20:45حقیقی مجرم بے نقاب ہو چکے تھے
20:47یوسف ہمارے قریب آؤ
20:49ابن مرکوم کے جاتے ہی سلطان یوسف سے مخاطب ہوئے
20:54بخار کی شدت اور بڑھ گئی تھی
20:57یوسف لڑکھاتے قدموں سے آگے بڑھا
20:59اور اس نے سلطان عادل کے ہاتھ کو بوسا دیا
21:02میں بہت شرمندہ ہوں کہ میری وجہ سے آپ کو شدید عذیت پہنچی
21:06یہ کہتے کہتے یوسف رو پڑا
21:09سلطان نور الدین نے کھڑے ہو کر یوسف کو گلے لگایا
21:12اور باعواز بلند کہا
21:14ہمیں خوشی ہے کہ تم نے ہمارے اعتبار کو برقرار رکھا
21:18ابھی سلطان کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی
21:21کہ یوسف لڑکھڑا کر تخت پر گر پڑا
21:23اس وقت سلطان نور الدین کو احساس ہوا کہ یوسف کا جسم بخار سے جل رہا تھا
21:29سلطان نور الدین زنگی کے ماہر جاسوسوں نے چند گھنٹوں میں
21:32امیر ابن مرکوم اور شارعہ کے متعلق ساری معلومات حاصل کر لی تھی
21:37شارعہ ایک ترکی نجات لڑکی تھی
21:40جس کے ماں باپ مر چکے تھے
21:42اور وہ ایک جنگ میں امیر ابن مرکوم کے ہاتھ لگ گئی تھی
21:46دونوں کا تعلق ثابت ہو چکا تھا
21:48پھر سلطان نور الدین زنگی نے شارعہ کو اپنی مخصوص کمرے میں طلب کر کے
21:52مزید پوجھ گش کی
21:54شارعہ نے رو رو کر بتایا کہ امیر ابن مرکوم اس پر بے تحاشہ تشدد کرتا تھا
21:59یہاں تک کہ اپنی جان بچانے کی خاطر
22:02وہ یوسف پر تحمت ترازی پر مجبور ہو گئی
22:05پھر سلطانی حرم سرا کی کنیز خاص نے
22:08اس بات کی تزدیق کر دی کہ شارعہ کی پشت پر کڑوں کے بے شمار نشانات ہیں
22:14سلطان نے قاضی سے مشورہ کیا کہ بہتان ترازی کے جرم میں شارعہ کی کیا سزا ہونی چاہیے
22:20قاضی ابن عرسو نے قرآن حکیم کی ایک آیت مقدسہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا
22:25باری تعالیٰ کا ارشاد ہے
22:27اگر کوئی شخص بھوک سے مر رہا ہے
22:30تو وہ حالت استرار میں بھی مردار کھا سکتا ہے
22:33اسی طرح اس کنیز کو بھی اپنی ہلاکت کا اندیشہ تھا
22:36اسی باعث تو جھوٹ بولنے پر مجبور ہو گئی
22:39پھر دوسرے دن سلطان نور الدین کے حکوم پر شام کے طویل اور عریض میدان میں ہزاروں انسان جمع ہو
22:45گئے
22:45یہ حکوم اس لئے جاری کیا گیا تھا
22:48کہ اہل ایمان اپنی آنکھوں سے ایک بہتان تراز کو دی جانے والی سزا کا منظر دیکھ سکیں
22:54پھر امیر ابن مرکوم کو اس طرح میدان میں لائے گیا
22:57کہ بھاری زنجیروں کے بوجھ سے اس کے قدم لڑکھرا رہے تھے
23:01بارے ندامہ سے سر جھکا ہوا تھا
23:03اور ذلت اور رسوائی کے احساس سرق و سفید چہرہ مسخ ہو گیا تھا
23:08پھر شرعی حکم کے مطابق امیر ابن مرکوم کو اسی کوڑے لگائے گئے
23:13یہاں تک کہ وہ لہو لہان ہو کر زمین پر گر پڑا
23:16اس عبرتناک منظر کو دیکھ کر شام کے باشندوں کو یقین آ گیا
23:20کہ کوئی مجرم سلطان عادل کی دسترس سے دور نہیں
23:24خواہ وہ کوئی باعثر امیر ہی کیوں نہ ہو
23:28جب امیر ابن مرکوم زخموں کی سوزش سے کر رہا رہا تھا
23:32تو سلطان اس کے قریب پہنچے اور انتہائی غضبناک لہجے میں کہنے لگے
23:37یہ شریعت کی سزا تھی جو مکمل ہو گئی
23:40مگر ابھی تیری دوسری سزا باقی ہے
23:43پھر جب امیر ابن مرکوم کے زخم بھر گئے
23:47تو اسے ایک گدھے پہ سوال کر کے پورے شہر میں گھمایا گیا
23:50سلطان نور الدین کے ہر کارے ساتھ ساتھ تھے
23:53جب یہ عبرتناک منظر دیکھنے کیلئے لوگوں کی بھیر جمع ہو جاتی
23:58تو سلطانی ناقیب
23:59اہل شہر کو مخاطب کرتے ہوئے با آواز بلند کہتے
24:03یہ اس شخص کی سزا ہے جس نے اپنے فرض منصبی سے کوتاہی بڑھتی
24:08اور سلطان عادل کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی
24:11اس کے بعد سلطان نور الدین زنگی نے امیر ابن مرکوم کی ساری جاگیریں ضبط کر لیں
24:17اور اسے امارات کی عہدے سے معذول کر دیا
24:20اب وہ شام کا ایک غریب اور لانت زدہ شخص تھا
24:25سلطان نور الدین نے امیر ابن مرکوم کی ضبط چھدہ جاگیریں
24:29یوسف صلاح الدین کو دینی چاہیں
24:31مگر اس نے آرہ ذرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان جاگیروں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا
24:36میں ہمیشہ سلطان عادل کا ممنون کرم رہوں گا
24:41کہ آپ ہی کے التفات خاص کے باعث مجھے پہچانا گیا
24:45اور یہ عزت و توقیر حاصل ہوئی
24:47یوسف کے لہجے سے احترام بھی جھلک رہا تھا اور وقار بھی
24:51اگر سلطان عادل مجھے مجبور کریں گے
24:54تو میں ظاہری طور پر اس انام کو قبول کر لوں گا
24:57لیکن زندگی بھر میرا دل ایک عجیب استراب و خلش کا شکار رہے گا
25:03سلطان نور الدین نے کسی قدر حیرت سے یوسف کی طرف دیکھا
25:07اور انتہائی نرم لہجے میں کہا
25:09اپنی بات کی وضاحت کرو یوسف
25:13سلطان عادل مجھے یہ احساس چین سے نہیں بیٹھنے دیکھا
25:16کہ جیسے میں غازب ہوں
25:18یوسف نے معدب لہجے میں اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا
25:22میں نے امیر ابن مرکوم کی جاگیروں پر قبضہ کر لیا ہے
25:26تم غازب تو اس وقت کہلاتے
25:29جب اس میں تمہاری ذاتی کوششوں کو دخل ہوتا
25:32یوسف کا جواب سن کر سلطان کے ہٹوں پہ ہلکا سا تبسم اُبھر آیا
25:37اگر غازب نہیں تو پھر خود کو ایک سود خور سمجھوں گا
25:41یوسف نے نئے انداز سے اپنے انکار کی توجی پیش کرتے ہوئے کہا
25:45ان جاگیروں کے حصول میں میری کسی ذاتی کوشش یا کار کردگی کا دخل نہیں ہے
25:51میرے لیے یہ اعزاز کافی ہے
25:53کہ سلطان عادل نے مجھے ہم کلامی کا شرف بخشا
25:57یوسف کا جواب سن کر
25:59سلطان نور الدین کے چہرے پہ گہری مسرد کا رنگ اُبھر آیا
26:02پھر حاضری نے دربار سے مخاطب ہو کر بولے
26:06یوسف کے خد و خال بہت غور سے دیکھ لو
26:09اہل وفا کے چہرے ایسے ہوتے ہیں
26:12سلطان نور الدین کے ان الفاظ سے
26:14یوسف اور اس کے خاندان کا مرتبہ کچھ اور بلند ہو گیا
26:17مگر اس کے ساتھ ہی
26:19کچھ دوسرے عمرہ کے دل میں بھی حسد کے جذبات کروٹے لینے لگے
26:23بعض جہاں دیدہ اور قیافہ شناز امیروں کا اندازہ ہو گیا
26:29سلطان کا مساہب خاص ہونا اس نوجوان کی حقیقی منزل نہیں
26:32بلکہ اس کا مقام کچھ اور ہی ہے
26:36ترکی نجات کنیز شارعہ کو بھی
26:39یوسف نے دل کی گہرائیوں سے ماف کر دیا تھا
26:42اور سلطان نور الدین سے سفارج کر کے
26:44سلطانی حرم سرہ کی کنیزوں میں شامل کروا دیا تھا
26:48شارعہ کو پہلے ہی یوسف سے محبت تھی
26:50مگر جب اس نے ایک نوجوان کی آلہ ذرفی کا یہ عظیم شان مظاہرہ دیکھا
26:55تو وہ وارفتہ ہو گئی
26:56اور ایک دن شدید استراب کے حالت میں
27:00یوسف کے گھر پہنچ گئے
27:01اور اہل خانہ کے سامنے
27:02رو رو کر یوسف سے مافی مانگنے لگی
27:05نجم الدین ایوب اور زبیدہ نے بھی
27:08ایک بے سہرہ لڑکی سے ہمدردی کا اظہار کیا
27:10پھر شارعہ نے نجم الدین ایوب سے
27:13آجزانہ درخواست کرتے ہوئے کہا
27:15مجھے صرف اتنی اجازت دے دیں
27:18کہ میں کبھی کبھی آپ کے گھر حاضر ہو جایا کروں
27:21مجھے آپ بزرگوں کی شکل میں
27:23اپنے ماں باپ نظر آتے ہیں
27:25نجم الدین ایوب اور زبیدہ نے
27:28خوشی سے اجازت دے دی
27:29شارعہ کے پاس یوسف کو دیکھنے کا
27:31یہی ایک بہانہ تھا
27:32شارعہ کو جب بھی فرصت ملتی
27:34وہ نجم الدین ایوب کے ہاں پہنچ جاتی
27:37پھر ایک دن اسے یوسف تنہائی میں مل گیا
27:40یہی وہ سعاتی تھی
27:41جب شارعہ نے یوسف کے سامنے
27:44کھل کر اپنی محبت کا اظہار کر دیا
27:46یوسف تم ایک سپاہ سلار کے بیٹے
27:49اور سلطان عادل کے مساحب ہو
27:50شارعہ کے لہجے میں سوز و عشق
27:53اور دل کا درد شامل تھا
27:55میں ایک ادنا کنیس سہی
27:57مگر تم سے بے پناہ محبت کرتی ہوں
27:59ایسی محبت کہ تمہاری والدہ کے بعد
28:01شاید ہی دنیا کی کوئی عورت
28:03اس کا دعویٰ کر سکے
28:05یوسف خاموشی سے شارعہ کی
28:07بے حد جذباتی گفتگو سن رہا تھا
28:09میں اپنی محبت کا جواب
28:11محبت سے نہیں چاہتی
28:12یکا یک شارعہ کی آنکھوں سے نمی
28:14جھلکنے لگی تھی
28:15بس تم مجھ سے ایک وعدہ کر لو
28:18صرف زبانی وعدہ
28:20کیسا وعدہ
28:21یوسف نے چونک کر کہا
28:23یہی کہ تم مجھے یاد رکھو گے
28:25مگر برے نام سے نہیں
28:27شارعہ روتے ہوئے التجا کر رہی تھی
28:29میں نے اس واقعے کو
28:31یکسر فراموش کر دیا ہے شارعہ
28:33یوسف نے انتہائی نرم اور شیری لہجے میں کہا
28:35تاکہ اس لڑکی کی دل سے جرم کا احساس مٹ جائے
28:38یہ تمہاری عظمت ہے یوسف کہ تم نے اس واقعے کو بھلا دیا
28:42مگر وعدہ کرو کہ تم مجھے فراموش نہیں کرو گے
28:46شارعہ کے دل کی گہرائیوں میں چھپا حرف عارضو
28:49اس کے دلکش ہوتوں پہ آ کر مچل گیا تھا
28:53جب تم بہت بڑے انسان بن جاؤ گے
28:55اور لوگ تمہاری قربت کو ترسیں گے
28:58تو مجھے اپنے دیدار سے محروم نہ کر دینا
29:01اپنے محافظ سپائیوں کے نام فرمان جاری کر دینا
29:04کہ جب شارعہ نام کی کوئی مجنون عورت
29:07تم سے ملنے آئے تو اسے روکا نہ جائے
29:10شارعہ کی جذبات کی وارفتگی دیکھتا
29:13یوسف کوئی دیر کے لیے اپنی جگہ ساکت ہو کر رہ گیا
29:16پھر جب حیرت و سکوت کی یہ کیفز زائل ہوئی
29:19تو وہ مسکراتے ہوئے شارعہ سے مخاطب ہوا
29:22تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ میں بڑا انسان بنوں گا
29:26شارعہ نے انتہائی پرسوز لہجے میں کہا
29:28میرا دل گواہی دیتا ہے
29:31کہ ایک دن تم بڑے مرتبے پر پہنچو گے
29:35یوسف نے شارعہ کی گفتگو کو ایک شدید جذباتی عمل سے تعبیر کیا
29:39اور مسکراتے ہوئے کہا
29:41اگر میری زندگی میں وہ دن آیا
29:43تو تم کسی رکاوٹ کے بغیر ہی مشتق پہنچ سکو گی
29:47شارعہ کے دلکس چہرے پہ
29:49ایسی اتمنان کی لہر دوڑ گئی
29:51جیسے اسے زمانے بھر کی دولت حاصل ہو گئی ہو
29:55شکریہ
Comments