Skip to playerSkip to main content
  • 8 months ago

Category

😹
Fun
Transcript
00:00میں اس قافلے کا سردار ہوں
00:03ایک بارش آدمی بولا
00:04قافلے میں موجود ہر آدمی کی زندگی اور موت خدا کے بعد میرے اختیار میں ہے
00:09سہرہ ایک خوبصورت دوشیزہ کی مانند ہے
00:12جو مردوں کے ہوش اڑا دیتی ہے
00:14یہ قافلہ دو سو افراد اور چار سو جانوروں پر مشتمل تھا
00:19قافلے میں بچے خواتین اور مرد شامل تھے
00:22کچھ مردوں نے اپنے کمر کے ساتھ تلوارے باندھ رکھی تھی
00:26اور کچھ کی کندھوں پر رائفلے تھی
00:28انگریز کے سامان میں کئی سوٹ کیس تھے
00:31جن میں کتابیں بھری ہوئیں تھی
00:33قافلے میں بہت سے لوگ ہیں
00:36سردار نے اپنی بات جاری رکھی
00:38شور کی وجہ سے اسے اپنی بات بار بار دہرانی پڑھ رہی تھی
00:42ہر ایک کے اپنے نظریات ہیں
00:45لیکن میں ایک خدا واحد پر یقین رکھتا ہوں
00:48اور میں اسی کے قسم کھا کر اہد کرتا ہوں
00:51کہ ہر ممکن کوشش کروں گا کہ ہم سب خیریت سے سہرہ عبور کر لیں
00:55اور میں آپ سے بھی گزارش کروں گا
00:58کہ آپ لوگ بھی میرے ساتھ اہد کریں
01:00کہ آپ میرے حکوم کی تعمیل کریں گے
01:02سہرہ میں نافرمانی کا مطلب صرف اور صرف موت ہوتا ہے
01:06قافلے میں ہلکہ سا شور تھا
01:09تمام لوگ زیر لب اہد کر رہے تھے
01:12لڑکے نے یسو کی قسم کھا کر اہد کیا
01:14کہ وہ سردار کے ہر حکوم کی تعمیل کرے گا
01:17انگریز البتہ خاموش تھا
01:19لوگ دعا کر رہے تھے کہ قافلہ خیریت سے اپنی منزل پر پہنچ جائے
01:23بگل کی آواز پر تمام لوگ اپنی اپنی سواریوں پر سوار ہو گئے
01:28انگریز اور لڑکے کے پاس اونٹ تھے
01:30وہ بھی ان پر سوار ہو گئے
01:32لڑکے کو انگریز کے اونٹ پر ترس آ رہا تھا
01:34جس کی پیڑ پر انگریز کے علاوہ اس کی کتابوں کے کئی بک سے بھی لدے ہوئے تھے
01:38دنیا میں محس اتفاق نام کی کوئی چیز نہیں ہے
01:42انگریز نے گفتگو کا سلسلہ وہیں سے جوڑا
01:45جہاں سردار کے تقریر کی وجہ سے منقطع ہوا تھا
01:48میں یہاں پر اس لیے موجود ہوں کہ ایک دوست نے مجھے ایسے عرب شخص کے بارے میں بتایا
01:53کاروہ روانہ ہونے کی وجہ سے لڑکے کے لیے انگریز کی باتوں پر توجہ دینا مشکل ہو رہا تھا
01:59لیکن وہ اندازہ کر سکتا تھا کہ انگریز کیا کہنا چاہ رہا تھا
02:04ایک دلسماتی چکر جو ایک واقعہ کو دوسرے واقعہ کے ساتھ منسلک کرتا ہے
02:09اسی چکر نے اسے پہلے چرواہا بنایا
02:11اسی چکر کی وجہ سے اسے بار بار خواب نظر آیا
02:15اور پھر وہی چکر اسے افریقہ کی سہرہ میں لے آیا
02:18جہاں اسے لٹنے کے بعد کرسٹل فروز سے ملنا تھا
02:21اور جیسے جیسے کوئی اپنی منزل کے قریب ہوتا جاتا ہے
02:25اتنا ہی منزل اس کی تخلیق کا سچا مقصد دکھائی دینے لگتی ہے
02:29لڑکے نے سوچا
02:30قافلے نے مشرق کی سمت اپنا سفر شروع کیا
02:34قافلہ صبح کے وقت چلتا تھا
02:36دو پہر سے پہلے جب دھوپ کے شدد بڑھ جاتی تھی
02:39قافلہ رک جاتا تھا
02:41اور شام کے وقت اپنے سفر کا دوبارہ آغاز کرتا تھا
02:45انگریز سفر کے دوران متعلے میں مصروف تھا
02:48لڑکا خاموشی سے جانوروں اور انسانوں کا مشاہدہ کر رہا تھا
02:52اب منظر بلکل بدل چکا تھا
02:55اب وہ سہرہ کے بیچ و بیچ سفر کر رہے تھے
02:58قافلے میں بچوں کی چیخوں اور جانوروں کی آوازوں کا نا تھمنے والا شور تھا
03:02اور محل میں جانوروں کی مقصود بو تھی
03:04اور گائیڈز کی چیخوں پکار
03:07اگر کسی چیز کو دوام تھا
03:10تو وہ سہرہ کی مقصود ہوا اور جانوروں کے قدموں کی آواز تھی
03:14میں نے یہ سہرہ اس سے قبل بھی کئی بار عبور کیا ہے
03:18ایک حدیبان بولا
03:20لیکن سہرہ اتنا وسیع ہے
03:23اور افق اتنا دور کے انسان کو اپنا آپ بہت حقیر لگتا ہے
03:27شاید اس لیے انسان سہرہ کی حبت سے خاموش رہتا ہے
03:31حدیبان کی بات لڑکے کی سمجھ میں آ رہی تھی
03:34حالانکہ اس نے اس سے قبل سہرہ میں قدم نہیں رکھا تھا
03:37جب بھی کبھی اس نے سمندر کو دیکھا
03:40یا آگ کا مشاہدہ کیا
03:43تو فورا ان کی لافانی طاقت نے اثر چھوڑا تھا
03:46میں نے بھیڑوں سے بہت کچھ سیکھا
03:49اور میں نے کرسٹل فروش سے بھی کافی نئی باتیں سیکھی
03:51لڑکے نے سوچا
03:53میں سہرہ سے بھی بہت کچھ سیکھوں گا
03:55سہرہ اسے عمر رسیدہ اور دانہ لگا
03:57ہوا مسلسل چل رہی تھی
04:00لڑکے کو یاد آیا کہ اسی ہوا کو میں نے
04:02ٹیریفہ کے قلعے کی فصیل پر بیٹھ کر
04:05اپنے چہرے پر محسوس کیا تھا
04:07اس خیال نے اسے اپنی بھیڑوں کی یاد دلا دی
04:09بھیڑے اب بھی اندلس کی چراغاؤں میں
04:12چارے اور پانی کے تلاش میں
04:13ہمیشہ کی طرح ماری ماری پھر رہی ہوں گی
04:15لیکن اب وہ میری بھیڑے نہیں ہیں
04:18اس نے اپنے آپ سے کہا
04:19اب تک وہ اپنے نئے مالک کے ساتھ
04:21معنوس ہو چکی ہوں گی اور مجھے بھول چکی ہوں گی
04:24چلو اچھا ہی ہے
04:25بھیڑے اس کام میں ماہر ہیں
04:27کہ وہ کوئی غم زیادہ دیر تک نہیں پالتی
04:29اسے تاجر کی بیٹی کا خیال آیا
04:32اس نے بھی اب تک شاید شادی کر لی ہوگی
04:35کسی تاجر سے
04:36یا پھر کسی چرواہے سے جو پڑھ سکتا ہو
04:38اور اسے دلچسپ
04:40کہانیاں سنا سکے
04:41آخر وہ واحد چرواہہ تو نہیں
04:43جسے پڑھنا لکھنا آتا تھا
04:45اسے اپنی دانائی پر بھی حیرت اور مسررت ہوئی
04:48کہ وہ حدیبان کی پرس فلسفہ گفتگو کا مطلب
04:50سمجھ گیا تھا
04:52اسے لکھا جیسے وہ عالمگیر زبان سیکھ رہا ہے
04:55وہ عالمگیر زبان
04:57جو انسانیت کے ماضی اور حال
05:00دونوں میں یقصہ محیط تھی
05:01اس کی سمجھ میں آنے لگا
05:04کہ کبھی کبھار انسان کی روح
05:06کہنات کے دھارے میں ڈپکی لگانے میں کامیاب ہو جاتی ہے
05:09تو اسے غیب کی چیزوں کی ایک جھلک نظر آتی ہے
05:12آخر کار
05:13کہیں تو تمام انسانیت کا
05:15ماضی حال اور مستقبل محفوظ تھے
05:18اور شاید اسے ہی قیافہ شناسی کہتے ہیں
05:21مکتوب
05:22لڑکے کے کانوں میں
05:24کرسٹل فروش کے الفاظ کی گونج سنائی دی
05:26سہرہ
05:29کہیں تو ریت کا سمندر تھا
05:30اور کہیں کہیں پہاڑ
05:31اس سمندر کے درمیان سے نکل آئے تھے
05:33جب بھی کبھی قافلے کا سامنا
05:36کسی چٹان یا ٹیلے سے ہوتا
05:37تو قافلے کا رخ وقتی طور پر بدل جاتا
05:40جب کبھی ریت بہت نرم ملتی
05:43جہاں پر جانوروں کے قدم دھسنے کا خطرہ ہوتا
05:46تو راستہ بدل کر قافلہ
05:47ایسی جگہ کا انتخاب کرتا
05:49جہاں سخت زمین ملے
05:50تاکہ جانور آرام سے سفر جاری رکھ سکیں
05:53کبھی کبھار قافلے کا سامنا
05:55خوشک جھیل سے ہوتا
05:57جس کے اوپر خوشک نمک کی تہ جمی ہوئی ہوتی
05:59یہاں جانور
06:01بدک جاتے اور آگے چلنے سے انکار کر دیتے
06:04ایسی صورت میں
06:05حدیبان نیچے اتر کر جانوروں کا بوجھ اتارتے
06:07اور کچھ وزن اپنے کندوں پر
06:09اٹھا کر جھیل پار کرتے
06:10اور پھر دوبارہ وزن جانوروں پر لاد دیتے
06:13لیکن اس سب کچھ کا ناتیجہ
06:15صرف ایک ہی تھا
06:17چاہے قافلے کو جتنی بھی چٹانوں کا سامنا ہوتا
06:19یا خوشک جھیلوں سے واسطہ پڑتا
06:21چکر لگانے کے بعد قافلہ
06:23دوبارہ واپس اسی سمت میں روانہ ہو جاتا
06:25جس طرف اس نے پہلے دن رخ کیا تھا
06:28قافلے کی نظر
06:29اپنی منزل پر تھی
06:30اور اپنی سمت کا تائین اس ستارے کی مدد سے کرتا تھا
06:34جو نخلستان الفیوم کے اوپر تھا
06:36جب قافلے والوں کی نظر
06:38صبح کے وقت اس ستارے پر پڑتی
06:40تو انہیں یقین ہو جاتا
06:41کہ ان کا رخ اس لق و دق سہرہ کے بیچ و بیچ
06:43موجود پانی
06:44خجروں کے باغ
06:45اور ریگستان کی کڑی دھوپ میں دستیاب
06:48رہت افزہ سائی کی طرف ہے
06:50اگر اس سب کچھ سے کوئی بے خبر تھا
06:54تو وہ انگریز تھا
06:55کیونکہ وہ اپنی کتابوں میں مجھگول تھا
06:57لڑکے کے پاس بھی ایک کتاب تھی
06:59اور اس نے سفر کے اپدائی ایام میں
07:01اس کو پڑھنے کی کوشش بھی کی
07:02لیکن اسے کتاب کی نظبت فطرت کا نظارہ
07:05زیادہ دلچسپ لگا
07:06اگرچہ اس کا خیال تھا
07:08کہ وہ جب بھی کتاب کھولتا ہے
07:10تو اس پر کوئی نہ کوئی اہم انکشاف ہوتا ہے
07:13لیکن پھر بھی اس نے کتاب سے چھٹکارہ حاصل کر لیا
07:15اور اس نے حدیبان سے دوستی کر لی
07:18شام کو وہ آگ کے قریب بیٹھ کر
07:21حدیبان کو اپنی مہم جوئی کے قصے سناتا
07:23اور حدیبان کی باتیں سنتا تھا
07:25میں القیروم کے پاس رہتا تھا
07:29ایک شام حدیبان نے اسے بتایا
07:31میرے پاس اپنا باغ تھا
07:33گھر بار اور بچے تھے
07:35یہ سب کچھ لا فانی محسوس ہوتا تھا
07:38ایک سال جب فصل بہت اچھی ہوئی
07:41تو میں اپنے پورے خاندان کے ساتھ
07:42حج کے لیے مکہ گیا
07:44یہ میری زندگی کی واحد غیر تقمیل شدہ خواہش تھی
07:48اب مجھے زندگی سے کسی اور چیز کی تمنہ نہیں
07:51اب اگر مجھے موت بھی آ جاتی
07:54تو میں اپنی جان جان آفرین کے سپرت کر دے تھا
07:57ایک روز بہت زور کا زلزلہ آیا
08:00اور ساتھ ہی دریائے نیل تغیانی پر آ گیا
08:02میرا خیال تھا کہ اس طرح کا حادثہ
08:05شاید دوسروں کے ساتھ تو ہو سکتا تھا
08:07لیکن میرا مقدر قاتب تقدیر نے
08:10اس قسم کی آفاظ سے صاف رکھا تھا
08:12لیکن میرے سب باغ
08:14گھر بار اور بچے
08:15اس بالائے ناگہانی کی نظر ہو گئے
08:17میری تمام املاک
08:19دریہ برد ہو گئی
08:21اور مجھے مجبوراً کوئی اور ذریعہ
08:23ماش تلاش کرنا پڑا
08:24اور آج میں حدیبان ہوں
08:26اس تمام حادثے میں میں نے ایک سبق سیکھا
08:29اللہ کا حکم ہے کہ انسان کو
08:32اس وقت تک انجان خوف کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں
08:34جب تک وہ جانتا ہے
08:36کہ اسے کیا کرنا ہے
08:37اور وہ اس کے حصول پر قادر ہے
08:39ہم خوف زدہ ہو جاتے ہیں
08:41کہ ہم وہ کچھ کھو دیں گے
08:42جو کچھ ہمارے پاس ہے
08:44لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں
08:46کہ ہماری تقدیر اسی نے لکھی ہے
08:47جس نے ہم سے قبل آنے والے انسانوں کی تقدیر لکھی تھی
08:51اگر یہ بات ہم ذہن نشین کر لیں
08:54تو کوئی خوف ہمارے دل میں جگہ نہیں پاسکتا
08:56حدیبان کے چہرے پہ سکون تھا
08:59اسے اپنی جائداد اور اولاد کے جانے کا غم نہیں تھا
09:03جیسے ہی وہ آگ کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھتے
09:07تو حدیبان ریت کے طوفان سے ایک دوسرے کو خبردار کرتے
09:10یا سہرہ کی داستانیں ایک دوسرے کو سناتے
09:13کبھی کبار قافلے کا سامنا پرسرار نقاب پوش اونٹھ سواروں سے ہوتا
09:17ان کا کام قافلے کی راستے کی نگہبانی تھا
09:21وہ قافلے والوں کو رہزنوں اور ڈاکوں کی موجودگی سے خبردار رکھتے تھے
09:27وہ جس طرح خاموشی سے سہرہ میں ظاہر ہوتے
09:30اسی طرح چپکے سے غائب ہو جاتے تھے
09:32ان کے سیاہ لباس میں سے صرف ان کی آنکھیں دکھائی دیتی
09:36ایک رات حدیبان آگ کے علاؤ کے قریب آیا جہاں لڑکا اور انگریز بیٹھے ہوئے تھے
09:42اس نے انہیں بتایا کہ افوا ہے کہ سہرہ میں دو قبائل کے درمیان جنگ چھڑ گئی ہے
09:47یہ سن کر تینوں خاموش ہو گئے لڑکے کو ایسے لگا جیسے فضا میں خوف کی لہر پھیل گئی ہو
09:53ایک دفعہ پھر اسے ایسی زبان کا احساس ہوا جو الفاظ سے بینیاز تھی
09:59عالمگیر زبان
10:00انگریز نے حدیبان سے استحصال کیا کہ کہیں وہ خطرے میں تو نہیں ہے
10:05سہرہ میں صرف اندر آنے کا راستہ ہوتا ہے
10:08حدیبان نے جواب دیا
10:09اور جب واپسی کا کوئی راستہ ہی نہ ہو
10:13تو انسان کو آگے جانے کے لیے بہتر راستے کی فکر ہونی چاہیے
10:16اور باقی اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے
10:19مکتوب
10:21آپ کو قافلے کی طرف توجہ دینی چاہیے
10:24لڑکے نے انگریز سے کہا
10:26قافلہ رکافٹوں سے گزرنے کے لیے کل چکر کاٹتا ہے
10:30مگر اس کا روح ہمیشہ اپنی منزل کی طرف ہی رہتا ہے
10:33اور تمہیں چاہیے کہ تم دنیا کے بارے میں معلومات حاصل کرو
10:36کتاب کی مثال ایسی ہے
10:38جیسا کہ سہرہ میں قافلہ
10:40انگریز بولا
10:41قافلے نے اپنی رفتار تیز کر دی
10:44دن تو اس سے پہلے بھی خاموش ہی تھے
10:47مگر اب رات کو بھی پڑاؤ پر مکمل سکوت تاری تھا
10:51پھر ایک دن سردار نے حکوم دیا
10:53کہ اب پڑاؤ میں آگ روشن نہیں کی جائے گی
10:55اس طرح جنگ جو قبائل کو قافلے کی آمد کا علم ہونے کا خدشہ تھا
11:00اب جب بھی پڑاؤ پڑتا
11:02تو جانوروں کو ایک دائرے کی صورت میں باندیا جاتا
11:05اور درمیان میں انسان ہوتے
11:06اور پڑاؤ کے چاروں اطراف میں محافظ بھی تائنات کیے جاتے تھے
11:11ایک رات جب چاند سہرہ کی ریت پر
11:14اپنی سہر انگیز چاندنی پھیک رہا تھا
11:17لڑکے نے انگریز کو اپنی کہانی سنائی
11:19انگریز بالقصوص کرسٹل کے دکان
11:22اور قہوہ خانے کی کامیابی سے بہت متاثر ہوا
11:25یہی اصول تمام امور میں کار فرما ہے
11:28لڑکے کی بات ختم ہونے پر انگریز بولا
11:31کیمیا گری کی زبان میں اسے کائنات کی روح کہا جاتا ہے
11:36جب انسان دل کی گہرائیوں سے کچھ تمنا کرتا ہے
11:40تو وہ کائنات کی روح کے قریب ہو جاتا ہے
11:42یہ ہمیشہ ہی مذبت عمل ہے
11:45اور یہ صرف انسان نہیں ہے جس میں روح ہے
11:48بلکہ کائنات کی ہر شہ چاہے وہ جمادات ہوں یا نباتات
11:51یا جانوار ہوں سب میں روح ہے
11:54کائنات میں مسلسل ایک تغیر کار فرما ہے
11:57کیونکہ کائنات ایک زندہ اور جاوید حقیقت ہے
11:59دنیا کی ہر چیز میں روح کار فرما ہے
12:02ہم بھی اس روح کا ایک جزو ہیں
12:05شاید اس لیے ہمیں اس کا ادراک نہیں ہوتا
12:07کہ یہ روح ہماری بھلائی کے لیے مظروف عمل ہیں
12:10شاید کرسٹل کی دکان میں تم نے محسوس کیا ہوگا
12:14کہ کانچ تک تمہاری جدوجہد میں تمہاری معاملت کر رہے تھے
12:18لڑکہ چند لمحوں کے لیے گہری سوچ میں ڈوب گیا
12:21اس نے پہلے چاند کو دیکھا
12:23اور پھر دودیا ریت پر نظر جماتے ہوئے بولا
12:26میں نے سہرہ کے بیچ میں قافلے کو بغور دیکھا
12:29قافلے اور سہرہ کی یہ ایک ہی زبان ہے
12:31اور اس لیے سہرہ قافلے کو گزرنے کی اجازت دیتا ہے
12:35اور وہ مسلسل دیکھ رہا ہوتا ہے
12:37کہ قافلے کا ہر قدم اپنے مقررہ وقت پہ مقررہ جگہ پہ پڑھتا ہے یا نہیں
12:42اگر یہ ایسا ہے تو ہم ضرور نخلستان تک پہنچنے میں کامیاب ہوں گے
12:46اگر ہم اس قافلے میں محض اپنی جرت مندی کے زور پر چل رہے ہوتے
12:51اور ہمیں اصل حقیقت کا علم نہ ہوتا تو شاید یہ سفر بھی بہت تکلیف دے ہوتا
12:56دونوں خاموشی سے چاند کی طرف دیکھ رہے تھے
13:00اور یہ نشانیوں کا جادو ہے
13:02لڑکا سکوت کو توڑتے ہوئے بولا
13:04میں نے دیکھا ہے کہ کس طرح حدیبان بظاہر بے نشان سہرہ میں راستہ تلاش کرتے ہیں
13:11اور کس طرح قافلے کی روح سہرہ کی روح سے ہم کلام ہوتی ہے
13:15مجھے بھی قافلے کا اتنی گہرائی سے مشاہدہ کرنا چاہیے
13:19انگریز بولا اور مجھے تمہاری کتابوں کا متعلق لڑکے نے جواب دیا
13:24وہ بہت ہی عجیب و غریب کتابیں تھیں
13:29ان میں پارے، نمکیات، اجدہوں اور بادشاہوں کا ذکر تھا
13:34اور یہ سب کچھ لڑکے کے فہم سے بہت اوپر کی باتیں تھی
13:37اسے ایک چیز تمام کتب میں مماثل نظر آئی
13:40سب میں ایک نظریہ تھا کہ کائنات کی ہر چیز کی بنیاد ایک ہی ہے
13:46ایک کتاب میں نے پڑھی کہ کیمیا گری کا اصل گڑھ صرف چند سطور میں مرکوز تھا
13:52اور یہ ایک پکراج پر لکھی ہوئی تھی
13:54اسے پکراج کی تختی کہتے ہیں
13:56انگریز نے اسے بتایا
13:58انگریز کو خوشی ہوئی کہ بلاخر وہ بھی لڑکے کو متاثر کر سکے گا
14:02اگر کیمیا گری کا علم اتنا ہی مختصر ہے
14:05تو پھر ہمیں اتنی کتابوں کی ضرورت کیا ہے
14:07لڑکے نے اس تفصال کیا
14:09تاکہ ہم ان چند سطروں کو سمجھ سکیں
14:13انگریز نے جواب دیا
14:14لیکن اسے خود بھی یقین نہ تھا
14:16کہ وہ جو کہہ رہا تھا وہ حقیقت میں ایسا ہی ہے
14:19لڑکے کو سب سے زیادہ دلچسپ وہ کتاب لگی
14:22جس میں مشہور کیمیا گروں کی کہانیاں تھی
14:24یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی زندگیاں اس تلاش میں گزار دیں
14:28تھی کہ وہ دھات کو مصفح کر سکیں
14:30ان کا خیال تھا کہ اگر دھات کو کئی سال تک گرم کیا جائے
14:35تک وہ اپنی انفرادی خصوصیات کو ترک کر دیتی ہیں
14:38اور نتیجتاً کائنات کی روح سامنے آ جائے گی
14:41اور کائنات کی اس روح کی مدد سے
14:44وہ دنیا میں ہر چیز کی حقیقت کو جان سکیں گے
14:46کیونکہ ان کے خیال میں کائنات کی ہر شئے کی ایک ہی زبان تھی
14:51وہ اس دریافت کو کار عظیم کا نام دیتے تھے
14:55یہ جزون مایہ اور جزون ٹھوس ہے
14:58کیا صرف انسان اور نشانیوں کا تجربہ
15:02کائنات کی زبان کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں ہے
15:04لڑکے نے سوال کیا
15:06تمہیں ہر شئے کو آسانی سے لینے کا خبت سوار ہے
15:10انگریز نے تلقی سے جواب دیا
15:12جبکہ کیمیا گری انتہائی سنجیدہ کام ہے
15:15ہر قدم استادوں کے نقش قدم پر ہونا چاہیے
15:18لڑکے نے پڑھا تھا کہ کار عظیم کے مایہ حصے کو آب حیات کہتے ہیں
15:23اور یہ ہر بیماری کا علاج ہے
15:26اور انسان کو جوان بھی رکھتا ہے
15:28جبکہ ٹھوس حصے کو سنگ فلسفہ کہتے ہیں
15:32سنگ فلسفہ اتنی آسانی سے نہیں مل سکتا
15:36انگریز نے بتا
15:37کیمیا گرونہ سالہ سال لیبارٹریوں میں صرف کیے
15:41وہ آگ کا مشاہدہ کرتے رہے
15:43جس سے دھات کی تطہیر ہوتی تھی
15:45انہوں نے آگ کے قریب اتنا وقت گزارا
15:48کہ تمام دنیاوی خواہشات سے ان کا پیچھا چھوڑ گیا
15:51جب وہ منزل پر پہنچے
15:53تو انہیں معلوم ہوا کہ مادے کی صفائی کرتے کرتے
15:56وہ خود بھی تمام دنیاوی خواہشات کی
15:58علائشوں سے پاک ہو چکے تھے
16:00لڑکے کو فوراں کرسٹل فروش کا خیال آیا
16:02اس نے کہا تھا کہ لڑکے کے لیے
16:05کرسٹل کے صفائی ایک اچھا عمل ہے
16:07اس طرح اس کے دل کی بھی منفی خیالات سے صفائی ہو جائے گی
16:11لڑکے کو یقین ہوتا جا رہا تھا
16:13کہ کیمیا گری انسان اپنے ارد گرد سے سیکھ سکتا ہے
16:16اور یہ بھی
16:19انگریز نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا
16:22سنگی فلسفہ کی اور بھی حیران کن خصوصیات ہیں
16:26یہ پتھر ایک دلکش خاصیت رکھتا ہے
16:29پتھر کی ایک چھوٹی سی چاندی
16:32بڑی مقدار میں
16:33دھات کو سونے میں بدل سکتی ہے
16:36لڑکا کیمیا گری میں دلچسپی محسوس کر رہا تھا
16:40اس نے سوچا کہ وہ بھی
16:41تھوڑے سی صبر اور محنت کے بعد
16:43ہر شیعہ کو سونے میں بدل سکتا ہے
16:45اس نے اب تک کئی ایسے لوگوں کا ذکر پڑھا تھا
16:48جنہیں اس میں کمال حاصل تھا
16:50ہیلویشیز، ایلیز، فلکینیلی اور گیبر
16:55ان لوگوں کی کہانیاں بہت متاثر کن تھی
16:58ان میں سے ہر شخص
17:00اپنی منزل مقصود تک پہنچنے میں کامیاب رہا تھا
17:03انہوں نے طویل سفر کیے
17:05دانہ لوگوں سے رہنمائی لی
17:07اور سخت محنت کے بعد آب حیات
17:09اور سنگ فلسفہ
17:11فلسفرز سٹون
17:12حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے
17:14جب لڑکے نے کار عظیم کی حصول کے بارے میں سوچا
17:18تو اسے کوئی واضح جواب نہ مل سکا
17:20کتابوں میں چند رائنگ تھی
17:22کورڈ ورڈز میں کچھ ہدایات
17:24اور ناسمجھ میں آنے والے الفاظ کا مجموعہ
17:27نہ جانیں یہ لوگ اتنے مشکل پسند کیوں ہوتے ہیں
17:31اس نے انگریز سے پوچھا
17:33تاکہ اس کو صرف وہ لوگ سمجھ سکیں
17:36جنہیں اس کی ضرورت ہے
17:37انگریز نے جواب دیا
17:39اگر ہر شخص
17:41دھات کو سونے میں بدلنے کا فن سیکھ لے
17:44تو پھر سونے کی قدر و قیمت
17:45کسی عام دھات سے زیادہ نہیں رہے گی
17:48جو لوگ ثابت قدمی اور لگن سے
17:50اس کی تلاش کرتے ہیں
17:51صرف وہ لوگ کار عظیم حاصل کرنے میں
17:54کامیاب رہتے ہیں
17:55اور میں بھی اسی مقصد کے لیے
17:57اس سہرا کے بیچ اور بیچ موجود ہوں
17:59میں یہاں ایک کیمیا گر کی تلاش میں آیا ہوں
18:02جو ان خفیہ الفاظ کو حل کرنے میں
18:04میری مدد کر سکتا ہے
18:05یہ کتابیں کب لکھی گئیں تھیں
18:08لڑکے نے سوال کیا
18:09کئی صدیان قبل
18:11لیکن اس وقت تو کوئی پرنٹنگ پریس
18:14موجود نہیں تھے
18:15لڑکا بولا
18:16اس لیے ایسا کوئی خدشہ نہیں تھا
18:18کہ عام لوگ کیمیا گری کا ہنر سیکھ سکیں
18:20تو پھر اس کی زبان اتنی مشکل کیوں رکھی گئی
18:23انگریز کے پاس اس کے اس سوال کا
18:26کوئی جواب نہیں تھا
18:27پھر ایک دن
18:30لڑکے نے تمام کتابیں انگریز کو واپس کر دیں
18:32کیا تم نے کچھ سکھا
18:34انگریز نے پوچھا
18:35میں نے یہ سکھا کہ کائنات کی ایک روح ہے
18:38اور جو کوئی اس روح کو سمجھ لے گا
18:41وہ عالمگیر زبان پر بھی دسترس حاصل کر لے گا
18:43کئی کیمیا گروں نے
18:45اپنی منزل کا صحیح تائین کیا
18:47اور اب وہ آب حیات اور سنگ فلسفہ
18:49حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے
18:51اور سب سے بڑھکا یہ کہ یہ سب کچھ
18:53اتنا ہی سادہ آسان اور مقتصر ہے
18:56کہ اسے محض پکراج کی ایک تختی پر
18:58لکھا جا سکتا ہے
18:59انگریز کو بہت مایوسی ہوئی
19:02کہ اس کی سالوں کی محنت
19:03ترسماتی نشانات
19:05عجیب و غریب الفاظ اور لیبورٹریا
19:07کچھ بھی لڑکے کو متاثر نہیں کر سکا تھا
19:10اس نے سوچا کہ لڑکے کی روح
19:12بہت ہی اتدائی مراحل میں ہے
19:13اس لیے وہ کچھ سمجھنے سے قاسر ہے
19:16اس نے اپنی کتابیں واپس لی
19:18اور انہیں صندوق میں بن کر دیا
19:19بہتر ہے کہ میں صرف قافلے کا نظارہ کروں
19:22اس نے تلخی سے کہا
19:24کیونکہ میں ان کتابوں سے
19:26کچھ سیکھنے میں ناکام رہا ہوں
19:28ہر ایک کا سیکھنے کا اپنا انداز ہے
19:31لڑکے نے اپنے آپ سے کہا
19:32میرا طریقہ اس سے بالکل مختلف ہے
19:35اور اس کا طریقہ مجھ سے
19:36مگر ہم دونوں کو اپنی اپنی منزل کی تلاش ہے
19:39اب قافلے نے دن اور رات کا سفر کرنا شروع کر دیا
19:44نقاب پوش بددو اب زیادہ جلدی جلدی نظر آنے لگے تھے
19:48حدیبان نے لڑکے کو بتایا
19:50کہ قبائل کے درمیان جنگ طول پکڑ گئی تھی
19:53اور اب نخلستان تک پہنچنا
19:54ایک موجزے سے کم نہیں تھا
19:57جانور تھک چکے تھے اور انسان خاموش تھے
20:00خاموشی رات کو اور بھی شدید ہو جاتی تھی
20:03اونٹوں کی آواز جو اس سے قبل محض
20:05ایک اونٹ کی آواز کا درجہ رکھ دی تھی
20:07اب قافلے والوں کے لیے خوف کا بائز بنتی جاتی تھی
20:10کیونکہ یہ خطرے کی گھنٹی بھی ہو سکتی تھی
20:12یعنی حملے کا اعلان
20:14حدیبان بظاہر جنگ سے لا تعلق لگتا تھا
20:18ایک رات جب وہ دونوں خجوریں کھا رہے تھے
20:21تو حدیبان بولا
20:22میں زندہ ہوں
20:24جب میں کھانا کھا رہا ہوتا ہوں
20:26تو صرف کھانے کے بارے میں سوچتا ہوں
20:28اور جب سفر کر رہا ہوتا ہوں
20:30تو صرف سفر کے بارے میں سوچتا ہوں
20:32اگر مجھے لڑنا پڑ گیا
20:34تو میرے لیے آج کے دن مرنا ایسا ہی ہوگا
20:36جیسے کسی اور روز
20:38نہ تو مجھے اپنے ماضی سے کوئی سرکار ہے
20:41اور نہ مستقبل سے
20:43مجھے فکر ہے
20:44تو صرف اپنے حال کی
20:45اگر انسان صرف اپنے حال پر توجہ دے
20:49تو انسان بہت خوش رہ سکتا ہے
20:51پھر اسے سہرہ میں بھی زندگی نظر آتی ہے
20:54اسے آسمان میں ستارے نظر آتے ہیں
20:57اور قبائل کے درمیان کی لڑائی
20:59کوئی خوفناک عمل محسوس ہونے کے بجائے
21:02انسانی جبلت کا ایک عمل لگتی ہے
21:05زندگی ایک جشن بن جاتی ہے
21:07کیونکہ زندگی صرف علم ہے
21:09موجود کا ہی تو نام ہے
21:11دو رات بعد
21:14لڑکا اپنا بستر درست کر رہا تھا
21:17تو اس کی نظر
21:18اس ستارے پر پڑی
21:19جس کو دیکھ کر قافلہ
21:21اپنی سمت کا اندازہ کرتا تھا
21:23اسے ایسے لگا جیسے
21:25افق نیچے اتر آیا ہو
21:26کیونکہ اب اسے سہرہ میں بھی
21:28ستارے نظر آنے لگے تھے
21:30یہ نخلستان ہے
21:32حدیبان بولا
21:34تو پھر ہم ابھی وہاں کیوں نہیں جاتے
21:36لڑکے نے پوچھا
21:38کیونکہ ہمیں آرام کرنا ہے
21:40سورج طلو ہونے کے ساتھ ہی
21:44لڑکا بھی نین سے جاگ گیا
21:45اس کے سامنے جہاں رات کو
21:48ستارے نظر آتے تھے
21:49وہاں خجور کے درختوں کا
21:50ناختم ہونے والا سلسلہ
21:52تاہد نگا پھیلا ہوا تھا
21:54ہم بلاخر پہنچ ہی گئے
21:56انگریز بولا
21:57لیکن لڑکا خاموش تھا
22:00وہ سہرہ کی خاموشی کا عادی ہو چکا تھا
22:02اور اس کے لئے محض درختوں کا نظارہ ہی کافی تھا
22:05اس کا سفر ابھی بہت طویل تھا
22:07اور کسی دن یہ صبح صرف ماضی کا حصہ ہوگی
22:10لیکن آج یہ لمحہ موجود تھا
22:14ایک جشن جیسا کہ حدیبان نے کہا تھا
22:18اور وہ اس لمحے موجود میں جینا چاہتا تھا
22:20ماضی کی پشمانی اور مستقبل کی فکر بھلا کر
22:23اگرچہ خجور کے درختوں کا یہ نظارہ
22:26کسی دن محض ایک یاد ہوگا
22:29لیکن اس وقت یہ سایہ پانی اور جنگ سے پناہ کی علامت ہے
22:33وقت زقند لگا کر دوڑتا ہے
22:38اور ایسا ہی قافلے بھی کرتے ہیں
22:40کیمیہ گر نے سوچا
22:41وہ سیکڑوں انسانوں اور جانوروں کے قافلے کو
22:44نخلستان میں داخل ہوتا دیکھ رہا تھا
22:46لوگ آنے والوں کو چیخ چیخ کر خوش حامدید کہہ رہے تھے
22:50دھول کے بادل نے سورج کو ڈھاپ لیا تھا
22:54اور بچے نئے آنے والوں کو دیکھ کر خوش ہو رہے تھے
22:57کیمیہ گر نے دیکھا کہ قبیلے کا سردار قافلے کے سردار سے گلے مل رہا تھا
23:02اور اس سے سفر کے حالات پوچھ رہا تھا
23:04یہ سب کچھ کیمیہ گر کے لیے کچھ معنی نہیں رکھتا تھا
23:08اس نے اس سے قبل بھی کئی قافلوں کو آتے جاتے دیکھا تھا
23:11مگر سہرہ ہمیشہ سے ہی ایسا تھا
23:13سہرہ کی اس ریت پر شہنشاہ بھی گزرے ہیں اور گدا بھی
23:17سہرائی ٹیلے ہوا کی طاقت سے اپنی جگہ تو ضرور بدل دیتے تھے
23:22مگر یہ ریت ویسی کی ویسے ہی تھی جیسے وہ اپنے بچپن میں اسے دیکھتا آیا تھا
23:28کئی ہفتے کے تھکا دینے والے سفر
23:31اور سہرہ کی یکسانیت کے بعد نخلستان کا سبزہ دیکھ کر
23:35اہل قافلہ کے چہروں پر کھلنے والی رونہ اسے ہمیشہ تمانیت بخشی تھی
23:40شاید خدا نے سہرہ اس لیے بنایا تھا کہ لوگ کھجور کے درخت کی قدر کریں
23:45کیمیہ گر نے سوچا
23:47اسے معلوم تھا کہ اس قافلے میں ایک ایسا انسان بھی تھا
23:52اس نے اس انسان کو کبھی نہیں دیکھا تھا
23:55مگر اس کی تجربے کار نگاہیں یقیناً اس انسان کو فوراً پہچان لیں گی
24:01اسے یقین تھا کہ وہ بھی اتنا ہی قابل ہوگا
24:04جیسے کہ اس سے پہلے والے شاگرد اس کے قابل تھے
24:08لڑکے کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا
24:12نخلستان جیسا کہ کبھی اسے جغرافیہ کی ایک کتاب میں دیکھا تھا
24:16محس خجور کے چند درختوں میں مشتمل نہیں تھا
24:19بلکہ اسپین کے کسی بھی قضبے سے زیادہ وسی تھا
24:22نخلستان میں تین سو کمیں پچاس ہزار خجور کے درخت اور بے شمار خیمے تھے
24:28یہ تو کوئی الف لیلوی کہانیوں کا سا منظر لگتا ہے
24:32برطانوی جو کیمیاگر سے ملنے کے لیے بے قرار تھا بولا
24:36وہ دونوں بچوں میں گھرے ہوئے تھے
24:38جو اس چیاک سے نئے آنے والے جانوروں اور لوگوں کو دیکھ رہے تھے
24:42مرد جاننا چاہتے تھے کہ قافلے والوں نے جنگ کا کوئی منظر دیکھا تھا یا نہیں
24:47جبکہ عورتیں کپڑوں اور زیورات اور قیمتی پتھروں کی خریداری میں دلچسپی رکھتی تھیں
24:53سہرہ کا سکوت اب محض ماضی کی ایک یار تھا
24:57چاروں طرف لوگوں کی آوازیں تھیں جو خوشی سے ہنس رہے تھے
25:00اور کچھ چیخ رہے تھے
25:02ایسا رکھتا تھا جیسے وہ لوگ کسی روحانی دنیا سے یکدم زمین پر آ گئے ہوں
25:06سہرہ میں سفر کے دوران وہ لوگ بہت احتیاط برت رہے تھے
25:10اب حدیبان نے بتایا کہ نقلستان ایک غیر متنازع علاقہ سمجھا جاتا ہے
25:15کیونکہ اس کی عبادی کی اکثریت بچوں اور عورتوں پر مشتمل ہوتی ہے
25:19نقلستان پورے سہرہ میں موجود تھے
25:22مگر قبائل صرف سہرہ میں لڑائی لڑتے تھے
25:24اور نقلستان کو پناہگاہ کا درجہ حاصل تھا
25:28کافی مشکل کے بعد قافلے کا سردار پورے قافلے کو جمع کرنے میں کامیاب ہو سکا
25:34وہ قافلے والوں کو کچھ ہدایات دینا چاہتا تھا
25:37قافلے کو نقلستان میں اس وقت تک رہنا تھا جب تک قبائل کی جنگ اختتام کو نہ پہنچ جائے
25:43کیونکہ وہ لوگ مہمان تھے اس لیے انہیں نقلستان میں سب سے اچھی جگہ دی گئی تھی
25:47اور یہی مہمان نوازی کی روایت تھی
25:50سردار نے اپنے محافظوں سمیت تمام لوگوں سے کہا کہ وہ ہتیار جمع کروا دیں
25:55کیونکہ دستور کے مطابق نقلستان میں ہتیار اٹھانا منع تھا
25:59لڑکے کو اس وقت حیرت ہوئی جب انگریز نے اپنے صندوق سے سونے کا پانی چڑھا ہوا ریوالور نکالا
26:06اور سردار کے متعین کردہ آدمی کو دے دیا
26:08تم ریوالور کس لیے اپنے پاس رکھتے ہو
26:11لڑکے نے سوال کیا
26:13اس طرح مجھے لوگوں پر اعتماد رہتا ہے
26:16انگریز نے جواب دیا
26:17لڑکے کو فورا اپنے خزانے کا خیال آیا
26:20جون جون وہ اپنے خواب کی تعبیر کے نزدیک ہو رہا تھا
26:23اتنی مشکلیں بڑھتی جا رہی تھی
26:25ایسے لگتا تھا کہ آغاز کی قسمت
26:27جیسا کہ بوڑے باشا نے کہا تھا
26:29کام نہیں کر رہی
26:30اپنے خواب کی تعبیر کی تلاش میں
26:34اسے مسلسل صبر اور ثابت قدمی کے امتحان سے گزرنا پڑ رہا تھا
26:38اس لیے وہ بے صبری کا مظہرہ نہیں کرنا چاہتا تھا
26:41اگر وہ جذبات میں آگے بڑھتا
26:43تو ممکن تھا کہ وہ نشانات اور علامات کو نہ سمجھ سکتا
26:47جو خدا نے اس کے راستے میں رکھ چھوڑے تھے
26:49خدا نے انہیں میرے راستے میں رکھ دیا ہے
26:52اسے اپنی سوچ پر حیرت ہوئی
26:54اس سے قبل وہ انہیں دنیا کی چیز سمجھتا تھا
26:57جیسا کہ غزہ اور نیند
26:59یا پھر محبت یا روزگار کی تلاش
27:01اس سے قبل اسے یہ خیال ہی نہ آیا تھا
27:03کہ خدا نے اس کی زبان میں اسے ہدایت دی تھی
27:06کہ اسے کیا کرنا چاہیے
27:07بے سبری مت کرو
27:09اس نے اپنے آپ سے کہا
27:10جیسا کہ حدیبان نے کہا تھا
27:13جب کھانے کا وقت ہو تو صرف کھانے پر دھیان دو
27:16اور جب سفر کا وقت ہو
27:17تو صرف سفر کے بارے میں سوچو
27:19پہلے روز تقریبا تمام لوگ
27:22سو کر تھکن اتارتے رہے
27:24بشامول انگریز کے
27:25لڑکے کو اپنے دو سے دور جگہ ملی تھی
27:28جہاں وہ اپنی عمر کے پانچ اور لڑکوں کے ساتھ رہ رہا تھا
27:31یہ سب لوگ سہرہ کے باسی تھے
27:33اور انہیں لڑکے کی داستانیں
27:35بہت دلچسپ لگی تھی
27:37لڑکا انہیں اپنی زندگی اور کرسٹل کی دکان میں
27:40حاصل ہونے والے تجربات کے بارے میں
27:41بتا رہا تھا
27:42کہ اس دوران انگریز اس کے خیمے میں داخل ہوا
27:46میں تمہیں صبح سے تلاش کر رہا ہوں
27:48اس نے لڑکے کو
27:49خیمے سے باہر لے جاتے ہوئے کہا
27:51مجھے کیمیا گر کو تلاش کرنے میں
27:53تمہاری مدد درکار ہے
27:55پہلے تو وہ دونوں خود ہی کیمیا گر کو
27:57تلاش کرتے رہے
27:59ان کا خیال تھا کہ کیمیا گر کا طرزیں رہائش
28:02نخلستان کے باقی باسیوں سے
28:04بلکل مختلف ہوگا
28:05اور اس کے خیمے میں ایک بھٹی مسلسل روشن ہوگی
28:08انہوں نے ہر اس جگہ کو
28:10تلاش کر جہاں ان کے خیال میں
28:11کیمیا گر ہو سکتا تھا
28:13لیکن نخلستان ان کے اندازے سے
28:15کہیں زیادہ وسی تھا
28:18شاید ہمیں کسی اور سے اس کے بارے میں
28:20پوچھ لینا چاہیے تھا
28:21لڑکے نے تجویز دی
28:22انگریز باقی لوگوں پر اپنے یہاں آنے کا
28:25اصل مقصد ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا
28:27بلاخر وہ اس بات پر راضی ہو گیا
28:29لڑکا کیونکہ اس سے
28:31بہتر عربی بول سکتا تھا
28:32اس لئے انگریز کا خیال تھا
28:33کہ وہ لوگوں سے کیمیا گر کے بارے میں
28:35معلوم کرے
28:36لڑکا ایک عورت کے پاس گیا
28:38جو کہ کوئے میں پانی بھرنے آئی تھی
28:40صبح بخیر میں ایک کیمیا گر کی تلاش میں ہوں
28:44جو اس نخلستان میں رہتا ہے
28:46اس نے عورت سے کہا
28:48عورت نے اسے بتایا
28:50کہ اس سے قبل
28:50کسی کیمیا گر کا ذکر نہیں سنا تھا
28:53اور جلدی سے جانے کیلئے مڑ گئی
28:55جانے سے پہلے
28:57اس نے لڑکے کو بتایا
28:58کہ اسے چاہیے
28:59وہ کالے لباس میں ملبوس
29:00کسی عورت کو مخاطب نہ کرے
29:02کالا لباس خاتون کے
29:04شادش ہدہ ہونے کی علامت تھا
29:05اور سہرہ کے دستور کے مطابق
29:08شادش ہدہ خواتین سے
29:10نامہرم مردوں کو
29:11کوئی بات نہیں کرنی چاہیے
29:12انگریز کو بڑی مایوسی ہوئی
29:15اسے ایسے لگا جیسے
29:16اس کی تمام محنت رائے گا گئی
29:18لڑکا بھی افسردہ تھا
29:20اس کا دوست اپنی منزل کے
29:21تلاش میں تھا
29:22اور وہ اس کی ہر ممکن
29:23مدد کرنا چاہتا تھا
29:24بڑے بادشاہ نے کہا تھا
29:26کہ جب بھی کوئی
29:26اپنی منزل تک پہنچنے
29:28کا مصمم ارادہ کرے
29:29تو کائنات کی ہر شئے
29:31اس کی مدد میں مصروف ہو جاتی ہے
29:32اسے لگا کہ
29:33بڑے بادشاہ کا کہنا غلط تھا
29:35میں نے تو اس سے قبل
29:37کبھی کیمیا گر کے بارے میں
29:38نہیں سنا
29:39اور لگتا ہے کہ
29:40یہاں کسی اور نے بھی
29:41اس کا ذکر نہیں سنا ہوگا
29:42لڑکا بولا
29:43انگریز کی آنکھوں میں چمک تھی
29:46بلکل ٹھیک ہے
29:47شاید یہاں کسی کو
29:48علمی نہیں
29:49کہ یہاں ایک کیمیا گر رہتا ہے
29:51ہمیں معلوم کرنا چاہیے
29:52کہ یہاں لوگوں کا
29:53علاج کون کرتا ہے
29:54کالے لباس ملووز
29:58کئی خواتین کوئیں پر آئیں
29:59لیکن لڑکے نے
30:00انہیں مخاطب کرنے سے
30:01اشتناب کیا
30:02باوجود انگریز کے
30:04بار بار اکسانے کے
30:05آخر کار
30:07ایک مرد نظر آیا
30:08لڑکا اس کی طرف لپکا
30:09یہاں لوگوں کا
30:11علاج کون کرتا ہے
30:12اللہ
30:13مرد نے آسمان کی طرف
30:15نظر اٹھا کر کہا
30:16شاید تم جھاڑ پونک
30:18کرنے والوں کی تلاش میں ہو
30:19مرد نے قرآن کی
30:20چند آیات کی تلاوت کی
30:21جو لڑکے کے سرکے
30:23اوپر سے گزر گئی
30:24ایک اور بڑا آدمی
30:25کوئیں کی طرف آ رہا تھا
30:27لڑکے نے اس سے بھی
30:28وہی سوال کیا
30:28تمہیں ایسے شخص کی
30:30تلاش کیوں ہیں
30:31بڑے نے الٹا سوال کیا
30:33کیونکہ میرے ایک ساتھی
30:34نے کئی ماہ تک
30:35صرف اس لئے سفر کیا
30:36کہ اس شخص سے
30:37ملخاط کر سکے
30:38لڑکے نے جواب دیا
30:40اگر یہاں کوئی شخص ہے
30:42تو پھر وہ بلاش ہوا
30:43بہت طاقتور شخص ہوگا
30:45بڑے نے کچھ دیر
30:46سوچنے کے بعد جواب دیا
30:48تم جنگ کے ختم ہونے
30:50کا انتظار کرو
30:51اور نخلستان کی زندگی میں
30:53دخل دینے سے
30:53اشتناب کرو
30:54بڑے نے جاتے ہوئے کہا
30:56انگریز خوش تھا
30:58اسے یقین ہو گیا
30:59کہ وہ صحیح سمت میں
31:01چل رہے تھے
Comments

Recommended